Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 4

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 4

–**–**–

سدرہ نے وعدہ لینے کے بعد اپنے بیگ سے دس ہزار روپے نکال کے میری طرف بڑھاٸے۔
یہ کیا ہے میری آواز میں نا چاہنے کے باوجود سختی آ گٸی
شاہ سر آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کہ آپ بنا کوٸی سوال کیٸے لے لیں گے۔۔۔
سدرہ نے شکوہ کیا
اچھا دو میں نے نرم پڑتے ہوٸے کہا لیکن یہ پیسے کدھر سے آٸے یہ میں ضرور جاننا چاہوں گا۔۔
سر یہ جاننا آپ کا حق ہے یہ پیسے ٹیوشن والے بچوں کے ہیں ایک ماہ کے ایڈوانس کل پندرہ ہزار ملے تھے پانچ ہزار بھابھی کو دے دیٸے۔۔۔
سدرہ نے پوری تفصیل بتا دی۔۔
اوہ میں نے خود کو ریلیکس فیل کیا ورنہ ایک پل کو تو دماغ ہل گیا تھا۔۔۔
اچھا تو رکھ لو نا میں کیا کروں گا اِن کا
میں نے پیسے واپس سدرہ کی طرف بڑھاتے ہوٸے کہا۔۔
نہیں سر مجھے جو بھی چاہیٸے ہو گا آپ لے کے دیں گے۔
سیم میرے پاپا کی طرح میں آپ سے مانگ کے لوں گی ۔
پاپا کے زکر پہ سدرہ کا چہرہ بجھ سا گیا اور اُس کی آنکھوں میں نمی اتر آٸی۔۔
سدرہ کی اس خواہش کو دیکھتے ہوٸے میں نے پیسے پاکٹ میں رکھ لٸے چلو ریڈی ہو جاٶ ڈنر پہ چلتے ہیں۔۔۔
او کے سر بس پانچ منٹ
یہ کہتے ہوٸے سدرہ باہر چلی گٸی۔۔۔
سب سے پہلے ہم لوگ طارق روڈ گٸے جہاں سے سدرہ نے ایک عبایا لیا اُس کے بعد میرے فیورٹ ریسٹورنٹ لال قلعہ میں ڈنر کیا۔۔۔۔
واپس سدرہ کو گھر ڈروپ کر کے میں ماموں کی طرف چلا گیا۔۔۔
سدرہ کو خادم حسین کے گھر میں رہتے ہوٸے یہ دوسرا مہینہ تھا اور اِسی دوران اس کے پاس سٹوڈنٹ کی تعداد بیس باٸیس کے قریب ہو گٸی تھی۔۔
صبح میں آفس پہنچا تو خادم حسین نے سلام کے بعد کہا
صاحب جی آپ کو بی بی جی نے شام کو بلایا ہے
اچانک میرے قدم رک گٸے خریت تو ہے نا خادم کوٸی مسلہ تو نہیں۔۔
نہیں صاحب جی صبح آپ کی بھابھی نے کہا تھا کہ بھاٸی کو کہنا کے شام کو گھر آٸیں۔
او کے ٹھیک ہے آٶں گا شام کو یہ کہتے ہوٸے میں اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
اگلے دو دن آفس کی مصروفیات میں سے جانے کا وقت ہی نہ ملا اور یہی سوچا کہ سنڈے کو جاٶں گا۔۔۔
سنڈے کی صبح ناشتے سے فارغ ہو کے باٸک نکالی اور خادم حسین کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔
خادم حسین اور بھابھی سے سلام دعا کر کے اوپر آیا تو سدرہ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کے کنگھی کر رہی تھی۔۔
پہلے دن جب وہ میٹروول روڈ پہ مجھے ملی تھی
اُس دن کے بعد میں آج اسے بنا دوپٹے کے دیکھ رہا تھا
اور ایسا لگتا رہا تھا کہ دل ابھی سینے سے باہر نکل آٸے گا۔
کافی توجہ سے مالک نے بنایا تھا اُسے دراز قد لمبے سیاہ بال جو پوری طرح کمر کو چھپاتے کمر سے بھی نیچے آ رہے تھے
اِس سے پہلے کے دماغ اور دل اور بھٹکتے مجھے سدرہ کو مخاطب کرنا پڑا کیونکہ اب میری دل پہ گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی۔۔۔
کوٸی ہے گھر میں
میں نے زرہ اونچی آواز میں کہا۔
سدرہ نے بنا جواب دیٸے جلدی سے دوپٹہ اوڑھا اور سلام کیا۔۔
وعلیکم سلام کیسی ہیں مس ٹیچر کچھ ہمیں بھی پڑھا دیں میں نے سدرہ کے چہرے پہ نظر جماتے ہوٸے کہا۔۔
سوری سر آپ کو نہیں پڑھا سکتے ہم کیونکہ آپ ہماری فیس نہیں دے سکیں گے۔۔
ہاں یہ تو ہے آپ کی فیس تو ہم نہیں دے سکتے اچھا آپ نے بلوایا تھا سوری وقت نہیں ملا مجھے دو دن اس لٸے آج آیا ہوں
جی سر ایک منٹ آٸی میں یہ کہ سدرہ اندر چلی گٸی اور کچھ دیر بعد ہزار ہزار کے کافی نوٹ میری جانب بڑھا دیٸے اور مجھے وعدے کے مطابق لینے پڑھے۔۔۔
ہم لوگ باہر ہی دھوپ میں رکھی چیٸر پہ بیٹھے تھے
اچھا تو یہ کام تھا اس لٸے بلوایا تھا میں نے خفگی سے کہا۔
۔
نہیں سر ایک اور کام تھا مجھے کوٸی بڑا گھر لے دیں
کیوں اِس گھر کو کیا ہے کوٸی وجہ کوٸی مسلہ ہے تو بتاٶ
نہیں سر کوٸی مسلہ نہیں بچے زیادہ ہیں اور جگہ کم سدرہ نے وضاحت کی۔۔۔
اوووو یہ تو ہے اچھا کرتے ہیں کچھ تم نے سٹڈی کہاں تک کی ہے کوٸی اچھی جاب اپلاٸی کر لو
نہیں سر مجھے گھر سے باہر جانا ہی نہیں اور پھر سارہ خرچہ تو آپ دیتے ہیں مجھے کیا ضرورت ہے جاب کی۔۔
حالانکہ یہ جھوٹ تھا کہ اسے خرچہ میں دے رہا تھا میں نے اُس پہ پہلے چار پانچ دن میں کوٸی اٹھارہ ہزار خرچ کٸے تھے
لیکن اُس کے بدلے وہ اب تک مجھے چالیس ہزار کے قریب دے چکی تھی
جس میں سے اگر میں اٹھارہ ہزار نکالتا اور باقی دو ماہ کے رینٹ اور کھانے کے پیسے جو خادم حسین کو دیٸے تھے وہ نکالتا تو بھی اُس کا میری طرف دو ہزار بچ جاتا تھا۔۔۔
شاہ سر کیا سوچ رہے ہیں سدرہ نے مجھے خیالوں میں کھویا دیکھ کے پوچھا
تم نے سٹڈی کا نہیں بتایا مجھے
میں نے گھور کے دیکھا
سر جب آپ گھورتے ہیں تو بہت اچھے لگتے ہیں اور سر
سدرہ کچھ کہتے کہتے رک گٸی۔۔
اور کیا میڈم جی
کچھ نہیں سر
بتاٶ اور کیا سر ورنہ میں ناراض۔۔
میں نے دھمکی دی جو فورن کام کر گٸی۔
سر پلیز ناراض کبھی نا ہونا آپ
اب آپ کے علاوہ میری لاٸف میں کچھ نہیں ہے
سدرہ کے چہرے پہ ہواٸیاں اڑنے لگی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا ری ایکشن ایسا ہو گا
ارے ارے مزاق کر رہا تھا اچھا بتاٶ کیا سوچ رہی تھی۔۔
شاہ سر آپ کی آنکھیں بہت پیاری ہیں ماشاءاللہ میں نے اتنی پیاری آنکھیں آج تک نہیں دیکھی اور آپ کی آنکھوں میں جو حیا ہے نا وہ انہیں مزید بلند کرتی ہیں
سدرہ ایک وجت کی صورت میں بولے جا رہی تھی اور اسے روکنا بہت ضروری تھا۔۔۔
اچھا اگر تعریف ہو گٸی ہو تو آنکھوں کی
تو یہ بتاٶ کہ سٹڈی کہا تک کی میں نے مصنوٸی غصہ دکھایا۔۔
اچھا نا سر بتاتی ہوں سدرہ نے مسکراتے ہوٸے جواب دیا
ہاں بتاٶ جلدی۔۔
شاہ سر میں بی ایس آٸی اور ایم ایس کی سٹوڈنٹ تھی
پی ایچ ڈی کا ادارہ تھا لیکن بدقسمتی سے سب پہلے ہی ختم ہو گیا۔۔۔
اب سدرہ کے چہرے پہ واضع کرب تھا
اِس لٸے میں نے وجہ جاننے کے بجاٸے کہ ایسا کیا ہوا تھا سدرہ کو سٹڈی چھوڑنی پڑی۔۔
میں چپ ہو گیا۔۔۔
سر بی ایس آٸی ٹی کیا اِس کے بعد ایم ایس کیا آگے پی ایچ ڈی میں ایڈمیشن لینے کا ارادہ تھا جو کے ادھورا رہ گیا۔۔۔۔
اف خدا یہ لڑکی بی ایس آٸی اور ایم ایس کی سٹوڈنٹ ہو کے ایسے گندے کام میں پڑ گٸی دل اور دماغ پھٹنے لگا۔۔۔
اور میں مضبوظ ترین اعصاب رکھنے کے باوجود اس وقت بلکل خود کو انتہاٸی بکھرا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
سدرہ پانی لا کے دو ایک گلاس…
وہ اٹھی اور پانی لینے چلی گٸی۔۔
کیا ہوا سر طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی سدرہ نے پانی کا گلاس مجھے پکڑاتے ہوٸے پوچھا۔۔
ہاں ٹھیک ہوں اب۔۔
اچھا مسلہ یہ کہ میں نہیں چاہتا کہ تم اکیلی رہو اس لٸے کوٸی ایسا گھر ہو جو خادم کے گھر کے پاس ہو تانکہ تم پڑھا کے واپس آ جاٶ
پھر ہو بھی اسی ایریا میں کیونکہ تمہارےسٹوڈنٹ اسی ایریا کے ہیں ۔۔۔
جی سر ایسا ہی ہے اور یہی سوچ کے میں پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔
تم پریشان نا ہو کرتے ہیں کچھ۔
اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور خادم سے اس مسلے پہ بات کر کے وہی سے چلا جاٶں گا
ٹھیک ہے سر
او کے پھر اللہ حافظ میں نے اٹھتے ہوٸے کہا سدرہ مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آٸی۔۔۔
نیچے آ کے خادم سے اس معاملے پہ بات کی تو اس نے اور بھابھی نے یہ کام اپنے زمہ لے لیا کہ ہم بہت جلد تلاش کر دیں ۔۔۔۔
اگلا پورا ویک بہت مصروف گزرا اور ماموں کی طبیعت کی خرابی کے باعث میں سدرہ کی طرف نہ جا سکا۔۔۔
ایک دو بار بھابھی کے نمبر سے سر سری بات ہوٸی۔۔۔
منڈے کو آفس کا پہلا دن تھا اور جاتے ہی مجھے خادم نے اطلاح دی کہ صاحب جی گھر کا انتظام ہو گیا ہے
ارے واہ کہاں پہ ہوا میں نے خوش ہوتے ہوٸے پوچھا۔۔۔
صاحب جی اُدھر ہمارے گھر کے سامنے ہی
اچھا تم لنچ ٹاٸم کو اندر آ جانا بلکہ رہنے دو شام کو میں گھر آٶں گا یہ کہتا ہوا میں اندر چلا گیا۔۔۔
شام کو جب میں کچی آبادی خادم کے گھر پہنچا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے خادم سے پوچھا کہ کون سی جگہ ہے چلو دیکھ لیں ۔۔
صاحب جی گھر نہیں ہے بس ایک ہال ہے لیکن بی بی نے کہا ہے ٹھیک ہے خادم نے وضاحت کی۔
سدرہ گٸی تھی دیکھنے
جی صاحب بیگم کے ساتھ گٸیں تھی۔۔
تبھی بھابھی پکوڑے اور چاٸے لے کے آ گٸیں
بھاٸی یہ جو سامنے میمن ہیں نا جن کی دو بچیاں آتی ہیں ان کا ہال ہے اور ان بچیوں نے ہی ضد کی ہے کہ یہ ٹھیک ہے
پھر سدرہ بی بی نے بھی دیکھا بھابھی نے پوری تفصیل سے آگاہ کیا۔۔۔
خادم اور میں چاٸے کے بعد حال دیکھنے چلے گٸے
حال کیا تھا تیرہ باٸے پچیس کی ایک شاپ نماں دوکان تھی جگہ معقول تھی پچاس سٹوڈنٹ بڑے ایزی پڑھ سکتے تھے ۔۔
مالک کو بلاٶں خادم حسین
جی صاحب جی وہ چل نہیں سکتے ڈراٸنگ روم میں ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔
او کے چلو پھر بات کرتے ہیں ۔
ڈراٸنگ روم میں ایک پنتالیس پچاس سال کا اڈھیر عمر شخص صوفہ پر لیٹا ہوا تھا۔
خادم نے سہارا دے کے اسے اٹھایا تو میں نے آگے بڑھ کے ہاتھ ملایا۔۔۔
معزرت شاہ جی میں اٹھ کے نہیں آ سکا کیونکہ میری ریڈھ کی ہڈی میں کچھ تکلیف تھی۔۔۔
مالک دوکان نے معزرت کی۔۔
کوٸی بات نہیں جناب ہم جو آ گٸے ہیں میں نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
سلام دعا کے بعد خادم نے تعارف کروایا راشد صاحب یہ مصطفی صاحب ہیں
اور صاحب جی یہ راشد صاحب ہیں ان کی دو بیٹیاں پڑھتی ہیں بی بی جی کے پاس۔۔۔
راشد صاحب کتنا رینٹ لیں گے آپ اُس حال کا میں نے ٹاٸم ویسٹ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
شاہ صاحب ہماری چار بچیاں پڑھتی ہیں
ویسے بھی وہ ہال کافی ٹاٸم سے خالی پڑا ہوا تھا اس لٸے چھوڑیں کرایہ کو۔۔۔
آپ اللہ کا نام لے کے استمال کریں۔
راشد صاحب اللہ آپ کو خوش رکھے لیکن یہ ضروری ہے کیونکہ یہ دو چار دن کا کام نہیں اِس لٸے آپ بھلے کم لے لیں مگر لیں ضرور میں نے سنجیدگی سے جواب دیا
ٹھیک ہے شاہ صاحب آپ لوگ آٹھ ہزار دے دینا مہینے کا جس میں بل بھی شامل ہو گا۔۔۔۔
کرایہ راشد صاحب نے معقول مانگا تھا اس لٸے بات ڈن ہو گٸی
خادم حسین آپ اِن کو جو بھی گارنٹی چاہیٸے ہو دے دینا۔
یہ کہتے ہوٸے میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔
دوسرے دن میں نے آفس سے چھٹی لی اور ہال میں پینٹ وغیرہ لاٸٹ کا کام کروایا۔۔۔
ہال کو شٹر کے علاوہ شیشے کا دروازہ بھی لگا ہوا تھا جس کے اندر کی ساٸڈ پہ میں نے پردہ لگوا دیا
اور تہ یہ پایا کہ صبح آفس جاتے ہوٸے خادم شٹر کھول کے جایا کرے گا اور رات کو آ آفس سے آ کے بند کرے گا سدرہ کو بھابھی چھوڑنے جاٸے گی۔۔۔
اب سب سے مین مسلہ تھا چیٸرز کا جو سٹوڈنٹ کے لٸے چاہیٸے تھی۔
جن کا پتہ دو تین جگہ سے کیا تو معلوم ہوا آرڈر دینا پڑے گا اور تین چار دن بعد ملیں گی۔۔۔
لیکن یہ مسلہ بھی راشد صاحب مالک دوکان نے حل کر دیا اُن کا کوٸی ہوٹل تھا جس کے لٸے انہوں نیو چیٸرز اور ٹیبل خریدے تھے اس لٸے وہ ہمیں بڑی مناسب قیمت پہ مل گٸے اور راشد صاحب نے کہا کہ وہ اِن چیٸرز اور ٹیبل کے پیسے بچیوں کی ٹیوشن فیس سے کاٹ لیں گے۔۔۔
اگلے تین چار دن میں میری اچھی خاصی ڈوڑ لگی رہی
آفس سے آ کے نو دس بجے تک کام کرواتا رہتا پھر چیٸر اور ٹیبل شفٹ کرواٸے اس کی صفاٸی وغیرہ کرواٸی۔
اللہ کا شکر ہے تین چار دن کی محنت کے بعد ہال کا کام پورا ہو گیا اور ہال اب پوری طرح ریڈی تھا سٹوڈنٹ کے لٸے۔۔۔
رات کو جب میں گھر لوٹ رہا تھا تو گنجے پاپی میرا مطلب ہے باس کی کال آ گٸی۔۔۔۔
السلام علیکم سر
وعیلکم سلام شاہ صاحب
شاہ صاحب پچھلے ہفتے خالد صاحب کو دو پینا فلیکس بنوانے کا کہا تھا۔۔۔
ادارے کی پبلسٹی کے لٸے لیکن خالد صاحب کے بھاٸی کی ڈیٹھ کی وجہ سے وہ تین دن سے آفس نہیں آ رہے
ابھی ملک صاحب کی کال آٸی ہے کہ صبح وہ فلیکس ہر صورت لگواٸیں اِس لٸے پلیز آپ خالد صاحب سے رابطہ کریں
اور اُس فلیکس والے کا نمبر وغیرہ لے کے پتہ کریں کہ فلیکس بن گٸی یا نہیں۔۔
او کے سر میں پتہ کرتا ہوں
الله حافظ شاہ صاحب
الو کا پٹھہ منہوس اس شخص سے خیر کی امید نہیں اب یہ فلیکس والا کام ہی کرنے کے لٸے ہی رہ گٸے ہیں ہم
میں نے باس کی شان میں کچھ مزید کلمات ادا کیٸے جو قابل تحریر نہیں ۔۔۔
اور خالد کو کال ملا دی کال دوسری ہی رنگ پہ پک کر لی گٸی۔۔
السلام علیکم مصطفی بھاٸی
وعلیکم سلام خالد بھاٸی کیسے ہیں
جی شکر ہے اس پاک زات کا۔۔
خالد بھاٸی شیخ صاحب نے کوٸی فلیکس کہے تھے آپ کو اس شاپ کا نمبر اور نام بتا دیں ۔۔۔
جی مصطفی بھاٸی بتاتا ہوں ہولڈ کریں
کچھ دیر بعد خالد نے شاپ کا نام نمبر اور ایڈریس لکھوا دیا۔۔۔۔
میں اس وقت لیموں گوٹھ میں تھا اور آفس کے بعد ہال کی بھی مکمل سیٹنک کرواٸی تھی اس لٸے تھکاوٹ سے برا حال تھا۔۔۔
لیکن پھر بھی فلیکس کا تو پتہ لازمی کرنا تھا اِس لٸے ٹاٸم ویسٹ کیٸے بنا میں نے گاڑی موتی محل کی طرو موڑ دی
فلیکس ریڈی تھی اس لٸے زیادہ وقت نہیں لگا بل دیا اور فلیکس لڑکے نے گاڑی میں رکھوا دیٸے۔۔
شاپ مالک سے اللہ حافظ کر کے گاڑی کے پاس آیا تو اچانک دماغ میں خیال آیا کیوں نہ سدرہ کے ٹیوشن سنٹر کے لٸے بھی ایک فلیس بنوا لی جاٸے۔۔۔
یہ سوچتے ہوٸے میں واپس مڑا اور دوکان مالک سے فلیکس کی بات کی ۔۔۔
ساٸز بتایا اور بات ڈن کر دی اور اسے کہا کہ سنڈے کو چاہیٸے۔
مالک نے مجھے گاٸڈ کرتے ہوٸے ڈیزاٸنر لڑکے کے پاس بھیج دیا۔
کیا لکھنا ہے سر ڈیزاٸنر لڑکے نے مجھ سے پوچھا
بس لکھ دو کے ایف ایس سی ایف اے اور میٹرک کے سٹوڈنٹ کی معیاری ٹیوشن کے لٸے رابطہ کریں
نیز اونلی فار گرل لکھ دو اور اپنے حساب سے بنا لو ۔
سر ٹیوشن سنٹر کا نام کیا رکھنا ہے۔۔۔
نام آپ یہ مکمل کرو نام صبح لکھوا دوں گا
او کے ٹھیک ہے سر۔۔۔۔۔
میں چاہتا تھا نام سدرہ سے پوچھ کے لکھواٶں۔۔۔۔

صبح اٹھا تو تھکاوٹ کی وجہ سے پورا جسم درد کر رہا تھا
اور اِس جسم درد کی وجہ پچھلے تین چار دن لگاتار کام کر تھا۔۔۔
کیونکہ میں تین چار دن سے آفس سے آ کے رات دس بجے تک بزی رہتا رہتا تھا۔۔۔
سدرہ کے ٹیوشن سینٹر کی سیٹنگ کے لٸے۔۔۔
اس دوران میں خود بھی ساتھ ساتھ کام کرواتا رہتا تھا
جس کی وجہ سے تھکاوٹ بہت زیادہ تھی اور اِسی وجہ سے اب جسم درد کر رہا تھا۔۔
میں نے کچن میں آ کے دودھ چولہے پہ رکھا اور لاٸٹر سے چولہا جلا کے خود فرج سے دو انڈے نکال کے پھینٹے لگا
دودھ کو جب ابال آیا تو اس میں پھینٹے ہوٸے انڈے ڈال کے ایک مزید ابال آنے دیا اور پھر اتار کے دودھ کپ میں ڈال کے روم میں آ گیا۔۔۔
گیارہ بجے میں ایک کلاٸنٹ کو میل کر کے فری ہوا ہی تھا کہ سیل کی واٸبریشن نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا دیکھا تو سکرین پہ نیو نمبر آ رہا تھا۔۔۔
دو بیل کے بعد کال پک کی تو دوسری طرف سے سلام کہا گیا اور کال والے نے اپنا تعارف پینا فلیکس کے مالک کے طور پہ کروایا
اور پوچھا کہ سر ٹیوشن سنٹر پہ کیا نام لکھنا ہے میں نے دس منٹ بعد بتانے کا کہ کر کال کر بند کر دی۔۔
میں نے بھابھی کا نمبر ڈاٸل کر کے سم ون سے او کے کر دیا۔۔۔۔
کال آخری رنگ پہ پک کر لی گٸی اور ساتھ ہی بھابھی کی آواز سناٸی دی بھاٸی ایک منٹ ہولڈ کریں میں ہاتھ صاف کر لوں۔۔
اسلام علیکم بھاٸی سوری میں برتن دھو رہی تھی ہاتھ گیلے تھے اس لٸے ہولڈ کروایا۔۔۔
وعلیکم اسلام سدرہ سے بات کروا دیں ۔۔۔
جی ابھی کرواتی ہوں
سدرہ سے سلام کے بعد میں نے پوچھا کہ تمہارے پاپا کا نام کیا ہے
سر خیریت ہے اچانک سے پاپا کے نام کا کیا کرنا ہے
میرا خیال تھا کہ وہ بنا ریزن جانے بتا دے گی
کچھ نہیں کرنا ویسے پوچھا ہے اگر کوٸی اعتراض ہے تو مت بتاٶ میری آواز میں سختی آ گٸی اور دماغ سوچ میں پڑ گیا کہ کہیں یہ سب ڈرامہ تو نہیں کر رہی۔
نہیں سر ایسا نہیں ویسے ہی پوچھا میرے پاپا کا نام محمد ولایت ہے
شکریہ اور منڈے کو تم اپنے سٹوڈنٹ کو اپنے ٹیوشن سنٹر میں پڑھا سکتی ہو ریڈی ہے
سر میں آپ کو شکریہ نہیں کہوں گی۔
ہاہاہاہا مت کہو شکریہ چاہیٸے کس کو میں نے ہنستے ہوٸے جواب دیا۔
سر پتہ ہے وجہ کیا آپ کے پاس مجھے دو مہینے ہو گٸے ان دو ماہ میں آپ نے کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں کسی غیر مرد کے ساتھ ہوں۔۔۔
نہ آپ نے مجھ پہ کیٸے احسانوں کے بدلے کچھ ڈیمانڈ کیا اس لٸے سر میں چاہتی ہوں۔۔
کہ شکریہ جیسا چھوٹا لفظ بول کر آپ کی طرف سے دی گٸی عزت کا مزاق نہ اڑاٶں اور میں ہمیشہ آپ کی قرض دار رہنا چاہتی ہوں۔۔۔
ہاہاہاہاہا اتنی گہری باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی اور میں کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں
کہ تم اپنا خرچ خود اٹھا رہی ہو بلکہ تمہاری ٹیوشن فیس کے پیسے تمہاری رہاٸش اور کھانے کے پیسے دینے کے بعد بھی بچ جاتے ہیں
اس لٸے اِس احساس سے نکل آٶ کے میں تمہیں خرچہ دے رہا ہوں۔۔۔۔۔
سر مجھے اِسی احساس میں رہنا ہے ساری عمر کیونکہ جس راہ پہ آپ مجھے لے آٸے اس پہ لانے کے لٸے کوٸی بھی رسک نہیں لیتا نہ اپنی عزت کوٸی داٶ پہ لگاتا ہے
کافی بار کٸیں مرد مجھ سے اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد جو پیسے طے ہوتے تھے
اُس سے بہت زیادہ دے جاتے تھے ایک بار ایک مرد اتنا خوش ہوا میرے ساتھ کے پچاس ہزار دے گیا کہ یہ کام چھوڑ دو یہ میرا نمبر ہے
جب بھی ضرورت ہو کال کرنا اور پیسے لے لینا بس کبھی کبھار ملنے آٶں گا تمہیں۔۔۔
لیکن سر صرف پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا پیسے کچھ ماہ میں لگ جاتے ہیں۔۔
اصل چیز ہوتی ہے سر پرستی جس میں انسان کو تحفظ محسوس ہوتا ہے
مجھے تحفظ دینےوالا کوٸی نہیں ملا تھا
اس معاشرے میں بنا مرد کے سہارے والی عورت راستے میں لگے بل بورڈ کی طرح ہوتی ہے جسے ہر کوٸی دیکھتا ہے
لیکن شاہ سر وہ آپ ہیں جنہوں نے مجھے عزت دی جنہوں نے اپنی عزت داٶ پہ لگاٸی۔۔
اِس بات کی پرواہ کیٸے بنا کہ میں کون ہوں آپ نے عملی طور پہ میرے لٸے کچھ کیا۔۔
سدرہ اب بولے جا رہی تھی اور میں حیران تھا کہ یہ لڑکی انتی گہری سوچ رکھتی ہے۔۔
اور اتنی باریکی بینی سے ہر چیز کا مشاہدہ کرتی ہے اچھا ٹھیک اب مجھے چوڑا مت کرو موٹا ہو جاٶں۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا ہو جاٸیں موٹے سر
اور آپ کی اطلاح کے لٸے عرض ہے کہ موٹے پتلے سے کردار پہ کوٸی فرق نہیں پڑتا۔۔
جس نے اچھے رہنا ہے اس نے موٹے ہو کے بھی اچھا ہی رہنا ہے ۔۔۔
ہاہاہاہا کسی بات میں جیتنے مت دینا مجھے
اور ہاں میری بیوی بہت ظالم اور ڈاکو رانی ٹاٸپ ہے جو مجھے کسی کے ساتھ فری نہیں ہونے دیتی۔۔۔
اِس لٸے تمہارے ساتھ میں ایسے رہتا ہوں شریف شروف بن کے میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔۔
واٶ سر ملواٸیں ہمیں بھی میم سے سدرہ نے خوش ہوتے ہوٸے کہا
نہیں ملوا سکتا ابھی
کیوں سر
کیوں سر کی بچی اِس لٸے کہ ابھی وہ ماٸیکے ہے رخصتی نہیں ہوٸی۔۔۔۔لیکن کچھ ماہ تک ہو جاٸے گی رخصتی تو مل لینا۔۔۔
میں ضرور ملوں گی شاہ سر اُن سے جن کی محبت آپ کو بھٹکنے نہیں دیتی۔۔۔
بے شک اُن محبت اور میری ماں کی تربیت کے سبب ہی یہ ممکن ہوا۔۔۔
سر آپ کی امی کدھر ہیں
اچھا یہ پھر بتاٶں گا میں آفس میں ہوں تو بعد میں بات کروں گا اللہ حافظ
اللہ حافظ سر۔۔
سدرہ کی کال بندہ کر کے میں نے فلیکس والے کو کال کی اور بتایا کہ ولایت ٹیوشن سنٹر نام لکھ دو۔۔۔
سنڈے والے دن ہم نے ایک دیگ بریانی کی منگواٸی اور باقاعدہ سدرہ کے ٹیوشن سنٹر کا افتتاح کر دیا اور آس پاس کے دس بیس لوگوں کو بلا کے دعا میں شامل کیا۔۔۔
سدرہ ٹیوشن سنٹر کا نام اپنے پاپا کے نام پہ دیکھ کچھ پل کے لٸے تو سدرہ بلکل چپ ہو گٸی اور آنسوٶ سے آنکھیں بھر آٸی اُس کی
لیکن پھر میرے سمجھانے پہ چپ ہو گٸی اور میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے بس اتنا کہا کہ پتہ نہیں میری کس نیکی کے بدلے آپ مجھے ملے ہیں شاہ سر۔۔
نیکی کا بدلہ اللہ دیتا ہے انسان کسی نیکی کا بدل نہیں ہو سکتا خیر چلو واپس چلتے ہیں میں اب بہت تھک گیا ہوں واپس جا کے آرام کرنا ہے ۔۔۔
وقت بہت سکون سے گزر رہا تھا اور میں سدرہ کی طرف سے بلکل ریلیکس تھا کیونکہ وہ بہت خوش تھی اور بہت محنت سے بچے کو پڑھا رہی تھی اور اب اُس کے ٹیوشن سنٹر کا ایک نام بن گیا۔۔۔
چھے مہینے میں سدرہ کے پاس بچیوں کی تعداد چالیس سے اوپر ہو گٸی تھی اور اُس کےسارے خرچے نکال کے
اُسے ایک موباٸل لے کے دیا اس کے پیسے بھی نکال کر سدرہ کے اب بھی میرے پاس کوٸی ڈیڑھ لاکھ سے اوپر جمع تھے۔۔۔
اُس دن سنڈے ہم لوگوں نے ساتھ گزارا اور خوب انجوٸے کیا اب وہ مجھ سے کافی فری ہو گٸی تھی
میں نے کافی بار کہا کہ کسی اچھی جگہ تمہاری شادی کر دیتا ہوں لیکن وہ ہر بار ٹال دیتی
اور مجھ پہ زور دیتی کہ آپ رخصتی کر کے منیبہ باجی کو لیں آٸیں میں آپ دونوں کی خدمت کروں گی اور آپ کے بچے سنبھالوں گی😥😥
کبھی کبھی میرا دل بہت شدت سے چاہتا کہ منیبہ کو سدرہ کے بارے میں بتاٶ
لیکن پھر یہ سوچ کے چپ ہو جاتا کہ مونیبہ نہیں سمجھ سکے گی اور سدرہ اور میرے رشتے کو غلط سمجھے گی
اس لٸے رخصتی کے بعد سدرہ سے ملوانے پہ بات چلی آ رہی تھی۔
لیکن میرا اللہ واحد جانتا ہے سدرہ کے
ساتھ گزارے اِن آٹھ مہینوں میں
کبھی بھی میں نے اُسے غلط نظر سے دیکھا تک نہیں تھا ہاں وہ انتہا کی خوبصورت تھی اس کو دیکھ کے کس کا بھی ایمان خطرے میں سکتا تھا۔۔۔
اِن آٹھ مہینوں کی عبادت نے سدرہ کے چہرے کو مکمل نور سے بھر دیا تھا
جب سے وہ خادم کے گھر آٸی تھی تب سے وہ مسلسل پانچ وقت کی نماز اور تہجد ادا کر رہی تھی
اور اب تو دو ماہ سے اُس نے صبح کے وقت محلے کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
چار بجے ہم لوگ سفاری پارک سے نکلے اور میں سدرہ کو اُس کی رہاٸش پہ ڈراپ کر کے گھر آ گیا۔۔۔۔۔
رات کو تین بجے مسلسل موباٸل کی واٸبریشن سے میری آنکھ کھل گٸی نیم وا آنکھوں سے دیکھا تو سدرہ کا نمبر تھا
میں ایک دم جھٹکے سے اٹھ کے بیٹھ گیا اور دل کو کسی انجانے خوف نے گھیر لیا۔
میں نے فورًا کال پک کی اور سدرہ کے بولنے سے پہلے فکر سے پوچھا کیا ہوا خریت تو ہے
آگے سے مجھےسدرہ کی سخت ازیت میں ڈوبی آواز سناٸی دی شاید وہ رو رہی تھی۔۔۔
شاہ سر میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے اور میرے ناک سے مسلسل خون بہ رہا ہے پلیز آپ آ جاٶ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے😥😥
تم حوصلہ رکھو میں میں ابھی آیا۔۔۔
اللہ حافظ میں نے سدرہ کا جواب سنے بنا کال کاٹ دی۔
میں نے نا جیکٹ پہنی نا شال لی کچھ بھی نہیں بس چپل پہنی اور گاڑی نکالی گھر بھی بنا لاک کیٸے نکل آیا۔۔۔
دل تھا کہ کٹ رہا تھا اور آج کچی آبادی کا راستہ مجھے سینکڑوں میل دور لگ رہا تھا نجانے کیوں سدرہ کی آواز کانوں میں گونج رہی شاہ سر مجھے ڈر لگ رہا ہے جلدی آجاٸیں اور یہ جملہ میری آنکھیں نم کر رہا تھا۔۔۔۔😥😥
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: