Sarab Raste – Short Story by Asma Aziz

0
سراب رستے از عاصمہ عزیز

–**–**–

وقت بعض اوقات بہت بے رحم ثابت ہوتا ہے۔کسی کو آزمانے پر آئے تو زندگی کے کشکول میںاتنی محرومیاں بھر دیتا ہے کہ انسان کو ان محرومیوں سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ۔وہ کبھی اندازہ نہیں کر پائی تھی کہ یہ وقت کی ستم ظریفی تھی یا اسکی قسمت کا کھیل کہ اس نے اس گھر میں آنکھ کھولی جس کی درودیوار سے محرومیاں اور نارسائیاں کسی دیمک کی طرح چمٹی ہوئی تھیں۔رات کے اس پہر جب ہرکوئی محو خواب تھا اور سیاہ آسمان پر تارے ٹمٹما رہے تھے وہ صحن میں بچھی چارپائی پرچت لیٹی ہمیشہ کی طرح از سرنو اپنی محرومیوں کا جائزہ لے رہی تھی۔سب سے پہلا شکوہ تو اسے یہی ستاتا تھا کہ شہزادیوں جیسا حسین چہرہ جس کو دیکھ کر کسی محل کی ملکہ ہونے کا گمان گزرتا ‘لیکن یہ قسمت کا کھیل تھا کہ وہ کسی محل کی ملکہ نہیں بلکہ ایک معمولی سبزی فروش کی بیٹی تھی۔۔انسان کا المیہ ہی یہی ہے کہ وہ اپنی محرومیوں کا رونا روتے ہوئے اپنی تقدیر کو موردالزام ٹھہر اتا ہے اور اپنی زندگی میں حاصل شدہ نعمتوں کو فراموش کردیتا ہے۔
ثانیہ رحمان کو اپنی محرومیاں چھپانے کے لئے ہمیشہ جھوٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب شہر کے مشہور گورمنٹ کالج میں اس کا پہلا دن تھا۔کالج میں جگہ جگہ گھومتی کھلکھلاتی لڑکیاں ‘جن میں سے کئی کے اسٹرائیکنگ شدہ بال تھے تو کسی کی آنکھوں کو دیکھ کے گمان ہوتا جیسے کاجل کی پوری بوتل آنکھوں میں انڈیل دی گئی ہو۔ایسے میں اپنا تھیلا نما بوسیدہ بیگ اور رف حلیہ دیکھ کراسے سخت شرمندگی محسوس ہوئی تھی ۔بے اختیار اس نے اپنے بیگ کو اپنے دوپٹے کی اوٹ میں چھپایا اور خود کو لڑکیوں کی نظروں سے بچا کر کالج لان کے بالکل کونے میں واقع درخت کے سا ئے تلے بیٹھ گئی تھی۔اداسی اس کے گرد ایک دفعہ پھر اپنا حصار تنگ کررہی تھی۔حسن کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجودوہ محض اپنی اس غربت کی وجہ سے لڑکیوں سے گھلنے ملنے سے ہچکچا رہی تھی۔
انسان بعض اوقات جتنا خود کو لوگوں کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی لوگوں کی نظروں میں عیاں ہوتا ہے۔درخت کے سائے تلے بیٹھے ابھی کچھ لمحے ہی گزرے تھے کہ بالوں کی پونی ٹیل بنائے نک سک سے تیار ایک لڑکی کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے سوچا تھا۔
’’ہیلو اریبہ ہیئر‘‘۔اس نے ثانیہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے اپنا تعارف کروایا تھا۔اریبہ بصیر بہت باتونی اور زندہ دل لڑکی تھی تبھی پورا گھنٹہ اس سے گپ شپ کرتے ہوئے اسے وقت کا احساس تک نہ ہوا تھا اور ساری مایوسی اڑن چھو ہوگئی تھی ۔باتوں باتوں کے دوارن اس نے اپنی فیملی کا بائیو ڈیٹا اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔جس کو سن کے ثانیہ کے دل میں احساس کمتری ایک دفعہ پھر عود کر آیا تھا۔کیونکہ اریبہ بصیر کا تعلق ایک ایلیٹ کلاس سے تھا ۔اسکے ماں باپ کی علیحدگی چکی تھی ‘ماں اور ایک سوتیلا بھائی دونوں امریکہ میں مقیم تھے جبکہ باپ کا شمار ملک کے مشہور بزنس مینز میں تھا۔
’’خوش قسمتی سے ہم دونوں کے ایک ہی سیکشن میں ہیں اس لئے ہماری دوستی خوب چلے گی ۔بلکہ چلے گی نہیں دوڑے گی۔اریبہ شوخی سے کہہ رہی تھی۔تم نے اپنی فیملی کے بارے میں نہیں بتایا ۔کتنے بہن بھائی ہو اور بابا کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ثانیہ کا سانس حلق میں اٹک گیا تھا ۔اپنے تعارف کروانے کے وہ جس لمحے سے بھاگ رہی تھی وہ آن پہنچا تھا۔لیکن پہلے ہی دن وہ سب پر اپنا امپریشن شاندار ڈالنا چاہتی تھی اس لئے اس نے بڑی تیزی سے جھوٹ گھڑتے ہوئے کہا’’میرے ڈیڈی بھی بہت بڑے بزنس مین ہیں اور ماما تو اتنی رحم دل ہیں کہ وہ سوشل ویل فئیر کا کوئی کام اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔کہانیوں میں ا س نے پڑھا تھا کہ بڑے بڑے بزنس مینوں کی بیگمات سوشل ویل فئیر کا کام کرتی ہیں اس لئے اس نے سوچا کہ اپنی اماں جان کو کیوں پیچھے چھوڑا جائے۔‘‘
’’ ہونہہ رحم دل‘‘اس نے تلخی سے سوچا تھا ۔اریبہ بخوبی جانتی تھی کہ سوشل ویل فئیر کا کام کرنے کی وجہ رحم دلی سے زیادہ لوگوں کی نظروں میں اپنا اسٹیٹس قائم رکھنا تھی لیکن ثانیہ کو پہلے ہی دن اسکی کسی بات پہ ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
٭٭٭٭
وہ ابھی ابھی کالج سے لوٹی تھی ۔کندھے پر لٹکے بیگ کو اس نے بیزاری سے صحن میں بچھی چارپائی پر پھینکا تھا ۔اس وقت پیاس کی شدت سے اس کاحلق خشک ہو رہا تھا جیسے اندر کہیں آگ دھک رہی ہو۔صحن میں ایک طرف رکھے کولر کے پاس پہنچ کر ابھی اس نے پانی پینے کیلئے گلاس اٹھایاہی تھا کہ گرم پانی کے چند گھونٹ اپنے اندر انڈیل کر اس نے وہیں گلاس کو پٹخا اور چارپائی پر منہ پھولاکر بیٹھ گئی تھی۔اس وقت اسے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ٹھنڈے پانی کی سخت طلب تھی لیکن فریج نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اس نعمت سے بھی محروم تھے۔
’’تجھے کیا ہوا ہے منہ کیوں سوجا ہوا ہے۔اٹھ شاباش وضو کر کے نماز پڑھ ۔نماز نہیں چھوڑنی چاہیے کیونکہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا تھا میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میںہے۔‘‘ اماں نے کمرے سے نکلتے ہوئے اسکا حال پوچھنے کے ساتھ ساتھ نصیحتوں کی پوٹلی کھولی تھی۔
’’بس کردو اماں ۔ہر وقت نصیحتیں کرنے مت بیٹھ جایا کرو۔‘‘اس نے کٹیلے لہجے میں کہا تھا ۔
اے لو۔تیرا دماغ کیوں گرم ہے ۔ تجھے تو خوش ہونا چاہیے کہ شہر کے مشہور کالج میں تیرا داخلہ ہوگیا ہے ۔اماں نے تسبیح کے دانے گراتے ہوئے حیرانی سے کہا تھا۔’’خوشی کیا ہوتی ہے اماں جان میں آج تک یہ نہیں جان پائی۔یہ پھٹا پرانا بیگ استعمال کر کے مجھے خوش ہونا چاہیے اس نے اپنی ہاتھوں سے بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہایا سالوں پرانے اڑی ہوئی رنگت کے کپڑوں پر لڑکیوں کی تمسخرانہ نظروں کو سہہ کر مجھے خوش ہونا چاہیے ۔کم از کم میں ان چیزوں پر خوش نہیں ہوسکتی ۔اس نے نم لہجے میں کہا۔
بیٹا دل چھوٹا نہیں کرتے ۔انھوں نے اسکا سر اپنی گود میں ٹکایا اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔غربت باعث آزار تو ہو سکتی ہے لیکن اسکو باعث شرمندگی نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ تو رب کی مرضی وہ جسے چاہے دنیا کے خزانوں سے مالامال کر کے اسکی آزمائش کرے اور جسے چاہے خالی دامن رکھ کر۔تیرے لئے تو یہ بات قابل فخر ہونی چاہیے کہ تیر ا باپ معمولی آمدنی کے باوجود تجھے پڑھا لکھا باشعور انسان بنانا چاہتا ہے۔
’’جو لوگ اپنی غربت پر فخر کرتے ہیں وہ کبھی بھی بلند مقام حاصل نہیں کرسکتے ۔وہ اسی طرح غربت سے سسکتے سسکتے مر جاتے ہیں۔‘‘اس نے اسی طرح ان کی گود میں سر رکھے ہوئے کہا۔
’’دنیا میں بھی بلند مقام محض دولت سے نہیں بلکہ نصیب سے ملتا ہے بیٹا ۔‘‘اماں جان نے اپنی بیٹی کو سمجھانے کی ایک اور کوشش کی۔اسلام ہمیں قنا عت پسندی کا درس دیتا ہے ۔جوتمھارے پاس ہے اس پہ شکر اور جو نہیں ہے اس پر صبر کرنا سیکھو بچے ۔دوسروں کو حاصل کردہ نعمتوں کو اپنی خواہشات بنا کر ان کے پیچھے بھاگنے والے ہمیشہ خوار ہوتے ہیں۔‘‘
باتوں اور فلسفوں کا دور ختم ہوچکا اماں جان ۔اب دولت ہی سب کچھ ہے ۔وہ خفگی کا اظہا ر کرتے ہوئے جھٹکے سے اٹھی تھی۔کچھ نہیں سمجھنا مجھے۔۔مجھے نئے یونیفارم اور بیگ کے لئے پیسے چاہئیں ورنہ کل سے کالج جانا بند۔اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا
اچھا اچھا میرا دماغ نہ خراب کر لے لی پیسے۔مجال ہے جو عقل کی بات چھو کے گزرے بدد ماغ کو۔اسکی ہٹ دھرمی دیکھ کر اماں کا پارہ چڑھا تھا اور وہ بڑبڑاتے ہوئے اسکے پاس سے اٹھ گئیں تھیں۔
٭٭٭٭
وہ ابھی کچھ دیرپہلے اریبہ کیساتھ کالج گیٹ سے نکلی تھی۔دھوپ کی شدت سے اس کا چہرہ تمتمارہاتھا لیکن مجبورأٔوہ اریبہ کیساتھ درخت کے سائے میں کھڑی اسکے ڈرائیور آنے کا انتظار کررہی تھی ورنہ وہ کب کی کالج بس میں سوار ہوکر اس وقت تک گھر بھی پہنچ چکی ہوتی ۔ہائی کلاس سے اسکا تعلق نہ سہی لیکن خود کو ہائی کلاس کا فرد شو کرنے کے تمام طریقے اسے ازبر تھے اس لئے وہ اریبہ کے سامنے کالج بس میں نہیں بیٹھنا چاہتی تھی۔لیکن تپتی دوپہر میں یہ ڈرامہ اسے بہت مہنگا پڑ رہا تھا وہ سخت جنجلاہٹ محسوس کرتے ہوئے ہا تھ میں پکڑی فائل سے ہوا کھا رہی تھی کہ دفعتا گاڑیوں کے ہجوم میں سے ایک سیاہ کرولا اسے اپنے پاس رکتی ہوئی دکھائی دی جس میں ایک ادھیڑ عمر شخص ڈرائیوروں والا مخصوص یونیفارم پہنے گاڑی کے ہارن پہ ہاتھ رکھ کے شاید ہٹانا بھول گیا تھا۔’’شکر ہے میری گاڑی آگئی ۔تم بھی چلو تمھیں بھی گھر ڈراپ کردیں گے۔‘‘اریبہ نے کہا
’’ہوں‘‘ ۔شاید ڈیڈی آفس میں بزی ہو ں اس لئے ابھی تک نہیں آسکے۔ثانیہ نے کہا
توپھر میرے ساتھ ہی چلو نا۔اریبہ نے اسے اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کیا ۔
ہوں ۔چلو ٹھیک ہے۔اس نے ایسے کہا جیسے بادل ناخواستہ چلنے کی حامی بھری ہو ورنہ اس جھلسا دینے والی گرمی میں اے سی لگی گاڑی میں سفر کرنا اس کیلئے ایک نیا اور فرحت بخش احساس تھا۔
’’او ثانیہ پتر‘‘۔۔ وہ ابھی اریبہ کیساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھنے کیلئے چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ اسے اپنے عقب سے جانی پہچانی آواز سنائی دی اس نے گردن موڑ کر مخاطب کو دیکھا تو اپنے ابا کو پھلوں کی ریڑھی سمیت دیکھ کراس کا سانس حلق میں اٹک گیا۔شاید اس کے ستارے ہی آج گردش میں تھے جو صبح اماں نے اسکی کام چوری پر اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائی تھی اور اب اس کا پول اریبہ کے سامنے کھلنے کوتھا۔وہ اس قدربوکھلائی کہ اریبہ کو لے کر وہاں سے نکل جانے کی بجائے جم کر کھڑی ہوگئی اور ابا اس کے پاس پہنچ چکے تھے۔’’ثانیہ پتر بس نکل گئی ہے کیا جو تو ادھر اس طرح کھڑی ہے۔‘‘ابا نے متفکرانہ لہجے میں پوچھا تھا اور اس نے گڑبڑا کر اریبہ کی سمت دیکھا جس کے چہرے پر حیرت چھائی ہوئی تھی ۔اور اس نے اپنی اس حیرت کو ابا سے سوال پوچھ کر ظاہر ہونے سے بھی نہیں روکا۔’’انکل آ۔۔آپ ثانیہ کو کیسے۔۔۔
او ثانیہ بیٹی ہے میری ۔اس کو تپتے دوپہر میں بس کا انتظار کرتے دیکھا تو اسے رکشے کا کرایہ دینے چلا آیا کہ آج یہ بھی مزے کر لے۔ابا نے اپنے آنے کی وجہ بتائی تھی۔
اس سے پہلے کہ ثانیہ اپنی صفائی میں اریبہ سے کچھ بولتی ‘اریبہ نے اسے شاکی نظروں سے گھورا تھا اور کچھ کہے بغیر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ٹھک سے دروازہ بند کر دیا تھا۔اسے دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ اس کی دوست کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ ثانیہ نے اس سے سب چھپا کر دوستی کے اصولوں کو توڑا تھا۔وہ اگر اسے اپنی دوست سمجھتی تو اس سے اپنا اصل نہ چھپاتی ۔اس بھری دنیا میں جب اسے ماں باپ کے رشتے سے محبت نہیں ملی تھی تو پھر دوستی کے رشتے میں کیسے خلوص مل سکتا تھا۔وہ انہی سوچوں میں گم گھر پہنچی تھی اور آتے ہی بستر پر لیٹ گئی تھی ۔
شام کو جب ثانیہ کے ابا نے پیسے بچا بچا کر اس کے لیے لایا ہوا لان کا ڈیزائنر کا سوٹ دیکھایا توکالج کے باہر ابا کی آمد کی وجہ سے ہونے والے واقعہ کی ساری بھڑاس ان کے لائے ہوئے جوڑے پر نکالتے ہوئے اس نے نہایت نخوت سے ناک چڑھا کر کہا تھا۔’’ابا جان اس طرح کے کپڑے آپ اماں کو ہی لاکر دیا کیجیے ۔آج کل اس طرح کے کپڑے کون پہنتا ہے ۔‘‘اور ابا اسکی بات سن کر اتنا سا منہ لے کر رہ گئے تھے۔
٭٭٭
یہ اوائل جلائی کے دن تھے ‘فضا میں حبس زدہ گرمی رچی بسی تھی کہ چند لمحوں کیلئے بھی سورج کے سائے تلے کھڑے ہوکے پسینے میں شرابور ہوجانا لازمی امر تھا۔ایسے میں چند دن پہلے ہونے والی بارش صحیح معنی میں ابررحمت بن کر نازل ہوئی تھی ۔اس لئے شام کے اس وقت ٹھنڈی میٹھی ہوائیں چل رہی تھیں ۔ثانیہ اس وقت صحن میں بچھی چارپائی پر اپنی کورس کی کتاب میں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی لیکن کتا ب کو پڑھنے سے زیادہ اس سے نیچے رکھے موبائل کو چھپانے کا کام لیا جارہا تھا۔’’ثانیہ بیٹا دیکھ تو کون آیا ہے۔‘‘ ابا کی پرجوش آواز پر اس نے ہڑبڑا کر کتاب ہٹائی تھی اور تیزی سے میسج ٹائپ کرتی انگلیاں تھمی تھیں ۔داخلی دروازے سے ابا کے ساتھ اریبہ کو آتے دیکھ کر اس نے زچ ہوکر دانت پیسے تھے جیسے اریبہ کو کچا چبا جانے کا ارادہ ہو اور جلدی سے موبائل کو ساتھ رکھے کالج بیگ کے اندر گھسایا تھا۔کالج میں اس دن کے بعد سے اریبہ سے اسکی بات چیت بالکل بند تھی ۔وہ جو کالج کے پہلے دن سے ہر جگہ ساتھ ساتھ گھومتی دکھائی دیتی تھی آجکل دریا کے دو کناروں کی طرح الگ تھلگ تھیں ۔وہ اریبہ کو منانا چاہتی تھی لیکن اس دن اسکی کاٹ دار نگاہیں یاد کر کے ہچکچاہٹ اڑے آجاتی تھی ۔اس وقت بھی وہ اس سے صحن پڑی واحد کرسی پر منہ موڑے بیٹھی تھی۔ ابا اسکے لئے کولڈ ڈرنک لینے باہر چلے گئے تھے۔’’آ ۔۔آئم سوری اریب ۔۔۔ثانیہ نے اسکا ہاتھ تھام کے کہا اور پھراس نے کتنی ہی دیر اس کے سامنے گلے شکوے کیے ثانیہ نے اسکو منا کے ہی دم لیا تھا کہ روٹھنے منانے سے دوستی ختم تو نہیں ہوجاتی ۔روٹھنا منانا تو سچی دوستی کے ingredientsمیں سے ہے جن کے بغیر دوستی کا رشتہ نامکمل سا لگتا ہے۔
٭٭٭٭
آج ثانیہ نے اسے بتائے بغیر چھٹی کر لی تھی اس لئے اسکا سارا دن جی بھر کے بور ہوتے گزرا تھا۔چھٹی کے وقت وہ ایک طرف کندھے میں سٹائلش سا بیگ لٹکائے لڑکیوں کے ہجوم کو چیرتی جیسے ہی کالج گیٹ سے نکلی اسکی نظر پارکنگ ایریا میں کھڑی اپنی گاڑی پر گئی تھی ۔اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے شکر ادا کیا تھا کہ وقت پر پہنچ کرڈرائیور بابا نے اسے انتظار کی زحمت سے بچا لیا تھا۔وہ ابھی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولنے ہی لگی تھی کہ اسے ثانیہ کسی خوبرو شخص کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی دکھائی دی۔اگر کچھ عرصہ پہلے اسے ثانیہ کے بیک گرائونڈ کے بارے میں پتا نہ چلا ہوتا تو وہ اس وقت ثانیہ کے ساتھ بیٹھے شخص کو اس کا کزن یا رشتے دار سمجھ کر لاپراوہی سے کندھے اچکا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ جاتی ۔لیکن اس بڑی سی شاندار گاڑی میں تھری پیس سوٹ پہنے اس شخص کا تعلق کسی بھی طرح لوئیر مڈل کلاس سے نہیں لگ رہے تھا اس لئے اریبہ نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس شخص کا چہرہ دیکھنے کے لیے چند قدم آگے بڑھائے تھے اور اپنے کزن دانیال درانی کو اپنی مخصوص سن گلاسز آنکھوں میں چڑھائے ثانیہ کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر ساکت رہ گئی تھی۔انسان شاید ازل سی ہی پرتجسس رہا ہے یہ تجسس اور کھوج لگانے کا جذبہ ہی ہے جس سے سائنس دان دنیا میں نت نئی ایجادات کر پاتے ہیں ۔اور اس وقت اسی جذبے نے اریبہ کے سامنے اپنی پیاری دوست کی زندگی کا ایک اور پہلو کھول کر رکھ دیا تھا۔
٭٭٭٭
اس دن بارش چھم چھم برس رہی تھی ،آسمان پر چھائی کالی گھٹائیں کافی دیر بارش کے جاری رہنے کا اعلان کررہی تھیں ۔اور برا ہوا کہ میری بس بھی اس دن چھوٹ گئی تھی اور تم تو اس دن چھٹی پر تھی اس برستی بارش میں کالج سے سامنے والے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر میں کسی ٹیکسی یا رکشے کا انتظار فرما رہی کہ ایک تیز رفتار کار نے آکر میرے سفید یونیفارم کو کیچڑ کی چھینٹوں سے بھر دیا تھا۔گاڑی میں بیٹھا دانیال درانی اپنی اس کارکردگی کو ملا حظہ کرنے کیلئے جیسے ہی گاڑی سے نکلا میں نے اسکی تواضح نہایت عمدہ کلمات سے کی تھی۔جوابا اس نے اپنی اس غلطی کی تلافی کیلئے مجھے اپنی گاڑی میں گھر ڈراپ کرنے کی آفر کی ۔میں تو پہلے ہی بارش میں بھیگ چکی تھی اس لیے میں احسان کرنے والے انداز میں اسکی اس آفر کو قبول کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی تھی۔بیلومی اریب میں اسکی گاڑی میں بیٹھ کے ایسا کھوئی کے مجھے اپنی کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہا ۔۔اس نے اپنی حالت کو یاد کر کے ہلکا سا قہقہ لگایا ۔اریبہ نے اسے زبردست گھوری سے نوازہ تو اس نے دوبارہ اپنی بات وہیں سے شروع کی ۔میرا کالج کا آئی ڈی کارڈ اس محترم کی گاڑی میں ہی رہ گیا تھا جس کو واپس کرنے کے لیے وہ اگلے دن کالج کے باہر پھر ٹپک پڑا تھااور ساتھ ہی مجھے اصرار کر کے تھوڑی دیر چٹ چیٹ کیلئے سامنے والے پارک میں لے گیا۔۔اور اسی طرح کئی دن پارک میں بیٹھ کرکی جانے والی چٹ چیٹ کس طرح دوستی میں بدل گئی اور پھر ۔۔۔۔ثانیہ کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ رقصاں تھی۔
ہوگئی آپ کی بکواس ختم ۔۔۔اریبہ نے پھاڑ کھانے والے انداز میں اس کی بات کاٹی تھی۔وہ دونوں اس وقت کالج کینٹین میں فرصت سے بیٹھی تھیں ۔اس لیے اریبہ نے اس سے دانیال درانی کے بارے میں بغیر کسی لگی لپٹی کے پوچھا تھا اور جوابا ثانیہ نے اسے پوری کہانی سنا ڈالی تھی۔
سوری یار میں تمھیں بتانا چاہتی تھی اس بارے میں لیکن ۔۔۔
تمھیں اندازہ ہے کہ تمھاری یہ حماقت تمھیں کس دوراہے پر لا کھڑا کر سکتی ہے۔اریبہ نے اسکی بات کاٹتے ہوئے تیز لہجے میں کہا ۔ثانیہ کی باتوں سے اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ دانیال کے اسٹیٹس اور دولت کی وجہ سے اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔اس لیے وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی معصوم دوست اس شخص کے ہاتھوں بے وقوف بنے۔جو لڑکیوں کو ٹائم گزاری کیلئے ایک کھلونا سمجھتا تھا۔
میں کوئی حماقت وماقت نہیں کررہی سمجھی تم۔۔اریبہ کا اس کے لیے حماقت کا لفظ استعمال کرنا اسے سخت زہر لگا تھا۔
ا۔۔اچھا آپ تو بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے رہی ہیں جس کے لیے آپ کسی تمغے کی حق دار ٹھہرائی جاسکتی ہیں۔اریبہ نے اسکی بات پر طنزیہ لہجے میں کہا۔
اٹس اینف اریب۔۔زندگی میں ہر شخص کو اپنے بنائے ہوئے خوابوں کے محل کی تعبیر کے لیے تگ و دو کرنے کا حق ہے۔اگر قدرت مجھے موقع دے رہی ہے تو میں کیوں گنوائوں ۔میں کوئی بے وقوفی نہیں کررہی وہ جلد ہی اپنے گھر والوں کو ۔۔۔
ٹھیک ہے میں تمھیں ثابت کرکے دکھائوں گی کہ خوابوں کی تعبیر کیلئے تم نے جو راستہ چنا ہے وہ سراب کے سوا کچھ نے ۔۔اریبہ نے اس کی بات کاٹی تھی اور کرسی کھسکا کے اٹھ کھڑ ی ہوئی تھی۔
ہونہہ۔جلیس ہوگئی آخر اپنے کزن کے ساتھ مجھے دیکھ کر۔جل ککڑی نہ ہو تو۔ ثانیہ نے اسے کینٹین سے باہر نکلتے دیکھ کر زیرلب کہا تھا اور سر جھٹک کر سامنے میز پر پڑا ہوا مینگو شیک پینے لگی تھی۔
٭٭٭٭
ٌٌٌٌــــ”بتائو بھئی کیوں بلایا اتنی ایمرجنسی میں ۔دانیال درانی نے کرسی کھسکا کر اس پر بیٹھتے ہوئے کہا۔وہ اور اریبہ اس وقت اسلام آباد کے مونل ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔گلاس ونڈوز کے اس پار شام کے وقت نظر آتے آسمان پر چھائے روئی کے گالوں کی طرح سفید بادل اور سرسبز درخت بہت دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔اریبہ نے اپنے سامنے پڑے گلاس میں پانی انڈیل کر چند گھونٹ پیتے ہوئے اپنے ذہن میں ان باتوں کو دوہرایا جو وہ یہاں دانیال سے کرنے آئی تھی۔اتنے میں ویٹر گرماگرم کافی کے دوکپ سرو کر کے جاچکا تھا جو وہ پہلے ہی آڈر کر چکی تھی۔
بہت ضروری بات کرنی تھی۔اس نے کافی کے کپ پر نگاہیں جمائے ہوئے کہا۔
بولیں میڈم میں ہمہ تن گوش ہوں۔
ثانیہ کو جانتے ہوتم۔وہی ثانیہ رحمان جو میری کالج فیلو ہے۔
اوں ثا ۔ثا نیہ ۔۔۔دانیال نے کنپٹی کو شہادت کی انگلی سے چھوتے ہوئے سوچنے کی اداکاری کی ورنہ اسے سوچنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس معاملے میں اسکی یاداشت کمال تیزی سے چلتی تھی۔ہوںیاد آگئی تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔اس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔
بس میرا اس سے پرانا حساب نکلتا ہے۔کیا تم سیریس ہو ا س سے۔۔می۔۔میرا مطلب ہے کیا تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو۔اریبہ نے لڑکھڑاتے لہجے میں کہا۔اریبہ کا ڈائریکٹ اس طرح کا سوال کرنا اسے اپنی حماقت لگا تھا ۔لیکن اب کیا کیا جاسکتا تھا جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں جاسکتا اسی طرح زبان سے نکلے ہوئے الفاظ بھی لوٹ نہیں سکتے ۔ اسکی توقع کے مطابق اس نے کتنی ہی دیر زوردار قہقہ لگایا تھا جیسے پتا نہیں کونسا عجوبہ دیکھ لیا ہو۔”آر یو ان یور سنسز مس اریبہ ۔۔تم جانتی ہو مجھے پھر بھی یہ سوال کررہی ہو۔اس نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔تمھارا کیا خیال ہے میں ایک تھرڈ کلاس محلے میں رہنے والی ایک معمولی سبزی فروش کی بیٹی سے شادی کرونگا۔جو خود بھی محض دولت کی لالچ میں مجھ سے امپریس نظر آتی ہے ۔ایسی لڑکیوں سے فلرٹ تو کیا جاسکتا ہے لیکن شادی نہیں۔واہ کیا جوک کیا ہے تم نے ۔یہی مذاق سنانے کے لیے تم نے مجھے یہاں بلایا تھا”۔اس نے نہایت زہریلے لہجے میںکہا ۔اریبہ نے نہایت ضبط سے کام لیتے ہوئے اس کے زبان سے نکلنے والے تیروں کو برداشت کیا تھا ۔لیکن دانیال درانی کی پشت پر واقع میز پر بیٹھی ثانیہ کے لیے ان الفاظ کو برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔وہ شخص جو ہمیشہ اس کے سامنے ساتھ نبھانے کے دعوے کرتا تھا،اسکی تعریفوں میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاڈالتا تھا اس وقت اس کی ذات کے پرخچے اڑا رہا تھا۔وہ نہایت خاموشی سے اس کو سننے پر مجبور تھی ۔اس کے الفاظ کسی نوکیلے کانٹوں کی طرح اسکے دل میں پیوست ہوکررہ گئے تھے اور ان سے درد امڈ رہا تھا۔سیاہ گلافی آنکھوں سے کس وقت نمکین پانی بہنا شروع ہو گیا وہ اندازا نہیں کر پائی تھی۔بعض دفعہ صرف قسمت کھیل نہیں کھیلتی ہمارے ساتھ انسان اس سے بڑھ کر کھیل کھیلتے ہیں ۔
اس نے جھٹکے سے کرسی کھسکائی تھی اور اریبہ کی میز سے گزرتے ہوئے شکوہ کناں نظروں سے رخ موڑ کر اس شخص کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔عین اسی لمحے دانیال درانی کی نظر آنسوئوں سے لباب بھری آنکھوں پر پڑی تھی اور وہ اسکو یہاں دیکھ کر اپنی جگہ منجمند رہ گیا تھا ۔اریبہ حیرت سے گنگ کھڑے دانیال درانی کو چھوڑ کر ہوٹل کے داخلی دروازے کی طرف جاتی ثانیہ کے پیچھے بھاگی تھی۔
٭٭٭٭
آج ایک بات تو بتائو مجھے
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
وہ صحن میں پڑ ی اپنی چارپائی پر چت لیٹی تھی ۔خالی خالی نگاہیں تاروں بھرا آنچل اوڑھے سیاہ آسمان پر ٹکائے ہوئے تھی۔آسمان پر ٹمٹماتے ا ن گنت ستارے بھی اس کے لیے کوئی خوشنما منظر پیش نہیں کررہے تھے ۔جب دل پر سیاہ گھنائونی رات جیسا سناٹا چھایا ہوا ہو تو نظروں کے سامنے سے چاہے قدرت کے کتنے ہی حسین نظارے گزر جائیں اس من کو قطعانہیں بھاتے ۔ثانیہ رحمان کتنی ہی دیر آسمان پر پھیلے ان ستاروں میں سے اپنے مقدر کاستارہ تلاشنے کی کوشش کررہی تھی جو شاید اس کے مقدر کو روشن کر سکتا ۔پتا نہیں ایسی کتنی بیکار کوششیں کرنا اسکے مقدر میں لکھا تھا ۔اس کا سر کسی زخمی پھوڑے کی طرح درد کر رہا تھا اور اس دن ہوٹل میں پیش آنے والا واقع بار بار ذہن میں ری وائینڈ ہو رہا تھا ۔دانیال درانی کا ہتک امیز لہجہ اور نوکیلے لفظ کئی دن گزر جانے کے بعد بھی اس کی ذہن کی سطح سے مٹ نہیں سکے تھے۔پتانہیںاسکا قصور کیا تھا جو اس شخص نے اسکو بے مول سمجھ کر اسکے جذبات کو کچل ڈالا تھا۔شاید اپنے مستقبل کو بہتر اور اعلیٰ لائف سٹائل کے خواب دیکھانا ہی اسکا سب سے بڑا قصور تھا ۔اور یہ دولت مند افراد تو کسی غریب کو کیڑا مکوڑا سمجھ کر اپنے پیروں تلے روند ڈالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔اس نے دل ہی دل میں کہا تھا ۔انسان بڑا ہی خودپسند واقع ہوا ہے اپنی غلطیوں کو بھی دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر خود بری ہوجانا چاہتا ہے۔جبکہ دانیال درانی نے اگر اسکو دھوکہ دے کر گنا ہ کیا تھا تو غلطی تو ثانیہ کی بھی تھی جس نے اپنے خوابوں کی تعبیر اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے دانیال جیسے سراب کو سیڑھی سمجھ لیا تھا۔کیا ہوا ثانیہ بیٹا ؟ اماں رات کے اس وقت تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھی تھیں کہ اسے سر تھامے صحن میں بیٹھے دیکھ کرانھوں نے تشویش سے پوچھا تھا ۔کچھ نہیں ہوا اماں ۔۔ثانیہ نے سر اٹھا کر بوجھل اور سرخ آنکھوں سے انہیںدیکھا تھا۔اماں اسکی آنکھوں میں سرخی دیکھ کر اس کے پاس ہی چارپائی پر آکر بیٹھ گئیں تھیں اور اسکا ماتھا چھوتے ہوئے کہا ۔”مجھے تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی” ۔
”بس سر میں درد ہے تھوڑا ۔آپ جائیں پریشان نہ ہوں”۔انھوں نے اسکی بات سنے بغیر اسکا سر اپنی گود میں رکھا تھا اور نرمی سے دبانے لگیں تھیں۔ماں کے ہاتھوں کا شفقت بھرا لمس پاتے ہی اسے عجیب سا سکون محسوس ہوا تھا اور اس نے آنکھیں موندتے ہوئے سوچا۔اماں کو اگر پتا چل جائے کہ میں انھیں کچھ عرصہ پہلے کیسا دھوکہ دیتی رہی ہوں تو وہ میرا سر دبانے کی بجائے گلہ دبانا پسند کریں گی۔
”اماں جان یہ دل ان چیزوں کے خواب کیوں دیکھتا ہے جو ہماری پہنچ سے دور ہوتی ہیں؟”۔کچھ دیر بعد اماں کو اسکی آواز سنائی دی تھی۔”بیٹا جی یہ تو انسان کی فطرت ہے جو چیز پہنچ سے دور ہوگی انسان اس کو وہ پرکشش لگتی ہے۔اللہ نے جو کچھ بھی بنایا ہے وہ انسان کے فائدے کے لیے بنایا ہے اور ان چیزوں میں انسان کے لیے کشش اور محبت بھی رکھی ہے اگر کشش نہ ہوتو انسان ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اللہ نے اسکے فائدے کیلئے بنائی ہیں۔”
پھر وہ بعض لوگوں کو ان چیزوں سے محروم کیوں رکھتا ہے اماںجان؟۔
”یہ دنیا تو ہے ہی امتحان کی جگہ ۔یہی تو انسان کا امتحان ہے اگر وہ کسی کو دنیا کی بے پناہ دولت و آسائش سے نوازتا ہے تو وہ اسی میں کھو جاتا ہے یا ان نعمتوں پراپنے عمل سے اللہ کا شکرگزار ہوتا ہے۔یہ چیزیں ایک طرف امتحان ہیں تو دوسری طرف شکرگزاری کا ذریعہ بھی۔اگروہ کسی کو دنیاوی دولت سے محروم رکھتا ہے تو بھی اسکا امتحان ہے کہ وہ قناعت کا راستہ اختیار کرتا ہے یا انکی محبت میں کھو کر غلط راستے سے ان کو پانے کی کوشش کرتا ہے”۔اللہ تعالیٰ سورہ ال عمران میں فرماتا ہے کہ” لوگوں کیلئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت ،عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اورکھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا”۔اس آیت میں لفظ حب الشھوٰت استعمال ہوا ہے ۔جانتی ہو شہوات کسے کہتے ہیں؟۔ رات کے اس پہر چلتی دھیمی ہوا سے ثانیہ کے چہرے پر آتی بالوں کی لٹوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے ہوئے انھوں نے کہا۔اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔آج سے پہلے اسے اماں کی یہ باتیں محض لفاظی اور نصیحت ہی لگتی تھیں مگر اس وقت اسے یہ باتیں سننا بہت اچھا لگ رہا تھا۔نجانے انسان ٹھوکر لگنے کے بعدہی کسی کی نصیحت پر کان کیوں دھرتا ہے۔؟
”شہوت کہتے ہیں کسی چیز کی طرف انتہائی رغبت یا دل کا کسی چیز کی طرف ٹوٹ پڑنا ۔یعنی اس حد تک کسی چیز کی محبت میں مبتلا ہوجا نا کہ انسان کو اس چیز کی خواہش سے بھی محبت ہو جائے۔اور جانتی ہو بیٹا بعض دفعہ ہمیں چیزوں سے اتنی محبت نہیں ہوتی جتنی چیزوں کی محبت سے محبت ہوتی ہے ۔لیکن اس کا اندازہ ہمیں اس چیز کو پانے کے بعد ہوتا ہے۔انھوں نے ہوا کی وجہ سے سر سے ڈھلک جانے والے دوپٹے کو سر پر جماتے ہوئے کہا۔
”لیکن اماں اللہ نے جب یہ سب چیزیں انسانوں کیلئے بنائی ہیں تو پھر انھیں پانے کی خواہش کرنا گناہ کیوں ہے۔؟”ثانیہ نے الجھن امیز لہجے میں کہا۔
”دیکھو ثانی بیٹا دنیا میں مال کی ضرورت انسان کو پڑتی ہے اور اس کی محبت بھی فطر ی ہے لیکن جس طرح جو پانی کشتی کو چلاتا ہے اگر وہی پانی زیادتی کی وجہ سے کشتی کے اندر چلاجائے تو اسکو ڈبو دیتا ہے۔اس طرح حد سے بڑھی ہوئی کسی چیز کی چاہت انسان کو ڈبو دیتی ہے ۔جس طرح یہ دنیا عارضی ٹھکانہ ہے اس طرح یہاں کے فائدے بھی عارضی ہیں ۔اس لیے ان عارضی چیزوں کی محبت میں کھو کر اپنے رب کی رضا کو بھول نہیں جا نا چاہیے ۔ان کی محبت میں ڈوب کر انسان کو ان سراب رستوں کو اختیا ر نہیں کرنا چاہیے جو اس کو منزل تک تو نہیں پہنچاتے لیکن ذلت کی عمیق گہرائیوں میں اتارنے کا سبب بن سکتے ہیں۔اماں کی آخری بات پر اسکے چہرے کارنگ متغیر ہوا تھا۔اسے لگا تھا کہ یہ بات اسی کے لیے کہی گئی ہو۔وہ بھی تو دولت اور اسٹیٹس کی محبت میں اس حد تک کھو گئی تھی کہ صحیح اور غلط کی پہچان کھو بیٹھی تھی۔لیکن دیر سے ہی صحیح اسے سمجھ میں آ گیا تھا کہ دولت اور ہائی اسٹیٹس ہونا کوئی بڑی بات نہیں لیکن غربت کے باوجود بھی عزت اور وقار کے ساتھ جینا بڑی بات ہے۔اس لیے کچھ پانے کے لیے سراب رستوںپر چلنے کی بجائے کوشش اور محنت کا رستہ اپنانا چاہیے جو اللہ کو بھی پسند ہے۔
اماں اسکی سوچوں سے بے خبر اسے کہہ رہی تھیں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا دنیا میں زہد اختیا ر کرو (یعنی ضرورت کا ہی لو)اللہ تم سے محبت کرے گا اور جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہوجائولوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔
اے ثانی تو سن رہی ہے کہ میں دیواروں کو ہی سنا رہی ہوں۔اماں نے اسے ہنوز آنکھیں موندے دیکھ کر اسے چپت رسید کی تھی ۔
اوں۔۔ہاں سن رہی ہوں اماں۔۔اس نے ہڑبڑا کر کہا۔
آئے ہائے کن باتوں میں لگا دیا تو نے ۔تہجد کا وقت ہی نکل گیا ۔چل اٹھ جا تو بھی اب فجر کی نماز پڑھ کے سوئی ۔کتنی دیر سے ادھر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے اور اب نماز کے وقت منہ لپیٹ کر سوجائے گی ۔اس نئی نسل کے ہر کام ہی الٹے ہیں۔۔اماں اپنی جون میں واپس آچکی تھیں ۔وہ بڑبڑاتے ہوئے فجر کی نماز پڑھنے کے لیے اندر چلی گئیں ۔اور وہ بھی آج نماز پڑھنے کے ارادے سے ان کے پیچھے چل پڑی تھی کہ ثانیہ نے اپنے رب کا شکر ادا کرنا تھا کہ اس نے اسے گرنے سے پہلے اریبہ کی صورت میں تھامنے والا ہاتھ مہیا کردیا تھا۔ زندگی میں اونچائی پر چڑھنے والوں کو تو بہت سے ہاتھ تھامنے والے مل سکتے ہیں لیکن نیچے گرنے والوں کو بہت کم ہاتھ تھام کر اوپر اٹھاتے ہیں۔
–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: