Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 2

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 2

–**–**–

گڈ تم نے اچھا کیا چینج کر لیا۔۔
اچھا میں اب گھر چلا جاٶں گا۔۔
کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بھابھی کے نمبر سے مجھےکال کر لینا میں نے جیب سے وزٹنگ کارڈ سدرہ کو دیتے ہوٸے کہا۔۔۔
سدرہ کی ہیلپ کر کے دل بہت خوش تھا عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا جہاں کی کامیابی مل گٸی ہو۔۔۔
خادم حسین کے محلے سے نکل کے میں نے گھر کا رخ کیا حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔۔
جو کل شام آفس سے آ کے ٹی شرٹ اور ٹروزر پہنا تھا ابھی تک اسی میں تھا۔۔۔
کیونکہ رات جب ہاسپٹل گیا تھا تو اس کے بعد سدرہ کو لفٹ دی اور پھر یہ سب ہوا جس کی وجہ سے ابھی تک گھر نہیں جا سکا تھا۔۔۔
اب ماموں کے گھر جانا تھا اس لٸے چینج کرنا ضروری تھا۔
چینچ کرنے کےلٸے میں نے بلیک پینٹ اور واٸٹ شرٹ کا انتخاب کیا کیونکہ آج ذرا کزن کے دل پہ چھریاں چلانی تھی جو اکثر لاٸنیں مارتی رہتی تھی😃
چینج کر کے میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ ماموں کی کال آ گٸی۔۔
شاہ صاحب ابھی پہنچے نہیں تسی ساڑھے چھ ہو گٸے ہیں
بس ماموں بیس منٹ میں آیا۔۔
جلدی آ پتر۔۔۔
اللہ خیر کرے ماموں کی ایک دن میں دوبار کال کہیں کوٸی مسلہ تو نہیں بن گیا
اور مسئلے کا دماغ میں آتے ہی مجھے نصیبو لال کی یاد ستانے لگی😌
واحد نصیبو لال ایسی سنگر ہے جو آپ کو سب مسٸلوں سے نکال ایک نٸے مسٸلے میں ڈال دیتی ہے 😃
سونگ پلے کیا ہی تھا کے بیگم کی کال آگٸی۔۔
تین بار لاحول لا ولاقوة پڑھ کے موباٸل پہ پھونک مار کے کال پک کی
السلام علیکم
کیسے ہیں ؟
طبیعت کیسی ؟
وعلیکم السلام
ٹھیک ہوں طبیعت بھی ٹھیک ہے
کیا کر رہے ہیں مصطفی۔۔؟
گاڑی چلا رہا ہوں
اور تمہارے ہجر میں نصیبو لال کے گانے سن رہا ہوں😉
نا اے کہڑا ہجر اے جس وچ نصیبولال کے گانے سنے جاتے ہیں بیگم کے لہجے میں تیزی تھی
اب جیسے انسان کا ہجر کا اسی حساب سے انسان سنگر بھی سلیکٹ کرے گا نا
اب اگر تیری جگہ تیری وہ سہیلی ہوتی جس نے تجھ سے چھپ کے نمبر دیا تھا تو میں ضرور عاطف اسلم یا نیہا کھوکھر کو سنتا۔۔۔
تم ایسے ہی مرو گے سہیلی کیا میں بھی نہیں آنے والی۔۔
اور اُس کمینی کا حال پھر دیکھا تھا نا تم نے
اور باٸے دی وے وہ نیہا کھوکھر نہیں نیہا کاکڑ ہے
پہلےکھوکھر ہی تھی اب ککڑ بنی ہے کسی جھل ککڑ سے شادی کر کے…
میں اسے جانتا ہوں پڑھتی رہی ہیں میرے ساتھ
ہاہاہاہاہاہا اگر آپ کے ساتھ پڑھتی ہوتی تو ورلڈ کلاس سنگر نا ہوتی بلکہ آپ کی نصیبولال کی کوٸی منی برانچ ہوتی۔۔
خبردار میڈم کی شان میں کوٸی گستاخی کی تو اچھا نہیں ہو گا۔۔
بھاڑ میں جاٸے آپ کی میڈم گھر کب جاٶ گے مجھے ویڈیو کال کرنی ہے
سوری میڈم ویڈیو کال نہیں ہو گی۔۔
واٹ کیوں نہیں ہوگی فضول بات
اصل میں واٸی فاٸی کاٹ دیا ہے پی ٹی سی ایل والوں نے
میں نے بیگم کے ارمانوں پہ پانی پھیرنے کی کوشش کی۔
وجہ کل تک تو ٹھیک تھا اور کاٹا کیوں
بیگم کی آواز میں غصہ تھا۔
بس یار بل جمع نہیں کروایا
کیا فضول بات ہے مصطفی کیوں نہیں کروایا بل جمع۔۔
بس پیسے نہیں تھے میرے پاس غریب ہو گیا ہوں میں۔۔
میں مزاق کے موڈ میں تھا نہیں مجھے ویڈیو کال کرنی ہے تو مطلب کرنی ہے اور اگلے تیس منٹ میں کال پک ہو۔۔۔
اور اگر واٸی فاٸی نہیں تو زونگ کا پیکج کر لیں ویکلی
بیگم نے آٸیڈیا دیا
لیکن وہ مصطفی ہی کیا جو بیوی کی واٹ نہ لگاٸے
سو میں نے کہ دیا کہ بیلنس نہیں ہے
اب بیگم کافی تپ چکی تھی
اس لٸے فورن جواب آیا یہ میرا مسلہ نہیں
تمہارا مسلہ نہیں تو میرا بھی مسٸلہ نہیں ہے بات تمہیں کرنی ہے نا تو بیلنس بھیجو۔۔
او کے بھیجتی ہوں
شکریہ پانچ سے کم مت بھیجنا ورنہ میرے فون کا دل ٹوٹ جاٸے گا۔۔۔
پتہ نہیں کس منحوس گھڑی میں تم مجھے مل گٸے تھے
اب وہ فل تپ چکی تھی۔۔۔
اُسی منحوس گھڑی میں جو چار سو پچاس کی لی تھی😀
اِسی لڑاٸی میں
میں ماموں کے گھر کے سامنے پہنچ گیا اور بیگم کو بتایا کے میں ماموں کے گھر آیا ہوں بعد میں بات کرتا ہوں
ماموں کے گھر آٸے ہو بیگم نے تصدیق چاہی۔۔
جی ماموں کے گھر آیا ہوں میں نے جواب دیا
واٶ ویری ناٸس بیگم کے چہکنے کی آواز آئی…
مجھے فیل ہوا کہ کچھ غلطی کر دی ہے میں نے۔۔
لیکن سمجھ نہ آٸی کیا غلطی کی ہے۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے بیگم نے سمجھا دیا۔۔۔
اچھا مصطفی صاحب ایسا ہے کہ آپ ماموں کے گھر آٸے ہیں تو ماموں کے گھر کا تو فاٸی واٸی ٹھیک ہے نا اس لٸے بیلنس بھیجنے کا پروگرام کینسل اوپر جاٸیں اور ماموں سے فری ہو کے بات کریں یاہو میرا پانچ سو بچ گیا۔۔۔
اب بیگم نے باقاعدہ نعرہ مارا
تیرا تو میں بڑا علاج کرتا ہوں زرا رک تُو
میں نے غصے سے دانت پیسے ۔
کیا ہے نا مصطفی شاہ جب آپ جیسا بندہ غلطی کرتا ہے تو بڑا مزہ آتا ہے اُسے اپنی غلطی پہ پچھتاتا دیکھ کے😂
باٸے بیگم نے ہنستے ہوٸے کال بند کر دی
اور میرے لبوں پہ بھی مسکراہٹ آگٸی۔۔۔
وہ میرے معاملے میں ایسی ہی تھی
اپنے امی ابو کی بھی نہیں سنتی تھی نا بہن بھاٸیوں میں سے کسی کو خاطر میں لاتی تھی۔۔۔
وہ کہتی تھی میں جنون ہوں اس کا اور یہی سچ تھا
ماموں کے گھر سے فری ہو کے میں گھر آیا تو رات کے دس بج رہے تھے منیبہ کو میسج کیا تو فوراً جواب آ گیا
اور ساتھ ہی کال بھی۔۔۔
اُس سے ایک گھنٹہ بات کی اور خوب جی بھر کے تنگ کیا کال ختم ہونے کے بعد جب بستر میں آیا تو آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کے دماغ الجھ گیا۔۔
بار بار یہ سوچ آ رہی تھی کہ سدرہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا وہ کون ہے کدھر سے آٸی ہے اگر کل کو کوٸی مسئلہ بن گیا یا اس نے کوٸی واردات کر دی تو ؟
یہ سوچ آتے ہی دماغ نفی کر دیتا کہ وہ ایسی نہیں لگتی۔۔۔
دوسرا خیال یہ آتا کہ منیبہ میرے لٸے پاگل ہے اُسے کیسے بتاٶں کہیں وہ مجھے غلط ہی نا سمجھ لے اور اِس غلط فہمی کے اثرات کہیں ہمارے رشتے پہ نہ پڑیں۔۔۔۔
یہ خیال کافی خوفناک تھا
لیکن ایک بات بہت عجیب ہو رہی تھی دماغ جب بھی سدرہ کے خلاف کوٸی بات سوچ کے لاتا تو دل فورًا سدرہ کے حق میں دلیل دے دیتا۔۔
گھوڑے بیچ کے سونے والی کہاوت سن رکھی تھی لیکن عمل اِس پہ لاٸف میں پہلی بار کیا تھا رات کو دماغ کافی الجھا ہوا تھا سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب سویا تھا۔۔۔
اور جب سویا تو گھوڑے کیا گدھے بھی بیچ کے سویا 😀
جب آنکھ کھلی اور موباٸل پہ وقت دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے باس کی پانچ مس کالز چار گولیگ کی 17 مس کالز اور بیگم کی دو مس کالز منہ چڑھا رہی تھی
ساتھ ساتھ جن جن کی مس کالز آٸی ہوٸیں تھی ان کے کافی میسج بھی تھے۔۔
لیکن سب سے زیادہ خوفناک میسج بیگم کے تھے۔۔
کبھی کبھی بیگم کی دھمکیوں کے بعد مجھے شک ہوتا تھا کہ میری بیوی طالبان کے کسی خونی گروپ کی کمانڈر ہے۔۔
مطلب عجیب بکواس کرتی تھی بم سے اڑا دوں گی
قتل کر دوں گی اٹھوا لوں گی😕😕😕
آٹھ سو کلو میٹر دو ہو کے بھی یہ عورت میرا خون ہر وقت خشک کیٸے رکھتی تھی۔۔۔
میں کچھ دیر ایسے ہی بیڈ پہ لیٹا سوچتا رہا پھر کچھ سوچ کے آفس کال کی اور آپریٹر کو خادم سے بات کروانے کا کہا
کچھ دیر بعد خادم کی آواز سناٸی دی
السلام علیکم صاحب جی۔۔
وعلیکم السلام کیسے ہو خادم حسین
الحَمْدُ ِلله صاحب جی آپ کیسے ہو اور آفس کیوں نہیں آٸے آپ
بس یار ابھی آنکھ کھلی ہے آتا ہوں کچھ دیر تک تم گھر کا نمبر لکھواٶ۔
جی صاحب لکھ لیں
دل میں اک عجیب بے چینی تھی کہ پتہ کروں سدرہ کیسی ہے میں نے نمبر ڈاٸل کر کے فون سپیکر پہ ڈال دیا۔۔
دوسری رنگ پہ کال پک کر لی گٸی
دوسری طرف سے پوچھا گیا کون
بھابھی میں ہوں مصطفی السلام علیکم
وعلیکم السلام بھاٸی کیسے ہیں
جی شکر مالک کا سدرہ کدھر ہے
اپنے روم میں ہے بھاٸی
زرا بات تو کروا دیں پلیز
جی بھاٸی ابھی کرواتی ہوں
کچھ سکینڈ سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آتی رہی پھر بھابھی کی آواز سناٸی دی
سدرہ یہ صاحب جی کی کال ہے بات کر لیں اور موباٸل میں بعد میں آ کے لے لوں گی آپ آرام سے بات کر لینا۔۔۔
السلام علیکم ایک بہت ہی سریلی اور با وقار آواز میری سماعت سے ٹکراٸی دل میں ایک دم سکون اتر گیا
وعلیکم السلام
کیسی ہو سدرہ طبیعت کیسی ہے ؟
سر بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ؟
میں بھی ٹھیک ہوں ناشتہ کیا تم نے نیند اچھے سے آٸی ہے نا۔۔؟
جی سر کیا ہے ناشتہ آپ کے شیر مال اور کباب سے
ہاہاہاہا واٶ ویسے مجھے بہت پسند ہیں شیرمال
آپ نے ناشتہ کیا سر؟
لہجے میں فکر تھی
نہیں ابھی آنکھ کھلی ہے تو آفس جا کے کر لوں گا
لازمی کیجٸے گا پلیز اب کی بار فکر کے ساتھ التجا بھی تھی
اب تو کھانے کا وقت ہو رہا ہے تو لنچ کروں گا
نہیں سر پلیز آپ کچھ ہلکا سا لے لینا سو کے اٹھنے کے بعد انسان کے لٸے ناشتہ بہت ضروری ہوتا ہے
ایک اچھے اور صحت مند جسم اور دماغ کے لٸے
اچھا ٹھیک ہے کھا لوں گا کچھ۔۔۔
او کے کال بند کرتا ہوں تم اپنا خیال رکھنا اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو کال کر لینا
ٹھیک ہے سر آپ بھی خیال رکھیے گا اپنا پلیز
او کے اللہ حافظ
اللہ حافظ سر۔۔۔
کچھ تو خاص ہے اِس لڑکی میں
یہ مجھے کیا ہو رہا ہے میں اِتنا اِس کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہوں
سدرہ سے بات کر کے جہاں دل بہت پرسکون ہو گیا تھا وہیں طبیعت پہ اداسی سی چھا گٸی تھی۔
آفس جانے کا دل نہیں کر رہا تھا اس لٸے باس کو طبیعت خرابی کا میسج کر کے پھر سو گیا۔۔۔
دو دن کی چھٹی کے بعد آفس آیا تو کام کا انبار لگا ہوا تھا اگلے تین دن سدرہ سے بات کرنے کے لٸے بھی وقت نہیں ملا جب گھر آتا تو بیگم کی کال آ جاتی اور پھر بات کرتے کرتے سو جاتا۔۔۔
یہ سوچ کے صبح اٹھ کے کال کروں گا سدرہ کو لیکن پھر آفس سے لیٹ ہو رہی ہے ناشتہ کر لوں یہ کر لوں وہ کر لوں کال کرتا ہوں اسی چیز میں تین دن گزر گٸے۔۔۔
مگر ان تین دنوں میں وہ ایک بار بھی میرے دل و دماغ سے سکپ نہیں ہوٸی
صبح سنڈے تھا میں نے سوچا کہ کل اسے سی ویو پہ لے جاٶں گا کچھ بہتر فیل کرے گی۔۔۔

آفس ورکر کےساتھ ایک تو یہ بڑا مسلہ ہوتا ہے پورا ویک بندے کی صبح جلدی آنکھ نہیں کھلتی۔۔۔۔
اور سنڈے کو ایسے جلدی آنکھ کھل جاتی ہے جیسے پتہ نہیں نصیبو لال کے پروگرام میں جانا ہو😀
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا تھا لیکن آج آنکھ کچھ زیادہ ہی جلدی کھل گٸی تھی
شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ سدرہ کو کہا تھا کہ میں سنڈے کو آٶں گا۔۔
لیکن ابھی آٹھ بجے تھے اس لٸے دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن نیند نہیں آٸی۔۔۔۔۔
لیپ ٹاپ آن کیا اور ویسے ہی ویپ ساٸٹ وزٹ کرنے لگا۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی دنیا کی سیر کرنے کے بعد کچھ سوچ کے بیگم کا نمبر ملایا دیا۔۔۔
سدرہ کے بارے میں منیبہ سے بات کرنا بیوقوفی تھا کیوں کہ منیبہ نے فورًا کہنا تھا کہ میری بات کرواٸیں سدرہ سے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ فلحال منیبہ سدرہ سے بات کرتی۔۔
ہو سکتا ہے منیبہ کے منہ سے کوٸی ایسی بات نکل جاتی جو سدرہ کو ڈس ہارٹ کرتی۔۔۔
جس حالت میں سدرہ تھی یہی بہتر تھا کے اُسے وقت دیا جاتا۔۔۔
لیکن منیبہ کو بتانا بھی ضروری تھا کیونکہ اس طرح چھپانا منیبہ کا بھروسہ توڑنے والی بات تھی۔۔۔
بعد میں اگر اسے پتہ چلتا تو اسے ٹھیس پہنچتی ویسے بھی میں نے منیبہ سے آج تک کچھ نہیں چھپایا تھا۔۔۔
کافی دیر بل جاتی رہی لیکن منیبہ نے کال پک نہیں کی پھر یاد آیا کے رات کو لڑاٸی ہوٸی تھی اس لٸے اب میڈم زرانخرہ کرے گی ویسے بھی ہر روز رات کو ہماری بات کا اینڈ لڑاٸی پہ ہی ہوتا تھا ہم لکھے پڑھے پاگل تھے😀
دوسری بار کال کی بیل جاتے ہی فورًا کال رسیو کر لی گٸی
ہمارا اصول تھا کہ لڑاٸی کے بعد جب کال پہ بات ہوتی تھی تو ہم سلام دعا نہیں کرتے تھے ڈائڑیکٹ پوچھتے تھے حکم کریں کال خیر سے کی😦
اور اللہ کا شکر ہے ہم رخصتی سے پہلے ہی میاں بیوی والی فاٸٹنگ میں اچھے خاصے ایکسپرٹ ہو چکے تھے😌
اب بھی یہی ہوا کال پک کرتے ہی بیگم نے کہا جی فرماٸیں صبح صبح کیسے یاد کیا۔۔۔
تم ملکہ برطانیہ ہو نا ایک فاٸل پہ ساٸن لینے تھے تمہارے
کیسے یاد کیا وڈی آٸی لیڈی ڈیانا
میں نے چڑ کے جواب دیا۔
اگر یہ ہو گیا ہے تو بتاٸیں کال کیوں کی میں نے مشین لگانی ہے۔
میں نے ایک زور کا قہقہ لگایا ہاہاہاہاہا
تم تو کہتی تھی میں نے کبھی کام نہیں کرتی اب مشین لگانی ہے ہاہاہاہا
احمد تنگ نہ کریں کچھ دیر تک بات کرتے ہیں
مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے اس لٸے اب دو منٹ آرام سے بات سنو۔۔۔
میرا ایک دم سیریس لہجہ سن کے منیبہ بھی سیریس ہو گٸی
کیا ہوا مصطفی خیریت تو ہے
منیبہ نے فکرمند ہوتے پوچھا
ہاں خیریت ہے بس دو باتیں ہیں تمہیں یاد ہے تم نے ایک بار مجھ سے ایک بہت بڑا جھوٹ بولا تھا
میں نے منیبہ کو یاد کروایا۔
ہاں یاد ہے
اور اس جھوٹ پہ میں نے تمہیں ایک بات کہی تھی یاد ہے وہ بات۔۔
جی یاد ہے اچھی طرح آپ نے کہا تھا کہ میں آج تمہاری بہت بڑی مس ٹیک معاف کر رہا ہوں۔۔۔۔
اگر زندگی میں کبھی مجھ سے مس ٹیک ہو گٸی تو تم بھی دل بڑا کر کے معاف کر دینا۔۔۔
منیبہ نے حرف بہ حرف میری بات دہراٸی
گڈ تو ایسا ہے سویٹ ہارٹ کہ میں ایک کام کر رہا ہوں جو میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا۔۔۔
اگر کل کو اُس کام کے نتاٸج کچھ غلط نکلتے ہیں تو تم بھی مجھے معاف کرو گی۔۔
سیم میری طرح لیکن ساتھ ایک بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا اور نا کبھی تمہارا ٹرسٹ توڑوں گا۔۔۔
لہکن تم مجھ سے تب تک کوٸی سوال کرو گی۔۔۔
میرا لہجہ سنجیدہ اور سخت ہو گیا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد منیبہ کی آواز آٸی مجھے آپ پہ پورا بھروسہ ہے اس لٸے جب آپ مناسب سمجھیں گے بتا دیجیٸے گا۔۔۔
میں ایک دم سے ریلیکس ہو گیا
اچھا ٹھیک ہے اب تم کام کر لو مجھے بھی ایک کام ہے شام کو بات کرتے ہیں ۔
ٹھیک ہے آپ فری ہو کے بتا دینا
الله حافظ
الله حافظ،،،
میں جب خادم حسین کے گھر پہنچا تو شام کے چار بج رہے تھے سردیوں کے دن تھے اس لٸے چار بجے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ سورج بھی اب جان چھڑوانے کے چکر میں ہے۔۔
دروازہ خادم حسین نے خود کھولا ارے صاحب جی آپ آٸیں آٸیں
اس نےمجھے اندر آنے کے لٸے رستہ دیا۔
کیسے ہو خادم حسین
مولا ساٸیں کا شکر ہے صاحب جی
تب تک بھابھی بھی روم سے نکل آٸی ان سے سلام دعا کی بھابھی میں اوپر جا رہا ہوں چاٸے تو بھجواٸیں
میں یہ کہتے ہوٸے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔
بھاٸی رکیں ابھی آپ اوپر نہ جاٸیں۔۔
میرا ایک دم سے دل دہل گیا
کیوں نہ اوپر جاٶں خیریت ہے کدھر ہے سدرہ اب میری آواز میں غصہ اور فکر بھی تھی
تبھی خادم حسین آگے آیا اور کہا صاحب جی فکر کی کوٸی بات نہیں بی بی جی اوپر ہی ہیں اور بلکل ٹھیک ہیں
رضیہ نے آپ کو اس لٸے کہا کہ اوپر نہ جاٸیں کہ بی بی جی کے پاس محلے کی کچھ لڑکیاں پڑھنے کے لٸے آٸی ہوٸی ہیں بچیاں بڑی ہیں اس لٸے کہا۔
مجھے ایک خوشگوار حیرت ہوٸی یہ سدرہ کے فیوچر کے لٸے اچھا ساٸن تھا
او اچھا صحیح ہے لیکن اتنی جلدی کیسے ہوا یہ سب میں نے سوال پوچھا خادم حسین سے لیکن جواب اس کی بیوی نے دیا۔
بھاٸی آپ اندر بیٹھیں میں بتاتی ہوں اور میں اُن دونوں میاں بیوی کے ساتھ روم میں آ گیا۔
صاحب جی یہ ہمارے سامنے میمن ہیں اچھے خاصے کھاتے پیتے ہیں اُس دن ان کی عورت ہمارے گھر آٸی تو سدرہ میرے پاس بیٹھی تھی باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ دو بچیاں جوان ہیں۔۔۔
کوٸی قابل اعتماد ٹیوشن پڑھانے والا نہیں ملتا تبھی بی بی جی نے کہا کہ بچیاں کس کلاس ہیں میری پڑوسن نے بتایا کہ ایف اے کا پہلا سال ہے
بی بی جی نےکہا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں پڑھا دوں گی اس نے مجھ سے پوچھا کہ کون ہے تو میں نے بول دیا کہ میری بھانجی ہے۔۔۔
پھر وہ عورت بچیاں لے کے آٸی اور بی بی جی کو کہا کہ زرا میرے سامنے کچھ پڑھاٸیں تو بی بی جی نے بہت اچھا پڑھایا۔۔
وہ عورت بہت خوش ہوٸی پہلے کہتی ہے کہ آپ ہمارے گھر آ کے پڑھا دیا کرنا لیکن بی بی جی نے سختی سے جواب دیا کہ بھلے فیس دیں یا نہ دیں میں گھر سے باہر نہیں جاٶں گی
پھر دوسرے دن وہ عورت دو اپنی بیٹیاں اور دو اپنے بھاٸی کی لڑکیاں چھوڑ کے گٸی اب بی بی جی پڑھا رہی ہیں
خادم کی بیوی نے مجھے پوری تفصیل بتا دی
میرے منہ سے بے اختیار نکلا ماشاءاللہ،
لیکن ساتھ ہی ایف اے کی بچیوں کو پڑھانے والی بات نے مجھے سوچنے پہ مجبور کر دیا۔۔۔۔
کہ اگر ایک لڑکی ایف اے کی سٹوڈنٹ کو پڑھا سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی کواٸلیفکیشن کافی زیادہ ہے۔۔۔
اب میرا دماغ بہت الجھ چکا تھا کہ اگر سدرہ اتنی پڑھی لکھی ہے تو جسم فروشی جیسے گندے دھندے کی طرف کیسے آٸی آخر کیا مجبوری تھی کہ اُس نے یہ سب کیا وہ بچوں کو پڑھا کے بھی تو اپنا پیٹ پال سکتی تھی کسی سکول میں جاب بھی تو کر سکتی تھی پھر اس کے ماں باپ کدھر ہیں۔۔۔
ان حالات کو وہ کیسے پہنچی میں جیسے جیسے سدرہ کے بارے میں سوچ رہا تھا ویسے ویسے دماغ بہت الجھتا جا رہا تھا۔۔۔
اس اثناء میں مجھے سدرہ کی آواز خیالوں سے باہر لاٸی شاید بھابھی نے اُسے اطلاع دی تھی کہ میں آیا ہوں
السلام علیکم شاہ جی
سدرہ نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دباتے ہوٸے سلام کیا
وعلیکم السلام مس ٹیچر میں نے بھی مسکراتے ہوٸے جواب دیا۔۔
وہ اس وقت پستہ کلر کا سوٹ پہنے ہوٸے تھی جس کے دامن پہ بہت نفیس کام ہوا تھا اور یہ کلر اس پہ جچ بھی رہا تھا۔۔۔۔
وہ میرے سامنے صوفے پہ بیٹھ گٸی اچھا سدرہ تم بیٹھو نہیں تیار ہو کے آٶ ماموں کے گھر جانا ہے۔
سدرہ نے حیرانی سے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا تیار ہو کے آٶ چینچ کرنا ہے تو کر لو۔۔۔۔
او کے میں دس منٹ میں آٸی یہ کہ کر وہ اوپر چلی گٸی خادم اور اس کی بیوی باہر ہی بیٹھے تھے اس لٸے میں نے ماموں کے گھر کا کہا تھا۔۔۔
سدرہ کے اوپر جاتے ہی بھابھی چاۓ اور بسکٹ لے کے آ گٸی خادم حسین بھی میرے پاس روم میں ہی آ کے بیٹھ گیا اور ہم لوگ چاٸے پیتے ہوٸے اِدھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔۔۔
کچھ دیر بعد بھابھی نے بتایا کہ بھاٸی بی بی جی کہہ رہی ہیں چلیں۔
میں گاڑی کی چابی اور موباٸل ٹیبل سے اٹھاتا ہوا باہر آ گیا
سدرہ پہ نظر پڑتے ہی ایک پل کو سانس رکتی محسوس ہوٸی…
وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اتنی کہ مجھے اپنے دل کی تیز ہوتی دھڑ کن صاف سناٸی دے رہی تھی
بلیک کلر ہمیشہ میری کمزوری رہا ہے اور اِس وقت سدرہ نے بلیک کلر کا ڈریس پہن رکھا تھا۔
ساتھ لاٸٹ سا میک اپ اور ساتھ میچنگ جیولری جب میں ایسے ہی کچھ سیکنڈ اُسے بنا پلک جھپکے دیکھتا رہا تو سدرہ کے ہونٹوں پہ بڑی دل آویز مسکان آ گٸی
چلیں شاہ میں تیار ہوں
سدرہ کی آواز مجھے اُس کے سحر سے باہر لے آٸی
جی جی چلیں۔۔۔
باہر نکلتے ہی میں نے اُس کے لٸے گاڑی گا دروازہ کھولا جو اب زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے کسی اور کے لٸے کھولنا مشکل ہو گیا تھا
میرے دوسری طرف سے آنے تک وہ باہر کھڑی رہی
بیٹھو نہ بیٹھ کیوں نہیں رہی۔۔۔۔
میں نے حیرانی سے پوچھا
پہلے آپ بیٹھیں پھر میں
سدرہ نے مسکراتے ہوٸے جواب دیا
اچھا جی اِس میں کیا سائنس ہے
ساٸنس کچھ نہیں سر بس احترام ہے
او اچھا چلو ٹھیک ہے میں بیٹھ جاتا ہوں
میں نے ڈراٸیونگ سیٹ پہ بیٹھتے ہوٸے کہا
اور میرے بیٹھتے ہی وہ بھی میرے برابر بیٹھ گٸی
میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور نیو دھوراجی سے ہوتا ہوا اللہ دین پارک والے روڈ پہ آ گیا۔۔۔۔
اب گاڑی میں مونٹال پیرس پرفیوم کی مہک ماحول کو سحر زدہ بنا رہی تھی۔
بڑا اچھا پرفیوم لگایا ہوا ہے سدرہ
جی سر مجھے بہت پسند ہے یہ پرفیوم میرے چاچو قطر ہوتے ہیں وہ لاٸے تھے اور میں یہ واحد چیز گھر سے لے کے آٸی تھی
گھر کا نام لیتے ہوٸے اس کے چہرے پہ اور آواز میں ایک کرب سا آ گیا۔۔
مونٹال پیرس واقعی بہت اعلی پرفیوم ہے میں نے تعریف کی۔
اچھا پوچھو گی نہیں کہ ہم کدھر جا رہے ہیں
نہیں سر کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ آپ کہیں غلط نہیں جا سکتے
سدرہ نے پختہ یقین کے ساتھ جواب دیا
یہ جیولری اُس دن ہی لی تھی تم نے۔۔۔
میں نے ایک نظر اُس کے کانوں میں جھولتی آرٹیفشل بالیوں کو دیکھ کے کہا۔
جی سر اُس دن جب ڈریس لینے کے بعد آپ نے کہا تھا کہ شیمپو کریم وغیرہ جو لینا لے لو تو یہ مجھے بہت اچھی لگی تو لے لی۔۔
بہت اچھا کیا جو لے لی مجھے بہت اچھی لگی۔۔
اچھا سر سوری
کس لٸے سوری میں نے حیرانی سے پوچھا
وہ گھر میں بھاٸی اور بھابھی کے سامنے میں نے آپ سے زرا فری ہو کے بات کی
کون سا فری مجھے تو نہیں لگا کے فری ہو کے بات کی۔
سر میں نے آپ کو شاہ اور شاہ جی کہا اور ایسا اس لٸے کہا کہ ان کو کوٸی شک نہ ہو کہ میں آپ کو سر کیوں کہ رہی ہوں۔
سدرہ نے وضاحت دی
ہاہاہاہاہاہاہا اسے تم فری ہونا کہتی ہو۔۔۔۔
مجھے اچھا لگا تم نے مجھے ایسے بلایا اور میں چاہوں گا کہ تم مجھے ایسے ہی بلایا کرو اور فری ہوتی رہو مجھ سے میں نے ہنستے ہوٸے کہا۔
ٹھیک ہے سر سدرہ نے نے معصومیت سے کہا
پھر سر میں نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا
سوری شاہ سر۔
اور اس بار ہم دونوں ہنس پڑے۔۔۔
باتوں باتوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کب سی ویو آ گٸے
ہمیشہ کی طرح میں نے اتر کے دوسری ساٸیڈ کا دروازہ کھولا
تم ادھر ہی رکو میں گاڑی پارک کر لوں
جب میں گاڑی پارک کر کے آیا تو وہ پتہ نہیں کن خیالوں میں کھوٸی ہوٸی تھی۔۔۔
ہاں جی چلیں۔۔
اہاں سمندر کی ریت پہ ٹہلتے ہوٸے مجھے آٸسکریم کھانا بہت پسند ہے کیا خیال ہے
میں نے سدرہ سے پوچھا۔۔
شاہ سر ایسے پیارے خیال آپ کو کیسے آ جاتے ہیں
سدرہ نے مسکراتے ہوٸے پوچھا۔
بس جی پیارے لوگوں کو پیارے ہی خیال آتے ہیں
میں نے ہاتھ سے ✌ وکٹری کا ساٸن دیا
وہ کھلکھلا کے ہنس پڑی
ویسے تم چاہو تو کچھ اور بھی لے سکتی ہو۔
نہیں سر میں بھی آٸسکریم کھاٶں گی۔۔۔
ہم لوگ آٸسکریم کے دو لارج کپ لے کر ساحل پہ آ گٸے
سدرہ بلکل میرے ساتھ چل رہی تھی اور میرے اندر کوٸی بہت مسحور کن احساس قدم جما رہا تھا میں خود بھی اپنی اس کیفیت پہ حیران تھا۔۔
شام کے چھے بجے کا وقت ہو رہا تھا اور ساحل پہ اس وقت رش بہت کم ہو گیا تھا۔۔۔
اب صرف زیادہ محبت کرنے والے ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساحل کی ریت کو اڑا رہے تھے
سر کیا سوچ رہے ہیں؟
کافی دیر کی خاموشی کے بعد سدرہ نے پوچھا
کچھ نہیں بس ایسے ہی اچھا تم یہاں کراچی کس کے پاس رہتی تھی۔۔
سدرہ کچھ دیر خاموش رہی اور جب بولی تو تواُس کی آواز میں اذیت تھی۔۔۔۔
سر کیا ہم کہیں بیٹھ سکتے ہیں۔۔
مجھے محسوس ہوا اس کی آواز میں لرزش ہے۔۔
کیوں نہیں چلو اُس بنچ پہ بیٹھتے ہیں ۔
سردی کی آمد تھی اور اس وقت ساحل پہ چلنے والی ہوا نے کافی ٹھنڈ بنا دی تھی۔۔۔۔
میں نے جیکٹ پہن رکھی تھی اس لٸے محسوس نہیں ہو رہا تھا لیکن ہم جیسے ہی بنچ پہ بیٹھے تو مجھے محسوس ہوا کہ سدرہ کا جسم کانپ رہا ہے۔
کیا ہوا تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے
جی بس تھوڑی سی ۔۔
چلو اٹھو واپس چلتے ہیں
نہیں سر اب ٹھیک ہوں اور مجھے کچھ بتانا ہے آپ کو میرے دل پہ بوجھ ہے بہت۔
میں نا چاہتے ہوٸے بھی بیٹھ گیا۔
او کے ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے
کیا سر
سدرہ نے گردن اٹھا کے دیکھا
یہ جیکٹ تم پہنوگی میں نے اپنی جیکٹ اتارتے ہوٸے کہا لیکن سر آپ کی طبیعت خراب ہو جاٸے گی
سدرہ نے فکر سے کہا
اور اگر تمہاری خراب ہو گٸی تو ؟
میں نے خفگی سے پوچھا
سر میری خیر ہے
چپ چاپ پہنو جیکٹ یہ کہتے ہی میں نے جیکٹ سدرہ کی طرف بڑھا دی جسے اُس نے اب چپ چاپ پہن لیا….
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سدرہ نے ایک لمبی سانس لی
سر یہاں پہ میں ایک عورت کے گھر رہتی تھی۔۔۔
جس کا نام بلقیس تھا جو خود بھی جسم فروش ہے میں اُس کے گھر دو ماہ سے رہ رہی ہوں میں کراچی آٸی ہی دو ماہ پہلے تھی۔۔۔
پہلے لاہور تھی وہاں بقلیس سے میری ملاقات ایک جسم فروشی کے اڈے پہ ہوٸی تو باتوں باتوں میں اُس نے کہا کہ میں تو مجبوری میں کر رہی ہوں یہ کام۔۔۔
بچے ہیں چھوٹے چھوٹے اگر کوٸی اور وسیلہ ہوتا تو میں یہ کام نہ کرتی۔
بلقیس نے کہا میرا میاں بھی نشہ کرتا ہے آگے سے رو پڑی
شاہ سر میں اِس کام میں بلکل نیو تھی مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایسی مکاریاں بھی ہوتی ہیں اِس دھندے میں۔۔
مجھے تو لگتا تھا کہ جسم فروش عورتیں اچھی ہوتی ہیں کسی کو دھوکہ نہیں دیتی کسی کی فیلنگ کے ساتھ نہیں کھیلتی لیکن سر ایسا نہیں تھا۔۔۔
میں نے بلقیس کو بتایا کہ میرا بھی کوٸی نہیں ہے میں بھی مجبور ہوں تو بلقیس نے مجھے گلے لگا لیا اور بولی آج سے تم میری بہن ہو
سر اِس طرح میں اس کے ساتھ کراچی آ گٸی
یہاں میں بلقیس کے علاوہ کسی کو بھی نہیں جانتی تھی
جب میں بلقیس کے ساتھ کراچی آٸی تو تیسرے ہی دن مجھے پتہ چل گیا کہ یہ کوٸی مجبوری میں جسم فروشی نہیں کر رہی۔۔۔۔
اور نہ ہی اس کے بچے ہیں اس کا میاں ٹھیک ٹھاک تھا کوٸی نشہ نہیں کرتا تھا۔
پھر تیسری رات اس کا میاں جس کا نام وحید تھا اٹھ کے اُس کمرے میں آگیا جس میں بلقیس اور میں سو رہی تھی وحید کے آتے ہی بلقیس اٹھ کے باہر چلی گٸی تو وحید نے مجھ سے اپنی ہوس پوری کرنی کی کوشش کی۔۔۔
میں نے انکار کر دیا اور چیخنا شروع کر دیا تب بلقیس اندر آٸی اور مجھےسمجھایا کہ ہم نے تمہیں رہاٸش دی ہے کھانا دے رہے ہیں میرے میاں کی بات مان لو ورنہ یہ تمہیں پولیس کے حوالے کر دے گا۔۔۔۔
یہ الزام لگا کر کے اس نے ہمارا زیور چرایا ہے۔
سدرہ سر جھکاٸے بتا رہی تھی اور اُس کی آنسوٶں سے تر آواز میرے دل کو زخمی کر رہی تھی۔
سر پولیس کا نام سن کے میں بہت ڈر گٸی تھی کیونکہ میں پہلے بھی دو بار ریڈ میں ہوٹل سے پکڑی گٸی تھی۔۔۔
پولیس والوں نے بہت گندی گندی گالیاں دی اور گھسیٹ کے تھانے لے گٸے تھے اور وہاں جا کے زیادتی بھی کی۔۔۔
سدرہ بس کرو اٹھو چلتے ہیں اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
نہیں سر میرے دل کا بوجھ ہلکا ہونے دیں
سدرہ کی اِس بات نے مجھے پھر بیٹھنے پہ مجبور کر دیا۔۔۔
سر پولیس کے نام سے میں ڈر گٸی اور وحید کی بات مان لی پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔۔
ہفتے میں دو بار بلقیس کا میاں مجھ سے اپنی ہوس پوری کرتا وہ ایسا بے غیرت تھا کہ جب کوٸی اس کی بیوی کا بھی کسٹمر آتا تو وہ باہر بیٹھ جاتا اور بیوی کو اس کے ساتھ روم میں بھیج دیتا۔۔۔
اُن لوگوں نے میرے باہر جانے پہ پابندی لگا رکھی تھی اب جو بھی گاہک آتا تھا وہ میرا ہی سودا کرتے تھے۔۔۔
میں نے دو تین بار بلقیس کو کہا مجھے جانے دو لیکن اس نے کہا کہ جس اڈے سے تمیں لاٸی ہوں اس کی مالکن کو ایکھ لاکھ دے کے لاٸی ہوں۔۔۔
وہ مجھے دے دو تو چلی جاٶ ورنہ میں پولیس کو بتا دوں گی تم نے چوری کی ہے
اور شاہ سر ہر بار میں پولیس کے ڈر سے رک جاتی۔
پھر شاہ سر وہ مجھے راتوں کو بھیجنے لگے ایک گاڑی آتی اور مجھے لے جاتی جہاں تین چار مرد بھوکے کتوں کی طرح پوری رات مجھے نوچتے یہ سلسلہ دو ماہ چلا۔۔۔
اب میرے بے حد ضبط کے باوجود بھی میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گٸے۔۔
میں جو اب تک حوصلے اور ضبط کے ساتھ سدرہ کی بات سن رہا تھا اب میرے آنسو ساری حدیں پار کر چکے تھے
سر جہاں مجھے صرف کھانے کے بدلے دن رات بیچا جاتا اور پھر سر میں نے ایک دن انکار کر دیا بکنے سے۔۔۔۔
میں نے کہا مجھے پولیس کو دے دو جو مرضی کرو میں نہیں جاٶں گی اب کہیں۔۔۔
تب مجھے اُس وحید نے بہت مارا اور کمرے میں بند کر دیا تین دن تک مجھے بھوکا رکھا میں نے تین دن رو رو کےرب سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اِس دوزخ اور اس گندے کام سے نجات دے
مجھ پہ رحم کر سب کو موقع دیتا ہے مالک مجھے بھی موقع دے۔۔۔
تین دن کی بھوک کے بعد میں نے ہار مان لی اور یہ سوچ کے لیٹ گٸی کہ صبح بلقیس کو بولوں گی کہ میں کام کے لٸے تیار ہوں۔۔۔۔
لیکن اللہ نے مجھے اسی رات بھاگنے کا موقع دے دیا میں بھاگ آٸی بھاگنے کے بعد مجھے پہلے انسان آپ ملے یہ کہ کر سدرہ پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی۔۔
وہ کافی دیر ایسے ہی روتی رہی میں نے بھی رونے دیا کہ اُس کا دل ہلکا ہو جاٸے۔
اب میرے دل میں بہت زیادہ غصہ تھا اور میں اس خبیث انسان وحید اور اس کی بیوی کو نشان عبرت بنانا چاہتا تھا میں نےایک نظر سدرہ کو دیکھا جو اب سسکیاں لے رہی تھی میں نے اس کے کندھےپہ ہاتھ رکھا
سدرہ برا وقت ختم ہو گیا ہے اب دنیا کی کوٸی طاقت تمہیں کچھ بھی نہیں کہ سکتی۔۔۔
بس اب اور نہیں رونا
میں نے محسوس کیا اب سدرہ کا جسم بہت کانپ رہا ہے
اٹھو واپس چلتے ہیں یہ کہہ کر میں نے اپنا ہاتھ سدرہ کی طرف بڑھا دیا

سدرہ کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا مجھے اس کو سہارا دے کے گاڑی تک لانا پڑا۔۔
مجھے علم تھا کہ سدرہ کی یہ کیفیت سردی کی وجہ سے نہیں تھی۔۔
اُسے خوف تھا کہ کہیں وہ پھر سے گزرے وقت میں دوبارہ نہ چلی جاٸے اُسے یہ سب خواب لگ رہا تھا۔۔
کہ وہ اتنے دن سے کسی گھر میں محفوظ تھی اُس کی عزت کو تارتار کرنا تو دور کی بات کسی نے میلی نظر سے دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
سی ویو سے خادم حسین کے گھر تک کا فاصلہ مکمل خاموشی سے کٹا میں نے بھی بات کرنا مناسب نہ سمجھا
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ سدرہ شرمندگی فیل کرے۔
لیکن اب بھی میرے دماغ میں بہت سارے سوال جوں کے توں تھے میں جاننا چاہتا تھا کہ سدرہ اِس گندے دھندے میں آٸی کیسے پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ایسی کیا مجبوری تھی کہ اسے یہ سب کرنا پڑا۔۔۔
جبکہ حرکات اور بات کرنے کا انداز اُس کا بلکل شریف گھرانوں کی لڑکیوں جیسا تھا۔
لیکن فلحال اُس کی طبیعت ایسی تھی کہ اُس سے کوٸی اور سوال کرنا انتہاٸی غلط تھا اِس لٸے میں نے یہی سوچا کہ پھر کبھی اس پہ بات کروں گا۔۔۔
جب ہم کچی آبادی سدرہ کی رہاٸش پہ پہنچے تو رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔۔۔
میں نے گاڑی گھر کے سامنے روکی اور اترنے کی بجاٸے منہ سدرہ کی طرف کر کے اسے مخاطب کیا۔۔۔
جو اب بھی گردن جھکاٸے ہوٸے بیٹھی تھی میری آواز پہ اس نے گردن اٹھا کے مجھے دیکھا اُس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی سوجی لگ رہی تھیں ۔
اب بھی آنسوٶں سے بھری ہوٸی تھیں ۔۔۔
جی شاہ سر
سدرہ کی آواز میں درد تھا
میں نے بے اختیار اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لٸے جو گاڑی کے اندر بھی برف کی مانند سرد ہو رہے تھے۔۔
سدرہ مجھے نہیں پتہ کہ تم اس کام میں کیسے آٸی لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تم بہت اچھی لڑکی ہو
سدرہ جو وقت بیت گیا اس پہ سواٸے افسوس کے کچھ نہیں کیا جا سکتا لیکن جب تک میری سانسیں ہیں تب تک میں تمہیں تحفظ دوں گا اور عزت بھی۔
میرے دلاسہ دینے اور یقین دلانے پہ اس کی آنکھوں سے گرتے آنسومیرے ہاتھوں پہ آ ٹھہرے ۔۔۔
سدرہ نے بے اختیار میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا۔
شاہ سر میں اللہ سے دعا کروں گی کہ میرے حق میں میری دعا قبول کرے نہ کرے لیکن آپ کے حق میں میری دعا قبول کرے اللہ آپ کو لمبی زندگی دے آمین،،
سدرہ نے انتہاٸی جذباتی آواز میں کہا۔۔
اچھا چلو اب اندر چلتے ہیں یہ کہتے ہی میں گاڑی سے اتر گیا اور دوسری طرف سے آ کے سدرہ والا دروازہ کھولا۔۔
واپس گھر آ کے میرا دماغ بہت الجھن کا شکار تھا سر درد سے پھٹ رہا تھا سونے کی بہت کوشش کی لیکن نیند نہیں آٸی۔۔
صبح جلدی آفس چلا گیا اور پورا دن بھی کھانے کا وقت ہی نہ ملا جس کی وجہ سے اب بھوک سے برا حال تھا ٹاٸم دیکھا تو ساڑھے تین بج رہے تھے پہلے سوچا آفس بواٸے کو بھیجتا ہوں کھانا لانے کے لٸے پھر کچھ سوچ کے باس کا نمبر ملایا
السلام علیکم سر
وعلیکم السلام شاہ جی
سر جی میں زرا آج جلدی جا رہا ہوں کچھ کام ہے
او کے شاہ جی جاٸیں آپ الله حافظ
الله حافظ سر۔۔۔
اب میں نے دوسری کال گلشن اقبال تھانے میں کی جو کہ تیسری رنگ پہ پک کر لی گٸی۔
السلام علیکم گلشن اقبال پولیس اسٹیشن۔۔
وعلیکم السلام نوید شاہ کا نمبر دیں
دوسری طرف سے پوچھا گیا آپ کون صاحب
سید مصطفی
جی سر نوٹ کریں نمبر
نمبر لے کر کال بند کی اور نوید شاہ کا نمبر ملایا کے او کے کر دیا لیکن کال کسی نے پک نہ کی۔۔۔
میں اگین نمبر اوپن کر کے اوکے کرنے لگا تو سکرین پہ نوید شاہ کے نمبر سے کال آتی شو ہوٸی میں نے کال پک کرلی۔۔
السلام علیکم شاہ جی
وعلیکم اسلام جی کون صاحب۔
آگے سے کرخت پولیس والوں کے لہجے میں پوچھا گیا۔۔
یار تم لوگوں نے قسم کھاٸی ہوٸی ہے کہ پیار سے نہیں بولنا
ہاہاہاہاہاہاہا او میرا جگر میرا یار شاہ جی تسی او دوسری طرف سے اب نوید شاہ نے چہکتے ہوٸے کہا۔۔
تیرے ایس آٸی بننے کا مجھے آج تک کوٸی فاٸدہ نہیں ہوا
کزن جی حکم کرو فاٸدہ ابھی کر لیتے ہیں
نوید شاہ نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
میں نے ایسے فاٸدہ نہیں کروانا
مل کے کروانا ہے فاٸدہ
میں چاہتا تھا کہ مل کے نوید سے پوری تفصیل سے بات کروں
او کے کزن کب ملنا ہے شام کو چاچو کے گھر ملیں یا تم گھر آ جانا نوید نے پلان کا پوچھا۔
نہیں مجھے ابھی ملنا ہے تم اِس وقت کدھر ہو
شاہ جی میں اس وقت کالا پل آیا ہوں ایک مجرم لینے تھانے سے۔۔۔
نوید شاہ نے جواب دیا
کتنی دیر میں فری ہونا ہے تم نے
میں نکل رہا ہوں یہاں سے نوید شاہ نے فورً جواب دیا۔۔
او کے میں تھانے آ جاتا ہوں میں نے جواب دیا۔
ٹھیک ہے کزن آجاٶ
او کے الله حافظ
او کے الله حافظ،
جب میں تھانے پہنچا تو نوید میرا ہی انتظار کر رہا تھا
مجھے دیکھتے ہی پرجوش انداز میں بولا
وہ آٸے ہمارے تھانے خدا کی قدرت۔۔۔
وہ ہم سے بچ جاٸیں یہ ان کی قسمت
ہاہاہاہاہاہاہا کباڑہ کر دیا شعر کا تم نے یہ کہتے ہوٸے میں نے نوید کو گلے لگا لیا۔۔۔
کیسے ہو میری جان بہت دن بعد یاد کیا نوید نے گلہ کرتے ہوٸے کہا
بس یار کچھ بزی تھا ہم بات کرتے ہوٸے نوید کے کمرے میں آگٸے
اچھا پہلے یہ بتاٶ کہ کیا کھاٶ گے نوید نے بیٹھتے ہی سوال کیا۔۔
کھانا نہیں کھایا میں نے اس لٸے کچھ بھی منگوا لو بہت بھوک لگی ہے۔۔۔
چکن برگر چلے گا نوید نے آنکھ مارتے ہوٸے پوچھا
چلے گا نہیں دوڑے گا ساتھ کوک ہو تو😋😋
ڈن ابھی منگواتا ہوں یہ کہہ کر اس نے کسی کو کال کی اور دو برگر اور کوک کا کہا۔۔۔۔
نوید میری ممانی کے بھاٸی کا بیٹا تھا لیکن رشتہ داری سے زیادہ ہم لوگ دوستی کو سامنے رکھتے تھے۔۔
جی کزن اب بتاٶ کہ سب خریت ہے نا ؟
ہاں سب خیریت ہے میٹرول تھانے میں اک کام ہے
حکم کریں شاہ جی ابھی چلتے ہیں
نہیں یار ابھی نہیں جانا تمہیں میں پوری تفصیل بتا دیتا ہوں جب کام ہو جاٸے تو مجھے کال کر لینا۔۔۔
اچھا بتاٸیں کیا کام ہے
سدرہ مجھے میٹرول کے علاقے سے ملی تھی اس لٸے مجھےیقین تھا کہ وحید اور بلقیس کا گھر ادھر ہی ہو گا۔۔
میٹرول میں ایک جسم فروش عورت ہے بلقیس اور اس کا شوہر وحید ان دونوں کو زرا سیدھا کرنا ہے کیس نہیں بنانا لیکن لتر پھیرنےہیں اچھے سے۔۔۔
شاہ جی ان کا ایڈریس دے دیں ہو جاٸے گا۔
میرے پاس اُن کا ایڈریس نہیں ہے نہ میں نے اُن کو دیکھا ہے
نا ہی جانتا ہوں بس اتنا پتہ ہے کہ اُن کا گھر اُسی علاقے میں ہے اور پھر یہ جسم فروشی کے اڈوں کا تو تم لوگوں کو اچھے سے پتہ ہوتا ہے نا
میں نے نوید شاہ کو گھورا
ہاہاہاہاہاہا شاہ جی ہمیں ان کا پتہ ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پہ کام کرتے ہیں یہ جو گھروں میں چھپ چھپا کے کرتے ہیں اِن کا پتہ نہیں چلتا نوید نے جواب دیا۔
میرے خیال میں وہ چھوٹی موٹی نہیں کافی بڑی سامی ہے۔
اچھا رکیں میں پتہ کرتا ہوں یہ کہہ کر نوید موباٸل میں نمبر سرچ کرنے لگا۔
اب اس نے موباٸل کان کے ساتھ لگا کے کہا السلام علیکم بلوچ صاحب۔
دوسری طرف کی آواز مجھے سناٸی نہیں دے رہی تھی اِس لٸے پتہ نہیں کیا بولا جا رہا تھا
ساٸیں ایک کام ہے آپ کے ساتھ
نا ساٸیں حکم نہیں گزارش ہے۔
نوید اب اسے بات بتانے لگا۔۔
بلوچ صاحب تسی کوشش کرو تے بندہ نہ ملے میں نہیں مندا
ساٸیں میرا ذاتی کام ہے اس وحید اور بلقیس سے جب بندے آ جاٸیں تو زرا مجھے کال کر دینا آپ
او کے ساٸیں الله حافظ،،
شاہ جی ایسے پتہ لگانا بہت مشکل ہے میں نے میٹرول تھانے کے انچارج سے بات کی ہے وہ کہہ رہا ہے بہت جلد بندے پکڑ لیں گے۔
نوید تم خود بھی اس میں کوشش کرو مجھے ہر صورت وہ انسان چاہیٸے نا چاہتے ہوٸے بھی میری آواز میں سختی اتر آٸی۔۔۔
مصطفی خیریت تو ہے کوٸی مسئلہ ہے تو مجھے بتاٶ تم کچھ پریشان لگ رہے ہو نوید نے فکر مندی سے پوچھا۔
نہیں پریشانی کی کوٸی بات نہیں مجھے اس بندے سے ذاتی قسم کا مسئلہ ہے جب تم پکڑ لو گے تو بتاٶں گا۔۔
اچھا ٹھیک جو تمہیں ٹھیک لگے نوید جواب دیتا ہوا ہاتھ دھونے چلا گیا۔
میں تھانے سے نکلا تو چھے بج رہے تھے اور آنکھوں میں شدید جلن ہو رہی تھی جو شاید کل پوری رات جاگنے کا اثر تھا
جیسے ہی بیڈ پہ لیٹا تو تھکاوٹ اور جاگنے کی وجہ سے نیند نے دبوچ لیا بڑی مشکل سے بیگم کو میسج کیا کہ صبح بات کروں گا کیونکہ اُس نے پریشان ہو جانا تھا کہ واٹس ایپ اور فیس بک پہ آف لاٸن ہے اور فون پہ بھی کال پک نہیں کر رہا ہے۔
صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی وضو کیا نماز ادا کی اور چاٸے بنانے لگا تبھی روم سے موباٸل کی بیل سناٸی دی
دیکھا تو باس کی کال آ رہی تھی اتنی صبح اس گنجے کو کیا موت پڑ گٸی ہے
باس کی تعریف کرنے کے بعد کال پک کی السلام علیکم سر
وعلیکم السلام شاہ جی کیسے ہیں؟
اللہ کا احسان سر خیریت ہے آج اتنی صبح کال۔۔
شاہ جی آپ کو چار دن کے لٸے حیدرآباد جانا ہے۔
آفس کے کام کے سلسلے میں اس لٸے آپ جلدی نکل جانا او کے سر
او کے شاہ جی الله حافظ
خبیث انسان حیدر آباد جانا ہے کسی اور کو بندہ بھیج دیتا ہے ایک بار پھر باس کی کچھ تعریف کی
پورے نو بجے میں گھر سے حیدرآباد کے لٸے نکلا سوچا یہی تھا کہ دن کو کسی وقت سدرہ سے بات کروں گا لیکن اتنی مصروفیت رہی کہ بیگم سے بھی بات کرنے کا وقت نہیں مل رہا تھا اور بیگم اپنی عادت کے مطابق میری جان کو پیٹنے پہ لگی ہوٸی تھی
اور میسج پہ میسج کیے جا رہی تھی
مجھے پتہ تھا تم بدل جاٶ گے اتنا ہی ہوتا ہے مسٹر شاہ
دل بھر گیا تمہارا
میں بھی پاگل ہوں تمہاری جان نہیں چھوڑتی تمھارے پیچھے تو لاٸن لگی اب میری کیا ویلیو ہو گی۔
بس یہ محبت پیار شادی سے پہلے کے چونچلے ہیں اب تو تمہارا دل بھی نہیں کرتا مجھے سے بات کرنے کا
لگتا ہے کوٸی اور پسند آ گٸی ہے
لیکن شاہ صاحب ایک بات بھول جاٶ کہ جیتے جی میں تمہاری جان چھوڑ دوں گی
کبھی نہیں مرتے مرتے بھی تمہیں مار کے مروں گی
اور ان میسجز کے ساتھ مختلف قسم کے ایموجی بھیجے جا رہی تھی۔۔۔😴😡😡😡🌑🌑🌑
🔫🔫🔫🔫👽👽👽👽👽😈😈😈😐😐😐😕😕😕😕😭😭😭😭😢😢😢🙏🙏🙏🙏👊👊👊👊👊👎👎👎👎😔😔😟😟😟😏😏😏
اب مجھے ہنسی بھی آ رہی تھی بیگم کے میسج پڑھ کے اور دل کو بہت سکون بھی مل رہا تھا کہ چلو کوٸی تو ہے جو کہتا ہے میں جیتے جی تمہاری جان نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
چار دن کے لٸے گیا تھا لیکن کام زیادہ نکل آیا اس لٸے چار دن کے بجاٸے مجھے آٹھ دن حیدر آباد رہنا پڑا اور ان آٹھ دنوں میں باوجود کوشش کے میں سدرہ سے بات نہ کر سکا
لیکن اس کے باوجود وہ ہر وقت خیالوں میں بسی رہی۔۔۔۔
جیسے بات سے بات نکلتی سیم اِسی کے مصداق کام سے کام نکلتا ہے مجھے منگل کی شام حیدرآباد سے واپس آنا تھا لیکن پھر آفس کی طرف سے احکامات ملے کے آپ دو دن اور رکیں گے۔۔۔۔۔۔۔
جمعرات کی شام چھے بجے میں نے آخری میٹنگ مکمل کی یہ وزٹ بہت شاندار رہا تھا شاید اِس بار رب کی کوٸی خصوصی مہربانی تھی کہ تین پروجیکٹ کی ڈیل فاٸنل ہو گٸی۔۔۔
اور میں سوچ رہا تھا کہ یقیناً یہ سدرہ کے ساتھ کی ہوٸی نیکی کا صلہ ہے۔۔۔
واپس ہوٹل پہنچ کے میں نے باس کو کال کی ۔
السلام علیکم سر
وعلیکم السلام شاہ صاحب
سر اب کیا حکم ہے ۔۔
بڑی شدت سے دل چاہا کہ باس کو اس کے نام سے پکاروں جو مجھے باس کے لٸے بہت موزوں لگتا تھا گنجا پاپی😌
لیکن پھر احترام کے پیش نظر سر کہہ دیا۔۔🙊
مسٹر شاہ آپ کی پروگریس اس بار بہت شاندار ہے اور ہیڈ آفس آپ سے بہت خوش ہے اس لٸے آپ کو سنڈے تک لیو دی گٸی ہے انجوٸے کریں اینڈ congratulations
شکریہ سر
او کے خدا حافظ
الله حافظ سر۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: