Syed Mustafa Ahmad Urdu Novels

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad – Last Episode 10

Scandal Girl Novel by Syed Mustafa Ahmad
Written by Peerzada M Mohin
سکینڈل گرل از سید مصطفیٰ احمد – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

شاہ سر سنیں نا
ورنہ میں ناراض ہو کے کہیں دور چلی جاٶں گی۔۔۔
سدرہ کی اِس دھمکی پہ ایسا لگا سانس رک گٸی ہے۔۔
میں نے فورًا پلٹ کہ سدرہ کا ہاتھ تھام لیا فضول باتیں مت کرو پھر غصہ دلاتی ہو مجھے۔۔۔
کچھ دیر سدرہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی
کیا دیکھ رہی ہو ایسے۔۔
شاہ سر سوچ رہی ہوں کیا تھا اگر آپ مجھے سکندر سے پہلے مل جاتے۔۔😥
جو نصیب میں تھا وہی ہوا اچھا بتاٶ کیا بتانا چاہ رہی تھی
میں نے بات بدلنے کے لٸے کہا۔۔۔
سدرہ کچھ دیر خاموش رہی۔۔
شاہ سر میری وصیحت لکھیں آپ
کیا فضول بات ہے سدرہ کچھ نہیں ہو گا تمہیں میں سرجری کروانے لگا ہوں تمہاری۔
میں گاڑی بیچ دوں گا گھر بیچ دوں گا پلیز ایسی باتیں مت کرو۔۔
شاہ سر آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے آپ کو بھی پتہ ہے مجھے بھی پتہ کہ اب یہ ساتھ ختم ہونے والا ہے۔۔
تو بہتر ہے آپ وعدے کے مطابق میری وش پوری کریں۔۔۔
سدرہ نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔۔
اچھا وش بتاٶ وصیحت نہیں میں نے ہار ماننے والے انداز میں کہا۔۔
شاہ سر آپ نے مجھے رات کے اندھیرے میں دفن کرنا ہے روشنی میں میری میت کو گھر سے مت لے کے جانا۔۔۔۔
سدرہ پلیز نا کرو ایسا میں نے ظبط کرتے ہوٸے سختی سے کہا۔۔
شاہ سر آپ میری وش پوری کرنے کے پابند ہیں۔۔
اگر آپ بار بار روکیں گے تو میں نہیں بتاٶں گی۔۔
سدرہ کا لہجہ اب بہت سخت تھا وہ جب سے میرے پاس آٸی تھی آج پہلی بار اُس نے ایسے سختی سے بات کی تھی
میں چپ ہو گیا۔۔۔
دوسری بات شاہ سر جب میں مر جاٶں تو مجھے ایک بار اپنے گھر لے جاٸیے گا جس کمرے میں آپ سوتے ہیں اُس کمرے میں کچھ دیر میری میت رکھیے گا۔۔😢😢
شاہ سر میرے پاس کوٸی جاٸداد کوٸی پیسہ نہیں چند جوڑے کپڑوں کے ہیں میرا جو بھی سامان ہے وہ کچی آبادی میں ایک بیوہ عورت سعدیہ خالہ ہے اُس کی دو بچیاں جوان ہیں آپ بھابھی خادم بھاٸی کی بیوی کو کہنا اُس کو دے۔۔۔
جب مجھے کفن ڈال چکیں تو میری ماں نے جو چادر بھیجی ہے وہ مجھ پہ ڈال دینا میں اپنی ماں کا احساس اپنی ماں کی محبت ساتھ لے کے دفن ہونا چاہتی ہوں😭😭😭
اب میرے لٸے آنسو ضبط کرنا مشکل تھا۔۔۔😥
لیکن بات تو اُس کی پوری سننی تھی
شاہ سر جو تین ہزار امی نے دیٸے ہیں وہ پیسے ہمیشہ سنبھال کے آپ اپنے پاس رکھنا وہ پیسے میں نے آپ کو گفٹ کیٸے انہیں خرچ مت کریے گا۔😥
آج تک جو بھی آپ نے مجھ پہ خرچہ کیا ہے شاہ سر وہ سب بہت زیادہ ہے وہ سارا خرچہ میرے علاج پہ جو لگا مجھے اِس اُس جہاں بخش دینا
سِڈ میں نے کوٸی خرچہ نہیں کیا تم پہ تم اپنے سارے پیسے اتار چکی ہو۔۔۔
اور اب جو علاج پہ لگے ہیں وہ تمہارے ایک لاکھ سے زیادہ پڑے تھے میرے پاس اور باقی ماموں نے دیٸے ہیں۔۔😢😢
ماموں کے زکر پہ ایسا لگا سدرہ بلکل ٹھیک ہے۔
وہ تو میرے بابا ہیں اُن کے پیسوں کی مجھے فکر نہیں
سدرہ کی آنکھوں میں اچانک چمک ابھر آٸی۔۔
وہ تمہارے بابا ہیں تو میں کچھ نہیں ہوں میں نے شکوہ کیا
آپ تو میرا سب کچھ ہیں شاہ سر ہر رشتے کا پیار احساس مان آپ نے مجھے دیا۔۔
شاہ میری گڑیا اور میرا پرفیوم آپ رکھ لینا اور دیکھیں میرا پرفیوم ختم نہ ہونے دینا ورنہ میں مارو گی۔😒😒
آپ نے وہ پرفیوم کبھی کبھی لگانا ہے مجھے یاد کرنا ہے مجھے محسوس کرنا ہے میں جمرات کو آیا کروں😥
کریں گے نا یاد شاہ سر سدرہ نے تصدیق چاہی۔۔
سِڈ میں تمہیں کبھی نہیں بھولوں گا😭
اور ہاں شاہ سر آپ نے منیبہ آپی کا خیال رکھنا ہے اور میرا عبایا صرف آپی کو دینا ہے آپ نے
اب بس کرو اتنی وش پتہ نہیں میں پوری کر سکوں یا نہیں پلیز سِڈ چپ ہو جاٶ😢😢
مجھ سے اب اُس کی باتیں برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔
آپ پوری کریں شاہ سر مجھے پتہ ہے سدرہ نے یقین سے کہا۔۔
شاہ سر میری قبر کو پکا مت کرنا۔۔
میں نے کہیں پڑھا تھا
کہ جب لاوارث لوگ مر جاتے ہیں۔۔
اور اُن کی قبر کی کوٸی حفاظت نہیں کرتا۔۔
اور اُن کی قبر بارشوں اور وقت کے اتار چڑھاٶ میں اپنا نام ونشان کھو دیتی ہے مٹ جاتی ہے۔۔۔
تب اللہ پاک اُن پہ ترس کھا کے ان کو بخش دیتا ہے کے اِن کی خبر لینے والا کوٸی نہیں یہ لاوارث ہیں اِن کو بخش دو😭😭😭
سر میں تو لاوارث مروں گی نا میرے امی ابو مجھے نہیں ملنے آٸے شاہ سر میں بہت گندی ہوں😭😭😭
اِس لٸے آپ وعدہ کریں آپ کبھی بھی میری قبر پکی نہیں کرواٸیں گے اور نا کبھی میری قبر پہ نم آٸیں گے۔۔
میری قبر کو کچا چھوڑ دیں گے۔۔۔
کسی عید پہ کسی محرم میں میری قبر کا خیال نہیں کریں گے مجھے دفن کرنے کے بعد پلٹ کے کبھی میری قبر پہ نہیں آٸیں گے😭😭😭
سدرہ نے روتے ہوٸے ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔۔
میں عجیب امتحان میں پھنس گیا تھا وہ میری عزیز ترین ہستی تھی میں کیسے گوارہ کرتا یہ سب😢😢
سدرہ میں ایسا کچھ بھی وعدہ نہیں کروں گا
ٹھیک سر پھر میں آپ سے راضی ہو کے نہیں مروں گی ناراض جاٶں گی۔۔۔😭😭سدرہ نے یہ کہتے ہوٸے اپنا ہاتھ میرے ہاتھوں سے کھینچ لیا۔۔
میرا دل کٹ رہا تھا ایک طرف وہ جو وعدے لے رہی وہ بہت ہی برے اور سخت تھے میں کیسے پورے کرتا😭
اوپر سے یہ ستم کے وہ ناراض ہو گٸی تھی
اور میں یہ کیسے گوارہ کرتا کے میری عزیز ترین ہستی مجھ سے ناراض ہو جاٸے۔۔
میں نے محبت سے اُس کی پیشانی پہ ہاتھ پھیرا سِڈ وعدہ ہے جو کہا تم نے بھلے میرے لٸے مشکل ہے لیکن میں یہ سب پورا کروں گا۔۔۔۔
شاہ مجھے پتہ تھا آپ میری بات نہیں ٹالیں گے۔۔
شاہ سر ایک خط لکھیں گے میرے بابا کے نام۔۔
سڈ بتاٶں لیا لکھنا ہے میں نے بیڈ کے پاس پڑے ٹیبل سے کاغز اور بال پواٸنٹ اٹھاتے ہوٸے پوچھا۔۔
شاہ سر لکھیں۔۔
پیارے بابا
میں لاوارث مر رہی ہوں
لیکن مجھے کوٸی گلہ نہیں
جو میں نے کیا مجھے اُس کی سزا ملی ہے
لیکن بابا میرے دل میں شدید خواہش تھی آپ مجھے
قبر کے حوالے اپنی بانہوں میں لے کے کرتے😭😭
اگر آپ ایسا کرتے تو مجھے سکون آ جاتا۔
بابا میں بہت بُری ہو ناں
کے آپ نے میری آخری خواہش کو بھی اپنے پیروں کے نیچے روند دیا۔۔😭
بابا آپ تو کہتے تھے میری اچھی بیٹی ہے تُو
بابا جب میں بھٹک گٸی تھی تو آپ نے مجھے اپنی محبت سہی راستہ کیوں نہیں دکھایا تھا
بابا کاش مجھ سے پوچھ لیا ہوتا کے میں اپنے کیٸے پہ کتنی نادم تھی۔۔
بابا آپ سے جدا ہو کے میں نے پل پل درد سہا ہے
بابا جب بھی میرے جسم کو کوٸی نوچتا تھا
آپ مجھے شدت سے یاد آتے تھے۔۔
کے کاش میرے بابا پاس ہوتے تو اِن کو جان سے مار دیتے😭😭😭
بابا آپ نے جو کیا سہی کیا مجھ جیسی بدبخت کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیٸے تھا۔۔
مجھے پتہ ہے بابا آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں کرنی بھی چاہیٸے۔۔۔
لیکن بابا میں آج بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہوں
مجھے آج بھی اپنا بچپن یاد ہے آپ کی گودی میں بیٹھ کھانا کھانا یاد ہے۔۔۔😭
بابا جب آپ کو میرا یہ خط ملے گا تب تک میں مر چکی ہوں گی
میرا جسم گل سڑ چکا ہوں گا
بابا بس دو گزارشیں ہیں اگر کبھی میری یاد آٸے تو دعا کرنا میری بخشی کی۔۔۔
دعا کرنا میرا رب مجھ سے راضی ہو جاٸے بابا کہتے ہیں مرنے والے کی براٸیاں نہیں اچھاٸیاں یاد کرنی چاہیٸے۔۔
لیکن افسوس بابا میرے کھاتے میں کوٸی اچھاٸی نہیں
بس ایک اچھاٸی کے علاوہ کہ میں آپ کی بیٹی ہوں😭😭
آٸی لو یو بابا آٸی مس یو بابا میں ہر پل آپ کو یاد کرتی ہوں۔۔۔😭😭
پیارے بابا مجھے معاف نہ بھی کرنا آپ لیکن میری امی کا خیال رکھنا میرے سارے گناہوں کی میں خود زمہ دار ہوں امی کا اِس میں کوٸی قصور نہیں پیلز🙏🙏اُن پہ رحم کرنا۔۔۔
بابا اجازت چاہتی ہوں اب آپ کی بیٹی یہ دنیا چھوڑ رہی ہے
الله حافظ😭😭😭
سدرہ کا خط لکھتے ہوٸے میری آنکھیں بار بار چھلک رہی تھی۔۔
اور مجھے اپنی بڑی بہن یاد آگٸیں میں جب بھی اپنی بڑی بہن کو دیکھتا تھا مجھے اُن میں امی ابو دونوں نظر آتے تھے میری بڑی بہن نے امی ابو کی ڈیتھ کے بعد مجھے ماں اور ابو جیسا پیار دیا تھا میری ہر خواہش پوری کی تھی کاٸنات کا واحد انمول تحفہ بیٹی ہے۔😭😭
🌺جو اپنے بھاٸیوں کے لٸے ماں کا روپ ہوتی ہے اور اپنے بابا کے لٸے بھی ماں کا روپ ہوتی ہے
لوگ کہتے ہیں وہ بیٹی ہوتی ہے لیکن میں کہتا ہوں وہ محبت میں باپ کی بھی ماں ہوتی ہے🌺
بھلے وہ نادانی میں غلط کر جاتی ہے لیکن وہ باپ سے ہمیشہ محبت کرتی رہتی ہے۔۔۔
شاہ سر بس اِس خط کو میرے مرنے کے بعد میرے بابا کوبھیج دیجٸے گا اور میری ہر وصیحت کو پورا کیجٸے گا۔۔
سِڈ ان شاء اللہ میں پوری کروں گا۔۔۔
لیکن سِڈ تم نے تو چار وش کہی تھی لیکن ابھی تو تین ہوٸی ہیں چوتھی کون سی ہے۔۔۔
شاہ سر چوتھی وش کوٸی نہیں بس ایسے ہی بول دیا تھا
سدرہ نے نظریں چراتے ہوٸے کہا
اب تم جھوٹ بول رہی ہو
بتاٶ مجھے کون سی چوتھی وِش ہے
لیکن سدرہ اب آنکھیں بند کیٸے پر سکون لیٹی تھی
تبھی گارڈ نے آ کے کہا سر ڈاکٹر وزٹ پہ آنے والا ہے پلیز باہر آ جاٸیں۔۔
اچھا سِڈ چلتا ہوں تب تک تم وش یاد کر لوں
الله حافظ باندری میں سدرہ کی پیشانی پہ ہاتھ پھرتا ہوا باہر نکل آیا۔۔۔
شام کو اچانک سدرہ کی طبیعت بہت خراب ہو گٸی۔۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ اُس کی سیدھی ساٸڈ پہ فالج کا اٹیک ہوا ہے سیدھی ساٸڈ ورک کرنا چھوڑ گٸی ہے۔۔
اب سدرہ کی دو گھنٹے کے گیپ کے ساتھ مسلسل تھراپی کی جا رہی تھی۔۔
میں جب بھی آٸی سی یو میں اُسے دیکھنے گیا وہ غنودگی کی حالت میں ہوتی اور ایسا لگتا تھا کسی کشمکش میں ہے۔۔
دو دن بعد سدرہ کو صبح نو بجے مکمل ہوش آیا۔۔۔
نرس نے آ کے مجھے بتایا آپ کا پیشنٹ آپ کو بلا رہا ہے۔۔
میں جب بیڈ کے پاس پہنچا تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میرا ہی انتظار کر رہی ہے۔۔۔
سڈ کیسی ہو تم میں
میں ٹھیک ہو شا ہ ہ ہ
مجھے اچانک شاک لگا
سدرہ کی زبان میں لکنت تھی ہکلاہٹ تھی
کیا ہوا سِڈ میں نے اُس کے قریب ہوتے ہوٸے بے چینی سے کہا۔۔۔
شاہ سر سفر آخرت کی تیاری ہےسدرہ نے ہکلاتے ہوٸے جواب دیا۔۔
شاہ سر بابا کو بلا دیں
سڈ بابا کو کیسے بلاٶں انہوں نے تو 😢
شاہ سر ماموں کو بلا دیں میرے لٸے وہ بھی بابا ہیں۔۔
ابھی بلاتا ہو سِڈ ۔۔
میں نے وہی کھڑے کھڑے ماموں کو کال کی اور سدرہ کی طبیعت کا بتایا اور کہا کہ وہ بلا رہی ہے۔۔
میں ایک گھنٹے میں آیا کہ کر ماموں نے کال بند کر دی۔۔
سدرہ کی ہکلاہٹ اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی شاید فالج کے اٹیک نے اُس کی زبان پہ بھی اثر کیا تھا۔۔۔
شاہ سر میں ایک وش ادھوری لے کے جا رہی ہوں
سِڈ پلیز بتاٶ کون سی وش میں ابھی پوری کر دیتا ہوں
میں نے سدرہ کا ہاتھ تھامتے ہوٸے کہا۔۔
شاہ سر میں اُس وش کے قابل نہیں اِس لٸے اُس وِش کا ادھورا رہنا ہی بنتا ہے اب سدرہ کی زبان میں ہکلاہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
سِڈ پیلز اگر میری زرہ سی بھی عزت ہے تمہارے دل میں تو بتاٶ وہ وِش
سدرہ کچھ دیر خاموش رہی جیسے طاقت جمع کر رہی ہو۔۔
شاہ سر میں چاہتی تھی کہ جب منیبہ آپی آ جاٸیں گی رخصت ہو کے تو اُن کا دل جیت کے اُن کے پاٶں پکڑ کے کہوں گی کہ بس مجھے آپ سے نکاح کی اجازت دے دیں۔۔
لیکن سر زندگی کا ستم دیکھیں میرا خواب تعبیر حاصل نہ کر سکا۔۔۔
شاہ سر اب میں آخری سفر پہ جا رہی ہوں تو دل میں بڑی شدید خواہش تھی میں آپ کے نکاح میں مرتی اور قیامت والے دن رب سے آپ کا ساتھ جنت میں مانگتی۔۔😢😢
یہ کہ کر سدرہ نے آنکھیں بند کر لی
کچھ پل مجھ میں بھی بولنے کا حوصلہ نہ ہوا
مجھے منیبہ کے ساتھ گزرا ہوا اک اک پل یاد آ رہا تھا
کتنے خواب تھے جو میں نے اور منیبہ نے دیکھے تھے
اِس میں کوٸی شک نہیں کہ سدرہ کا میرا رشتہ محبت سے بھی آگے تھا لیکن منیبہ میں میری جان بستی تھی۔۔
میں کسی صورت اُس پہ کوٸی سوتن لانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔
سدرہ ٹھیک ہوتی اور منیبہ مجھے کہتی بھی کے آپ سدرہ سے نکاح کر لو تو بھی شاید میں ایسا نا کرتا۔۔۔
لیکن اب معاملہ بہت خراب تھا۔۔۔
سدرہ اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی اُس نے ایک ایسے وقت میں اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا جب اُس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔۔
میں نے منیبہ کی اور اپنی محبت پہ نظر دوڑاٸی۔۔
پھر سدرہ کی گزری زندگی پہ نظر ڈالی مجھے لگا کہ منیبہ کے اور میرے پاس ابھی بہت وقت ہے زندگی جینے کے لٸے۔۔
ہمارے پاس بہت سے رشتے ہیں ہم دونوں نے زندگی میں مشکل وقت نہیں دیکھا نہ خونی رشتوں کی دوری اور نفرت دیکھی ہے۔۔۔
جبکہ کہ سدرہ نے ایک عجیب ہی زندگی پاٸی تھی ماں باپ بھاٸیوں کے پاس ہو کے بھی اُن کی محبت سے محروم رہی تھی
پھر جس مرد سے محبت کی جس مرد کو اپنا سب کچھ سونپ دیا وہ بھی دھوکہ دے گیا۔۔۔
مجھے لگا کے سدرہ کی یہ خواہش پوری ہونی چاہیٸے۔۔۔
سِڈ میں آج ہی تم سے نکاح کر رہا ہوں
میں نے پختہ ارادے سے کہا۔۔۔
لیکن وہ خاموش رہی۔۔
سِڈ میں تم سے نکاح کر رہا ہوں آج ہی تم بولتی کیوں نہیں۔۔
سِڈ پلیز بولوں نا میں کروں گا نکاح تم سے کچھ جواب کیوں نہیں دے رہی تم
لیکن سدرہ ہنوز آنکھیں بند کیٸے خاموش تھی۔۔۔
مجھے اُس وقت دنیا کی بُری ترین چیز خاموشی لگ رہی تھی میرا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔
شاہ سر اب وقت نہیں رہا اب اِس باب کو بند کر دیں۔۔۔
سدرہ کرب اور تکلیف کو ضبط کرتے ہوٸے بولی۔۔۔
کیوں وقت نہیں رہا بہت وقت ہے میں ابھی ماموں کو کال کرتا ہوں۔۔۔
یہ کہتے ہوٸے میں نے جیکٹ کی جیب سے سیل نکالا۔۔
نہیں آپ بابا کو کال نہیں کریں گے۔۔
سدرہ نے سختی سے منع کر دیا۔۔
سدرہ پلیز مان جاٶ نا
میں نے سدرہ کے سامنے ہاتھ جوڑ دیٸے۔۔
شاہ سر پلیز ایسا نہ کریں سدرہ تڑپ اٹھی
اگر چاہتی ہو کے میں ایسا نہ کروں تو مان جاٶ میں تمہاری آخری وش پوری کرنا چاہتا ہوں۔
سدرہ ایک بار پھر خاموش ہو گٸی۔۔۔
سِڈ بولو بھی۔۔
میں چاہتا تھا کہ وہ جلدی ہاں کرے تانکہ کے میں ماموں سے بات کر سکوں۔۔
شاہ سر ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے سدرہ نے بنا آنکھیں کھولے جواب دیا۔۔
بولو مجھے ہر شرط منظور ہے۔۔
شاہ سر میں چاہتی ہوں کہ منیبہ آپی میرے نکاح میں شریک ہوں اور خوشی سے اجازت دیں۔۔۔
میں نے سدرہ کی بیماری کی ایک ایک منٹ کی رپورٹ منیبہ کو دی تھی۔۔۔
لیکن اِس کے باوجود مجھے ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا کہ منیبہ سدرہ سے میرے نکاح کے لٸے مان جاٸے گی۔۔۔
کیونکہ کوٸی بھی لڑکی اپنے شوہر کے معاملے میں اتنے بڑے دل کی مالک نہیں ہوتی۔۔۔
اور منیبہ تو بلکل نہیں تھی وہ میری پوسٹ پہ کمنٹ دیکھ کے لڑ پڑتی تھی نکاح کی اجازت دینا تو بہت دور کی بات تھی۔۔
سدرہ یہ کیسے ممکن ہے وہ بہت دور ہے اُسے آنے کے لٸے چوبیس گھنٹے لگیں گے میں اتنا ویٹ نہیں کر سکتا۔۔
اور دوسری بات اُس کے پیپر ہو رہے ہیں۔۔
اُس کا لاسٹ سمسٹر ہے فاٸنل پیپر ہیں۔۔۔
وہ نہیں آ سکے گی۔۔
تو سر آپ میری آپی سے بات کروا دیں اگر وہ خوشی سے اجازت دیں گی تو ہی میں ہاں کروں گی۔۔
سدرہ نے ہکلاتی آواز میں جواب دیا۔۔او کے ڈن میں بات کرواتا ہوں تمہاری۔۔
میں نے منیبہ کو کال کرنے کے لٸے سیل جیب سے نکالا۔۔
دو تین بار ٹراٸی کیا لیکن منیبہ کا نمبر بند تھا۔۔۔
سڈ منیبہ کا نمبر بند ہے تم آرام کرو میں گھر والے نمبر پہ رابطہ کرتا ہوں۔۔۔
یہ کہتا ہوا میں آٸی سی یو سے باہر نکل آیا۔۔۔
مجھے یہ تو یقین تھا کہ منیبہ نہیں مانے گی
لیکن ساتھ یہ بھی یقین تھا کہ وہ میری خاطر مان بھی جاٸے گی۔۔۔
یہ سوچ کے میں نے اگین منیبہ کا نمبر ملایا۔۔
ایک بار دو بار سو بار لیکن نمبر سوٸچ آف آ رہا تھا۔۔
اب مجھے ٹینشن ہونے لگی کہ منیبہ کا نمبر آف کیوں ہے ایسا پہلے تو کبھی نہیں۔۔۔
واٹس ایپ چیک کیا تو اُس پہ لاسٹ سین یس ٹر ڈے 6.50 کا تھا۔۔
فیس بک چیک کی اُس پہ بھی یہی لاسٹ سن تھا۔۔۔
اب میرا سر درد سے پھٹنے لگا سدرہ کی ٹینشن الگ تھی ادھر سے منیبہ کل شام سے آف تھی اب دس بج رہے تھے۔۔
سدرہ کی پریشانی میں
اِس چیز کو بھی میں بھول گیا کہ منیبہ روز صبح مجھے میسج کرتی ہے گڈ مارننگ کا لیکن آج اُس کا میسج نہیں آیا۔۔
میں نے کچھ سوچتے ہوٸے خالہ کا نمبز ملایا۔۔۔
بیل جاتی رہی لیکن کال پک نہیں ہوٸی۔۔
مجھے پتہ تھا خالہ اِس وقت سکول بزی ہوں گی اس لٸے میسج چھوڑ دیا کال می۔۔۔۔
میں مسلسل منیبہ کا نمبر ٹراٸی کیٸے جا رہا تھا
اب بات برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد خالہ کی کال آگٸ۔۔
السلام علیکم خالہ۔
وعیلکم السلام مصطفی کیسے ہو بیٹا۔۔
الحَمْدُ ِلله خالہ آپ سناٸیں۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں بیٹا۔۔
خالہ منیبہ سے بات ہوٸی آج آپ کی
نہیں بیٹا کل شام کو ہوٸی تھی
خالہ اُس کا نمبر کیوں آف ہے ۔۔
بیٹا کل شام کو یہاں بہت سخت بارش اور آندھی آٸی تھی
کل سے لاٸٹ بند ہے ہو سکتا ہے۔۔
یونیورسٹی کی بھی لاٸٹ بند ہو جس کی وجہ سے موباٸل چارجنگ نہ ہو۔۔۔
جی خالہ ہو سکتا ہے۔۔
مصطفی بیٹے خریت ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو
نہیں خالہ ایسی کوٸی بات نہیں بس منیبہ سے رابطہ نہیں ہوا اس وجہ سے۔۔۔
اچھا میں دیکھتی ہوں اُس کی کسی دوست سے رابطہ ہوتا ہے تو کہتی ہوں بات کرے تم سے۔۔
جی خالہ بہتر۔۔
اچھا بیٹا پھر بات ہو گی ابھی سکول ہوں میں
جی خالہ اللہ حافط ۔۔۔
اف خدایا اب میں کیا کروں۔۔۔
کیسے رابطہ کروں۔۔
گیارہ بجے ماموں ممانی اور مہرین ہسپتال آگٸے۔۔
سلام ماموں
وعلیکم سلام شاہ جی میں لیٹ ہو گیا اصل میں تمہاری ممانی اور مہرین کو گھر سے لینے چلا گیا تھا۔۔۔
جی ماموں آ گٸی سمجھ کیوں لیٹ ہوٸے آپ۔
اچھا آپ مل لیں سدرہ سے پھر مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔
شاہ جی خیریت ہے کچھ زیادہ ہی پریشان لگ رہے ہو۔۔۔
آپ سدرہ سے مل کے آٸیں ماموں پھر کرتے ہیں بات۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے آتا ہوں یہ کہتے ہوٸے ماموں آٸی سی یو کی جانب بڑھ گٸے۔۔۔
میں مسلسل پاگلوں کی طرح منیبہ کا نمبر ٹراٸی کر رہا تھا۔۔
اُس وقت میں یہ فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ مجھے منیبہ سے رابطہ نہ ہونے کی ٹینشن ہے یا سدرہ کی وِش ادھوری رہ جانے کی ٹینشن۔۔۔
میں انہی سوچوں میں گم تھا جب ماموں نے میرے کندھے پہ آ کے ہاتھ رکھا۔۔۔
میں نے سر اٹھا کہ دیکھا تو ماموں کی آنکھیں بھیگی ہوٸی تھی۔۔
کیا ہوا ماموں سب خریت تو ہے
شاہ جی بہت سارے لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے الوداع کیا ہے مجھے لگ رہا ہے میری بچی کا آخری وقت آ گیا۔۔۔
پلیز ماموں ایسے نا کہیں
اور مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔
شاہ جی اللہ صحت دے سدرہ کو لیکن مجھے بہت دکھ ہے کہ میری بچی اب ہم سے جدا ہو جاٸے گی۔۔۔
ماموں نے آنکھیں صاف کرتے ہوٸے کہا۔۔
پلیز ماموں ایسے نا کہیں کچھ نہیں ہو گا اُسے😥
ماموں چلے نیچے چلتے ہیں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ
ہم لوگ سیڑھیاں اتر کے نیچے آ گٸے۔۔
ہسپتال کے گراٶنڈ میں بہت پیارے پودے اور پھول لگے ہوٸے تھے۔
اور جا بہ جا اٹینڈن کے بیٹھنے کے لٸے بنچ رکھے ہوٸے تھے ہم بھی ایک بنچ پہ بیٹھ گٸے۔۔
بولو مصطفی کیا بات ہے کیوں اتنے گھبراٸے ہوٸے ہو۔۔
ماموں نے بیٹھتے ہی سوال کیا۔۔
میں نے ماموں کو سدرہ کی اب تک کی ساری وِش اُس کے باپ سے ملنا اور سدرہ وصیت ہر چیز بتا دی۔۔۔
اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ نکاح کے لٸے مان ہی نہیں رہی تھی۔۔
لیکن میں نے مجبور کیا تو مان گٸی ہے لیکن جو اُس نے شرط رکھی ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی منیبہ کبھی نہیں مانے گی۔۔۔
ماموں کافی دیر سر جھکاٸے سوچتے رہیں اور جب بولے تو ان کی آواز بہت بھاری اور اداس تھی جیسے پتہ نہیں کس ازیت سے لڑتے رہے ہوں اب تک۔۔
شاہ جی میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ تمہارا اور منیبہ کا رشتہ سدرہ کی وجہ سے خراب ہو۔۔
تم بلکل سہی کہ رہے ہو کہ منیبہ کبھی نہیں مانے گی۔۔
سدرہ ٹھیک ہوتی صحت مند ہوتی تو بات پھر بھی سمجھ آتی تھی۔۔
اب اُس کے پاس وقت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کے تم اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جاٶ۔۔۔
ماموں آپ مجھے جانتے ہیں بچپن سے
جب میرے ابو فوت ہوٸے تھے تب امی کو آپ نے ہی سہارا دیا تھاحالانکہ کے چار ماموں اور بھی تھے۔۔
کیا آپ کی تربیت ایسی ہے کہ میں اِس فیصلے سے پیچھے ہٹ جاٶں۔۔
مصطفی تم اپنی جگہ سہی میں اپنی جگہ میں اِس فیصلے کے حق میں نہیں ہوں
باقی منیبہ سے بات کر لو اگر وہ قربانی دے دے تو کر لینا
نکاح مجھے کوٸی اعتراض نہیں۔۔۔
ماموں منیبہ سے رابطہ نہیں ہو رہا خالہ سے بات ہوٸی ہے وہ بتا رہی تھیں کہ رات سے اُدھر بارش اور طوفان ہے بجلی بند ہے میں نے ایک بار پھر منیبہ کا نمبر ملاتے ہوٸے ماموں کو بتایا۔۔
اچھا اللہ بہتر کرے چلو ناشتہ کرتے ہیں مجھے پتہ ہے تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا ہو گا۔۔۔۔
میری ہر کوشش کے باوجود میرا منیبہ سے شام تک رابطہ نا ہو سکا۔۔
اور اِسی وجہ سے میں دن کو آٸی سی یو بھی نہیں گیا تھا
نا ہی حوصلہ ہوا کے سدرہ سے بات کروں۔۔
شام کو جب میں آٸی سی یو میں گیا سدرہ بہت ہی کمزور نظر آ رہی تھی۔۔۔
میں نے بات کرنی کی کوشش کی لیکن اب اُس کی زبان میں لکنت بہت زیادہ آگٸ تھی
وہ باوجود کوشش کے بول نہیں پا رہی تھی۔😥😥
بولنے کی کوشش کرتے ہوٸے ہوٸے اُس کے چہرے پہ تکلیف کے آثار نمودار ہو رہے تھے😥😥
میرا اب حوصلہ جواب دے رہا تھا
سدرہ اب خاموش ہو گٸی اور آنکھیں بند کر لی
جیسے ہار مان لی ہو کے اب میں بول نہیں سکوں گی کبھی
سِڈ بولو نہ مجھ سے بات کرو پلیز سِڈ
لیکن وہ اب بلکل خاموش تھی۔
بس آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے
سِڈ کچھ تو بولوں۔۔
نا کرو ایسا میں نے اُس کے قریب ہوتے ہوٸے اُس کا چہرہ ہاتھوں میں لے لیا۔۔۔
اُسے آکجیسن ماسک لگا ہوا تھا۔۔
سدرہ اب نہ آنکھیں کھول رہی تھی نہ بول رہی بس روٸے جا رہی۔😥😥
اب میرا ضبط جواب دے رہا تھا میں نے سدرہ کی پیشانی چومی اور آٸی سی یو سے باہر آ گیا۔۔۔
باہر ماموں ممانی مہرین فیضان سب تھے۔۔
میرے باہر نکلتے ہی ماموں میری طرف لپکے
مصطفی خیریت تو ہے رو کیوں رہے ہو۔۔
ماموں وہ مجھ سے بات نہیں کر رہی😭
بول نہیں رہی میں ماموں کے گلے لگ کے رو پڑا
رو تو ماموں بھی رہے تھے مہرین بھی رو رہی تھی۔
ماموں نے مجھے حوصلہ دیتے ہوٸے کہا میں ڈاکٹر کے پاس جا رہا ہوں۔۔
مجھے یاد آیا کہ خادم حسین اور بھابھی کو بتانا چاہیٸے خادم نے سدرہ کو اپنی بہن کہا تھا۔۔
میں نے بھابھی کے نمبر پہ کال کی اور بتایا کہ سدرہ کی طبیعت بہت خراب ہے۔
اُن لوگوں نے کہا ہم ابھی آ رہے ہیں۔۔
میرا بس نہیں چل رہا تھا پورا کراچی اکٹھا کر لوں چیخ چیخ کے بتاٶں کہ وہ بات نہیں کر رہی مجھ سے۔۔۔
دس بجے ڈاکٹر نے سدرہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی اطلاع دی اور بتایا کے اُن کی باڈی اب مکمل ورک چھوڑ چکی ہے۔۔۔

Comint me Lazmi batiye ga.😭😭😭😭😭😭 Ab mujhy lafaz ni mil rahy. Bas ap sab ki duao ki muntazir.
ALLAH Pak har larki k naseeb naik kary. Ameeen…🤲🤲🤲

مجھے اب کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا دماغ کام نہیں کر رہا تھا اب تو رونا بھی نہیں آرہا تھا۔۔۔
چپ چاپ بیٹھا تھا۔۔
بارہ بجے ماموں میرے پاس آٸے ۔
مصطفی سدرہ کی حالت بہت نازک ہے اُس کا جسم مسلسل جھٹکے کھا رہا ہے
ایسا لگ رہا ہے تیرا انتظار کر رہی ہے مجھے پتہ ہے یہ لمحہ بہت بھاری ہے
لیکن پتر حوصلہ کر جا ایک بار اُس سے کے مل لے😭😭😭
میں کسی روبوٹ کی طرح طرح چلتا ہوا آٸی سی یو میں سدرہ کے بیڈ کے پاس آگیا ۔۔
اُس کا جسم تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھٹکے کھا رہا تھا۔۔
اور ناک سے ہلکا ہلکا خون بہ رہا تھا
میں جو پچھلے تین گھنٹوں سے ضبط کر کے بیٹھا تھا😭😭
اب سب ضبط ٹوٹ گٸے تھے میں نے سدرہ پہ جھکتے ہوٸے اسے گلے لگا لیا
اب میری اپنی ہچکیاں نہیں رک رہی تھی دل کر رہا تھا چیخ کے روٶں۔۔
ماموں نے مجھے چپ کروایا اور سدرہ سے الگ کیا۔۔
میں نے ایک نظر سدرہ کے چہرے کو دیکھا جو اب بھی ازیت میں تھا۔۔
میں کچھ پل ایسے ہی دیکھتا رہا ڈاکٹر اب بھی پاس تھے ڈرپ لگا رہے تھے تھراپی کر رہے تھے۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوٸے میں باہر نکل آیا۔۔۔
میرا رخ ہسپتال میں بنی مسجد کی طرف تھا۔۔
میں نے جلدی سے وضو کیا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا دوبارہ آٸی سی یو میں آ گیا۔۔
سدرہ اب بھی اسی حالت میں تھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کا جسم جھٹکے رہا تھا اور آنکھیں بند تھی پھر بھی آنسو بہ رہے تھے۔۔
ماموں اور مہرین بھی پاس تھے۔۔
میں نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ سدرہ کی پیشانی چومی😭😭
اور اُس کے سرہانے کھڑے ہو کے سورة یسین کی تلاوت کرنے لگا۔۔
پہلی بار تلاوت کی پھر دوسری بار روتے ہوٸے پوری سورة تلاوت کی😭😭
اب میری آواز لڑکھڑا رہی تھی
تیسری بار جب میں آیت نمبر 22 پہ پہنچا
وَمَا لِىَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِىۡ فَطَرَنِىۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ
آخر کیوں نہ میں اُس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے۔۔
اِس آیت کے پورا پڑھتے ہی ماموں نے مجھے روتے ہوٸے گلے لگا لیا۔۔
مصطفی سدرہ چلی گٸی۔۔
میں اب پھٹی پھٹی نگاہوں سے سدرہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا جہاں اب سکون تھا
بہت زیادہ سکون کچھ دیر پہلے والی ازیت کا نام ونشان نہیں تھا ایسا لگ رہا تھا وہ سو رہی ہے۔۔
مجھے رونا نہیں آ رہا تھا چپ تھا بلکل کچھ خاموش
مجھے نہیں پتہ کیسے ماموں نے ہسپتال کی سب فارمیلٹی پوری کی کیسے ایمولینس لی۔۔
نہ مجھے کچھ ہوش تھا
ہم تین بجے رات سدرہ کو لے کے میرے گھر پہنچے
دل کٹ رہا تھا رونا نہیں آ رہا تھا😭😭😭
سدرہ کی وصیت کے مطابق اس کی ڈیڈ باڈی کو میرے بیڈ روم میں ہی رکھا گیا۔۔
دن بارہ بجے سدرہ کے سٹوڈنٹ اُن کے گھر والے سب آٸے بہت روٸے خادم حسین اُس کی بیوی سب ہی سدرہ کے لٸے بہت روٸے۔
اور پھر شام کی نماز کے بعد سدرہ کی وصیت کے مطابق شاہ میری میت اندھیرے میں گھر سے نکالنا😭😭
شاہ میری ماں کی دی ہوٸی چادر میری میت پہ ڈالنا میں ماں کی محبت کا احساس ساتھ لے کے دفن ہونا چاہتی ہوں 😭😭😭
اندھیرے میں اُس کی میت گھر نکالی اُس کی ماں کی دی ہوٸی چادر اُس کی میت پہ ڈالی اور اُس کی قبر کو کچا رکھا۔۔۔
عشإ سے تھوڑا پہلے ہم نےسدرہ کو سپردِخاک کر دیا۔
اِس طرح سکینڈل گرل اپنے سارے سکینڈل کے عزاب اِس دنیا میں ہی بھگت کے رخصت ہو گٸی۔۔۔😥
مجھے رب کی رحمت پہ پورا بھروسہ ہے وہ سدرہ کی نیت سے واقف تھا اس نے سدرہ کو اُس کے گناہ کی سزا دنیا میں ہی دے دی تھی۔۔
میں سدرہ کی قبر پہ اب نہیں جاتا اُس سے کیا وعدہ نبھایا ہے ماموں بھی نہیں جاتے اب تو مجھے یاد بھی نہیں اس کی قبر کہا پہ تھی۔۔
شاید وقت کےاتار چڑھاٶ نے سدرہ کی قبر کا نام ونشان ختم کر دیا ہوں اور اللہ نے اُس پہ ترس کھا کے ان شاء اللہ اُس کو جنت میں اعلی مقام بھی دیا ہو گا۔۔
جب سے سدرہ جدا ہوٸی وہ مجھے ایک بار خواب میں ملی بلکل سفید فیراک پہنے سرسبز پہاڑ تھے ان کے پاس بیٹھی تھی پہاڑوں کے نیچے نہریں بہہ رہی تھی سدرہ نے مجھ سے کوٸی بات نہیں کی بس میری طرف دیکھ کے مسکراتی رہی۔۔
پھر جب سدرہ کی سٹوری لکھنا شروع کی تو مجھے ایسے لگتا رہا وہ میرے پاس ہے۔۔۔
سدرہ کی ڈیٹھ کے بعد طبیعت بہت زیادہ خراب رہی نہ کچھ کھانے کا دل کرتا نا پینے کا اور حالت یہ ہو گٸی کے ہاسپٹل داخل ہونا پڑا۔۔۔
سدرہ کی ڈیٹھ کے تین ماہ بعد فیضان اور میں ایک بار پھر لیاقت پور گٸے سدرہ کے والد سے ملاقات کی۔۔
اُن سے سم کا نمبر لیا جو سدرہ کے استمال میں رہی تھی۔۔
چوہدری ولایت کو بتایا سدرہ کی ڈیٹھ کا۔۔
اور سدرہ کا لکھوایا ہوا خط چوہدری ولایت کے حوالے کیا۔۔۔
اب کی بار وہ انا پرست انسان رو پڑا تھا بیٹی کی موت کا سن کے۔۔۔
ہم نے سکندر کے موباٸل نمبر کے تھرو اُس کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی۔۔
لیکن جس بندے کے نام وہ سم تھی اُسے مرے ہوٸے تین سال ہو چکے تھے۔۔
اور اُس کے گھر والوں کو علم بھی نہیں تھا کہ کوٸی اُس کے نام پہ سم استمال کر رہا ہے۔۔۔
آس پاس سے اُن لوگوں کی معلومات لی تو سب نے گواہی دی کہ وہ شریف اور مسکین لوگ ہیں۔۔
سکندر کا نام شاید اُس نے فرضی فیس بک آٸی ڈی پہ بتایا ہوا تھا اور جس نمبر سے وہ سدرہ سے بات کرتا تھا اُس سم سے
اُس کی کسی اور نمبر پہ کال شو نہیں ہوٸی تھی۔۔
سکندر کی تصویر بھی نہیں تھی ہمارے پاس جو اِس سلسلے میں مدد فراہم کرتی۔۔۔
سدرہ کا لیپ ٹاپ مانگا تو چوہدری ولایت سے پتا چلا اُن کے بیٹے نے غصے میں لیپ ٹاپ توڑ کے آگ لگا دی تھی۔۔
سکندر کے نمبر کی آخری لوکیشن رحیم یار خان ہی تھی۔
اِس لٸے باوجود کوشش کے ہم سکندر خبیث کو اُس کے انجام تک نہیں پہنچا سکے۔۔
میری زاتی خواہش تھی کہ میں ایف آٸی آر خود پہ لے کے سکندر کو خود گولی مارتا۔۔۔
چوہدری ولایت نے صرف ایک کام اچھا کیا تھا۔۔
اُس نے سدرہ سے ملنے سے بھلے انکار کر دیا تھا
لیکن میں نے جو راہ اُسے دکھاٸی تھی کہ سدرہ کی ویڈیو کا لنک لے کے دو بیٹے سے
ہم ڈیلیٹ کرواٸیں گے۔۔
اُس نے ہمارے آنے کے بعد بیٹے سے بات کر کے ایف آٸی اے کو اپروچ کیا۔۔
چوہدری صاحب نے بہت خاص محنت کی اور بہت زیادہ پیسہ بھی خرچ کیا
لیکن اللہ کا شکر ہے وہ سدرہ کی ویڈیو ڈیلیٹ کروانے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔
سدرہ کی کہانی میں اُس کے ماں باپ ملازم اور خود سدرہ کا نام۔۔۔
میں نے اُن لوگوں کی عزت کے پیش نظر فرضی رکھا۔۔۔
یہ واقعہ لیاقت پور کا نہیں ہے لیکن ہے اُسی ڈویژن کا۔۔
اپنی کزن مہرین فیضان اور نوید کا نام بھی میں نے فرضی رکھا
ہاں اِس سٹوری میں سکندر وحید اور بلقیس کا اصل نام ہی استمال کیا گیا۔
باقی میں نے اپنا نام بھی فرضی استعمال کیا ہے
یہ کوٸی تخلیق کردہ ناول نہیں تھا سچی کہانی تھی اور پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کوٸی اور سدرہ نہ بنے آپ کو اِس کہانی سے کتنا فاٸدہ ہوا میری ٹاٸم لاٸن پہ آ کے ضرور بتاٸیے گا۔۔۔
اور میں چاہوں گا یہ ناول آپ ہر سترہ سال کی عمر سے تیس سال کی عمر کی لڑکی کو پڑھنے کے لٸے ریکومنڈ کریں
اسپیشل تھینکس میری شریکِ حیات سیدہ منیبہ کا جس نے اِس کہانی کو لکھنے میں میری مدد کی۔۔۔
ختم شد

 

#سکینڈل گرل ناول_خلاصہ

#سوالات کےجوابات

عورت ذات کا المیہ یہ ہے کہ وہ جس مرد سے محبت کر بیٹھتی ہے۔۔
اس مرد کے معاملے میں وہ کبھی حقیقت کا سامنا نہیں کرتی۔۔۔
انتہاٸی گھٹیا ترین مرد بھی اسے اعلی پاٸے کا اعلی درجے کا لگتا ہے۔
وہ جس مرد سے محبت کرتی ہے اُس مرد میں اُسے کوٸی براٸی نظر نہیں آتی۔۔۔
وہ دنیا جہاں کا گندا لفنگا ہو پھر بھی جو عورت اس سے محبت کرتی ہے وہ اس عورت کو شہزادہ لگتا ہے۔۔
آپ اُس عورت کے سامنے دنیا کا بہترین انسان اعلی کردار کا مالک لا کے کھڑا کر دیں مگر وہ اُس باکردار مرد پہ کبھی بھروسہ نہیں کرے گی.
بلکے اُس باکردار مرد پہ اُس بدکردار مرد کو ترجیح دے گی جس سے وہ محبت کرتی ہے۔۔۔
کیونکہ اُس وقت محبت نے اُس عورت کو برے طریقے سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہوتا جس کی وجہ سے اُس مرد کی براٸیاں اُس عورت کو نظر نہیں آتی۔۔۔
لیکن جب سب کچھ لٹ جاتا ہے جب محبت کا چشمہ اتر جاتا ہے پھر پچھتاتی ہے۔۔۔
لڑکی کو اپنے پسندیدہ بدکرداد مرد جس سے وہ محبت کرتی ہے اُس کی گندی باتیں ننگی باتیں بھی اچھی لگتی ہیں۔۔۔
جب کے ایک باکردار اور اچھے مرد کا دیکھنا بھی ناگوار لگتا ہے کیونکہ وہ اُس با کردار مرد سے محبت نہیں کرتی ہوتی۔۔
اور دل ہی دل میں اُسے برا بھلا کہ کر اُس مرد سے کمپیٸر کرے گی جس سے محبت کرتی ہو گی۔۔
اور ہمیشہ جیتے گا وہی مرد جس سے وہ محبت کرتی ہو گی بھلے وہ جتنا بھی برا ہو گا ۔۔۔
وجہ صرف یہ ہے کے وہ اُس سے محبت کرتی ہوتی۔۔۔
ہر لڑکی کو یہ تو پتہ ہے کہ حالات بہت خراب ہیں۔۔
اور آٸے دن لڑکیاں اپنی آبرو گنواں رہی ہیں
بلیک میل ہو رہی ہیں بدنام ہو رہی ہیں۔۔
ہر لڑکی اِن سب باتوں کو مانے گی بھی ضرور مگر دوسری لڑکیوں کی حد تک۔۔۔
کیوں کہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ میرے والا ایسا نہیں ہے
وہ پاگل یہ نہیں سوچے گی کہ میجورٹی میں لڑکے ٹاٸم پاس کر رہے ہیں بس سیکس کی حد تک رشتے بنا رہے ہیں اور ایک وقت میں چار چار لڑکیوں سے رشتے بنا رہے ہیں
لیکن پھر بھی وہ ان باتوں پہ عمل نہیں کرے گی۔۔۔
کیونکہ اُس کے دل میں یہ وہم ہو گا کہ میرے والا ایسا نہیں۔۔۔
اور 1+1+1+1 ایسا کرتے کرتے ایسی گرلز کی تعداد کڑوروں میں ہے۔۔۔
جو اِس سوچ پہ عزت گنوا رہی ہیں کہ میرے والا ایسا نہیں۔۔
جو دوسری لڑکیوں کو تو نصیحت کریں گی کہ بہن حالات بہت خراب ہیں کسی پہ بھروسہ مت کرنا۔۔۔
مگر ساتھ ہی یہ بھی سوچیں گی کہ میرے والا ایسا نہیں ہے۔۔
اور مزے کی بات یہ ہے وہ جس لڑکی کو نصیحت کر رہی ہوتی ہے۔۔۔
آگے سے وہ بھی یہی سوچ رہی ہوتی ہے۔۔
کہ ضرور اِس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہےتبھی تو یہ سب باتیں کہ رہی ہے۔۔۔
لیکن اِسے کیا پتہ میرے والا ایسا نہیں ہے۔۔۔
بس یہ میرے والا ایسا نہیں میرے والا ایسا نہیں کرتے کرتے لڑکیاں اپنی عزت کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔۔
اور مرد اپنے شکار پہ ہاتھ صاف کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔۔
ایک عورت کسی دوسری عورت کا غیر مرد سے ملنا اُسے تصویریں بھیجنا ویڈیو کال کرنا اور گندی باتیں کرنا اور زنا کرنا ہمیشہ برا سمجھے گی۔۔۔۔
ہر طرح سے فتویٰ دے گی کہ وہ بہت غلط کر رہی ہے۔۔
مگر جب خود یہ سب محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کرنا پڑے گا تو جاٸز سمجھے گی۔۔۔
اور اُسے آسرا دے گی صرف ایک سوچ میرے والا ایسا نہیں۔۔۔۔۔۔
او بی بی کن خوابوں میں گم ہو۔
اگر تیرے والا اتنا نیک ہوتا تو پک کیوں مانگتا۔
گندی باتیں کیوں کرتا تجھے ملنے کے لٸے کیوں بلاتا۔۔۔
اور سب سے بڑھ کے تمہاری عزت سے کیوں کھیلتا۔۔
جس نے عزت بنانا ہوتا ہے وہ عزت کو تحفظ دیتے ہیں۔۔جسم ڈھانپتے ہیں ننگا نہیں کرتے۔۔۔
یہ میرے والا میرے والا راگ الاپنا بند کرو۔
حقیقت کی دنیا میں آٶ اگر ایسا کسی سے کوٸی تعلق ہے تو اس سے دو ٹوک الفاظ میں بات کرو کہ یہ ملنا ملانا یہ گندی ننگی باتیں بہت ہو گٸی میاں۔۔۔
اگر نکاح کرنا ہے تو اُس کے لٸے کوشش کرو رشتہ بھیجو اگر نصیب میں ہوا تو شادی ہو جاٸے گی۔۔۔
اگر نصیب میں نہیں ہے تو پھر تم اپنے راستے میں اپنے راستے لیکن اب یہ بھول جاٶ کہ میں محبت کے نام پہ اپنی عزت اور برباد کروں گی۔۔۔
میری بہنوں اس مصنوٸی دنیا سے
باہر آٶ اور اپنی اہمیت پہچانوں۔۔۔
سو میں سے نوے مرد بہت اچھے ہیں۔
لیکن وہ تب تک اچھے ہیں
جب تک آپ ان کو کوٸی چانس نہیں دو گی۔
جس تک اُن کو آپ کے کردار میں لچک نظر نہیں آٸے گی۔۔
تب تک وہ ہر جگہ آپ کے ساتھ بہت اچھے رہیں گے۔۔
لیکن جیسے ہی آپ ان کو چانس دیں گی۔۔۔
ان کے لٸے دل میں سوفٹ کارنر پیدا کریں گی۔۔۔
اُسی وقت وہ آپ پہ ٹوٹ پڑیں گے۔۔۔
آپ کی عزت کو تار تار کر دیں گے۔۔۔
ہمارے پنجابی میں ایک کہاوت ہے واقف کتا ہی ہاتھ پلید کرتا ہے۔۔
یعنی کہ جس کتے کو آپ پیار دو گے پچھکاروں گے وہی آپ کے قریب آ کے آپ کے ہاتھ پاٶں چاٹے گا۔۔
جبکہ ناواقف کتا آپ کے پاس نہیں آٸے گا۔۔۔
نامحرم سے تعریف سننا ہمیشہ عورت کو اچھا لگتا ہے
جب نامحرم مرد عورت ملتے ہیں تو شیطان اُن کے درمیان آ جاتا ہے بہترین کشش پیدا کرتا ہے اُن کے دل میں ایک دوسرے کے لٸے۔۔۔
میں یہ نہیں کہتا کہ آپ محبت نہ کرو ضرور کرو لیکن ملنے والی بات پہ ہمیشہ کے لٸے کراس لاٸن لگا دیں
پک دینے والی بات پہ ہمیشہ کے لٸے کراس لاٸن لگا دیں۔
گندی بات پہ ہمیشہ کے لٸے کراس لاٸن لگا دیں۔۔۔
اگر کوٸی بہت زیادہ اچھا لگ جاٸے تو ماں سے بات کریں اپنی ماں کو بولیں کے آپ اُن کو گھر بلواٸیں وہ اپنے امی ابوں کے ساتھ آٸیں۔۔
باقاعدہ طریقہ ہو اور اگر وہ معقول لگے آپ کے گھر والوں کو تو رشتہ طہ کر لیں۔۔۔
لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ وہ سکندر کی طرح رینٹ کے ماں باپ نہ لے آٸے۔۔
اس لٸے پوری تصدیق کریں اُن سے ایڈریس لے کے بھاٸی یا کسی کزن کے ذمہ لگاٸیں یہ کام اُن کی معلومات کا۔۔اُن کے آس پاس سے پتہ کریں اُن کا کب سے وہاں رہ رہے ہیں ان کا بیٹا ہے بھی یا نہیں۔۔
اور اگر وہ واقعی ہی اچھے لوگ ہیں تو اللہ کا نام لے کے رشتہ کر لیں۔۔
لیکن منگنی ہونے کہ باوجود اُس بندے سے ملنے سے پرہیز کریں۔۔۔
عام رواج بنتاجا رہا ہے کہ اب تو منگنی ہو گٸی نکاح بھی ہو جاٸے گا۔۔۔
اِس لٸے ملنے میں سیکس کرنے میں کیا براٸی ہے شادی تو تم سے ہی ہونی ہے۔۔۔
نو ایسی کسی بات میں نہ آٸیں اور صاف جواب دیں کہ میاں یہ ملنا ملانا نکاح کے بعد۔۔
اگر آپ لڑکے کو گھر بلاتی ہیں کہ اپنی امی یا گھر والوں کو لے کے ہمارے گھر آٶ میری امی ملنا چاہتی ہے
اور آگے سے وہ آٸیں باٸیں شاٸیں کرتا ہے تو سمجھ جاٸیں کہ یہ آپ کو چونا لگانے کے چکر میں ہے۔۔۔
اُسی وقت اس کو لتر مار کے دفع کر دیں۔۔۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔۔۔۔
عورت سب سے زیادہ سستی محبت کے نام پہ بکتی ہے😢
سدرہ کے حالات آپ کے سامنے ہیں وہ بھی صرف اسی بات پہ لُٹی کہ میرے والا ایسا نہیں۔۔
لاوارث مر گٸی ماں باپ گھر والوں سے جدا ہو کے۔۔
پوری زندگی اُس کی قبر پہ جانے والا کوٸی نہیں۔
گلی گلی رُل گٸی کتنے مردوں کی ہوس کا نشانہ بنی۔
کس لٸے کیونکہ کہ وہ جھوٹی محبت کے جھال میں پھنس کے اُس سے ملنے چلی گٸی۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ سدرہ والا یا سدرہ جیسا حادثہ آپ کے ساتھ نہ ہو تو۔۔
آپ خود اپنے آپ پہ پابندی لگاٸیں۔۔
زرہ سوچوں کہ آپ کے ساتھ اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو گیا تو آپ کیا کرو گی۔۔
ہو سکتا ہے آپ کو کوٸی مصطفی نہ ملے پھر کیا کریں گی آخرت بھی خراب دنیا بھی خراب۔۔۔
اب فرض کرتے ہیں کہ آپ نے ملنے کی غلطی کر لی ہے۔۔
اور آپ کی ایسی ویڈیو بھی بن گٸی ہے اور وہ بندہ آپ کو بلیک میل بھی کر رہا ہے ایسی صورت میں آپ کوکیا کرنا چاہیٸے۔۔
سب سے پہلے تو آپ یہ کریں اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لیں
اپنی ماں سے شیٸر کریں کیونکہ جب آپ کالج یونیورسٹی جانے کے بہانے کسی سے ملنے چلی جاتی ہیں۔۔
اور وہ آپ کی عزت تار تار کر کے بھیجتا ہے
تو آپ کی ماں کو علم ہو جاتا ہے لیکن وہ ماں ہوتی ہے بیٹی کے عیب پہ پردہ ٹال دیتی ہے۔۔۔
اس لٸے ماں کو بتاٸیں گھر والوں کو بتاٸیں۔۔۔
وہ آپ کو ماریں پیٹے کچھ بھی کریں۔۔
آپ اُن کو کہیں کے بے شک مجھے جان سے مار دینا لیکن میں چاہتی ہوں کہ اُس خبیث انسان کو سزا ملے تانکہ وہ کسی اور لڑکی کی زندگی برباد نہ کر سکے۔۔
مجھے پوری امید ہے آپ کے گھر والے اِس بات کو سمجھیں گے اور آپ کا ساتھ دیں گے۔۔۔
اور اگر آپ کو ڈر ہے کہ گھر والوں کو بتانے سے یہ مسلہ خراب ہو گا تو اپنی فیملی کے کسی ایسے بزرگ کا انتخاب کریں جس کی بات آپ کے ابو بھاٸی مانتے ہوں۔۔
اپنے ماموں چاچو دادا نانا کسی کا بھی انتخاب کریں اُن سے اچھے طریقے سے بات کر کے اپنا مسلہ سمجھاٸیں اور اُن کو کہیں کہ آپ کی مدد کی جاٸیں۔۔
اِس دوران بلیک میلر سے مسلسل رابطے میں رہیں اور اُسے یقین دلاتی رہیں کہ میں تمہاری ڈیمانڈ پوری کرنی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔
لیکن یاد رکھیں مار کھا لیں سزا کاٹ لیں لیکن اِن رشتوں کے علاوہ کسی سے ایسی بات شیٸر نہ کریں۔۔۔
اب آپ کے گھر والے آپ کا ساتھ دینے پہ راضی ہو گٸے ہیں تو آپ اُس بندے سے جو آپ کو بلیک میل کر رہا ہے رابطہ کریں
اور اُسے کہیں کہ میں تمہاری ڈیمانڈ پوری کرنے کے لٸے تیار ہوں۔۔
گھر والوں کو ساتھ لے کے پولیس سے رابطہ کریں اور صرف ایس ایچ او سے رابطہ کریں۔۔
اُس بلیک میلر کی ڈیمانڈ پوری کرنے اُس کی بتاٸی ہوٸی جگہ جاٸیں اور اُس کو پکڑوا دیں۔۔۔
دوسری صورت اگر وہ پیسے کی ڈیمانڈ کرتا ہے تو اُسے کہو کہ مجھ پہ بہت سخت پابندی ہے۔۔
میں گھر سے کسی صورت باہر نہیں جا سکتی نا مجھے میری کسی دوست سے ملنے کی اجازت ہے۔۔
میں نے پیسے گھر سے اٹھا لٸے ہیں میں تمہیں میسج یا کال کروں گی تم میرے گھر کے پاس رہنا اور موقع ملتے ہی میں گیٹ پہ آنا میں تمہیں پکڑا دوں گی۔۔۔
اور جب وہ پیسے لینے آٸے تو گھر والوں اور پولیس والوں سے پہلے پلان کر لیں وہ سادہ لباس میں اس کو دھر لیں۔۔۔
تیسری بات وہ ویڈیو وغیرہ اپ لوڈ کر کے روپوش ہو جاتا ہے تو بھی ایسی صورت میں اُس کے دستیاب ڈیٹا کے تھرو اُس کی آٸی ڈی پک اور اُس کے بلیک میلنگ والے میسج کے سکرین شارٹ لے کے ایف آٸی اے سے رابطہ کریں۔۔
وہ خود ہی اس کو ٹریس کر لیں گے۔۔۔۔
یاد رکھیں آپ اپنی زندگی اور عزت برباد کر چکی ہیں وہ واپس نہیں آٸے گی۔۔۔
لیکن کسی بھی ایسے بلیک میلر کے سامنے جھکنے کا مطلب ہے کہ کٸیں اور لڑکیوں کی زندگی تباہ کرنا اُن کی عزت برباد کرنےکا اُس شخص کو موقع دینا۔۔۔
تو یہ لوہے پہ لکیر کر دوں کہ آپ کسی بلیک میلر کے سامنے نہیں جھکیں گی وہ کچھ بھی کہے آپ کی ویڈیو پوسٹ کرے یا تصویر آپ نہیں جھکیں گی۔۔
بلکہ اُس سے رابطے والے تمام زریعے سے اُسے بلاک کر دیں گی۔۔۔
ماں باپ کی زمہ داری ہے کہ اپنے بچوں پہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام رکھیں اُن کو روپیہ پیسا دینے کے ساتھ اپنا وقت بھی دیں۔۔
اُن کو اچھے برے کا بتاٸیں بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں ان کی شخصیت کو اعتماد دیں۔۔
اور اگر آپ کی بیٹی بہن کسی ایسے مسلے میں پھنس جاتی ہے تو اُس کا ساتھ دیں اُسے اکیلا مت چھوڑیں اُسے احساس دلاٸیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔
تبھی آپ سدرہ جیسے حادثے روک سکیں گے۔۔
آپ سب لڑکیاں اور لڑکے براٸی کے خلاف نکلیں براٸی کسی بھی طرح کی ہو اُس پہ آواز اٹھاٸیں ہاتھ سے روکیں نہیں تو اُس پہ لکھیں۔۔۔
لیکن بات ہمشہ اُسی کی اثر کرتی ہے جس کا اپنا کردار ایسی باتوں سے پاک ہو۔۔۔
میں نے بہت سارے پاپولر ناول پڑھے بڑے بڑے راٸٹر کے لیکن ان سب میں محبت اور عاشقی معشوقی لکھی گٸیں۔۔۔
عجیب عجیب کردار لڑکیوں کے دماغ میں ٹھوک دیٸے گٸے
لڑکیاں سالار جیسے کرداروں کا تصور کر کے رشتے ٹھکرانے لگی کے میں سالار جیسے سے شادی کروں گی۔۔
اور مزے کی بات یہ ہے سوشل میڈیا پہ ایسے نام والی آٸی ڈی کو گرلز فالو بھی کرتی ہیں۔ سلار ۔جہاں ای ٹی سی۔
اب سلار سکندر کے خواب دیکھنے والی لڑکی کی شادی کسی عام بندے سے ہو بھی جاٸے تو وہ خاک خوشگوار زندگی گزارے گی۔۔
پھر اُس پہ ستم یہ کے سالار جیسی خصوصیت اگر ریل میں کسی لڑکے میں تھوڑی سی بھی پاٸی جاتی ہوں۔۔
تو لڑکیاں اُس پہ اپنا تن من نچھاور کر کے خوش ہوتی ہیں۔۔۔
راٸٹر حضرات کچھ خدا کا خوف کرو ریٸلٹی لکھو لوگوں کو فاٸدہ دینے والی چیزیں لکھو بچیوں کے دماغ کو خواب دیکھاٶ ضرور لیکن وہ جو میجورٹی میں پورے ہو سکے۔۔
نیو راٸٹر سے اپیل ہے کہ ان براٸیوں کو ختم کرنے یا کم کرنے میں میرا ساتھ دیں۔۔۔
ناول کے معتلق سوالات کے جواب۔۔
آپ نے کبھی دیکھا ہے شکاری کو شکار پکڑتے ہوٸےوہ پرندوں کو دانوں کا لالچ دیتا ہے۔۔
مچھلی پکڑنے والا کانٹے کے آگے گوشت لگاتا ہے۔۔۔
حتٰی کہ آپ لوگ عبادت کرتے ہیں تو اُس پہ بھی آپ کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے
نماز پہ جنت کا اجر دنیا میں عزت اور آسانی
مطلب کے کسی بھی چیز کی طرف کسی بھی زی روح کو کھینچنے کے لٸے کسی نہ کسی چیز کا لالچ دینا پڑتا ہے۔۔
سدرہ کی سٹوری ریل سٹوری ہے لیکن اِسے لفظوں میں ڈھالتے ہوٸے مجھے کچھ ایسا لکھنا تھا کہ آپ لوگ اِس کے سحر میں کھو جاٸیں۔۔
میں اگر اِس سٹوری کو ثانوی سا لکھتا تو شاید آپ سرسری پڑھ کے اگنور کر دیتے اور جو میرا مقصد تھا وہ پورا نہ ہوتا۔۔۔
سوال۔۔۔
کچھ لوگ کہتے ہیں آج کل کوٸی اپنا اِتنا نہیں کرتا کسی کے لٸے تو ہم نہیں مانتےآپ نے اتنا کچھ کیا ایک انجان لڑکی کے لٸے۔۔۔۔
جواب۔۔۔ ایک لڑکی کسی نا محرم لڑکے کو نہیں جانتی ہوتی مگر اُس کے ساتھ سگے ماں باپ بہن بھاٸی چھوڑ کہ بھاگ جاتی ہے اپنی عزت اُس کو دے دیتی ہے۔۔۔
حالانکہ بقول آپ سب کے آج کل کوٸی سگے رشتوں کے لٸے اتنا نہیں کرتا تو ایک انجان کے لٸے کون کرتا ہے تو پوچھنا یہ تھا کہ آج کل سگے رشتوں کے لٸے کوٸی نہیں بھاگتا تو انجان مرد کے ساتھ لڑکی کیوں بھاگ جاتی ہے کیوں اُس کے ساتھ عزت نیلام کرتی ہیں۔۔۔۔
سوال۔۔۔
آپ نے سدرہ پہ اتنے پیسے کیسے خرچ کر دیٸے کوٸی پچاس روپے کسی پہ خرچ نہیں کرتا۔۔۔
جواب۔۔۔شروع میں صرف اللہ کی رضا تھی میرے دل میں کے دس بیس ہزار خرچ کر کے دوں گا اور سدرہ کو کچھ دن بعد جب مجھے بھروسہ ہو جاٸے گا تو جاب لگوا دوں گا کسی فیکٹری میں۔۔
یا اُس کا کسی اچھے بندے سے نکاح کر دوں گا۔۔
لیکن جب اُس نے پڑھانا شروع کیا تو اُس کے بعد میں نے سدرہ پہ ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا حتٰی کہ اُس کی بیماری پہ جو پیسے لگے وہ بھی اُس کے اپنے جمع کردہ تھےٹیوشن فیس کے۔۔۔
باقی اچھاٸی سمجھانے کے لٸے میثال دے دیتا ہوں کہ آپ اکثر مسجدوں میں اعلان سنتے ہوں گے کہ اتنے ہزار اتنے لاکھ ملا ہے
جس کا ہو وہ نشانی بتا کر لے جاٸے۔۔۔
تو جناب وہ بھی آپ اور مجھ جیسے انسان ہی ہوتے ہیں جو یہ اچھاٸی کرتے ہیں اور اتنے پیسے ملنے پہ اپنا ایمان مضبوط رکھ کے واپس کر دیتے ہیں☺۔۔
سوال۔۔۔
سدرہ نامحرم تھی آپ نے اُسے کیوں چھوا اور گلے کیوں لگایا اُس کی پیشانی کیوں چومی اسلام اِس کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔
جواب۔۔۔ میں نے بتایا ہے کہ ہر اچھاٸی اور نیکی کے کام کی طرف لانے کے لٸے کوٸی نہ کوٸی لالچ ہوتا ہے
اجر میلاد کی محافل میں عمرے کے ٹکٹ رکھے جاتے ہیں کہ زیادہ لوگ شرکت کریں۔۔
شکار کرنے کے لٸے دانہ مچھلی پکڑنے کے لٸے کنڈی کے آگے گوشت لگانا پڑتا ہے۔۔۔
تو ایسا ہے کہ انسانی فطرت کے مطابق لکھا اگر اِس سٹوری کو عام الفاظ میں لکھتا تو شاید آپ کے دل پہ یہ اثر نہ کرتی بلکے شاید آپ پڑھتے ہی نہ اِس لٸے اِس میں کچھ رد و بدل کرنا پڑا۔۔۔
ورنہ حقیقت میں اِس چیز کا کوٸی تعلق نہیں کہ میں نے اس کی پیشانی چومی ہاتھ ہاتھوں میں ہاتھ لٸے یہ صرف آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لٸے لکھا۔۔۔
ہاں ایک بار جب اس کی موت قریب تھی اُسے گلے لگایا تھا بس۔۔
سدرہ کے لٸے واقعی میری فیلنگ ایسی تھی جیسی لکھی تھی مجھے اُس کی ہر تکلیف پہ رونا آیا۔۔۔
لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کچھ لوگوں نے اس سٹوری کے مقصد کو سمجھنے کے بجاٸے اِس کے اچھے پہلو اگنور کر کے ایک آدھ برا پہلو ڈسکس کیا۔۔۔
سوال آپ نے سدرہ کو بہن کیوں نہیں بنایا۔۔۔
جواب۔۔۔ بہن بنا کے کچھ دن بعد پرپوز کرنے والوں میں سے میں نہیں۔۔
میرا دل نہیں مانا سو بہن نہیں بنایا نہ کہا شاید میں اُسے بہن کہتا تو میری فیلنگ اِتنی خالص نہ ہوتی یا میں یہ سب اُس کے لٸے نہ کر پاتا جو کیا۔۔۔
لیکن مجھے اُس کے ماضی سے کوٸی سروکار نہیں تھا وہ اگر صحت مند ہوتے ہوٸے مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرتی تو میں نکاح بھی کر لیتا۔۔۔
ہر لڑکی ماضی رکھتی ہے یہاں مرد کو یہ بات سمجھنی چاہیٸے اور کبھی بھی اُس کے ماضی کو کریدنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیٸے بلکہ اُسے یقین دلانا چاہیٸے
کہ مجھ سے شادی سے پہلے تم کیا تھی مجھے کوٸی فرق نہیں پڑتا مجھے بس اِس بات سے غرض ہے۔۔
کہ اب تم میری وفادار رہوں اور میری عزت کی حفاظت کرو اور اُس لڑکی پہ بھی فرض ہے کہ ماضی بھول کے اپنے شوہر کی عزت کی پاسبان بن جاٸے۔۔۔۔
بہت سارے لڑکوں کے میسج آٸے کہ ہم سدرہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں وہ کدھر ہے۔۔۔
سدرہ تو نہیں رہی لیکن ایک بات کہوں گا کہ ہم سب کے آس پاس بہت ساری سدرہ ہیں بہت سارے غریب گھرانوں میں بیٹیاں نکاح کے انتظار میں بیٹھی ہیں جن کے والدیں کے پاس نکاح یا جہیز کے لٸے پیسے نہیں۔۔
آپ سب سے نکاح نہیں کر سکتے لیکن اُن سب کے نکاح میں چند دوست مل کے آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔
مجھے آپ سب کے ساتھ کی ضرورت ہے آپ سب لوگ اپنے وساٸل کے مطابق عملی طور پہ براٸی کے خلاف میدان میں اتریں۔۔
اللہ نگہبان،۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: