Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 8

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 8

–**–**–

میں نے سدرہ کو اُس کے ماں باپ سے ملانے کا وعدہ تو کر لیا تھا لیکن اب دماغ الجھ رہا تھا کہ یہ سب کیسے کروں گا۔۔۔۔
میں نے مہرین کو واپس وارڈ میں بھیج کے سیل نکالا اور نوید شاہ کا نمبر ڈاٸل ہسٹری سے نکال کےاو کے کر دیا۔۔۔
کال دوسری بیل پہ ہی پک کرلی گٸ
السلام علیکم شاہ صیب نوید شاہ نے خالص پولیس والوں کی زبان میں سلام دیا۔۔۔
وعلیکم السلام کزن کیسے ہیں تیرے مہمان اب۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا شاہ اُن کی تشریف اب کافی دن ٹکور مانگے گی لیکن معافیاں مانگ رہے ہیں کہ ہم یہ کام چھوڑ دیں گے محنت مزدوری کریں گے۔۔۔
کزن تمہیں کیا لگتا ہے وہ سچ کہ رہے ہیں کیا وہ واقعی ایسا کریں گے میں نے نوید سے سوال کیا۔۔۔
شاہ جی لتر کے ڈر سے سارے ہی یہاں مومن بن جاتے ہیں لیکن باہر جاتے ہی پھر وہی کرتوت ہوتے ہیں۔۔
نوید یار سدرہ نے اُن کو معاف کر دیا ہے وہ چاہتی ہے اُن کو چھوڑ دیا جاٸے میں نے اداسی سے کہا۔۔۔
اففففففف خدایا کیا کہ رہے مصطفی سدرہ کیسے اِن خبیثوں کو معاف کر سکتی ہے۔۔۔
نوید شاہ کے لہجے میں بے یقینی اور انتہا کی حیرت تھی۔
کزن وہ ایسی ہی ہے بڑے دل کی مالک اُس کا ظرف بہت اعلی ہے یار پتہ نہیں کس غلطی کی سزا بھگتی ہے سدرہ نے میں نے اداسی سے جواب دیا۔۔
شاہ صیب سدرہ بی بی کو میری طرف سے سلیوٹ میں آٶں گا اُن کی عیادت کرنے نوید شاہ کے لہجے میں احترام اتر آیا
ضرور آنا کزن لیکن پہلے ان خبیثوں کا سوچ کیا کرنا ہے۔
شاہ صیب تسی کی چاندے او یہ بتاٶ۔۔
کزن اِس عورت کو چھوڑ دو لیکن وحید کو اچھا سا رگڑا دو پانچ چھے مہنے کا۔۔۔
تانکہ وہ اچھے سے مومن بن جاٸے اور آٸندہ ایسے کسی کے ساتھ کرنے سے پہلے اُس کی روح کانپ جاٸے لیکن اِس بات کا پتہ سدرہ کو نہ لگے۔۔
اُن کو پتہ نہیں لگتا کزن جی باقی جو آپ کا حکم ایسا کر دیتے ہیں
نوید پہ کیس ڈال دیتے ہیں کہ یہ زبردستی اپنی بیوی سے جسم فروشی کرواتا تھا نوید نے فورًا کیس کا سوچ لیا۔۔۔
او کے ٹھیک ہے لیکن صرف چھے ماہ اِس سے زیادہ نہیں اور چلان سے پہلے تین چار دن وحید کی مرمت کرو اچھے سے میں نے غصے سے نوید شاہ کو کہا۔
شاہ جی فکر نہ کرو یاد رکھے گا کس سے پنگا لیا ہے
چنگا کزن فر اللہ حافظ۔۔۔
شام کو ماموں اور ممانی آٸے تو کچھ دیر بعد میں نے ماموں کو کہا کہ ماموں چلیں زرہ باہر چلتے ہیں کچھ بات کرنی ہے۔۔
اِس وقت ہم سب سدرہ کے پاس بیٹھے تھے۔۔
ماموں اور میں باہر ہسپتال کے لان میں آگٸے۔۔
کیا ہوا مصطفی کچھ پریشان لگ رہے ہو
ماموں نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوٸے پوچھا۔
ہم لوگ ایک بنچ پہ بیٹھ گٸے۔
ماموں میں کل لیاقت پور جا رہا ہوں
لیاقت پور کیوں وجہ ماموں کا لہجہ تیز تھا۔۔
ماموں سدرہ اپنے آخری وقت میں اپنے ماں باپ سے ملنا چاہتی ہے۔۔
میری بات سن کے ماموں چپ ہو گٸے
اور کافی دیر کسی گہری سوچ میں رہے پھر بولے تو آواز کافی نرم تھی۔۔
مصطفی تمہیں لگتا ہے وہ ماں جاٸیں گے اگر وہ سدرہ کا اُس وقت ساتھ دیتے تو یہ نوبت ہی نا آتی۔۔
ماموں لگتا تو مجھے بھی نہیں کے وہ مانیں گے لیکن کوشش تو کرنی ہے میں سدرہ سے وعدہ کر چکا ہوں دوسری بات یہ بھی تو ہو سکتا ہے
سدرہ کے امی ابو اُس کی بیماری کا سن کے اُسے ملنے آ جاٸیں اور ہم بھی تو صرف اُن کو ملنے کے لٸے راضی کریں گے یہ نہیں کہیں گے وہ سدرہ کو اپناٸیں۔۔۔
مصطفی مجھے لگتا تو نہیں ہے کے ایسا ہو لیکن کوشش کر لو باقی میں تمہیں اکیلے نہیں جانے دوں گا
پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں جب بیٹی کے ساتھ یہ سب کر لیا تو تم کیا لگتے ہو اُن کے فیضان کو ساتھ لے جاٶ۔۔۔
ماموں نے فیصلہ سناتے ہوٸے کہا۔۔
مجھے پتہ تھا ماموں نہیں مانیں گے میرے اکیلے جانے کے لٸے اِس لٸے مجھے بھی بہتر لگا اُن کا فیصلہ مان لوں۔۔
صبح دس بجے میں اور فیضان کینٹ اسٹیشن پہ تھے
فیضان میرا کزن فل ادرو سپیکنگ نظر آتا تھا اور کوٸی بھی اُس سے بات کر کے یہ جج نہیں کر سکتا تھا
کہ یہ لڑکا پنجابی فیملی سے ہے وہ کراچی کے ماحول فیشن میں خود کو اس قدر ڈھال چکا تھا کہ اُسے اِس سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ سید ہے
ہاتھ میں رنگ برنگی ڈوریاں اور انگوٹھیاں پہننا اُس کا شوق تھا۔۔۔
رہی سہی کسر اُس کے پھڈوں نے پوری کر دی تھی اُس نے ایم کیو ایم جواٸن کی ہوٸی تھی
اور آٸے روز کہیں نہ کہیں اُن لوگوں کی لڑاٸی ہو جاتی ماموں کے تعلقات اچھے تھے جس کی وجہ سے فیضان کبھی تھانے تک نہیں گیا تھا۔۔
ہم نے لیاقت پور کی ٹکٹ لی اور ٹرین کا ویٹ کرنے لگے۔
12بجے اللہ اللہ کر کے ٹرین روانہ ہوٸی ۔۔
دل میں ایک انجانا سا خوف تھا کہ پتہ نہیں سدرہ کے گھر والے کیسا رد عمل دیں گے کیونکہ مجھے پتہ تھا زیادہ تر ایسے چوہدری ٹاٸپ لوگ اپنی جھوٹی انا اور عزت پہ رشتے قربان کر دیتے ہیں۔۔۔۔
لیکن انا ختم نہیں کرتے۔
فیضان اپنے ساتھ ایک بیگ بھی لے آیا تھا جس میں میری جیکٹ اسکی جیکٹ اور ایک شال تھی۔۔۔
رات کو 9 بج کے تیس منٹ پہ ہم لوگ لیاقت پور اسٹیش پہ اتر گٸے۔۔۔
ہوا کے سرد جھونکھوں نے ہمیں ویل کم کیا۔۔۔
دل کی حالت عجیب ہی تھی
یہ اُس مہ جبیں کا شہر تھا❤
جس کی قربت میں آٹھ مہینے میں نے گزارے تھے
اُس سے کبھی میں نے کوٸی رشتہ نہیں بنایا تھا
لیکن پھر بھی ایسا لگتا تھا سب رشتے ہیں اس سے❤
نا کبھی میں نے کوشش کی کوٸی رشتہ بنانے کی۔
نہ کبھی اُس نے مجھ سے کسی بات کا کبھی اظہار کیا تھا
مگر پھر بھی ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ خوشی دیتا تھا جب وہ ہنستی تھی تو میں کتنی دیر اُس کی ہنسی کے سحر میں کھویا رہتا تھا تب وہ ایک دم سے چٹکی بجا کے پوچھتی شاہ کیا ہوا کہاں کھو گٸے۔۔
وہ مونٹال پیرس پرفیوم لگاتی تھی جس کی خوشبو اُس کے جانے کے بعد بھی مجھے اُس کا احساس دلاتی تھی۔۔۔
دل ایک عجیب سی لہ پہ ڈھڑک رہا تھا وہ اِس شہر میں سانس لیتی ہو گی اِس شہر کے کالج و سکول میں وہ اپنی دوستوں کے ہنستی مسکراتی ہو گی
کتنی شوخ چنچل ہو گی وہ
سدرہ کو سوچتے ہوٸے میری آنکھوں میں نمی اترنے لگی😥😥
تبھی فیضان نے مجھے آواز دی بھاٸی جان کیا سوچ رہے
ہیں
کچھ نہیں یار بس سوچ رہا تھا اِس اسٹیشن سے سدرہ کی بربادی کا سفر دوبارہ شروع ہوا تھا
وہ مجھے اب بھی یہیں کسی بنچ پہ بیٹھی ہوٸی محسوس ہو رہی ہے جیسے کہ رہی ہو شاہ میرے شہر میں آٸے ہو ویل کم پھول لاٶں تمہارے لٸے😥😥😥
یا پھر ہنستے ہوٸے کہے گی شاہ دیکھ لو میں تمہیں اپنے شہر تک لے آٸی۔۔۔
بھاٸی اللہ سب بہتر کرے گا آپ پریشان نہ ہوں فیضان نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوٸےکہا چلیں اب چلتے ہیں۔۔۔
ہم اسٹیشن سے باہر آٸے تو رات کے دس بجے رہے تھے کراچی کی نسبت یہاں سردی بہت دیادہ تھی۔۔
تین سے چار موٹرساٸیکل والے ہمارے طرف لپکے کدھر جانا ہے بھاٸی صاحب۔۔۔
مجھے حیرانی ہوٸی کہ یہاں کسی آٹو وغیرہ کے بجاٸے موٹرساٸیکل والے سواری چھوڑنے کا کام کرتے ہیں۔۔۔
بات کرنے پہ پتہ چلا کہ ایک سواری بھی جہاں وہ کہتی ہے چھوڑ آتے ہیں
اور یہ کام وہ بیس سال سے کر رہے ہیں۔۔۔
یہ ایک بہت اچھی بات تھی خاص طور پہ سنگل سواری کے لٸے جو ٹیکسی یا آٹو وغیرہ افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
میں نے کہا بھاٸی دیکھو ہم نے جن کے گھر جانا ہے
ہم اُن کو اس وقت تنگ نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم نے اُن کو سرپراٸز دینا ہے۔۔۔
ہم اُس موٹرساٸیکل والے کے ساتھ جاٸیں گے جو ہمیں رہاٸش بھی دے کل صبح تک ہم اُس کو رہاٸش کا کرایہ دیں گے اور کھانے کے پیسے الگ۔۔۔۔
پہلے میں نے سوچا تھا کہ یہی کسی ہوٹل میں رک جاتے ہیں صبح جاٸیں گے سدرہ کے والدین سے ملنے۔۔
پھر خیال آیا کہ جو ہوٹل والوں کو دو ہزار پندرہ سو دینا ہے اور کھانے کے پیسے الگ وہ اِن میں سے کسی غریب باٸک والے کو دیٸے جاٸیں اُس کے گھر کا دس پندرہ دن کا سودہ سلف آ جاٸے گا۔۔
میری اس آفر پہ سبھی راضی ہو گٸے
اور سب مجھے بتانے لگے کہ میرے ساتھ چلو کھانا اچھا دیں گے رہاٸش اچھی ہے بیٹھک کے اندر ہی باتھ روم ہے
سب اپنے اپنے گھر کی سہولتیں بتا رہے تھے
تین جوان لڑکے تھے اِن میں سے ہر ایک کی کوشش یہی تھی کہ میرے ساتھ چلیں۔۔
تبھی میری نظر ایک اڈھیر عمر شخص پہ پڑی جو پتلی سی چادر کی بُکل مارے چپ چاپ کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔۔
جو چھوڑنے کے لٸے تو آگے آیا تھا لیکن رہاٸش کی بات سن کے وہ چپ چاپ پیچھے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
میں نے اُسے آواز دی تم نہیں بتاٶں کے اپنے گھر کی کوٸی سہولت۔۔
سردار ساٸیں میرے پاس ایسی کوٸی سہولت نہیں
اُس آدمی نے افسردہ آواز میں جواب دیا۔۔
اچھا گھر تو ہے نا تمہارے پاس میں نے اُسے پاس بلاتے ہوٸٕے پوچھا۔۔
جی سردار ساٸیں گھر ہے ہے لیکن کچا ہے دو کمرے ہیں
واہ بہت عمدہ یار ہمیں کچے گھر میں رہنے کا بہت شوق تھا
ہم پکے گھروں میں رہ رہ کے تھک چکے ہیں آج تمہیں پتہ نہیں کے تم نے میرے دل کی کتنی بڑی خواہش پوری کر دی۔۔۔
کیوں فیضان کیا خیال ہے میں نے پاس کھڑے فیضان سے پوچھا۔۔۔
بھاٸی سچ پوچھیں تو مجھے یقین نہیں آ رہا کے ہمیں رہنے کے لٸے کچا گھر مل گیا میں بہت خوش ہوں
فیضان بھی شاید بات سمجھ چکا تھا اور ہم نے اپنی خواہش کا اظہار ایسے کیا تھا کہ اُس بندے کو یہ نا لگے کے ہم اُس کی مدد کر رہے ہیں۔۔
میں نے باقی موٹر ساٸیکل والوں سے معزرت کرتے ہو ٸے اُسے کہا لے آٶ موٹر ساٸیکل۔۔۔
ہم بیس کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے موٹر ساٸکل والے گھر پہنچے تو اُس نے پانچ منٹ ہمیں باہر کھڑے ہونے کا کہا شاید گھر والوں کو ساٸڈ پہ کروا رہا تھا۔۔
آ جاٸیں ساٸیں کچھ دیر بعد ہم ایک کچے روم میں تھے ۔۔
چارپاٸی پہ بیٹھتے ہوٸے میں نے پوچھا بھاٸی تمہارا نام کیا
سردار ساٸیں میرا نام محمد ظفر ہے سارے مجھے ظفری ظفری کہتے ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے ظفری کھانے کے لٸے کچھ بنوا لوں
سردار ساٸیں میں ابھی آیا یہ کہتا ہوا ظفری کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
میں نے کمرے کا جاٸزہ لیا تو مجھے لگاہوٹل سے بہت زیادہ بہتر رہاٸش ہے
یہ کوٸی چودہ باٸی چودہ کا ایک کچا مٹی سے بنا کمرہ تھا جس کو مٹی سے لیپ کے ڈسٹیمپر کی جگہ عثمانی کلر کا چونا کیا گیا تھا
کمرے کی چھت پہ کانوں کی سِرکی اور لکڑی کے بالے تھے اور لکڑی کی پٹوں کو بطور گارڈر استمال کیا گیا تھا۔۔۔
ایک کونے میں پیٹی رکھی گٸی تھی جس پہ بڑی نفاست سے ہاتھ کی کڑھاٸی کا کور چڑھایا گیا تھا
پیٹی کے اوپر دو بکسے اور اور ایک بیگ پڑا تھا بکسوں پہ بھی پیٹی کے ڈیزاٸن والے ہاتھ کی کڑھاٸی سے بنے کور دیٸے ہوٸے تھے
سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کے پٹھوں کی پڑچھتیاں بناٸی گٸی تھی لکڑی کی کلِیاں دیوار میں ٹھونک کہ ان پہ پھٹے رکھے گٸے تھے جسے پنجابی میں پڑچھتیاں کہتے ہیں۔۔۔
پڑچھتیوں پہ مختلف ڈیزاٸن کے کپ پلیٹ اور گلاس جوڑے گٸے تھے۔
کمرے کی سیدھی دیوار کے ساتھ چارپاٸیاں جوڑی گٸی تھی اور اُن کے ساتھ ہی گندم والا بھڑولا پڑا تھا۔
ہمیں بھی رانگلی چارپاٸیوں پہ نٸے بستر ڈال کے دیٸے گٸے شاید جب ظفری نے ہمیں باہر کھڑا کیا تھا تب وہ یہ بستر ہی سیٹ کروا رہا رضاٸی اوڑھتے ہوٸے اُس سے بھینی بھینی فناٸل کی گولیوں کی مہک آ رہی تھی۔۔
یہ رہاٸش کسی بھی طرح فاٸیو سٹار ہوٹل سے کم نہیں تھی۔۔
کچھ دیر بعد ظفری کھانا لے کے آ گیا پیاز ہری مرچ اور ٹماٹر ڈال کے انڈے بناٸے گٸے تھے
ساتھ بڑی بہترین گرم گرم دیسی آٹے کی روٹیاں۔۔۔
ظفری نے شرمندگی سے کہا کہ سردار ساٸیں اِس وقت یہی دستیاب تھا دن ہوتا تو آپ کی خدمت کرتا۔۔
ارے یار یہ بہت اچھا کھانا لاٸے ہو تم بتاٶں ہاتھ کدھر دھونے ہیں ۔۔
آٸیں ساٸیں نلکا دکھاتا ہوں۔۔۔
کھانا کافی لزید تھا اور کھانے کے بعد پیور بھینس کے دودھ کی چاٸے نے تو کھانے کا مزہ دوبالا کر دیا۔۔۔
چاٸے سے فارغ ہو کے میں نے ظفری سے پوچھا کہ چوہدری ولایت کو جانتے ہوں۔۔
کچھ سوچتے ہوٸے ظفری نے کہا سردار ساٸیں جانتا ہوں یہاں سے کوٸی کوٸی تیس کلو میٹر دو ہے اُن کا گاٶں۔۔
میرا دماغ چونکا کہ یہ تو ہوتا ہے کہ بندہ اپنے محلے کے ہر فرد کو جانتا ہوتا ہے چلو آس پاس کے گاٶں میں بھی دو چار لوگوں کو جانتا ہوتا ہے۔۔۔
لیکن تیس کلو میٹر دور ایسے جاننا کسی کو مجھے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔۔
میں نے کہا تیس کلو میٹر دور ہے پھر تم کیسے جانتے ہو
اب ظفری نے بات ٹالنے والے انداز میں کہا سردار ساٸیں ہمارا کام ہی یہی ہے پھرنا سواری چھوڑنا تو اِس لٸے جانتا ہوں۔۔
لیکن مجھے ظفری کے لہجے سے ایسا لگا کہ وہ کچھ چھپا رہا۔۔۔
بات تو تمہاری ٹھیک ہے ظفری لیکن تم اُن کے گاٶں کو جانتے ہو گے ایسے ایک بندے کو جاننا یہ کچھ عجیب سا لگا تم کچھ چھپا رہے ہو۔۔۔
نہیں سردار ساٸیں میں کچھ نہیں چھپا رہا ظفری نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔
ٹھیک ہے بھاٸی تم نہیں بتانا چاہتے تو مت بتاٶ لیکن ہم کراچی سے آٸے ہیں اُن کی بیٹی کے بارے میں ملنا تھا
وہ وہاں پڑھتی ہے میں نے ہوا میں تیر پھینکا جو نشانے پہ لگا۔۔۔
ظفری کے منہ سے فورًا نکلا وہی جس کا سکینڈل بنا تھا اتنی بات کر کے ظفری چپ ہو گیا وہ بھی سمجھ گیا تھا کہ وہ غلطی کر گیا ہے۔۔۔۔
دیکھو ظفری مجھے پوری بات بتاٶ اُس لڑکی کی طبیعت بہت خراب ہے پھر غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں میں نے نرمی سے کہا۔۔۔
کچھ دیر ظفری اپنے پاٶں کو گھورتا رہا پھر بولا سردار ساٸیں وہ بڑے لوگ ہیں ہمارے یہاں بیٹیوں کو اتنا پڑھانےکارواج نہیں سنا تھا انہوں نے سب کی مخالفت کے باوجود اپنی بیٹی کو بہت پڑھایا تھا۔۔۔
زیادہ مجھے نہیں پتہ لیکن اُن کی بیٹی کی ننگی ویڈیو انٹرنیب پہ تھی کسی مرد کے ساتھ تو سب اُن کو جانتے ہیں اِس علاقے میں۔۔۔
اب میرا دماغ سن ہو گیا کے واقعی اُن بھاٸیوں اور ماں باپ کا حوصلہ ہے جو اِن حالات کو فیس کر رہے ہیں
اور جی رہے ہیں سدرہ کے پاٶں کی زرہ سی جُھول اس کی پوری فیملی کو ہمیشہ کے لٸے شرمندگی کے تاریک گڑے میں پھینک گٸی تھی
لیکن سدرہ سے بھی زیادہ قصوروار سکندر تھا۔۔۔
اچھا وہ لوگ کیسے ہیں سردار ساٸیں اچھے لوگ نہیں لڑاٸی جھگڑوں میں مشہور ہیں ۔۔
چلو ٹھیک ہے ابھی آرام کرو تم صبح ہمیں اُن کے گھر چھوڑو گے تم اور آتے ہوٸے اپنا نمبر بھی دے دینا تانکہ جب ہم فری ہو جاٸیں تو واپس تم اسٹیشن چھوڑ دینا ہمیں۔
ٹھیک ہے سردار ساٸیں ظفری نے چارپاٸی سے اٹھتے ہوٸے جواب دیا۔۔
میں چارپاٸی پہ لیٹا تو دماغ مختلف سوچوں میں الجھا ہوا تھا جو یہاں کے حالات ظفری کے منہ سے پتہ چلے تھے اُن میں میری امید ختم ہی ہوگٸ تھی کہ سدرہ کے والدین مانے گے۔۔۔

😭😭😭😭😭

ظفری نے صبح دس بجے ہمیں چوہدری ولایت کے گھر سے تھوڑا دور اتار دیا۔۔۔
اور ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے چوہدری ولایت کا گھر ہے۔۔۔
میں نےظفری سے نمبر لے کے اُس کا شکریہ ادا کیا اور پیسے دیٸے۔
گھر پہ نظر پڑتے ہی سدرہ کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا جس نے اپنی زندگی کے چوبیس سال اِس گھر میں گزارے تھے۔۔۔
اور آج لاوارثوں کی طرح ہسپتال کے بیڈ پہ اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔۔
وقت بڑا بے رحم ہے پتہ ہی نہیں چلتا کس وقت ہمارے سامنے پھول کے ڈھیر لگا دے اور کس وقت ہمارا دامن کانٹوں میں الجھا دے۔۔۔۔
سدرہ کا گھر پرانے وقت کی طرزِ تمیر پہ بنا ہوا تھا آٹھ دس کمرے اُن کے آگے برامنداہ اور اوپر ایک چبارا بنا ہوا تھا جس کی دیواروں میں کھڑکیاں نظر آ رہی تھی۔۔۔
گھر کے آگے کافی کھلا صحن تھا۔۔۔
میں نے گیٹ پہ دستک دی تو دل کا عجیب ہی حال تھا ایسا لگ رہا تھا کے سدرہ ابھی نکلے گی اور خوشی سے چلاتے ہوٸے مجھ سے لپٹ جاٸے گی کہ شاہ آپ ہمارے گھر۔۔۔۔😥
لیکن ایسا نہیں ہوا گیٹ ایک پچاس پچپن سال کی عورت نے کھولا جو ظاہری حلیے سے کام والی لگ رہی تھی۔۔۔
السلام علیکم علیکم ماں جی۔۔
وعلیکم سلام پت کنوں ملنا جے۔۔۔
ماں جی چوہدری ولایت صاحب ہیں
نہیں پت اوہ تے ایس ویلے ڈیرے تے ہے گے تسی کون او۔
ماں جی کس ویلے آنا انہوں نے میں نے ماٸی کا سوال نظر انداز کرتے ہوٸے پوچھا۔۔
پت او تے دوپہرے آن گے۔۔
چلو کوٸی گل نہیں ماں جی ہم انتظار کر لیتے ہیں تسی گھر دس کے بیٹھک دا دروازہ کھولو۔۔
جی پت میں چوہدرانی ہورن نوں دسنی آں۔
پانج منٹ بعد بیٹھک کا دروازہ ایک پنتیس چالیس سال کے مرد نے کھولا جو شکل و صورت سے ملازم ہی لگ رہا تھا۔۔
ہمیں بیٹھیک میں بیٹھا کے وہ اندر چلا گیا۔۔۔
فیضان تمہیں کیا لگتا ہے یہ لوگ مان جاٸیں گے
بھاٸی مجھے تو نہیں لگتا کافی استاد معلوم ہوتے ہیں یہ لوگ۔۔
لگ تو مجھے بھی ایسے ہی رہا ہے خیر اب میں اپنا فل زور لگا دوں گا۔۔۔
کچھ دیر بعد جو مرد ہمیں بیٹھک میں بیٹھا کے گیا تھا
وہ چاٸے کی ٹرے لٸے اندر داخل ہوا اور میز پہ ٹرے رکھ کے چاٸے کی پیالیاں ہمارے آگے رکھنے لگا۔۔
چاٸے کے ساتھ بسکٹ اور دیسی گھی کی پنجیری تھی۔۔
جو مرد چاٸے لایا تھا اب وہ بھی ہمارے پاس ہی بیٹھ گیا اور ہم سے نام وغیرہ پوچھنے لگا کے ہم کدھر سے آٸے ہیں۔۔
میرا نام سید مصطفی احمد ہے اور یہ میرا چھوٹا بھاٸی سید فیضان حیدر ہے ہم لوگ کراچی سے آٸے ہیں۔۔۔
کوٸی خیر دا ای کم اے نا شاہ ساٸیں
جی جی خیر دا ای کم اے
جی ٹھیک ہے تسی آرام کرو میں چوہدری صاحب کو اطلاح کرواتا ہوں کہ کراچی سے مہمان آٸے ہیں۔۔
وہ اٹھنے لگا تو میں نے روک لیا بیٹھو یار آ جاتے ہیں چوہدری صاحب بھی۔۔
میری بات پہ وہ مرد پھر بیٹھ گیا۔۔
تم ملازم ہو یہاں
جی میں ملازم ہوں میرے زمہ جو بھی مہمان وغیرہ گھر آتا ہے اُس کو کھانا چاٸے پانی دینا ہے۔۔۔
کب سے ہو ملازم یہاں میں نے ایسے ہی وقت گزاری کے لٸے سوال پوچھا۔۔
جی دس سال سے ملازم ہوں۔۔
دس سال کی بات پہ میرا دماغ چونکا مطلب اِس بندے کو سدرہ کے بارے میں پتہ ہو گا۔۔۔
پھر ایک خیال اچانک میرے دل میں آیا تمہارا نام کیا۔۔۔۔
فیروز اُس کے مختصر جواب نے مجھے اٹھ کے بیٹھنے پہ مجبور کر دیا۔۔۔
فیروز یہی بتایا ہے نا تم نے؟
جی یہی بتایا ہے فیروز میرے ردِعمل پہ کچھ الجھن کا شکار ہوا۔۔
میرے دل میں ایک دم اُس انسان کے لٸے عقیدت اتر آٸی یہی وہ انسان تھا جس نے سدرہ کی تب مدد کی تھی
جب اُس کے بھاٸی اُس کا باپ سدرہ کے خون کے پیاسے ہو گٸے تھے
جب وہ لوگ سدرہ کو جان سے مارنے والے تھے تب اِس بندے نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے اُسے گھر سے نکالا تھا وہ بھی بِنا کسی لالچ کے۔۔
اِس لٸے یہ شخص عزت و تکریم کے قابل تھا۔۔۔
فیروز کیا میں تمہیں گلے مل سکتا ہوں
میں نے جزبات اور محبت سے بھری آواز میں کہا۔۔
تسی سید ہو شاہ صاحب ساڈی جگہ تہاڈے پیرا وچ اے
گلے کِنج ملاں۔۔
فیروز نے خالص گاٶں والوں کی زبان میں احترامًا جواب دیا۔۔۔
بس یار مل لو ایک بار تم نے ایک بہت بڑا احسان کیا تھا مجھ پہ یہ کہتے ہوٸے میں چارپاٸی سے اٹھا اور جا کے فیروز کو گلے لگا لیا
اور وہی اُس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
شاہ ساٸیں تسی غلام نوں گلے مل کے جو احسان کیتا او خون ڈے کے وی نہیں اتر سگدا
لیکن ساٸیں ہک گال ڈسو میں کہڑا احسان کیتا میری تہاڈی ملاقات ای اج تھیندی پیٸی اے
فیروز اب بھی کشمکش میں تھا۔۔۔
میں نے اب مناسب سمجھا کہ فیروز کو حقیقت بتاٸی جاٸے کیونکہ مجھے امید تھی یہ بندہ ہمیں بہتر مشورہ دے گا۔۔۔
فیروز تم نے مجھ پہ یہ احسان کیا ہے کے تم نے آج سے گیارہ مہینے پہلے ایک مجبور لڑکی کی مدد ایسے وقت میں کی تھی جب اُس کے اپنے اُس کی جان لینے پہ تلے ہوٸے تھے۔۔۔
فیروز کے چہرے پہ ایک دم گھبراہٹ نمودار ہوٸی اور وہچارپاٸی سے اٹھ کے میرے قدموں میں بیٹھ گیا۔۔
اللہ کا واسطہ ہے ساٸیں نام نہ لیں اگر کسی نے سن لیا تو میری بیوی بچے مار دیں گے فیروز نے تقریباً روتے ہوٸے میرے پاٶں پکڑ لٸے۔۔۔
میں نے اُسے اٹھا کے اوپر چارپاٸی پہ بٹھایا اور تسلی دی کہ فکر نہ کرو ہم ایسا نہیں کریں گے
اور مختصر اسے سدرہ کے حالات بتاٸے اور کہا کہ وہ ماں باپ سے ملنا چاہتی ہے۔۔۔
اب فیروز کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دھاڑیں مار کے روٸے۔۔۔
کچھ دیر اِسی کیفیت میں گزر گٸ
فیروز مجھے بتاٶ کہ کیا کرنا چاہیٸے ہمیں۔۔
شاہ ساٸیں تسی واپس چلے جاٶ چوہدری صاحب اِس موضع پہ بات نہیں کریں گے اور ہو سکتا ہے آپ سے ہی لڑاٸی کر لیں۔۔۔
فیروز نے ڈرتے ڈرتے مشورہ دیا۔۔۔
فیروز واپس تو میں نہیں جاٶں گا چوہدری سے ملے بنا سدرہ سے وعدہ کر کے آیا ہوں۔۔۔
اب لڑاٸی ہو یا جو بھی دیکھا جاٸے گا میں نے مضبوط آواز میں کہا۔۔
سدرہ کی ماں کہا ہے اِن سے ملوا دو مجھے
اچانک مجھے خیال آیا کہ سدرہ کی ماں سے تو مل لوں کیا پتہ چوہدری ملنے بھی دے یا نا ملنے دے۔۔۔
شاہ ساٸیں اِن پہ بھی بہت ظلم کیا گیا تھا۔۔
جس رات میں سدرہ بی بی کو اسٹیشن پہ چھوڑ کے آیا تھا اُس سے دوسرے دن جب یہ لوگ واپس گھر آٸے تھے تو سدرہ کو نا پا کر پاگل ہو گٸے تھے سدرہ بی بی کے جانے کا سارا الزام بڑی چوہدرانی پہ لگا تھا۔۔۔۔
باپ اور بیٹے کہتے تھے ماں نے بھگایا ہے بڑی چوہدرانی جی کو بیٹوں نے بہت بے دردی سے مارا بھی تھا😥😥😥
کتنے ہی دن بھوکا رکھا اور مارتے رہے پھر بڑی چوہدرانی کے بھاٸیوں کو پتہ چلا تو انہوں نے آ کے کچھ بات سنبھالی
اُس دن کے بعد بڑی چوہدرانی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ملی بیٹے ہر وقت ماں کو گالیاں دیتے ہیں کے یہ سب تیرا کیا دھرا ہے😥😥😥
یہ بتاتے ہوٸے فیروز ایک بار رو پڑا
دل تو میرا بھی بہت بوجھل تھا مگر ساتھ ہی مجھے غصہ بھی بہتآ رہا تھا کے ایسے بغیرت بیٹوں کو سرعام گولی مار دینی چاہیٸے۔۔۔
فیروز یہ لوگ اتنے بغیرت اور ظالم ہیں میں نے ساسف سے پوچھا۔۔
شاہ ساٸیں ان ظالموں کو حلیمہ کی بددعاٸیں لگی ہیں فیروز نے اداس لہجے میں کہا۔۔
کون حلیمہ کیا۔۔؟
شاہ ساٸیں سنتے آٸے تھے کیتی پیو تے دتی دھیو۔۔
میرے والد بتاتے ہیں کہ وڈے چوہدری ولایت صاحب کے والد خیر دین کے پاس ایک ملازمہ کام کرتی تھی
جس کا شوہر چوہدری خیر دین کا گن مین تھا ایک دن وہ چوہری کی طرف سے کسی لڑاٸی میں مارا گیا۔۔
اُس کی بیوی حلیمہ چوہدری خیر دین کے گھر میں ہی ملازمہ تھی تب چوہدری خیر دین نے حلیمہ کو اپنی بہن بنایا لیا کے تو آج سے میری دین دنیا کی بہن ہے۔۔
حلیمہ کی ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام فضیلت تھا فضیلت کی عمر دس سال تھی جب اُس کا باپ قتل ہوا۔۔
اُس وقت چوہدری ولایت کی عمر پندرہ سال تھی
فضیلت پورے گاٶں میں حسین ترین لڑکی تھی لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ کسی ملازم کی بیٹی ہے جب فضیلت پندرہ سال کی ہوٸی تو چوہدری ولایت نے ایک دن اس کے ساتھ زیازتی کر دی۔۔۔
اور فضیلت کو ڈرا دھمکا کے منہ بند رکھنے کو کہا۔۔۔
اور گاہے بگاٸے اُس سے اپنی ہوس پوری کرتا رہا
اور فضیلت سے کہا کہ میں تجھ سے نکاح کروں گا۔۔
کہتے ہیں تین چار ماہ بعد فضیلت حاملہ ہو گٸی
اور یہ راز کھلنے پہ جب فضیلت نے چوہدری خیر دین کو بتایا کہ آپ کے بیٹے ولایت نے یہ سب کیا ہے اور مجھ سے نکاح کا وعدہ بھی کر رکھا ہے ۔
تب وڈے چوہدری صاحب نے دونوں ماں بیٹی فضیلت اور اُس کی ماں حلیمہ کو بہت مارا کہ تم لوگ نے میرے بیٹے کو پھنسایا ہے تانکہ اِس گھر کی چوہدرانی بن سکو۔۔
بہت گالیاں دی کہ تم کمی لوگ ہوتے ہی ایسے ہو۔۔
پھر دونوں ماں بیٹی کا منہ کالا کر کے چوہدری کے ملازموں نے پورا گاٶں پھرایا
اُسی رات فضیلت اور اس کی ماں نے خود کشی کر لی۔۔۔۔
سدرہ بی بی کی اِس حرکت کے بعد کافی لوگ کہتے ہیں چوہدری ولایت کو حلیمہ اور فضیلت کی بددعاٸیں لے گٸیں۔۔۔۔
فیروز اب رو رہا تھا۔۔
اف میرے خدایا اِتنا ظلم
تو حق کرنے والا ہے تو نے حق کیا۔۔
اب مجھے سمجھ آیا کہ سدرہ جیسی معصوم لڑکی کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا
اُس کے باپ اور دادا نے جو ظلم اور زلت 2 لاچار اور بے بس عورتوں کو دی تھی آج وہی زلت اور بدنامی سدرہ کے باپ اور بھاٸیوں کو سدرہ کی صورت میں ملی تھی۔۔
فضیلت اور حلیمہ کی بدنامی تو ایک دو پنڈ تک محدود رہی ہو گی
لیکن سدرہ کی ویڈیو تو نیٹ پہ تھی جس سے پوری دنیا واقف تھی پورا علاقہ اِس گاٶں کو سکینڈل گرل والا گاٶں کہتا تھا۔۔۔
اف رب کے اِس انصاف پہ میری آنکھیں نم تھی اور ہاتھ پاٶں سن۔۔۔
ایسے لوگوں کو بیچ چوراہے لٹکا دینا چاہیٸے فیضان کی غصے سی بھری آواز سناٸی تھی۔۔
بھاٸی اگر آپ کہو تو اِن کا علاج کر دوں میں
کچھ دوست آٸے ہوٸے ہیں میرے ساتھ۔۔۔
فیضان نے مجھے سے اجازت لینے والے انداز میں کہا۔
کون سے دوست میرا دماغ چونکا۔
سوری بھاٸیآپ کو بتایا نہیں تھا لیکن ابو نے کہا تھا کہ مصطفی کو کچھ نہیں ہونا چاہیٸے۔۔۔
اِس لٸے مجھے اپنے سیکٹر انچارج سے بات کرنی پڑی انہوں نے لیاقت پور کے ایریا ایم کیو ایم انچارج سے بات کی
جب ہم اسٹیشن پہ اترے تو وہ لوگ موجود تھے پھر وہ ظفری کے گھر تک ہمارے پیچھے آٸے اور واپس چلے گٸے اب وہ یہیں چوہدری کے گھر کے آس پاس ہیں۔۔۔
اُف فیضان تم پاگل ہو ہم کوٸی جنگ نہیں لڑنے آٸے ایک ریکویسٹ کرنے آٸے ہیں
کے ایک مرتی ہوٸی لڑکی کی آخری خواہش پوری کر دوں مجھے واقعی فیضان کی اس حرکت پہ بہت غصہ آیا تھا۔۔۔
سوری بھاٸی جان میں مجبور تھا مجھے پتہ تھا یہ لوگ کیسے ہوں گے اِس لٸے ایسا کیا اور وہ لوگ سامنے نہیں آٸے گے۔۔
مجھے علم تھا کہ ایم کیو ایم کے کسی بھی لڑکے کے لٸے یہ سب کرنا بہت آسان تھا۔۔۔
لیکن مصیبت یہ تھی کہ یہ لوگ بات کی جگہ گولی استمال کرتے تھے ۔۔
تم اُن سب کو کہو واپس چلے جاٸیں میں نے غصے سے فیضان کو کہا۔۔
فیضان نے سیل نکال کے واٸس میسج سینڈ کر دیا ۔
ہاں دادا آپ لوگ واپس چلے جاٶ ضررت ہوٸی تو میں بلا لوں گا۔۔۔
سدرہ کے کردار کی گواہی تو میں بھی دے سکتا تھا
کیونکہ میں اُس کے ساتھ آٹھ مہینے سے تھا۔۔
وہ بہت مخلص اور بھولی تھی میں اکثر سوچتا تھا کہ اِتنی پیاری اور سب کا احساس کرنے والی لڑکی کے ساتھ اتنا برا کیسے ہوا۔۔۔
اور اب فیروز کی زبانی پتہ چلا تھا کہ اُس نے اپنے باپ کے کرتوتوں کی سزا بھگتی تھی۔۔۔
فیروز تم ایسا کرو سدرہ کی امی سے مجھے ایک بار ملواٶ پتہ نہیں بعد میں چوہدری صاحب ملنے دیں یا نہ ملنے دیں۔۔
ٹھیک ہے ساٸیں میں بات کرتا ہوں یہ کہتا ہوا فیروز اندر حویلی میں چلا گیا۔۔۔
فیروز کی باتوں نے مجھے جنجھوڑ کے رکھ دیا تھا
سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ قصوروار سدرہ کو کہوں یا سکندر کو یا پھر چوہدری ولایت کو۔۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد فیروز واپس آیا اور مجھے اپنے ساتھ اندر چلنے کے لٸے کہا۔۔
میں فیروز کی رہنماٸی میں ایک بیڈ روم نما کمرے میں آ گیا۔۔
جہاں سدرہ کی والدہ بیڈ کی ڈھوہ سے ٹیک لگاٸے بیٹھی تھی۔۔۔
میں نے سلام کیا اور بیڈ کے پاس پڑھے صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔
شکل و صورت سے سدرہ کی والدہ ایک نرم دل اور سادہ خاتون لگ رہی تھی اور بات کرنے پہ یہ ثابت بھی ہو گیا۔۔
معافی چاندی آں پتر تہانوں تکلیف دتی خود نہیں آ سکی میرے جوڑوں میں درد ہے جس کی وجہ سے چلنا مشکل ہے۔۔۔
سدرہ کی والدہ نے شرمندگی سے کہا۔۔
کوٸی بات نہیں ماں جی شرمندہ نہ کریں
کیسی ہے سدرہ😥😥
میری بچی نے تو پہلے ہی بہت دکھ دیکھے تھے کہ اب یہ بیماری یہ کہتی ہوٸے سدرہ کی امی رو پڑی۔۔۔
ماں جی وہ ٹھیک ہے بس ایک بار وہ آپ لوگوں سے ملنا چاہتی ہے معافی مانگنا چاہتی۔۔۔
میرے بچے میں نے تو اُسے اُسی دن معاف کر دیا تھا جس دن اُسے گھر سے فیروز نے لے کے جانا تھا۔۔۔
میرے بس میں ہوتا تو میں اُسے کبھی جانے ہی نا دیتی لیکن یہ لوگ اُس کو جان سے مارنے والے تھے
میں اپنی آنکھوں کے سامنے کیسے اپنے جگر کے ٹکڑے کو مرتے دیکھتی😭😭😭
ماں جی مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ پہ بھی بہت ظلم ہوا ہے سدرہ کی وجہ سے😥
پتر یہ کوٸی ظلم نہیں جو اِن لوگوں نے مجھے زخم دیٸے تھے
وہ تو دوسرے مہینے ہی بھر گٸے تھے
لیکن میں ہر پل ہر رات یہ سوچ کہ تکلیف میں رہتی تھی کے پتہ نہیں میری بچی کس حال میں ہو گی😥😥
کھانا کھایا ہو گا یا نہیں کھایا ہو گا وہ مجھ سے ضد کر کے اپنی پسند کی چیزیں بنواتی تھی۔۔۔
اور پھر کہتی تھی اماں خود ہی کھلاٶ نا😥
یہ سوچ کے میرا کلیجہ کٹ جاتا تھا کہ کھانا دیر سے بننے پہ روٹھ جانے والی میری بچی پتہ نہیں اب کیا کرتی ہو گی کھانا ملتا بھی ہو گا یا نہیں😭😭😭
پتہ ہے پتر ایک دن میں سوٸی ہوٸی تھی کہ مجھے خواب میں سدرہ نے کہا امی میں بہت بھوکی ہوں کھانا بنا دیں مجھے😭😭
تب میرا کلیجہ کٹ گیا تھا میں تڑپ اٹھی تھی رات کو اٹھ کے کھانا بنانے لگ پڑی تھی😭😭😭
سدرہ کی والدہ کی یہ باتیں سن کے مجھے وہ وقت یاد آ گیا جب سدرہ مجھے تین دن کی بھوکی ملی تھی۔۔😭😭
اور بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کے مان کی شان دیکھو سدرہ کراچی میں بھوکی تھی
لیکن اُس کی والدہ کو اتنی دور بھی پتہ چل گیا کے میری بیٹی بھوکی ہے😭
واقعی ماں کی محبت خدا کا روپ ہے ماں نے اِتنی دور سے اپنی بچی کی تکلیف محسوس کر لی تھی۔۔۔
میری بچی نے پوری زندگی کبھی گھر سے اکیلے باہر پیر نہیں رکھا تھا۔
پتہ نہیں یہ سب کیسے ہو گیا اُس سے😥
سدرہ کی والدہ روٸے جا رہی تھی۔۔
ماں جی جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے آپ کی بیٹی نے واقعی بہت دکھ جھیلا ہے۔۔۔
لیکن پچھلے آٹھ ماہ سے وہ میرے پاس ہے اور مکمل نیکی کی راہ پہ اور الحَمْدُ ِلله محفوظ ہے۔۔
سید تو سردار ہوتے ہیں میرے بچے تم نے ثابت کیا میری بے آسرا بیٹی کو سہارا دے کر رب تجھے اِس کا اجر دے گا۔۔
اور میری بچی کا خیال رکھنا اپنے نانا کے صدقے سدرہ کیوالدہ نے روتے ہوٸے ہاتھ جوڑ دیٸے۔۔۔
ماں جی آپ فکر نہ کریں اُس کا خیال میں رکھوں گا وعدہ ہے آپ سے
آپ کو سدرہ کے حق کے لٸے لڑنا چاہیٸے تھا ماں جی میں نے نا چاہتے ہوٸے بھی یہ بات کہ دی۔۔
سدرہ کی والدہ کچھ دیر خاموش رہی جب بولی تو اُن کی آواز میں بہت درد تھا۔۔
پتر ہمارے گھروں میں جب عورت کی شادی کی جاتی ہے
تو اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ آج سے تمہارا رشتہ ماٸکے سے ختم تجھے ماریں کوٹے جو بھی کریں تیرا جنازہ ہی نکلےاب سسرال سے۔۔۔
پھر میں نے بچپن سے اپنے باپ کو ہی فیصلے کرتے دیکھا تھا اپنی ماں کو بس ہر بات پہ سر تسلیم کرتے دیکھا تھا۔۔۔
بڑی ہوٸی تو ہر بات میں بھاٸیوں کی بات مانی جاتی میری ماں میرے باپ کے سامنے کبھی نہیں بولی۔۔۔
اور یہی چیز میرے پلو میں باندھ کے اُس نے مجھے رخصت کیا۔۔
ہمارے ہاں رواج ہے کہ کوٸی عورت فیصلہ نہیں کرتی یہاں دس سال کے لڑکے کی بات مان لی جاتی ہے
لیکن پچاس سال کی عورت کی نہیں مانی جاتی۔۔۔۔
کتنی لڑکیاں صرف شک کی بنیاد پر زہر دے کے قتل کر دی گٸیں ہیں
سدرہ کی والدہ کی باتوں اور طبیعت نے مجھے کشمکش میں ڈال دیا کہ اِن کو سدرہ کی طبیعت کا کھل کے بتاٶں یا نا
لیکن بتانا ضروری تھا
کیونکہ کہ اگر وہ ملنے نا بھی آ سکتی تو کم از کم اپنی بیٹی کے لٸے دعا تو کر ہی سکتی تھیں
ماں جی سدرہ ہسپتال داخل ہے اُس کے پاس وقت تھوڑا ہے وہ ایک بار بس ماں باپ سے ملنا چاہتی ہے آپ چوہدری صاحب کو مناٸیں۔۔۔
نا پتر اُن کو مت بتانا کہ میں تم سے مل چکی ہوں
ورنہ تمہارے ساتھ ہی کوٸی مصیبت بنا دیں گے یا مجھے طلاق دے دیں گے اور پتر اِس عمر میں طلاق لینا بڑا ہی غلط کم ہے ۔۔
میں اپنی بچی رب کے بعد تمہاری پناہ میں دیتی ہوں اُس کا خیال رکھنا میرے بچے۔۔
میرا کلیجہ کٹ رہا ہے میرے بس میں کچھ نہیں چوہدری نہیں مانے گا😥😥
میری بچی کو لاوارث مت مرنے دینا تم سید ہو نا ہمارے وارث۔
میری بچی کے بھی وارث بن جانا سدرہ کی امی نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑ 😢😢
ماں جی میں وعدہ کرتا ہوں کے جو بھی ہو سکا میں سدرہ کے لٸے کروں گا۔۔۔
سدرہ کی والدہ کچھ کہنا چاہتی تھی کے فیروز جلدی سے روم میں داخل ہوا بی بی جی چوہدری صاحب آ گٸے ہیں شاہ ساٸیں جلدی آٸیں۔۔
میں سدرہ کی والدہ سے پیار پھرواتا ہوا جلدی جلدی روم سے باہر نکل آیا۔۔۔
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: