Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 3

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 3

–**–**–

اوکے خدا حافظ
الله حافظ سر۔۔
لیو کا سن کے دل تو بڑا کیا کے کہ کوٸی نصیبو لال کا اچھا سا مجرا سنوں 🙈
اور لڈی ڈالوں پھر اپنی سوچ پہ شرمندگی محسوس ہوٸی کہ یہ کیا غلط بات سوچ لی ہے
میڈم نے تو کبھی کوٸی مجرے والا گانا گایا ہی نہیں 🙊🙊🙈
میڈم نصیو لال سے اپنی اس گستاخی پہ روحانی سوری بول کے انٹرکام پہ دس منٹ بعد چاٸے کا بول کے شاور لینے چلا گیا۔۔۔۔
چاٸے پیتے ہوٸے جو پہلا خیال دل میں آیا وہ سدرہ کا تھا
پتہ نہیں کیسی ہو گی وہ ..
کہیں وہ مجھ سے بدگماں نہ ہو گٸی ہو کہیں اُس کے دل میں یہ خیال نہ آ گیا ہو کہ میں نے اُس کے ماضی کو سن کے دوبارہ مڑ کے اُس کا حال بھی نہیں پوچھا۔۔
یہ خیال مجھے الجھا رہا تھا اور دل میں ایک عجیب قسم کی بے چینی وارد ہو رہی تھی۔۔۔
پہلے یہی پلان تھا کہ صبح نکلوں گا کراچی کے لٸے لیکن اب یہاں رکنا مشکل ہو رہا تھا اس لٸے اُسی وقت اٹھا اور پیکنگ کی اور اللہ کا نام لے کر کراچی کے لٸے نکل پڑا۔۔۔۔۔۔۔
کراچی پہنچا تو رات بارہ سے اوپر کا وقت ہو گیا تھا لیکن کراچی میں رات کے بارہ بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آٹھ بجے کا وقت ہو ابھی بھی خوب چہل پہل تھی۔
گھر پہنچ کے صحن کی لاٸٹ آن کی جس نے منہ چڑھا کے آن ہونے سے انکار کر دیا۔۔۔
دو بار کوشش کی کہ شاید آن ہو جاٸے لیکن اسے ترس نہیں آیا تو اپنا فیورٹ جملہ لاٸٹ اور بورڈ کے گوش گزار کر کیا مٹی پاٶ اور روم کی طرف بڑھ گیا۔
روم کا لاک اوپن کیا اور روم میں آ گیا۔۔۔
لیکن یہ کیا جیسے ہی روم کی لاٸٹ آن کی وہ بھی آن نہ ہوٸی اب دل نے طعنہ دیا چلو شاباش ہن اِس تے وی مٹی پاٶ۔۔۔۔
گھور کے دل کو چپیڑ ماری اور باہر نکل کے دیکھا تو سب کی لاٸٹ آن تھی۔۔۔۔
تبھی دماغ میں ریڈ بتی بلنک کرنے لگی بھاٸی صاحب بل بھریا سی۔۔۔۔ او نو😦😦
جس دن میں حیدر آباد گیا تھا بل کی لاسٹ ڈیٹ تھی۔۔۔
اور سوچا تھا کے جاتے ہوٸے پے کر دوں گا لیکن پھر بھول گیا تو اس کا مطلب ہے کے الیکٹرک والے اپنا کام کر گٸے ہیں
یقین تو تھا کہ ایسا ہی ہوا ہے لیکن پھر بھی تصدیق کے لٸے گیٹ سے باہر نکل کے میٹر کا دیدار کیا تو اس کی دونوں نالیاں کٹی ہوٸی تھیں ۔۔۔
میٹر کا حال دیکھ کے بجلی والوں کی شان میں کچھ کلمات ادا کیٸے اور روم میں آ کے لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔
صبح آنکھ کھلی تو نو بج رہےتھے ناشتہ وغیرہ سے فری ہو کے بل پے کرنے چلا گیا اس کے بعد واپڈا والوں کو کمپلین کی اور بجلی برحال کرواٸی۔۔۔
ڈیڑھ بجے جمعہ کی نماز ادا کی اور سو گیا
شام چار بجے میری آنکھ کھلی اور فریش ہو کے بیگم کو کال کی کچھ دیر اس کا دماغ کھایا اور فل تپا کے کال بند کر دی اور سدرہ سے ملنے کے لٸے نکل آیا۔۔۔
جب میں نے گاڑی خادم حسین کے گھر کے سامنے روکی تو شام کے چھے بج رہے تھے۔
دروازہ حمزہ نے کھولا اندر داخل ہوا تو خادم حسین سامنے ہی چارپاٸی پہ لیٹا ہوا تھا جس نے مجھے دیکھتے ہی اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔
لیٹے رہو لیٹے رہو کیا ہوا طبیعت تو صحیح ہے تمہاری جی صاحب جی بس آج کچھ فلو سا ہو گیا ہے آپ سناٶ کیسے گزرے دن ۔۔
الحَمْدُ ِلله میرے منع کرنے کے باوجود بھی خادم اٹھ کے بیٹھ گیا تبھی بھابھی دوپٹے سے ہاتھ پونجھتی ہوٸی کچن سے باہر نکلی
سلام بھاٸی کیسے ہیں
وعلیکم السلام آپ کیسی ہیں بھابھی
جی شکر ہے مالک کا
بھابھی اب تو اوپر کوٸی نہیں نا
جی بھاٸی چلے جاٸیں ابھی ابھی بچے گٸے ہیں۔۔۔
او کے ٹھیک ہے پھر بات ہوتی ہے یہ کہتے ہوٸے میں سیڑھیوں کیطرف بڑھ گیا۔۔
تبھی بھابھی کی آواز آٸی بھاٸی چاٸے بھجواٶں۔۔
نہیں بھابھی ہم لوگ کھانا باہر کھاٸیں گے اس لٸے چاٸے نہیں۔۔۔
اور ان کا جواب سنے بنا سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔۔۔۔
کوٸی ہے گھر میں ؟
میں نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کے آواز دی ۔
دو سیکنڈ سے بھی پہلے سدرہ ہاتھ میں کتاب لٸے بنا چپل پہنے باہر آ گٸی
ارے شاہ سر آپ السلام علیکم
وعلیکم السلام کیسی ہو تم ؟
ٹھیک ہوں سر اندر آٸیں۔
ہم بات کرتے ہوٸے روم میں آ گٸے۔۔
سناٶ کیسے گزرے دن تمہارے
سر اچھے بہت اچھے گزرے بچے آ جاتے ہیں اب دل لگ جاتا ہے
گڈ کتنے سٹوڈنٹ اکھٹے کر لیٸے اب تک
سر چار بچیاں ایف اے کی ہیں
دو بچیاں ایف ایس سی کی ہیں
اور چھے بچیاں نائنتھ ٹینتھ کی ہیں
سدرہ نے تفصیل بتاٸی
ارے واہ بہت زبردست اب مجھے یقین ہو گیا ہے تمہاری منزل بہت قریب ہے۔۔
نہیں سر منزل تو بہت دور ہے
ابھی تو صرف راستہ ملا ہے
سدرہ نے اداس ہوتے ہوٸے جواب دیا
ان شاء اللہ منزل بھی مل جاٸے گی۔
ان شاء اللہ سر
اچھا یہ دیکھو تمہارے لٸے کیا لایا ہوں
میں نے پاس پڑا پیکٹ سدرہ کی طرف بڑھایا
سر کیا ہے اس میں ؟
خود دیکھ لو میں نے پیکٹ سدرہ کی طرف بڑھاتے ہوٸے کہا
سدرہ مجھے سے پیکٹ لے کے کھولنے لگی۔۔
میری نظریں اس کے چہرے پہ جم گٸیں جو پہلے دن اس کے چہرے پہ داغ تھے اب بلکل ختم ہو گٸے تھے بہت معصومیت تھی اس کے چہرے پہ میرا دل بھر آیا کہ پتہ نہیں کون سی منحوس گھڑی اُسے اِس دلدل میں پھینک گٸی تھی۔
ارے واہ شاہ سر بینگل آپ میرے لٸے لاٸے ہیں ؟
سدرہ نے اب براہ راست میری طرف دیکھا میں پہلے ہی اسےدیکھ رہا تھا کچھ پل یوں ہی بیت گٸے
اور پھر میں نے دیکھا کہ سدرہ کے چہرے پہ ایک رنگ سا آ کے گزر کیا اور اس نے نظریں جھکا لیں
جی آپ کے لٸے لایا ہوں لیکن لگتا آپ کو اچھی نہیں لگیں میں نے شرارت سے کہا۔
سر ابو کے بعد مجھے آپ کا گفٹ پسند آیا
سدرہ اداس ہو گٸی۔۔۔
مجھے اِس وقت اُس کا اداس ہونا بہت برا لگا اس لٸے اُس کا موڈ بدلنے کے لٸے بات بدلی۔
تم نے یاد بھی نہیں کیا ہو گا مجھے۔
شاہ سر آپ کے اس تحفے نے آپ کا احساس آپ کی خوشبو ہر وقت میرے وجود سے جوڑے رکھی۔
سدرہ نے جیکٹ کی طرف اشارہ کیا جو اُس نے اب بھی پہن رکھی تھی جو اُس رات میں نے ساحل پہ اسے پہننے کے لٸے دی تھی۔۔
اچھا تو یہ تمہارے پاس ہے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گیا پتہ نہیں کدھر گم ہو گٸی چلو اب واپس کرو۔۔۔
میں نے جان بوجھ کے انجان بننے کی کوشش کی۔
شاہ سر یہ میں اب آپ کو نہیں دوں گی۔
سدرہ نے ہاتھ سے نا نا کا اشارہ کرتے ہوٸے کہا
اچھا ٹھیک ہے نا دو لیکن ایک شرط ہے میں نے سدرہ کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا
کیا سر بتاٸیں
ہم ابھی ڈنر باہر کریں گے
منظور ہے سر لیکن میری بھی دو شرطیں ہیں سر
سدرہ نے مسکراتے ہوٸے ہاتھ کی انگلیوں سے ✌ کا نشان بنایا۔۔
جی بتاٸیں میم کیا ہیں آپ کی شرطیں ؟
پہلی شرط یہ ہے کہ آپ مجھے سب سے پہلے عبایا لے کے دیں گے
او کے ڈن اور دوسری شرط ؟
میں جو آپ کو دو گی وہ آپ بنا کوٸی بات کٸے لے لیں گے
اچھا ڈن
نہیں سر دوسری شرط کے لٸے پکا پرومس کریں کہ آپ منع نہیں کریں گے۔
او کے وعدہ ہے نہیں کروں گا منع
سر ایسے نہیں
پھر کیسے میں نے جان بوجھ کے سدرہ کو چھیڑا
سدرہ نے اٹھتے ہوٸے کہا ہاتھ ملا کے وعدہ کریں سر
اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا
جسے میں نے کچھ سکینڈ سوچنے کے بعد تھام لیا۔۔۔

سدرہ نے وعدہ لینے کے بعد اپنے بیگ سے دس ہزار روپے نکال کے میری طرف بڑھاٸے۔
یہ کیا ہے میری آواز میں نا چاہنے کے باوجود سختی آ گٸی
شاہ سر آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ بنا کوٸی سوال کیے لے لیں گے۔۔۔
سدرہ نے شکوہ کیا
اچھا دو میں نے نرم پڑتے ہوٸے کہا لیکن یہ پیسے کدھر سے آٸے یہ میں ضرور جاننا چاہوں گا۔۔
سر یہ جاننا آپ کا حق ہے یہ پیسے ٹیوشن والے بچوں کے ہیں ایک ماہ کے ایڈوانس کل پندرہ ہزار ملے تھے پانچ ہزار بھابھی کو دے دیٸے۔۔۔
سدرہ نے پوری تفصیل بتا دی۔۔
اوہ میں نے خود کو ریلیکس فیل کیا ورنہ ایک پل کو تو دماغ ہل گیا تھا۔۔۔
اچھا تو رکھ لو نا میں کیا کروں گا اِن کا
میں نے پیسے واپس سدرہ کی طرف بڑھاتے ہوٸے کہا۔۔
نہیں سر مجھے جو بھی چاہیے ہو گا آپ لے کے دیں گے۔
سیم میرے پاپا کی طرح میں آپ سے مانگ کے لوں گی ۔
پاپا کے ذکر پہ سدرہ کا چہرہ بجھ سا گیا اور اُس کی آنکھوں میں نمی اتر آٸی۔۔
سدرہ کی اس خواہش کو دیکھتے ہوٸے میں نے پیسے پاکٹ میں رکھ لٸے چلو ریڈی ہو جاٶ ڈنر پہ چلتے ہیں۔۔۔
او کے سر بس پانچ منٹ
یہ کہتے ہوٸے سدرہ باہر چلی گٸی۔۔۔
سب سے پہلے ہم لوگ طارق روڈ گٸے جہاں سے سدرہ نے ایک عبایا لیا اُس کے بعد میرے فیورٹ ریسٹورنٹ لال قلعہ میں ڈنر کیا۔۔۔۔
واپس سدرہ کو گھر ڈراپ کر کے میں ماموں کی طرف چلا گیا۔۔۔
سدرہ کو خادم حسین کے گھر میں رہتے ہوٸے یہ دوسرا مہینہ تھا اور اِسی دوران اس کے پاس سٹوڈنٹ کی تعداد بیس باٸیس کے قریب ہو گٸی تھی۔۔
صبح میں آفس پہنچا تو خادم حسین نے سلام کے بعد کہا
صاحب جی آپ کو بی بی جی نے شام کو بلایا ہے
اچانک میرے قدم رک گٸے خیریت تو ہے نا خادم کوٸی مسئلہ تو نہیں۔۔
نہیں صاحب جی صبح آپ کی بھابھی نے کہا تھا کہ بھاٸی کو کہنا کے شام کو گھر آٸیں۔
او کے ٹھیک ہے آٶں گا شام کو یہ کہتے ہوٸے میں اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
اگلے دو دن آفس کی مصروفیات میں سے جانے کا وقت ہی نہ ملا اور یہی سوچا کہ سنڈے کو جاٶں گا۔۔۔
سنڈے کی صبح ناشتے سے فارغ ہو کے باٸیک نکالی اور خادم حسین کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔
خادم حسین اور بھابھی سے سلام دعا کر کے اوپر آیا تو سدرہ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کے کنگھی کر رہی تھی۔۔
پہلے دن جب وہ میٹرول روڈ پہ مجھے ملی تھی
اُس دن کے بعد میں آج اسے بنا دوپٹے کے دیکھ رہا تھا
اور ایسا لگ رہا تھا کہ دل ابھی سینے سے باہر نکل آٸے گا۔
کافی توجہ سے مالک نے بنایا تھا اُسے دراز قد لمبے سیاہ بال جو پوری طرح کمر کو چھپاتے کمر سے بھی نیچے آ رہے تھے
اِس سے پہلے کے دماغ اور دل اور بھٹکتے مجھے سدرہ کو مخاطب کرنا پڑا کیونکہ اب میری دل پہ گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی۔۔۔
کوٸی ہے گھر میں
میں نے زرا اونچی آواز میں کہا۔
سدرہ نے بنا جواب دیٸے جلدی سے دوپٹہ اوڑھا اور سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام کیسی ہیں مس ٹیچر کچھ ہمیں بھی پڑھا دیں میں نے سدرہ کے چہرے پہ نظر جماتے ہوٸے کہا۔۔
سوری سر آپ کو نہیں پڑھا سکتے ہم کیونکہ آپ ہماری فیس نہیں دے سکیں گے۔۔
ہاں یہ تو ہے آپ کی فیس تو ہم نہیں دے سکتے اچھا آپ نے بلوایا تھا سوری وقت نہیں ملا مجھے دو دن اس لٸے آج آیا ہوں
جی سر ایک منٹ آٸی میں یہ کہ سدرہ اندر چلی گٸی اور کچھ دیر بعد ہزار ہزار کے کافی نوٹ میری جانب بڑھا دیٸے اور مجھے وعدے کے مطابق لینے پڑھے۔۔۔
ہم لوگ باہر ہی دھوپ میں رکھی چیٸر پہ بیٹھے تھے
اچھا تو یہ کام تھا اس لٸے بلوایا تھا میں نے خفگی سے کہا۔
۔
نہیں سر ایک اور کام تھا مجھے کوٸی بڑا گھر لے دیں
کیوں اِس گھر کو کیا ہے کوٸی وجہ کوٸی مسئلہ ہے تو بتاٶ
نہیں سر کوٸی مسئلہ نہیں بچے زیادہ ہیں اور جگہ کم سدرہ نے وضاحت کی۔۔۔
اوووو یہ تو ہے اچھا کرتے ہیں کچھ تم نے سٹڈی کہاں تک کی ہے کوٸی اچھی جاب اپلاٸی کر لو
نہیں سر مجھے گھر سے باہر جانا ہی نہیں اور پھر سارہ خرچہ تو آپ دیتے ہیں مجھے کیا ضرورت ہے جاب کی۔۔
حالانکہ یہ جھوٹ تھا کہ اسے خرچہ میں دے رہا تھا میں نے اُس پہ پہلے چار پانچ دن میں کوٸی اٹھارہ ہزار خرچ کٸے تھے
لیکن اُس کے بدلے وہ اب تک مجھے چالیس ہزار کے قریب دے چکی تھی
جس میں سے اگر میں اٹھارہ ہزار نکالتا اور باقی دو ماہ کے رینٹ اور کھانے کے پیسے جو خادم حسین کو دیٸے تھے وہ نکالتا تو بھی اُس کا میری طرف دو ہزار بچ جاتا تھا۔۔۔
شاہ سر کیا سوچ رہے ہیں سدرہ نے مجھے خیالوں میں کھویا دیکھ کے پوچھا
تم نے سٹڈی کا نہیں بتایا مجھے
میں نے گھور کے دیکھا
سر جب آپ گھورتے ہیں تو بہت اچھے لگتے ہیں اور سر
سدرہ کچھ کہتے کہتے رک گٸی۔۔
اور کیا میڈم جی
کچھ نہیں سر
بتاٶ اور کیا سر ورنہ میں ناراض۔۔
میں نے دھمکی دی جو فورا کام کر گٸی۔
سر پلیز ناراض مت ہونا
اب آپ کے علاوہ میری لاٸف میں کچھ نہیں ہے
سدرہ کے چہرے پہ ہواٸیاں اڑنے لگیں مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا ری ایکشن ایسا ہو گا
ارے ارے مزاق کر رہا تھا اچھا بتاٶ کیا سوچ رہی تھی۔۔
شاہ سر آپ کی آنکھیں بہت پیاری ہیں ماشاءاللہ میں نے اتنی پیاری آنکھیں آج تک نہیں دیکھی اور آپ کی آنکھوں میں جو حیا ہے نا وہ انہیں مزید بلند کرتی ہے
سدرہ ایک وجت کی صورت میں بولے جا رہی تھی اور اسے روکنا بہت ضروری تھا۔۔۔
اچھا اگر آنکھوں کی تعریف ہوگئی ہو
تو یہ بتاٶ کہ سٹڈی کہاں تک کی میں نے مصنوعی غصہ دکھایا۔۔
اچھا سر بتاتی ہوں سدرہ نے مسکراتے ہوٸے جواب دیا
ہاں بتاٶ جلدی۔۔
شاہ سر میں بی ایس آٸی ٹی اور ایم ایس کی سٹوڈنٹ تھی
پی ایچ ڈی کا ادارہ تھا لیکن بدقسمتی سے سب پہلے ہی ختم ہو گیا۔۔۔
اب سدرہ کے چہرے پہ واضح کرب تھا
اِس لٸے میں نے وجہ جاننے کی بجاٸے کہ ایسا کیا ہوا تھا سدرہ کو سٹڈی چھوڑنی پڑی۔۔
میں چپ ہو گیا۔۔۔
سر بی ایس آٸی ٹی کیا اِس کے بعد ایم ایس کیا آگے پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن لینے کا ارادہ تھا جو کے ادھورا رہ گیا۔۔۔۔
اف خدا یہ لڑکی بی ایس آٸی ٹی اور ایم ایس کی سٹوڈنٹ ہو کے ایسے گندے کام میں پڑ گٸی دل اور دماغ پھٹنے لگا۔۔۔
اور میں مضبوط ترین اعصاب رکھنے کے باوجود اس وقت بلکل خود کو انتہاٸی بکھرا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
سدرہ پانی لا کے دو ایک گلاس…
وہ اٹھی اور پانی لینے چلی گٸی۔۔
کیا ہوا سر طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی سدرہ نے پانی کا گلاس مجھے پکڑاتے ہوٸے پوچھا۔۔
ہاں ٹھیک ہوں اب۔۔
اچھا مسئلہ یہ کہ میں نہیں چاہتا کہ تم اکیلی رہو اس لٸے کوٸی ایسا گھر ہو جو خادم کے گھر کے پاس ہو تاکہ تم پڑھا کے واپس آ جاٶ
پھر ہو بھی اسی ایریا میں کیونکہ تمہارےسٹوڈنٹ اسی ایریا کے ہیں ۔۔۔
جی سر ایسا ہی ہے اور یہی سوچ کے میں پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔
تم پریشان نا ہو کرتے ہیں کچھ۔
اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور خادم سے اس مسئلے پہ بات کر کے وہیں سے چلا جاٶں گا
ٹھیک ہے سر
او کے پھر اللہ حافظ میں نے اٹھتے ہوٸے کہا سدرہ مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آٸی۔۔۔
نیچے آ کے خادم سے اس معاملے پہ بات کی تو اس نے اور بھابھی نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا کہ ہم بہت جلد تلاش کر دیں گے ۔۔۔۔
اگلا پورا ویک بہت مصروف گزرا اور ماموں کی طبیعت کی خرابی کے باعث میں سدرہ کی طرف نہ جا سکا۔۔۔
ایک دو بار بھابھی کے نمبر سے سر سری سی بات ہوٸی۔۔۔
منڈے کو آفس کا پہلا دن تھا اور جاتے ہی مجھے خادم نے اطلاع دی کہ صاحب جی گھر کا انتظام ہو گیا ہے
ارے واہ کہاں پہ ہوا میں نے خوش ہوتے ہوٸے پوچھا۔۔۔
صاحب جی اُدھر ہمارے گھر کے سامنے ہی
اچھا تم لنچ ٹاٸم اندر آ جانا بلکہ رہنے دو شام کو میں گھر آٶں گا یہ کہتا ہوا میں اندر چلا گیا۔۔۔
شام کو جب میں کچی آبادی خادم کے گھر پہنچا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے خادم سے پوچھا کہ کون سی جگہ ہے چلو دیکھ لیں ۔۔
صاحب جی گھر نہیں ہے بس ایک ہال ہے لیکن بی بی نے کہا ہے ٹھیک ہے خادم نے وضاحت کی۔
سدرہ گٸی تھی دیکھنے
جی صاحب بیگم کے ساتھ گٸی تھی۔۔
تبھی بھابھی پکوڑے اور چاٸے لے کے آ گٸیں
بھاٸی یہ جو سامنے میمن ہیں نا جن کی دو بچیاں آتی ہیں ان کا ہال ہے اور ان بچیوں نے ہی ضد کی ہے کہ یہ ٹھیک ہے
پھر سدرہ بی بی نے بھی دیکھا بھابھی نے پوری تفصیل سے آگاہ کیا۔۔۔
خادم اور میں چاٸے کے بعد ہال دیکھنے چلے گٸے
ہال کیا تھا تیرہ باٸے پچیس کی ایک شاپ نما دوکان تھی جگہ معقول تھی پچاس سٹوڈنٹ بڑے ایزی پڑھ سکتے تھے ۔۔
مالک کو بلاٶ خادم حسین
جی صاحب جی وہ چل نہیں سکتے ڈراٸنگ روم میں ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔
او کے چلو پھر بات کرتے ہیں ۔
ڈراٸنگ روم میں ایک پینتالیس پچاس سال کا ادھیڑ عمر شخص صوفہ پر لیٹا ہوا تھا۔
خادم نے سہارا دے کے اسے اٹھایا تو میں نے آگے بڑھ کے ہاتھ ملایا۔۔۔
معذرت شاہ جی میں اٹھ کے نہیں آ سکا کیونکہ میری ریڑھ کی ہڈی میں کچھ تکلیف تھی۔۔۔
مالک دوکان نے معذرت کی۔۔
کوٸی بات نہیں جناب ہم جو آ گٸے ہیں میں نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
سلام دعا کے بعد خادم نے تعارف کروایا راشد صاحب یہ مصطفی صاحب ہیں
اور صاحب جی یہ راشد صاحب ہیں ان کی دو بیٹیاں پڑھتی ہیں بی بی جی کے پاس۔۔۔
راشد صاحب کتنا رینٹ لیں گے آپ اُس ہال کا میں نے ٹاٸم ویسٹ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
شاہ صاحب ہماری چار بچیاں پڑھتی ہیں
ویسے بھی وہ ہال کافی ٹاٸم سے خالی پڑا ہوا تھا اس لٸے چھوڑیں کرایہ کو۔۔۔
آپ اللہ کا نام لے کے استعمال کریں۔
راشد صاحب اللہ آپ کو خوش رکھے لیکن یہ ضروری ہے کیونکہ یہ دو چار دن کا کام نہیں اِس لٸے آپ بھلے کم لے لیں مگر لیں ضرور میں نے سنجیدگی سے جواب دیا
ٹھیک ہے شاہ صاحب آپ لوگ آٹھ ہزار دے دینا مہینے کا جس میں بل بھی شامل ہو گا۔۔۔۔
کرایہ راشد صاحب نے معقول مانگا تھا اس لٸے بات ڈن ہو گٸی
خادم حسین آپ اِن کو جو بھی گارنٹی چاہیٸے ہو دے دینا۔
یہ کہتے ہوٸے میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔
دوسرے دن میں نے آفس سے چھٹی لی اور ہال میں پینٹ وغیرہ لاٸٹ کا کام کروایا۔۔۔
ہال کو شٹر کے علاوہ شیشے کا دروازہ بھی لگا ہوا تھا جس کے اندر کی ساٸیڈ پہ میں نے پردہ لگوا دیا
اور طے یہ پایا کہ صبح آفس جاتے ہوٸے خادم شٹر کھول کے جایا کرے گا اور رات کو آفس سے آ کے بند کرے گا سدرہ کو بھابھی چھوڑنے جاٸے گی۔۔۔
اب سب سے مین مسئلہ تھا چیٸرز کا جو سٹوڈنٹس کے لٸے چاہیٸے تھیں ۔
جن کا پتہ دو تین جگہ سے کیا تو معلوم ہوا آرڈر دینا پڑے گا اور تین چار دن بعد ملیں گی۔۔۔
لیکن یہ مسئلہ بھی راشد صاحب مالک دوکان نے حل کر دیا اُن کا کوٸی ہوٹل تھا جس کے لٸے انہوں نیو چیٸرز اور ٹیبل خریدے تھے اس لٸے وہ ہمیں بڑی مناسب قیمت پہ مل گٸے اور راشد صاحب نے کہا کہ وہ اِن چیٸرز اور ٹیبل کے پیسے بچیوں کی ٹیوشن فیس سے کاٹ لیں گے۔۔۔
اگلے تین چار دن میں میری اچھی خاصی دوڑ لگی رہی
آفس سے آ کے نو دس بجے تک کام کرواتا رہتا پھر چیٸر اور ٹیبل شفٹ کرواٸے اس کی صفاٸی وغیرہ کرواٸی۔
اللہ کا شکر ہے تین چار دن کی محنت کے بعد ہال کا کام پورا ہو گیا اور ہال اب پوری طرح ریڈی تھا سٹوڈنٹس کے لٸے۔۔۔
رات کو جب میں گھر لوٹ رہا تھا تو گنجے پاپی میرا مطلب ہے باس کی کال آ گٸی۔۔۔۔
السلام علیکم سر
وعیلکم السلام شاہ صاحب
شاہ صاحب پچھلے ہفتے خالد صاحب کو دو پینا فلیکس بنوانے کا کہا تھا۔۔۔
ادارے کی پبلسٹی کے لٸے لیکن خالد صاحب کے بھاٸی کی ڈیتھ کی وجہ سے وہ تین دن سے آفس نہیں آ رہے
ابھی ملک صاحب کی کال آٸی ہے کہ صبح وہ فلیکس ہر صورت لگواٸیں اِس لٸے پلیز آپ خالد صاحب سے رابطہ کریں
اور اُس فلیکس والے کا نمبر وغیرہ لے کے پتہ کریں کہ فلیکس بن گٸی یا نہیں۔۔
او کے سر میں پتہ کرتا ہوں
الله حافظ شاہ صاحب
الو کا پٹھہ منحوس اس شخص سے خیر کی امید نہیں اب یہ فلیکس والا کام ہی کرنے کے لٸے رہ گٸے ہیں ہم
میں نے باس کی شان میں کچھ مزید کلمات ادا کیٸے جو قابل تحریر نہیں ۔۔۔
اور خالد کو کال ملا دی کال دوسری ہی رنگ پہ پک کر لی گٸی۔۔
السلام علیکم مصطفی بھاٸی
وعلیکم سلام خالد بھاٸی کیسے ہیں
جی شکر ہے اس پاک ذات کا۔۔
خالد بھاٸی شیخ صاحب نے کوٸی فلیکس کہے تھے آپ کو اس شاپ کا نمبر اور نام بتا دیں ۔۔۔
جی مصطفی بھاٸی بتاتا ہوں ہولڈ کریں
کچھ دیر بعد خالد نے شاپ کا نام نمبر اور ایڈریس لکھوا دیا۔۔۔۔
میں اس وقت لیموں گوٹھ میں تھا اور آفس کے بعد ہال کی بھی مکمل سیٹنگ کرواٸی تھی اس لٸے تھکاوٹ سے برا حال تھا۔۔۔
لیکن پھر بھی فلیکس کا تو پتہ لازمی کرنا تھا اِس لٸے ٹاٸم ویسٹ کیے بنا میں نے گاڑی موتی محل کی طرف موڑ دی
فلیکس ریڈی تھی اس لٸے زیادہ وقت نہیں لگا بل دیا اور فلیکس لڑکے نے گاڑی میں رکھوا دیٸے۔۔
شاپ مالک سے اللہ حافظ کر کے گاڑی کے پاس آیا تو اچانک دماغ میں خیال آیا کیوں نہ سدرہ کے ٹیوشن سنٹر کے لٸے بھی ایک فلیکس بنوا لی جاٸے۔۔۔
یہ سوچتے ہوٸے میں واپس مڑا اور دوکان مالک سے فلیکس کی بات کی ۔۔۔
ساٸز بتایا اور بات ڈن کر دی اور اسے کہا کہ سنڈے کو چاہیٸے۔
مالک نے مجھے گاٸیڈ کرتے ہوٸے ڈیزاٸنر لڑکے کے پاس بھیج دیا۔
کیا لکھنا ہے سر ڈیزاٸنر لڑکے نے مجھ سے پوچھا
بس لکھ دو کے ایف ایس سی ایف اے اور میٹرک کے سٹوڈنٹس کی معیاری ٹیوشن کے لٸے رابطہ کریں
نیز اونلی فار گرل لکھ دو اور اپنے حساب سے بنا لو ۔
سر ٹیوشن سنٹر کا نام کیا رکھنا ہے۔۔۔
آپ یہ مکمل کریں نام صبح لکھوا دوں گا
او کے ٹھیک ہے سر۔۔۔۔۔
میں چاہتا تھا نام سدرہ سے پوچھ کے لکھواٶں۔۔

صبح اٹھا تو تھکاوٹ کی وجہ سے پورا جسم درد کر رہا تھا
اور اِس جسم درد کی وجہ پچھلے تین چار دن لگاتار کام کرنا تھا۔۔۔
کیونکہ میں تین چار دن سے آفس سے آ کے رات دس بجے تک بزی رہتا رہتا تھا۔۔۔
سدرہ کے ٹیوشن سینٹر کی سیٹنگ کے لٸے۔۔۔
اس دوران میں خود بھی ساتھ ساتھ کام کرواتا رہتا تھا
جس کی وجہ سے تھکاوٹ بہت زیادہ تھی اور اِسی وجہ سے اب جسم درد کر رہا تھا۔۔
میں نے کچن میں آ کے دودھ چولہے پہ رکھا اور لاٸٹر سے چولہا جلا کے خود فریج سے دو انڈے نکال کے پھینٹے لگا
دودھ کو جب ابال آیا تو اس میں پھینٹے ہوٸے انڈے ڈال کے ایک مزید ابال آنے دیا اور پھر اتار کے دودھ کپ میں ڈال کے روم میں آ گیا۔۔۔
گیارہ بجے میں ایک کلاٸنٹ کو میل کر کے فری ہوا ہی تھا کہ سیل کی واٸبریشن نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا دیکھا تو سکرین پہ نیو نمبر آ رہا تھا۔۔۔
دو بیل کے بعد کال پک کی تو دوسری طرف سے سلام کہا گیا اور کال والے نے اپنا تعارف پینا فلیکس کے مالک کے طور پہ کروایا
اور پوچھا کہ سر ٹیوشن سنٹر پہ کیا نام لکھنا ہے میں نے دس منٹ بعد بتانے کا کہہ کر کال بند کر دی۔۔
میں نے بھابھی کا نمبر ڈاٸل کیا۔۔۔۔
کال آخری رنگ پہ پک کر لی گٸی اور ساتھ ہی بھابھی کی آواز سناٸی دی بھاٸی ایک منٹ ہولڈ کریں میں ہاتھ صاف کر لوں۔۔
السلام علیکم بھاٸی سوری میں برتن دھو رہی تھی ہاتھ گیلے تھے اس لٸے ہولڈ کروایا۔۔۔
وعلیکم السلام سدرہ سے بات کروا دیں ۔۔۔
جی ابھی کرواتی ہوں
سدرہ سے سلام کے بعد میں نے پوچھا کہ تمہارے پاپا کا نام کیا ہے
سر خیریت ہے اچانک سے پاپا کے نام کا کیا کرنا ہے
میرا خیال تھا کہ وہ بنا ریزن جانے بتا دے گی
کچھ نہیں کرنا ویسے پوچھا ہے اگر کوٸی اعتراض ہے تو مت بتاٶ میری آواز میں سختی آ گٸی اور دماغ سوچ میں پڑ گیا کہ کہیں یہ سب ڈرامہ تو نہیں کر رہی۔
نہیں سر ایسا نہیں ویسے ہی پوچھا میرے پاپا کا نام محمد ولایت ہے
شکریہ اور منڈے کو تم اپنے سٹوڈنٹس کو اپنے ٹیوشن سنٹر میں پڑھا سکتی ہو ریڈی ہے
سر میں آپ کو شکریہ نہیں کہوں گی۔
ہاہاہاہا مت کہو شکریہ چاہیٸے کس کو میں نے ہنستے ہوٸے جواب دیا۔
سر پتہ ہے وجہ کیا آپ کے پاس مجھے دو مہینے ہو گٸے ان دو ماہ میں آپ نے کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں کسی غیر مرد کے ساتھ ہوں۔۔۔
نہ آپ نے مجھ پہ کیے احسانوں کے بدلے کچھ ڈیمانڈ کیا اس لٸے سر میں چاہتی ہوں۔۔
کہ شکریہ جیسا چھوٹا لفظ بول کر آپ کی طرف سے دی گٸی عزت کا مزاق نہ اڑاٶں اور میں ہمیشہ آپ کی قرض دار رہنا چاہتی ہوں۔۔۔
ہاہاہاہاہا اتنی گہری باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی اور میں کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں
کہ تم اپنا خرچ خود اٹھا رہی ہو بلکہ تمہاری ٹیوشن فیس کے پیسے تمہاری رہاٸش اور کھانے کے پیسے دینے کے بعد بھی بچ جاتے ہیں
اس لٸے اِس احساس سے نکل آٶ کے میں تمہیں خرچہ دے رہا ہوں۔۔۔۔۔
سر مجھے اِسی احساس میں رہنا ہے ساری عمر کیونکہ جس راہ پہ آپ مجھے لے آٸے اس پہ لانے کے لٸے کوٸی بھی رسک نہیں لیتا نہ اپنی عزت کوٸی داٶ پہ لگاتا ہے
کافی بار کئی مرد مجھ سے اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد جو پیسے طے ہوتے تھے
اُس سے بہت زیادہ دے جاتے تھے ایک بار ایک مرد اتنا خوش ہوا میرے ساتھ کے پچاس ہزار دے گیا کہ یہ کام چھوڑ دو یہ میرا نمبر ہے
جب بھی ضرورت ہو کال کرنا اور پیسے لے لینا بس کبھی کبھار ملنے آٶں گا تمہیں۔۔۔
لیکن سر صرف پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا پیسے کچھ ماہ میں لگ جاتے ہیں۔۔
اصل چیز ہوتی ہے سر پرستی جس میں انسان کو تحفظ محسوس ہوتا ہے
مجھے تحفظ دینےوالا کوٸی نہیں ملا تھا
اس معاشرے میں بنا مرد کے سہارے والی عورت راستے میں لگے بل بورڈ کی طرح ہوتی ہے جسے ہر کوٸی دیکھتا ہے
لیکن شاہ سر وہ آپ ہیں جنہوں نے مجھے عزت دی جنہوں نے اپنی عزت داٶ پہ لگاٸی۔۔
اِس بات کی پرواہ کیٸے بنا کہ میں کون ہوں آپ نے عملی طور پہ میرے لٸے کچھ کیا۔۔
سدرہ اب بولے جا رہی تھی اور میں حیران تھا کہ یہ لڑکی انتی گہری سوچ رکھتی ہے۔۔
اور اتنی باریکی بینی سے ہر چیز کا مشاہدہ کرتی ہے اچھا ٹھیک اب مجھے چوڑا مت کرو موٹا ہو جاٶں گا ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا ہو جاٸیں موٹے سر
اور آپ کی اطلاع کے لٸے عرض ہے کہ موٹے پتلے سے کردار پہ کوٸی فرق نہیں پڑتا۔۔
جس نے اچھے رہنا ہے اس نے موٹے ہو کے بھی اچھا ہی رہنا ہے ۔۔۔
ہاہاہاہا کسی بات میں جیتنے مت دینا مجھے
اور ہاں میری بیوی بہت ظالم اور ڈاکو رانی ٹاٸپ ہے جو مجھے کسی کے ساتھ فری نہیں ہونے دیتی۔۔۔
اِس لٸے تمہارے ساتھ میں ایسے رہتا ہوں شریف بن کے میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔۔
واٶ سر ملواٸیں ہمیں بھی میم سے سدرہ نے خوش ہوتے ہوٸے کہا
نہیں ملوا سکتا ابھی
کیوں سر
کیوں سر کی بچی اِس لٸے کہ ابھی وہ ماٸیکے ہے رخصتی نہیں ہوٸی۔۔۔۔
لیکن کچھ ماہ تک ہو جاٸے گی رخصتی تو مل لینا۔۔۔
میں ضرور ملوں گی شاہ سر اُن سے جن کی محبت آپ کو بھٹکنے نہیں دیتی۔۔۔
بے شک اُن کی محبت اور میری ماں کی تربیت کے سبب ہی یہ ممکن ہوا۔۔۔
سر آپ کی امی کدھر ہیں
اچھا یہ پھر بتاٶں گا میں آفس میں ہوں تو بعد میں بات کروں گا اللہ حافظ
اللہ حافظ سر۔۔
سدرہ کی کال بندہ کر کے میں نے فلیکس والے کو کال کی اور بتایا کہ ولایت ٹیوشن سنٹر نام لکھ دو۔۔۔
سنڈے والے دن ہم نے ایک دیگ بریانی کی منگواٸی اور باقاعدہ سدرہ کے ٹیوشن سنٹر کا افتتاح کر دیا اور آس پاس کے دس بیس لوگوں کو بلا کے دعا میں شامل کیا۔۔۔
سدرہ ٹیوشن سنٹر کا نام اپنے پاپا کے نام پہ دیکھ کےکچھ پل کے لٸے تو بلکل چپ ہو گٸی اور آنسوٶں سے آنکھیں بھر آٸیں اُس کی…
لیکن پھر میرے سمجھانے پہ چپ ہو گٸی اور میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے بس اتنا کہا کہ پتہ نہیں میری کس نیکی کے بدلے آپ مجھے ملے ہیں شاہ سر۔۔
نیکی کا بدلہ اللہ دیتا ہے انسان کسی نیکی کا بدل نہیں ہو سکتا خیر چلو واپس چلتے ہیں میں اب بہت تھک گیا ہوں واپس جا کے آرام کرنا ہے ۔۔۔
وقت بہت سکون سے گزر رہا تھا اور میں سدرہ کی طرف سے بلکل ریلیکس تھا کیونکہ وہ بہت خوش تھی اور بہت محنت سے بچوں کو پڑھا رہی تھی اور اب اُس کے ٹیوشن سنٹر کا ایک نام بن گیا۔۔۔
چھے مہینے میں سدرہ کے پاس بچیوں کی تعداد چالیس سے اوپر ہو گٸی تھی اور اُس کےسارے خرچے نکال کے
اُسے ایک موباٸل لے کے دیا اس کے پیسے بھی نکال کر سدرہ کے اب بھی میرے پاس کوٸی ڈیڑھ لاکھ سے اوپر جمع تھے۔۔۔
اُس دن سنڈے ہم لوگوں نے ساتھ گزارا اور خوب انجوے کیا اب وہ مجھ سے کافی فری ہو گٸی تھی
میں نے کافی بار کہا کہ کسی اچھی جگہ تمہاری شادی کر دیتا ہوں لیکن وہ ہر بار ٹال دیتی
اور مجھ پہ زور دیتی کہ آپ رخصتی کر کے منیبہ باجی کو لیں آٸیں میں آپ دونوں کی خدمت کروں گی اور آپ کے بچے سنبھالوں گی😥😥
کبھی کبھی میرا دل بہت شدت سے چاہتا کہ منیبہ کو سدرہ کے بارے میں بتاٶں
لیکن پھر یہ سوچ کے چپ ہو جاتا کہ منیبہ نہیں سمجھ سکے گی اور سدرہ اور میرے رشتے کو غلط سمجھے گی
اس لٸے رخصتی کے بعد سدرہ سے ملوانے پہ بات چلی آ رہی تھی۔
لیکن میرا اللہ واحد جانتا ہے سدرہ کے
ساتھ گزارے اِن آٹھ مہینوں میں
کبھی بھی میں نے اُسے غلط نظر سے دیکھا تک نہیں تھا ہاں وہ انتہا کی خوبصورت تھی اس کو دیکھ کے کس کا بھی ایمان خطرے میں پڑ سکتا تھا۔۔۔
اِن آٹھ مہینوں کی عبادت نے سدرہ کے چہرے کو مکمل نور سے بھر دیا تھا
جب سے وہ خادم کے گھر آٸی تھی تب سے وہ مسلسل پانچ وقت کی نماز اور تہجد ادا کر رہی تھی
اور اب تو دو ماہ سے اُس نے صبح کے وقت محلے کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
چار بجے ہم لوگ سفاری پارک سے نکلے اور میں سدرہ کو اُس کی رہاٸش پہ ڈراپ کر کے گھر آ گیا۔۔۔۔۔
رات کو تین بجے مسلسل موباٸل کی واٸبریشن سے میری آنکھ کھل گٸی نیم وا آنکھوں سے دیکھا تو سدرہ کا نمبر تھا
میں ایک دم جھٹکے سے اٹھ کے بیٹھ گیا اور دل کو کسی انجانے خوف نے گھیر لیا۔
میں نے فورًا کال پک کی اور سدرہ کے بولنے سے پہلے فکر سے پوچھا کیا ہوا خیریت تو ہے
آگے سے مجھے سدرہ کی سخت اذیت میں ڈوبی آواز سناٸی دی شاید وہ رو رہی تھی۔۔۔
شاہ سر میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے اور میرے ناک سے مسلسل خون بہہ رہا ہے پلیز آپ آ جاٶ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے😥😥
تم حوصلہ رکھو میں ابھی آیا۔۔۔
اللہ حافظ میں نے سدرہ کا جواب سنے بنا کال کاٹ دی۔
میں نے نا جیکٹ پہنی نا شال لی کچھ بھی نہیں بس چپل پہنی اور گاڑی نکالی گھر بھی بنا لاک کیے نکل آیا۔۔۔
دل تھا کہ کٹ رہا تھا اور آج کچی آبادی کا راستہ مجھے سینکڑوں میل دور لگ رہا تھا نجانے کیوں سدرہ کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی شاہ سر مجھے ڈر لگ رہا ہے جلدی آجاٸیں اور یہ جملہ میری آنکھیں نم کر رہا تھا۔۔۔۔😥

مجھے اُس وقت نا سپیڈ بریکر نظر آ رہا تھا نا ہی خراب روڈ میری پہلی کوشش یہی تھی کہ کسی طرح جلد از جلد سدرہ کے پاس پہنچ جاٶں۔۔۔۔۔
میں نے گاڑی جیسے ہی خادم حسین کے گھر کے سامنے روکی مجھے خادم حسین گیٹ سے باہر نکلتا نظر آیا۔۔۔
جلدی آٸیں صاحب جی بی بی جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔
چلو چلو میں اندر داخل ہوتے ہی سیڑھیاں چڑھنے لگا تو خادم حسین نے مجھے آواز دی صاحب جی بی بی نیچے روم میں ہیں۔۔۔۔۔۔
میں اُس کی بات کا جواب دیٸے بنا روم کی طرف بڑھ گیا۔۔
روم میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ سدرہ کو بھابھی نے پیچھے سے سہارا دے کے اپنی گود میں لٹایا ہوا ہے۔۔۔
اور سدرہ کا سر دبا رہی ہیں۔۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی سدرہ نے نیم وا آنکھوں سے مجھے دیکھا آپ آ گٸے شاہ سر۔۔۔
میرے آنسو اب سارا کنٹرول کھو کے آنکھوں سے بہنے لگے😢
آٹھ ماہ کسی جانور کے ساتھ بھی گزارو تو انسان کو اُس سے بھی محبت ہو جاتی ہے
وہ تو جیتی جاگتی گڑیا جیسی لڑکی تھی میرا جذباتی ہونا بنتا تھا۔
میں آ گیا ہوں سِڈ کچھ نہیں ہو گا تمہیں
میں نے سدرہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوٸے کہا۔۔۔
خون بہنے کی وجہ سے سدرہ کے کپڑے کافی خراب نظر آ رہے تھے
لیکن اب وقت نہیں تھا کہ کپڑے چینج کرواٸے جاتے اِس لٸے میں نے بھابھی کو کہا کہ اٹھیں اِسے سہارا دے کے گاڑی میں لے چلتے ہیں
بھابھی اور میں نے کوشش کی سہارا دے کر کسی طرح سدرہ کو گاڑی تک لے جاٸیں۔۔۔
لیکن سدرہ چلنے کے قابل نہیں تھی
میں نے آواز دی سِڈ اٹھو ہاسپٹل چلتے ہیں
لیکن سدرہ نے کوٸی جواب نہ دیا
میں نے زرا اونچی آواز میں پکارا
چل اٹھ جا میرا بچہ ہاسپٹل چلیں میڈیسن لینے۔۔۔۔
لیکن سدرہ کی طرف سے کوٸی حر کت نہ ہوٸی۔۔۔
مجھے اپنی سانس رکتی ہوٸی محسوس ہوٸی
میں بے اختیار سدرہ پہ جھکا اور اس کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا بھابھی آپ کمبل اور تکیہ لے کے آٸیں جلدی۔۔۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ سدرہ کو لٹایا اور اس کی ٹانگیں بھابھی نے گود میں رکھ لیں ۔۔۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو خادم حسین نے کہا میں بھی چلتا ہوں لیکن میں نے منع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تم گھر ہی رکو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں گھر پہ رہنا ضروری ہے۔۔۔۔۔
میں نے خود پوری عمر رشتوں کی دوری دیکھی ہوٸی تھی اِس لٸے مجھے احساس تھا کہ یہ اذیت کتنی خطرناک ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
سدرہ کے لٸے مجھے بہت دکھ محسوس ہو رہا تھا وہ نازک سی لڑکی آج بیمار تھی اور افسوس کا مقام یہ تھا کہ اُس کے پاس کوٸی بھی خونی رشتہ موجود نہیں تھا۔۔۔۔😭
میرے لب بار بار رب کی بارگاہ میں سدرہ کی صحت کے دعا مانگ رہے تھے۔۔۔۔
آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں سدرہ اور بھابھی کو چھوڑ کے میں ایڈمن بلاک چلا گیا۔۔۔
جہاں پہ مجھے پچاس ہزار کیش جمع کروانے کا بولا گیا
اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا کے میں تو جلدی میں پیسے لانا بھول گیا ہوں۔۔۔۔
پاکٹ میں ہاتھ ڈالا تو مشکل سے بارہ ہزار نکلے میں نے وہ کاٶنٹر پہ موجود لڑکے کو پکڑاتے ہوٸے کہا آپ لوگ ٹریٹمنٹ سٹارٹ کرواٸیں۔۔۔
پیسے آدھے گھنٹے تک آ جاتے ہیں
اُسے اپنا اور پیشنٹ کا نام لکھوا کے سلپ لی اور واپس ایمرجنسی آ گیا
سدرہ کو چیک اپ کرنے کے بعد فورًا نیوروسرجیکل وارڈ کے آٸی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔
بیس منٹ بعد مجھے ڈاکٹر نے اندر بلایا اور ایڈمشن سلپ مانگی۔۔
میں نے فورًا سلپ نکال کے ڈاکٹر کو پکڑا دی۔۔۔
ڈاکٹر نے ایک طاٸرانہ سی نظر سلپ پہ ڈالی اور مجھ سے مخاطب ہوا۔۔۔
مسٹر مصطفی آپ کے پیشنٹ کی حالت بہت سیریس ہے ہم ان کا فلحال سی ٹی سکین کروا رہے ہیں اِس کے بعد ہی کچھ آٸڈیا ہو گا ان کو کیا ہواہے۔۔۔
پلیز سر جلدی کریں جو بھی کرنا ہے میں نے التجا کی
او کے مسٹر شاہ آپ باہر انتظار کریں۔۔۔
میں آٸی سی یو سے باہر آ گیا۔۔۔
میرے باہر آنے کے کچھ ہی دیر بعد مجھے نرسنگ سٹاف سدرہ کو سی ٹی سکین روم کی طرف لے کے جاتا دکھاٸی دیا۔۔
میں بھی تیز تیز قدم اٹھاتا اُن کے ساتھ چلنے لگا سدرہ کا چہرہ اب پرسکون تھا۔۔۔
لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ وہ رو رہی ہے اُس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا😢😢😢
نرسنگ سٹاف سدرہ کو لے کے سی ٹی سکین روم میں داخل ہو گیا
میں نے جیب سے سیل نکالا اور ٹاٸم دیکھا تو صبح کے پانچ تیس ہو رہے تھے میں نے کچھ سوچتے ہوٸے ماموں کا نمبر سرچ کیا اور کال ملا دی۔۔۔
تیسری رنگ پہ ماموں نے کال پک کر لی۔۔۔
السلام علیکم ماموں
وعلیکم السلام مصطفی خریت ہے اتنی صبح کال۔۔
ماموں بس کوٸی مسئلہ تھا ایک دوست کی طبیعت اچانک رات کو خراب ہو گٸی تھی ہم آغا خان ہسپتال میں ہیں
آپ کچھ پیسے لے کے آ جاٸیں باقی تفصیل بعد میں بتاٶں گا۔۔۔
آپ آ جاٸیں ابھی ارجنٹ۔۔
میں نے یہی مناسب سمجھا کہ ماموں کو سدرہ کے بارے میں سب مل کے بتاٶں گا۔۔۔
میں بس تیس منٹ میں آیا اللہ رحم کرے گا تو پریشان نا ہو۔۔۔
کتنے پیسے لاٶں مصطفی۔
ماموں پچاس ہزار لے آٸیں
او کے میں آیا الله حافظ
الله حافظ ماموں۔۔
جب تک ماموں ہاسپٹل آٸے ڈاکٹر نے سدرہ کا سی ٹی سکین کر کے اسے واپس آٸی سی یو میں شفٹ کر دیا ۔
سلام دعا کے بعد ماموں نے پیسے مجھے دیتے ہوٸے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔۔۔
کون سا تمارا دوست ہے مصطفی اور یہ تمہاری قمیض پہ اتنا خون کیوں لگا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نا کوٸی پریشانی کی بات تو نہیں۔
ماموں میں پیسے جمع کروا کے آیا پھر بتاتا ہوں ۔
میں پیسے جمع کروایا کے آیا تو ماموں آٸی سی یو کے باہر رکھی چیٸرز پہ بیٹھے ممانی کو کال کر رہے تھے۔۔۔۔
میرے پاس جانے پہ میں نے انہیں اتنا کہتے سنا کہ مصطفی کے کسی دوست کی طبیعت خراب ہے اور وہ ہاسپٹل ایڈمٹ ہے
ادھر آیا ہوں ماموں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ مصطفی آ گیا پوچھ کے پھر بتاتا ہوں ۔
ہاں مصطفی کون سا دوست ہے بتاٶ مجھے اور یہ خون کیوں لگا ہے قمیض پہ اتنا۔
میں نے ماموں کو سدرہ سے ہونے والی پہلے ملاقات سے لے کہ اب تک ہونے والی ہر بات بتا دی۔
ماموں میری بات خاموشی اور پوری توجہ سے سنتے رہے اور کافی بار نظریں اٹھا کے میرے چہرے کو غور سے دیکھا میں اپنی بات پوری کر کے خاموش ہو گیا۔۔
کچھ دیر یوں ہی خاموشی رہی پھر ماموں بولے تو آواز کافی سخت تھی۔
شاہ صاحب اب آپ بڑے ہو گٸے ہیں اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں جو کہ اچھی بات ہے لیکن افسوس ہوا کے تم نے ماموں کو بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا
بھلے تم اپنی مرضی کر لیتے میں تمہارا ساتھ بھی دیتا لیکن مجھے پتہ تو ہوتا ماموں کی آواز میں غصہ اور دکھ شامل تھا۔۔۔
ماموں ایسی بات نہیں سدرہ جس کنڈیشن میں اُس وقت تھی اُس کے لٸے ضروری تھا کے وہ اکیلے رہے کوٸی روک ٹوک کوٸی کچھ کہنے والا نہ ہو۔۔۔
دوسری بات اگر آپ سے بات کر کے میں آپ کو منا بھی لیتا تو آپ کبھی بھی ایک گارڈ کے گھر مجھے سدرہ کو چھوڑنے نہ دیتے۔۔۔۔
آپ اپنے گھر رکھتے اور یہی میں نہیں چاہتا تھا
کے آپ سدرہ کو اپنے گھر رکھیں
تم ایسا کیوں نہیں چاہتے تھے کیا ہم لوگوں پہ بھروسہ نہیں تم کو ماموں نے خفا ہوتے ہوٸے کہا۔۔۔۔۔
آپ پہ بھروسہ ہے ماموں آپ بھلے سخت ہیں لیکن اصول کے پکے ہیں
تو پھر کیا وجہ تھی ماموں نے اب سخت اور تیز آواز میں پوچھا۔۔
اصل وجہ یہ تھی کے فیضان جوان ہے۔۔۔
وہ زیادہ تر گھر پہ ہی ہوتا ہے
بھاٸی کامران بھی بھلے شادی شدہ ہیں لیکن ہیں تو مرد ہی اِس لٸے میں یہ رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
پھر ممانی کی سوچ کے مطابق چلنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔۔
کل کو اگر کوٸی اونچ نیچ ہو جاتی بھلے غلطی لڑکوں کی بھی ہوتی لیکن پھر بھی ممانی ساری الا بلابر گردن ملا والا سین کرتیں اور سارا الزام سدرہ پے ڈال دیا جاتا ۔۔۔
وہ سدرہ کو ہی برا بھلا کہتی کے وہ ہی ایسی ہے میرے بیٹے تو معصوم ہیں۔۔۔
ماموں یہ انسانی فطرت ہے جو کمزور اور لاوارث ہو تا ہے سب اسے ہی دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
اور اگر سدرہ کے ساتھ آپ کے گھر میں ایسا کچھ ہوتا تو آپ کا میرا تعلق خراب ہو جاتا۔۔۔
میں نے اپنی بات مکمل کر کے ماموں کی طرف دیکھا جو کسی گہری سوچ میں کھوٸے تھے۔۔
مصطفی ضروری نہیں یہ سب کچھ ہوتا اور اگر ایسا ہوتا بھی تو تمہارا میرا تعلق کیوں خراب ہوتا ماموں نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔
آپ کا میرا تعلق اس لٸے خراب ہوتا کہ فیضان آپ کا بیٹا اُس کی حرکتوں کا آپ کو بھی اچھے سے پتہ ہے ممانی کےلاڈ نے اُسے اور سر چڑھا رکھا ہے۔۔۔۔
ظاہری سی بات ہے اگر سدرہ آپ کے گھر میں رکتی تو سب کو کسی نہ کسی طرح اُس کے ماضی کا پتہ چل جاتا۔۔۔۔
اور فیضان سدرہ کو بے سہارا سمجھ کے لازمی اُس پہ ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔
اور مجھے پورا یقین تھا کہ سدرہ سخت رد عمل دیتی کیونکہ وہ اِس چیز سے نکلنا چاہتی تھی اور فیضان کی ایسی حرکت مجھے بتاتی بات بڑھ جاتی تو بیچ میں ممانی بھی آتی۔۔۔
ممانی فیضان کی فیور کرتی کیونکہ وہ بیٹا تھا اُن کا۔۔۔۔
اور مجبورًا ممانی کی وجہ سے آپ کو بھی فیضان کی فیور کرنی پڑتی۔۔۔۔۔۔
اور آپ مجھے بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میری سگی ماں تھیں وہ بھی جب انصاف سے ہٹ کے بات کرتی تھیں تو میں ان کی بھی بھرپور مخالفت کرتا تھا۔۔۔۔
اس لٸے آپ کا میرا تعلق آپ کے بیٹے اور آپ کی واٸف کی وجہ سے خراب ہو جاتا کیونکہ کہ میں سدرہ کے لٸے ہر صورت سٹینڈ لیتا اُسے کبھی تنہا نا چھوڑتا۔۔۔
بس اِس وجہ سے یہ سب کچھ چھپانا پڑا اور سدرہ کو الگ رکھنا پڑا۔۔۔۔
شاہ یار تجھے میرا بیٹا ہونا چاہیٸے تھا مجھے فخر ہے تجھ پہ اور میں تیرے فیصلے سے ایگری ہوں اور سدرہ کو اپنی بیٹی مان کے جو ہو سکا اُس کے لٸے کروں گا۔۔😢😢😢
ماموں نے نم آنکھوں اور محبت سے ہاتھ میری طرف بڑھایا۔۔۔
جسے میں نے محبت سے تھام لیا۔۔۔
ماموں ایک منٹ باس کی کال آ رہی ہے میں نے باس کو ساری تفصیل بتاٸی اور ریکویسٹ کی کے جب تک سدرہ ٹھیک نہیں ہو جاتی۔۔۔
میں آفس نہیں آ سکوں گا باس نے مجھے اپنے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرواٸی اور مریض کا نام اور وارڈ پوچھ کے کال بند کر دی۔۔۔
اب ماموں بہت خوش تھے اور مجھ سے بہت محبت سے بات کر رہے تھے۔۔۔
اچانک ماموں نے پوچھا شاہ صاحب اس بات کا منیبہ کو پتہ ہے۔۔۔
اِس سے پہلے کے میں کوٸی جواب دیتا نرس نے آواز دی آپ میں سے مصطفی کون ہے۔۔۔
جی میں ہوں میں نے اٹھتے ہوٸے جواب دیا۔
آپ کو ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں اپنے روم میں آٸیں میں آپ کو گاٸیڈ کر دوں۔۔۔
میں ماموں کو بتا کے نرس کے ساتھ چلا گیا۔
ڈاکٹر کے روم میں داخل ہوا تو وہ سدرہ کی سی ٹی سکین دیکھ رہے تھے۔
آٸیے آٸیے مسٹر مصطفی بیٹھیں آپ۔۔۔
مسٹر شاہ سی ٹی سکین کی رپورٹ میں نے چیک کر لی ہے
آپ کے پیشنٹ کو برین ٹیومر ہے لاسٹ سٹیج پہ
ڈاکٹر نے یہ کہتے ہوٸے نظریں جھکا لی۔۔۔
ڈاکٹر کے یہ الفاظ مجھ پہ کسی نیو کلیٸر بم کی طرح گرے دل دماغ سن ہو گیا بولنے کی صلاحیت ختم ہو گٸی میں خالی خالی نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا۔
مسٹر شاہ آپ میری بات کو سمجھ رہے ہیں نا ہم مزید کنفرم کرنے کے لٸے آج ہی آپ کے پیشنٹ کا ایم آر آٸی بھی کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر نے دوبارہ سوال کیا۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا سر پلیز کچھ کریں اُس نے کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا۔۔
بلکہ اُسے زندگی نے بہت دکھ دیٸے ہیں بہت ستایا ہے اُسے ابھی تو کچھ دن پہلے ہی سکھ کی طرف اُس نے قدم بڑھاٸے ہیں۔۔۔۔
پلیز سر آپ پیسوں کی پرواہ مت کریں ہم سے جو بھی بن سکا ہم کریں گے۔۔
پلیز میں اب بچوں کی طرح ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ رہا تھا
مسٹر شاہ آپ نے بہت دیر کردی آپ کا مریض سخت ذہنی تکلیف میں رہا ہے
لگتا ہے آپ کے مریض نے ڈپریشن اور سٹریس سے بچنے کے لٸے بہت ہیوی میڈیسن یوز کی ہیں جن کی وجہ سے برین ٹیومر جیسی مہلک بیماری نے جنم لیا۔۔۔
اب ان کی برین وینز میں بلڈ کلوٹنگ سٹارٹ ہو گٸی اُن کے دماغ نے ضرورت سے زیادہ خلیات پیدا کر دیٸے تھے
اور مردہ خلیات ریموو نہیں ہو سکے تھے اگر آپ چھے سات ماہ پہلے آ جاتے تو ہم کچھ کر سکتے تھے
آپ کا مریض زندہ ہے یہ بھی مجھے ایک معجزہ لگ رہا ہے
سر اُس کو ہوش کب آٸے گا؟
ہم نے ٹریٹمنٹ شروع کر دی ہے مجھے امید ہے کل تک ہوش آ جاٸے گا۔۔۔
ڈاکٹر نے مجھے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا سر اس کی کوٸی تفصیل بتاٸیں اور پلیز کوٸی بھی اچھا ہاسپٹل ہے تو اِس حوالے سے تو ہمیں وہاں ریفر کریں میں نے نم آنکھوں سے ڈاکٹر سے التجا کی۔۔۔
مسٹر شاہ برین ٹیومر دماغ میں پائی جانے والی خلیات کی غیر معمولی یا بے قابو اضافہ کے ذریعے ہوتا ہے ۔
صحت مند انسانی جسم میں عام خلیات کے بوُڑھے ہونے یا ختم ہو جانے پر نئی خلیات اُن کا مقام حاصل کر لیتی ہیں
اِس عمل میں کبھی کبھی گڑبڑی ہو جاتی ہے اَور جسم میں غیر ضروری نئی خلیات پیدا ہو جاتی ہیں ،
جبکہ جسم کو اُن غیر ضروری نئی خلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے یہ پُرانی اَور قریب المرگ خلیات خود ختم نہیں ہوتی ہیں
جبکہ اُن کو خود ختم ہو جانا چاہئے اکثر اِن فاضل خلیوں کی تعمیر یا بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹِشوز کی ترقی کو ہی ٹیومر کہا جاتا ہے
خصوصاً ٹیومر دو قسم کے ہوتے ہیں جِن کو خير انديش ٹیومر بے ضرر اَور تشدد آمیز کینسر ٹیومر کہا جاتا ہے ۔
برین ٹیومر ایک مہلک بیماری ہے حالانکہ اِس بیماری کو مختلف اقدامات کے ذریعے علاج کیا جا سکتا ہے
لیکِن سب سے زیادہ مریضوں کی نو سے بارہ مہینے کی مہلت تَک موت ہو جاتی ہے اَور تین فیصد سے کم مریض تین سال تَک زندہ رہتے ہیں
مہلک ٹیومر کینسر ٹیومر کو ابتدائی برین ٹیومر اَور ثانوی برین ٹیومر دو حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے ۔
ابتدائی برین ٹیومر دماغ کے اندر شروع ہوتا ہے ۔
ثانوی برین ٹیومر کہِیں سے بھی پَیدا ہو سکتا ہے ، لیکِن یہ پُورے جسم میں پھَیل جاتا ہے ۔ اِس ٹیومر کو میٹاسٹیسِس ٹیومر کے طور پر جانا جاتا ہے
ابتدائی برین ٹیومر کئی قسم کا ہوتا ہے اس طرح کے ٹیومر کو ٹیومر کے قسم یا دماغ کے حصے میں پائے جانے والے یا شروع ہونے والے مقام کے نام کے مُطابق جانا جاتا ہے
مثال کے لئے اَگر برین ٹیومر گلائل خلیات میں شروع ہوتا ہے تو اِس کو گلِیوما لاصقی سلعہ کہا جاتا ہے
اس طرح دوسری طرح کے ٹیومر دماغ کے حصوں میں پَیدا ہونے کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں۔۔
اب ہم اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ آیا آپ کے مریض کی سرجری کی جاٸے یا نہ۔۔۔
اور مسٹر شاہ آپ ملک ابرار صاحب کے ادراے کے ایک قابل ایمپلاٸی ہیں انہوں نے خود مجھے ابھی کال کر کے خصوصی طور پہ کہا ہے کہ آپ کے پیشنٹ کو ہر طرح کی سہولت دی جاٸے
اور میں آپ کو کہیں بھی ریفر ہونے کی صلاح نہیں دوں گا آپ کے مریض کے پاس وقت کم ہے خدا کا شکر ادا کریں وہ زندہ ہے اُس کے ساتھ ٹاٸم سپنڈ کریں فیملی ممبرز
ڈاکٹر نے مجھے پوری تفصیل سے آگاہ کیا اور میرے دل کی حالت بس اللہ ہی جانتا تھا۔۔۔۔
میری آنکھوں کے سامنے بار بار سدرہ کا معصوم چہرہ آ رہا تھا اب آنسو واضح طور پہ میرے چہرے کو بھگو رہے
سر کتنا ٹاٸم ہے اُن کے پاس میں نے دل پہ جبر کر کے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔
مسٹر شاہ ایک ماہ سے تین ماہ۔۔
اب میں ڈاکٹر کے سامنے اور رکتا تو شاید وہیں صبر ختم ہو جاتا اور میں ٹوٹ جاتا اِس لٸے ڈاکٹر سے اجازت لے کے میں باہر آ گیا۔۔
مجھ میں ہمت نہیں تھی سدرہ کا سامنا کرنے کی مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنا تھا۔۔۔
اور پھر میں نے ایک مضبوط ارادے کےساتھ اپنے قدم نیورولوجیکل وارڈ کی طرف بڑھا دیٸے۔۔۔
کیونکہ مجھے اپنی اِس پیاری دوست کے لٸے ابھی بہت کچھ کرنا تھا اور اس کے ساتھ اب ایک ایک پل ہنسا کے گزارنا تھا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: