Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Episode 9

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – قسط نمبر 9

–**–**–

😥😥😢
میں فیروز کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتا بیٹھک میں آ گیا۔۔۔۔
بیس منٹ بعد چوہدری ولایت اپنی پوری چوہدراہٹ کے ساتھ بیٹھک میں داخل ہوا۔۔
سفید شلوار قمیض کے اوپر گرے کلر کی واسکٹ اُسے پچپن ساٹھ سال کی عمر میں بھی خوبرو بنا رہی تھی۔۔
چوہدری اچھی خاصی ڈیشنگ پرسنیلٹی کا مالک تھا۔۔
سلام دعا کے بعد چوہدری نے فیروز سے پوچھا کہ کوٸی مہمانوں کو چاہ پانی پلایا ہے۔۔۔
جی چوہدری صاحب پلاٸی ہے چاہ۔۔۔
چل فر تو روٹی پانی دا بندوبست کر۔۔۔
جب فیروز چلا گیا تو چوہدری نے مجھے مخاطب کیا ہاں جی شاہ صاحب چوہدری والایت میں ہی ہوں
دسو کس طرح آنا ہویا۔۔۔
لگتا تھا فیروز نے چوہدری ولایت کو میرا نام وغیرہ بتا دیا تھا۔۔۔
چوہدری صاحب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ سے بات کیسے کروں لیکن کرنی تو ہے اس لٸے بہتر ہے آپکا وقت ضاٸع نا کیا جاٸے۔۔۔
جی جی شاہ صاحب تسی کھلے متھے گل کرو
چوہدری ولایت نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔۔۔
لیکن اگلے ہی پل چوہدری کا چہرہ سیاہ اور آواز بہت سخت ہو گٸی۔۔۔
چوہدری صاحب ہم کراچی سے آٸے ہیں سدرہ کے بارے میں بات کرنی ہے۔۔۔
میں نے کوشش کی اپنی آواز نارمل رکھوں لیکن اِس کے باوجود میری آواز تلخ ہو گٸی۔۔
شاہ جی چاٸے پی لی ہے آپ نے وہ آپ پہ حلال ہے سید زات کا احترام نا ہوتا تو آپ کا حشر کچھ اور کرتے
اس لٸے بہتر ہے کہ آپ اب چلے جاٸیں۔۔۔
چوہدری نے غراتے ہوٸے کہا۔۔
چوہدری صاحب میں کراچی سے آیا ہوں بات کرن کرو گے آپ اپنی مرضی۔۔۔
اگر سید زات کا واقعی احترام کرتے ہیں تو بات پوری سن لیں۔۔
میں نے یہی مناسب سمجھا کہ چوہدری کو تیش دلانے سے اچھا ہے تحمل سے بات کی جاٸے۔۔
کیونکہ اِس طرح اُسے بات سمجھ آنے کے امکان زیادہ تھے۔۔
شاہ صاحب احترام ہے تو تسی ایتھے بیٹھے او۔۔۔
چوہدری کی آواز کافی سخت تھی۔۔
تے فر تھوڑا جیا احترام ہور کر چاچا جی گل سن لو کوٸی نہیں کھا جانا اُسی تہانوں۔۔۔
میرے جواب سے پہلے ہی فیضان نے چوہدری ہی کے لہجے میں جواب دے دیا۔۔۔
اور چاچا جی زرہ سوچو اگر اَسی کراچی توں تہاڈے پنڈ تہاڈے گھر تہانوں ملن آ سگدے آں تے
فر اے وی دماغ وچ رکھو کوٸی سبب ساڈا وی ہونا اِس واسطے اے گل بار بار نا دسو کہ ایتھے بیٹھے نا ہوندے۔۔۔
بھاٸی جان دی گل عزت نال سن لیو۔۔
فیضان نے اچھے خاصے جارہانہ انداز میں چوہدری کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
میں تو فیضان کی پنجابی بولنے پہ زیادہ حیران تھا۔۔۔
فیضان تم چپ کرو چوہدری صاحب بڑے ہیں اِن کا احترام کرنا فرض ہے ہم پہ اب تم مت بولنا بیچ میں
میں نے فیضان کو ڈانتے ہوٸے کہا۔۔۔
جی بھاٸی جان بہتر میں نہیں بولتا اب۔۔
چاچا جی ہم کوٸی سدرہ کو بھگا کے جانے والے نہیں ہیں۔۔
نا ہم اُس کے ساتھ کچھ غلط کرنے والے ہیں
مجھے تو وہ آٹھ ماں پہلے روڈ پہ ملی تھی۔۔
اور تب سے اب تک وہ باعزت گھر کی چاردیواری میں مکمل پردے میں زندگی گزار رہی۔۔
چوہدری شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ سدرہ کو بھگانے والے ہم ہیں تاہم میری وضاحت اور فیضان کے تیور دیکھنے کے بعد
چوہدری کے چہرے پہ ناگواری کے ساتھ گہری سوچ بھی تھی لیکن رویہ کچھ نرم ہو گیا تھا
چوہدری صاحب چلیں سید زات کے احترام کے ساتھ کچھ مہمان ہونے کا احترام کر کے بات سن لیں اِس کے بعد آپ اپنی مرضی کرنا بہتر لگے تو بات مان لینا آپ۔۔۔
میں نے نرم آواز میں چوہدری ولایت سے ریکویسٹ کی۔۔۔
ٹھیک ہے شاہ جی لیکن میرے پاس زیادہ وقت نہیں آپ اپنی بات جلدی کرو۔۔۔
چوہدری نٕے کھردری آواز میں کہا
چوہدری صاحب میں پچھلی کوٸی بات نہیں کرنا چاہتا
میں صرف اِس لٸے آیا ہوں کہ سدرہ ہسپتال کے بستر پہ پڑی اپنی موت کا انتظار کر رہی ہے
اُس کے پاس شاید چند ہفتے کا وقت ہے برین کینسر ہے اُسے۔۔
سدرہ کی آخری خواہش ہے کہ ایک بار اپنے بابا اور اپنی ماں سے مل لے۔۔۔
چوہدری صاحب سدرہ میرے پاس آٹھ مہینے سے ہے اور اِن آٹھ مہینوں میں اُس نے ثابت کیا ہے کہ وہ بہت ہی باعزت لڑکی ہے۔۔
یہ سب اُس کے ساتھ کیسے ہوا یہ بہت افسوس کی بات ہے۔۔۔
پتر افسوس کی بات یہ ہے ہم نے اُس کی ہر ضد پوری کی اُسے سب کی مخالفت مول لے پڑھایا۔۔۔
اور اِن سب باتوں کا صلہ اُس نے یہ دیا کہ میری پگ کو بیچ بازار رول کے چلی گٸی۔۔۔
اب چوہدری ولایت نظریں جھکاٸے آبدیدہ آواز میں بتا رہا تھا۔
چاچا جی شاید نصیب کا لکھا یہی تھا یا پھر سدرہ کو کسی اور کے برے کاموں کی سزا ملی۔۔۔
لیکن وقت گزر گیا ہے اب وہ کچھ بھی نہیں چاہتی بس ایک بار ملنا چاہتی ہے۔۔
اور مجھے امید ہے آپ اُس کی یہ خواہش پوری کر دیں گے
نہیں پتر میری عزت گوارہ نہیں کرتی اُس منہوس کی شکل بھی دیکھوں۔۔
چاچا جی عزت کی بات مت کریں آپ
یہ جھوٹی انا ہے اِس کے لٸے اپنی بیٹی کی آخری خواہش رد مت کریں۔۔۔
شاہ جی مجھے مت سمجھاٸیں کیا سہی ہے کیا غلط ہم نہیں ملیں اُس سے آپ جا سکتے ہیں۔۔۔چوہددری نے غصے سے ڈھاڑتے ہوٸے کہا۔۔۔
چاچا جی چلے جاتے ہیں لیکن ابھی میری بات پوری نہیں ہوٸی۔۔۔
جب سدرہ کے ساتھ یہ مسلہ بنا تھا تو آپ نے اُس کی وجہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی تھی۔۔۔
کیسی وجہ اُس نے جو گند کیا میں اس کی وجہ جاننے نکل پڑتا۔۔۔
چوہدری نے حقارت سے جواب دیا۔۔
باپ ہونے کے ناطے آپ کا فرض تھا وجہ جاننا
آپ نے ابھی کہا کے آپ کی غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ اُس منہوس کو دیکھوں
مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ جب سدرہ کی وہ ویڈیو کِسی خبیث نے انٹر نیٹ پہ ڈالی تھی یا آپ کے بیٹے تک پہنچی تھی تب آپ کی غیرت صرف بیٹی کے لٸے ہی کیوں جاگی تھی آپ کوٸی کمزور اور لاچار انسان تو نہیں تھے
چوہدری تھے علاقے کے اثر و رسوخ تھا آپ کا پیسے کی بھی کوٸی کمی نہیں تھی۔۔۔
آپ نے اُس خبیث انسان کو تلاش کیوں نہیں کیا وہ تو سدرہ سے بھی زیادہ گناہگار تھا جس نے ایک تو آپ کی عزت خراب کی دوسرا اُس عزت کو پوری دنیا میں اچھالا۔۔۔
تیسرا ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد کر دی۔۔۔
اب چوہدری ولایت خاموش تھا
مان لیا آپ کے بیٹے نے غصے میں آ کے سدرہ کو بہت مارا بھاٸی تھا نہیں برداشت کر سکا ہو گا
یہ بھی سچ ہے کہ کوٸی بھی بھاٸی اپنی بہن کی ایسی ویڈیو دیکھ کے برداشت نہیں کرے گا۔۔۔
لیکن چاچا جی جب وہ سدرہ کو مار چکا تھا
تب آپ کو ایک بار سدرہ سے پوچھنا تو چاہیٸے تھا کہ یہ سب کیسے ہوا یا اپنی بیوی کو کہتے کے سدرہ سے وچھو۔۔
وہ خبیث انسان کون ہے آپ بھلے سدرہ کو جان سے مار دیتے لیکن آپ نے سدرہ سے وضاحت نا لے کے قاہروں والا کام کیا ہے۔۔۔
اب چوہدری گردن جھکاٸے چپ چاپ بیٹھا تھا
مجھے پتہ تھا اُس کی یہ چپ پچھتاوا تھی۔۔
میں نے بھی اپنے وار جاری رکھتے ہوٸے کہا
آپ سدرہ سے اِس واقعے کے متعلق پوچھتے
ہو سکتا ہے سدرہ نے یہ سب کسی مصیبت میں آ کے مجبوری کیا ہو یہ بھی ہو سکتا ہے اسے بلیک میل کیا گیا ہو۔۔۔
سدرہ گھریلو اور سادہ لڑکی تھی اُس نے کبھی دنیا نہیں دیکھی اُسے ایسی باتوں کا علم نہیں تھا۔۔۔
آپ کا فرض تھا صرف ایک بار اُس کی بات سنتے۔۔
اور پھر آپ تو چوہدری ہیں نا علاقے کے۔۔۔
اِس کا ثبوت آپ نے یہ دیا کہ اپنی بیٹی اپنی غیرت کو در در رول دیا۔۔
اُسے قتل کرنے تک پہنچ گٸے۔۔
لیکن جس خبیث نے یہ سب کیا تھا پلٹ کے اُس کی خبر بھی نہیں لی۔۔۔
اُس آوارہ کتے کو آزاد رہنے دیا تانکہ اور لڑکیوں کی عزت پامال کرے اور لوگوں کو کاٹتا پھرے۔۔۔۔
اور پھر ویڈیو اگر اپ لوڈ ہوٸی بھی تھی
تو ڈیلیٹ بھی ہو سکتی تھی آپ کی تو اپروچ ہو تھی آخر آپ چوہدری ہیں
آپ کے لٸے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کروانا کون سا بڑا کام تھا
میں نے غصے اور نفرت سے ایک ایک سچ اٹھا کے چوہدری کے منہ پہ مار دیا۔۔
شاہ جی اب آپ چلے جاٸیں میرا بیٹا آنے والا ہے وہ آپ کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔۔۔
چوہدری نے بھراٸی ہوٸی آواز میں کہا۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا چاچا جی آپ کا بیٹا خدا ہے جو زندہ نہیں چھوڑے گا آپ میرے سوال کا جواب دیں میں ابھی چلا جاتا ہوں۔۔
شاہ جی میں تہاڈے سوال کا جواب دے چکا ہوں ہمیں اُس سے نہیں ملنا مر جاٸے ہماری طرف۔۔
چوہدری نے بے رحمی سے انکار کر دیا۔۔
چاچا جی کیا آپ کو یاد نہیں آتی سدرہ کی۔
وہ تو بہت معصوم ہے بیٹیاں تو باپ کی گڑیا ہوتی ہیں
آپ نے تو بچپنا گزارہ ہو گا اُس کے ساتھ اُس کے معصوم ہاتھوں کو پکڑ کے چلنا سکھایا ہو گا😥😥
اُس کے ساتھ کھیلے ہوں گے
کتنی بار اُس نے آپ کو اپنی توتلی زبان سے بابا بلایا ہو گا😥😥
اُس کے کتنے سوالوں کے جواب دیٸے ہوں
چاچا جی جب وہ کسی ایک چیز کا نام بار بار پوچھتی ہوگی
بابا یہ کیا ہے اور آپ بیس بیس بار جواب دیتے ہوں گے بیٹا یہ فلاں چیز ہے تب آپ نہیں تھکتے تھے
آج اُس کی ایک غلطی در گزر نہیں کر سکتے😥😥
یہ سب کہتے ہوٸے سدرہ کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا جس نے بہت امید کے ساتھ مجھے بھیجا تھا شاہ آپ کامیاب ہو کے آٶ گے ان شاء اللہ،،
اب پہلی بار میں نے چوہدری ولایت کی آنکھوں میں آنسو دیکھے لوہا گرم تھا
مجھے کچھ اور وار کرنے تھے۔۔۔
چاچا جی آپ سدرہ کو واپس مت لاٸیں نہ اُسے اپناٸے بس آپ ایک بار اُسے مل لیں۔۔۔۔
اُس کے سر پہ دستِ شفقت رکھ کے اُسے اِس دنیا سے الوداع کریں۔۔
چاچا جی میں سید ہوں خیرات مجھ پہ حرام ہے
لیکن میں اُس معصوم لڑکی کے لٸے خیرات مانگتا ہوں۔۔
بہت دور سے آیا ہوں چاچا جی صرف اِس آس پر کے آپ میرا مان نہیں توڑیں گے۔۔۔
میری سدرہ کچھ بھی نہیں لگتی اِس کے باوجود میرا دل اُس کے لٸے کٹ رہا ہے آپ کا تو سدرہ خون ہے چاچا جی اُسے معاف کر دیں۔۔
مجھے سدرہ کی معافی کی بھیک دے دیں ۔
میں نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ چوہدری کے سامنے ہاتھ جوڑ دیٸے۔۔۔
کچھ دیر کے لٸے بیٹھک میں مکمل خاموشی چھا گٸی۔۔
شاہ جی ہم عزت دار لوگ ہیں ہم تھوک کے چاٹتے نہیں سدرہ نے مجبوری میں سب کیا یا جان بوجھ کے میری پگ کو مٹی میں ملا دیایہ سب میں اُسے معاف نہیں کروں گا۔۔
چوہدری نے آنسو صاف کرتے ہوٸے دوٹوک جواب دیا۔۔۔
واہ چوہدری صاحب اُس نے تو پگ مٹی میں ملاٸی تھی
آپ نے تو جیتی جاگتی گڑیا کو مٹی میں ملا دیا۔۔
اب مجھے غصہ آتا جا رہا تھا اُس جھوٹی انا والے جاہل شخص پہ۔۔۔
میرے بیٹے آنے والے ہیں میں نہیں چاہتا شاہ جی کے آپ کے ساتھ کچھ برا ہو اب آپ چلے جاٸیں۔۔۔
اور مڑ کے کبھی میرے سامنے مت آنا۔۔۔۔
ارے چاچا کیا بیٹے بیٹے لگا رکھی ہے بلا زرہ اپنے بیٹے دیکھ لیتے ہیں اُن کو بھی فیضان اٹھ کھڑا ہوا اور غصے سے چوہدری ولایت جس چارپاٸی پہ بیٹھا تھا اُس کو پاٶں سے ڈھڈا مارا۔۔۔۔
فیضان بیٹھ جاٶ تم ابھی اور اِسی وقت ہماری تربیت بڑوں کا احترام سکھاتی ہے۔۔۔۔
میں نے غصے سے فیضان کو ڈانٹا
بھاٸی جان اِن کو نہیں دیکھ رہے بیٹے بیٹے لگاٸی ہوٸی ہے۔۔۔
میں بات کر رہا ہوں نا چپ ہو جاٶ تم۔۔
چاچا جی سید جتنا دنیا میں شریف بھی کوٸی نہیں
لیکن جب اپنی آٸی پہ سید آ جاٸیں تو بڑے بڑے چوہدریوں کی ایسی کی تیسی ناکوں چنے چبواں دیتے ہیں
اِس لٸے اب بیٹوں کی دھمکی مت دینا آپ۔
فیضان نے سخت لہجے میں چوہدری کو وارننگ دی۔۔
فیضان چپ ہو جاٶ تم۔۔۔
بھاٸی میں باہر انتظار کر رہا ہوں آپ اِن سے بات کر کے باہر آ جانا مجھ سے اب اِن کی باتیں برداشت نہیں ہو رہی یہ کہتے ہوٸے فیضان بیٹھک سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔
شاہ جی تسی وی چلے جاٶں اِس قصے کو ختم سمجھو وہ مر گٸی تو دفن بھی مت کرنا اُسے کتوں کے آگے ڈال دینا۔۔۔۔
تانکہ دیکھنے والے عبرت پکڑیں کے ماں باپ کی عزت کو رولنے والوں کا انجام ایسا ہوتا ہے۔۔۔
چوہدری نے حقارت سے کہا
ٹھیک ہے چاچا جی ہم جا رہے ہیں دو احسان کر دینا مجھ پہ میں نے اٹھتے ہوٸے کہا۔۔
شاہ جی سدرہ سے ملنے کے علاوہ کوٸی بات ہے تو بتاٸیں چوہدری نے بھی اٹھتے ہوٸے جواب دیا۔۔۔
چاچا جی آپ سدرہ کو نہ ملیں نا اُسے اپناٸیں لیکن بس اتنی گزارش ہے کہ اُسے دل سے معاف کر دیں۔۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ سدرہ کی ویڈیوں آپ کے بیٹے نے دیکھی ہیں ہم کسی سے نہیں پوچھ سکتے وہ کون سی ویڈیو ہے نا وہ ایسے ملیں گی۔۔
آپ اپنے بیٹے سے پوچھ کے بتا دینا کے اُن ویڈیو کے ڈسکرپشن میں کیا ٹاٸٹل لکھا ہوا تھا تانکہ ہم اُن ویڈیو تک پہنچ کے ڈیلیٹ کروا سکیں۔۔۔
شاہ جی معاف تو میں سدرہ کو نہیں کروں گا اُس نے میری دنیا گندی کی اب اُس کی آخرت بھی گندی ہونی چاہیٸے
دوسری بات مان لوں گا کوشش کروں گا مل جاٸے جو آپ کہ رہے ہیں وہ مجھے نام لکھ کے دے دیں آپ کو کیا چاہیٸے۔۔
چوہدری نے معافی دینے سے انکار کر کے دوسری بات مانتے ہوٸے کہا۔۔۔
میں نے اپنے وزٹنگ کارڈ کے پیچھے مطلوبہ معلومات کا نام لکھ کے چوہدری کی طرف بڑھا دیا۔۔۔
چاچا جی جو چاہیٸے لکھ دیا ہے اور اوپر میرا نمبر بھی ہے
اس پہ کال کر کے مجھے بتا دینا۔۔
اور کبھی آپ کے دل میں بعد میں بھی اگر رحم آٸے اور آپ کا دل بیٹی سے مل کے لٸے کرے تو ضرور بتاٸے گا۔۔۔
لیکن دو ویک سے پہلے پہلے اُس کے بعد آپ کے پاس صرف پچھتاوا ہو گا۔۔۔
الله حافظ چاچا جی
یہ کہتے ہوٸے میں چوہدری کی بیٹھک سے باہر آ گیا۔۔
جب ہم چوہدری کے گھر سے نکلے تو دل بہت بیزار تھا
بہت اداس تھا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سدرہ کا سامنا کیسے کروں گا۔۔۔۔
کتنی امیدوں اور کتنے بھروسے سے سدرہ نے مجھے بھیجا تھا۔۔
وہ کہتی تھی شاہ تمہارے الفاظ میں جادو ہے تم کسی سے بھی کوٸی بات منوا سکتے ہو ۔۔
اور میں ہنس دیتا تھا وہ کہتی تھی ہنسوں مت میں سچ کہی رہی ہوں تمہارے لفظوں میں بہت تاثیر ہے کسی کو بھی بدل سکتے ہیں۔۔
اب میں کیسے اُسے بتاٶں گا کہ جن لفظوں کو تم جادو کہتی تھی جن لفظوں کی تاثر تمہیں لگتا تھا کسی کو بھی بدل سکتی ہے۔۔
وہ سارے لفظ آج ایک جھوٹی انا والے شخص سے ہار گٸے تھے۔۔۔
مجھے واقعی نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ میں مرتی ہوٸی لڑکی کی آس امید کو کیسے توڑوں گا۔۔۔
دل بڑا ہی بوجھل تھا گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔
ظفری نے ہمیں اسٹیشن پہ اتارا اور یہ کہ کر پیسے لینے سے انکار کر دیا۔۔۔
کہ آپ ایک اچھے کام کے لٸے آٸے تھے آج کوٸی اپنا کسی اپنے کے لٸے اتنا نہیں کرتا۔۔۔
جتنا آپ نے ایک غیر کے لٸے کیا۔۔۔۔
گاڑی دو گھنٹے بعد آنی تھی
ہم ٹکٹ لے کے ویٹ کر رہے تھے
فیضان بھلے ہی لاابالی اور لاپرواہ تھا لیکن وہ بھی بہت افسردہ تھا۔۔۔
کے چوہدری کو ایسے نہیں کرنا چاہیٸے تھا۔۔۔
ہمیں اسٹیشن پہ آٸے ہوٸے کوٸی ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔۔۔
میں بنچ پہ سر جھکاٸے بیٹھا تھا جب کسے نی مجھے السلام علیکم شاہ ساٸیں کہا۔۔
سر اٹھا کے دیکھا تو وہ فیروز تھا
فیروز تم میں سمجھا شاید چوہدری کے دل میں رحم آ گیا ہو۔۔۔۔
کیا چوہدری مان گیا فیروز میں نےاک آس کے طور پہ پوچھا۔۔
نہیں شاہ ساٸیں وہ نہیں مانا۔۔۔
پھر کیوں آٸے ہو تم
شاہ ساٸیں یہ کچھ بھیجا ہے چوہدرانی جی نے سدرہ باجی کے لٸے۔۔۔۔
فیروز نے ایک کپڑے کا جھولا میری طرف بڑھایاکیا ہے اِس میں فیروز
شاہ ساٸیں خود دیکھ لیں
میں نے جھولا پکڑ کے اس کی کانٹھ کھولی
ایک چادر تھی جس پہ ہاتھ سے بہت نفیس کام ہوا
ہوا تھا
ایک چھوٹی سی گڑیا تھی
ایک سلور کے ڈبے میں دیسی گھی کی پنجیری تھی
اور تین ہزار روپے 😥😥😥
میں نے آنسوٶ روکتے ہوٸے فیروز سے پوچھا یہ کس لٸے ہے
فیروز اب ہچکیاں لے کے رونے لگا۔۔
شاہ ساٸیں چوہدرانی جی کا حکم ہے یہ چادر جب سدرہ کی وفات ہو جاٸے اُس کے اوپر ڈالی جاٸے😭😭
یہ گڑیا سدرہ باجی کی بہت پسندیدہ گڑیا ہے۔۔۔
چوہدرانی جی نے جب وہ دو سال کی تھی تو اُن کو خود بنا کے دی تھی۔۔۔
سدرہ باجی اِس گڑیا سے بہت پیار کرتی تھیں😥😥😥
سدرہ باجی کو دیسی گھی کی پنجیری بہت پسند تھی چوہدرانی جی نے اُن کے کے لٸے بھیجی ہے
فیروز نے روتے ہوٸے مجھے بتایا۔۔
آنکھیں تو میری بھی بھیگی ہوٸی تھی لیکن حوصلہ کر رہا تھا کیونکہ میں کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
اور فیروز یہ پیسے کس لٸے
شاہ ساٸیں بچے بڑے بھی ہو جاٸیں تو ماں باپ کے لٸے بچے ہی رہتے ہیں
جب سے سدرہ گھر سے گٸی تھی
چوہدرانی جی پہ بہت ظلم ہوا اُن پہ تشدد کے علاوہ روپیہ پیسا سب اُن سے لے لیا گیا۔۔۔
یہ تین ہزار روپے چوہدری رانی جی پچھلے گیارہ مہینوں میں بیس تیس پچاس پچاس کر کے جمع کیٸے ہیں۔۔۔😥
اور مجھے کہا ہے کہ لے جاٶں اور مصطفی پتر کو دے کے آٶ اور اُن سے کہنا کہ سدرہ کو دے دیں😭😭😭
وہ کوٸی چیز لے لے گی ماں ہوں بیٹی کے لٸے کچھ نہیں بھیجوں گی تو اُسے برا لگے گا😭😭😭😭😭😭
یہ کہتے ہوٸے فیروز چادر میں اپنا منہ چھپا کے رونے لگا۔۔
اور اب میرا ضبط بھی جواب دے گیا آنسوٶ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔
ماں تو ماں ہوتی ہے سدرہ کی ماں کو کیا پتہ تھا کہ اُن کی بیٹی نے پچھلے آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زیادہ روپے کماٸے تھے۔۔۔
مگر ماں کے لٸے تو وہ اب بھی گڑیا تھی😥😥
اور اِسی لٸے دس بیس پچاس سے اکٹھے کیٸے ہوٸے تین ہزار روپے بھیجے تھے کہ بیٹی کوٸی چیز لے لے گی۔۔۔
اِن پیسوں کی میرے لٸے تو کوٸی ویلیو نہیں تھی اور نہ میں نے پیسوں کی کمی آنے دی تھی سدرہ کو بلکہ اُس نے خود میرے پاس بہت سے پیسے جمع کروا رکھے تھے۔۔
لیکن مجھے پتہ سدرہ کے لٸے یہ پیسے دنیا کے خزانوں سے بھی بڑھ کے ہیں یہی سوچ کے میں نے پیسے رکھ لٸے۔۔۔۔
فیروز تم جاٶ اور چوہدرانی صاحبہ کو بتاٶ کے آپ نے قیمتی ترین گفٹ دیا ہے سدرہ کے لٸے میں نے آنسوٶ روکتے ہوٸے فیروز کو کہا۔۔۔
شاہ ساٸیں میں جانے لگا ہوں ایک گزارش اور کرنی ہے
ہاں بولو فیروز
شاہ ساٸیں اپنا موباٸل نمبر دے دیں
اوہ ہاں فیروز یہ تو بہت اچھا کیا تم نے۔۔۔
یہ لو میرا کارڈ میرے دل میں اچانک روشنی ہوٸی کہ چلو سدرہ مل نہیں سکتی چوہدرانی جی سے۔۔
لیکن بات تو کر سکتی ہیں۔۔
فیروز نمبر لے کے چلا گیا لیکن مجھے بہت اداس کر گیا ماں کی محبت واقعی رب کا روپ ہے۔۔۔۔
😢😥😭
ہم کراچی پہنچے تو میری طبیعت بہت خراب تھی
حوصلہ نہیں ہو رہا تھا کہ سدرہ کا سامنا کروں اور اُس کو بتاٶں کہ اُس کے ابو نے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔۔۔۔
پوری رات سفر اور زہنی ٹینشن کی وجہ سے عجیب ہی کیفیت تھی۔۔
ماموں نے سختی سے کہا کہ تم گھر جاٶں اور آرام کرو شام کو آ جانا۔۔۔
جب میں شام کو گھر سے نکلا تو وہ تھیلا بھی اٹھا لیا جو سدرہ کی ماں نے بھجوایا تھا۔۔
کوٸی عجیب ہی کشش تھی اس کپڑے کے تھیلے میں جب بھی اس پہ نظر پڑتی دل بھر آتا اور آنکھیں نم ہو جاتی۔۔
ہسپتال آ کے پہلے ڈاکٹر سے ملا اُس سے سدرہ کی طبیعت کے بارے میں پوچھا۔۔۔
لیکن ڈاکٹر نے معزرت کرتے ہوٸے کہا
ہم کچھ نہیں کر سکتے مسٹر شاہ آپ کے پیشنٹ کی واٸنز بلاک ہونا شروع ہو گٸی ہیں۔۔۔
ہم تو اِس چیز پہ بھی حیران ہیں کے وہ اب تک زندہ کیسے ہیں۔۔
مجھے پتہ تھا وہ کیوں زندہ ہے…
امید انسان کو زندہ رکھتی ہے سدرہ کے دل میں بھی آس تھی کہ شاید میرے ماں باپ مجھ سے لیں…
اِسی بات نے سدرہ کو زندہ رکھا ہوا تھا۔۔۔
اور اب شاید یہ امید ٹوٹتے ہی اُس کی سانس کی ڈوری بھی ٹوٹ جاتی۔۔۔۔
میں آنسوٶ ضبط کرتا ہوا ڈاکٹر کے روم سے باہر نکل آیا۔۔۔
اب نیورولوجیکل وارڈ کے باہر بیٹھا حوصلہ جمع کر رہا تھا کہ سدرہ کا سامنا کیسے کروں۔۔
سدرہ سے میرا کوٸی خونی رشتہ نہیں تھا۔۔۔
محبت بھی نہیں تھی نہ کبھی اس نے کہا نا کبھی میں نے پھر بھی سدرہ کی تکلیف پہ دل کٹ رہا تھا۔۔۔
مجھے لگتا شاید بات اب محبت سے بھی آگے چلی گٸی تھی۔۔۔
آٹھ بجے اچانک میری کزن مہرین گھبراٸی ہوٸی باہر آٸی کہ سدرہ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔۔۔
اُس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی میں وارڈ کی طرف بھاگا۔۔۔
سدرہ کے ہاتھ پاٶں حرکت نہیں کر رہے تھے اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
مجھے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کیا کروں
بس سدرہ کے ہاتھ پاٶں دبا رہا تھا۔۔۔
تبھی نرسنگ سٹاف اور ڈاکٹر آ گیا۔۔۔
مسٹر شاہ آپ دس منٹ کے لٸے باہر جاٸیں پلیز۔۔
سر پلیز اسے بچا لیں سر
مسٹر شاہ اللہ بہتر کرے گا ویٹ کریں باہر جا کے
اگلے تیس منٹ ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف میڈیسن اور تھراپی کرتا رہا اور میں وارڈ کے باہر بے چینی سے سدرہ کی صحت یابی کی دعا مانگتا رہا۔۔
تیس منٹ بعد مجھے ڈاکٹر باہر آتا دکھاٸی دیا۔۔
میں فورًا ڈاکٹر کی طرف لپکا۔۔
کیسی ہے اب اُن کی طبیعت سر۔۔
مسٹر شاہ وہ ٹھیک ہیں لیکن اُن کے برین کا رابطہ باقی جسم سے منقطہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔
دعا کریں بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے یہ کہتے ہوٸے ڈاکٹر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
جب میں سدرہ کے بیڈ کے پاس پہنچا تو اب وہ تکیے سے ٹیک لگاٸے ہوٸے بیٹھی تھی سٹاف نے بیڈ بھی پیچھے سے تھوڑا اونچا کر دیا تھا۔۔۔
السلام علیکم کیسی ہو باندری میں نے مسکراتے ہوٸے پوچھا۔۔
وعیلکم سلام۔۔ آپ کی جان نہیں چھوڑنے والی بے فکر رہیں
سدرہ نے بھی مسکراتے ہوٸے جواب دیا۔۔
جان کون کمبخت چھڑوانا چاہتا ہے۔۔۔۔محترمہ
میں نے سدرہ کے پاس بیڈ پہ بیٹھتے ہوٸے کہا اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے دبانے لگا۔۔۔
تم لوگ باتیں کرو میں زرہ باہر سے ہو کے آتی ہوں۔۔
مہرین نےاٹھتے ہوٸے کہا اور باہر کی طرف چلی گٸی۔۔
مہرین کے جانے کے بعد کچھ دیر مکمل خاموشی رہی مجھے پتہ تھا وہ امی ابو کا پوچھے گی۔۔
کافی دیر بعد سدرہ کی کرب میں ڈوبی آواز سناٸی دی۔۔
شاہ وہ نہیں مانے نا۔۔
کون نہیں مانے میں نے انجان بننے کی کوشش کی۔۔
شاہ مجھے پتہ انہوں نے نہیں ماننا تھا۔۔
اُن کے لٸے رشتوں سے زیادہ انا اہم ہے۔۔
سدرہ ایسا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وہ آٸیں گے کچھ دن تک
میں نے جھوٹ بولا۔۔۔
شاہ سر آپ جھوٹ نہ بولا کرو فورًا پتہ چل جاتا ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔
سدرہ میں ہار گیا ہوں پلیز مجھے معاف کر دینا۔۔۔
میں اُن کو نہیں منا سکا میں نے اپنی پوری کوشش کی۔۔۔
میں نے آنسو ضبط کرتے ہوٸے سدرہ کو حقیقت سے آگاہ کیا۔۔۔
شاہ سر مجھے آپ کی نیت پہ کوٸی شک نہیں مجھے پتہ ہے آپ نے پوری کوشش کی ہوگی۔۔۔
اور ویسے بھی شاہ سر مجھ جیسی منہوس اور بری لڑکی کا انجام ایسے ہی ہونا چاہیٸے لاوارث موت۔۔
اب سدرہ بنا آواز کے روٸے جا رہی تھی۔۔
تم لاوارث نہیں ہو میں ہوں ماموں ہیں وہ تمہیں اپنی بیٹی مانتے ہیں۔۔۔
میں نے سدرہ کے قریب ہوتے ہوٸے کہا۔۔۔
بلکل ایسا ہی ہے شاہ سر لیکن پھر بھی میں لاوارث ہی ہوں۔۔۔۔
اچھا دیکھو تمہاری امی نے کیا بھجیا ہے
میں نے سدرہ کا دھیان بٹانے کے لٸے بات بدلی
اور کپڑے کے تھیلے سے چیزیں نکالنے لگا۔۔۔۔
سدرہ نے سب سے پہلے گڑیا کو اپنے سینے سے لگایا
مجھے ایسے لگتا ہے میری امی آ گٸی ہیں شاہ سر😭😭
بہت جزباتی منظر تھا آنسو ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
بڑی مشکل سے سدرہ کو چپ کروایا۔۔۔
اور اُسے باقی چیزیں دی۔۔۔
شال نکال کے دی تو سدرہ نے اُسی وقت اوڑھ لی۔۔۔
وہ اب بلکل سراٸکی لڑکی لگ رہی تھیبہت پیاری اور میٹھی۔۔۔
بیماری کے باوجود اُس کے چہرے پہ اب بھی نور تھا۔۔
باندری کیوں ایمان کمزور کرنا ہے بہت غضب کی پیاری لگ رہی ہو اتارو اِس کو۔۔۔
میں نے ماحول چینج کرنےکے لٸے بات بدلی۔۔۔
اچھا یہ پنجیری کھاٶ گی میں نے پنجیری والے ڈبے کو کھولتے ہوٸے کہا۔۔
ہاں نا کھاٶں گی سدرہ نے خوش ہوتے ہوٸے جواب دیا۔۔
مجھے بہت پسند ہے
اچھا جی تمہاری امی نے اِسی لٸے بھجواٸی ہے کہ تمہیں بہت پسند ہے😢
میں نے پاس پڑے ٹرے میں رکھی سپون اٹھاٸی
اور سدرہ کو پنجیری کھلانے لگا۔۔
میں کھا لوں گی نا مجھے دیں سدرہ نے ڈبہ لینے کی کوشش کی۔۔۔
نا میرا پتر تیرا کی وساہ ساری پنج ونجے
میرے واسطے بچے ہی نا اِس لٸے میں خود ہی کھلاٶں گا۔۔
میں نے ڈبہ پیچھے کرتے ہوٸے کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہا توبہ شاہ سر آپ کبھی کبھی بچے بن جاتے ہیں
میں اتنی ظالم بھی نہیں کہ اب آپ کا حصہ کھاٶں
سدرہ نے ہنستے کہا۔۔
نا جی مینوں بھروسہ نہیں میں خود ہی کھلاٶں گا چلو منہ کھولو۔۔۔
واہ مالک تیری شان مجھے آج اپنی بیماری اچھی لگ رہی ہے شاہ صاحب مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلا رہے ہیں 😉
میں نے اِس ایک پل میں اپنی زندگی جی لی شاہ سر
اب مجھے کوٸی دکھ نہیں۔۔
سدرہ نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوٸے میرا ہاتھ چوم لیا۔۔۔
میری آنکھیں کچھ سوچتے ہوٸے بھیگ گٸیں۔۔۔
شاہ سر آپ رو کیوں رہے ہیں۔۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی میں نے شرٹ کے کف سے آنسو صاف کیٸے۔۔۔
پلیز شاہ سر بتاٸیں ورنہ میں پنجیری نہیں کھاٶں گی سدرہ نے دھمکی دی۔۔
بلیک میل مت کیا کرو مجھے میں نے گھور کے دیکھا😒
ویسے آپ قابو بھی تو نہیں آتے 😀😀
چلیں بتاٸیں کیوں روٸے۔۔۔
سِڈ تمہاری امی نے بتایا تھا کہ تم ضد کر کے اُن سے اپنی پسند کی چیزیں بنواتی تھی۔۔۔
اور جب بن جاتی تو تم ضد کر کے کہتی امی خود ہی کھلاٸیں نا۔۔😥
مجھے وہ وقت یاد آ گیا تھا سِڈ
اس لٸے زرہ آنکھیں بھیگ گٸی اور تمہیں پنجیری خود کھلاٸی بھی اس لٸے۔۔۔
کہ تمہیں تمہاری امی والی محبت مل جاٸے😭😭😭
آنسو ایک پھر سے بے قابو ہو گٸے لیکن اس بار میں اکیلا نہیں تھا سدرہ بھی میرے ساتھ رو رہی تھی۔۔
میں نے چپکے سے سِڈ کو گلے لگا لیا۔۔۔۔
سِڈ بہت خوش تھی اب وہ گڑیا سے کھیلتی رہتی باتیں کرتی رہتی اور روز ایک دو چمچ پنجیری بھی کھاتی میں نے رب کا شکریہ ادا کیا کہ سِڈ کچھ نارمل ہوٸی ہے۔۔۔
مجھے لیاقت پور سے آٸے آج تیسرا دن تھا
میں وارڈ کے باہر بیٹھا تھا۔
سیل واٸبریٹ ہوا تو نکال کے دیکھا کسی نیو نمبر سے مس کال تھی۔۔۔
میں نے کال بیک کی لیکن فون کسے نے پک نہ کیا۔۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ مس کال دوبارہ ہوٸی اب میں نے اگین کال کی تو کال فورًا پک کرلی گٸی۔۔۔
اسلام علیکم شاہ ساٸیں
وعیلکم سلام آواز کچھ جانی پہچانی لگ رہی تھی۔
شاہ ساٸیں میں فیروز ہوں
اووووہ فیروز کیسے ہو چوہدرانی جی کیسی ہیں
مولا کا احسان ہے شاہ ساٸیں۔۔
اور چوہدرانی جی خوش بھی ہیں اور غمگین بھی۔۔
ہاں فیروز ماں کے دل کا کوٸی مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔
جی شاہ ساٸیں ایسا ہی۔۔
شاہ ساٸیں چوہدرانی جی بات کرنا چاہتی ہے سدرہ باجی سے اگر آپ کو سہی لگے تو۔۔
مجھے کیوں نہیں سہی لگے گا یہ تو بہت خوشی کی بات ہے تم دو منٹ ہولڈ کرو میں کرواتا ہوں۔۔
میں فیروز کو جواب دیتا ہوا وارڈ کی طرف جانے لگا۔۔
سِڈ باندری دیکھو کس کا فون ہے۔۔
میں نے خوشی چھپاتے ہوٸے کہا۔۔
کس ہے شاہ سر
سڈ خود بات کر لو لیکن زیادہ تنگ مت کرنا نا خود رونا نہ ان کو رولانا یہ کہتے ہوٸے میں نے سیل سدرہ کی طرف ٰبڑھا دیا۔۔۔
آ جاٶ مہرین زرہ باہر کی ہوا کھاتے ہیں تمیں بھوک لگی ہو گی میں نے مہرین کو آنکھ مارتے ہوٸے کہا۔
کیونکہ میں چاہتا تھا کہ سدرہ کھل کے امی سے بات کرلے۔۔۔
ماں سے سدرہ بات کر کے بہت خوش تھی۔۔
گیارہ بجے اُس کی ماں سے بات ہوٸی تین بجے تک وہ اور میں ہنسی مزاق کرتے رہے۔۔۔
تین بجے اچانک پھر اُس کی ناک سے خون آنا شروع ہو گیا میں فورًا ڈیوٹی ڈاکٹر کو بلا لایا۔۔
باوجود کوشش کے سدرہ کی طبیعت نہ سنبھل سکی۔۔۔
اور اگلے ایک گھنٹے میں سدرہ کو آٸی سی یوں میں منتقل کر دیا گیا۔۔
اب سدرہ دواٶں کے زیر اثر غنودگی میں تھی میں تھوڑی دیر کے بعد جا کے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
سدرہ کو جب پہلے دن ہسپتال لاٸے تھے تو وہ بیہوشی کی حالت میں بھی رو رہی تھی۔۔
اُس کی آنکھوں سے مسلسل پانی بہ رہا تھا۔۔
لیکن آج وہ بے ہوش تو تھی۔۔
لیکن اُس کے لب مسکرا رہے تھے۔
اُس کے چہرے پہ سکون تھا اطمنان تھا۔۔۔
وہ رات ایسے ہی جاگتے اور پریشانی میں گزر گٸی ۔۔
تین بجے کے قریب سدرہ کو ہوش آ گیا ڈاکٹر نے اطلاع دی کہ آپ اپنے پیشنٹ سے مل سکتے ہیں۔۔۔
میں اکیلا ہی تھا ہسپتال کیونکہ کہ کل شام مہرین کو میں نے ماموں کے ساتھ گھر بھیج دیا تھا۔۔۔
وہ کافی دن کی تھکی ہوٸی تھی اور پھر سدرہ آٸی سی یو میں تھی میں نے کہا کہ اب ضرورت نہیں ہے دو لوگوں کی تم آرام کر لو آج کیرات۔۔۔۔
جب میں آٸی سی یو میں پہنچا تو وہ مکمل ہوش میں تھی اور کافی بہتر لگ رہی تھی۔۔
کیسی ہو سِڈ میں نے مکراتے ہوٸے پوچھا۔۔
سِڈ از ڈیڈ شاہ سر
شٹ اپ بکواس مت کرو تم۔۔
اب اگر ایسا کہا تو بات نہیں کروں
اچھا نہیں کہتی ایسے لیکن کچھ اور تو کہ سکتی ہوں نا۔۔
ہاں اور جو میرضی کہوں
آپ کی طرف میری دو وش اور رہتی ہیں شاہ سر۔۔۔
سدرہ نے میرا ہاتھ تھامتے ہوٸے یاد کروایا۔۔۔
ہاں مجھے یاد ہیں بولوں میں پوری کروں گا۔۔۔۔
سدرہ اب مکمل چپ تھی جیسے الفاظ ترتیب دے رہی ہو
تبھی گارڈ نے کہا کہ سر آٸی سی یو میں اتنی دیر رکنے کی اجازت نہیں آپ باہر آ جاٸیں۔۔۔
میں نے ایک پانچ سو کا نوٹ اس کی ہتھیلی پہ ہاتھ ملانے کے بہانے رکھتے ہوٸے کہا بس ہاف گھنٹہ کچھ بات کرنی ہے ضروری۔۔۔
اچھا سر جلدی کر لیں یہ کہتا ہوا وہ باہر چلا گیا۔۔۔
سِڈ بولو چپ کیوں ہو۔۔۔۔
شاہ سر بچپن سے لے کر جوانی تک میں گھر میں ہوتے ہوٸے بھی اکیلی رہی۔۔
نا کوٸی دوست تھی نہ کسی کے گھر آنا جانا بس سکول سے گھر اور گھر سے سکول۔۔۔
میری امی بھی بہت سادہ خاتون تھی۔۔
ان پڑھ تھی اِس لٸے جو ماں بیٹی کے درمیان دوستی ہوتی ہے وہ ان کے میرے درمیان نہ ہو سکی۔۔
اور امی ویسے بھی بس ہر وقت کام کرتی رہتی۔۔۔
بابا پیار بہت کرتے تھے لیکن طبیعت کے بہت سخت تھے۔۔۔
پھر دل کرتا تھا کہ بھاٸیوں سے ہنسی مزاق کروں تو وہ ڈانٹ دیتے تم لڑکی ہو جاٶ یہاں سے۔۔۔
چاہے جانے کا احساس بہت خوبصورت ہوتا ہے۔۔
اور مجھ میں یہ احساس دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔۔۔
ہر کسی کا دل شدت سے چاہتا ہے کوٸی مجھے چاہے میری تعریف کرے میرا خیال رکھے۔۔
جب میری منگنی ہوٸی تو مجھے لگا تھا میری یہ کمی میرا منگیتر پوری کرے گا۔۔۔
جب لیپ ٹاپ لیا تو میں نے اُس سے بات کرنے کی کوش کی لیکن وہ ہیمشہ مصروف ہونے کا بہانا بنا دیتا اور بات نہ کرتا۔۔۔
تب یہ احساس اور شدت سے بھڑک اٹھتا
میں اپنی روم میٹ کو دیکھتی وہ ہنس ہنس کے اپنے چاہنے والوں سے باتیں کرتی وہ اُن کے نکھرے اٹھاتے پیار کرتے
تب مجھے لگتا کے میرا کوٸی نہیں ہے۔۔۔۔۔
میں نے اِسی احساس محرومی کے زیر اثر غیروں کو اپنا بنا لیا۔۔۔
لیکن شاہ سر غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں نا
وہ مجھ سے پیار جتاتے میری تعریف کرتے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماتی۔۔
مجھے سکون ملتا مجھے لگتا کہ یہی اصل زندگی ہے یہ کتنا چاہتے ہیں مجھے کوٸی تو ہے میرا۔۔۔
روم میٹ لڑکیاں میری تعریف کر کے پیار جتا کے میری ہر چیز استمال کر لیتی۔۔۔
اور میں خوشی خوشی اپنی ہر چیز دے دیتی
شاہ سر صرف بیٹی کی ضرورت پوری کرنا محبت نہیں ہوتا
کپڑے لے دے دیٸے اچھا کھانا دے دیا پیسے کھلے دے دیٸے اور سمجھا فرض ادا ہو گیا۔۔۔
نہیں شاہ سر سب سے بڑی چیز ہوتی ہے بیٹی کے لٸے محبت اُس کے پاس بیٹھنا اُسے اپنا وقت دینا۔۔۔۔
بیٹوں کے برابر اُس کی بات کو ترجیح دینا اُسے اعتماد دینا اُسے اچھے برے کا بتانا۔۔۔
میں یہ نہیں کہتی کہ میرے ماں باپ کو مجھ سے محبت نہیں تھی بہت محبت تھی لیکن انہوں نے مجھے اعتماد نہیں دیا پیار تو تھا ان کو۔۔۔
لیکن کبھی کھل کے اظہار نہیں کیا اور باپ اور بھاٸیوں کے سخت رویے نے مجھے دبو قسم کا بنا دیا۔۔
کوٸی زرہ سی اونچی آواز میں بات کرتا تو میں سہم جاتی۔۔
یہی وجہ تھی کہ میں سکندر کی محبت کے احساس میں بہت دور چلی گٸی اتنی دور کہ آج یہاں پڑی موت کا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔
سدرہ اب رو رہی تھی اور میرے پاس بھی حوصلہ دینے کے لٸے کوٸی الفاظ نہیں تھے۔۔
سِڈ چھوڑو نا اِن باتوں کو ان شاء اللہ اب برا وقت نکل گیا کچھ نہیں ہو گا تمہیں۔۔۔
میں سٹول سے اٹھ کے سدرہ کے پاس بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔
شاہ سر مجھے حقیقت کا علم ہے میرا اور آپ کا ساتھ ختم ہونے والا ہے۔۔۔
میں سوچتی تھی کہ اِس زندگی نے مجھے دیا ہی کیا ہے ہمیشہ دکھ تکلیف۔۔
لیکن میں غلط تھی اِسی زندگی کی بدولت مجھے میرے بابا اور آپ ملے۔۔۔
میں نے اپنی زندگی میں صرف دو مردوں کے پاس خود کو محفوظ محسوس کیا۔۔۔
ایک میرے بابا ایک آپ یہ کہتے ہوٸے سدرہ نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔۔۔
اور میں سوچ میں پڑ گیا۔۔
کہ بیٹی واقعی رحمت ہوتی ہے سدرہ کے باپ نے اُس کی آخری خواہش بھی رد کر دی تھی۔۔
لیکن وہ پھر بھی اُن سے اتنی ہی محبت کرتی تھی۔۔۔
اچھا سڈ اپنی خواہش بتاٶ۔۔
میں نے یاد کروایا۔۔
وہی بتانے لگی ہوں شاہ سر۔۔۔
جب میری سکینڈل ویڈیو لیک ہوٸی اور میں نے گھر چھوڑا پھر جسم فروشی کی دلدل میں پھنسی گٸی تو دماغ ہر وقت ڈپریشن کا شکار رہتا سٹریس اتنی ہوتی کہ جس کی حد نہیں ۔۔۔
کوٸی بھی لڑکی محبت سے مجبور ہو کے ایک مرد کو تو اپنا جسم سونپ سکتی ہے۔۔۔
لیکن ہر رات کسی نیو مرد کو اپنا جسم پیش نہیں کر سکتی اِس چیز نے مجھے توڑ کے رکھ دیا میں ڈیریشن اور سٹریس دور کرنے کے لٸے ہیوی ہیوی میڈیسن کھانے لگی۔۔
ساتھ حمل روکنے والی میڈیسن بھی کھانی پڑتینتیجہ آپ کے سامنے ہیں آج میں کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہو گٸی۔۔۔۔
پلیز سدرہ دفع کرو اِن باتوں کو مجھے کوٸی نہیں لینا دینا اِن باتوں سے۔۔۔
تم ایک عمدہ لڑکی ہو بہت پیاری بہت اچھی جو بھی ہوا تقدیر کا لکھا تھا سڈ پریشان نا ہو میرا دل صاف ہے تمہاری طرف سے۔۔۔
میں نے سدرہ کی پیشانی پے ہاتھ پھیرتے ہوٸے کہا
اور تم وہ بات بتاٶ جس کا کہا ہے تمہیں۔۔
اور اب اگر تم نے کوٸی پرانی بات یاد کی تو میں ہمیشہ کے لٸے چلا جاٶں گا۔۔۔
میں نے زرہ سخت لہجے میں کہا مجھے پتہ تھا وہ جتنی پرانی باتیں یاد کرتی جاٸے گی اتنی اُس کی طبیعت خراب ہوتی جاٸے گی۔۔۔
شاہ سر آپ مجھے نہیں چھوڑ سکتے مجھے یقین ہے
چھوڑوں گی تو میں آپ کو سدرہ کے لہجے میں یقین اور کرب دونوں شامل تھے۔۔۔
پھر بکواس میں نہیں بولتا۔۔
میں نے منہ پھیرتے ہوٸے کہا۔۔۔
اچھا نا سوری سنیں میری وش پوری کریں
اچھا سنیں نا وش بتاتی ہوں۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: