Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 6

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 6

–**–**–

جب سدرہ بولی تو اُس کی آواز بہت بھاری اور آہستہ تھی ایسا لگ رہا تھا کہ منوں مٹی کے بوجھ تلے دبی ہوٸی بول رہی ہے۔۔۔
مصطفی شاہ میرا تعلق لیاقت پور کے ایک اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔۔۔
میرے والد اپنے گاٶں کے نامی گرامی زمہ دار ہیں اِس لٸے پیسے وغیرہ کا کبھی کوٸی مسلہ نہیں رہا تھا۔۔۔۔
مجھ سے بڑے دو بھاٸی ہیں جہنوں نے آٹھ آٹھ کلاسیں پڑھ کے سکول کو خیرآباد کہ دیا۔۔۔
کہ ہم نے کون سا نوکری کرنی ہے اور والد صاحب نے بھی اُن کی اِس بات پہ زیاہ اعتراض نا کیا کے بات تو اُن کی ٹھیک ہے اپنی زمین کافی ہے کون سی نوکری کرنی ہے۔۔۔۔
میں اپنے چھوٹے بھاٸی سے آٹھ سال چھوٹی تھی۔۔
اس لٸے سبھی میرے لاڈ اٹھاتے اور ہر بات مان لیتے خاص طور بابا مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔۔
دماغی طور پہ میں بہت زہین تھی اور پڑھنے کا شوق بھی بہت زیادہ تھا میٹرک میں میرے بہت اچھے نمبر آٸے تو میں نے بابا سے آگے پڑھنے کی ضد کی۔۔۔
بابا نے میرے تایا اور چاچو کی مخالفت کے باوجود مجھے ایف ایس سی میں ایڈمیشن دلوا دیا۔۔۔
کالج گاٶں سے دور ہونے کی وجہ سے بابا نے بھاٸی کے زمہ لگایا کہ تم سدرہ کو کالج چھوڑ کے بھی آٶ گے اور لے کے بھی آٶ گے۔۔۔
وقت گزرتا رہا اور میں نے ایف ایس سی مکمل کر لیا۔۔
میرے ایف ایس سی میں بھی بہت اچھے نمبر آٸے اِس لٸے بابا بہت خوش ہوٸے اور ایک بار پھر سب کی مخالفت کے باوجود میرے شوق کو دیکھتے مجھے سٹڈی جاری رکھنے دی گٸی۔۔۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا میں بنا لڑکھڑاٸے کامیابی کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
میرے بابا کے مجھے پڑھانے کے فیصلے پہ پہلے تو باقی عزیز و اقارب نے بہت تنقید کی۔۔۔۔
لیکن جیسے جیسے میں ثابت قدمی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے باقی لوگوں میں بھی حوصلہ پیدا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
اور میری فیملی کی کافی لڑکیوں نے شہر کے کالج میں داخلہ لے لیا تھا۔۔
ہماری برادری میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا
میرے بابا بہت خوش تھے کہ میری بیٹی سب کے لٸے مشعلِ راہ بنتی جا رہی ہے۔۔۔۔
وقت پر لگا کے اڑ رہا تھا اور پتہ ہی نہ چلا کہ میں کب بی ایس آٸی میں آ گٸی۔۔۔
اب سٹڈی کے لٸے لیپ ٹاپ بہت ضروری تھا لیکن بابا لیپ ٹاپ لے کے دینے کے حق میں نہیں تھے اور انٹرنیٹ کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔
اس لٸے تہہ یہ پاپا کہ میرے تایا ابو جن کی فیملی بہاولپور سٹی میں رہاٸش پزیر تھی۔۔۔
جن کا بڑا بیٹا ایم فل کر رہا تھا مجھے تایا کے گھر رہنا ہو گا اور اپنے کزن کے لیپ ٹاپ پہ اپنا ورک کرنا ہو گا شام دو سے تین گھنٹے۔۔۔۔۔
میں خوش تھی کہ چلو کسی بھی طرح سہی پڑھنے کی اجازت تو ملی۔۔
ایڈمشن کے بعد بی ایس آٸی ٹی کی کلاسز شروع ہوتے ہی مجھے بہاول پور بھیج دیا گیا۔۔۔۔
ویمن یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے صرف گرلز ہی طالبات تھیں اس لٸے بابا بھی قدرے مطمن تھے۔۔۔۔
مجھے وین لگوا کے دے دی گٸی یونیورسٹی آنے جانے کے لٸے۔۔۔
یونیورسٹی کے ماحول کا بھی ایک الگ ہی مزہ ہے نا روک نہ ٹوک فل ہنسی مزاق دل کرے تو کلاس لےلو دل کرے تو نا لو۔۔۔
شروع کے دن میں بہت سہمی سہمی رہی لیکن جلد ہی میں اپنی کلاس میں ایک زہین طالبہ کے طور پہ پہچانی جانے لگی۔۔۔
میں نے بی ایس آٸی کے فاٸنل پیپر دیٸے اور گھر آ گٸی۔۔۔
گھر آتے ہی گھر والوں نے میرے لٸے رشتہ دیکھنا شروع کر دیا اور سب سے پہلی نظر میرے تایا کہ بیٹے پہ گٸی جو اب پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔۔۔۔
تایا کو بھی کوٸی اعتراض نہیں تھا کیونکہ کہ اپنی فیملی میں واحد لڑکی میں ہی تھی
جو اتنی پڑھی لکھی تھی اور اپنے ساتھ جہیز میں زمین بھی اچھی خاصی لاتی تایا نے خوشی خوشی میرا رشتہ قبول کیا۔۔۔۔۔
کچھ دن کی فارمیلٹی کے بعد ہماری منگنی کر دی گٸی اور طے یہ پایا کے دو سال بعد لڑکے کی پی ایچ ڈی مکمل ہوتے ہی شادی کر دیں گے۔۔
میرا رزلٹ آیا تو میرے بی ایس آٸی میں بہت شاندار نمبر آٸے اور بہت ساری یونیورسٹی کی طرف مجھے فری ایڈمشن کی آفر ہوٸی۔۔
لیکن بابا اب اور پڑھانے کے حق میں نہیں تھے لیکن مجھے پڑھنا تھا پڑھاٸی میرا جنون تھی۔۔۔
میں کچھ بننا چاہتی تھی۔۔۔
اِس لٸے میں نے اپنے منگیتر کو ڈھال بنانے کا فیصلہ کیا اور اُس سے فون پہ بات کر کے ساری بات اُسے بتاٸی اور یہ کہا کہ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔۔۔
پیلز تم تایا ابو سے بات کرو اور وہ بابا کو کہیں مجھے پڑھنے دیا جاٸے۔۔۔
سعد میرے منگیتر نے مجھ سے پرومس کیا کہ وہ ہر صورت ابو کو مناٸے گا کے وہ میرے بابا سے بات کریں۔۔۔
میرا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوٸے اور تایا کے زور دینے پہ مجھے آگے پڑھنے کی اجازت مل گٸی۔۔۔۔۔
اور پھر مجھے ایم ایس میں داخلہ لے گے دے دیا گیا
سدرہ اتنی بات کر کے خاموش ہو گٸی۔۔۔
میں نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا تو اب وہاں پہ خوف و ہراس اور پچھتاوا نظر آ رہا تھا۔۔۔ساتھ ساتھ اُس کے چہرے پہ شدید ازیت بھی تھی جیسے سوچ رہی ہو کہ کاش میں ایڈمشن نہ لیتی تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑھتے۔۔۔
سدرہ تم ٹھیک ہو نا بس کرو مجھے نہیں جاننا اور کچھ۔۔
تم آرام کرو ہم اِس پہ پھر کبھی بات کریں گے۔۔۔
نہیں مصطفی شاہ میرے دل پہ بہت بھار ہے ۔۔۔
مجھے آج اس ازیت سے آزاد ہونے دو۔۔۔۔
میں نہیں چاہتی کہ میرے مر جانے کے بعد کبھی آپ کے دل میں یہ خیال آٸے کہ پتہ نہیں کیسی تھی۔۔۔
گھر سے کیوں بھاگی۔۔۔
سدرہ پاگل ہو تم میرے دل میں ایسا خیال کبھی کیوں آٸے گا
مجھے پتہ ہے تم بہت اچھی لڑکی ہو۔۔۔۔
شاہ سر آپ وعدہ کر چکے ہیں۔۔۔
اور ابھی آپ نے میری تین خواہشیں اور پوری کرنی ہیں سدرہ نے مجھے یاد دلاتے ہوٸے پھر سلسلہ وہی سے جوڑا جہاں سے ختم ہوا تھا۔۔۔
جب میں دوبارہ بہاولپور گٸی تو اب مجھے تایا کے گھر کے بجاٸے یونیورسٹی کے ہی گرلز ہاسٹل میں بھیج دیا گیا۔۔۔
کیونکہ پاپا کا خیال تھا کہ منگنی کے بعد لڑکی لڑکے کا ایک گھر میں رہنا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔
ہاسٹل کی لاٸف ہی الگ تھی رات دو بجے تین بجے تک گپیں لگانا فن کرنا لڑاٸیاں کرنا یا کوٸی گیم کھیلنا اور پھر صبح دیر تک سو کے پہلے لیکچر مس کر دینا۔۔۔۔
میری کچھ روم میٹ چھے سال سے یونیورسٹی ہاسٹل میں رہ رہی تھی اور ہر کام میں فل ایکسپرٹ تھیں۔۔
وہ سب رات دیر تک اپنے اپنے بواٸز فرینڈ کے ساتھ فون پہ لگی رہتی کچھ آڈیو کال پہ اور کچھ ویڈیو کال پہ۔۔۔
تب میں سونے کی کوشش کرتی لیکن اُن کے شور میں نیند نا آتی تو اٹھ کے پڑھنا شروع کر دیتی۔۔۔
تب سب بہت ہنستی مجھ پہ۔۔۔
اور کہتی تم بھی بنا لو کوٸی فرینڈ زندگی میں سکون آ جاٸے گا۔۔۔
لیکن مجھے ان فضول کاموں سے دلچسپی نہیں تھی۔۔
ہر ویک اینڈ پہ گاٶں سے بھاٸی مجھے لینے آ جاتا اور ویک اینڈ میں فیملی کے ساتھ گاٶں میں گزارتی۔۔۔
ابھی مجھے یونیورسٹی میں آٸے ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ سیکم لیپ ٹاپ میں سب کو اپنا نام لکھوانے کا کہا گیا میں نے بھی نام لکھوا دیا۔۔۔
میرے سابقہ تعلیمی ریکارڈ کو دیکھتے ہوٸے مجھے گورنمنٹ کی طرف سے لیپ ٹاپ مل گیا۔۔۔
جب ویک اینڈ پہ میں گھر آٸی تو لیپ ٹاپ بھی ساتھ لاٸی اور بابا کو بتایا کہ مجھے لیپ ٹاپ ملا ہے اور میری سٹڈی کے لٸٕے اب لیپ ٹاپ بہت ضروری ہے مجھے ایوو لے کے دیں۔۔۔
بابا نے میرے منگیتر سے کچھ کنفرمیشن کے بعد مجھے ایوو لے کے دے دی اور ایک ماہ کا پیکج بھی کروا دیا۔۔۔
ویسے تو یونیورسٹی میں واٸی فاٸی تھا لیکن لڑکیوں نے ایوو رکھی ہوٸی تھی کیونکہ واٸی فاٸی کی سپیڈ کم ہوتی تھی۔۔۔
ویک اینڈ کے بعد میں یونیورسٹی آٸی تو اپنی ایک روم میٹ سے لیپ ٹام کو سمجھنے میں ہیلپ مانگی۔۔۔۔۔۔
جو ہر وقت لیپ ٹاپ پہ لگی رہتی تھی
اُس نے بہت خوش دلی سے مجھے لیپ ٹاپ سکھانے کی حامی بھر لی اور پھر کچھ ہی دن میں مجھے اچھا خاصا لیپ ٹاپ چلانا آ گیا۔۔۔
اب جب سب لڑکیاں رات کو اپنے اپنے بواٸز فرینڈ کو کال کرتی یا ویڈیو کال کرتی تو میں کوٸی مووی یا ڈرامہ لگا کے دیکھنے لگ جاتی۔۔۔۔
بعض اوقات ڈرامہ مووی سرچ کرتے ہوٸے ایسے ہیجان خیز مناظر سامنے آ جاتے کہ تن بدن میں آگ لگ جاتی۔۔۔
یہ احساس تب اور بڑھ جاتا جب میری روم میٹ ہنس ہنس کے مجھے بھین جی کہتی اور خود بڑے بولڈ انداز میں مختلف لڑکوں سے گپیں لگاتی۔۔۔
میں نے کافی بار محسوس کیا کہ تین چار لڑکیاں سب کے سونے کے بعد لیپ ٹاپ بستر میں رکھ لیتی ہیں اور ایسا لگتا تھا کہ وہ کپڑے اتار رہی ہیں۔۔۔
لیکن تب میں اِسے اپنا وہم سمجھ کے اگنور کر دیتی۔۔۔
کچھ ہفتے اِسی کیفیت میں گزر گٸے تبھی میری ایک روم میٹ نے بقول اس کے مجھ پہ ترس کھاتے ہوٸے مجھے اپنے نمبر پہ فس بک آٸی ڈی بنا کے دی اور مسنجر انسٹال کر کے دیا اور فیس بک یوز کرنے کا طریقہ سکھایا۔۔۔
کچھ دن بعد ہی میں فیس بک چلانے میں بہت ماہر ہو گٸی اب تو حالت یہ تھی کہ صبح شام فیس بک اور مسنجر۔۔۔
مختلف لڑکوں سے باتیں کر کے بہت اچھا لگتا۔۔۔
جب لڑکے میری پوسٹ پہ آ کے میری تعریف کرتے دس دس کمنٹ ایک ایک لڑکا کرتا تب میں خود کو ہواٶں میں اڑتا محسوس کرتی۔۔۔۔
میں اگر لِکھ دیتی کہ طبیعت خراب ہے تو میری پوسٹ پہ سیڈ کمنٹ اور سیڈ ریکٹ کے انبار لگ جاتے۔۔۔
لڑکے انبکس آ کے میری خریت پوچھتے مجھے اپنا خیال رکھنے کی تلقین کرتے۔۔۔
تب مجھے لگتا کہ میں کسی ریاست کی شہزادی ہوں اور یہ سب میری ریایا ہے۔۔۔
اب میرے لیکچر چھوٹنے لگے زیادہ وقت فیس بک اور مسنجر پہ سرف ہونے لگا۔۔۔۔
پھر میری ایک روم میٹ نے معنی خیز لہجے میں مجھے کہا کہ تو بہت خوبصورت ہے بہت پیاری ہے تم اس کا فاٸدہ کیوں نہیں اٹھاتی۔۔۔
میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں کہا سمجھی نہیں میں تم کیا کہنا چاہتی ہو۔۔۔
اُس نے کہا تو بھی پاگل ہے فری میں انبکس لڑکوں سے باتیں کرتی رہتی ہے۔۔۔
ارے انکبس میں کبھی کسی لڑکے کا نام اپنے ہاتھ پہ لکھ کے سینڈ کر دیاکبھی کسی کا نام بازو پہ لکھ کے بھیج دیا۔۔
اُن کو پاگل بناٶ ایوو میں ریچارج کرواٶ بیلس منگواٶ اور اگر کوٸی قریب کا مرغا پھنس گیا تو اُس سے پزا برگر بھی منگوا لیا اُسے کہا یونیورسٹی کے گیٹ پہ آ جا اور پھر خود جا لے آیا۔۔۔
روم میٹ نے مجھے آنکھ مارتے ہوٸے کہا۔۔
نہیں مجھے اِن سب کی ضرورت نہیں میرے بابا ہر ویک مجھے پیکج کروا کے دیتے ہیں اور پیسے بھی دیتے ہیں جو مرضی لے لینا۔۔۔۔
سو یہ سب تم لوگوں کو مبارک۔۔۔
ویسے بھی میری منگنی ہو گٸی ہے میں نے سختی سے جواب دے دیا۔۔۔
تب اس نے ہنستے ہوٸے کہا یار پلیز ہم غریبوں کی مدد کر دیا کرو
تم نا لینا بیلس یا لوڈ مجھے دے دینا اور ویسے بھی اب تم یونیورسٹی لاٸف میں ہو۔۔۔
اب نہیں فن کرو گی تو کب کرو گی جی لو کھل کے یہ دو سال اس کے بعد تو جاب شادی اور بچے ہوں گے۔۔۔
اتنا کہ کر اس نے میرے گال چوم لٸے میرا چہرہ ایک دم شرم سے لال ہو گیا
میں نے اُسے خود سے دور کرتے ہوٸے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں ہے اس کی۔۔۔
لیکن اب میری وہ روم میٹ آتے جاتے مجھے چھیڑتی رہتی۔۔
کچھ دن ایسے ہی گزرے پھر میری ایک لڑکے توصیف سے مسنجر پہ بات شروع ہو گٸی۔۔۔
وہ بہت اچھی پوسٹ کرتا تھا
پورا دن مجھے میسج کرتا رہتا یا میری پوسٹ پہ لاٸک کمنٹ کرتا رہتا۔۔۔۔۔
بات ہونے کے کچھ دن بعد ہی ہم لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب آ گٸے۔۔۔
اب تو ہر وقت بے چینی رہنے لگی اور توصیف سے بات ہونے کا انتظار رہنے لگا۔۔۔
توصیف دن کو ڈیوٹی پہ ہوتا تھا اس لٸے رات کو ہم بات کرتے بارہ بجے تک۔۔
ہم لوگ بہت جلد میسج سے ویڈیو کال پہ آ گٸے اور اب اچھی باتوں کے بجاٸے ہمارے درمیاں گندی باتیں ہونے لگی۔۔۔
وہ ہر وقت مجھ سے میرے جسم کی بناوٹ کے بارے میں بات کرتا اور میں جس حصے کا بتاتی وہ وہ فورًا کہتا رکو پہلے مجھے اُس جگہ کِس کرنے دو۔۔۔۔
اور جب وہ ummmmmmmmaaaahhhh لِکھ کے بھیجتا تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔۔۔۔
پھر یہ باتیں اس حد تک بڑھیں کہ ہم نے سب حدیں ویڈیو کال پہ ہی کراس کر لی۔۔
ایک دن توصیف نے کہا میں تمہیں بنا شرٹ کے دیکھنا چاہتا ہوں
میرے لٸے یہ بات اچانک تھی اِس لٸے بہت غصہ آیا اور کال بند کر دی تین چار دن توصیف سے بات نہ کی لیکن دل اتنا بے چین تھا جس کی حد نہیں۔۔۔۔
دل بار بار کہتا بات کرو اُس سے مان لو بات اُس کی۔۔۔
اِس دوران توصیف بار بار کال اور میسج کرتا رہا اور سوری کرتا رہا۔۔۔
پھر توصیف نے مجھے قسم دی کے اگر آج تم نے کال پک نہ کی تو میں اپنی کلاٸی کی رگ کاٹ لوں گا۔۔۔۔
تب مجھےکال پک کرنی پڑی۔
اب ہم نے کھل کے ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کر لیا تھا۔
توصیف قطر ہوتا تھا اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ گھر آتے ہی میرا رشتہ مانگےگا۔
میں نے بتایا میری منگنی ہو گٸی ہے اور شادی مشکل ہے لیکن اُس نے کہا یہ مجھ پہ چھوڑ دو میں منا لوں گا۔۔۔
کچھ دن ہم نے ایسے ہی محبت میں بات کرتے ہوٸے گزار دیٸے۔۔۔۔
پھر ایک رات میں نے محبت سے مجبور ہو کے ویڈیو کال پہ خود کو تصیف کے سامنے نیوڈ کر دیا۔۔۔
وہ جو جو کہتا گیا میں اتارتی گٸی سردی کی راتیں تھی سب روم میٹ سو رہی تھی۔۔۔۔
اور کمبل میں یہ سب کرنا بہت آسان تھا میں نے لیپ ٹاپ کی روشنی میں توصیف کو اپنا پورا جسم دکھا دیا۔۔۔۔
اُس نے بھی مجھے اپنی باتوں سے ایسے فیل کروایا کہ جیسے وہ میرے پاس ہو۔۔۔
اب تو روز ہی یہ سلسلہ چل نکلا جب سب روم میٹ سو جاتی تو ہم ایک دوسرے میں ایسے کھو جاتے جیسے بلکل پاس ہوں۔۔
مجھ پہ ایک نشہ چھانے لگا توصیف کی باتوں سے۔۔
اب میں گھر بھی آتی تو سٹڈی کے بہانے روم میں ہی لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھی رہتی۔۔
اور رات ہونے کا ویٹ کرتی رہتی۔۔۔
کچھ ویک کے بعد اب توصیف بہانوں سے مجھے اگنور کرنے لگا کبھی کام زیادہ ہے طبیعت نہیں سہی اور کبھی نیند آٸی ہے۔۔۔
میں جب بھی کہتی مجھے کِس کرو مجھے بانہوں میں بھر لو مجھے پیار کرو وہ اکتا کے کہتا ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔۔
میں اتنے دور سے ایسے کیسے کر سکتا ہوں تب مجھے اُس پہ بہت غصہ آتا اور لڑاٸی ہو جاتی اور میں کہتی کہ کل تک تم یہ سب دور سے کر سکتے تھے ۔۔۔
ویڈیوں کال پہ تم مجھے اپنے پاس محسوس کرواتے تھے میرا جسم تمہیں اچھا لگتا تھا میرا جسم چومتے نہیں تھکتے تھے اب کہتے ہو میں دور سے یہ کیسے کر سکتا ہوں ۔۔
لیکن وہ ٹال دیتا۔۔
اب میری طبیعت میں چڑ چڑا پن آ گیا تھا
ہر وقت ہمارے درمیان لڑاٸی رہنے لگی۔۔۔
اور پھر کچھ دن بعد توصیف نے آٸی ڈی بند کر دی۔۔۔
میں نے بار بار توصیف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مسلسل آف لاٸن تھا۔۔۔
میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور ہر وقت لیٹی رہتی۔۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرو کیسے جیوں اس کےبنا۔۔۔
مجھے اِس طرح اپ سیٹ اور پریشان دیکھ کے میری ایک روم میٹ نے بہت ہمدرری جتاٸی اور مجھ سے پریشانی کی وجہ پوچھی۔۔۔میں جو پہلے ہی توصیف کے غم میں نڈھال تھی زرہ سی توجہ اور ہمدردی پا کے رو پڑی اور اُسے سب کچھ سچ بتا دیا۔۔۔
روم میٹ مجھے کافی دیر ساتھ لگاٸے تسلیاں دیتی رہی اور آخر میں کہا کہ پگلی تمہیں سیریس ہونے کے لٸے کس نے کہا تھا انجوٸے کروں۔
یہ سوشل میڈیا ہے ہی ایسا یہاں روز رشتے بنتے ہیں روز ٹوٹ جاتے ہیں اِس لٸے کسی کو سیریس مت لو۔۔۔
اور مجھے آنکھ مارتے ہوٸے بولی کہ اگر کہوں تو میں کوٸی ڈھونڈ دوں اچھا سا۔۔۔
میرے بواٸے فرینڈ کا ایک دوست ہے بہت اچھا بندہ اُس سے بات کروا دوں تمہاری۔۔۔
بہت خوبصورت ہے تمہاری بہت کیٸر کرے گا سارا خرچہ بھی اٹھاٸے گا بس کبھی کبھار ملنے چلی جانا اُسے۔۔۔
میں نے سختی سے منع کر دیا۔۔۔
لیکن رہ رہ کے توصیف کی گندی باتیں یاد آتی توصیف کی گندی باتوں اور فیلنگ نے میرے اندر آگ لگا دی تھی نماز پڑھتی تو اُس میں بھی سکون نہ آتا
دل کرتا کوٸی ہو جو مجھ سے ہر وقت بات کرے۔۔
اور پھر کچھ دن بعد میری نظر سے ایک پوسٹ گزری ضرورت براٸے گرل فرینڈ کوٸی شریف لڑکی ہے تو انکبس رابطہ کرے۔۔۔ منجانب جہاں سکندر
مجھے فیس بک کی دنیا کا پتہ نہیں تھا کے اِس میں زرہ سی جھول انسان کی زندگی تباہ کر دیتی ہے۔۔
میں نے ایسے ہی اُس لڑکے کی پروفاٸل چیک کی جس پہ اس نے کافی اچھی پوسٹ کر رکھی تھی۔۔۔
میرے دل میں ناول والے جہاں جہاں سکندر کیا حلیہ گھوم گیا۔۔
مجھے لگا کہ یہ بھی ناول والے جہاں سکندر جیسا ہی ہوگا۔۔۔۔
یوں میں نےاُس کو فالو پہ کر لیا اب اُس کی پوسٹ اکثر نظر سے گزرنے لگی اور میں کبھی کبھار لاٸک بھی کرنے لگی۔۔۔
جہاں سکندر تھا بھی خوبصورت وہ جب بھی اپنی پک پوسٹ کرتا لاٸک کرنے والی لڑکیوں کی لاٸن لگ جاتی۔۔۔
کچھ دن بعد اُس لڑکے کا مجھے میسج آیا اور ہماری بات شروع ہو گٸی اس کا نام سکندر تھا کافی اچھے سے بات کرتا تھا
کافی سمجھدار لڑکا تھا
اب ہمیں کافی دن بات کرتے ہوٸے ہوگٸے تھے
ہم اب ایک دوسرے بہت حد فری بھی ہو چکے تھے۔
اِسی دوران میں نے دو تین بار سکندر کو آزمانے کے لٸے اُس سے لوز ٹاک کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے ٹال دیا۔۔۔
اور مجھے اپنی سٹڈی پہ دھیان دینے کا کہا اب وہ اکثر مجھ سے میری سٹڈی اور کھانے پہ بات کرنے لگا اور میں لاپرواٸی کرتی تو وہ مجھے ڈانٹ دیتا۔۔۔
میں بھی بہت خوش تھی کہ اُس کو اتنی لڑکیاں چاہتی ہیں لیکن وہ پھر بھی مجھ سے بات کرتا ہے۔۔۔۔۔
اب ہم لوگ گھنٹوں ویڈیو کال پہ بات کرتے رہتے۔۔
پھر میرے امتحان شروع ہو گٸے اور ہماری بات کم
ہونے لگی۔۔
اب چھٹیاں ہو گٸی تھی تو مجھے گھر جانا تھا اس لٸے سب کلاس فیلو نے ایک پارٹی رکھی اور خوب انجوٸے کیا۔۔
سکندر نے مجھے جانے سے پہلے ایک بار ملنے کا کہا کیونکہ وہ بہاولپور کا ہی تھا ۔۔۔
میں بھلے جیسی بھی تھی لیکن اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی تھی۔۔۔
اس لٸے سختی سے انکار کر دیا گو کے سکندر نے مجھ سے کبھی کوٸی غیر اخلاقی بات نہیں کی تھی آج تک۔۔۔
لیکن پھر بھی ملنے کے لٸے میں کسی صورت تیار نہ تھی۔۔۔
چھٹیاں ہوتے ہی میں گھر آ گٸی اور کچھ نا ملنے کی وجہ سے سکندر میرے ساتھ غصہ رہنے کے بعد ٹھیک ہو گیا۔۔۔
پوری چھٹیاں میں نے اور سکندر نے خوب باتیں کی لیکن اُس نے کبھی بھی کوٸی خیر اخلاقی بات نہ کی۔۔
اب میں بھی اس کی شرافت کی قاٸل ہو گٸی تھی اور پھر ایک دن سکندر نے اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔۔
توصیف جیسے لڑکے کے بعد سکندر جیسا شریف لڑکا ملنا میرے لٸے نعمت سے کم نہیں تھا
جس نے مجھے اس گندے ماحول سے نکالا تھا۔۔۔
اِس لٸے کچھ دن کی باتوں کے بعد میں نے بھی محبت کا اقرار کر لیا۔۔۔
اب ہم گھنٹوں ایک دوسرے کی محبت میں کھوٸے رہتے اور باتیں کرتے رہتے۔۔
بابا اور بھاٸی پورا دن ڈیرے پہ ہوتے تھے ماں سادہ تھی یہی سمجھتی کہ لیپ ٹاپ پہ پڑھ رہی ہوں۔۔۔
چھٹیاں ختم ہوتے ہی میں دوبارہ ہاسٹل آ گٸی اور ضد کر کے ابو سے موباٸل بھی لے لیا اب سکندر کی اور میری باتیں فون پہ ہونے لگی۔۔۔
اور میں اُس کی محبت میں فل پاگل ہو گٸی
کچھ دن بعد سکندر کی ایک بار پھر ڈیمانڈ آٸی کہ ملو مجھ سے میں نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا۔۔
تب اس نے کہا کہ مجھ پہ بھروسہ نہیں ہے تمہیں
میں نے بتایا کہ بھروسہ ہے لیکن میں مل نہیں سکتی
اُس نے مجھے اپنی محبت اور سچاٸی کا یقین دلانے کے لٸے اپنی بہن کا نمبر دیا اور کہا بات کر لو۔۔۔
اب سکندر کی بہن سے بھی میری بات ہونے لگی کچھ ہی دن میں ہماری دوستی ہو گٸی۔۔۔
کبھی کبھی سکندر کی امی سے بھی بات ہو جاتی وہ لوگ بہت خوش ہوتے مجھ سے بات کر کے ۔۔۔
اور میں اب سکندر پہ پورا بھروسہ کرنے لگی۔۔۔۔
ایک دو بار سکندر کی بہن یونیورسٹی بھی آٸی میرے لٸے اور میری روم میٹ کے لٸے کھانا چاکلیٹ وغیرہ لے کر اور بھی گفٹ لاٸی ۔۔۔
وہ مجھے سب کے سامنے بھابھی کہتی تو مجھے بہت اچھا لگتا۔۔
پھر سکندر نے مجھ سے میرے گھر کا ایڈریس لیااور جب ویک اینڈ پہ میں گھر آٸی تو اپنی بہن کو لے کر ہمارے گھر آ گیا۔۔
باہر آ کے سکندر نے کال کی کہ آپی اور میں تمہارے گھر کے باہر گھڑے ہیں تمہارا رشتہ لینے آٸے ہیں۔۔
مجھے ایک خوبصورت احساس ہوا۔۔۔
اور میں نے امی سے جھوٹ بولا کہ میری ایک دوست شہر سے مجھے ملنے آٸی ہے۔۔۔
امی نے کہا ست بسمہ اللہ بلا لے پتر تبھی ہمارے گھر کام کرنے والی نے آ کے بتایا کہ باہر کوٸی لڑکی میرا پوچھ رہی ہے۔
امی اور میں باہر آٸے تو ایک حاضر ماڈل نیو کرولا ہمارے گھر کے سامنے گھڑی تھی۔۔۔
میں پہلی بار سکندر کو ایسے فیس ٹو فیس دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ بہت پیارا اور ہینڈسم تھا
امی ان لوگوں کو اندر لے آٸی اور دیسی ماحول کے مطابق خدمت کی۔۔۔
جاتے ہوٸے سکندر کی بہن نے میری ماں سے کچھ دیر علیحدہ بات کی اور چلے گٸے ۔۔۔
سکندر کی بہن نے امی کو یہ کہا تھا کہ آپ کی بیٹی میری کلاس فیلوں ہے اور مجھے بہت پسند ہے میرا بھاٸی پولیس میں بہت بڑا افسر ہے ہم سدرہ کا رشتہ لینا چاہتے ہیں۔۔۔
امی نے سوچنے کی بات کہ کر ان کو بھیج دیا اور بعد میں مجھےسمجھایا کہ تیرے بابا کبھی نہیں مانے گیں۔۔
تو باز آ جا۔۔
اب میں یونیورسٹی گٸی تو سکندر نے مجھے ملنے پہ فورس کر لیا اور وعدہ کیا کہ ساتھ آپی بھی ہو گٸی اور میں نے ہامی بھر لی ۔
دو گھنٹے ہم لوگ گھومتے رہے اور پھر کھانا کھا کے انہوں نے مجھے یونیورسٹی اتار دیا۔۔
اب تو میرا سنکدر کے بنا ایک پل بھی نہیں گزر رہا تھا اِسی لٸے کچھ دن بعد ہم نے پھر ملنے کا پلان کیا اور اِس بار ہم آپی کے بنا ملے۔۔۔
کچھ دیر ساتھ رہے کھانا کھایا جب سکندر مجھے واپس یونیورسٹی چھوڑنے آیا تو میری طرف کا سیٹ بلیٹ پھنس گیا جب مجھ سے نا کھلا تو سکندر نے میری مدد کی سیٹ بلیٹ کھولنے میں۔۔۔۔۔۔۔
اور کھولتے ہوٸے سکندر کے بازوں کا دباٶں مسلسل میرے سینے پہ پڑ رہا تھا۔۔۔
اُس کے ہونٹ مسلسل میرے ہونٹوں کے پاس تھے۔۔
یہ ایسا لمحہ تھا جس نے مجھے بے چین کر دیا اور مجھ پہ ایک نشہ چھا گیا
میں ہاسٹل آ کے بھی سکندر کے بازوں کا دباٶ أپنے سینے پہ محسوس کر رہی اور یہ بات مجھے لُطف دے رہی تھی۔۔۔
ہم دونوں پورا ہفتہ اِس بات کو یاد کر کے سرور حاصل کرتے رہے۔۔۔
اور پھر ہم نے ملنے کا پلان بنایا اس بار سکندر مجھےایک ایسے ہوٹل لے گیا جہاں پہ روم بھی ملتے تھے اس نے وہاں پہلے سے روم بک کروا رکھا تھا۔۔۔۔
یہاں تک پہنچ کے سدرہ کی ہمت جواب دے گٸی اور وہ پھوٹ پھوٹ کہ رو پڑی۔۔۔
میرے پاس بھی کوٸی الفاظ نہیں تھے کہ اسے حوصلہ دوں بس بس چپ چاپ اس کی بربادی کی داستان سن رہا تھا
جاری ہے۔۔۔۔
نوٹ۔۔
جب ایک لڑکی ان باتوں کے چنگل میں پھنس جاتی ہے تو پھر وہ چاہ کے بھی ان سے نہیں نکل سکتی۔۔
لوز ٹاک ایک ایسا گندہ نشہ ہے کہ نا ملے تو انسان کا سکون کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے سدرہ کو چپ کیسے کرواٶں اُس کی صحت کے لٸے ٹینشن لینا اور رونا خطرناک تھا۔۔
میں بنچ سے اٹھا اور پاس پڑی بوتل سے پانی گلاس میں ڈال کے سدرہ کے پاس آ گیا۔۔۔۔۔
اُس کے کندھے کو تھپتھپایا سِڈ حوصلہ رکھو۔۔۔
سِڈ تم تو بہت حوصلے والی ہو یہ لو پانی پیو۔۔۔
کچھ دیر بعد جب سدرہ کے ہوش و ہواش بحال ہوٸے تو اُس نے میرے منع کرنے کے باوجود دوبارہ بات وہی سے شروع کی جہاں سے روکی تھی اور نا چاہتے ہوٸے مجھے سننا پڑی۔۔۔
سدرہ نے بتانا شروع کیا سکندر اور میں جب ہوٹل روم میں پہنچے تو مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔
آج کا دن میرے لٸے سیاہ ترین دن ہے اور آج کا دن میری زندگی ہمیشہ کے لٸے برباد کر دے گا۔۔۔۔
کچھ دیر ہم لوگ ہنسی مزاق کرتے رہے کوک پی لیز کھاٸے
سینڈوچ کھاٸے میں بیڈ پہ بیٹھی تھی اور سکندر چیٸر پہ۔۔۔
جب ہم کھانے سے فری ہوٸے تو میں نے کہا اب چلیں سکندر دیر ہو رہی۔۔۔
سکندر نے میرے چہرے کو دیکھتے ہوٸے معنی خیز انداز میں کہا ایسے ہی چلے جاٸیں۔۔۔۔
اتنے ٹاٸم کے بعد تو ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ ملا ہے تو اِس ساتھ کو کیوں نہ امر کر دیں ہمیشہ کے لٸے۔۔۔
اِتنی بات کہ کر سکندر اٹھ کے میرے پاس بیڈ پہ آ گیا۔۔
میں زرہ سی دور ہوٸے تو سکندر نے ہنستے ہوٸے کہا جان جی گاڑی والا سین یاد ہے تمہیں میرے بازوں کا دباٶں پڑنا😘😘
میں نے انجان بنتے ہوٸے کہا کون سا سین اب میرے دل کی ڈھرکن بہت بڑھتی جا رہی تھی دماغ میں ایک انجانا خوف پیدا ہو رہا۔۔
ہاہاہاہاہا سکندر نے قہقہ لگایا مجھے یاد ہے جب میں سیٹ بلیٹ کھولنے لگا تھا۔۔۔
اچھا چھوڑو بتانا کیا ہے پریٹیکل کر کے دکھاتا ہوں۔۔
یہ کہتے ہوٸے سکندر نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا میں نے کافی کوشش کی خود کو آزاد کروانے کی مگر سکندر کی پکڑ بہت مضبود تھی۔۔۔۔۔
کچھ پل بعد میری آنکھوں سے آنسٶ بہنے لگے تو سکندر نے مجھے چھوڑ دیا۔۔۔
سدرہ میری جان کیا ہوا پلیز رونا بند کرو سکندر نے مجھے چپ کرواتے ہوٸے کہا۔۔
پیلز مجھے یونیورسٹی اتار دو میں یہ سب نہیں کر سکتی میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں۔۔
میں نے سکندر سے التجا کی۔۔۔
سکندر نے کوک گلاس میں ڈال کے مجھے پکڑاتے ہوٸے کہا اچھا کوک پیو ہم واپس چلتے ہیں۔۔
میں نے ایک ہی سانس میں پورا گلاس ختم کر لیا۔۔۔
اب چلیں پلیز میں نے ایک بار پھر التجا کی۔۔۔
سکندر کچھ پل میری آنکھوں دیکھتا رہا اور بولا اچھا ٹھیک ہے ہم کچھ کوٸی ڈرٹی کام نہیں کریں گے۔۔
لیکن پیار تو کچھ دیر کر سکتے ہیں نا۔۔
پلیز میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے اِتنا تو میرا حق ہے
اور صرف لپ کِس اور گرن کِس کروں گا پلیز سدرہ مان جاٶ نا میری جان ہو نا۔۔۔۔
سکندر نے فل اداس ہونے کی ایکٹنگ کی جسے میں اُس وہ سمجھ نہ سکی۔۔۔
محبت تو اُس سے میں بھی کرتی تھی لیکن یہ سب غلط تھا لیکن میں سکندر کو نا اداس دیکھ سکتی تھی اور نا ہی ناراض کر سکتی تھی
میں پیار سے سکندر کے بال بگاڑے اور بانہیں گلے میں ڈالتے ہوٸے کہا پیار سے اچھا ٹھیک لیکن صرف پیار کرنا ہے اور کچھ نہیں مجھے آپ پہ پورا بھروسہ ہے۔۔۔
مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا صرف پیار اور کچھ نہیں اصل میں یہی فیلنگ کو اِتنی ہوا دے دیتا ہے کے پھر سب کچھ ہو جاتا ہے۔۔۔۔
سکندر نے خوش ہوتے ہوٸے کہا اچھا ایک بات اور سدرہ پلیز پلیز منع مت کرنا۔۔
سکندر نے ہاتھ جوڑتے ہوٸے کہا۔۔
کیا بات ہے مجھے لگا وہ اُسی بات پہ زور دے گا۔۔۔
لیکن سکندر نے مجھے بانہوں میں لیتے ہوٸے پیار سے کہا
میری جان تم مجھے پھر ملنے نہیں آٶ گی اور نا ہی میں چاہتا ہوں
کیونکہ تم میری عزت ہو اور میں نہیں چاہتا کہ میری عزت یوں ہوٹلوں میں بدنام ہو۔۔۔
سکندر کی اِس بات پہ میرا دل جھوم اٹھا دل کر رہا تھا کہ ابھی سکندر پہ اپنی زندگی وار دوں۔۔۔
آج کے بعد ہم نکاح ہونے تک باہر ملے بھی تو صرف کھانا کھاٸیں گے کسی اوپن جگہ پہ
میں نے اثباب میں سر ہلا دیا جیسے آپ کہیں سکندر مجھے آپ پہ پورا بھروسہ ہے۔۔۔
سدرہ میری جان میں چاہتا ہوں کے آج ملنے تو ویسے لگے ہیں اور کوٸی غلط کام بھی نہیں کرنا۔۔۔
صرف پیار ہی تو کرنا ہے
اس لٸے میں چاہتا ہوں کہ ہم جو پیار کریں اُس کو کیمرے میں قید کر لیں۔۔۔
اُس کی مووی بنا لیں جب بھی دل اداس ہو گا دونوں مل کے دیکھ لیں۔۔۔
کیونکہ میری جان اب کبھی میں آپ کو ہوٹل نہیں لاٶں گا آپ عزت ہو میری۔۔۔
سکندر نے پیار سے میری پیشانی چومتے ہوٸے کہا
مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ ویڈیو میری بربادی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی
جس سے محبت کی جاتی ہے سب سے پہلے اُس پہ ٹرسٹ کیا جاتا ہے
میں بھی سکندر سے محبت کرتی تھی ٹرسٹ کرنا میری مجبوری تھی اس لٸے سکندر کی بار بار ریکویسٹ اور میری جان میری عزت اور نکاح جیسے جھوٹے وعدے پہ اُس کو ویڈیو بنانے کی اجازت دے دی۔۔۔سکندر نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھ سے نکاح کرے گا
سکندر نے موباٸل ویڈیو موڈ پہ کر کے مجھے کہا کے بیڈ پہ لیٹ جاٶ تانکہ سیٹ کر کے رکھ سکوں جس میں ہم دونوں کی ویڈیو اچھی اور صاف آٸے۔۔۔
اپھر وہ موباٸل بیڈ کے سات پڑی ٹیبل پہ سیٹ کر کے بیڈ پہ آ گیا۔۔۔
کچھ دیر ہم لوگ ایسے ہی لیٹے ہوٸے پیار کرتے رہے لیکن اب بات کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔
ایک جوان لڑکی لڑکا اکیلے روم میں ہوں اور اِس حالت میں بیڈ پہ ہوں تو کنٹرول تو مشکل ہونا ہی تھا۔۔
اب سکندر نے میرا ڈریس ریموو کرنا شروع کیا تو میں نے ایک بار پھر رونا شروع کر دیا۔۔۔
لیکن سکندر نے مجھے سمجھایا کہ تم میری جان ہو میری زندگی ہو میں تم سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔۔۔
تم میری آپی کو جانتی ہو اُن سے مل چکی ہو میری امی سے بات کر چکی ہو میں اور میری بہن تمہارے گھر تمہارا رشتہ مانگنے آ چکے ہیں۔۔۔۔
اب بھی تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں دھوکہ دوں گا۔۔
یہ کہتے ہوٸے سکندر نے میرے ہونٹوں پہ پیار کیا اور میں بے بس ہو گٸی اور دل سکندر کے حق میں دلیلیں دینے لگا کہ وہ ایسا نہیں ہے وہ دھوکہ نہیں دے گا وہ تم سے نکاح کرے گا۔۔۔
لیکن میں نے پھر تصدیق چاہی کہ سکندر اگر میرے گھر والے نہ مانے تو۔۔
تو ہم کورٹ میرج کر لیں گے سکندر نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا۔۔۔
پکا نا مجھے چھوڑو گے تو نہیں
میرے اندر کا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
اف پاگل لڑکی کہو تو کل ہی کر لیتے ہیں نکاح یہ کہتے ہوٸے ہوٸے سکندر مجھ پہ جھک گیا اور میں نے خود کو اُس کے حوالے کر دیا۔۔۔
جب ہوش آیا تو میں اپنی سب سے قیمتی اور انمول چیز عزت سکندر پہ نچھاور کر چکی تھی۔۔۔
سکندر نے مسکراتے ہوٸے میرے جسم سے کمبل کھینچ کے کہا سدرہ تمہیں واقعی رب نے بہت فرصت سے بنایا ہے
تمارے جیسا پیارا اور سوفٹ جسم آج تک میں نے کسی لڑکی کا نہیں دیکھا۔۔
سکندر کی اِس بات نے مجھے چونکا دیا
کسی لڑکی کا ایسا جسم نہیں دیکھا مطلب آپ میرے سے پہلے بھی ایسا کر چکے ہو لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔
میں نے غصے سے سکندر کو دیکھتے ہوٸے کہا۔۔
سکندر کے چہرے پہ ایک رنگ سا آ کے گزر گیا وہ بات سنبھالتے ہوٸے بولا ارے یار توبہ ہے ویسے۔۔۔۔
یہ الزام ہے مجھ معصوم پہ
میں کیوں ایسا کروں گا کسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔
یار مووی وغیرہ میں دیکھتا ہوں لڑکیوں کا جسم
تو میں یہ کہ رہا تھا کہ اتنا پیارا جسم مووی میں بھی نہیں دیکھا کسی لڑکی کا آج تک
میرا دل قدرے مطمٸن ہو گیا کیونکہ جس سے انسان کو محبت ہو اُس کے خلاف بندہ سوچ ہی نہیں سکتا۔۔۔۔
ہم لوگ دو گھنٹے ساتھ گزار کے ہوٹل سے باہر آ گٸے۔۔۔
سکندر نے مجھے یونیورسٹی چھوڑا اور چلا گیا
گناہ کا پچھتاوا الگ تھا لیکن سکندر کی قربت کا نشہ بھی الگ تھا۔۔
اب ہم ایک دوسرے کو واٸف ہسبنڈ کہ کر بلانے لگے میں نے اپنی آٸی ڈی ماہم خان کے نام سے بناٸی ہوٸی تھی اب اُس پہ ماہم سکندر لکھ لیا۔۔۔
میرا لاسٹ سمسٹر تھا اور پیپر کے بعد مجھے گھر آنا اس لٸے جب سکندر کو بتایا کہ میں نے پیپر کے بعد گھر چلے جانے ہے۔۔۔۔۔
تو وہ ہر بات بہ بات مجھے ملنے کے لٸے مجبور کرنے لگا دل میرا بھی چاہتا تھا کہ ملوں سکندر سے۔۔۔
لیکن اب میں پہلے والی غلطی کرنے کے حق میں نہیں تھی اس لٸے میں نے رات کو جب سکندر کی کال آٸی تو اس سے صاف صاف بات کرنے کا سوچا۔۔
رات کو سکندر کی کال آٸی تو سب سے پہلی بات ہی اُس نے ملنے کی۔۔۔
دیکھیں سکندر میں آج بھی آپ کی ہوں کل بھی آپ کی رہوں گی میرا جسم آپ نے دیکھ لیا ہے۔۔
میرے ساتھ سیکس آپ نے کر لیا ہے اب کوٸی مانے یا نا مانے میں شادی صرف آپ سے کروں گی۔۔۔
لیکن میں بنا نکاح کے اب ایسے ملنے کے حق میں نہیں ایک بار غلطی کر لی زنا کر لیا اللہ وہ معاف کر دے اب اور نہیں۔۔
آپ نے اگر کورٹ میرج بھی کرنی ہے تو میں تیار ہوں لیکن ایسے نہیں ملنا اب میں نے۔
میں نے دو ٹوٹ الفاظ میں منع کر دیا۔۔
یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے سکندر نے غصے سے پوچھا
ہاں یہ میرا آخری فیصلہ ہے میں نے بھی اُسی کے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
تم اچھا نہیں کر رہی سدرہ جان یہ فیصلہ تمہیں مہنگا پڑے گا سکندر کا لہجہ اچانک بدل گیا۔۔
میں تو اچھا کرنے کا ہی سوچ رہی ہوں نکاح کرو پوری زندگی تمہاری ہوں جو مرضی کرنا۔۔۔
کورٹ میرج کا فیصلہ کر کےماں باپ کی عزت بھی خراب کر رہی ہوں صرف تمہاری محبت کے لٸے
ہاہاہاہاہاہا نکاح تم سے اچھا سوچتے ہیں تم پیپر سکون سے دو دیکھتے ہیں نکاح بھی ہاہاہاہا
سکندر نے قہقہ لگاتے ہوٸے کال بند کر دی۔۔
سکندر کے اس قہقے نے مجھ توڑ کے رکھ دیا دل گھبراہٹ سے دل پھٹا جا رہا تھا۔۔۔
لیکن پھر بھی اِتنا یقین تھا کہ سکندر میری محبت ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا وہ کچھ بھی غلط نہیں کرے گا دل میں ایک انجانا خوف پیدا ہو رہا تھا۔۔۔
پھر دل کو تسلی دی کہ اُس کی ماں اور بہن بھی تو ہے اُن سے بات کروں گی وہ بھی تو عورتیں ہیں مجھے سمجھیں گی۔۔۔جتنے دن پیپر ہوتے رہے سکندر بس شام کو دس منٹ کال کرتا اور پیپر کیسا ہوا ہے پوچھ کے بند کر دیتا۔۔
جس دن لاسٹ پیپر تھا اُس رات کو سکندر نے مجھے دو گھنٹے کی کال کی اور صبح ملنے کے لٸے فورس کرنے کی کوشش کی۔۔
دیکھو سدرہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور وعدہ بھی کیا ہے کہ تم سے نکاح بھی کروں گا۔۔۔
جب ہم نے یہ سب ایک بار کر لیا ہے تو دوسری بار کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔
سکندر مجھے آپ پہ شک نہیں ہے لیکن میرا دل نہیں کرتا اب بنا نکاح کے ایسا کروں پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔۔
پہلے والا گناہ بہت ستاتا ہے۔۔۔
دو گھنٹے وہ کوشش کرتا رہا کہ میں صبح ملنے کے لٸے راضی ہو جاٶں لیکن میں نہ مانی اور اُس نے غصے میں کال بند کر دی۔۔۔
میری رات روتے ہوٸے گزری اور آزان کے وقت آنکھ لگ گٸی۔۔
دس بجے میں اٹھی اور ابو کو کال کی کہ تین بجے آپ لینے آ جانا سوچہ یہی تھا کہ سکندر سے بات کر کے اُسے منا کے جاٶں گی۔۔
سکندر کا نمبر ٹراٸی کیا تو آف تھا۔۔
پریشانی ہوٸی سوچا واٹس آپ پہ دیکھتی ہوں آن لاٸن ہے یا نہیں
لیپ ٹاپ آن کر کے جیسے ہی واٹس ایپ آن کیا سکندر کے دو میسج آ گٸے
سدرہ ڈیٸر بہت ہو گٸی محبت۔۔
ایک ویڈیو بھیج رہا ہوں دیکھ لینا۔۔
اور پورے بارہ بجے یونیورسٹی کے گیٹ پہ آ جانا پک کر لوں گا صرف دو گھنٹے میرے ساتھ رہنا اس کے بعد واپس چھوڑ دوں گا۔۔
اور اگر نا آٸی تم مجھے ملنے تو یہ ویڈیو انٹرنیٹ پہ ڈال دوں گا اور اگر آگٸی تو ڈیلیٹ کر دوں گا۔۔۔
تب تک ویڈیو ڈوٶن لوڈ ہو چکی تھی جیسے ہی اوپن کی ویڈیوں دیکھ کے میرا دل اچھل کے حلق میں آ گیا۔۔۔
وہ میری اور سکندر کی ویڈیو تھی جس میں سکندر کے چہرے پہ تو کوٸی دھندلی سی چیز آ رہی تھی لیکن میرا چہرہ اور جسم بلکل صاف نظر آ رہا تھا ایک سیکنڈ سے بھی پہلے پتہ چل جاتا تھا میں ہوں ویڈیو اتنی صاف تھی۔۔۔
میری آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھےگبھراہٹ سے جسم کانپ رہا تھا اگلے بیس منٹ میں سکندر کو کوٸی دو سو میسج میں نے کر دیٸے۔۔۔۔
جس میں اُسے اس کی ماں بہن قرآن اللہ رسول کا واسطہ دیا کہ مجھ پہ یہ ظلم مت کرو۔۔
ویڈیو ڈیلیٹ کر دو
لیکن سکندر نے کوٸی جواب نہ دیا۔۔
اور جب آن لاٸن آیا تو اس نے ہنسے ہوٸٕے کال کر کے کہا کہ میں لینے آ رہا ہوں گیٹ پہ آ جاٶ ورنہ انجام کی تم خود زمہ دار ہوگی۔۔
یہ کہ کر اُس نے کال کاٹ دی۔۔
میں نے کچھ دیر سوچا اور کانپتے ہوٸے جسم کے ساتھ لیپ ٹاپ بند کیا ویڈیو ڈیلیٹ کی اور عبایا پہن کے گیٹ کی طرف چل دی۔۔۔
گیٹ پہ انٹری کی اور باہر آ گٸ بیس منٹ بعد سکندر کی کال آ گٸ گڈ تم نے باہر آ کے اچھا فیصلہ کیا اب تھوڑا آگے آ جاٶ فلاں ہوٹل تک۔۔۔
میں وہاں پہنچتی تو سکندر نے میرے پاس آ کے باٸک روکی آج وہ باٸک پہ تھا اور ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔۔
بیٹھوں سدرہ میں نے آواز پہچان لی اور باٸک پہ بیٹھ گٸی۔۔۔۔
آج وہ مجھے ایک دوست کے گھر لایا تھا بقول اُس کے اُس کے دوست کے امی ابو گھر پہ نہیں ہیں۔
جب ہم روم میں پہنچے تو میں رو پڑی۔۔۔
سکندر میں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا میں نے تو محبت کی تھی تم سے اُس کا صلہ تم مجھے یہ دے رہے ہو۔۔
ہاہاہاہاہا میں نے بھی تم سے بہت محبت کی تھی ویڈیو میں دیکھ لینا تھا کتنی محبت کر رہا ہوں تم سے
تہمارا پورا جسم چوم رہا ہوں۔۔۔
سکندر نے قہقہ لگایا
میں مر جاٶ گی پلیز ایسا مت کرو میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے میں نے ہاتھ جوڑ دیٸے۔۔
ارے ارے تم نہیں مرو گی نہ میں تمہیں مرنے دوں گا اگر تم مر گٸی تو میں اتنا پیار کس سے کروں گا۔۔۔
تمہارے جسم نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے یہ کہتے ہوٸے سکندر نے مجھے اٹھا کہ بیڈ پہ ڈال دیا۔۔
اب میں نے ہچکیاں لے لے کے رونا شروع کر دیا تم تو کہتے تھے کہ میں نکاح کروں گا رشتہ بھی مانگا تھا میرا میں نے روتے ہوٸے کہا۔۔
ہاہاہاہاہاہا نکاح وہ بھی تجھ جیسی سے جو اپنے ماں کو دھوکہ دے گے مجھے ملنے آ گٸی میرے ساتھ سو لیا
سدرہ جان جو آج مجھے ملنے آ سکتی ہے ماں باپ کو دھوکہ دے کے۔۔۔۔
وہ کسی کو بھی ملنے جا سکتی ہے کل مجھے دھوکہ دے کے اور ویسے بھی میں نکاح کے حق میں نہیں بس انجوٸے کرتا ہوں۔۔۔۔
سکندر کی باتوں نے مجھے اندر سے چھلنی کر دیا تھا اب میرے آنسوٶ رک گٸے تھے اور جسم مردہ لگ رہا تھا
سکندر نے ایک کیمرہ بیگ سے نکالا اور اسے سٹینڈ پہ لگا کے مجھ پہ سیٹ کر دیا۔۔
سکندر یہ کیا ہے تم نے تو کہا تھا کہ میں ملنے آٸی تو تم میری ویڈیو ڈیلیٹ کر دوں گے۔۔۔
لیکن تم تو اور بنا رہے ہو میں نے بیڈ سے اترتے ہوٸے کہا۔۔۔
سکندر نے ایک زور کا تھپڑ میرے منہ مارا اور دوبارہ دھکا دے کے بیڈ پہ گرا دیا۔۔۔
کپڑے آرام سے اتار لو سدرہ ڈارلنگ کیونکہ تمہیں گھر بھی جانا ہے اگر میں اتاروں گا تو پھٹ جاٸیں گے۔۔۔
سکندر مجھ پہ بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑا اور ایک گھنٹا نوچتا رہا میں درد اور دکھ سے روتی رہیزیادہ درد اس بات کا تھا کہ میں محبت کے نام پہ لٹی تھی۔۔۔۔
اور آج مجھے بہت پہلے پڑھی ہوٸی بات کا مطلب سمجھ آ رہا تھا کہ عورت سب سے سستی محبت کے نام پہ بکتی ہے۔۔۔
سکندر جب اپنی ہوس پوری کر چکا تو اُس نے اپنے دوست کو بھی کمرے میں بلا لیا اور مجھے کہا کہ اِس کے بھی بہت ارمان ہیں پورے کر دو یہ کہتا ہوا سکندر چیٸر پہ بیٹھ گیا اور اُس کے دوست نے آگے بڑھ کے مجھے دبوچ لیا۔۔۔
میں لٹ چکی تھی مجھے خود سے بھی گن آ رہی تھی۔۔۔
پتہ ہی نہ چلا کہ کب سکندر نے مجھے یونیورسٹی اتارا اور کب میں روم میں آگٸی۔۔۔
موباٸل آن کیا تو ساتھ ہی بھاٸی کی کال آ گٸی جسم خوف سے لرز گیا کانپتی آواز میں کال پک کی تو بھاٸی نے کہا کہ کب سے نمبر ٹراٸی کر ہوں بند کیوں تھا۔۔۔
اور میرے جواب سے پہلے ہی بتایا کہ میں پانچ بجے آٶں گا گاڑی میں کرنٹ کا مسلہ ہے ٹھیک کروا رہا ہوں۔۔۔
کال بند کر کے میں نے بیگ سے ایک سوٹ نکالا اور واش روم میں چلی گٸی نہا کے آٸی اور جاٸے نماز بچھا کے روتے ہوٸے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گٸی اب وہی ایک زات تھی جو مجھے بچا سکتی تھی۔۔۔۔
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: