Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 7

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 7

–**–**–

جب میں سجدے میں گٸی تو مجھے نہیں معلوم کہ سجدہ کتنا لمبا ہوا اور میں نے رو رو کے کتنی دعاٸیں مانگی۔۔۔
لیکن کہتے ہیں نا کچھ دعاٸیں ہماری دنیا میں ہمارے حق میں قبول نہیں ہوتی اللہ اُن کا اجر بروز قیامت دے گا۔۔۔
شاید یہی میرے حق میں بھی لکھا جا چکا تھا مجھے میری دعاٶں کا اجر مجھے روز محشر ملنا تھا۔۔۔
یا پھر میری دعاٸیں قبول نا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کے میرا دل خوفِ خدا کے بجاٸے خوفِ سکندر میں مبتلا تھا
میں اپنے گناہوں پہ توبہ کرنے کے بجاٸے رب سے یہ دعا کر رہی تھی کہ سکندر کسی طرح مجھے بخش دے اور میری ویڈیو انٹر نیٹ پہ نہ ڈالے۔۔۔
ابھی میں سجدے میں ہی تھی کہ فون کی بیل بجی میں نے آمین کہ کر لرزتے ہاتھوں سے فون اٹھا تو بھاٸی کا نمبر تھا۔۔
کال پک کی تو بھاٸی نے تحمکانہ آواز میں حکم دیا سامان لے کے گیٹ پہ آ جاٶ جلدی۔۔
دل زور زور سے ٹھڑک رہا تھا کے اگر بھاٸیوں کو یا بابا کو پتہ چل گیا کے میں نے یہ سب کیا ہے تو یہ لوگ مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔
ہم لوگ سات بجے کے قریب گھر پہنچتے امی نے میرے آنے کی خوشی میں میری پسند کی چیزیں بناٸی ہوٸی تھی۔۔
لیکن میرے دل کو چین نہیں تھا۔۔
خوف اور پریشانی سے اتنی گھبراہٹ ہو رہی تھی کے بس پانی پیٸے جا رہی تھی اور بار بار حلق خشک ہو رہا تھا۔۔۔
میں نے نا کھانا کھایا اور نہ کسی سے ملی بابا کو سلام کیا اور طبیعت نہیں سہی کہ کر اپنے کمرے میں آ گٸی۔۔۔
پوری رات بنا آواز کے روتے ہوٸے گزری
پتہ نہیں صبح کے کس وقت آنکھ لگ گٸی۔۔۔۔
گیارہ بجے مجھے امی نے اٹھایا کے اٹھ جا تیری چاچی اور محلے کی کچھ عورتیں مبارک دینے آٸی ہیں تیری پڑھاٸی پوری ہونے کی۔۔۔۔۔۔
تین بجے میں نے ڈرتے ڈرتے لیپ ٹاپ آن کیا۔۔۔
واٹس ایپ آن کرتے ہی سنکدر کے چار پانچ میسج آٸے کیسی ہو میری جان گھر پہنچ گٸی خریت سے۔۔۔
سکندر نے کل والی ویڈیو بھی بھیجی تھی
میری آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور ستم یہ تھا کہ میں کھل کے رو بھی نہیں سکتی تھی۔۔
کیونکہ ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ انسان نہ اپنی مرضی سے جی سکتا تھا نہ مر سکتا تھا۔۔۔
یہ بھی غنیمت تھا کہ بابا اور بھاٸی ڈیرے پہ ہوتے تھے۔۔
تین بجے سکندر آن لاٸن ہوا اور مجھے واٹس ایپ کال کی میں نے کال بزی کی تو ساتھ ہی اس کا میسج آ گیا
اب کال پک نہ کی تو انجام اچھا نہیں ہو گا مجبورًا مجھے کال پک کرنی پڑی۔۔
کیسی ہو سویٹ ہارٹ ۔
یار سدرہ ایک چیز ماننی پڑے گی تو واقعی بہت ہاٹ ہے میں تو میں ہوس میرا دوست بھی تیرا فین ہو گیا ہے۔۔
اور کہتا ہے سدرہ کو بولو بس ایک بار اور ہاہاہاہاہاہاہا
یہ کہ کر سکندر نے قہقہ لگایا۔۔
سکندر کی باتیں مجھے اندر تک چیر رہی تھیں ۔۔
لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
سکندر میں نے تم سے محبت کی تھی لیکن تم نے مجھے محبت اور میرے ٹرسٹ کا یہ صلہ دیا۔۔۔
میں تو برباد ہو گٸی اب مر جاٶں گی یا مار دی جاٶں گی لیکن یہ قرض تیری بہن بیٹی چکاٸے گی۔۔۔
یہ کہتی ہوٸے میں رو پڑی۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا کون سی بہن کون سی بیٹی سکندر نے قہقہ لگاتے ہوٸے کہا۔۔۔
آپ کی بہن علینہ اور میں کال کر کے اسے یہ سب بتا دوں گی۔۔
ہاہاہاہاہا بتا دو آٸی ڈونٹ کیٸر سویٹ ہارٹ
ویسے سدرہ جان آپ کی انفارمشن کے لٸے عرض کر دوں کے وہ میری بہن نہیں اور نا ہی میری کوٸی امی ہے۔۔۔
چلو آج تمہیں بتاتا ہوں کے تمہیں اپنے بستر تک لانے کے لٸے مجھے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے۔۔۔
میری جب تم سے بات ہوٸی تو میں نے شریفانہ رویہ اِسی لٸے رکھا تھا کہ تم مجھ سے امپریس ہو کے مجھے ملنے آ جاٶ گی۔۔
لیکن تم بہت پکی تھی بھلے تم نے بات کرنےاور قریب آنے میں اِتنی دیر نہیں لگاٸی تھی۔۔۔
لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ملنے پہ تمہارا اٹل فیصلہ مجھے حیران کر گیا تھا اِس لٸے میں نے تمہارے سامنے اپنا کردار اور مضبوط کیا۔۔۔
لیکن اِس کے باوجود جب تم ملنے کے لٸے تیار نہیں ہوٸی تو مجبورًا مجھے ایک کال گرل کو پیسے دے کے اُسے اپنی بہن بنانا پڑا۔۔۔۔
سکندر بڑے فخر سے بتاٸے جا رہا تھا اور میں روٸے جا رہی تھی۔۔۔
اور سدرہ جان تمہارے ملنے کے انکار نے مجھے تمہارا دیوانہ بنا دیا تھا مجھے یقین ہو گیا تھا کے اِس سے پہلے تمہاری زندگی میں کوٸی مرد نہیں آیا ہو گا۔۔۔
تم کسی کہ پاس سوٸی نہیں ہوگی سدرہ ڈارلنگ میں ایسی لڑکی کیسے جانے دے سکتا تھا
جس کے ساتھ پہلی بار سیکس میں نے کرنا تھا۔
اور وہ بھی بلکل فری صرف محبت کے چند بول کے بدلے۔۔۔
تم لڑکیوں کتنی بیوقوف ہوتی ہو تمہیں دس لاکھ دیٸے جاٸیں تب بھی کسی کو چھونے نہ دو۔۔۔
اور محبت کے نام پہ اپنی عزت بھی دے دیتی ہو ہاہاہا
پھر تمہارا سحر انگیز حسن مجھے دیوانہ کرتا تھا۔۔۔
میں نے کافی لڑکیاں یوز کی جن میں سے تین چار ایسی تھی جنہوں نے پہلی بار مجھے سے ہی سیکس کیا تھا۔۔۔لیکن جو مزہ تم نے دیا وہ کسی اور لڑکی سے نہیں ملا
ہم تو فین ہو گٸے آپ کے جسم اور فگر کے ہاہاہاہاہاہاہاہا سکندر نے قہقہ لگایا۔۔۔
تم جھوٹ بولتے ہو کے علینہ تمہاری بہن نہیں ہے اِس ڈر سے کہ میں اُسے تمہارے کرتوت نہ بتا دوں۔۔
لیکن میں اُسے ضرور بتاٶں گی میں نے غصے سے سکندر کو دھمکی دی۔
ہاہاہاہاہا سدرہ ڈارلنگ شوق سے بتانا جو اُس کے پاس موباٸل تھا وہ بھی میں نے لے کے دیا تھا کیونکہ اگر وہ اپنے نمبر سے بات کرتی تو میں پھنس جاتا۔۔
ایک کال گرل کو بہن بنانے پہ بھی تم نے ہی مجھے مجبور کیا تھا
اگر تم آسانی سے مجھے مل لیتی تو مجھے یہ سب نہ کرنا پڑتا۔۔۔
مجھے پتہ تھا کہ میں جتنا بھی شریف بن جاٶں تم مجھے ملنے کبھی نہیں آٶ گی۔۔
اِس لٸے میں نے علینہ کو اپنی بہن شو کروایا
تمہارے گھر رشتہ مانگنے کا ڈرامہ کیا۔۔۔۔
مجھے پتہ تھا تم ایسے ٹرپ ہو جاٶ گی پھر علینہ نے کسی عورت سے تمہاری میری ماں کے طور پہ بات کرواٸی تانکہ تمہیں لگے کہ میری پوری فیملی تمہاری دیوانی ہے اور تمہیں بہو بنانا چاہتی ہاہاہاہاہاہا
سکندر نے قہقہ لگاتے ہوٸے کہا۔۔۔
میں خون کے گھونٹ پی کے اپنی بیوقوفی پہ ماتم کر رہی تھی۔۔۔
اور دیکھ لو تم میرے اِس جال میں پھنس گٸی تم لڑکیوں کی یہ کمزوری ہے جیسے ہی لڑکے اپنے گھر والوں گا زکر کرتے ہیں تم لڑکیوں سے۔۔۔
یا پھر کسی لڑکی کو اپنی بہن کہ کر اُس سے بات کروا دیتے ہیں تم لوگ پاگل ہو جاتی ہو اور یہ سوچتی ہو کہ اب کبھی دھوکہ نہیں دے گا۔۔
ہاہاہاہاہا ویسے جب تک تم جیسی بیوقوف لڑکیاں ہیں اِس دنیا میں ہمیں سیل پیک مال ملتا رہے گا وہ بھی فری میں ہاہاہاہاہاہا
سکندر کا ایک ایک لفظ سہی تھا کہ ہم لڑکیاں ہی بیوقوف ہیں۔۔۔
سدرہ جان تمہیں اپنے بیڈ تک لانے میں میرا بہت خرچہ ہوا۔۔۔
وہ سب تم دو گی بیس ہزار علینہ کو دیا بہن بننے کا۔۔۔
ہوٹل کا خرچہ کھانے کا خرچہ گاڑی کا ایک دن کا رینٹ پانچ ہزار ہوتا تھا
پھر اُس گاڑی میں پٹرول ہاہاہاہاہاہا تم ایسا کرو کہ صرف دو لاکھ دے دو تمہاری دونوں ویڈیو ڈیلیٹ کر دوں۔۔۔
میں چپ چاپ اپنی بربادی کی داستان اُسی کے منہ سے سن رہی تھی جس نے مجھے برباد کیا تھا۔۔۔
اور سوچ رہی تھی میری کھربوں کی عزت آج کسی گنتی میں نہیں۔۔
جواب دو سدرہ ڈارلنگ۔۔
سکندر میں کیا جواب دوں تمہیں اللہ پوچھے گا
اللہ تو پوچھے گا جب ادھر جاٶں گا۔۔
فلحال یہ بتاٶ کہ پیسے کب دے رہی ہو اور ہاں بس ایک بار اور مل لو مجھے یار بہت یاد آتا ہے تمہارا جسم ہاہاہا
سکندر اللہ کا واسطہ ہے میں کہا سے لاٶں پیسے میرے پاس نہیں ہیں۔۔
جہاں سے مرضی لاٶں یہ میرا مسلہ نہیں ہے
منگیتر سے لے لو امی سے لے لو گھر سے چوری اٹھاٶ ایک ویک کا ٹاٸم ہے تمہارے پاس۔۔۔
پیسوں دو اور اپنی ویڈیو ڈیلیٹ کروا لو۔۔۔۔
پیسے لینے کے بعد بتاٶں گا کہ ملنا کیسے ہے کہاں ملنا ہے۔۔
اگر تم نے پیسے نہ دیٸے تو میں تمہاری ویڈیو بیچ کے دو لاکھ پورا کر لوں گا
اف کیا ویڈیو ہے یار ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا
جب تمہارے گاٶں اور تمہارے گھر کا ایڈریس ساتھ دوں گا تو دو لاکھ سے زیادہ ہی مِل جاٸیں گے۔۔۔۔
سکندر کی کال بند ہوٸی تو مجھے اپنی سانس رکتی محسوس ہوٸی اب میں پیسے کہا سے لاٶں۔۔۔۔۔
دو تین دن ایسے ہی روتے اور سسکتے گزر گٸے تبھی بابا نے کہا کہ ماں کا گھر کے کام میں ہاتھ بٹوا دیا کر پتر۔۔
اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اپنا لیپ ٹاپ چاچو کی بیٹی کو دے دو کچھ دن کے لٸے اسے ضرورت ہے۔۔
لیپ ٹاپ دینے کا نام سن کے سانس حلق میں اٹک گٸی لیکن بابا کو انکار کرنا بہت مشکل بلکے نا ممکن تھا۔۔۔
ٹھیک ہے بابا دے دوں گی شام کو کچھ نوٹس ہیں لکھ لوں میں۔۔۔
لکھ لے پتر شام کو دے دینا بابا نے حقے کے کش لگاتے ہوٸے اجازت دے دی۔۔۔
اور تیرا موباٸل کدھر ہے پتر اب تم گھر آ گٸی ہو نا تو اُس کی ضرورت نہیں برادری والے باتیں کریں گے بیٹی کو موباٸل دیا ہوا ہے تم اپنا موباٸل بھی بھی دے دو
اب تو میری حالت مریل کتے سے بھی بتر ہو گٸ تھی
ابو شام کو دونوں چیزیں دے دوں گی لیکن وہ سم خراب ہے کبھی چلتی ہے کبھی نہیں چلتی۔۔۔
کوٸی گل نہیں پتر سم کیا کرنی ہے موباٸل دے دینا شام ماں کو۔۔
یہ کہتے ہوٸے بابا باہر چلے گٸے اور میں روم میں آ گٸ لیپ ٹاپ آن کیا اور اُس میں سے اپنی ساری پک ڈیلیٹ کی سکندر کی پک ڈیلیٹ کی۔۔۔
فیس بک آٸی ڈی ڈیلیٹ کی۔۔۔
سکندر کو میسج کیا کہ گھر والے لیپ ٹاپ اور موباٸل لے رہے ہیں واپس کے اب سٹڈی ختم ہو گٸی ہے تو موباٸل اور لیپ ٹاپ کی ضرورت نہیں۔۔۔
اور پلیز خدا کا واسطہ ہے میرے ساتھ کچھ بھی غلط مت کرنا ویڈیو ڈیلیٹ کر دینا۔۔۔
سکندر کا فوراً رپلاٸے آ گیا یہ تمہارا مسلہ ہے میرا نہیں
میں ایک ویک تک ویٹ کروں گا اگر مجھ سے رابطہ نہ کیا اور پیسے نہ دیٸے تو تمہاری دونوں ویڈیو بیچ دوں گا۔۔۔۔
یہ کہ کر وہ آف لاٸن ہو گیا اور میں
بعد میں پاگلوں کی طرح اسے اپنی محبتاللہ رسول کے واسطے دیتی رہی کہ ایسا نا کرنا پھر واٹس ایپ بھی ان انسٹال کر دیا۔۔۔
شام کو لیپ ٹاپ اور موباٸل میں نے گھر والوں کو دے دیا
دل میں مسلسل بے چینی اور خوف تھا کہ پتہ نہیں اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔
کبھی سوچتی کہ سکندر اِس حد تک نہیں جاٸے گا۔۔
کبھی کہتی وہ چلے جاٸے گا اِس حد تک اِسی کشمکش میں ایک مہینہ گزر گیا اور میں چاہ کے بھی سکندر سے رابطہ نہ کر سکی نہ گھر سے پیسے اٹھا سکی۔۔۔
اُس دن جمعے کا دن تھا بابا اور چھوٹا بھاٸی مسجد گٸے ہوٸے تھے اور بڑا بھاٸی صبح سے شہر گیا ہوا تھا۔۔۔
میں نماز پڑھ کے جاٸے نماز لپیٹ رہی تھی جب بڑا بھاٸی طوفان کی طرح اندر داخل ہوا اور ابو کی بانس کی سوٹی اٹھا کے بھاگتے ہوٸے مجھے مارنا شروع کر دیا۔۔۔
میرے چیخنے پہ ماں کچن سے بھاگ کے باہر آٸی اور مجھے چڑوانے کی کوشش کی لیکن بھاٸی نےدو تین ڈنڈے ماں کو بھی مار دیٸے۔۔۔۔
میرے ناک اور منہ سے خون بہ رہا تھا لیکن بھاٸی مجھے مسلسل مارے جا رہا تھا
کچھ ہی دیر بعد میں نیم بے ہوش ہو چکی تھی جب چھوٹا بھاٸی اور آس پاس کے گھروں کے لوگ بھاگ کے اندر آٸے اور مجھے چھڑوایا۔۔۔
مجھے پانی پلایا گیا اور بابا نے بھاٸی سے وجہ دریافت کی کہ کیوں مارا ہے۔۔۔
تب بھاٸی نے سب کو کہا جو اڑوس پڑوس کے لوگ آٸے ہوٸے تھے کہ آپ لوگ اب اپنے اپنے گھر جاٶ۔۔
یہ ہمارے گھر کا مسٸلہ یے۔۔۔
جب سب لوگ چلے گٸے تو بھاٸی نے موباٸل بابا کی طرف بڑھا دیا۔۔
جسے دیکھتے ہی بابا کا چہرہ سیاہ اور پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔۔۔
اور مجھے سمجھ آ گٸی کہ سکندر نے اپنی اوقات دکھا دی ہے۔۔۔
بابا نے بھاٸی کو حکم دیا کہ اسے اٹھا کہ کمرے میں بند کر دو بھاٸی بضد تھا میں اس کو ابھی فاٸر ماروں گا
لیکن بابا نے کہا کے تو جھلا ہے اس کتی بغیرت کے لٸے پرچہ جھلسیں اِس کو ماریں گے ضرور لیکن کسی سہی طریقے سے۔۔
مجھے سٹور روم میں بند کر دیا گیا پورا جسم زخموں سے چور تھا اور خون بہ رہا تھا جیسے جیسے ٹھنڈ بڑھ رہی تھی مجھے شدید درد ہو رہا تھا۔۔۔😥😥😥
شام کو اندھیرا ہوا تو سٹور میں چوہے ادھر ادھر بھاگنا شروع ہو گٸے مجھے چوہوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔
میں نے مری ہوٸی آواز میں امی کو آوازیں دینا شروع کر دیں۔۔۔
امی چوہے ہیں پلیز مجھے بچا لو امی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اللہ کا واسطہ ہے امی مجھے مار دوں😭😭😭
لیکن کسے نے کوٸی جواب نہ دیا۔۔۔
میں خود کو گھسیٹتے ہوٸے ایک کونے میں دبک کے بیٹھ گٸی کچھ خالی بوریوں سے جسم ڈھانپا لیکن ٹھنڈ اور درد سے جان نکلی جا رہی تھی۔۔۔۔
وقت کا مجھے نہیں پتہ رات کو کسی پہر مجھےسٹور کا دروازہ کھلنے کی آواز آٸی دیکھا تو امی تھی😥😥😥
جن کے ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس اور ابلے ہوٸے انڈے تھے امی نے روتے ہوٸے مجھے اپنے ساتھ لگایا تو میں پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی😭
میں بے بس ہوں میری بچی۔۔
مجھے معاف کر دینا
امی آپ مجھے معاف کر دینا میں نے روتے ہوٸے امی کے پاٶں پکڑ لٸے۔۔۔
یہ دودھ ہے ہلدی والا پی لو اور انڈے کھا اور یہ گولیاں بھی کھا لو درد کچھ کم ہو جاٸے گا۔۔۔
امی نے دوٹے کے پلو سے گولیاں کھولتے ہوٸے مجھے دیں۔۔۔
میری بچی اب تو مہمان ہے میرے پاس کچھ دن کی پتہ نہیں یہ لوگ کب تمہیں مار دیں گے میں کچھ نہیں کر سکتی تمہارے لٸے ماں روٸے جا رہی تھی۔۔۔😭😭
کچھ دیر بعد امی جانے لگی تو میں نے کہا امی مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔۔
امی چپ چاپ چلی گٸی اور کچھ دیر بعد چھٹاٸی تکیہ اور رضاٸی دے گٸیں۔۔
کچھ دن بعد میرے زخم خود ہی خشک ہونا شروع ہو گٸے تھے ہر روز بڑے بھاٸی کی نگرانی میں مجھے واش روم جانے کی اجازت ملتی اور واپس سٹور میں بند کر دیا جاتا ۔۔
کوٸی بیس دن ایسے ہی چلتا رہا ۔۔۔
ایک دن امی سٹور میں آٸی اور مجھے بتایا تیرے ابو کو مجھے اور تیرے بھاٸیوں کو کسی شادی میں جانا ہے۔۔
ہم لوگ بہاول پور جا رہے ہیں تیرے بابا کے کسی دوست کے بیٹے کی شادی ہے۔۔
کل واپس آٸیں گے یہ لو پندرہ ہزار روپے میرے پاس اِس سے زیادہ نہیں تیرے بابا اب مجھے پیسے نہیں دیتے۔۔۔
یہ لوگ اب تمہیں تین چار دن تک مار دیں گے لیکن تُو میرے جگر کا ٹکڑہ ہے سدرہ تُو بری بھی ہے تو بھی میں کیا کروں میں ماں ہوں😭
میں نہیں دیکھ سکتی تمہیں اِس حال میں یہ پیسے لے لو ہمارے جانے کے بعد تجھے ایک بندہ اِس سٹور سے نکالے گا اور لیاقت پور اسٹیشن پہ چھوڑ دے گا وہاں سے تو کہیں دور چلی جانا میری بچی مجھے معاف کر دینا
میں کھانا دینے کے بہانے آٸی ہوں تالا خود تیرا بھاٸی لگاٸے گا۔۔۔
یہ کہ کر امی روتے ہوٸے مجھے ملی اور دعاٸیں دے کر چلی گٸی۔۔۔
رات کو دو بجے مجھے دروازے کا تالا کسی چیز سے کاٹنے کی آواز آٸی اور بیس پچیس منٹ بعد دوازہ کھل گیا۔۔۔
وہ فیروز تھا ہمارا ملازم۔۔۔
سدرہ باجی چلیں وقت بہت کم ہے میں نے پیسے لٸے اور ایک شال جو امی نے دی تھی اوڑھ لی
دل میں اب کوٸی حسرت نہیں تھی بس ایک ہی آگ جل رہی تھی۔۔۔کے کسی طرح کتے سکندر سے رابطہ کرنا ہے اور اُسے اُس کے انجام تک پہچانا ہے۔۔۔
فیروز مجھے لیاقت پور اسٹیشن پہ چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔
چار بجے کے قریب کوٸی ٹرین آٸی پوچھنے پہ پتہ چلا فیصل آباد جا رہی ہے میں اُسی میں بیٹھ گٸ۔۔۔
فیصل آباد پہنچ کے میں کچھ دیر اسٹیشن پہ ہی بیٹھی رہی سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں کدھر جاٶں۔۔۔
اور پھر کچھ سمجھ نہ آیا تو اگلی رات بھی میں نے اسٹیشن پہ ہی گزاری دوسرے دن ایک کینٹین والے نے جس سے میں کھانا لے رہی تھی پوچھا کہ آپ کو کیا مسلہ باجی آپ کل سے ادھر ہی ہو۔۔۔
میں نے اس جھوٹ بولا کہ بس گھر والوں سے ناراض ہوں اور میرا شوہر کراچی سے مجھے لینے آ رہا ہے
اور باتوں باتوں میں اس سے گرل ہاسٹل کا پوچھ لیا۔۔۔
گرل ہاسٹل میں دو ماہ کے ایڈوانس رینٹ پہ مجھے رہاٸش مل گٸی کیونکہ میرے پاس آٸی ڈی کارڈ وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا اور یہ ہاسٹل بھی بہت زیادہ لو معیار کا تھا لیکن رہاٸش مل گٸی تھی یہی غنیمت تھا۔۔۔
مجھے ایک لڑکی کے ساتھ روم شیٸر کرنا تھا۔۔
رینٹ دے کے میرے پاس صرف ایک ہزار روپیہ بچا تھا اِس لٸے اب کام کرنا ضروری تھا۔۔۔
اور کام بھی ایسا کہ جس میں بہت زیادہ پیسہ ہو
میں نے اپنی روم میٹ سے بات کی جو کسی پراٸیویٹ آفس میں کام کرتی تھی۔۔
اور بہت بولڈ بھی تھی اُس نے کہا میں بات کروں گی۔ دوسرے دن اس نے مجھے بتایا کہ باس نے کہا ہے تمہیں لے آٶں انٹریو کے لٸے اور آنکھ مارتے ہوٸے کہا کہ خود کو سلیکٹ ہی سمجھو۔۔
دوسرے دن میں انٹریو کے لٸے گٸی تو باس نے مجھ سے تعلیم وغیرہ اور ڈاکومنٹ کا پوچھا جو کے میرے پاس نہیں تھے
لیکن پھر بھی باس نے مجھے نو ہزار پر ماہ کے حساب سے کام پہ رکھ لیا۔۔۔
کچھ ہی دن بعد مجھے علم ہو گیا کہ باس نے مجھے نوکری کیوں دی ہے
جب شام کو مجھے میری روم میٹ نے کہا کے آج باس نے کہا ہے ایک میٹنگ ہے آپ کو لیٹ چھٹی ملے گی۔۔۔۔
اب مجھے سب قبول تھا میں سہارا اور پیسا چاہتی تھی کسی طرح سکندر تک پہنچنے کے لٸے۔۔
باس نے میرے سامنے اپنے ڈیمانڈ رکھی واپسی میں نے بھی باس کے سامنے اپنی ڈیمانڈ رکھ دی۔۔
کے مجھے پیسا اور ایک بندہ چاہیٸے باس نے وعدہ کر لیا وہ ہر صورت ہر جگہ میری مدد کرے گا۔۔۔
یوں میں ایک اور مرد کی ہوس کا شکار بن گٸی۔۔
وقت گزرتا رہا ایک ماہ بعد میں نے سکندر سے رابطہ کیا لیکن اس کا نمبر آف تھا واٹس ایپ چیک کیا وہ بھی ڈیلیٹ تھا۔۔
بار بار کوشش کی کسی طرح رابطہ ہو جاٸے باس نے بھی کوشش کی لیکن سکندر سے رابطہ نہ ہو سکا اُس کے نمبر کی آخری لوکیشن رحیم یار خان تھی۔۔
ایک دن باس نے مجھے کہا کہ سدرہ تمیں یہ فاٸل لے کے جانے ہے ایک گورنمنٹ کے آفیسر ہیں اُن سے ساٸن کروانے ہیں۔۔
باس نے میرے جسم کے بدلے کافی ہیلپ کی تھی اِس لٸے مجھے اُن بات ماننا پڑی۔۔
باس نے بتایا کہ فلاں ہوٹل میں کمرہ نمبر تیس میں وہ آپ کا شام کو ویٹ کرے گا میرا ڈراٸیور آپ کو ہاسٹل سے پک کر کے ہوٹل چھوڑ دے گا اور آپ زرہ اچھے سے تیار ہونا۔۔۔
رات کے تین بجے ہوٹل پہ پولیس کا ریڈ ہو گیا جس میں چھے سات لڑکیاں اور مختلف لڑکے پکڑے گٸے۔۔
جو گورنمنٹ افسر تھا وہ تو اپنی جان چھڑا کے چلا گیا ہماری گالیوں مکوں اور لاتوں سے توازہ کر کے ہمیں تھانے پہنچا دیا گیا۔۔۔
مجھ سے پوچھا گیا کہ کون ہے تیری ناٸکہ کس کے اڈے پہ کام کرتی ہے ۔۔
میں کیا بتاتی کہ میں تو جانتی نہیں تھی کسی کو اور ناٸکہ اور اڈے کا لفظ پہلی بار سنا تھا
میں نے باس اور اپنے دفتر کا بتایا
لیکن میرا باس صاف مکر گیا کہ میں نہیں جانتا کون ہے یہ
دو دن پولیس والوں کی زیادتی کے بعد ایک لڑکی کی ناٸکہ آٸی اور مجھ پہ ترس کھا کہ میری بھی بیس ہزار کے عوض ضمانت دے دی
ساتھ اُس یہ بھی کہا کہ میرا یا بیس ہزار دو دن میں منگوا کے دو گی یا پھر میرے اڈے پہ دھندہ کرو گی۔۔۔
میں نے انکار کیا تو اُس نے بتایا کہ چھمک چھلو یہ پولیس والے روز تیرا فری میں کباڑہ کریں گے۔۔۔
اِس لٸے بہتر ہے کہ میری بات مان لے آٹھ دس دن میں تیرے پیسے پورے ہو جاٸیں گے پھر تو چلی جانا۔۔۔
مجبورا مجھے پولیس کے ڈر سے اُس کی بات ماننی پڑی۔۔
بنا مرد کے سہارے کے لڑکی کٹی پتنگ کی طرح ہوتی جسے ہر کوٸی لوٹنا چاہتا ہے۔۔۔
یہی میرے ساتھ ہو رہا تھا میں سکندر سے بدلا لینے کے لٸے گھر سے نکل آٸی تھی لیکن اب ایک اور لدل میں پھنس چکی تھی۔۔۔۔
جینے کے لٸے کھانا بھی پڑھتا ہے اور کھانے کے لٸے کمانا پڑتا ہے
بیس دن میں مجھے اِس کام سے گن آنے لگی اور دل بار بار خود کشی کرنے کا چاہنے لگا۔۔۔
اِسی اثنا میں میری ناٸکہ نے بتایا کہ ہم لوگ لاہور جا رہے ایک ہوٹل نے تین لڑکیاں کو ایک ماہ کے لٸے بک کیا ہے تم بھی تیاری کر لوں
مجھے اُس نے بتایا کہ ایک بار جب تم کسی مرد کے پاس جاتی ہو تو تین چار سو ملتا ہے اِس لٸے تمہارے ابھی صرف دس ہزار اترے ہیں بیس دنوں میں۔۔اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر میں پولیس سے چھڑوا سکتی ہوں تو دوبارہ پولیس کو پکڑوا بھی سکتی ہوں۔۔
ہم لاہور آگٸے جہاں پہ روز ہی ہمیں ہوٹل جانا پڑتا تھا
پانچ چھے ناٸٹ کے بعد ایک رات کو ایک بار پھر چھاپہ پڑا اور ہمیں پکڑ لیا گیا اِس بار تو لڑکیوں کو ننگا ہی تھانے لے جایا گیا۔۔۔
اور مارا الگ گیا۔۔۔
ایک بار پھر میری ناٸکہ نے مجھے کہا کہ پچاس ہزار مانگ رہے ہیں چھوڑنے کہ کہوں تو دے دو۔۔
مرتا کیا نا کرتا میں پولیس والوں سے بہت ڈر گٸی تھی اِس لٸے ہاں کر دی۔۔۔
ایک رات ایک کلاٸنٹ مجھے اپنی کوٹھی پہ لے گیا اور اسے میں بہت پسند آٸی اس نے فیس کے علاوہ مجھے پچاس ہزار روپے دیٸے اور اپنا کارڈ دیا کہ اگر چاہو تو یہ کام چھوڑ دو میں خرچہ دوں گا
میں نے وہ پیسے آ کے اپنی ناٸکہ کے منہ پے مارے کہ اب مجھے جانے دو لیکن اُس نے کہا کہ ابھی دس ہزار اور رہتا ہے وہ دو نہیں تو میں پولیس کو بلاتی ہوں یا دھندہ کرو۔۔
اور پولیس کے ڈر سے میں پھر رک گٸی اب میرا حسن ماند پڑ گیا تھا چہرے پہ چھاٸیاں اور داغ رنگ بھی کالا ہو گیا تو جب بھی چہرہ دیکھتی ایسا لگتا مجھ پہ لعنت برس رہی ہے۔۔۔
تبھی ایک دن میری ملاقات ہمارے اڈے پہ بلقیس سے ہوٸی اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی مجبوری میں یہ کام کر رہی ہے اور چھوڑنا چاہتی ہے۔۔
مصطفی شاہ میں اکتا گٸی تھی اِس زندگی سے اب رب سے معافی مانگنا چاہتی تھی
میں چاہتی تھی کہ کسی طرح اس زلت بھری زندگی سے جان چھوٹ جاٸے
میں رب سے ہمیشہ یہ دعا کرتی تھی کہ مجھے ایک موقع دو میں توبہ کر سکوں۔۔
کیونکہ مجھے پتہ تھا رب میرا ماضی بھلا کے مجھے معاف کر دے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا ہے۔۔۔
اور پھر میں بلقیس پہ بھروسہ کر کے اُس کے ساتھ کراچی آ گٸی اس کے بعد جو بلقیس اور اس کے شوہر نے میرے ساتھ کیا وہ سب آپ کو بتا چکی ہوں اور پھر اُس رات آپ مجھے ملے
میں جس موقع کی دعا کرتی تھی رب نے مجھے وہ موقع دے دیا۔۔😭😭
سدرہ اپنی پوری برباری کی اِس داستان میں زیادہ روتی ہی رہی تھی کبھی میرے ہاتھ پکڑ لیتی کبھی چھوڑ دیتی اُس کی یہ داستان سن کے پتہ نہیں کتنی بار میری آنکھیں بھیگی۔۔۔
اور اب وہ بچوں کی طرح اونچی آواز میں رو رہی تھی
رو تو میں بھی رہا تھا۔۔
پراٸیویٹ ہاسپٹل کے وارڈ کا یہ بھی فاٸدہ ہوتا ہے کہ بیڈ کے چاروں طرف پردے لگے ہوتے ہیں۔۔۔
میں نے چپکے سے سدرہ کے پاس ہوتے ہوٸے اسے گلے لگا لیا کیونکہ اس سے بہتر میرے پاس اسے دینے کے لٸے کچھ نہیں تھا۔۔۔

سدرہ نے جتنے دکھ پچھلے دو سال میں جھیلے تھے اُن کا بھار آٹھ ماہ برداشت کیا تھا۔۔
اور آج آٹھ ماہ کے بعد ایک دم سے اُن دکھوں کو بیان کرنا ایسے ہی تھا جیسے کوٸی انسان اپنے ٹھیک ہوتے زخموں کو اک دم سے اڈھیر دے۔۔۔
میں نے سدرہ کو آرام سے بیڈ پہ لٹایا اور وارڈ سے باہر آ گیا دل دماغ شاک میں تھا کہ کوٸی مرد اس حد تک بھی گر سکتا ہے کوٸی اتنا ظالم بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
پھر اپنی ہی بات پہ ہاں کہ دیا کے ہاں مرد اِس حد تک بھی گِر سکتا ہے ہاں مرد اتنا بھی ظالم ہو سکتا ہے۔۔۔
جس معاشرے میں دو سال اور پانچ کی بچی کو بھی مرد نہیں چھوڑتا وہاں سدرہ کی عمر کی لڑکی کے ساتھ تو یہ سب ہونا عام بات ہے۔۔۔۔
شام کو ممانی میری کزن اور ماموں سدرہ کو پوچھنے آٸے تو ماموں کی باتوں اور محبت سے سدرہ کو کافی حوصلہ ملا۔۔۔۔
اور وہ کسی حد تک دن والی باتوں کو بھول کے نارمل ہو گٸ تھی ماموں کے ساتھ ہنستے ہوٸے اُسے دیکھ کے مجھے بھی سکھ کی سانس آٸی۔۔۔۔
جاتے ہوٸے ماموں کی بیٹی سدرہ کا خیال رکھنے کے لٸے ہاسپٹل ہی رک گٸی۔۔۔
رات کو تین بجے موباٸل کی واٸبریشن سے میری آنکھ کھل گٸی۔۔۔
میں وارڈ کے باہر رکھی چیٸرز پہ آنکھیں موند کے نیند پوری کرنی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
سکرین پہ ایس آٸی نوید شاہ کا نمبر آ رہا تھا۔۔۔
اِس وقت نوید کی کال خریت تو ہے میں نے جلدی سے کال پک کر لی۔۔
دوسری طرف سے نوید شاہ کی چہکتی ہوٸی آواز آٸی
السلام علیکم شاہ صیب۔۔۔
وعلیکم سلام کزن اِس وقت کال خیر تو ہے۔۔
آہو یار خیر ہی ہے بس زرہ بتانا تھا کہ تہاڈا شکار ہاتھ آ گیا ہے تھانے آ جاٸیں اِس سے پہلے کہ ان کا کوٸی شفارتی آ ٹپکے زرہ اِن کی تشریف کا اپنے ہاتھ سے لتر مار کے افتتاح کر دیں
نوید شاہ نے زور کا قہقہ لگایا۔۔
ویسے بھی دن کو اِن کی مرمت نہیں کر سکتے
میڈیا والے اِسی طاق میں ہوتے ہیں کوٸی بات ہمارے خلاف ملے بس۔۔
اِس لٸے کزن جی تسی ہن ہی آجاٶ
نوید شاہ نے آخری بات معنی خیز لہجے میں کہی۔۔۔
کزن تیرا مطلب ہے وحید اور بلقیس؟
آہو شاہ صیب وہی خبیث
نوید شاہ نے تصدیق کی
میں آیا تم کدھر ہو اس وقت میں نے چیٸر سے اٹھتے ہوٸے پوچھا۔۔
تھانے ہی آ جاٶ کزن۔۔
میں ابھی آیا یہ کہ کر میں نے کال بند کر دی۔
جو سدرہ کے ساتھ سکندر نے کیا تھا
اُس پہ میں نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ سکندر جب بھی مجھے ملا اُسے اپنے ہاتھ سے فاٸر ماروں گا۔۔۔
سکندر کی وجہ سے دماغ پہلے ہی شدید تکلیف میں مبتلا تھا۔۔۔
اب غصے سے اور برا حال ہو گیا کیونکہ وحید اور اُس کی بیوی بھی سکندر سے کسی طرح کم نہیں تھے
جنہوں نے ایک ٹوٹی ہوٸی اور لوٹی ہوٸی لڑکی کو سہارا دینے کے بہانے اور لوٹا تھا۔۔۔
میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں ایک منٹ سے پہلے گلشن اقبال تھانے پہنچ جاٶں۔۔
میں جب نوید کے کمرے میں پہنچا تو ایک تیس بتیس سال کی عمر کی درمیانی شکل صورت کی عورت اور چالیس پنتالیس سال کے مرد کو فرش پہ بیٹھے ہوٸے دیکھا۔۔۔
مرد شکل سے ہی خبیث لگ رہا تھا جس کی بڑی بڑی مونچھیں اور گٹکا کھا کھا گندے دانت انرجی سیور کی روشنی میں صاف نظر رہے۔۔
وحید کی شکل اتنی منہوس تھی کہ کوٸی بھی لڑکی اسے دیکھ کے ہی خوف زدہ ہو سکتی تھی۔۔
نوید نے چیٸر سے اٹھتے ہوٸے مجھے گلے لگا لیا اور مرد عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے کہا کہ یہ آپ کے بندے ہیں شاہ جی یہ واقعی بہت تیز ہیں۔۔۔
میں نے چیٸیر پہ بیٹھتے ہوٸے پوچھا کہا سے ملے یہ تمہیں
کزن جس دن آپ نے ان کو پکڑنے کے لٸے بولا تھا اور میں نے بلوچ صاحب کو اِن کے بارے میں کہا تھا
اُس کے کوٸی چار یا پانچ دن بات بلوچ صاحب نے اطلاح دی کہ اس نام کی ایک عورت اور مرد اِس ایریا میں رہتے تھے لیکن وہ کچھ دن پہلے مکان خالی کر گٸے۔۔۔۔
تب مجھے ان منہوسوں میں زیادہ دلچسپی ہوٸی کہ یہ تو بہت پہنچے ہوٸے ہیں۔۔۔
لیکن باوجود کوشش کے ان کا کوٸی اتہ پتہ نہیں مل رہا تھا۔۔۔
دو دن پہلے ہم نے ایک عورت پکڑی ایک ریڈ میں جسم فروش تھی
اُس نے منت سماجت کی تو ہمیں چھوڑنا پڑا ویسے بھی ایسے کیسوں میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔
باتوں باتوں میں اُس عورت کے منہ سے بلقیس کا نام نکل گیا۔۔
میرے دماغ میں اِس کا نام تھا میں چونک گیا
جب اُس عورت سے تفصیل پتہ کی تو وہ نہ صرف اِسے جانتی تھی بلکہ بلقیس کا موباٸل نمبر بھی اُس کے پاس تھا۔۔۔
میں نے اُس سے موباٸل نمبر لیا اور بجاٸے بلقیس کو کال کرنے کے اِس کی لوکیشن ٹریس کرواٸی۔۔
کیونکہ کال سے یہ الرٹ ہو سکتی تھے۔۔
لوکیشن شیر شاہ کی آ رہی تھی میں نے وہاں ایک دوست کے زمہ لگایا کہ یہ مجھے مطلوب ہیں زاتی کیس میں۔۔
اُسے لوکیشن دی تو اُس نے آج رات ان کو دھر لیا ابھی ہم ان کو لے کے آٸیں ہیں
نوید شاہ نے پوری تفصیل سے مجھے آگاہ کیا۔۔
کیا بات ہے شاہ جی آپ نے جو احسان مجھ پہ کیا ہے وہ میں نہیں بھولوں گا۔۔۔میں نے ممنون لہجے میں نوید کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
کزن احسان کیسا تم میرے جگر ہو اب بتاٶ ان کا کیا کرنا ہے
نوید نے پولس والوں کی طرح ایک گندی سی گالی بلقیس اور وحید کو دیتے ہوٸے پوچھا۔۔۔
اسی اثنا میں بلقیس اور وحید نے روتے ہوٸے میرے پاٶ پکڑ لٸے۔۔۔
اللہ کا واسطہ ہے ہمیں معاف کر دیں رسول کا واسطہ ہے ہمیں معاف کر دیں
معافی؟؟؟ تم لوگ معافی کے قابل ہو ایک اجڑی اور لاوارث لڑکی پہ ظلم کیا تم لوگوں نے۔۔
پتہ نہیں نجانے اور کتنیوں پہ ظلم کیا ہو گا نوید ان کو ہٹاٶ یہاں سے میں نے غصے سے ڈھاڑتے ہوٸے تیز آواز میں کہا۔۔۔
نوید شاہ نے کانسٹیل کو آواز دی کہ ان کو پیچھے کرو۔۔۔
جب بلقیس اور وحید کو پیچھے کر دیا گیا تو میں نے نوید کو سدرہ کی طبیعت کے بارے میں بتایا۔۔۔
تو اُس کے بھی تن بدن میں آگ لگ گٸی اس نے چیٸر سے اٹھتے ہوٸے کانسٹیبل کو کہا لتر لے کے آٶ اور بلقیس اور وحید پہ لاتوں اور مکوں کی بارش کر دی۔۔۔
وہ دونوں رو رو کے معافیاں مانگ رہے تھے۔۔۔
جب وحید اور بلقیس کی اچھے سے خاطر تواضع ہو گٸی
تو میں نے ان دونوں سے مخاطب ہو کے کہا کہ تم دونوں کو معافی دینے کا اختیار سدرہ کو ہے تمہارا کل فیصلہ ہو گا
اگر میرے بس میں ہوتا تو تم دونوں کو کتوں کے آگے ڈال دیتا۔۔
یہ کہتے ہوٸے میں اٹھ کھڑا ہوا چلتا ہوں شاہ جی اِن کی طبیعت زرہ اچھے سے صاف کرنا
جس پہ اِنہوں نے ظلم کیا ہے وہ مجھے بہت پیاری ہے
تسی فکر نا کرو شاہ صیب صبح تک یہ تشریف زمین پہ رکھنے کے قابل نہیں ہو گٸے۔۔۔
میں تھانے سے واپس ہاسپٹل آیا تو سر درد سے پھٹ رہا تھا میرا واقعی بس نہیں چل رہا تھا کہ وحید کو جان سے مار دوں۔۔۔۔۔۔
آٹھ بجے میں کزن کے لٸے ناشتہ لے کے وارڈ میں گیا تو وہ اور سدرہ پکی سہیلیوں کی طرح خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔۔۔
کزن سدرہ کے پاٶں دبا رہی تھی کیونکہ اس کے جسم کا کبھی کوٸی حصہ سن ہو جاتا تھا کبھی کوٸی حصہ۔۔۔
میں نے سلام کیا اور کزن کو ناشتہ پکڑاتے ہوٸے سدرہ کی طبیعت کا پوچھا۔۔۔۔
ٹھیک ہوں شاہ جی اتنے پیارے لوگوں کے ہوتے ہوٸے مجھے کیا ہو سکتا ہے۔۔
سدرہ نے مہرین کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے کہا۔۔
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه سدرہ کچھ خوف کرو مہرین اور پیاری
میں نے کزن کو چڑاتے ہوٸے ہوٸے کہا۔۔۔۔
جو کہ اُس نے بھی انجوٸے کیا۔۔۔
شاہ جی ایسے نہ کہیں میری بہن کو میری بہن تو پری ہے
سدرہ نے محبت پاش نظروں سے مہرین کو دیکھتے ہوٸے کہا۔۔
سدرہ بی بی اگر تمہاری بہن پری ہے نا تو ہم بھی
کسی پرے سے کم نہیں میں کالر جھاڑتے ہوٸے سٹاٸل سے کہا۔۔
اب کی بار دونوں لڑکیاں کھلکھلا کے ہنس پڑی۔۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد مہرین کو میں نے کہا کہ تم کچھ دیر باہر جاٶ مجھے سدرہ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
مہرین کے جانے کے بعد میں سدرہ کے پاس بیڈ پہ ہی بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھ پہ ہاتھ پھیرتے ہوٸے پہلے طبیعت کا پوچھا۔۔۔
سدرہ دو باتیں کرنی ہے تم سے ۔۔۔
جی شاہ سر کریں۔۔۔
پہلی بات یہ ہے میرا کزن پولیس میں ہے میں نے اس کے زمے وحید اور بلقیس کو پکڑنے کا کام لگایا تھا
وہ کل رات پکڑے گٸے ہیں ابھی میں ان سے مل کے آ رہا ہوں
میں چاہتا ہوں اُن کو سزا دی جاٸے۔۔۔
تم کیس داٸر کروں اور اپلیکیشن دو کزن یہاں ہاسپٹل ہی آ جاٸے گا تمہارا بیان لینے۔۔
وحید اور بلقیس کا نام سن کے سدرہ کے چہرے پہ واضع کرب اور تکلیف نظر آ رہی تھی۔۔۔
سدرہ کچھ دیر خاموشی کے بعد بولی سر آپ کیا چاہتے ہیں مجھے ایسا کرنا چاہیٸے سدرہ نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوٸے پوچھا۔۔
دیکھو سدرہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ابھی اُن کو جان سے مار دیتا۔۔
لیکن میں چاہتا ہوں تم بنا کسی دباٶں کے بِنا میری مرضی کے فیصلہ کرو جو تمہارا دل کہتا ہے وہ کرو۔۔
سدرہ اب مکمل خاموش تھی آنکھیں بند کٸے کچھ دیر لمبی لمبی سانسیں لیتی رہی۔۔
اور پھر کچھ دیر بعد میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوٸے بولی شاہ سر جو میں کہوں گی کریں گے آپ۔۔۔
بلکل کروں گا میں نے کبھی بات ٹالی ہے تمہاری میں نے سدرہ کے ہاتھ کو اپنے دونوں میں دباتے ہوٸے کہا۔۔۔
سدرہ کا جسم کانپ رہا تھا۔
سر بلقیس اور وحید کو معاف کر دیں میں نے اُن کو معاف کیا۔۔۔
واٹ یہ کیسے کہ سکتی ہو تم مجھے واقعی حیرت کے ساتھ شاک بھی لگا اور سدرہ پہ غصہ بھی آیا۔۔۔
شاہ سر رب ہے نا وہ بھی تو معاف کر دیتا ہے
اور میں اپنی گزری زندگی کو بھولنا چاہتی ہوں
میں وحید اور بلقیس پہ کیس کروں گی وہ میرے سامنے بار بار آٸیں گے میرا دکھ تازہ ہو گا۔۔
جو کے میں نہیں چاہتی۔۔۔
وحید اور بلقیس کا ظلم بہت بڑا ہے لیکن میرا اُن کو معاف کرنا شاید میری بخشش کا سبب بن جاٸے پلیز سر معاف کر دیں اُن کو۔۔۔
میں اِس شوخ اور معصوم لڑکی کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا جہاں سکون اور اطمنان تھا بہت پاکیزگی اور حوصلہ تھا۔۔۔
کتنا بڑا دل ہے تمہارا سِڈ۔
آپ سے کم ہی ہے شاہ سر۔۔۔
اب سدرہ کے ہونٹوں پہ ایک پیاری سیمسکان کھیل رہی تھی۔۔۔
او کے میں کزن کو کہ دوں گا کہ وحید اور بلقیس کو چھوڑ دے۔۔۔
شاہ سر دوسری بات کیا تھی سدرہ نے مجھے یاد دلایا
ہاں یاد آیا کہ تم نے مجھے کہا تھا کہ میں ایک وِش پوری کر لوں گا تو تم مجھے دوسری وش بتاٶں گی۔۔
اب میں نے پہلی پوری کر دی تمہاری تو بتاٶ دوسری۔
سدرہ کا چہرہ اب بجھ سا گیا
بتاٶں نہ کیا ہے دوسری وش میں نے اسرار کیا۔۔
سدرہ کچھ دیر سوچتی رہی جیسے ہمت جمع کر رہی ہو۔۔۔
سر مجھے نرس بتا چکی ہے کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے میں ایک بار اپنی ماں سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔
اور بابا ملیں تو اُن سے بھی مل کے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
اتنا کہ کر سدرہ چپ ہو گٸی لیکن اُس کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو صاف دکھاٸے دے رہے تھے۔۔۔
میں کچھ دیر سوچتا رہا کہ اُسے کیا آس امید دلاٶں کیونکہ جو سدرہ نے اپنے بھاٸیوں اور ابو کے بارے میں بتایا تھا
مجھے نہیں امید تھی کہ وہ مان جاتے لیکن پھر دل میں یہ خیال بھی تھا کہ بھاٸیوں کو چھوڑوں ماں اور باپ تو مان ہی جاٸیں گے۔۔
کیونکہ جو بھی ہو سدرہ اُن کی اولاد تھی یہی سوچتے ہوٸے میں نے سدرہ سے اُس کی یہ وش بھی پوری کرنے کا وعدہ کر لیا۔
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: