Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 5

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 5

–**–**–

مجھے اُس وقت نا سپیڈ بریکر نظر آ رہا تھا نا ہی خراب روڈ میری پہلی کوشش یہی تھی کہ کسی طرح جلد از جلد سدرہ کے پاس پہنچ جاٶں۔۔۔۔۔
میں نے گاڑی جیسے ہی خادم حسین کے گھر کے سامنے روکی مجھے خادم حسین گیٹ سے باہر نکلتا نظر آیا۔۔۔
جلدی آٸیں صاحب جی جی بی بی جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔
چلو چلو میں اندر داخل ہوتے ہی سیڑھیا چڑھنے لگا تو خادم حسین نے مجھے آواز دی صاحب جی بی بی نیچے روم میں ہیں۔۔۔۔۔۔
میں اُس کی بات کا جواب دیٸے بنا روم کی طرف بڑھ گیا۔۔
روم میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ سدرہ کو بھابھی نے پیچھے سے سہارا دے کے اپنی گود میں لٹایا ہوا ہے۔۔۔
اور سدرہ کا سر دبا رہی ہیں۔۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی سدرہ نے نیم وا آنکھوں سے مجھے دیکھا آپ آ گٸے شاہ سر۔۔۔
میرے آنسو اب سارا کنٹرول کھو کے آنکھوں سے بہنے لگے😢
آٹھ ماہ کسی جانور کے ساتھ بھی گزارو تو انسان کو اُس سے بھی محبت ہو جاتی ہے
وہ تو جیتی جاگتی گڑیا جیسی لڑکی تھی میرا جزباتی ہونا بنتا تھا۔
میں آ گیا ہوں سِڈ کچھ نہیں ہو گا تمہیں
میں نے سدرہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوٸے کہا۔۔۔
خون بہنے کی وجہ سے سدرہ کے کپڑے کافی خراب نظر آ رہے تھے
لیکن اب وقت نہیں تھا کہ کپڑے چینج کرواٸے جاتے اِس لٸے میں نے بھابھی کو کہا کہ اٹھیں اِسے سہارا دے کے گاڑی میں لے چلتے ہیں
بھابھی اور میں نے کوشش کی سہارا دے کسی طرح سدرہ کو گاڑی تک لے جاٸیں۔۔۔
لیکن سدرہ چلنے کے قابل نہیں تھی
میں نے آواز دی سِڈ اٹھو ہاسپٹل چلتے ہیں
لیکن سدرہ نے کوٸی جواب نہ دیا
میں نے زرہ اونچی آواز میں پکارا
چل اٹھ جا میرا بچہ ہاسپٹل چلیں میڈیسن لینے۔۔۔۔
لیکن سدرہ کی طرف سے کوٸی حر کت نہ ہوٸی۔۔۔
مجھے اپنی سانس رکتی ہوٸی محسوس ہوٸی
میں بے اختیار سدرہ پہ جھکا اور اس کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا بھابھی آپ کمبل اور تکیہ لے کے آٸیں جلدی۔۔۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ سدرہ کو لٹایا اور اس کی لیگ بھابھی نے گود میں رکھ لی۔۔۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی تو خادم حسین نے کہا میں بھی چلتا ہوں لیکن میں نے منع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تم گھر ہی رکو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں گھر پہ رہنا ضروری ہے۔۔۔۔۔
میں نے خود پوری عمر رشتوں کی دوری دیکھی ہوٸی تھی اِس لٸے مجھے احساس تھا کہ یہ ازیت کتنی خطرناک ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
سدرہ کے لٸے مجھے بہت دکھ محسوس ہو رہا تھا وہ نازک سی لڑکی آج بیمار تھی اور افسوس کا مقام یہ تھا کہ اُس کے پاس کوٸی بھی خونی رشتہ موجود نہیں تھا۔۔۔۔😭
میرے لب بار بار رب کی بارگاہ میں سدرہ کی صحت کے دعا مانگ رہے تھے۔۔۔۔
آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں سدرہ اور بھابھی کو چھوڑ کے میں ایڈمن بلاک چلا گیا۔۔۔
جہاں پہ مجھے پچاس ہزار کیش جمع کروانے کا بولا گیا
اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا کے میں تو جلدی میں پیسے لانا بھول گیا ہوں۔۔۔۔
پاکٹ میں ہاتھ ڈالا تو مشکل سے بارہ ہزار نکلے میں نے وہ کاٶنٹر پہ موجود لڑکے کو پکڑاٸے ہوٸے کہا آپ لوگ ٹریٹمنٹ سٹارٹ کرواٸیں۔۔۔
پیسے آدھے گھنٹے تک آ جاتے ہیں
اُسے اپنا اور پیشنٹ کا نام لکھوا کے سلپ لی اور واپس ایمرجنسی آ گیا
سدرہ کو چیک اب کرنے کے بعد فورًا نیوروسرجیکل وارڈ کے آٸی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔
بیس منٹ بعد مجھے ڈاکٹر نے اندر بلایا اور ایڈمشن سلپ مانگی۔۔
میں نے فورًا سلپ نکال کے ڈاکٹر کو پکڑا دی۔۔۔
ڈاکٹر نے ایک طاٸرانہ سی نظر سلپ پہ ڈالی اور مجھ سے مخاطب ہوا۔۔۔
مسٹر مصطفی آپ کے پیشنٹ کی حالت بہت سیریس ہے ہم ان کا فلحال سی ٹی سکین کروا رہے ہیں اِس کے بعد ہی کچھ آٸڈیا ہو گا ان کو کیا ہواہے۔۔۔
پلیز سر جلدی کریں جو بھی کرنا ہے میں نے التجا کی
او کے مسٹر شاہ آپ باہر ویٹ کریں۔۔۔
میں آٸی سی یو سے باہر آ گیا۔۔۔
میرے باہر آنے کے کچھ ہی دیر بعد مجھے نرسنگ سٹاف سدرہ کو سی ٹی سکین روم کی طرف لے کے جاتا دکھاٸی دیا۔۔
میں بھی تیز تیز قدم اٹھاتا اُن کے ساتھ چلنے لگا سدرہ کا چہرہ اب پرسکوں تھا۔۔۔
لیکن ایسا لگتا رہا تھا کہ وہ رو رہی ہے اُس کی آنکھوں سے پانی بہ رہا تھا😢😢😢
نرسنگ سٹاف سدرہ کو لے کے سی ٹی سکین روم میں داخل ہو گیا
میں نے جیب سے سیل نکالا اور ٹاٸم دیکھا تو صبح کے پانچ تیس ہو رہے تھے میں نے کچھ سوچتے ہوٸے ماموں کا نمبر سیرچ کیا اور کال ملا دی۔۔۔
تیسری رنگ پہ ماموں نے کال پک کر لی۔۔۔
اسلام علیکم ماموں
وعلیکم سلام مصطفی خریت ہے اتنی صبح کال۔۔
ماموں بس کوٸی مسلہ تھا ایک دوست کی طبیعت اچانک رات کو خراب ہو گٸی تھی ہم آغا خان ہسپتال میں ہیں
آپ کچھ پیسے لے کے آ جاٸیں باقی تفصیل بعد میں بتاٶں گا۔۔۔
آپ آ جاٸیں ابھی ارجنٹ۔۔
میں نے یہی مناسب سمجھا کہ ماموں کو سدرہ کے بارے میں سب مل کے بتاٶں گا۔۔۔
میں بس تیس منٹ میں آیا اللہ رحم کرے گا تو پریشان نا ہو۔۔کتنے پیسے لاٶں مصطفی۔
ماموں پچاس ہزار لے آٸیں
او کے میں آیا الله حافظ
الله حافظ ماموں۔۔
جب تک ماموں ہاسپٹل آٸے ڈاکٹر نے سدرہ کا سی ٹی سکین کر کے اسے واپس آٸی سی یو میں شفٹ کر دیا ۔
سلام دعا کے بعد ماموں نے پیسے مجھے دیتے ہوٸے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔۔۔
کون سا تمارا دوست ہے مصطفی اور یہ تمہاری قمیض پہ اتنا خون کیوں لگا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نا کوٸی پریشانی کی بات تو نہیں۔
ماموں میں پیسے جمع کروا کے آیا پھر بتاتا ہوں ۔
میں پیسے جمع کروایا کے آیا تو ماموں آٸی سی یو کے باہر رکھی چیٸرز پہ بیٹھے ممانی کو کال کر رہے تھے۔۔۔۔
میرے پاس جانے پہ میں نے انہیں اتنا کہتے سنا کہ مصطفی کے کسی دوست کی طبیعت خراب ہے اور وہ ہاسپٹل ایڈمنٹ ہے
ادھر آیا ہوں ماموں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ مصطفی آ گیا پوچھ کے پھر بتاتا ہوں ۔
ہاں مصطفی کون سا دوست ہے بتاٶ مجھے اور یہ خون کیوں لگا ہے قمیض پہ اتنا۔
میں نے ماموں کو سدرہ سے ہونے والی پہلے ملاقات سے لے کہ اب تک ہونے والی ہر بات بتا دی۔
ماموں میری بات خاموشی اور پوری توجہ سے سنتے رہے اور کافی بار نظریں اٹھا کے میرے چہرے کو غور سے دیکھا میں اپنی بات پوری کر کے خاموش ہو گیا۔۔
کچھ دیر یوں ہی خاموشی رہی پھر ماموں بولے تو آواز کافی سخت تھی۔
شاہ صاحب اب آپ بڑے ہو گٸے ہیں اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں جو کہ اچھی بات ہے لیکن افسوس ہوا کے تم نے ماموں کو بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا
بھلے تم اپنی مرضی کر لیتے میں تمہارا ساتھ بھی دیتا لیکن مجھے پتہ تو ہوتا ماموں کی آواز میں غصہ اور دکھ شامل تھا۔۔۔
ماموں ایسی بات نہیں سدرہ جس کنڈیشن میں اُس وقت تھی اُس کے لٸے ضروری تھا کے وہ اکیلے رہے کوٸی روک ٹوک کوٸی کچھ کہنے والا نہ ہو۔۔۔
دوسری بات اگر آپ سے بات کر کے میں آپ کو منا بھی لیتا تو آپ کبھی بھی ایک گارڈ کے گھر مجھے سدرہ کو چھوڑنے نہ دیتے۔۔۔۔
آپ اپنے گھر رکھتے اور یہی میں نہیں چاہتا تھا
کے آپ سدرہ کو اپنے گھر رکھیں
تم ایسا کیوں نہیں چاہتے تھے کیا ہم لوگوں پہ بھروسہ نہیں تم کو ماموں نے خفا ہوتے ہوٸے کہا۔۔۔۔۔
آپ پہ بھروسہ ہے ماموں آپ بھلے سخت ہیں لیکن اصول کے پکے ہیں
تو پھر کیا وجہ تھی ماموں نے اب سخت اور تیز آواز میں پوچھا۔۔
اصل وجہ یہ تھی کے فیضان جوان ہے۔۔۔
وہ زیادہ تر گھر پہ ہی ہوتا ہے
بھاٸی کامران بھی بھلے شادی شدہ ہیں لیکن ہیں تو مرد ہی اِس لٸے میں یہ رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
پھر ممانی کی سوچ کے مطابق چلنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔۔
کل کو اگر کوٸی اونچ نیچ ہو جاتی بھلے غلطی لڑکوں کی بھی ہوتی لیکن پھر بھی ممانی کا سارا بلڈن سدرہ پہ ہوتا۔۔۔
وہ سدرہ کو ہی برا بھلا کہتی کے وہ ہی ایسی ہے میرے بیٹے تو معصوم ہیں۔۔۔
ماموں یہ انسانی فطرت ہے جو کمزور اور لاوارث ہو تا ہے سب اسے ہی دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
اور اگر سدرہ کے ساتھ آپ کے گھر میں ایسا کچھ ہوتا تو آپ کا میرا تعلق خراب ہو جاتا۔۔۔
میں نے اپنی بات مکمل کر کے ماموں کی طرف دیکھا جو کسی گہری سوچ میں کھوٸے تھے۔۔
مصطفی ضروری نہیں یہ سب کچھ ہوتا اور اگر ایسا ہوتا بھی تو تمہارا میرا تعلق کیوں خراب ہوتا ماموں نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔
آپ کا میرا تعلق اس لٸے خراب ہوتا کہ فیضان آپ کا بیٹا اُس کی حرکتوں کا آپ کو بھی اچھے سے پتہ ہے ممانی کےلاڈ نے اُسے اور سر چڑھا رکھا ہے۔۔۔۔
ظاہری سی بات ہے اگر سدرہ آپ کے گھر میں رکتی تو سب کو کسی نہ کسی طرح اُس کے ماضی کا پتہ چل جاتا۔۔۔۔
اور فیضان سدرہ کو بے سہارا سمجھ کے لازمی اُس پہ ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔
اور مجھے پورا یقین تھا کہ سدرہ سخت رد عمل دیتی کیونکہ وہ اِس چیز سے نکلنا چاہتی تھی اور فیضان کی ایسی حرکت مجھے بتاتی بات بڑھ جاتی تو بیچ میں ممانی بھی آتی۔۔۔
ممانی فیضان کی فیور کرتی کیونکہ وہ بیٹا تھا اُن کا۔۔۔۔
اور مجبورًا ممانی کی وجہ سے آپ کو بھی فیضان کی فیور کرنی پڑتی۔۔۔۔۔۔
اور آپ مجھے بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میری سگی ماں تھیں وہ بھی جب انصاف سے ہٹ کے بات کرتی تھیں تو میں ان کی بھی بھرپور مخالفت کرتا تھا۔۔۔۔
اس لٸے آپ کا میرا تعلق آپ کے بیٹے اور آپ کی واٸف کی وجہ سے خراب ہو جاتا کیونکہ کہ میں سدرہ کے لٸے ہر صورت سٹینڈ لیتا اُسی کبھی تنہا نا چھوڑتا۔۔۔
بس اِس وجہ سے یہ سب کچھ چھپانا پڑا اور سدرہ کو الگ رکھنا پڑا۔۔۔۔
شاہ یار تجھے میرا بیٹا ہونا چاہیٸے تھا مجھے فخر ہے تجھ پہ اور میں تیرے فیصلے سے اگری ہوں اور سدرہ کو اپنی بیٹی مان کے جو ہو سکا اُس کے لٸے کروں گا۔۔😢😢😢
ماموں نے نم آنکھوں اور محبت سے ہاتھ میری طرف بڑھایا۔۔۔
جسے میں نے محبت سے تھام لیا۔۔۔
ماموں ایک منٹ باس کی کال آ رہی ہے میں نے باس کو ساری تفصیل بتاٸی اور ریکویسٹ کی کے جب تک سدرہ ٹھیک نہیں ہو جاتی۔۔۔میں آفس نہیں آ سکوں گا باس نے مجھے اپنے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرواٸی اور مریض کا نام اور وارڈ پوچھ کے کال بند کر دی۔۔۔
اب ماموں بہت خوش تھے اور مجھ سے بہت محبت سے بات کر رہے تھے۔۔۔
اچانک ماموں نے پوچھا شاہ صاحب اس بات کا مونیبہ کو پتہ ہے۔۔۔
اِس سے پہلے کے میں کوٸی جواب دیتا نرس نے آواز دی آپ میں سے مصطفی کون ہے۔۔۔
جی میں ہوں میں نے اٹھتے ہوٸے جواب دیا۔
آپ کو ڈاکٹر صاحب بلا رہے ہیں اپنے روم میں آٸیں میں آپ کو گاٸڈ کر دوں۔۔۔
میں ماموں کو بتا کے نرس کے ساتھ چلا گیا۔
ڈاکٹر کے روم میں داخل ہوا تو وہ سدرہ کی سی ٹی سکین دیکھ رہے تھ۔
آٸیے آٸیے مسٹر مصطفی بیٹھیں آپ۔۔۔
مسٹر شاہ سی ٹی سکین کی رپورٹ میں نے چیک کر لی ہے
آپ کے پیشنٹ کو برین ٹیومر ہے لاسٹ سٹیج پہ
ڈاکٹر نے یہ کہتے ہوٸے نظریں جھکا لی۔۔۔
ڈاکٹر کے یہ الفاظ مجھ پہ کسی نیو کلیٸر بم کی طرح گرے دل دماغ سن ہو گیا بولنے کی صلاحیت ختم ہو گٸی میں خالی خالی نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا۔
مسٹر شاہ آپ میری بات کو سمجھ رہے ہیں نا ہم مزید کنفرم کرنے کے لٸے آج ہی آپ کے پیشنٹ کا ایم آر آٸی بھی کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر نے دوبارہ سوال کیا۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا سر پلیز کچھ کریں اُس نے کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا۔۔
بلکے اُسے زندگی نے بہت دکھ دیٸے ہیں بہت ستایا ہے اُسے ابھی تو کچھ دن پہلے ہی سکھ کی طرف اُس نے قدم بڑھاٸے ہیں۔۔۔۔
پلیز سر آپ پیسوں کی پرواہ مت کریں ہم سے جو بھی بن سکا ہم کریں گے۔۔
پلیز میں اب بچوں کی طرح ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ رہا تھا
مسٹر شاہ آپ نے بہت دیر کردی آپ کا مریض سخت زہنی تکلیف میں رہا ہے
لگتا ہے آپ کے مریض نے ڈپریشن اور سٹریس سے بچنے کے لٸے بہت ہیوی میڈیس یوز کی ہیں جن کی وجہ سے برین ٹیومر جیسی مہلک بیماری نے جنم لیا۔۔۔
اب ان کی برین واٸنز میں بلیڈ کلوٹنگ سٹارٹ ہو گٸی اُن کے دماغ نے ضرورت سے زیادہ خلیات پیدا کر دیٸے تھے
اور مردہ خلیات ریموو نہیں ہو سکے تھے اگر آپ چھے سات ماہ پہلے آ جاتے تو ہم کچھ کر سکتے تھے
آپ کا مریض زندہ ہے یہ بھی مجھے ایک میریکل لگ رہا ہے
سر اُس کو ہوش کب آٸے گا
ہم نے ٹریمنٹ سٹار کر دی ہے مجھے امید ہے کل تک ہوش آ جاٸے گا۔۔۔
ڈاکٹر نے مجھے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا سر اس کی کوٸی تفصیل بتاٸیں اور پلیز کوٸی بھی اچھا ہاسپٹل ہے تو اِس حوالے سے تو ہمیں وہاں ریفر کریں میں نے نم آنکھوں سے ڈاکٹر سے التجا کی۔۔۔
مسٹر شاہ برین ٹیومر دماغ میں پائی جانے والی خلیات کی غیر معمولی یا بے قابو اضافہ کے ذریعے ہوتا ہے ۔
صحت مند انسانی جسم میں عام خلیات کے بوُڑھے ہونے یا ختم ہو جانے پر نئی خلیات اُن کا مقام حاصل کر لیتی ہیں
اِس عمل میں کبھی کبھی گڑبڑی ہو جاتی ہے اَور جسم میں غیر ضروری نئی خلیات پیدا ہو جاتی ہیں ،
جبکہ جسم کو اُن غیر ضروری نئی خلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے یہ پُرانی اَور قریب المرگ خلیات خود ختم نہیں ہوتی ہیںں
جبکہ اُن کو خود ختم ہو جانا چاہئے اکثر اِن فاضل خلیوں کی تعمیر یا بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹِشوز کی ترقی کو ہی ٹیومر کہا جاتا ہے
خصوصاً ٹیومر دو قسم کے ہوتے ہیں جِن کو خير انديش ٹیومر بے ضرر اَور تشدد آمیز کینسر ٹیومر کہا جاتا ہے ۔
برین ٹیومر ایک مہلک بیماری ہے ہالانکہ اِس بیماری کو مختلف اقدامات کے ذریعے علاج کیا جا سکتا ہے
لیکِن سب سے زیادہ مریضوں کی نو سے بارہ مہینے کی مہلت تَک موت ہو جاتی ہے اَور تین فیصد سے کم مریض تین سال تَک زندہ رہتے ہیں
مہلک ٹیومر کینسر ٹیومر کو ابتدائی برین ٹیومر اَور ثانوی برین ٹیومر دو حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے ۔
ابتدائی برین ٹیومر دماغ کے اندر شروع ہوتا ہیں ۔
ثانوی برین ٹیومر کہِیں سے بھی پَیدا ہو سکتا ہے ، لیکِن یہ پُورے جسم میں پھَیل جاتا ہے ۔ اِس ٹیومر کو میٹاسٹیسِس ٹیومر کے طور پر جانا جاتا ہے
ابتدائی برین ٹیومر کئی قسم کا ہوتا ہیں اس طرح کے ٹیومر کو ٹیومر کے قسم یا دماغ کے حصے میں پائے جانے والے یا شروع ہونے والے مقام کے نام کے مُطابق جانا جاتا ہے
مثال کے لئے اَگر برین ٹیومر گلائل خلیات میں شروع ہوتا ہے تو اِس کو گلِیوما لاصقی سلعہ کہا جاتا ہے
اس طرح دوسری طرح کے ٹیومر دماغ کے حصوں میں پَیدا ہونے کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں۔۔
اب ہم اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ آیا آپ کے مریض کی سرجری کی جاٸے یا نہ۔۔۔
اور مسٹر شاہ آپ ملک ابرار صاحب کے ادراے کے ایک قابل ایمپلاٸی ہیں انہوں نے خود مجھے ابھی کال کر کے خصوصی طور پہ کہا ہے کہ آپ کے پیشنٹ کو ہر طرح کی سہولت دی جاٸے
اور میں آپ کو کہیں بھی ریفر ہونے کی صلاح نہیں دوں گا آپ کے مریض کے پاس وقت کم ہے خدا کا شکر ادا کریں وہ زندہ ہے اُس کے ساتھ ٹاٸم سپنڈ کریں فیملی ممبرز
ڈاکٹر نے مجھے پوری تفصیل سے آگاہ کیا اور میرے دل کی حالت بس اللہ ہی جانتا تھا۔۔۔۔میری آنکھوں کے سامنے بار بار سدرہ کا معصوم چہرہ آ رہا تھا اب آنسو واضع طور پہ میرے چہرے کو بھگو رہے
سر کتنا ٹاٸم ہے اُن کے پاس میں نے دل پہ جبر کر کے ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔
مسٹر شاہ ایک ماہ سے تین ماہ۔۔
اب میں ڈاکٹر کے سامنے اور رکتا تو شاید وہی صبر ختم ہو جاتا اور میں ٹوٹ جاتا اِس لٸے ڈاکٹر سے اجازت لے کے میں باہر آ گیا۔۔
مجھ میں ہمت نہیں تھی سدرہ کا سامنا کرنے کی مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنا تھا۔۔۔
اور پھر میں نے ایک مضبوط ادارے کےساتھ اپنے قدم نیورولوجیکل وارڈ کی طرف بڑھا دیٸے۔۔۔
کیونکہ مجھے اپنی اِس پیاری دوست کے لٸے ابھی بہت کچھ کرنا تھا اور اس کے ساتھ اب ایک ایک پل ہسنا کے گزارنا تھا۔۔۔۔۔

میں ڈاکٹر سے مل کے واپس نیورولوجیکل وارڈ آیا تو ماموں میرا ہی ویٹ کر رہے تھے۔۔۔
مصطفی میں چلتا ہوں شام کو آٶں گا فلحال بنک جانا ہے
ٹھیک ہے ماموں آپ جاٸیں لیکن ساتھ بھابھی کو بھی لیتے جاٸیں ان کو گھر ڈروپ کر دیجیٸے گا۔۔۔
میں نے خادم حسین کی بیوی کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے اتار دوں گا اور تم پریشان مت ہونا ناشتہ کرو جا کے۔۔
جی ماموں نہیں ہوتا پریشان
بھابھی آپ چلی جاٸیں ماموں کے ساتھ گھر اتار دیں گے آپ کو…
بچوں نے بھی سکول جانا ہو ہے خادم بھی ڈیوٹی پہ چلا گیا ہو گیا۔۔۔۔
لیکن بھاٸی سدرہ کے ساتھ کسی عورت کا ہونا بھی ضروری ہے بھابھی نے فکر سے کہا وہ بھی سدرہ کے لٸے بہت اپ سیٹ تھیں۔۔۔
بھابھی ابھی وہ ہوش میں نہیں ہیں اور پھر نرسیں ہیں نا باقی شام کو مامو لے آٸیں گے کسی کو آپ کا گھر جانا ضروری ہے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔
میں نے بھابھی کو سمجھا بجھا کے ماموں کے ساتھ واپس بھیج دیا۔۔۔۔
شام کو سدرہ کی ایم آر آٸی کی گٸی میں وقفے وقفے سے آٸی سی یو میں جا کے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
آٹھ بجے ماموں ممانی اور میری کزن مہرین کھانا لے کے آ گٸے
ماموں اِس کی کیا ضرورت تھی میں اکیلا ہوں کون سا زیادہ بندے تھے کہ کھانا گھر سے لاتے۔۔۔۔
میں کیفے ٹیریا سے کھا لیتا کچھ۔۔۔
ضرورت تھی شاہ صاحب میں تہاڈا ماما آں مینوں پتہ تسی ہالے تک کجھ نہیں کھادا ہونا۔۔۔
ماموں نے محبت بھرے اندز میں کہا
بھاٸی پہلے کپڑے چینج کر لیں پھر کھانا کھانا میری کزن مہرین نے لانڈری شدہ ایک سوٹ میری طرف بڑھایا جو شاید فیضان کا تھا۔۔۔۔
دل تو نہیں چاہ تھا لیکن ماموں کے اسرار پہ چینج کرنا پڑا۔۔
رات کو دس بجے ماموں لوگ چلے گٸے بڑی مشکل سے ممانی کو بھیجا وہ رکنا چاہ رہیں تھی لیکن میں نے کہا کہ ابھی اس کی ضرورت نہیں۔۔۔
رات پوری میں نے آٸی سی یو کے اندر باہر آتے جاتے گزار دی۔۔۔
صبح فجر کی آزان سے ایک گھنٹا پہلے میں ہاسپٹل میں بنی مسجد میں آ گیا وضو کیا اور تہجد ادا کی۔۔۔
آج بہت مدت کے بعد میں تہجد پڑھ رہا تھا مجھے اچھے سے یاد ہے جب میری امی بیمار ہوٸی تھیں تو اس وقت میں تہجد پڑھتا تھا۔۔۔
میں نے چھے نوافل پڑھے اور رب کے حضور سجدہ میں سر رکھ کے دعا مانگی۔۔
مالک آپ تو دل کا حال جانتے ہو
اُس سے میرا کوٸی رشتہ نہیں وہ نا محرم ہے
اس کے باوجود میں آج تیری بارگاہ میں اُس کی صحت یابی کے لٸے دعا مانگ رہا ہوں
مالک آپ تو نیت کا حال جانتے ہو آپ کو تو اچھے سے علم ہو گا کہ میں نے کبھی بھی آپ کی اس بندی سے بدلے کی توقع نہیں رکھی۔
میرا ارادہ صرف اُسے اچھاٸی کی طرف لانا تھا
مالک یا ربِ کریم اپنی اُس بندی کو صحت عطا فرما۔۔۔۔ آمین،۔
دعا کے بعد فجر کی نماز ادا کی اور آٸی سی یو میں آ سدرہ کو دم کیا۔۔۔۔
پورا دن یو ہی گزر گیا
دن کو خادم حسین اور اُس کی بیوی کے ساتھ محلے کی چار پانچ عورتیں بھی آٸی سدرہ کی تیمار داری کے لٸے
سب بہت دعاٸیں دے کے رخصت ہوٸے کہ اتنی نیک اور باپردہ بچی کو کس کی نظر لگ گٸی۔۔۔
شام کو ماموں کی پوری فیملی آٸی سدرہ کو پوچھنے اور ایک گھنٹہ رک گے سب چلے گٸے۔۔۔
تین چار دن کی تھکاوٹ بھاگ دوڑ اور سہی نہ سونے کی وجہ سے پورا جسم شل ہو گیا تھا
اس لٸے میں آٸی سی یو کے باہر رکھی چیٸرز پہ ہی بیٹھے بیٹھے سو گیا۔۔۔
بارہ بجے سویا تو صبح فون کی بیل سے آنکھ کھلی
دیکھا تو سکرین پہ مونیبہ کا نمبر شو ہو رہا تھا۔۔
دل میں کسی انجانے خوف نے سر اٹھایا کہ اس وقت بیگم کی کال۔۔۔
کچھ سوچ کے کال رسیو کر لی
اسلام علیکم مصطفی کیسے ہیں آپ
وعلیکم سلام کیسی ہو تم
میں ٹھیک ہوں کدھر ہیں آپ
میں ہاسپٹل ہوں ایک عزیز کی طبیعت خراب ہے
پتہ چلا آپ کے عزیز کا رات کو کامران بھاٸی کی بیوی کی کال آٸی تھی بتا رہی تھیں
کہ اس طرح کی کوٸی لڑکی ہے
منیبہ کا لہجہ کافی کڑوا تھا لیکن میں نے اگنور کر دیا۔
اور کیا کیا بتا رہی تھی کامران کی بیوی میں نے طنز سے پوچھا۔۔
کچھ نہیں کہ رہی تھی کہ جتنا مصطفی اس لڑکی کے لٸے پریشان ہے مجھے تو لگتا ہے اُس سے نکاح کیا ہوا ہے مونیبہ نے بھراٸی ہوٸی آواز میں کہا۔۔
واہ گریٹ ۔۔۔۔مونیبہ بیگم کسی کو کیا لگتا ہے مجھے اس سے کوٸی فرق نہیں پڑتا تمہیں کیا لگتا ہے وہ بتاٶ۔۔۔
اور اگر تمہیں یاد ہو تو کچھ ماہ پہلے میں نے تمہیں ایک بات کہی تھی۔۔۔۔
کہ لاٸف میں ایک بار تم نے بہت بڑی غلطی کی تھی جس کو میں نے معاف کر تھا۔۔۔۔
اِس لٸے آنے والے وقت میں اگر مجھ سے کوٸی غلطی ہوٸی تو تمہیں بھی معاف کرنا ہو گا۔۔۔۔
یہی وہ بات تھی جو اُس دن بتانا چاہتا تھا
لیکن نہیں بتا سکا اب تم اِسے میری غلطی سمجھوں یا نیکی معاف تو کرنی پڑے گی کیونکہ میں نے بھی معاف کیا تھا۔۔۔
اس لٸے اب بتاٶ کہ تم کیا سوچتی ہو باقی کو چھوڑو
چندے لمحے دوسری طرف سے رونے کی آواز آتی رہی
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے تمہیں کیا لگتاوہ بتاٶ۔۔۔
اور اگر تمہیں یاد ہو تو کچھ ماہ پہلے میں نے تمہیں ایک بات کہی تھی۔۔۔۔
کہ لاٸف میں ایک بار تم نے بہت بڑی غلطی کی تھی جس کو میں نے معاف کر تھا۔۔۔۔
اِس لٸے آنے والے وقت میں اگر مجھ سے کوٸی غلطی ہوٸی تو تمہیں بھی معاف کرنا ہو گا۔۔۔۔
یہی وہ بات تھی جو اُس دن بتانا چاہتا تھا
لیکن نہیں بتا سکا اب تم اِسے میری غلطی سمجھوں یا نیکی معاف تو کرنی پڑے گی کیونکہ میں نے بھی معاف کیا تھا۔۔۔
اس لٸے اب بتاٶ کہ تم کیا سوچتی ہو باقی کو چھوڑو
چندے لمحے دوسری طرف سے رونے کی آواز آتی رہی
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے نکاح کیا ہوا ہے میرا لہجہ بہت سخت ہو گیا۔۔
نہیں احمد مجھے آپ پہ بھروسہ ہے آپ ایسا نہیں کر سکتے کسی صورت بھی نہیں۔۔
بس کسی اور سے یہ سب سن کے تھوڑی اپ سیٹ ہو گٸی تھی آپ کو مجھ پہ بھروسہ کرنا چاہیٸے تھا مونیبہ نے گلہ کیا۔۔۔
میں نے ساری بات مونیبہ کو جیسی تھی ویسی ہی بتا دی
سدرہ مجھے ملی کیسے وحید اور اس کی بیوی نے اس کے ساتھ ظلم کیا اور کیسے میں نے اس کی ہیلپ کی۔۔
میری ساری بات سننے کہ بعد مونیبہ نے اعتراف کیا کہ وہ ایک بیوی ہونے کے ناطے مجھے کبھی بھی ایسا نہ کرنے دیتی۔۔۔
یا کم از کم اس حد تک نہ کرنے دیتی۔۔۔
کبھی برداشت نہ کرتی بس کہتی کچھ پیسے دے دو۔۔
لیکن اب بات مونیبہ کی سمجھ میں آ گٸی تھی
اس لٸے مونیبہ نے نا صرف مجھے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ ہر بات میں میرے ساتھ ہے۔۔۔
بلکہ مونیبہ نے سدرہ کی طبیعت کا بھی پوچھا اور مجھے حوصلہ بھی دیا کہ آپ پریشان نہ ہو اور مجھے آپ پہ پورا بھروسہ ہے۔۔۔
مونیبہ سے بات کر کے میں پوری طرح رلیکس ہو گیا
کیونکہ سدرہ مجھے بھلے جتنی بھی عزیز ہو گٸی تھی
لیکن مونیبہ سے زیادہ عزیز نہیں تھی اور میں کسی صورت بھی مونیبہ کو کسی دوسرے کی وجہ سے تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
اس لٸے اب مونیبہ کا دل صاف تھا یہ میری بہت بڑی جیت تھی۔۔۔
دن بارہ بجے مجھے ڈاکٹر نے آٸی سی یو میں بلایا اور خوشخبری دی کہ آپ کے مریض کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔
آپ ان سے مل سکتے ہیں لیکن کوٸی بھی ایسی بات ان کو یاد نہ کرواٸی جاٸےجس سے ان کو ٹینشن بنے۔۔۔۔
میں جب سدرہ کے بیڈ کے پاس گیا اس کے چہرے پہ زندگی نظر آ رہی تھی۔
لیکن آنکھوں سے ایسا لگ رہا جیسے صدیوں کی بیمار ہو۔۔
سدرہ کو دیکھ کے دل چاہ رہا تھا کہ زور زور سے روٶں لیکن ایسا کرنے سے سدرہ پریشان ہو جاتی۔۔۔۔۔
اِسی بات سے ڈاکٹر نے منع کیا تھا۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوٸے پوچھا
کیسی ہو اب سِڈ کا۔۔۔
سدرہ نے پلکوں کے اشارے سے بتایا کہ ٹھیک ہوں
کچھ نہیں ہو گا تمہیں اور ہاں مونیبہ کی کال آٸی تھی
وہ ڈانٹ رہی تھی تمہیں اور کہ رہی تھی کہ اسے کہیں کہ
جلدی ٹھیک ہو جاٸے ورنہ ہمارے بچے کون کھیلاٸے گا
ایسا کہتے ہوٸے میں نے بہت مشکل سے آنسو روکے
مجھے ڈاکٹر کی بات یاد آگٸ ایک سے تین مہینے ہیں
اِن کے پاس۔۔۔
مونیبہ کا نام سن کے سدرہ کے چہرے پہ چمک آ گٸی اور مجھے لگا کہ وہ مسکرا رہی ہے۔۔
کچھ دیر بعد ہی گارڈ نے آ کے کہا کہ سر اتنی دیر رکنے کی اجازت نہیں آپ اگین آ جانا میں سدرہ سے اجازت لے کے باہر گیا۔۔۔۔۔
سہ پہر تین بجے سدرہ کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا اور ڈاکٹر نے اتنی جلدی ریکور کرنے پہ اسے اچھا ساٸن قرار دیا اور سدرہ کی سرجری پلان کرنے لگے۔۔۔۔
سدرہ کو وارڈ میں شفٹ کرنے کی خبر سب کو مل گٸی اور اگلے دن وزٹنگ آور میں سدرہ کی کافی سٹوڈنٹ اور خادم کی فیملی اُسے پوچھنے آٸی۔۔۔۔۔
جیسے جیسے سدرہ ٹھیک ہو رہی تھی ویسے ویسے کچھ پریشان نظر آ رہی تھی جیسے مجھے کچھ کہنا چاہتی ہو۔۔۔
سدرہ کو وارڈ میں شفٹ ہوٸے آج تیسرا دن تھا اب وہ تکیے سے ٹیک لگا بیٹھ سکتی تھی
اور آکسیجن ماسک بھی ہٹا دیا گیا تھا اب وہ کچھ ہلکا پھلکا کھانا بھی کھانے لگی تھی
صبح آٹھ بجے میں سدرہ کے پاس بیٹھا تھا تو مامو کے آنے کی اطلاح گارڈ نے دی۔۔۔
میں باہر گیا تو مامو کو سدرہ سے ملوانے کے لٸے اندر لایا جب سے سدرہ کو ہوش آیا تھا مامو آج آٸے تھے۔۔۔
ماموں نے سدرہ کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور پھول دیتے ہوٸے کہا کہ آپ میری بیٹی ہو آج سے آپ مجھے بابا کہوں گی
اور اب میں کوٸی دکھ اپنی بیٹی کے پاس نہیں آنے دوں گا😥😥😥
مامو کی اس بات پہ سدرہ میں اور ماموں تینوں ہی ایک پل کو رو پڑے لیکن مجھے یاد تھا کہ یہ سدرہ کے لٸے اچھا نہیں۔۔۔
اس لٸے فورًا کہا بابا اور بیٹی کو یاد رکھنا چاہیٸے کے میلے میں بچھڑے اس باپ بیٹی کو ملوانے کا سارا کریڈٹ مجھ نا چیز کو جاتا ہے میں نے شرٹ کے کالر زرہ اوپر جھاڑے😀
اور میرے ایسا کرنا پہ مامو اور سدرہ دونوں ہنس پڑے
ماموں سدرہ کو بہت ساری دعاٸیں دے کہ رخصت ہو گٸے۔۔
سدرہ اب بہت خوش تھی میں اس کے بلکل پاس جا کے بیڈ پہ ہی بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کہا کہ پریشان نہ ہونا اور کبھی خود کو اکیلا مت سمجھنا۔۔۔۔شاہ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
سدرہ کی آواز میں بے چینی تھی۔۔
جی جی میرا بچہ بولو کیا بات کرنی ہے میں نے پیار سے جواب دیا۔۔۔
شاہ سر آپ کے ساتھ گزرے ان آٹھ مہینوں میں
میں نے اپنی زندگی جی لی آپ کا ظرف ہے کہ آپ نے کبھی مجھ سے میرا ماضی جاننے کی کوشش نہیں کی۔۔
لیکن میں نے بارہا دیکھا کہ آپ کے چہرے پہ کٸیں بار یہ سوال نظر آٸے لیکن آپ نے اگنور کر دیٸے سدرہ نے میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے دباتے ہوٸے اپنی بات جاری رکھی۔۔
شاہ سر میں جسم فروشی جیسے دھندے میں کیسے آٸی یہ جاننا آپ کے لٸے بہت ضروری ہے وقت بہت کم ہے اور باتیں بہت زیادہ ہیں سدرہ کی آنکھوں کی روشنی اب مدھم ہو رہی تھی۔۔۔
سدرہ ہم یہ بات کبھی پھر ڈسکس کریں گے جب تم ٹھیک ہو جاٶ گی بلکل اور ویسے بھی میرے دل میں جو تمہاری عزت ہے اس میں فرق نہیں آٸے گا بھلے تم جیسے بھی آٸی اِس دھندے میں۔۔
کیونکہ اِس دھندے کو چھوڑنے کے بعد تم نے ثابت کیا کہ تمہاری مرضی نہیں تھی۔۔۔
میں نے پیار سے سدرہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔
مجھے پتہ ہے شاہ سر میری عزت میں آپ کی نظر میں کمی نہیں آٸے گی لیکن میں بتانا چاہتی ہوں۔۔۔
کہا نا وقت بہت کم ہے خواہشیں بہت زیادہ ہیں اور سر آپ نے میری چار خواہشیں پوری کرنی ہیں۔۔۔۔
لیکن وعدہ کریں کہ آپ دوسری خواہش تب پوچھیں گے جب پہلی پوری ہو جاٸے گی۔
اچھا وعدہ ہے پوری کروں گا
نہیں شاہ سر ایسے نہیں
اچھا تو پھر کیسے میں نے انجان بننے کی کوشش کی۔۔۔
سدرہ نے اپنے ہاتھ میرے ہاتھوں سے چھڑا کے اپنا سیدھا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔۔۔
ایسے سر مجھ سے ہاتھ ملا کے میری طرف دیکھ کے کہیں کہ وعدہ ہے کہ آپ میری چار خواہشیں پوری کریں گے۔۔۔
میں نے سدرہ کا ہاتھ تھام لیا میں وعدہ کرتا ہوں کے تمہاری سب خواہشیں پوری کروں گا
میرے یہ الفاظ کہتے ہی سدرہ کی آنکھوں میں دوبارہ زندگی کی چمک ابھر آٸی۔۔۔۔
سر سب سے پہلی خواہش یہ ہے کہ آج آپ کو یہ جاننا ہو گا کہ میرے گھر والے امی ابو کدھر ہیں میں نے گھر کیوں چھوڑا اور جسم فروشی جیسے دھندے میں کیسے آٸی۔۔۔
سدرہ یہ کہ کر چپ ہو گٸی۔
اف خدایا یہ کس امتحان میں ڈال دیا ہے میں نے بات ٹالنے کے لٸے کہا اور دوسری خواہش کیا ہے۔۔۔
سوری سر آپ وعدہ کر چکے ہیں کہ آپ پہلی خواہش پوری کر کے دوسری کا پوچھیں گے۔۔۔۔
سدرہ نے مضبوط آواز میں مجھے یاد دلایا۔۔۔
اور میں نے یہ سوچ کہ ہاں کر دی کہ اس کے پاس وقت کم ہے اس کی باقی خواہشوں کا پتہ چلے کہ کیا ہیں تانکہ اُس کو خوشی دی جا سکے۔۔۔۔۔
کچھ دیر خاموشی رہی پھر میں نے ایک لمبی سانس لی
اور سدرہ کو کہا گو کہ یہ وقت نامناسب ہے ان باتوں کے
لٸے لیکن میں وعدہ کر چکا ہوں
اس لٸے میں اب ریڈی ہوں یہ جاننےکے لٸےکہ تمہارے امی ابو فیملی کدھر ہے۔۔۔
اور تم سٹڈی چھوڑ کے گھر چھوڑ کے جسم فروشی کی طرف کیوں آٸی یہ کہ کر میں نے نگاہ سدرہ کے چہرے پہ گاڑ دی۔۔
لیکن سدرہ کے چہرے پہ مکمل سکوت تھا پرسکون اور گہرہ سکوت جیسے طوفان آنے پہلے سناٹا چھا جاتا ہے بلکل ویسا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: