Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 1

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 1

–**–**–
وہ مسافر عرب کے صحرا میں اکیلا چلا جا رہا تھا۸ ہجری کے زمانے میں عرب کا وہ علاقہ جہاں مکہ اور مدینہ واقع ہےبڑا ہی خوفناک صحرا ہو اکرتا تھا۔ جلتا اور انسانوں کو جھلساتا ہوا ریگزار۔ ایک تو صحرا کی اپنی صعوبتیں تھیں دوسرا خطرہ رہزنوں کا تھا۔مسافر قافلوں کی صورت سفر کیا کرتے تھے لیکن یہ مسافر اکیلا چلا جا رہا تھا۔ وہ اعلیٰ نسل کے جنگی گھوڑے پر سوار تھا ۔ تفصیل سے پڑھئے
اس کی زِرہ گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔اس کی کمر سے تکوار لٹک رہی تھی اور اس کے ہاتھ میں برچھی تھی۔اس زمانے میں مردوں کے قد دراز، سینے چوڑے اور جسم گٹھے ہوئے ہوتے تھے، یہ اکیلا مسافر بھی انہی مردوں میں سے تھا لیکن جس انداز سے وہ گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھاتھا ‘اس سے پتا چلتا تھا کہ وہ شہ سوار ہے اور وہ کوئی معمولی آدمی نہیں، اس کے چہرے پہ خوف کا ہلکا سا بھی تاثر نہیں تھا کہ رہزن اسے لوٹ لیں گے‘ اس سے اتنی اچھی نسل کا گھوڑا چھین لیں گے اور اسے پیدل سفر کرنا پڑے گا لیکن اس کے چہرے پہ جو تاثر تھا وہ قدرتی نہیں تھا۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا ،یادوں سے دل بہلا رہا تھا یا کچھ یادوں کو ذہن میں دفن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔آگے ایک گھاٹی آ گئی۔ گھوڑا چڑھتا چلا گیا ۔خاصی بلندی پر جاکر زمین ہموار ہوئی۔ سوا ر نے گھوڑا روک کر اسے گھمایا اور رکابوں پر کھڑے ہوکر پیچھے دیکھا ۔اسے مکہ نظر نہ آیا ۔مکہ افق کے نیچے چلا گیا تھا ۔”ابو سلیمان !“۔اسے جیسے آواز سنائی دی ہو۔ ”اب پیچھے نہ دیکھو، مکہ کو ذہن سے اتار دو، تم مردِ میدان ہو اپنے آپ کو دو حصوں میں نہ کٹنے دو،اپنے فیصلے پر قائم رہو،تمہاری منزل مدینہ ہے۔“اس نے مکہ کی سمت سے نگاہیں ہٹا لیں ۔گھوڑے کا رخ مدینہ کی طرف کیا اور باگ کو ہلکا سا جھٹکا دیا ۔گھوڑا اپنے سوار کے اشارے سمجھتا تھا ۔نپی تلی چال چل پڑا۔ سوار کی عمر 43 برس تھی لیکن وہ اپنی عمر سے جوان لگتا تھا۔” سلیمان “اس کے بیٹے کا نام تھا۔ اس کے باپ کانام” الولید“ تھا لیکن سوار نے ”خالد بن ولید “کے بجائے ”ابو سلیمان “کہلانا زیادہ پسند کیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ تاریخ اسے ”خالد بن ولید“ کے نام سے یاد رکھے گی اور یہ نام اسلام کی عسکری روایات اور جذبے کا دوسرا نام بن جائے گا۔ مگر 43 برس کی عمر میں جب خالد مدینے کی طرف جا رہا تھا اس وقت وہ مسلمان نہیں تھا ۔چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کے علاوہ وہ مسلمانوں کے خلاف دو بڑی جنگیں ”جنگِ احد اور جنگِ خندق“ لڑ چکا تھا۔جب رسولِ کریم ﷺ پر 610 ءبروز سوموار پہلی وحی نازل ہوئی اس وقت خالد کی عمر 24سال تھی۔
س وقت تک وہ اپنے قبیلے بنو مخزوم کی عسکری قوت کا قائد بن چکا تھا۔ بنو مخزوم کا شمار قریشکے چند ایک معزز خاندانوں میں ہوتا تھا ۔قریش کے عسکری امور اسی خاندان کے سپرد تھے ۔قریش خالد کے باپ الولید کے احکام اور فیصلے مانتے تھے۔ 24 برس کی عمر میں یہ حیثیت خالد کو بھی حاصل ہو گئی تھی مگر اس حیثیت کو ٹھکرا کر خالد ابو سلیمان مدینے کو جا رہا تھا۔کبھی وہ محسوس کرتا جیسے اس کی ذات سے کوئی قوت اسے پیچھے کو گھسیٹ رہی ہو۔ جب وہ اس قوت کے اثر کو محسوس کرتا تو اس کی گردن پیچھے کو مڑ جاتی لیکن اس کی اپنی ذات سے ایک آواز اٹھتی ۔”آگے دیکھ خالد! تو ولید کا بیٹا تو ہے لیکن وہ مر گیا ہے اب تو سلیمان کا باپ ہے ۔وہ زندہ ہے۔“اس کے ذہن میں دو نام اٹک گئے” محمد)رسول اﷲﷺ( جو ایک نیا دین لے کر آئے تھے اور الولید “جو خالد کا باپ اور محمدﷺ اور آپﷺ کے نئے دین کا بہت بڑا دشمن تھا ۔باپ یہ دشمنی ورثے کے طور پہ خالد کے حوالے کر کے دنیا سے اٹھ گیا تھا۔خالد کے گھوڑے نے پانی کی مشک پر اپنے آپ ہی رخ بدل لیا تھا۔ خالد نے اُدھر دیکھا اسے گول دائرے میں کھجوروں کے درخت اور صحرا کے جھاڑی نما درخت نظر آئے گھوڑا اُدھر ہی جا رہا تھا۔نخلستان میں داخل ہو کر خالد گھوڑے سے کود گیا۔ عمامہ اتار کر وہ پانی کے کنارے دو زانو ہو گیا ۔اس نے پانی چلو بھر بھر کر اپنے سر پر ڈالا اور دو چار چھینٹے منہ پر پھینکے ۔اس کا گھوڑا پانی پی رہا تھا۔ خالد نے اس چشمہ سے پانی پیا جو صرف انسانوں کے استعمال کیلئے تھا ۔یہ ایک چھوٹا سا جنگل تھا ۔خالد نے گھوڑے کی زِین اتاری اور زِین کے ساتھ بندھی ہوئی چھوٹی سی ایک دری کھول کر جھاڑی نما درختوں کے جھنڈ تلے بچھائی اور لیٹ گےا۔وہ تھک گیا تھا ۔تھوڑی دیر کیلئے سو جانا چاہتا تھا مگر اس کے ذہن میں یادوں کا جو قافلہ چل پڑا تھا وہ اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔ اسے سات سال پہلے کا ایک دن یاد آیا جب اس کے عزیزوں نے محمدﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اس منصوبے میں خالد کا باپ الولید پیش پیش تھا۔وہ ستمبر 622ءکی ایک رات تھی ۔قریش نے رسولِ خداﷺ کو سوتے میں قتل کرنے کیلئے ایسے آدمی چنے تھے جو انسانوں کے روپ میں وحشی اور درندے تھے۔ خالد قریش کے سرکردہ خاندان کا جوان تھا اس وقت اس کی عمر ستائیس سال تھی ۔وہ حضورﷺ کے قتل کی سازش میں شریک تھا لیکن وہ قتل کے لئیے جانے والوں کے گروہ میں شامل نہیں تھا۔ اسے سات سال پہلے کی وہ رات گزرے ہوئے کل کی طرح یاد تھی ۔
وہ اس قتل پر خوش بھی تھا اور ناخوش بھی، خوش اس لیے کہ اس کے اپنے قبیلے کے ہی ایک آدمی نے اس کے مذہب کو جو بت پرستی تھی‘ باطل کہہ دیا اور اپنے آپ کو خدا کا پیغمبر کہہ دیا ۔ایسے دشمن کے قتل پر خوش ہونا فطری بات تھی۔اور وہ ناخوش اس لیے تھا کہ وہ اپنے دشمن کو للکار کر آمنے سامنے کی لڑائی لڑنے کا قائل تھا ۔اس نے سوئے ہوئے دشمن کو قتل کرنے کی کبھی سوچی ہی نہیں تھی بہرحال اس نے اس سازش کی مخالفت نہیں کی۔ لیکن قتل کی رات جب قاتل رسولِ خدا کو مقررہ وقت پر قتل کرنے گئے تو آپﷺ کا مکان خالی تھا۔ وہاں گھر کا سامان بھی نہیں تھا نہ آپﷺ کا گھوڑا تھا نہ اونٹنی ۔ قریش اس امید پر سوئے ہوئے تھے کہ صبح انہیں خوشخبری ملے گی کہ ان کے مذہب کو جھٹلانے اور انہیں اپنے نئے مذہب کی طرف بلانے والا قتل ہو گیاہے مگر صبح وہ ایک دوسرے کو مایوسی کے عالم میں دیکھ رہے تھے ۔پھر وہ سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے ”محمد کہاں گیا؟“رسولِ خداﷺقتل کے وقت سے بہت پہلے اپنے قتل کی سازش سے آگاہ ہوکر یثرب )مدینہ( کوہجرت کر گئے تھے۔ صبح تک آپ ﷺبہت دور نکل گئے تھے۔ خالد کے ذہن سے یادیں پھوٹتی چلی آ رہی تھیں۔ ذہن پیچھے ہی پیچھے ہٹتے ہٹتے سولہ برس دور جا نکلا613ءکی ایک شام رسولِ کریمﷺ نے قریش کے چند ایک سرکردہ افراد کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا،کھانے کے بعد رسولِ کریمﷺ نے اپنے مہمانوں سے کہا:”اے بنی عبدالمطلب! میں تمہارے سامنے جو تحفہ پیش کرنے لگا ہوں وہ عرب کا کوئی اور شخص پیش نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ اﷲ نے مجھے منتخب کیا ہے ۔مجھے اﷲ نے حکم دیا ہے کہ تمہیں ایک ایسے مذہب کی طرف بلائو ں جو تمہاری دنیا کے ساتھ تمہاری عاقبت بھی آسودہ اور مسرور کر دے گا۔“ اس طرح رسولِ خدا ﷺ نے پہلی وحی کے نزول کے تین سال بعد اپنے قریبی عزیزوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔خالد اس محفل میں نہیں تھا۔ اس کا باپ مدعو تھا۔ اس نے خالد کو مذاق اڑانے کے انداز میں بتایا تھا کہ عبد المطلب کے پوتے محمد )ﷺ(نے کہا ہے کہ کہ وہ اﷲ کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ عبدالمطلب قریش کا ایک سردار تھا۔ الولید نے اپنے بیٹے خالد سے کہا ”بےشک محمد کا خاندان اعلیٰ حیثیت رکھتا ہے
لیکن نبوت کا دعویٰ اس خاندان کا کوئی فرد کیوں کرے؟ اﷲ کی قسم اور ہبل اور عزیٰ کی‘ میرے خاندان کا رتبہ کسی سے کم نہیں ،کیا نبوت کا دعویٰ کرکے کوئی ہم سے اونچا ہو سکتا ہے ؟‘
”آپ نے اسے کیا کہاہے؟“خالد نے پوچھا۔”پہلے تو ہم چپ ہو گئے۔ پھر ہم سب ہنس پڑے۔“الولید نے کہا۔” لیکن محمد کے چچا زاد بھائی علی نے محمد کی نبوت کو قبول کر لیا ہے۔“
خالد اپنے باپ کی طنزیہ ہنسی کو بھولا نہیں تھا۔خالد کو629ءکے ایک روز مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک نخلستان میں لیٹے ہوئے وہ وقت یاد آ رہا تھا۔ رسول اﷲﷺ جن کی نبوت کو قریش کے سردار قبول نہیں کر رہے تھے ۔اس نبوت کو لوگ قبول کرتے چلے جا رہے تھے۔ ان میں اکثریت نوجوانوں کی تھی ۔بعض مفلس لوگوں نے بھی اسلام قبول کرلیا ۔اس سے نبی کریمﷺ کے حوصلے میں جان آ گئی اور آپﷺ نے اسلام کی تبلیغ تیز کردی ۔آپﷺ بت پرستی کے خلاف تھے ۔مسلمان ان تین سو ساٹھ بتوں کا مذاق اڑاتے تھے جو کعبہ کے اندر اور باہر رکھے ہوئے تھے۔طلوعِ اسلام سے پہلے عرب ایک خدا کو مانتے تھے اور پوجتے ان بتوں کو تھے انہیں وہ دیویاں اور دیوتا کہتے اور انہیں اﷲ کے بیٹے اور بیٹیاں مانتے تھے ۔وہ ہر بات میں اﷲ کی قسم کھاتے تھے۔قریش نے دیکھا کہ محمد ﷺکے جس دین کا انہوں نے مذاق اڑایا تھا وہ مقبول ہوتا جارہا ہے تو انہوں نے آپﷺ کی تبلیغی سرگرمیوں کے خلاف محاذ بنالیا اور مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ اس نے اﷲ کے رسولﷺ کو گلیوں اور بازاروں میں لوگوں کو اکھٹا کرکے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے اور بتاتے دیکھا تھا کہ بت انہیں نہ فائدہ دے سکتے ہیں نہ نقصان ۔عبادت کے لائق صرف اﷲ ہے جو وحدہ لا شریک ہے۔رسولِ خدا ﷺ کی مخالفت کے قائد قریش کے چار سردار تھے۔ ایک تو خالد کا باپ الولید تھا ۔دوسرا نبی کریمﷺ کا اپنا چچا ابو لہب تھا ،تیسرا ابو سفیان اور چوتھا ابوالحکم تھا، جو خالد کا چچا زاد بھائی تھا۔ مسلمانوں پر سب سے زیادہ ظلم و تشدد اسی شخص نے کیا تھا، وہ جہالت کی حد تک کینہ پرور اور مسلم کش تھا اسی لیے مسلمان اسے” ابو جہل “کہنے لگے تھے ۔یہ نام اتنا عام ہوا کہ لوگ جیسے اس کا اصل نام بھول ہی گئے ہوں۔ تاریخ نے بھی اس پستہ قد، بھینگے اور لوہے کی طرح مضبوط آدمی کو ”ابو جہل “کے نام سے ہی یاد رکھا ہے۔خالد کو یہ یادیں پریشان کرنے لگیں ۔شاید شرمسار بھی۔ قریش کے لوگوں نے رسولِ خداﷺ کے گھرمیں کئی بارغلاظت پھینکی تھی۔ جہاں کوئی مسلمان اسلام کی تبلیغ کررہا ہوتا وہاں قریش کے آدمی جا پہنچتے اور ہلڑ مچاتے تھے ۔بد اخلاق اور دھتکارے ہوئے آدمیوں کو رسولِ خداﷺ کو پریشان کرتے رہنے کے کام پر لگا دیا گیا تھا ۔
خالد کو یہ اطمینان ضرور تھا کہ اس کے باپ نے محمدﷺ کے خلاف ایسی کوئی گھٹیا حرکت نہیں کی تھی ۔وہ دو مرتبہ قریش کے تین چار سرداروں کو ساتھ لے کر رسولِ خداﷺ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ کہنے گیا تھا کہ وہ اپنے بھتیجے )رسولِ خداﷺ کو(بتوں کی توہین اور نبوت کے دعویٰ سے روکے ،ورنہ وہ کسی کے ہاتھوں قتل ہو جائے گا۔ ابو طالب نے ان لوگوں کو دونوں مرتبہ ٹال دیا تھا۔خالد کو اپنے باپ کی بہت بڑی قربانی یاد آئی ۔”عمارہ“ خالد کا بھائی تھا ۔وہ خاص طور پر خوبصورت نوجوان تھا ۔وہ ذہین تھا اور اس میں بانکپن تھا۔ خالد کے باپ الولید نے اپنے اتنے خوبصورت بیٹے عمارہ کو قریش کے دو سرداروں کے حوالے کیا اور انہیں کہا کہ اسے محمد کے چچا ابو طالب کے پاس لے جائو اور اس سے کہو کہ میرا بیٹا رکھ لو اور اس کے بدلے محمد )ﷺ(ہمیں دے دو۔ خالد اپنے باپ کے اس فیصلے پر کانپ اٹھا تھا اور جب اس کا بھائی عمارہ دونوں سرداروں کے ساتھ چلا گیا تھا تو خالد تنہائی میں جا کر رویا تھا۔”ابو طالب !“۔سرداروں نے عمارہ کو رسولِ کریم )ﷺ(کے چچا کے آگے کرکے کہا تھا۔” اسے تم جانتے ہو؟یہ عمارہ بن الولید ہے ۔تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ بنو ہاشم نے جس کے تم سردار ہو، ابھی تک اس جیسا سجیلا اور عقلمند جوان پیدا نہیں کیا ۔یہ ہم ہمیشہ کیلئے تمہارے حوالے کرنے آئے ہیں۔ اسے اپنا بیٹا بنا کر رکھو گے تو یہ تمام عمر فرمانبردار رہے گا اور اگر اسے اپنا غلام بنائو گے تو قسم ہے اﷲ کی ‘تم پر اپنی جان بھی قربان کردے گا ۔“”مگر تم اسے میرے حوالے کیوں کررہے ہو؟“ابو طالب نے پوچھا ۔”کیا بنو مخزوم کی مائوں نے اپنے بیٹوں کو نیلام کرنا شروع کردیا ہے؟کہو‘اس کی کتنی قیمت چاہتے ہو؟“”اس کے عوض ہمیں اپنا بھتیجا محمد )ﷺ(دے دو۔“قریش کے ایک سردار نے کہا:” تمہارا یہ بھتیجا تمہاری رسوائی کا باعث بن گیاہے ۔اس نے تمہارے آبائو اجداد کے مذہب کو رد کرکے نیا مذہب بنا لیا ہے۔کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اس نے قبیلے میں آدمی کو آدمی کا دشمن بنا دیا ہے
” تم میرے بھتیجے کو لے جا کر کیا کرو گے؟“ ”قتل۔“ قریش کے دوسرے سردار نے جواب دیا۔ ”ہم محمد)ﷺ( کوقتل کریں گے ۔یہ بے انصافی نہیں ہوگی ۔تم دیکھ رہے ہو کہ ہم تمہارے بھتیجے کے بدلے تمہیں اپنا بیٹا دے رہے ہیں ۔”یہ بہت بڑی بے انصافی ہو گی۔“ابو طالب نے کہا ۔”تم میرے بھتیجے کو قتل کرو گے اور میں تمہارے بیٹے کو پالوں گا اور اس پر خرچ کروں گا اور اسے بہت اچھی زندگی دوں گا ؟تم میرے پاس کیسا انصاف لے کر آئے ہو؟میں تمہیں عزت سے رخصت کرتا ہوں ۔“خالد نے جب اپنے بھائی کو اپنے سرداروں کے ساتھ واپس آتے دیکھا اور سرداروں سے سنا کہ ابو طالب نے یہ سودا قبول نہیں کیا تو خالد کو دلی مسرت ہوئی تھی۔
”محمد ﷺکا تم نے کیا بگاڑ لیا تھا ابو سلیمان؟ “خالد کی ذات سے ایک سوال اٹھا۔ اس نے خیالوں ہی خیالوں میں سر ہلایا اور دل ہی دل میں کہا :”کچھ نہیں ۔بے شک محمد)ﷺ( کا جسم طاقتور ہے لیکن رکانہ بن عبد یزید جیسے پہلوان کو اٹھا کر پٹخنے کیلئے صرف جسمانی طاقت کافی نہیں ۔“رکانہ بن عبدیزید رسولِ کریمﷺ کا چچاتھا جس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہ عرب کا مانا ہوا پہلوان تھا۔نا می گرامی پہلوان آئے جنہیں اس نے ایک ہی داؤ میں پٹخ کر اٹھنے کے قابل نہ چھوڑا ،وہ وحشی انسان تھا۔ صرف لڑنا مارنا جانتا تھا۔خالد کو وہ وقت یاد آنے لگا جب مسلمانوں کو دِق کرنے والے تین چار آدمیوں نے ایک دن رکانہ پہلوان کو خوب کھلایاپلایا اور اسے کہا تھا کہ” تمہارا بھتیجا محمد )ﷺ(کسی کے ہاتھ نہیں آتا ۔نہ اپنی تبلیغ سے باز آتا ہے نہ کسی سے ڈرتا ہے اور لوگ اس کے باتوں کے جادو میں آتے چلے جا رہے ہیں ۔کیا تم اسے سیدھا نہیں کر سکتے ؟“”کیا تم میرے ہاتھوں اس کی ہڈیاں تڑوانا چاہتے ہو؟“رکانہ نے اپنے چہرے پر مست بھینسے کا تاثر پیدا کرکے تکبر کے لہجے میں کہا تھا ۔”لاؤ اسے میرے مقابلے پہ ،لیکن وہ میرا نام سن کر مکہ سے بھاگ جائے گا۔نہیں نہیں۔ میں اس کے ساتھ لڑنا اپنی توہیں سمجھتا ہوں ۔“اس نے اکسانے والے آدمیوں کی بات نہ مانی ۔وہ کسی پہلوان کو اپنے برابر سمجھتا ہی نہیں تھا۔مسلمانوں کے دشمن خاموش ہو گئے لیکن سوچتے رہے کہ رسول ِخداﷺ کو رکانہ کے ہاتھوں گرا کر آپ )ﷺ(کا تماشہ بنایا جائے۔مکہ کے یہودی خاص طورپر رسولِ اکرمﷺ کے دشمن تھے ۔لیکن وہ کھل کر میدان میں نہیں آتے تھے ۔وہ خوش تھے کہ اہلِ قریش آپس میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے ہیں۔ انہیں پتا چل گیا کہ قریش کے کچھ آدمیوں نے رکانہ پہلوان کو اکسایا ہے کہ وہ رسولِ خداﷺ کو کشتی کیلئے للکارے ۔لیکن وہ نہیں مان رہا تھا۔ ایک روز رکانہ رات کے وقت ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اس کے قریب سے ایک بڑی حسین اور جوان لڑکی گزری۔چاندنی رات میں لڑکی نے رکانہ کو پہچان لیا اور مسکرائی ۔رکانہ وحشی تھا ۔وہ رک گیا اور لڑکی کا راستہ روک لیا۔”کیا تم جانتی ہو کہ عورت مرد کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے تو اس کامطلب کیا ہوتا ہے؟“رکانہ پہلوان نے پوچھا :”کون ہو تم؟“
”اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عورت اس مرد کو چاہتی ہے۔“اس جوان لڑکی نے جواب دےا ۔”میں سبت بنت ارمن ہوں۔“
”اوہ۔ارمن یہودی کی بیٹی۔“رکانہ نے کہا اور لڑکی کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کرکے بولا۔”کیا میرا جسم تجھے اتنا اچھا لگتا ہے اور کیا میری طاقت ۔“”تمہاری طاقت نے مجھے مایوس کردیا ہے ۔“سبت نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ۔”تم اپنے بھتیجے محمد سے ڈرتے ہو ۔“”کون کہتا ہے؟“رکانہ نے گرج کر پوچھا۔”سب کہتے ہیں ۔“سبت نے کہا۔” پہلے محمد کو گراؤ۔ میں اپنا جسم تمہیں انعام میں دوں گی۔ “”اﷲ کے بیٹوں اور بیٹیوں کی قسم !تیری بات پوری کرکے تیرے سامنے آؤں گا۔“رکانہ نے کہا۔”لیکن تو نے غلط سنا ہے کہ میں محمد سے ڈرتا ہوں ۔بات یہ ہے کہ میں اپنے سے کمزور کے ساتھ لڑنا اپنی توہین سمجھتا ہوں لیکن تیری بات پوری کروں گا۔“مشہور مؤرخ ابنِ ہشام نے لکھا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے خود رکانہ پہلوان کوکشتی کیلئے للکارا تھا لیکن دوسرے مؤرخ ابن الاثیر نے جو شہادت پیش کی ہے وہ صحیح ہے کہ رکانہ نے محمدﷺ کو کشتی کیلئے للکارا اور اس نے کہا تھا:”میرے بھائی کے بیٹے !تم بڑے دل اور بڑی جرات والے آدمی ہو۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم جھوٹ بولنے سے نفرت کرتے ہو۔لیکن مرد کی جرات اور صداقت کا پتا اکھاڑے میں چلتا ہے۔آؤ میرے مقابلے میں اکھاڑے میں اترو۔ اگر مجھے گرا لو تو میں تمہیں اﷲ کا بھیجا ہوا نبی مان لوں گا،اﷲ کی قسم !تمہارا مذہب قبول کرلوں گا۔“”لیکن یہ ایک بھتیجے اور چچا کی کشتی نہیں ہو گی۔“ رسولِ خداﷺ نے رکانہ کی للکار کے جواب میں کہا ۔”ایک بت پرست اور سچے دین کے ایک پیغمبر کی لڑائی ہو گی،تو ہار گیا تو اپنا وعدہ نہ بھول جانا۔“مکہ میں یہ خبر صحرا کی آندھی کی طرح پھیل گئی کہ رکانہ پہلوان اور محمد)ﷺ( کی کشتی ہو گی اور جو ہار جائے گا وہ جیتنے والے کا مذہب قبول کر لے گا۔قریش کا بچہ بچہ مردوزن اور یہودی ہجوم کرکے آ گئے۔ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی ۔وہ تلواروں اور برچھیوں سے مسلح ہو کر آئے ۔کیونکہ انہیں خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ قریش کشتی کو بہانہ بنا کر رسولِ خداﷺ کو قتل کر دیں گے۔“ عرب کا سب سے زیادہ طاقتور اور وحشی پہلوان رکانہ بن عبد یزید رسولِ کریمﷺ کے مقابلے پہ اترا۔ اس نے رسول ِ خداﷺ پر طنزیہ نظر ڈالی اور آپﷺ پر پھبتی کسی۔ آپﷺ مکمل خاموشی اور اطمینان سے رکانہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کردیکھتے رہے کہ وہ بے خبری میں کوئی داؤ نہ کھیل جائے۔
رِکانہ آپ )ﷺ(کے اردگرد یوں گھوما جیسے شیر اپنے شکار کے اردگرد گھوم گیا ہو اور اب اسے کھا جائے گا۔ ہجوم رسولِ اکرمﷺ کا مذاق اڑا رہا تھا۔ مسلمان خاموش تھے وہ دل ہی دل میں اﷲ کو یاد کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تلواروں کے دستوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔پھر نہ جانے کیا ہوا؟رسول ِاکرم ﷺ نے کیاداؤکھیلا؟ابن الاثیر کہتا ہے کہ آپﷺ نے رکانہ کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ رکانہ زخمی شیر کی طرح اٹھا اور غرا کر آپﷺ پر حملہ آور ہوا۔آپﷺ نے پھر وہی داؤ کھیلا اور اسے پٹخ دیا۔ وہ اٹھا تو آپﷺ نے اسے تیسری بار پٹخا۔ بھاری بھرکم جسم تین بار پٹخا گیا تو کشتی جاری رکھنے کے قابل نہ رہا۔ رکانہ سر جھکا کر اکھاڑے سے نکل گیا۔ ہجوم پر سناٹا طاری ہو گیا اور مسلمان ننگی تلواریں اور برچھیاں ہوا میں لہرا لہرا اور اچھال اچھال کر نعرے لگا رہے تھے۔”چچا رکانہ۔“ رسول اﷲﷺ نے للکار کر کہا۔” اپنا وعدہ پورا کر اور یہیں اعلان کر کہ آج سے تو مسلمان ہے۔“رکانہ نے قبولِ اسلام سے صاف انکار کر دیا۔”یہ طاقت جسمانی نہیں تھی ۔“خالد نے نخلستان میں لیٹے لیٹے اپنے آ پ سے کہا۔ ”رکانہ کو یوں تین بار پٹخنا تو دور کی بات ہے۔ اسے کوئی پچھاڑ بھی نہیں سکا تھا۔“رسولِ اکرمﷺ کا تصور خالد کے ذہن میں نکھر آیا ۔وہ آپ)ﷺ( کو اچھی طرح سے جانتا تھا لیکن اب وہ محسوس کر رہاتھا جیسے وہ محمدﷺ کوئی اور تھے جنہیں وہ بچپن سے جانتا تھا۔ا س کے بعد آپ ﷺنے جو رخ اختیار کیا تھاا س میں خالد آپ ﷺکو نہیں پہچانتا تھا ۔نبوت کے دعویٰ کے بعد خالد کی آپﷺ کے ساتھ بول چال بند ہو گئی تھی۔ وہ آپ ﷺکے ساتھ دو دو ہاتھ کرنا چاہتا تھا ۔لیکن وہ رکانہ کی طرح پہلوان نہیں تھا۔ وہ میدانِ جنگ میں لڑنے والا اور لڑنے والوں کی قیادت کرنے والا جنگجو تھا لیکن اس وقت مسلمان فوج کی صورت میں لڑنے کے قابل نہیں تھے۔
جب مسلمان فوج کی صورت میں لڑنے کے قابل ہوئے اور قریش کے ساتھ ان کا پہلا معرکہ ہوا ۔اس وقت خالد کیلئے ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ وہ اس معرکے میں شامل نہیں ہو سکا تھا ۔ا سکا اسے بہت افسوس تھا ۔یہ معرکہ بدر کا تھا جس میں تین سو تیرہ مجاہدینِ اسلام نے ایک ہزار قریش کو شکست دی تھی۔خالد دانت پیستا رہ گیا تھا لیکن اس روز جب وہ اس نخلستان میں لیٹا ہوا تھا اسے خیال آیا کہ تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو کس طرح سے شکست دے دی تھی؟
اس نے شکست کھاکہ آنے والوں سے پوچھا تھا کہ مسلمانوں میں وہ کون سی خوبی تھی جس نے انہیں فتح iاب کیا تھا؟ خالد اٹھ بیٹھا اور انگلی سے ریت پر بدر کے میدان کے خدوخال بنا کر قریش اور مسلمانوں کی پوزیشنیں اور معرکے کے دوران دونوں کی چالوں کی لکیریں بنانے لگا۔ باپ نے اسے فنِ حرب و ضرب کا ماہر بنادیا تھا۔ بچپن میں اسے گھڑ سواری سکھائی،لڑکپن میں اسے اکھڑ اور منہ زور گھوڑوں کو قابو میں لانے کے قابل بنایا۔ نوجوانی میں وہ شہسوار بن چکا تھا ،شتر سواری میں بھی وہ ماہر تھا۔ اس کا باپ ہی اس کا استاد تھا ۔اس نے خالد کو نا صرف سپاہی، بلکہ سالار بنایا تھا۔ خالد کو جنگ و جدل اتنی اچھی لگی کہ وہ لڑنے اور لڑانے کے طریقوں پر غورکرنے لگااور جوانی میں فوج کی قیادت کے قابل ہو گیا تھا۔اسے بدر کی لڑائی میں شامل نہ ہو سکنے کا افسوس تھا اور وہ انتقام کے طریقے سوچتا رہتا تھا لیکن اب اس کی سوچوں کا دھارا اور طرف چل پڑا تھا ۔مکہ سے روانگی سے کچھ عرصہ پہلے سے وہ اس سوچ میں کھو گیا تھا کہ رسولِ اکرمﷺ نے رکانہ پہلوان کو تین بار پٹخاتھا ۔بدر میں آپ ﷺنے محض تین سو تیرہ مجاہدین سے ایک ہزار کو شکست دی،یہ کوئی اور ہی قوت تھی لیکن بدر کے معرکے کے بعد اس کے دل میں مسلمانوںکے خلاف انتقام کی آگ سلگ رہی تھی۔مسلمان معرکہ بدر میں قریش کے بہت سے آدمیوں کو قیدی بنا کر لے گئے تھے ۔قریش کے سرداروں کیلئے تو یہ صدمہ تھا ہی ،اس کا بہت برا اثر خالد نے قبول کیا تھا ۔اسے یاد تھا کہ جب بدر کا معرکہ لڑا جا رہا تھا اور مکہ میں کوئی خبر نہیں پہنچ رہی تھی کہ معرکہ کا انجام کیا ہوا، مکہ کے لوگ بدر کی سمت دیکھتے رہتے تھے کہ ادھر سے کوئی سوار دوڑا آئے گا اور فتح کی خبر سنائے گا۔آخر ایک روز ایک شتر سوار آتا نظر آیا۔ لوگ اسکی طرف دوڑ پڑے ۔سوار نے عرب کے رواج کے مطابق اپنا کرتا پھاڑ دیا تھا اور وہ روتا آ رہا تھا۔ بری خبر لانے والے قاصد ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔وہ جب لوگوں کے درمیان پہنچا تو اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اہلِ قریش کو بہت بری شکست ہوئی ہے ۔جس کے عزیز رشتے دار لڑنے گئے تھے وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ بڑھ کر ان کے متعلق پوچھتے تھے کہ وہ زندہ ہیں ،زخمی ہیں یا مارے گئے ہیں ؟شکست خوردہ قریش پیچھے آ رہے تھے۔ مارے جانے والوں میں سترہ افراد خالد کے قبیلے بنو مخزوم کے تھے اور ان سب کے ساتھ خالد کا خون کا بڑا قریبی رشتہ تھا۔ ابو جہل بھی مارا گیا تھا۔ خالد کا بھائی جس کا نام ولید تھا جنگی قیدی بن گیا تھا۔ابو سفیان جو کہ قریش کے سرداروں کا سردار تھا اور ا س کی بیوی ہند بھی موجود تھے ۔”کچھ میرے باپ اور میرے چچا کے متعلق بتا اے قاصد!“ ہند نے پوچھا۔”تمہاراباپ عتبہ ،علی اور حمزہ کے ہاتھوں مارا گیا ۔“قاصد نے کہا ۔”اور تمہارے چچا شیبہ کو اکیلے حمزہ نے قتل کیا ہے اورتمہارا بیٹا حنظلہ علی کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ “
ابو سفیان کی بیوی ہند نے پہلے تو علی اور حمزہ کو بلند آواز سے برا بھلا کہا پھر بولی۔” اﷲ کی قسم! میں اپنے باپ اور اپنے چچا اور اپنے بیٹے کے خون کا بدلہ لوں گی۔“ابو سفیان پر خاموشی طاری تھی۔خالد کا خون کھول رہا تھا۔ قریش کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور جو جنگی قیدی ہوئے تھے ان کی تعداد بھی اتنی ہی تھی ۔خالد اٹھا ۔دری جھاڑکر لپیٹی اور گھوڑے کی زِین کے ساتھ باندھ کر سوار ہوا اور مدینہ کی سمت چل پڑا۔اس نے ذہن کو یادوں سے خالی کر دینا چاہا لیکن اس کا ذہن مدینہ پہنچ جاتا جہاں رسول اﷲﷺ تھے اور جو تبلیغِ اسلام کا مرکز بن گیا تھا۔ آپﷺ کا خیال آتے ہی اس کا ذہن پیچھے چلا جاتا اور اسے وہ منظر دکھاتا جس کے خالق حضورﷺ تھے۔اس کے ذہن میں ہند کے الفاظ یادآ ئے جو اس نے اپنے خاوند ابو سفیان سے کہے تھے: ”میں اپنے باپ اور چچا کو بھول سکتی ہوں۔“ ہند نے کہا تھا ۔”کیا میں اپنے لختِ جگر حنظلہ کو بھی بھول جاؤں؟ ماں اپنے بیٹے کو کیسے بھول سکتی ہے ؟اﷲکی قسم !میں محمد کو اپنے بیٹے کا خون معاف نہیں کروں گی۔یہ لڑائی محمد نے کرائی ہے۔ میں حمزہ اور علی کو نہیں بخشوں گی ۔وہ میرے باپ، میرے چچا اور میرے بیٹے کے قاتل ہیں۔“”میرے خون کو صرف میرے بیٹے کا قتل گرمارہا ہے ۔“ابو سفیان نے کہا تھا۔” مجھ پر اپنے بیٹے کے خون کا انتقام فرض ہو گیا ہے۔ میں سب سے پہلے یہ کام کروں گا کہ محمد کے خلاف زبردست فوج تیار کرکے اسے آئندہ لڑنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔“ مشہور مؤرخ اور وقائع نگار واقدی لکھتا ہے کہ اگلے ہی روز ابو سفیان نے تمام سرداروں کو بلایا ۔ان میں زیادہ تعداد ان سرداروں کی تھی جو کسی نہ کسی وجہ سے جنگِ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور ا ن میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی عزیز اس جنگ میں مارا گیا تھا۔ سب انتقام کاارادہ لے کر اکھٹے ہوئے ۔کیا مجھے زیادہ باتیں کرنے کی ضرورت ہے ؟ابو سفیان نے کہا۔” میرا اپنا جوان بیٹا مارا گیا ہے۔ اگر میں انتقام نہیں لیتا تو مجھے جینے کا کوئی حق نہیں۔“سب ایک ہی بار بولنے لگے۔ وہ اس پر متفق تھے کہ مسلمانوں سے بدر کی شکست کا انتقام لیا جائے ۔
”لیکن آپ میں سے کوئی بھی اپنے گھر میں نہ بیٹھا رہے ۔“خالد نے کہا۔” بدر میں ہم صرف اس لیے ذلت میں گھرے کہ سردار گھروں میں بیٹھے رہے اور ان لوگوں کو لڑنے بھیج دیا جو قریش کی عظمت کو نہیں سمجھتے تھے ۔“
”کیا میرے باپ کو بھی قریش کی عظمت کا خیال نہ تھا؟“خالد کے چچا زاد بھائی عکرمہ، جو ابو جہل کا بیٹا تھا۔ برہم ہوتے ہوئے کہا ۔”کیا صفوان بن امیہ کے باپ کو بھی قریش کی عظمت کا خیال نہ تھا ؟ تم کہاں تھے
الولید کے بیٹے؟“”ہم یہاں ایک دوسرے سے لڑنے کیلئے اکھٹے نہیں ہوئے ۔“ابو سفیان نے کہا۔” خالد! تمہیں ایسی بات نہیں کہنی چاہیے تھی جس سے کوئی اپنی بے عزتی محسوس کرے۔“
”ہم میں سے کوئی بھی عزت والا نہیں رہا۔“ خالد نے کہا ۔”ہم سب اس وقت تک بے عزت رہیں گے جب تک ہم محمد)ﷺ( اور اس کے چیلوں کو ہمیشہ کیلئے ختم نہیں کر دےتے۔ مجھے اپنے گھوڑے کے سموں کی
قسم! میرے خون کی گرمی نے میری آنکھیں جلا دی ہیں۔ ان آنکھوں کو مسلمانوں کا خون ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ اب سردار آگے ہوں گے اور میں جانتا ہوں کہ میں میدانِ جنگ میں کہاں ہوں گا۔لیکن جنگ میں ہمارا جو سردار ہو گا میں اس کے حکم کا پابند رہوں گا اور اگر میں سمجھوں گا کہ مجھے سردار نے ایسا حکم دیا ہے جو ہمیں نقصان دے گا تو میں ایسا حکم نہیں مانوں گا۔“ سب نے متفقہ طور پر ابو سفیان کو اپنا سردار مقرر کیا۔اس سے ایک روز پہلے اہلِ مکہ کا ایک قافلہ فلسطین سے مکہ واپس آیا تھا ۔یہ تجارتی قافلہ تھا ۔مکہ کے باشندوں خصوصاً قریش کے ہر خاندان نے اس تجارت میں حصہ ڈالا تھا۔ اس قافلے میں کم و بیش ایک ہزار اونٹ تھے اور جو مال گیاتھا اس کی مالیت پچاس ہزار دینار تھی۔ قافلے کا سردار ابو سفیان تھا جس نے پچاس ہزار پر پچاس ہزار دینار منافع کمایا تھا۔قافلے سے واپسی کا راستہ مدینہ سے گزرتا تھا ۔مسلمانوں کو پتا چل گیا ۔انہوں نے پورے قافلے کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا اور ایک مقام پر قافلہ کو گھیرے میں لے لیا لیکن وہ زمین ایسی تھی کہ ابو سفیان نے ایک ایک آدمی اور ایک ایک اونٹ کو زمین کے اونچے نیچے خدوخال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھیرے سے نکال دیا تھا۔خالد کا گھوڑا خراماں خراماں مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا مگر خالد کا ذہن پیچھے کو سفر کر رہا تھا ۔اسے اس وقت کا جب قریش انتقام کی اسکیم بنانے کیلئے اکھٹے ہوئے تھے ایک ایک لفظ جو کسی نے کہا تھا سنائی دے رہا تھا۔”اگر تم نے مجھے اپنی سرداری دی ہے تو میرے ہر فیصلے کی پابندی تم پر لازم ہے ۔“ابو سفان نے کہا ۔
”میرا پہلا فیصلہ یہ ہے کہ میں نے ابھی پچاس ہزار دینار منافع سب میں تقسیم نہیں کیا۔ وہ میں تقسیم نہیں کروں گا۔ یہ مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں استعمال ہو گا۔“”مجھے اور میرے خاندان کو یہ فیصلہ منظور ہے ۔“سب سے پہلے خالد نے کہا۔پھر ”منظور ہے ،ایسا ہی کرو، منظور ہے “کی آوازیں اٹھیں۔ ”میرا دوسراحکم یہ ہے۔“ ابو سفیان نے کہا کہ۔” جنگِ بدر میں ہمارے جو آدمی مارے گئے ہیں ان کے لواحقین آہ و زاری کر رہے ہیں ۔میں نے مردوں کو دھاڑیں مارتے اور عورتوں کو بَین کرتے سنا ہے۔ اﷲ کی قسم! جب آنسو بہہ جاتے ہیں تو انتقام کی آگ سرد ہو جاتی ہے ۔آج سے بدرکے مقتولین پرکوئی نہیں روئے گا ۔۔۔“”اور میرا تیسرا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں نے بدر کی لڑائی میں ہمارے جن آدمیوں کو قید کیا ہے ان کی رہائی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی جائے گی ۔تم جانتے ہو کہ مسلمانوں نے قیدیوں کی رہائی کیلئے ان کے درجے مقرر کر دیئے ہیں اور ان کا فدیہ ایک ہزار سے چالیس درہم مقرر کیا ہے ۔ہم مسلمانوں کو ایک درہم بھی نہیں دےں گے۔ یہ رقم ہمارے ہی خلاف استعمال ہو گی ۔“
خالد کو گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھے اور مدینہ کی طرف جاتے ہوئے جب وہ لمحے یاد آ رہے تھے تو اس کی مٹھیاں بند ہو گئیں۔ غصے کی لہر اس کے سارے وجود میں بھر گئی۔ وہ وقت بہت پیچھے رہ گیا تھا لیکن اب بھی اس کے اندر غصہ بیدارہو گیا تھا۔ اسے غصہ اس بات پہ آیا کہ اجلاس میں طے تھا کہ مسلمانوں کے پاس مکہ کا کوئی آدمی اپنے قیدی کو چھڑانے مدینہ نہیں جائے گا لیکن ایک آدمی چوری چھپے مدینہ چلا جاتا اور اپنے عزیز رشتے دار کو رہا کرا لاتا۔ ابو سفیان نے اپنا حکم واپس لے لیا۔ خالد کا اپنا ایک بھائی جس کا نام ولید تھا۔ مسلمانوں کے پاس جنگی قیدی تھا اگر اس وقت تک قریش اپنے بہت سے قیدی رہا نہ کرا لائے ہوتے تو خالد اپنے بھائی کی رہائی کیلئے کبھی نہ جاتا۔اسے اپنے بھائیوں نے مجبور کیا تھا کہ ولید کی رہائی کیلئے جائے ۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ وہ اپنے وقار کو ٹھیس پہنچانے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا لیکن اسے خیال آیا تھا ۔خیال یہ تھا کہ رسولِ کریمﷺ بھی اسی کے قبیلے کے تھے اور آپﷺ کے پیروکار یعنی جو مسلمان ہو گئے تھے وہ بھی قریش اور اہلِ مکہ سے تھے۔ وہ آسمان سے تو نہیں اترے تھے۔ وہ اتنے جری اور دلیر تو نہیں تھے کہ تین سو تیرہ کی تعداد میں ایک ہزار کو شکست دے سکتے ۔اب ان میں کیسی قوت آ گئی ہے کہ وہ ہمیں نیچا دکھا کر ہمارے آدمیوں کی قمتیں مقرر کر رہے ہیں ؟ ”انہیں ایک نظر دیکھوں گا۔“ خالد نے سوچا تھا۔” محمدﷺ کو غور سے دیکھوں گا۔“اور وہ اپنے بھائی ہشام کو ساتھ لے کر مدینہ چلا گیا تھا ۔اس نے اپنے ساتھ چار ہزار درہم باندھ لیے تھے ۔اسے معلوم تھا کہ بنو مخزوم کے سردار الولید کے بیٹے کا فدیہ چار ہزار درہم سے کم نہیں ہو گا ایسا ہی ہوا۔۔۔اس نے مسلمانوں کے ہاں جا کر اپنے بھائی کانام لیا تو ایک مسلمان نے جو قیدیوں کی رہائی اور فدیہ کی وصولی پر معمور تھا ۔کہا کہ چار ہزار درہم ادا کرو۔”ہم فدیہ میں کچھ رعایت چاہتے ہیں ۔“خالد کے بھائی ہشام نے کہا ۔”تم لوگ آخر ہم میں سے ہو ۔کچھ پرانے رشتوں کا خیال کرو ۔“”اب ہم تم میں سے نہیں ہیں ۔“مسلمانوں نے کہا ۔”ہم اﷲ کے رسولﷺ کے حکم کے پابند ہیں۔“”کیا ہم تمہارے رسول اﷲﷺ سے بات کر سکتے ہیں ؟“ہشام نے پوچھا ۔”ہشام !“خالد نے گرج کر کہا۔” میں اپنے بھائی کو اپنے وقار پر قربان کر چکا تھا ،مگر تم مجھے ساتھ لے آئے ۔یہ جتنا مانگتے ہیں اتنا ہی دے دو۔ میں محمد)ﷺ( کے سامنے جا کہ رحم کی بھیک نہیں مانگوں گا“ ۔اس نے درہموں سے بھری تھیلی مسلمانوں کے سامنے پھینکتے ہوئے کہا ۔”گن لو اور ہمارے بھائی کو ہمارے حوالے کر دو۔“رقم گنی جا چکی تو ولید کو خالد اور ہشام کے حوالے کر دیا گیا۔ تینوں بھائی اسی وقت مکہ کو روانہ ہو گئے ۔راستے میں دونوں بھائیوں نے ولید سے پوچھا کہ”ان کی شکست کا باعث کیا تھا؟ “انہیں توقع تھی کہ ولید جو ایک جنگجوخاندان کا جوان تھا۔ انہیں جنگی فہم و فراست اور حرب و ضرب کے طور طریقوں کے مطابق مسلمانوں کی جنگی چالوں کی خوبیاں اور اپنی خامیاں بتائے گا مگر ولید کا انداز ایسا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ایسی تھی جیسے اس پر کوئی پراسرار اثر ہو۔ ”ولید کچھ تو بتاؤ۔“ خالد نے اس سے پوچھا۔”ہمیں اپنی شکست کا انتقام لینا ہے ۔قریش کے تمام سردار اگلی جنگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہم اردگرد کے قبائل کو بھی ساتھ ملا رہے ہیں اور و ہ مکہ میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔“ ”سارے عرب کو اکھٹا کرلو خالد۔“ ولید نے کہا ۔”تم مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکو گے ۔میں نہیں بتا سکتا کہ محمدﷺ کے ہاتھ میں کوئی جادو ہے یا ان کا نیا عقیدہ سچا یا کیا بات ہے کہ میں نے ان کا قیدی ہوتے ہوئے بھی انہیں نا پسند نہیں کیا۔“”پھر تم اپنے قبیلے کے غدار ہو۔“ ہشام نے کہا۔” غدار ہو یا تم پر ان کا جادو اثر کر گیا ہے۔ وہ یہودی پیشوا ٹھیک کہتا تھا کہ محمد)ﷺ( کے پاس کوئی نیا عقیدہ اور نیا مذہب نہیں،اس کے ہاتھ میں کوئی جادو آگیا ہے“۔
”جادو ہی تھا ،ورنہ بدر میں شکست کھانے والے نہیں تھے۔“خالد نے کہا۔ولید جیسے ان کی باتیں سن ہی نہیں رہا تھا ۔اس کے ہونٹوں پر تبسم تھا اور وہ مڑ مڑ کر مدینہ کی طرف دیکھتا تھا۔ مدینہ سے کچھ دورذی الحلیفہ نام کی ایک جگہ ہوا کرتی تھی۔ تینوں بھائی وہاں پہنچے تو رات گہری ہو چکی تھی۔ رات گزارنے کیلئے وہ وہیں رہ گئے۔صبح آنکھ کھلی تو ولید غائب تھا۔ اس کا گھوڑا بھی وہاں نہیں تھا ۔خالد اور ہشام سوچ سوچ کر اس نتیجے پر پہنچے کہ ولید واپس مدینہ چلا گیا ہے،انہوں نے دیکھا کہ اس پر کوئی اثر تھا یہ اثر مسلمانوں کا ہی ہوسکتا تھا۔ دونوں بھائی مکہ آ گئے۔ چند دنوں بعد انہیں مکہ میں ولید کا زبانی پیغام ملا کہ اس نے محمدﷺکو خدا کا سچارسول تسلیم کر لیا ہے اور وہ آپﷺ کی شخصیت اور باتوں سے اتنا متاثر ہوا ہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ ولید بن الولید رسولِ اکرمﷺ کے منظورِ نظر رہے اور انہوں نے مذہب میں بھی اور کفار کے ساتھ معرکہ آرائی میں بھی نام پیدا کیا۔خالد کو اس وقت بہت غصہ آیا تھا ایک تو اس کا بھائی گیا دوسرے چار ہزار درہم گئے ۔چونکہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان خونی دشمنی پیدا ہو چکی تھی اس لیے مسلمانوں نے یہ رقم واپس نہ کی ۔رقم واپس نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ولید نے رسولِ کریمﷺ کو بتا دیا تھا کہ قریش مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی تیاری کر رہے ہیں اور ا س کیلئے بے انداز درہم و دینار اکھٹے کیے جا چکے ہیں۔
خالد مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا۔ اسے افق سے ایک کوہان سی ابھری ہوئی نظر آنے لگی۔ خالد جانتا تھا یہ کیا ہے۔ یہ احد کی پہاڑی تھی جو مدینہ سے چار میل شمال میں ہے۔ اس وقت خالد ریت کی بڑی لمبی اور کچھ اونچی ٹیکری پر چلا جا رہا تھا۔اُحد۔ اُحد۔ خالد کے ہونٹوں سے سرگوشی نکلی اور اسے اپنی للکار سنائی دینے لگی۔” میں ابو سلیمان ہوں ! میں ابو سلیمان ہوں ۔“اس کے ساتھ ہی اسے ایک خونریز جنگ کا شوروغل اور سینکڑوں گھوڑوں کے ٹاپ اور تلواریں ٹکرانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔خالد یہ جنگ لڑنے کیلئے بیتاب تھا اور اس نے یہ جنگ لڑی-
خالد کا ذہن پیچھے ہی ہٹتا گیا۔چار ہی سال پہلے کا واقعہ تھا ۔
مارچ 625ء)شوال ۳ ہجری ( کے مہینے میں قریش نے مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے جو لشکر تیار کیا تھا وہ مکہ میں اکھٹا ہو چکا تھا اس کی کل تعداد تین ہزار تھی۔ اس میں سات سو افراد نے زِرہ پہن رکھی تھی۔ گھوڑ سوار دو سو کے لگ بھگ تھے اور رسد اور سامانِ جنگ تین ہزار اونٹوں پر لدا ہوا تھا۔ یہ لشکر کوچ کیلئے تیار تھا۔خالد کو ایک روز پہلے کی بات کی طرح یاد تھا کہ اس لشکر کو دیکھ کر وہ کس قدرخوش ہوا تھا۔ انتقام کی آگ بجھانے کا وقت آ گیا تھا اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ ابو سفیان تھا اور خالد اس لشکر کے ایک حصے کا کمانڈر تھا۔ اس کی بہن بھی اس لشکر کے ساتھ جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ چودہ عورتیں اس لشکر کے ساتھ جانے کیلئے تیار تھیں ۔ ان میں ابو سفیان کی بیوی ہند بھی تھی، عمرو بن العاص کی اور ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کی بیویاں بھی شامل تھیں ۔ باقی سب گانے بجانے والیاں تھیں ۔سب کی آواز میں سوز تھا اور ان کے ساز دف اور ڈھولک تھے۔ ان عورتوں کا جنگ میں یہ کام تھا کہ جوشیلے اور جذباتی گیت گا کر سپاہیوں کا حوصلہ بلند رکھیں اور انکی یاد تازہ کرتی رہیں جو جنگِ بدر میں مارے گئے تھے۔خالد کو افریقہ کا ایک حبشی یاد آیا جس کا نام وحشی بن حرب تھا۔ وہ قریش کے ایک سردار جُبیر بن مُطعم کا غلام تھا۔ وہ دراز قد اور سیاہ رو اور طاقتور تھا۔ اس نے برچھی مارنے کے فن میں شہرت حاصل کی تھی۔ اس کے پاس افریقہ کی بنی ہوئی برچھی تھی۔ اس کا افریقی نام کچھ اور تھا ۔اسے عربی نام جُبیر نے اس کے جنگی کمالات دیکھ کر دیا تھا۔”بِن حرب! “کوچ سے کچھ دیر پہلے جُبیر بن مُطعِم نے اسے کہا۔”مجھے اپنے چچا کے خون کا بدلہ لینا ہے ۔شاید مجھے موقع نہ مل سکے ،میرے چچا کو بدر کی لڑائی میں محمد)ﷺ( کے چچا حمزہ نے قتل کیا تھا اگر تم حمزہ کو قتل کر دو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔“”حمزہ میری برچھی سے قتل ہو گا یا آقا!“وحشی بن حرب نے کہا۔یہ حبشی غلام اس طرف جا نکلا جہاں وہ عورتیں اونٹوں پر سوار ہو چکی تھیں جو اس لشکر کے ساتھ جا رہی تھیں۔”ابو وسمہ!“کسی عورت نے پکارا۔یہ وحشی بن حرب کا دوسرا نام تھا۔ وہ رک گیا۔ دیکھا کہ ابو سفیان کی بیوی ہند اسے بلا رہی تھی ۔وہ اس کے قریب چلا گیا۔”ابو وسمہ! “ہندنے کہا ۔”حیران نہ ہو، تجھے میں نے بلایا ہے۔ میرا سینہ انتقام کی آگ سے جل رہا ہے۔ میرا سینہ ٹھنڈا کردے۔“”حکم خاتون۔“غلام نے کہا۔” اپنے سالار کی زوجہ کے حکم پر اپنی جان بھی دے دوں گا۔“”بدر میں میرے باپ کو حمزہ نے قتل کیاتھا“۔ ہندنے کہا۔” تو حمزہ کو اچھی طرح پہچانتا ہے ،یہ دیکھ میں نے سونے کے جو زیورات پہن رکھے ہیں اگر تو حمزہ کو قتل کر دے گا تو یہ سب زیورات تیرے ہوں گے۔“وحشی بن حرب نے ہند کے زیورات پر نظر ڈالی تو وہ مسکرایا اور زیرِ لب پر عزم لہجے میں بولا۔” حمزہ کو میں ہی قتل کروں گا۔“
خالد کو اپنے لشکر کا کوچ یاد تھا۔ اسی رستے سے لشکر مدینہ کو گیا تھا۔ اس نے ایک بلند جگہ کھڑے ہو کر لشکر کو دیکھا تھا۔ اس کا سینہ فخر سے پھیل گیا تھا۔ اسے مدینہ کے مسلمانوں پر رحم آ گیا تھا لیکن اس رحم نے بھی اسے مسرت دی تھی۔ یہ خون کی دشمنی تھی ،یہ اس کے وقار کا مسئلہ تھا۔مسلمانوں کو کچل ڈالنا اس کا عزم تھا۔جنگِ احد کے بہت دن بعد اسے پتاچلا تھا کہ جب مکہ میں قریش اپنا لشکر جمع کر رہے تھے تو اطلاع رسولِ کریمﷺ کو مل گئی تھی اور جب یہ لشکر مدینہ کے راستے میں تھا تو رسولِ خدا ﷺکو اس کی رفتار ،پڑاؤ اور مدینہ سے فاصلے کی اطلاعیں مسلسل ملتی رہی تھیں۔ آپﷺ کو لشکر کے مکہ سے کوچ کی اطلاع حضرت عباسؓ نے دی تھی۔قریش کے اس لشکر نے مدینہ سے کچھ میل دور کوہِ احد کے قریب ایک ایسی جگہ کیمپ کیا تھا جو ہری بھری تھی اور وہاں پانی بھی تھا ۔خالد کو معلوم نہ تھا کہ مسلمانوں کے دو جاسوس اس لشکر کی پوری تعداد دیکھ آئے ہیں اور رسولِ کریمﷺ کوبتا چکے ہیں۔21مارچ 625ءکے روز رسولِ کریمﷺ نے اپنی فوج کو کوچ کا حکم دیا اور شیخین نامی ایک پہاڑی کے دامن میں جا خیمہ زن ہوئے۔ آپﷺ کے ساتھ ایک ہزار پیادہ مجاہدین تھے جن میں ایک سَو نے سروں پر زِرہ پہن رکھی تھی۔ مجاہدین کے پاس صرف دو گھوڑے تھے جن میں سے ایک نبیﷺ کے پاس تھا ۔اس موقع پر منافقین کے نفاق کا پہلا خطرناک مظاہرہ ہوا جو غداری کے مترادف تھا۔ مدینہ کے بعض ایسے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا جو دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ انہیں رسولﷺ نے منافقین کہا تھا۔ کسی کے متعلق یہ معلوم کرنا کہ وہ سچا مسلمان ہے یا منافق‘ بہت مشکل تھا ۔جب مجاہدین مدینہ سے شیخین کی پہاڑی کی طرف کوچ کرنے لگے تو ایک بااثر آدمی جس کا نام ”عبداﷲ بن ابی “تھا۔ رسول ﷺ کے ساتھ اس بحث میں الجھ گیا کہ قریش کا لشکر تین گنا ہے اس لیے مدینہ سے باہر جاکر لڑنا نقصان دہ ہو گا۔آپﷺ نے مجاہدین کے دوسرے سرداروں سے رائے لی تو اکثریت نے یہ کہا کہ شہر سے باہر لڑنا زیادہ بہتر ہوگا۔ آپﷺ عبداﷲ بن ابی کے ہی ہم خیال تھے لیکن آپﷺ نے اکثریت کا فیصلہ ہی منظور فرمایا اور کوچ کا حکم دے دیا۔ عبداﷲ بن ابی نے شہر سے باہر جانے سے انکار کر دیا اس کے پیچھے ہٹنے کی دیر تھی کہ لشکر میں سے تین سو آدمی پیچھے ہٹ گئے۔ تب پتا چلا کہ یہ سب منافقین تھے اور عبداﷲ ان کا سردار ہے۔اب تین ہزار کے مقابلے میں مجاہدین کی نفری صرف سات سو رہ گئی۔
رسول اﷲﷺ دلبرداشتہ نہ ہوئے اور سات سو ہی کو ساتھ لے کر کوہِ احد کے دامن میں شیخین کے مقام پر مجاہدiن کو جنگی ترتیب میں کردیا۔خالد نے ایک بلند ٹیکری پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کی ترتیب دیکھی تھی اور اس نے اپنے سالار ابو سفیان کو بتا کر اپنے دستے کی جگہ طے کرلی۔رسولِ اکرمﷺ نے مجاہدین کو کم و بیش ایک ہزار گز لمبائی میں پھیلا دیا۔ پیچھے وادی تھی ۔مجاہدین کے ایک پہلو کے ساتھ پہاڑی تھی لیکن دوسرے پہلو پر کچھ نہیں تھا۔ اس پہلو کو مضبوط رکھنے کیلئے رسول ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کو قریب کی ایک ٹیکری پر بٹھا دیا ۔ان تیر اندازوں کے کمانڈر عبداﷲ بن جبیر تھے ۔”اپنی ذمہ داری سمجھ لو عبداﷲ ۔“رسولِ خداﷺ نے اسے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا ۔”اپنے عقب کو دیکھو، دشمن ہمارے عقب میں نقل و حرکت کر سکتا ہے جو ہمارے لیے خطرہ ہے ۔دشمن کے پاس گھڑ سوار زیادہ ہیں۔وہ ہمارے پہلو پر گھڑ سواروں سے حملہ کر سکتا ہے۔ اپنے تیرانداوں کو گھڑ سواروں پر مرکوز رکھو۔ پیادوں کا مجھے کوئی ڈر نہیں۔“ تقریباً تمام مستند مؤرخین جن میں ابن ہشام اور واقدی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ،لکھتے ہیں کہ رسولِ کریمﷺ نے عبداﷲ بن جبیر ؓکو واضح الفاظ میں کہا تھا” ہماراعقب صرف تمہاری بیداری اور مستعدی سے محفوظ رہے گا۔ تمہاری ذرا سی کوتاہی بھی ہمیں بڑی ذلت آمیز شکست دے سکتی ہے ۔یاد رکھو عبداﷲ! اگر تم دشمن کو بھاگتے ہوئے اور ہمیں فتح یاب ہوتے ہوئے دیکھ لو، تو بھی اس جگہ سے نہ ہلنا ۔اگر دیکھو کہ ہم پر دشمن کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور تمہیں ہماری مدد کیلئے پہنچنا چاہیے تو بھی یہ جگہ نہ چھوڑنا۔ پہاڑی کی یہ بلندی دشمن کے قبضے میں نہیں جانی چاہیے ۔یہ بلندی تمہاری ہے ،وہاں سے تم نیچے اس تمام علاقے کے حکمران ہو گے جہاں تک تمہارے تیر اندازوں کے تیرپہنچیں گے۔“خالد نے مسلمانوں کی ترتیب دیکھی اور ابو سفیان کو بتایا کہ مسلمان کھلے میدان کی لڑائی نہیں لڑیں گے ۔ابو سفیان کو اپنی کثیر نفری پر ناز تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ لڑائی کھلے میدان میں یعنی لا محدود محاذ پر ہو تاکہ وہ اپنے پیادوں اور گھوڑوں کی افراط سے مجاہدینِ اسلام کو کچل ڈالے۔ خالد کو اپنے باپ نے جنگی چالوں کی تربیت بچپن سے دینی شروع کر دی تھی۔ دشمن پر بے خبری میں پہلو یا عقب سے جھپٹنا اور دشمن کو چکر دے دے کر مارنا اپنے دستوں کی تقسیم اور ان پر کنٹرول اس کی تربیت میں شامل تھا۔ جو اسے باپ نے دی تھی ۔اس نے تجربے کار سردار کی نگاہوں سے مجاہدین کی ترتیب دیکھی تو اس نے محسوس کیا کہ مسلمان فن و حرب کے کمالات دِکھا سکتے ہیں۔
ابو سفیان اپنی فوج کو مسلمانوں کے بالمقابل لے گیا۔ اس نے گھڑ سواروں کو مسلمانوں کے پہلوؤں پر حملہ کر نے کیلئے بھیجا ۔ایک پہلو پر خالد اور دوسرے پر عکرمہ تھا۔ دونوں کے ساتھ ایک سو گھڑ سوار تھے ۔تمام گھڑ سواروں کا کمانڈر عمرو بن العاص تھا۔ پیادوں کے آگے ابو سفیان نے ایک سو تیر انداز رکھے ۔قریش کا پرچم طلحہ بن ابو طلحہ نے اٹھا رکھاتھا ۔اس زمانے کی جنگوں میں پرچم کو دل جیسی اہمیت حاصل تھی۔ پرچم کے گرنے سے فوج کا حوصلہ ٹوٹ جاتا اور بھگدڑ مچ جاتی تھی۔قریش نے جنگ کی ابتداءاس طرح کی کہ ان کی صفوں سے ایک شخص ابو عامر فاسق آگے ہو کر مجاہدین کے قریب چلا گیا ۔اس کے پیچھے قریش کے غلاموں کی کچھ تعداد بھی تھی۔ ابو عامر مدینہ کا رہنے والا تھا۔ وہ قبیلہ اوس کا سردار تھا۔ جب رسولِ کریمﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو ابو عامر نے قسم کھالی تھی کہ وہ آپ )ﷺ(کو اور تمام مسلمانوں کو مدینہ سے نکال کر دم لے گا۔ اس پر ایک بڑی ہی حسین یہودن کا اور یہودیوں کے مال و دولت کا طلسم طاری تھا۔ یہودیوں کی اسلام دشمن کارروائیاں زمین دوز ہوتی تھیں ۔بظاہر انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ دوستی اور فرمانبرداری کا معاہدہ کر رکھا تھا ۔ابو عامر انہی کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔ لیکن ان یہودیوں نے اسے قریش کا دوست بنا رکھا تھا۔ اب مجاہدین قریش کے خلاف لڑنے کیلئے مدینہ سے نکلے تو ابو عامر قریش کے پاس چلا گیا ۔اس کے قبیلہ اوس کے بہت سے آدمی رسولِ کریمﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر چکے تھے اور وہ قریش کے مقابلے میں صف آراءتھے ۔ابو عامر آگے چلا گیا اور مجاہدین سے بلند آواز سے مخاطب ہوا ۔رسولِ کریمﷺ نے اسے فاسق کا خطاب دیا تھا۔ ”قبیلہ اوس کے غیرت مند بہادرو !“ابو عامر فاسق نے کہا۔” تم مجھے یقیناً پہچانتے ہو ۔میں کون ہوں ؟میری بات غور سے سن لو“
وہ اپنی للکار پوری نہ کر پایا تھا کہ مجاہدینِ اسلام کی صف سے قبیلہ اوس کے ایک مجاہد کی آواز گرجی ۔”او فاسق بدکار! ہم تیرے نام پر تھوک چکے ہیں ۔“خالد کو وہ وقت یاد آ رہا تھا۔ مجاہدینِ اسلام کی صف سے ابو عامر اور اس کے ساتھ گئے ہوئے غلاموں پر پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ پتھر برسانے والے قبیلہ اوس کے مجاہدین تھے۔ابو عامر اور غلام جو مجاہدین کے پتھروں کی زد میں تھے ایک ایک دو دو پتھر کھا کر پیچھے بھاگ آئے ۔
یہودی مدینہ میں بیٹھے لڑائی کی خبروں کا انتظار کر رہے تھے۔ جس یہودن کے طلسم میں ابو عامر گرفتار تھا وہ اپنی کامیابی کی خبر سننے کیلئے بے تاب تھی ۔اسے ابھی معلوم نہ تھا کہ اس کے حسن و جوانی کے طلسم کو مسلمانوں نے سنگسار کر دیا ہے۔ )اس سلسلے کی آنے والی اقساط میں یہودیوں اور قریش کی عورتوں کی زمین دوزکارروائیوں کی تفصیلی داستان سنائی جائے گی(
ابو عامر فاسق کے اس واقعہ سے پہلے وہ عورتیں جو قریش کے لشکر کے ساتھ گئی تھیں لشکر کے درمیان کھڑی ہو کر سریلی آوازوں میں ایسے گیت گا رہی تھیں جن میں بدر میں مارے جانے والے قریش کا ذکر ایسے الفاظ میں ایسی طرز میں کیا گیا تھا کہ سننے والوں کا خون کھولتا اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ۔ان عورتوں میں سے ایک دو نے جوشیلی تقریر کی صورت میں بھی قریش کے خون کو گرمایا تھا۔
عورتوں کو پیچھے چلے جانے کاحکم ملا تو ابو سفیان کی بیوی ہند نے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر ایک گیت گانا شروع کر دیا۔ اس کی آوا ز بلندتھی اور اس میں سوز بھی تھا ۔تاریخ لکھنے والوں نے اس گیت کے پورے اشعار قلم بند نہیں کیے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ یہ گیت فحش تھا جس میں مردوعورت کے درپردہ تعلقات کا ذکر تھا۔ اشعار جو تاریخ میں آئے ہیں وہ اس طرح ہیں ۔ان میں جس عبدالدار کا نام آتا ہے ،یہ بنو عبدالدار ہے۔ بنو امیہ اسی کی ایک شاخ تھی بنو عبدالدار قریش کا بہت اونچا خاندان تھا۔
عبدالدار کے سپوتو!۔۔۔ہمارے گھرانو کے پاسبانو!۔۔۔۔ہم رات کی بیٹیاں ہیں۔۔۔ہم تکیوں کے درمیان حرکت کا کرتے ہیں ۔۔۔اس حرکت میں لطف اور لذت ہوتی ہے ۔۔۔تم دشمن پر چڑھ دوڑے تو ہم تمہیں اپنے سینوں سے لگالیں گی۔۔۔تم بھاگ آئے تو ہم تمہارے قریب نہیں آئیں گی ۔۔۔اس کے بعد ابو عامر فاسق پر مجاہدینِ اسلام کی طرف سے سنگ باری ہوئی اور اس کے فوراً بعد قریش نے مجاہدین پر تیر پھینکنے شروع کر دیئے ۔مجاہدین نے اس کے جواب میں تیر برسائے ۔خالد اپنے پہلو والے مسلمانوں کے پہلو پر حملہ کرنے کیلئے اپنے ایک سو سواروں کے ساتھ تیزی سے بڑھا اسے معلوم نہ تھا کہ بلندی پر تیر انداز چھپے بیٹھے ہیں ۔اس کے سوار بے دھڑک چلے آ رہے تھے۔ راستہ ذرا تنگ تھا ۔سواروں کو آگے پیچھے ہونا پڑا۔
خالد سوچ سمجھ کر اپنے سوار دستے کو اس پہلو پر لایا تھا۔ اپنے باپ کی تربیت کے مطابق اسے بڑی خود اعتمادی سے توقع تھی کہ وہ ہلہ بول کر مسلمانوں کو اس پوزیشن میں لے آئے گا کہ وہ پسپا ہو جائیں گے اور اگر جم کر نہ لڑے تو قریش کے گھوڑوں تلے کچلے جائیں گے ۔مگر مسلمانوں کے پہلو سے اس کے سوار ابھی دور ہی تھے کہ اوپر سے تیر اندازوں نے اس کے اگلے سواروں کو نا آگے جانے کے قابل چھوڑا نہ وہ پیچھے ہٹنے کے قابل رہے ۔ایک ایک سوار کئی کئی تیر کھا کر گرا اور جن گھوڑوں کو تیر لگے انہوں نے خالد کے سوار دستے کیلئے قیامت بپا کردی۔ پیچھے والے سواروں نے گھوڑے موڑے اور پسپا ہو گئے۔
ادھر قریش کی عورتوں نے دف اور ڈھولک کی تھاپ پر وہی گیت گانا شروع کر دیا جو ہند نے اکیلے گایا تھا۔” عبدالدا ر کے سپوتو! ہم رات کی بیٹیاں ہیں ہم تم تکیوں کے درمیان “
مؤرخ واقدی لکھتا ہے کہ عربی جنگجوؤں کے اس وقت رواج کے مطابق ایک ایک جنگجو کے لڑنے کا مرحلہ آیا۔ سب سے پہلے قریش کے پرچم بردار طلحہ بن ابو طلحہ نے آگے جا کر مجاہدین ِ اسلام کو للکارا کہ اس کے مقابلے کیلئے کسی کو آگے بھیجو ۔”آ میرے دین کے دشمن !“حضرت علیؓ نے تند ہوا کے جھونکے کی طرح آگے آ کر کہا۔” میں آتا ہوں تیرے مقابلے کیلئے ۔“
طلحہ اپنے قبیلے کا پرچم تھامے تلوار لہراتے ہوئے بپھرا ہوا آیا مگر ا س کا وار ہوا کو چیرتا ہوا گزر گیا ۔وہ ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ حضرت علیؓ کی تلوار نے اسے ایسا گہرا زخم لگایا کہ پہلے اس کا پرچم گرا پھر وہ خود گرا ۔قریش کا ایک آدمی دوڑا آےا اور پرچم اٹھا کر پیچھے چلا گیا۔ علیؓ اسے بھی گرا سکتے تھے مگر انفرادی مقابلوں میں یہ روا نہ تھا۔ طلحہ کو اٹھا کر پیچھے لے آئے۔ اس کے خاندان کا ایک اور آدمی آگے بڑھا۔
میں انتقام لینے کا پابند ہوں ۔“وہ للکار کر آگے گیا۔” علی آ میری تلوار کی کاٹ دیکھ۔“ حضرت علیؓ خاموشی سے اس کے مقابلے پر آگئے ۔دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک چکر کاٹا۔ پھر ان کی تلواریں اور ڈھالیں ٹکرائیں اور اس کے بعد سب نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کی تلوار سے خون ٹپک رہا ہے اور ان کا مد مقابل زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔
پھر قریش کے متعدد آدمی باری باری للکارتے ہوئے آگے بڑھے۔ مجاہدین کے مقابلے میں مرتے گئے۔ قریش کا سالارِ اعلیٰ ابو سفیان اپنے آدمیوں کو گرتا دیکھ کر غصے سے بے قابو ہو گیا۔ جنگی دستور کے مطابق اسے انفرادی مقابلے کیلئے نہیں اترنا چاہیے تھا کیونکہ وہ سالار تھا۔ اس کے مارے جانے سے اس کی فوج میں ابتری پھیل سکتی تھی لیکن وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا وہ گھوڑے پر سوار تھا۔ اس نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور للکارتا ہوا آگے چلا گیا۔ اس کی بیوی ہند نے اسے جاتے دیکھا تو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آگے چلی گئی اور بڑی بلند آواز سے وہی گیت گانے لگی ۔جس کے اشعار یہ بھی تھے کہ تم بھاگے آئے تو ہم تمہیں اپنے قریب نہیں آنے دیں گی۔“ابو سفیان گھوڑے پر سوار تھا لیکن اس کے مقابلے کیلئے جو مسلمان آگے آیا وہ پیادہ تھا۔ تاریخ اسے ”حنظلہ بن ابو عامرؓ“ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ابو سفیان کے ہاتھ میں لمبی برچھی تھی۔ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ تلوار والا ،پیادہ برچھی والے گھڑسوار سے زندہ بچ جائے گا۔ ابو سفیان کا گھوڑا حنظلہؓ پر سر پٹ دوڑا آیا ۔ابو سفیان نے برچھی تول کر پھر تاک کر ماری لیکن حنظلہؓ پھرتی سے ایک طرف ہو گیا ۔اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ تیسری مرتبہ ابو سفیان کا گھوڑا نکل گیا تو حنظلہؓ اس کے پیچھے دوڑ پڑا ۔گھوڑا رک کر پیچھے کو مڑا تو حنظلہؓ اس تک پہنچ چکا تھا ۔ابو سفیان اسے دیکھ نہ سکا ۔حنظلہؓ نے گھوڑے کی اگلی ٹانگوں پر ایسا زور دار وار کیا کہ گھوڑا گر پڑا ۔ابو سفیان دوسری طرف گرا ۔حنظلہؓ اس پر حملہ کرنے کو آگے بڑھا تو ابو سفیان گرے ہوئے گھوڑے کے اردگرد دوڑ دوڑ کر اپنے آپ کو بچانے لگا اور اس کے ساتھ ہی اس نے قریش کو مدد کیلئے پکارا۔ قریش کا ایک پیادہ دوڑا آیا۔ مسلمان اس غلط فہمی میں رہے کہ یہ آدمی ابو سفیان کو اپنے ساتھ لے جائے گا لیکن اس نے بے اصولی کا مظاہرہ کیا۔ پیچھے سے حنظلہ ؓپر وار کر کے اسے شہید کر دیا ۔ابو سفیان اپنی صفوں میں بھاگ گیا۔
آخری مقابلے کیلئے قریش کی طرف سے عبدالرحمٰن بن ابو بکر آیا۔ مؤرخ واقدی نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہےکہ عبدالرحمٰن بن ابو بکر کی للکار پر اس کے والد حضرت ابو بکر صدیقؓ جو اسلام قبول کرکے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ تھے۔ تلوار نکال کر اپنے جوان بیٹے کے مقابلے کیلئے نکلے۔
”آ گے آ مسلمان باپ کے کافر فرزند !“حضرت ابو بکر صدیقؓ نے للکار کر کہا۔رسولِ کریمﷺ نے دیکھاکہ باپ بیٹا مقابلے پر اتر آئے ہیں تو آپﷺ نے دوڑ کر حضرت ابو بکر صدیقؓ کو روک لیا ۔”تلوار نیام میں ڈالو ابو بکر “۔رسولِ کریمﷺ نے فرمایااور ابو بکر صدیقؓ کو پیچھے لے گئے۔خالد کو جنگ کا شوروغل اب بھی سنائی دے رہاتھا۔ وہ منظر اس کی آنکھوں نے اپنی پلکوں میں محفوظ کر رکھا تھا ۔انفرادی مقابلے ختم ہوتے ہی قریش نے مسلمانوں پر ہلہ بول دیا۔ رسولِ اکرمﷺ نے احد کی پہاڑی کو اپنے عقب میں رکھا ہوا تھا۔ اس لیے مجاہدینِ اسلام کو عقبی حملے کا خطرہ نہیں تھا ۔آمنے سامنے کا معرکہ خونریز تھا۔ مسلمانوں کی نفری بہت تھوڑی تھی۔ اس کمی کو انہوں نے جذبہ تیغ زنی کے کمالات سے پورا کر دیا۔ اگرقریش کو نفری کی افراط حاصل نہ ہوتی تو وہ مسلمانوں کے آگے نہیں ٹھہر سکتے تھے ۔وہ نفری کے زور پر لڑ رہے تھے ۔خالد کی نظر رسولِ کریمﷺ پر تھی۔ آپﷺ ایک پہلو پر تھے ۔یہی پہلو تھا کہ جس پر خالد کو حملہ کرنا تھا۔اب کے اس نے اپنے سواروں کو یہ حکم دیا کہ وہ گھوڑوں کو سر پٹ دوڑاتے تنگ راستے سے آگے نکل جائیں اور مسلمانوں کے پہلو پر ہلہ بولیں مگر عبداﷲ بن جبیرؓ کے پچاس تیر اندازوں نے سواروں کو اس طرح پسپا کر دیا کہ وہ چند گھوڑے اور زخموں سے کراہتے ہوئے گھڑ سواروں کو پیچھے چھوڑ گئے۔معرکہ عروج پر تھا۔ صرف ایک آدمی تھا جو لڑ نہیں رہا تھا۔ وہ میدان ِ جنگ میں برچھی اٹھائے یوں گھوم پھر رہا تھا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔ وہ وحشی بن حرب تھا۔ وہ حمزہ ؓکو ڈھونڈ رہاتھا ۔حمزہ ؓکو قتل کرنے کے اس کیلئے دو انعام تھے۔ ایک یہ کہ اس کا آقا اسے آزاد کر دے گا اور دوسرا ابو سفیان کی بیوی ہند کے وہ زیورات جو اس نے پہن رکھے تھے ۔اسے حمزہؓ نظر آ گئے وہ قریش کے ایک آدمی سبا بن عبدالعزیٰ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ عرب میں رواج تھا کہ ختنہ عورتیں کیا کرتی تھیں ۔مؤرخ ابن ہشام کے مطابق ا سلام سے پہلے ہی عربوں میں ختنہ کا رواج موجود تھا۔ حمزہؓ نے جس سبا کو للکارا تھا اس کی ماں ختنہ کیاکرتی تھی ۔”ختنہ کرنے والی کے بیٹے “حمزہ ؓنے اسے للکارا۔”ا دھر آ اور مجھے آخری بار دیکھ لے۔“ سبا بن عبدالعزیٰ حمزہؓ کی طرف بڑھا ۔غصہ سے اس کا چہرہ لال تھا ۔وہ تلوار اور ڈھال کی لڑائی کا ماہر تھا ۔حمزہؓ بھی کچھ کم نہ تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے اور ایک دوسرے پر وار کرنے لگے۔دونوں کی ڈھالیں وار روک رہی تھیں ۔وہ پینترے بدل بدل کر وار کرتے تھے ۔لیکن ڈھالیں تلواروں کے رستے میں آجاتی تھیں۔
اس وقت وحشی بن حرب جھکا ہوا ہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسے زمین اور جھاڑیوں نے اوٹ دے رکھی تھی۔ حمزہ ؓاپنے دشمن کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ سبا کے سوا انہیں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔وحشی ان کے قریب پہنچ گیا۔ برچھی نشانے پر پھینکنے کا وہ ماہر تھا۔ وہ اتنا قریب ہو گیا جہاں سے اس کی برچھی خطا نہیں جا سکتی تھی ۔وہ اٹھ کھڑا ہوا اور برچھی کو ہاتھ میں تولا پھر اسے پھینکنے کی پوزیشن میں لایا۔ حمزہؓ نے سبا پر یکے بعددیگرے تزی سے دو تین وار کیے ۔آخری وار ایسا پڑا کہ حمزہ ؓکی تلوار سبا کے پیٹ میں اتر گئی۔ حمزہؓ نے تلوار اس کے پیٹ سے اس طرح نکالی کہ اس کا پیٹ اور زیادہ پھٹ گیااور وہ حمزہؓ کے قدموں میں گر پڑا۔ حمزہؓ ابھی سنبھلے ہی تھے کہ وحشی نے ان پر پوری طاقت سے برچھی پھینکی۔ فاصلہ بہت کم تھا ۔برچھی حمزہ ؓکے پیٹ میں اتنی زیادہ اتر گئی کہ اس کی انی حمزہؓ کی پیٹھ سے آگے نکل گئی ۔حمزہؓ گرے نہیں ۔انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا انہیں وحشی دِکھائی دیا۔ حمزہ ؓبرچھی اپنے جسم میں لیے ہوئے وحشی کی طرف بڑھے۔ وحشی جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑا رہا۔ حمزہؓ چار پانچ قدم چل کر گر پڑے۔ وحشی ان کے جسم کو ہلتا جلتا دیکھتا رہا ۔جب جسم کی حرکت بند ہو گئی تو وحشی ان تک آیا ۔وہ شہید ہو چکے تھے۔ وحشی نے ان کے جسم سے برچھی نکال لی اور چلا گیا ۔اب وہ ہند اور اپنے آقا جبیر بن مطعم کو ڈھونڈنے لگا۔خالد کو وہ معرکہ یاد آ رہا تھا اور اس کے دل پر بوجھ سا بڑھتا جا رہا تھا۔اس کا گھوڑا چلا جا رہا تھا۔ وہ نشیبی جگہ سے گزر رہا تھا اس لیے احد کی پہاڑی کی چوٹی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گی تھی ۔اسے اپنے قبیلے کی عورتیں یاد آئیں جو قریش اور ان کے اتحادی قبائل کو جوش دِلا رہی تھیں ۔خالد کویاد آیا کہ وہ معرکہ کا نظارہ کرنے کیلئے ایک بلند جگہ چڑھ گیا تھا۔ اسے مسلمان عورتیں نظر آئیں۔ مسلمان اپنے جن زخمیوں کو پیچھے لاتے تھے انہیں عورتیں سنبھال لیتی تھیں ان کی مرہم پٹی کرتیں اور انہیں پانی پلاتیں ۔مسلمانوں کے ساتھ چودہ عورتیں تھیں جن میں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں۔پھر یوں ہوا کہ قلیل تعداد مجاہدین ،کثیر تعداد کفار پر غالب آ گئے۔ قریش کا پرچم بردار گرا تو کسی اور نے پرچم اٹھا لیا ،وہ بھی گرا ۔پرچم کئی بار گرا۔ آخر میں ایک غلام نے پرچم اٹھا کر اونچا کیا لیکن وہ بھی مارا گےا۔ پھر مسلمانوں نے قریش کو پرچم اٹھانے کی مہلت نہ دی۔ قریش کے جذبے جواب دے گئے۔
خالد نے ان کی پسپائی دیکھی اور یہ بھی دیکھا تھا کہ مسلمان ان کا تعاقب کر رہے ہیں۔ قریش اپنے کیمپ میں بھی نہ ٹھہرے۔ اپنا مال و اسباب چھوڑ کر افراتفری کے عالم میں بھاگ گئے ۔یہاں سے جنگ کے بعد کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں نے فتح کی خوشی میں اور انتقامی جذبے کے تحت قریش کے کیمپ کو لوٹنا شروع کر دیا۔ وہ فتح و نصرت کے نعرے لگا رہے تھے۔ قریش ایسے بوکھلا کہ بھاگے کہ انہیں اپنی عورتوں کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ پیدل بھاگی جا رہی تھیں۔ لیکن مسلمانوں نے ان کی طرف آنکھ اٹھا کہ بھی نہ دیکھا ۔قریش کے گھڑ سواروں کے ایک دستے کا کمانڈر عکرمہ اور دوسرے کا خالد تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے پہلوؤں پر حملہ کرنا تھا مگر جنگ کا پانسا بری طرح پلٹ گیا تھا۔ عکرمہ اور خالد نے پھر بھی اپنے اپنے سواروں کو وہیں رکھا جہاں انہیں تیاری کی حالت میں کھڑا کیا گیا تھا۔ خالد کو اس کیفیت میں بھی توقع تھی کہ وہ شکست کو فتح میں بدل دے گا لیکن جس راستے سے اسے گزرنا تھا وہاں مسلمان تیر انداز تیار کھڑے تھے ۔ان مسلمان تیر اندازوں نے اپنی بلند پوزیشن سے دیکھا کہ قریش بھاگ گئے ہیں اور ان کے ساتھی مال غنیمت جمع کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑنے لگے ۔ان کے کمانڈر عبداﷲ بن جبیر ؓنے انہیں کہا کہ” اپنے رسول ﷺ کی حکم عدولی نہ کرو۔ آپﷺ کا حکم ہے کہ آپﷺ کی اجازت کے بغیر یہاں سے کوئی نہ ہٹے ۔“”جنگ ختم ہو گئی ہے ۔“تیر انداز شور مچاتے ہوئے پہاڑی سے اتر نے لگے ۔”مالِ غنیمت مالِ غنیمت فتح ہماری ہے۔“ عبداﷲ بن جبیر ؓکے ساتھ صرف نو تیر انداز رہ گئے تھے۔
خالد نے یہ منظر دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے خواب دیکھ رہا ہو۔ وہ یہی چاہتا تھا ۔وہ تیر اندازوں کو دیکھتا رہا۔ جب وہ قریش کے کیمپ میں پہنچ گئے تو اس نے اس پہاڑی )عینین(پر حملہ کر دیا جہاں پر عبداﷲ بن جبیرؓ اور ان کے نو تیر انداز رہ گئے تھے۔ خالد انہیں نظر انداز بھی کر سکتا تھا لیکن ان سے وہ انتقام لینا چاہتا تھا۔ اس کے گھڑ سوار پہاڑی پر چڑھتے جا رہے تھے۔ اوپر سے تیر انداز تیزی سے تیر برسا رہے تھے۔
عکرمہ نے خالد کو عینین پر حملہ کرتے دیکھا تو وہ بھی اپنے سوار دستے کو وہیں لے گیا اور ا سکے گھوڑے ہر طرف سے اوپر چڑھنے لگے ۔ ۔۔
سواروں کے پاس بھی تیر کمانیں تھیں۔ وہ اوپر کو تیر چلا رہے تھے۔ لیکن اتنے گھڑ سواروں کو روکنا اوپر والوں کیلئے ممکن نہ تھا۔ سوار اوپر چلے گئے ۔تیر انداز دست بہ دست لڑائی بھی لڑے اور سب زخمی ہو کر گرے۔ خالد نے زخمیوں کو پہاڑی سے نیچے پھینک دیا۔ عبداﷲ بن جبیر ؓبھی شہید ہو گئے ۔وہاں سے خالد اور عکرمہ نے اپنے گھڑ سواروں کو اتارا اور ا س مقام پر آگئے جہاں سے مسلمانوں نے لڑائی کی ابتداءکی تھی۔ خالد کے حکم پر دونوں نے مل کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ مسلمان لڑنے کی حالت میں نہیں تھے لیکن رسولِ کریمﷺ نے مجاہدین کی کچھ تعداد کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا ۔یہ مجاہدین گھڑ سواروں کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔
قریش کے ساتھ جو عورتیں آئی تھیں وہ بھاگ گئی تھیں لیکن عمرہ نام کی ایک عورت وہیں کہیں چھپ گئی تھی ۔اس نے جب قریش کے گھڑ سواروں کو مسلمانوں پر حملہ کرتے دیکھا تو اسے قریش کا پرچم زمین پر پڑا نظر آ گیا ۔اس عورت نے پرچم اٹھا کر اوپر کر دیا۔ ابو سفیان نے اپنے بھاگتے ہوئے پیادوں پر قابو پا لیا تھا۔ اس نے ادھر دیکھا تو اسے اپنا پرچم لہراتا ہوا نظر آ گیا۔ اس نے ہبل زندہ باد اور عزیٰ زندہ باد کے نعرے لگائے اور پیادوں کو واپس لاکر مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا۔ خالد کو وہ وقت یاد آ رہا تھا۔ وہ رسولِ کریمﷺ کو ڈھونڈ رہا تھا اور آج چار برس بعد وہ مدینہ جا رہا تھا۔ اس کے ذہن پر رسولِ کریمﷺ کا غلبہ تھا ۔
اُحد کی پہاڑی افق سے ابھرتی آ رہی تھی اور خالد کا گھوڑا خراماں خراماں چلا جا رہا تھا۔ خالد کی ذہنی کیفیت کچھ ایسی ہوتی جا رہی تھی جیسے اسے آگے جانے کی کوئی جلدی نہ ہو اور کبھی وہ لگام کو یوں جھٹکا دیتا جیسے اسے بہت جلدی پہنچنا ہو،لیکن جس منزل کو وہ جا رہا تھا وہ منزل ابھی اس پر پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی۔ کبھی اسے یوں لگتا جیسے ایک مقناطیسی قوت ہے جو اسے آگے ہی آگے کھینچ رہی ہے اور کبھی وہ محسوس کرتا جیسے اس کے اندر سے اٹھتی ہوئی ایک قوت اسے پیچھے دھکیل رہی ہے۔”خالد!“ اسے ایک آواز سنائی دی ۔جو اس کے اندر سے اٹھتی تھی لیکن اسے حقیقی سمجھ کر اس نے گھوڑے کی باگ کھینچی اور آگے پیچھے دیکھا وہاں ریت کے سوا کچھ بھی نہ تھا لیکن آواز آ رہی تھی ۔”خالد کیا یہ سچ ہے جو میں نے سنا ہے؟“خالد نے اس آواز کو پہچان لیا ۔یہ اس کے ساتھی عکرمہ کی آواز تھی۔
ایک ہی روز پہلے اسے عکرمہ کہہ رہا تھا ”اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ محمد)ﷺ( خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے تووہ خیال دل سے نکال دو ۔محمد)ﷺ( ہمارے بہت سے رشتے داروں کا قاتل ہے۔ اپنے قبیے کو دیکھ جو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے محمد )ﷺ(کو قتل کرنے کی قسم کھائے ہوئے ہے۔“ خالد نے لگام کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور گھوڑا چل پڑا ۔اس کا ذہن پھر چار برس پیچھے چلا گیا جب وہ احد کے معرکے میں رسولِ کریمﷺ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔وہ قریش کی اس قسم کو پورا کرنے کا عزم لیے ہوئے تھا کہ رسول اﷲﷺ کو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے قتل کرنا ہے۔ اسے یاد آرہا تھا کہ مسلمانوں کے تیر اندازوں نے جب عینین کی پہاڑی چھوڑ دی تھی تو اس نے ا س پہاڑی پر حملہ کرکے عبداﷲ بن جبیرؓ اور ان کے نو تیر اندازوں کو جو رسول اﷲﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے وہاں رہ گئے تھے ختم کیا تھا۔ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھاگے ہوئے قریش پھر واپس آ گئے تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو منظم کر لیا تھا۔مسلمان یہ معرکہ ہار چکے تھے اور یہ اپنے رسول اﷲﷺکی حکم عدولی کا نتیجہ تھا۔ خالد اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ فنِ حرب و ضرب کے ماہر تھے۔ ان کیلئے ایک ایک مسلمان کو قتل کرنا اب مشکل نہیں رہا تھا ۔ خالد دیکھ رہا تھا کہ مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے تھے بڑا حصہ الگ تھا جو اپنے کمانڈر رسولِ کریمﷺ سے کٹ گیا تھا۔ چند ایک تیر انداز رسول اﷲﷺ کے ساتھ تھے۔یہ وہ صحابہ کرامؓ تھے جو قریش کے حملے کی وجہ سے افرا تفری کا شِکار نہیں ہوئے تھے۔ ان کی تعداد تیس تھی ۔ان میں ابو دجانہؓ ،سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت ابو بکرصدیقؓ،حضرت ابو عبیدہؓ ، طلحہ بن عبداﷲؓ ،مصعب بن عمیرؓ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان چودہ خواتین میں سے جو زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے ساتھ آئی تھیں ۔دو رسول اﷲﷺ کے ساتھ تھیں ۔ایک اُمّ ِعمارہؓ تھیں اور دوسری اُمّ ِایمنؓ نام کی ایک حبشی خاتون تھیں۔ اُمّ ِایمن آپﷺکے بچپن میں آپ ﷺکی دایہ رہ چکی تھیں۔ باقی بارہ خواتین ابھی تک زخمیوں کو اٹھانے اور پیچھے لانے اور ان کی مرہم پٹی کرنے میں مصروف تھیں ۔خالد رسول ِ کریمﷺ کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن وہ میدانِ جنگ میں زیادہ گھوم پھر نہیں سکتا تھاکیونکہ اس کی کمان میں گھڑ سواروں کا ایک جیش تھا جسے اس نے پوری طرح اپنی نظم و نسق میں رکھا ہوا تھا ۔وہ اندھا دھند حملے کا قائل نہ تھا۔ اس کا اصول تھا کہ دشمن کی ایسی رگ پر ضرب لگاؤ کہ دوسری ضرب سے پہلے وہ گھٹنے ٹیک دے۔
آج چار برس بعد جب کہ وہ تن تنہا صحرا میں جا رہا تھا ۔اس کے ذہن میں گھوڑے دوڑ رہے تھے ۔اسے تیر کمانوں کے زنّاٹے سنائی دے رہے تھے ۔اس کے ذہن میں مسلمانوں کے نعرے گونج رہے تھے ۔اس کا خیال تھا کہ مسلمان یہ ظاہر کرنے کیلئے نعرے لگا رہے ہیں کہ انہیں موت کا کوئی ڈر نہیں ۔طنز اور نفرت سے اب بھی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرے گا ۔قیدی کم ہی بنائے گا ۔اسے ابھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ رسولِ کریمﷺ کہاں ہیں ۔اس نے دیکھا کہ ابو سفیان جو بھاگتے ہوئے قریش کو ساتھ لے کر واپس آ گیا تھا۔ مسلمانوں کی فوج کے بڑے حصے پر حملہ آور ہو چکا تھا اور مسلمان بے جگری سے لڑ رہے تھے۔ مسلمانوں نے اسے اپنی زندگی کا آخری معرکہ سمجھ کر شجاعت و بے خوفی کے ایسے ایسے مظاہرے کیے کہ کثیر تعداد قریش پریشان ہو گئی۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر خالد آگ بگولہ ہو گیا ۔اس نے اپنے سواروں کو مسلمانوں پر ہلہ بولنے کا حکم دیا۔ اس نے تلوار نیام میں ڈال لی اور برچھی ہاتھ میں لے لی ۔اس نے مسلمانوں پر عقب سے حملہ کیا ۔اس نے برچھی سے مسلمانوں کو چن چن کر مارا ۔اس کی برچھی جب کسی مسلمان کے جسم میں داخل ہوتی تو وہ چلا کر کہتا ۔”میں ہوں ابو سلیمان !“ہر برچھی کے وار کے ساتھ اس کی للکار سنائی دیتی تھی کہ” میں ہوں ابو سلیمان!“آج چار برس بعد جب وہ مسلمانوں کے مرکز مدینہ کی جانب جا رہا تھا تو اسے اپنی ہی للکار سنائی دے رہی تھی”میں ہوں ابو سلیمان !“ اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ اس کی برچھی کتنے مسلمانوں کے جسموں میں اتری تھی ۔وہ رسول اﷲﷺ کو بھول گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے پتا چلا تھا کہ مسلمان اپنے نبیﷺ کی کمان سے نکل چکے ہیں اور عکرمہ مسلمانوں کے نبیﷺ کی طرف چلا گیا ہے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ رسول اﷲﷺ کی کمان ختم ہو چکی تھی اور معرکے کی صورت حال ایسی ہو گئی تھی کہ آپﷺ مسلمانوں کو از سرِ نو منظم نہیں کر سکتے تھے لیکن آپ ﷺ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان بچانے کیلئے میدانِ جنگ سے نکلنا بھی نہ چاہتے تھے۔ حالانکہ صورتِ حال ایسی تھی کہ پسپائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا لیکن آپﷺ کسی بہتر پوزیشن میں جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ آپ ﷺکو معلوم تھا کہ قریش آپﷺ کو ڈھونڈ رہے ہوں گے اور آپﷺ کے گروہ پر بڑا شدید حملہ ہو گا۔
آپﷺ ایک پہاڑی کی طرف بڑھنے لگے ۔آپﷺ کے ساتھیوں نے آپﷺکو اپنے حلقے میں لے رکھا تھا۔ آپﷺ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ عکرمہ نے اپنے گھڑ سواروں سے آپﷺ پر حملہ کر دیا۔ قرiش کے ایک پیادہ جیش کو کسی طرح پتا چل گیا کہ رسولِ کریمﷺ پر عکرمہ نے حملہ کر دیا ہے تو قریش کا یہ پیادہ جیش بھی آپﷺ کے گروہ پر ٹوٹ پڑا۔ آپﷺ کے اور آپﷺ کے کسی ایک بھی ساتھی کے بچ نکلنے کا سوال ہی ختم ہو گیا تھا۔ آپﷺ کے تیس ساتھیوں نے اور ان دو خواتین نے جو آپﷺ کے ساتھ تھیں ۔آپﷺ کے گرد گوشت پوست کی دیوار کھڑی کر دی۔ خالد کو یاد آ رہا تھا کہ رسول اﷲﷺ جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی مشہور تھے ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ آپﷺ نے عرب کے مانے ہوئے پہلوان رکانہ کو تین بار اٹھا اٹھا کہ پٹخا تھا ۔اب میدانِ جنگ میں ان کی طاقت کے ایک اور مظاہرے کا وقت آ گیا تھا ۔گوشت پوست کی وہ دیوار جو آپﷺ کے فدائین نے آپﷺ کے ارد گرد کھڑی کر دی تھی اسے آپﷺ نے خود توڑا۔آپﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی ۔ترکش میں تیر بھی تھے۔ اس وقت خالد مسلمانوں کے بڑے حصے میں الجھا ہوا تھا۔ اسے جب بعد میں بتایا گیا تھا کہ جب رسول اﷲﷺ اور ان کے تیس ساتھی اور دو عورتیں قریش کے گھڑ سواروں اور پیادوں کے مقابلے میں جم گئے تھے تو خالد نے بڑی مشکل سے یقین کیا تھا ۔اس نے ایک بار پھر کہا تھا کہ یہ طاقت جسمانی نہیں ہو سکتی، یہ کوئی اور ہی طاقت ہے ۔اس وقت سے ایک سوال اسے پریشان کر رہا تھا کہ کیا عقیدہ طاقت بن سکتا ہے ؟وہ اپنے قبیلے میں کسی سے اس سوال کا جواب نہیں لے سکتا تھا کیونکہ فوراً یہ الزام عائد ہو سکتا تھا کہ اس پر بھی محمد )ﷺ( کا جادو اثر کر گیا ہے ۔آج وہ یہی سوال اپنے ذہن میں لیے مدینہ کی طرف جا رہا تھا احد کی پہاڑی افق سے اوپر اٹھ آئی تھی ۔چار برس پرانی یادیں اسے پھر اس پہاڑی کے دامن میں لے گئیں جہاں اسے اپنا ہی نام سنائی دے رہا تھا ۔”ابو سلیمان ابو سلیمان “وہ اپنے تصور میں دیکھنے لگا کہ ان تیس آدمیوں اور دو عورتوں نے اتنے سارے گھڑ سواروں اور پیادوں کا مقابلہ کس طرح کیا ہو گا۔ رسولِ کریمﷺ اپنے دستِ مبارک سے تیر برسا رہے تھے۔ آپﷺ کے ساتھی بڑھ چڑھ کر آپﷺ کو اپنے حلقے میں لے لیتے ۔ایک مؤرخ مغازی کی تحریر کے مطابق آپﷺ اپنے گرد حلقے کو بار بار توڑتے اور جدھرسے دشمن ان کی طرف بڑھتا اس پرتیر چلاتے۔آپﷺ کی جسمانی طاقت عام انسان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ۔
آپﷺ کمان کو اس قدر زور سے کھینچتے تھے کہ آپﷺ کا چھوآڑا ہوا تیر جس جسم میں لگتا تھا تیر کی نوک اس جسم کے دوسری طرف نکل جاتی تھی۔ آپﷺ نے اس قدر تیر چلائے تھے ایک تیر چلانے کیلئے آپﷺ نے کمان کو کھینچا تو کمان ٹوٹ گئی ۔آپﷺ نے اپنے ترکش میں بچے ہوئے تیر سعد بن ابی وقاصؓ کو دے دیئے ۔سعد بن ابی وقاصؓ کے نشانے کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ خود آپﷺ بھی سعد ؓکے نشانے کو تسلیم کرتے تھے۔ ادھر مسلمان ابو سفیان اور خالد کے ہاتھوں کٹ رہے تھے اور خون کا آخری قطرہ بہہ جانے تک مقابلہ کر رہے تھے ۔ادھر آپ ﷺکے تیس فدائین اور دو خواتین کی بے جگری کا یہ عالم تھا جیسے ان کے جسم نہیں ان کی روحیں لڑ رہی ہوں۔ مشہور مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ کہ ایک ایک مسلمان نے بیک وقت چار چار پانچ پانچ قریش کا مقابلہ کیا ۔ان کا انداز ایسا دہشت ناک تھا کہ قریش پیچھے ہٹ جاتے تھے یا ان پر حملہ کرنے والا اکیلا مسلمان زخموں سے چور ہو کر گر پڑتا تھا۔ قریش نے جب رسول ِاکرمﷺ کے فدائین کی شجاعت کا یہ عالم دیکھا تو کچھ پیچھے ہٹ کر ان پر تیروں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی برسانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی قریش کے چند ایک گھڑ سوار سر پٹ گھوڑے دوڑاتے آپﷺ پر حملہ آور ہوئے لیکن آپ ﷺکے ساتھیوں کے تیر ان کے جسموں میں اتر کر انہیں واپس چلے جانے پر مجبور کردیتے تھے ۔اس صورتِ حال سے بچنے کیلئے قریش نے چاروں طرف سے تیروں اور پتھروں کا میِنہ برسا دیا۔ خالد کو عکرمہ نے بتایاتھا کہ:” ابو دجانہ‘ محمد)ﷺ (کے آگے جا کھڑے ہوئے ۔ان کی پیٹھ دشمن کی طرف تھی۔ ابو دجانہ بیک وقت دو کام کر رہے تھے ایک یہ کہ وہ اپنے تیر سعد بن ابی وقاص کو دیتے جا رہے تھے اور سعد بڑی تیزی سے تیر برسا رہے تھے۔ اسکے ساتھ ہی ابو دجانہ محمد)ﷺ( کو تیروں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تیروں اور پتھروں کی بارش میں کوئی نہ دیکھ سکا کہ ابو دجانہ کس حال میں ہیں۔ جب ابو دجانہ گر پڑے تواس وقت دیکھاکہ ان کی پیٹھ میں اتنے تیر اتر گئے تھے کہ ان کی پیٹھ خار پشت کی پیٹھ لگتی تھی۔ “رسولِ اکرمﷺ کو بچانے کیلئے آپﷺ کے کئی ساتھیوں نے جان دے دی۔لیکن عکرمہ اور اسکے گھڑ سواروں اور پیادوں پر اتنی دہشت طاری ہو چکی تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گئے۔ قریش تھک بھی گئے تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے اپنے ساتھیوں کاجائزہ لیا ۔ہر طرف خون ہی خون تھا لیکن زخمیوں کو اٹھانے اور مرہم پٹی کرنے کا موقع نہ تھا۔ دشمن ایک اور ہلّہ بولنے کیلئے پیچھے ہٹا تھا ۔
”مجھے قریش کے ایک اور آدمی کا انتظار ہے۔“ رسولِ اکرمﷺنے اپنے ساتھیوں سے کہا۔” کون ہے وہ یا رسول اﷲﷺ!“ آپ ﷺکے ایک صحابیؓ نے پوچھا ۔”کیا وہ ہماری مدد کو آ رہا ہے؟“ ”نہیں! “آپﷺ نے فرمایا۔” وہ مجھے قتل کرنے آئے گا، اسے اب تک آ جانا چاہیے تھا۔“صحابی ؓ نے پوچھا” لیکن وہ ہے کون؟“”اُبی بن خلف !“آپﷺ نے فرمایا۔ابی بن خلف ‘رسولِ اکرمﷺ کے کٹر مخالفین میں سے تھا۔ وہ مدینہ کا رہنے والا تھا ۔اسے جب پتا چلا کہ رسول اﷲﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو ایک روز وہ آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپﷺ کا مذاق اڑایا۔ آپﷺ نے تحمل اور بردباری سے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ ”کیا تم مجھے اتناکمزور سمجھتے ہو کہ میں تمہارے اس بے بنیاد عقیدے کو قبول کرلوں گا۔“ ابی بن خلف نے گستاخانہ لہجے میں کہا تھا۔ ”میری بات غور سے سن لے محمد‘ کسی روز میرا گھوڑا دیکھ لینا اسے میں اس وقت کیلئے موٹاتازہ کر رہا ہوں جب تم قریش کو پھر کبھی جنگ کیلئے للکارو گے ۔اب بدر کے خواب دیکھنے چھوڑ دو۔میں اسی گھوڑے پر سوار ہوں گا اور تم مجھے میدانِ جنگ میں اپنے سامنے دیکھو گے اور میں اپنے دیوتاؤں کی قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ تمہیں اپنے ہاتھوں قتل کروں گا۔“ ”ابی!“رسولِ خداﷺ نے مسکرا کہ کہاتھا۔” زندگی اور موت اس اﷲ کے اختیار میں ہے جس نے مجھے نبوت عطا فرمائی ہے اور مجھے گمراہ لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کا فرض سونپا ہے‘ ایسی بات منہ سے نہ نکالو جسے میرے اﷲ کے سوا کوئی بھی پورا نہ کر سکے۔یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے آؤ اور تم میرے ہاتھوں قتل ہو جاؤ۔“ ابی بن خلف رسول اﷲﷺ کی اس بات پر طنزیہ ہنسی ہنس پڑا اور ہنستا ہوا چلا گیا۔ اب احد کے معرکے میں رسولِ خداﷺ کو ابی بن خلف یاد آ گیا۔ جوں ہی آپﷺ نے اس کا نام لیا تو دور سے ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا آیا۔ سب نے ادھر دیکھا۔ ”میرے عزیز ساتھیو !“رسولِ اکرمﷺ نے اپنے ساتھیوں سے کہا ۔”مجھے کچھ ایسے لگ رہا ہے جیسے یہ سوار جو ہماری طرف بڑھتا آ رہا ہے ابی ہی ہو گا۔ اگروہ ابی ہی ہوا تو اسے روکنا نہیں ،اسے میرے سامنے اور میرے قریب آنے دےنا۔“ مؤرخین واقدی،مغازی اور ابن ہشام نے لکھا ہے کہ وہ سوار ابی بن خلف ہی تھا ۔اس نے للکار کر کہاکہ:” سنبھل جا محمد !ابی آ گیا ہے۔یہ دیکھ میں اسی گھوڑے پر سوار ہوں جو تمہیں دکھایا تھا۔“ ”یا رسول اﷲﷺ !“رسول اﷲﷺ کے ساتھیوں میں سے تین چار نے آگے ہو کرکہا۔” ہمیں اجازت دیں کہ اسے آپﷺ کے قریب آنے تک ختم کردیں ۔“ ”نہیں ۔“رسولِ اکرمﷺ نے کہا ۔”اسے آنے دو‘ میرے قریب آنے دو‘ اسے راستہ دے دو۔
رسولِ کریمﷺ کے سر پر زنجیروں والی خود تھی۔ اس کی زنجیریں آپﷺ کے چہرے کے آگے اور دائیں بائیں لٹک رہی تھیں۔ آپﷺ کے ہاتھ میں برچھی تھی اور تلوار نیام میں تھی ۔ابی کا گھوڑا قریب آ گیا تھا۔ ”آگے آ جا ابی!“رسولِ خداﷺ نے للکارکہ کہا۔”میرے سوا تیرے ساتھ کوئی نہیں لڑے گا۔“ابی بن خلف نے اپنا گھوڑا قریب لا کہ روکا اور طنزیہ قہقہہ لگایا اسے شاید پورا یقین تھا کہ وہ آپﷺ کو قتل کر دے گا۔ اس کی تلوار ابھی نیام میں تھی۔ آپﷺ اس کے قریب چلے گئے ‘وہ بڑے طاقت ور گھوڑے پر تھا اور آپﷺ زمین پر ۔اس نے ابھی تلوار نکالی ہی تھی کہ آپﷺ نے آگے بڑھ کر اور اچھل کر اس پر برچھی کا وار کیا ،وہ وار بچانے کیلئے ایک طرف کو جھک گیا لیکن وار خالی نہ گیا ۔آپﷺ کی برچھی کی انّی اس کے دائیں کندھے پر ہنسلی کی ہڈی سے نیچے لگی ۔وہ گھوڑے سے گر پڑا اور اس کی پسلی ٹوٹ گئی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ رسولِ خداﷺ کاوار اتنا کاری نہ تھا کہ ابی جیسا قوی ہیکل آدمی اٹھ نہ سکتا ۔رسولِ خداﷺ اس پر دوسرا وار کرنے کو دوڑے ۔ وہ گھوڑے کے دوسری طرف گرا تھا اس پر شاید دہشت طاری ہو گئی تھی یا آپﷺ کا وار اس کیلئے غیر متوقع تھا‘وہ اٹھا اور اپنا گھوڑا وہیں چھوڑ کر بھاگ گیا‘ وہ چلّاتا جا رہا تھا” محمد نے مجھے قتل کر دیا ہے ۔اے اہلِ قریش !محمد نے مجھے قتل کر ڈالا۔“قریش کے کچھ آدمیوں نے اس کے زخم دیکھے تو اسے تسلی دی کہ اسے کسی نے قتل نہیں کیا۔ زخم بالکل معمولی ہیں۔ لیکن اس پر نہ جانے کیسی کیفیت طاری ہو گئی تھی کہ اسکی زبان سے یہی الفاظ نکلتے تھے ۔”میں زندہ نہیں رہوں گا ‘محمد نے کہا تھا کہ میں اس کے ہاتھوں قتل ہو جاؤں گا۔“مؤرخ ابنِ ہشام نے یہاں تک لکھا ہے کہ ابی نے یہ الفاظ بھی کہے تھے :”اگرمحمد مجھ پر صرف تھوک دیتا تو بھی میں زندہ نہ رہ سکتا تھا۔“جب احد کا معرکہ ختم ہو گیا تو ابی قریش کے ساتھ مکہ روانہ ہو گیا۔ راستے میں انہوں نے پڑاؤ کیا تو ابی مر گیا۔خالد کو آج چار برس بعد وہ وقت کل کی بات کی طرح یاد آرہا تھا ۔اسے یقین تھا کہ مسلمانوں کو اہلِ قریش کچل کر رکھ دیں گے۔ لیکن مسلمان جس طرح جانیں قربان کر رہے تھے اس نے خالد کو پریشان کر دیا۔یوں لگتا تھا جیسے مسلمان پیادوں سے قریش کے گھوڑے بھی خوف زدہ ہیں۔ خالد نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور اس خونریز معرکے میں ابو سفیان کو تلاش کرتا اس تک پہنچا ۔”کیا ہم مسلمانوں کو فیصلہ کن شکست دینے کے قابل نہیں رہے ؟“خالد نے ابو سفیان سے کہا ۔”کیا قریش کی ماؤں کے دودھ ناقص تھے کہ یہ ان مٹھی بھر مسلمانوں سے خوف ذد ہ ہوئے جا رہے ہیں ؟“
”دیکھو خالد!“ ابی سفیان نے کہا ۔”جب تک محمد ان کے ساتھ ساتھ ہے اور وہ زندہ سلامت ہے یہ خون کاآخری قطرہ بہہ جانے تک شکست نہیں کھائیں گے۔“ ”تو یہ فرض مجھے کیوں نہیں سونپ دیتے؟“خالد نے کہا۔ ”نہیں!“ ابو سفیان نے کہا۔” تم اپنے سواروں کے پاس جاؤ‘ تمہاری قیادت کے بغیروہ بکھر جائیں گے ۔محمد اور اسکے ساتھیوں پر حملہ کرنے کیلئے میں پیادے بھیج رہا ہوں۔“ آج مدینہ کی طرف جاتے ہوئے خالد کو افسوس ہو رہا تھا کہ ابو سفیان نے اس کے ایک عزم کوکچل ڈالا تھا ۔رسولِ خداﷺ کے قتل کو وہ اپنا فرض سمجھتا تھا ۔وہ رسولِ خداﷺ کو قتل کرکے اپنے سب سے بڑے دیوتاؤں ہبل اور عزیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس نے اپنے سالار کا حکم ماننا ضروری سمجھا اور اپنے سوار دستے کی طرف چلا گیا ۔اسے اطمینان ضرور تھا کہ رسولِ اکرمﷺ کے ساتھ اب چند ایک ساتھی ہی رہ گئے ہوں گے اور آپﷺ کو قتل کرنا اب کوئی مشکل نہیں ہوگااور اس کے بعد مسلمان اٹھنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔خالد کو میدانِ جنگ کی کیفیت بڑی اچھی طرح یاد تھی۔ اس نے ذرابلندی سے دیکھا تھا کہ احد کے دامن میں دور دور تک زمین خون سے لال ہو گئی تھی۔ کہیں گھوڑے تڑپ رہے تھے اور کہیں خون میں نہائے ہوئے انسان کراہ رہے تھے۔ زخمیوں کو اٹھانے کا ابھی کسی کو ہوش نہ تھا۔ پھر اس نے دیکھا ۔پیادہ قریش رسولِ کریمﷺ کے پاس پہنچ گئے تھے اور انہوں نے آپﷺ کے ساتھیوں کا حلقہ بھی توڑ لیا تھا۔ قریش کے تین آدمی عتبہ بن ابی وقاص، عبداﷲ بن شہاب اور ابنِ قمہ رسولِ کریمﷺ پر پتھر برسانے لگے۔ عجیب صورت یہ تھی کہ عتبہ کا سگا بھائی سعد بن ابی وقاصؓ رسولِ اکرمﷺ کی حفاظت میں لڑ رہا تھا ۔رسولِ اکرم ﷺکے ساتھیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی یا وہ لڑتے لڑتے بکھر گئے تھے۔ عتبہ نے آپﷺ پر جو پتھر برسائے ان سے آپ ﷺ کے نیچے والے دو دانت ٹوٹ گئے اور نچلا ہونٹ زخمی ہوگیا۔ عبداﷲ کے پتھر سے آپﷺ کی پیشانی پر خاصا گہرا زخم آیا ۔ابنِ قمہ نے آپﷺ کے قریب آ کر اتنی زور سے پتھر مارا کہ آپ ﷺکے خود کی زنجیر کی دو کڑیاں ٹوٹ کر رخسار میں اتر گئیں ان سے رخسار کی ہڈی بھی بری طرح مجروح ہوئی ۔آپﷺ نے برچھی سے دشمنوں پر وار کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن دشمن قریب نہیں آتے تھے ۔آپﷺ کاخون اتنا نکل گیا تھا کہ آپﷺ گر پڑے ۔اس وقت آپﷺ کے ایک صحابیؓ طلحہ ؓنے جو قریش کے دوسرے آدمیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے دیکھ لیا اور دوڑتے ہوئے آپﷺ تک پہنچے۔ ان کی للکار پر ان کے دوسرے ساتھی بھی آ گئے ۔
آپﷺ کو پتھروں سے گرانے والے قرش آپﷺ پر تلواروں سے حملہ کرنے ہی والے تھے کہ سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سگے بھائی عتبہ پر حملہ کر دیا ۔عتبہ اپنے بھائی کا غیض و غضب دیکھ کر بھاگ نکلا۔
طلحہؓ نے رسولِ خداﷺ کو سہارا دے کر اٹھایا ۔آپﷺ پوری طرح سے ہوش میں تھے اس دوران آپﷺ کے ساتھیوں نے ان آدمیوں کو بھگا دیا تھا جنہوں نے رسولِ کریمﷺ پر حملہ کیاتھا۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ:” سعدؓ بن ابی وقاص پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا ،سعد کہتے تھے ”میں اپنے بھائی کو قتل کر کے اس کے جسم کے ٹکڑے کردینا چاہتا ہوں جس نے میری موجودگی میں میرے نبیﷺ پر حملہ کیا ہے۔“وہ اکیلے ہی قریش کی طرف دوڑنے کی کوشش کرتے تھے انہیں بڑی مشکل سے روکا گیا اگر رسولِ خداﷺ انہیں رکنے کا حکم نہ دیتے تو و ہ کبھی نہ رکتے۔“ قریش غالباً بہت ہی تھک گئے تھے ۔وہ معرکے سے منہ موڑ گئے ،تب رسولِ اکرمﷺ کے ساتھیوں نے آپﷺ کے زخموں کی طرف توجہ دی۔جو خواتین آپﷺ کے ساتھ تھیں انہوں نے آپﷺ کو پانی پلایا ‘کپڑوں سے زخم صاف کیے‘ اس وقت یہ دیکھا گیا کہ خود کی زنجیروں کی ٹوٹی ہوئی کڑیاں آپﷺ کے رخسار کی ہڈی میں اتری ہوئی ہیں ۔ایک صحابی ابو عبیدہؓ جو عرب کے ایک مشہور جرّاح کے فرزند تھے آگے بڑھے اور آپﷺ کے رخساروں سے کڑیا ں نکالنے لگے لیکن ہاتھوں سے کڑیاں نہ نکلیں۔ آخر ابو عبیدہؓ نے دانتوں کی مدد سے ایک کڑی نکال لی ۔جب دوسری کڑی نکالی تو کڑی تو نکل آئی لیکن ابی عبیدہؓ ؓکے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد لوگوں نے ابو عبیدہ کو الاثرم “کہنا شروع کر دیا ۔اس کا مطلب ہے وہ آدمی جس کے سامنے والے دانت نہ ہوں۔پھر وہ اسی نام سے مشہور ہوگئے ۔)یہ بھی رسولِ کریمﷺ کا معجزہ ہے کہ اس کے بعد ابو عبیدہؓ ایسے خوبصورت دِکھتے تھے کہ اُن کے چہرے سے نگاہ نہیں ہٹتی تھی(۔اُمّ ِایمنؓ جو رسول ِ اکرمﷺ کے بچپن میں آپﷺ کی دایہ رہ چکی تھیں ‘آپﷺ پر جھکی ہوئی تھیں ۔اس وقت تک آپﷺ کی طبیعت سنبھل چکی تھی۔ اچانک ایک تیر امِ ایمن ؓکی پیٹھ میں اتر گیا اور اس کے ساتھ ہی دور سے ایک قہقہہ سنائی دیا۔ سب نے ادھر دیکھا تو قریش کاایک آدمی حبان بن العرقہ دور کھڑا ہنس رہا تھااس کے ہاتھ میں کمان تھی۔ یہ تیر اسی نے چلایا تھا۔ وہ ہنستا ہوا پیچھے کو مڑا ‘رسولِ خداﷺ نے ایک تیر سعد ؓبن ابی وقاص کو دے کر کہا کہ:” یہ شخص یہاں سے تیر لے کرہی واپس جائے ۔
سعدؓ نے جو تمام قبائل میں تیر اندازی میں خصوصی شہرت رکھتے تھے ‘کمان میں تیر ڈال کر حبان پر چلایا ‘تیر حبان کی گردن میں اتر گیا۔ سعدؓ کے تمام ساتھیوں نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا اور حبان نے ڈگمگاتے ہوئے چند قدم اٹھائے اوروہ گر پڑا۔ آج خالد جب مدینہ کی طرف بڑھتا جا رہا تھا اور احد کی پہاڑی افق سے اوپر ہی اوپر اٹھتی آ رہی تھی۔ اسے اپنے کچھ ساتھی یاد آنے لگے۔ عقیدوں کے اختلاف نے بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا تھا لیکن خالد کو یہ خیال بھی آیا کہ بعض لوگ اپنے عقیدے کو اس لیے سچا سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے پیروکار ہوتے ہیں ۔حق اور باطل کے فرق کو سمجھنے کیلئے بڑی مضبوط شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک سوال اسے پھر پریشان کرنے لگا :”میں مدینہ کیوں جا رہا ہوں ؟اپنا عقیدہ مدینہ والوں پر ٹھونسنے کیلئے یا ان کا عقیدہ اپنے اوپر مسلط کرنے کیلئے ؟“اسے ابو سفیان کی آواز سنائی دی جو ایک ہی روز پرانی تھی۔” کیا یہ سچ ہے کہ تم مدینہ جا رہے ہو؟ کیا تمہاری رگوں میں ولید کا خون سفید ہیو گیا ہے ؟“صحرا میں جاتے ہوئے ان آوازوں نے کچھ دور تک اس کاتعاقب کیا پھر وہ اپنے ان دوستوں کی یاد میں کھو گیا جن کے خلاف وہ لڑا اور جن کا خون اس کے سامنے بہہ گیا تھا ۔ان میں ایک ”مصعب ؓبن عمیر“ بھی تھے ۔قریش جو معرکے سے منہ موڑ گئے تھے کچھ دور ہی پہنچے تھے کہ خالد نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ابو سفیان کو جا پکڑا۔ اس نے ابو سفیان سے پوچھا کہ:” تم لوگ جنگ کو ادھورا چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟ مسلمانوں کا دم خم ختم ہو چکا ہے؟“ ابو سفیان بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ معرکہ فیصلہ کن نتیجے پر پہنچے۔ قریش کے چند سوار وہیں سے پلٹ آئے ۔خالد دیکھ چکا تھا کہ رسولِ کریمﷺکہاں ہیں ۔یہاں پھر ابو سفیان نے خالد کو کسی اور طرف بھیج دیا اور کچھ آدمیوں کونبی کریمﷺ پر حملے کا حکم دیا۔ اب رسول کریمﷺ کے ساتھ کچھ اور مسلمان آن ملے تھے۔ اب پھر ابن قمہ لڑتے ہوئے مسلمانوں کا حلقہ توڑ کر رسولِ اکرمﷺ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس وقت رسولِ اکرمﷺ کے پاس مصعب ؓبن عمیرکھڑے تھے اور اُمّ ِعمارہؓ اپنے قریب پڑے ہوئے دو تین زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں۔ انہوں نے جب قریش کو ایک بار پھر حملے کیلئے آتے دیکھا تو زخمیوں سے ہٹ کر انہوں نے ایک زخمی کی تلوار اٹھا لی اور قریش کے مقابلے کیلئے ڈٹ گئیں۔ قریش کا سب سے پہلا سوار جو ان کے قریب آیا ۔اس تک وہ نہیں پہنچ سکتی تھیں اس لیے انہوں نے تلوار سے اس کے گھوڑے پر ایسا وار کیا کہ گھوڑا گر پڑا۔ سوار گھوڑے کے دوسری طرف گرا ۔ام عمارہؓ نے گھوڑے کے اوپر سے کود کر قریش کے اس آدمی پر وار کیا اور اسے زخمی کر دیا۔وہ اٹھا اور بھاگ کھڑا ہوا ۔
مصعب ؓبن عمیر کا قد بت اور شکل و صورت بھی رسولِ کریمﷺ کے ساتھ نمایاں مشابہت رکھتی تھی۔ ابن ِ قمہ مصعبؓ کو رسولِ خداﷺ سمجھ کر ان پر حملہ آور ہوا ۔مصعبؓ تیارتھے انہو ں نے ابنِ قمہ کا مقابلہ کیا پھر دونوں میں تیغ زنی ہوئی لیکن ابنِ قمہ کا ایک وار مصعبؓ پر ایسا بھرپور پڑا کہ وہ گرے اور شہید ہو گئے۔ )مصعب بن عمیرؓ بہت لاڈوں میں پلے نوجوان تھے لیکن تدفین کے وقت اُن کا کفن بھی ادھورا تھا( ام عمارہؓ نے مصعبؓ کو گرتے دیکھا ۔غیض و غضب سے ابنِ قمہ پر تلوارکا وار کیا لیکن ابنِ قمہ نے زرہ پہن رکھی تھی اور وار کرنے والی ایک عورت تھی‘ اس لیے ابنِ قمہ کو کوئی زخم نہ آیا۔ ابنِ قمہ نے ام عمارہ ؓکے کندھے پر بھرپور وار کیا جس سے وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑیں ۔اس وقت رسولِ کریمﷺ جو قریب ہی تھے ۔ابنِ قمہ کی طرف بڑھے لیکن ابنِ قمہ نے پینترا بدل کر آپﷺ پہ ایسا وار کیا جو آپﷺ کے خود پر پڑا ۔تلوار خود سے پھسل کر آپﷺ کے کندھے پر لگی آپﷺ کے بالکل پیچھے ایک گڑھا تھا آپﷺ زخم کھاکر پیچھے ہٹے اور گڑھے میں گر پڑے۔ ابنِ قمہ نے پیچھے ہٹ کر گلا پھاڑ کر کہا:” میں نے محمد کو قتل کر دیا ہے۔“ وہ یہی نعرے لگاتا میدانِ جنگ میں گھوم گیا۔اس کی آواز قریش نے بھی سنی اور مسلمانوں نے بھی۔ قریش کو تو خوش ہونا ہی تھا۔ مسلمانوں پر اس کا بڑا تباہ کن اثر ہوا کہ حوصلہ ہار بیٹھے اوراحدکی پہاڑی کی طرف پسپا ہونے لگے۔’اپنے نبیﷺ کے شدائیو!“بھاگتے ہوئے مسلمانوں کو ایک للکار سنائی دی۔” اگر نبیﷺ نہ رہے تو لعنت ہے ہم پر کہ ہم بھی زندہ رہیں۔ تم کیسے شیدائی ہو کہ نبی کریمﷺ کی شہادت کے ساتھ ہی تم موت سے ڈر کر بھاگ رہے ہو؟“ مسلمان رک گئے۔ اس للکار نے انہیں آگ بگولہ کر دیا‘ وہ پیادہ تھے لیکن انہوں نے قریش کے گھڑ سواروں پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ خالد اور عکرمہ کے گھڑ سواروں پر ہوا تھا۔ خالد کو آج یاد آرہا تھا کہ اس کے ہاتھوں کتنے ہی مسلمانوں کا خون بہہ گیا تھا ان میں ایک رفاعہؓ بن وقش بھی تھے ۔خالد کے دل میں درد کی ایک ٹیس سی اٹھی ‘اسے کچھ ایسا احساس ہونے لگا جیسے وہ بے مقصد خون بہاتا رہا ہے لیکن اس وقت وہ مسلمانوں کو اپنا بد ترین دشمن سمجھتا تھا۔ اب مسلمانوں کا دم خم ٹوٹ چکا تھا۔ پیادے گھڑ سواروں کا مقابلہ کب تک کرتے ؟وہ مجبور ہو کر پہاڑی کی طرف پسپا ہونے لگے ۔رسولِ اکرمﷺ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک تنگ سی وادی کی طرف جا رہے تھے۔ جس طرح مسلمانوں نے فتح کی خوشی میں اپنا مورچہ چھوڑ دیا تھا اور جنگ کا پانسا اپنے خلاف پلٹ لیا تھا اسی طرح اب قریش کے آدمی مسلمانوں کی لاشوں پر اور تڑپتے ہوئے زخمیوں پر مالِ غنیمت اکھٹا کرنے کیلئے ٹوٹ پڑے ۔
ان میں سے کچھ قریش رسولِ کریمﷺ کے تعاقب میں چلے گئے‘ لیکن آپﷺ کے ساتھیوں نے ان پر ایسی بے جگری سے ہلہ بولا کہ ان میں سے زیادہ تر قریش کو جان سے مار ڈالا اور جو بچ گئے وہ بھاگ نکلے ۔رسولِ اکرمﷺ ایک بلند جگہ پہنچ گئے ۔آپﷺ نے وہاں سے صورتِ حال کا جائزہ لیا‘ آپﷺ کے تیس صحابہؓ میں سے سولہ شہید ہو چکے تھے جو چودہ زندہ تھے ا ن میں زیادہ تر زخمی ۔آپﷺ نے بلندی سے میدانِ جنگ کا جائزہ لیا آپﷺ کو کوئی مسلمان نظر نہیں آ رہا تھا۔ مسلمان یہ سمجھ کر کہ رسولِ اکرمﷺ شہید ہو چکے ہیں‘ سخت مایوسی کے عالم میں اِدھر ُادھر بکھر گئے۔کچھ واپس مدینہ چلے گئے۔ کچھ قریش کے انتقام سے بچنے کے لئے پہاڑی کے اندر موجود تھے۔ یہاں رسولِ خداﷺ کو اپنے زخموں کی طرف توجہ دینے کی فرصت ملی ۔آپﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ جو آپﷺ کو ہر طرف تلاش کرکر کہ تھک چکی تھیں۔ آپﷺ کے پاس آ پہنچی تھیں ۔قریب ہی ایک چشمہ تھا ۔حضرت علیؓ وہاں سے کسی چیز میں پانی لائے اور آپﷺ کو پلایا ۔حضرت فاطمہؓ آپﷺ کے زخم دھونے لگیں ۔وہ سسک سسک کر رو رہی تھیں۔ ؓخالد کو آج یاد آ رہا تھا کہ رسولِ کریمﷺ کی شہادت کی خبر نے اسے روحانی سا اطمینان دیا تھا لیکن ایک للکار نے اسے چونکا دیا۔ وادی میں للکار کی گونج بڑی دور تک سنائی دے رہی تھی ۔کوئی بڑی ہی بلند آواز میں کہہ رہا تھا:” مسلمانو! خوشیاں مناؤ ۔ہمارے نبیﷺ زندہ اور سلامت ہیں ۔“اس للکار پر خالد کو ہنسی بھی آئی تھی اور افسوس بھی ہوا تھا۔اس نے اپنے آپ سے کہا تھا کہ کوئی مسلمان پاگل ہو گیا ہے۔ہوا یوں تھا کہ جس طرح مسلمان اِکا دُکا اِدھر ُادھر بکھر گئے یا چھپ گئے تھے ۔اسی طرح کعب بن مالکؓ نام کا ایک مسلمان اِدھر ُادھر گھومتا پہاڑی کے اس مقام کی طرف چلا گیا جہاں رسولِ اکرمﷺ سستا رہے تھے۔ اس نے نبی کریمﷺ کو دیکھا تو اس نے جذبات کی شدت سے نعرہ لگایا ”ہمارے نبیﷺ زندہ ہیں“۔ تمام مسلمان جو اکیلے اکیلے یا د دو چار چار کی ٹولیوں میں اِدھر ُادھر بکھر گئے تھے اس آواز پر دوڑ کر آئے۔ حضرت عمرؓ بھی اسی آواز پر رسولِ خداﷺ تک پہنچے تھے۔ اس سے پہلے ابو سفیان میدانِ جنگ میں پڑی ہوئی ہر ایک لاش کو دیکھتا پھر رہا تھا‘ وہ رسولِ کریمﷺ کا جسدِمبارک تلاش کر رہا تھا ۔ اسے قریش کا جو بھی آدمی ملتا اس سے پوچھتا :”تم نے محمد کی لاش نہیں دیکھی؟“اسی تلاش میں خالد اس کے سامنے آگیا۔ ”خالد!“ ابو سفیان نے پوچھا:” تم نے محمد کی لاش نہیں دیکھی؟“”نہیں“۔خالد نے جواب دیا اور ابو سفیان کی طرف ذرا جھک کر پوچھا :”کیا تمہیں یقین ہے کہ محمدقتل ہو چکا ہے؟“
”ہاں !“ ابی سفیان نے جواب دیا:” وہ ہم سے بچ کر کہاں جا سکتاہے ۔تمہیں شک ہے؟“”ہاں ابوسفیان!“خالد نے جواب دیا ۔”میں اس وقت تک شک میں رہتا ہوں جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں ۔محمد)ﷺ( اتنی آسانی سے قتل ہوجانے والا شخص نہیں ہے۔“ ”معلوم ہوتا ہے تم پر محمد)ﷺ( کا طلسم طاری ہے۔“ ابو سفیان نے تکبر کے لہجے میں کہا۔” کیا محمد)ﷺ( ہم میں سے نہیں تھا ؟کیا تم اسے نہیں جانتے تھے۔ جو شخص اتنی قتل و غارت کا ذمہ دار ہے ۔ایک روز اسے بھی قتل ہونا ہے ۔محمد)ﷺ( قتل ہو چکا ہے۔ جاؤ اور دیکھو‘ اس کی لاش کو پہچانو۔ہم اسکا سر کاٹ کر مکہ لے جائیں گے۔“عین اس وقت پہاڑی میں سے کعب ؓبن مالک کی للکار گرجی” مسلمانو! خوشیاں مناؤ ۔ہمارے نبیﷺ زندہ سلامت ہیں۔“ پھر یہ آواز بجلی کی کڑک کی طرح گرجتی کڑکتی وادی اور میدان میں گھومتی پھرتی رہی۔”سن لیا ابو سفیان!“ خالد نے کہا ۔”اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ محمد)ﷺ(کہاں ہے۔ میں اس پر حملہ کرنے جا رہا ہوں لیکن میں تمہیں یقین نہیں دلا سکتا کہ میں محمد)ﷺ( کو قتل کر آؤں گا۔“کچھ دیر پہلے خالد نے رسولِ کریمﷺ اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑی کے اندر جاتے دیکھا تھا لیکن وہ بہت دور تھا۔ خالد ہار ماننے والا اور اپنے ارادے کوادھورا چھوڑنے والا آدمی نہیں تھا ۔اس نے اپنے چند ایک سواروں کو ساتھ لیا اورپہاڑی کے اس مقام کی طرف بڑھنے لگا جدھر اس نے رسولِ کریمﷺ کو جاتے دیکھا تھا۔ مشہور مؤرخ ابن ہشام کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے جب خالد کو اپنے سواروں کے ساتھ اس گھاٹی پر چڑھتے دیکھا جہاں آپﷺ تھے تو آپﷺ کے منہ سے بے ساختہ دعا نکلی” خدائے ذوالجلال! انہیں اس وقت وہیں کہیں روک لے۔“خالد اپنے سواروں کے ساتھ گھاٹی چڑھتا جا رہا تھا۔و ہ ایک درہ سا تھا جوتنگ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ گھوڑوں کو ایک قطار میں ہونا پڑا۔ رسولِ کریمﷺ زخموں سے چور پڑے تھے ۔حضرت عمرؓ نے جب خالد اور اس کے سواروں کو اوپر آتے ہوئے دیکھا تو وہ تلوار نکال کر کچھ نیچے اترے۔ ”ولید کے بیٹے !“حضرت عمرؓ نے للکارا۔”اگر لڑائی لڑنا جانتے ہو تو اس درّہ کی تنگی کو دیکھ لو۔ اس چڑھائی کو دیکھ لو ۔کیا تم اپنے سواروں کے ساتھ ہمارے ہاتھ سے بچ کر نکل جاؤ گے؟“ خالد لڑنے کے فن کو خوب سمجھتا تھا ۔اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ جگہ گھوڑوں کو گھما پھرا کر لڑانے کیلئے موزوں نہیں ہے بلکہ خطرناک ہے ۔خالد نے خاموشی سے اپنا گھوڑا گھمایا اور اپنے سواروں کے ساتھ وہاں سے نیچے اتر آیا ۔
جنگِ اُحد ختم ہو چکی تھی۔ قریش اس لحاظ سے برتری کا دعویٰ کر سکتے تھے کہ انہوں نے مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچایا لیکن یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ ”لیکن یہ ہماری شکست تھی۔“ خالد کو جیسے اپنی آواز سنائی دی۔ ”مسلمانوں کی نفری سات سو تھی اور ہم تین ہزار تھے۔ ہمارے پاس دو سو گھوڑے تھے ۔ہماری فتح تب ہوتی جب ہم محمد)ﷺ( کو قتل کردیتے۔“خالد نے اپنے آپ میں جھنجھناہٹ محسوس کی۔ اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ اس کے دانت بجنے لگے۔ اسے جنگ کا آخری منظر یاد آنے لگا تھا۔ اُس نے اِس بھیانک یاد کو ذہن سے نکالنے کیلئے سر کو جھٹکا دیا لیکن مکھیوں کی طرح یہ یاد اس کے ارد گرد بھنبھناتی رہی۔ اسے اپنے آپ میں شرم سی محسوس ہونے لگی ۔جنگجو یوں نہیں کیا کرتے ۔خالد جب حضرت عمرؓ کی للکار پر واپس آ رہا تھا تو اس بلندی سے اس کی نظر میدانِ جنگ پر پڑی ۔وہاں لاشیں بکھری ہوئی تھیں ۔شاید ان میں بے ہوش زخمی بھی ہوں گے۔ لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانے کیلئے نہ ابھی مسلمان آگے بڑھے تھے نہ اہلِ قریش ۔خالد کو ابو سفیان کی بیوی ہند نظر آئی ۔وہ ہاتھ میں خنجر لیے ہوئے دوڑے چلی آ رہی تھی۔ اس کے اشارے پر قریش کی وہ عورتیں جو قریش کے لشکر کے ساتھ آئی تھیں اس کے پیچھے پیچھے دوڑی آئیں۔ ہند ہر ایک لاش کو دیکھتی تھی ۔وہ اونچے قد کی اور فربہی مائل جسم کی پہلوان قسم کی عورت تھی۔ وہ ہر ایک لاش کو دیکھتی تھی۔ کوئی لاش اوندھے منہ پڑی ہوئی نظر آتی تو وہ پاؤں کی ٹھوکر سے اس لاش کو سیدھا کر کے دیکھتی تھی۔ اس نے اپنے ساتھ کی عورتوں سے کہا کہ وہ حمزہؓ کی لاش تلاش کریں۔ اسے حمزہ ؓکی لاش مل گئی۔ ہند بھوکے درندے کی طرح لاش کو چیرنے پھاڑنے لگی ۔اس نے لاش کے کچھ اعضاءکاٹ کر پرے پھینک دیئے۔ اس نے دوسری عورتوں کو دیکھا جو اس کے قریب کھڑی تھیں ۔
”کھڑی دیکھ کیا رہی ہو؟“ ہند نے ان عورتوں سے یوں کہا جیسے وہ پاگل ہو چکی ہو ۔”یہ دیکھو میں نے اپنے باپ ،اپنے چچا اور اپنے بیٹے کے قاتل کی لاش کا کیا حال کر دیا۔ جاؤ مسلمانوں کی ہر ایک لاش کا یہی حال کردواور سب کے کان اور ناک کاٹ کر لے آؤ۔“
اب وہ عورتیں مسلمانوں کی لاشوں کو چیرنے پھاڑنے کیلئے وہاں سے ہٹ گئیں تو ہند نے خنجر سے حمزہؓ کا پیٹ چاک کرکے اس کے اندر ہاتھ ڈالا۔ اس کا ہاتھ باہر آیا تو اس میں حمزہ ؓکا کلیجہ تھا جو ہند نے خنجر سے کاٹ لیا ۔اس نے اسی پر اکتفا نہ کیا ۔حمزہؓ کے کلیجے کا ایک ٹکڑاکاٹ کر اس نے اپنے منہ میں ڈال لیا اور بری طرح اسے چبانے لگی ۔لیکن تھوڑی دیر بعد اس نے کلیجے کے اس ٹکڑے کو اگل دیا۔خالد کو دور ابو سفیان کھڑا نظر آیا۔ ہند کی اس وحشیانہ حرکت نے خالد کا مزہ کِرکِرا کر دیا تھا۔ وہ جنگجو تھا ،وہ صرف آمنے سامنے آکر لڑنے والا آدمی تھا۔ اپنے دشمن کی لاشوں کےساتھ یہ سلوک نہ صرف یہ کہ اسے پسند نہ آیا بلکہ اس نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ ابو سفیان کو دیکھ کر خالد نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ابو سفیان کے پاس جا گھوڑا روکا۔ ”ابو سفیان !“خالد نے غصے اور حقارت کے ملے جلے لہجے میں کہا۔” کیا تم اپنی بیوی اور ان عورتوں کی اس وحشیانہ حرکت کو پسند کر رہے ہو؟“ابو سفیان نے خالد کی طرف ایسی نگاہوں سے دیکھا جن میں بے بسی کی جھلک تھی اور صاف پتا چلتا تھا کہ اسے لاشوں کے ساتھ اپنی بیوی کا یہ سلوک پسند نہیں۔”خاموش کیوں ہو ابو سفیان؟“”تم ہند کو جانتے ہو خالد ۔“ابو سفیان نے دبی سی زبان میں کہا۔” یہ عورت اس وقت پاگلوں سے بد تر ہے۔ اگرمیں یا تم اسے روکنے کیلئے آگے بڑھے تو یہ خنجر سے ہمارے پیٹ بھی چاک کردے گی۔“خالد ہند کو جانتا تھا وہ ابو اسفیان کی بے بسی کو سمجھ گیا ۔ابو سفیان نے سر جھکایا گھوڑے کی لگام کو جھٹکا دیا اور منہ پھیر کر دوسری طرف چل پڑا۔خالد بھی اس منظر کو برداشت نہ کر سکا۔جب ہند حمزہؓ کی لاش کا کلیجہ چبا کر اگل چکی تو اس نے پیچھے دیکھا ۔اس کے پیچھے جبیر بن مطعم کا غلام وحشی بن حرب کھڑاتھا۔اس کے ہاتھ میں افریقہ کی بنی ہوئی وہی برچھی تھی جس سے اس نے حمزہؓ کو شہید کیا تھا۔”یہاں کیا کر رہے ہو بن حرب ؟“ہند نے تحکمانہ لہجے میں اس سے کہا۔”جاؤ اور مسلمانوں کی لاشوں کے ٹکڑے کردو۔“وحشی بن حرب بولتا بہت کم تھا۔ اس کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ بات اشاروں میں کر لی جائے۔اس نے ہند کا حکم ماننے کے بجائے اپنا ہاتھ ہند کے آگے پھیلا دیا اور اس کی نظریں ہند کے گلے میں لٹکتے ہوئے سونے کے ہار پر جم گئیں-
ہند کو اپنا وعدہ یاد آ گیا۔ا س نے وحشی سے کہا تھا کہ تم میرے باپ چچا اور بیٹے کے قاتل کوقتل کردو تو میں نے جتنے زیورات پہن رکھے ہیں وہ تمہارے ہوں گے اور وحشی اپنا انعام لینے آیا تھا۔ ہند نے اپنے تمام زیورات اتار کر وحشی بن حرب کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیئے۔و حشی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور وہ وہاں سے چل پڑا۔ ہند پر اس وقت فتح اور انتقام کا بھوت سوار تھا۔ ”ٹھہر جاؤ بن حرب۔“ ہند نے جوشیلی آوازمیں اس حبشی کو بلایا۔ وہ جب اس کے پاس آیا تو ہند نے کہا ۔میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرا کلیجہ ٹھنڈا کردو تو تمہیں اپنے زیورات دوں گی لیکن تم اس سے زیادہ انعام کے حق دار ہو ۔“ہند نے قریش کی عورتوں کی طرف اشارہ کیاا ور کہا۔” تم جانتے ہو ان عورتوں میں کنیزیں کون کون سی ہیں ۔دیکھو وہ جوان بھی ہیں خوبصورت بھی۔ تمہیں جو کنیز اچھی لگتی ہے لے جاؤ ۔“وحشی بن حرب نے اپنی عادت کے مطابق خاموشی سے چند لمحے ہند کے چہرے پر نظریں گاڑھیں لیکن اس کی نظریں کنیزوں کی طرف نہ گئیں ۔اس نے انکار میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد میدانِ جنگ کی ہولناکی میں سے ہند کی بلند اور مترنم آواز سنائی دینے لگی ۔مؤرخ ابن ہشام کے مطابق اس نے ترنم سے جو نغمہ گایا ،اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے: ”ہم نے بدر کے معرکے کا حساب برابر کر لیا ہے۔۔۔ایک خونریز معرکے کے بدلے ہم نے ایک خونریز معرکہ لڑ لیا ہے ۔۔۔عتبہ کا غم میری برداشت سے باہر تھا ۔۔۔عتبہ میرا باپ تھا۔۔۔مجھے چچا کا بھی غم تھا اپنے بیٹے کا بھی غم تھا ۔۔۔اب میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ہے ۔۔۔میں نے اپنی قسم پوری کر لی ہے۔۔وحشی نے میرے دل کے درد کا مداوا کر دیا ہے ۔۔۔میں عمر بھر وحشی کی احسان مند رہوں گی۔۔۔اس وقت تک جب تک میری ہڈیاں قبر کی مٹی میں مل کر مٹی نہیں ہو جاتیں“ابو سفیان اس بھیانک منظر کوبرداشت نہ کر سکا تھا وہ پہلے ہر منہ پھیر کر جا چکا تھا۔ اس نے اپنے دو ساتھیوں سے کہا کہ اسے یقین نہیں آ رہا کہ محمد)رسول ﷺ (زندہ ہیں۔ ”خالد نے دور سے کسی اور کو دیکھ کر سمجھ لیا ہو گا کہ و ہ محمد)ﷺ( ہیں ۔“کسی نے ابو سفیان سے کہا ۔ابو سفیان یہ کہہ کر کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آتا ہے ۔اس تنگ سے درے کی طرف چلا گیا جہاں سے خالد اپنے سواروں کو واپس لایا تھا۔ وہ ایسی جگہ جا کھڑا ہوا جہاں سے اسے مسلمان بیٹھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
’’محمد)ﷺ( کے پیروکارو !‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے کہا ۔’’کیا تم میں محمد )ﷺ(زندہ ہے؟‘‘
رسولِ کریمﷺ نے آواز سنی تو اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہیں ۔ابو سفیان نے اپنا سوال اور زیادہ بلند آواز سے دہرایا۔ا ب بھی اسے کوئی جواب نہ ملا ۔’’کیا ابو بکر تم میں زندہ موجود ہے ؟‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے پوچھا۔ اب بھی اسے کوئی جواب نہ ملا ۔تین بار پوچھنے کے باوجود بھی مسلمان خاموش رہے۔’’ کیا عمر زندہ ہے؟‘‘ ابوسفیان نے پوچھا۔اب کے بھی مسلمانوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ابو سفیان نے گھوڑے کو دوڑایا۔ اس نے نیچے دیکھا ۔قریش کے بہت سے آدمی رسولِ اکرمﷺ کے متعلق صحیح خبر سننے کو بیتاب کھڑے تھے۔ ’’اے اہلِ قریش!‘‘ ابو سفیان نے چلّا کر اعلان کیا ۔’’محمد)ﷺ( مر چکا ہے ۔ابو بکر و عمر بھی زندہ نہیں۔ اب مسلمان تمہارے سائے سے بھی ڈریں گے۔ خوشیاں مناؤ ،ناچو۔‘‘اہلِ قریش ناچنے اور ہلڑ مچانے لگے لیکن گرجتی ہوئی ایک آواز نے انہیں خاموش کر دیا۔ ’’اے خدا کے دشمن !‘‘درّے کے بلندی سے حضرت عمرؓ کی آواز گونجی۔’’ اتنا جھوٹ نہ بول ،وہ تینوں زندہ ہیں جن کے نام لے کہ تو انہیں مردہ کہہ رہا ہے۔ اپنے قبیلے کو دھوکہ مت دے۔ تجھے تیرے گناہوں کی سزا دینے کیلئے ہم سب زندہ ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے طنزیہ قہقہہ لگایا اور بلند آواز سے بولا۔’’ ابنِ الخطاب! تیرا خدا تجھے ہم سے محفوظ رکھے ۔کیاتو اب بھی ہمیں سزا دینے کی بات کر رہا ہے؟ کیا تو یقین سے کہتا ہے کہ محمد )ﷺ(زندہ ہے؟‘‘’’اﷲ کی قسم! ہمارے نبیﷺ زندہ ہیں ‘‘۔حضرت عمرؓ ابنِ الخطاب کی آوا ز جواب میں گرجی۔’’ اﷲ کے رسولﷺ تمہارا ایک ایک لفظ سن رہے ہیں ۔‘‘عربوں میں رواج تھا کہ ایک معرکہ ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے سردار یا سالار ایک دوسرے پر طعنوں اور پھبتیوں کے تیر برسایا کرتے تھے۔ ابو سفیان اسی دستور کے مطابق دور کھڑا حضرت عمرؓ سے ہم کلام تھا ۔’’تم ہبل اور عزیٰ کی عظمت کو نہیں جانتے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔ حضرت عمرؓ نے رسولِ اکرمﷺ کی طرف دیکھا ۔آپﷺ اونچا بول نہیں سکتے تھے ۔آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو بتایا کہ وہ ابو سفیان کو کیا جواب دیں ۔’’او باطل کے پجاری۔‘‘ حضرت عمر ؓنے بلند آواز سے کہا۔’’ اﷲ کی عظمت کو پہچان ،جو سب سے بڑاا ور سب سے زیادہ طاقت والا ہے۔‘‘’’ہمارے پاس ہبل جیسا دیوتا اور عزیٰ جیسی دیوی ہے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’کیا تمہارے پاس کوئی ایسا دیوتا یا دیوی ہے؟‘‘
’’ہمارے پاس اﷲ ہے۔‘‘ رسولِ کریمﷺ نے حضرت عمر ؓکی زبان سے کہلوایا۔ جو حضرت عمر ؓنے بلند آواز سے کہا۔’’ تمہارا خدا کوئی نہیں ۔‘‘جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا ۔ابو سفیان نے کہا ۔’’تم نے بدر میں فتح پائی تھی، ہم نے اس پہاڑی کے دامن میں تم سے انتقام لے لیا ۔اگلے سال ہم تمہیں بدر کے میدان میں ہی مقابلے کیلئے للکاریں گے ۔‘‘’’انشاء اﷲ !‘‘حضرت عمر ؓنے رسول اﷲﷺ کے الفاظ بلند آواز سے دہرائے۔’’ اب تمہارے ساتھ ہماری ملاقات بدر کے میدان میں ہی ہو گی۔‘‘ابو سفیان نے گھوڑا موڑا گھوڑا دو قدم ہی چلا ہو گا کہ اس نے گھوڑے کو روک دیا۔ ’’اے عمر، ابو بکر اور محمد)ﷺ(!‘‘ ابو سفیان نے اب کے ذرا ٹھہری ہوئی آواز میں کہا۔’’ تم جب میدان سے اپنی لاشیں اٹھاؤ گے تو تمہیں کچھ ایسی لاشیں بھی ملیں گی جن کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں گے اور انہیں چیرا پھاڑا گیا ہو گا۔ خدا کی قسم! میں نے کسی کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور میں نے تمہاری لاشوں کے ساتھ یہ سلوک بالکل بھی پسند نہیں کیا ۔اگر اس کا الزام مجھ پر عائد کرو گے تو میں اسے اپنی توہین سمجھوں گا ۔‘‘ابو سفیان نے گھوڑا موڑا اور گھوڑے کو ایڑھ لگا دی۔چلتے چلتے خالد کے گھوڑے نے اپنے آپ ہی رخ بدل لیا۔ خالد نے گھوڑے کو نہ روکا ۔وہ سمجھ گیاکہ گھوڑے نے پانی کی مشک پا لی ہے۔ کچھ دور جا کر گھوڑا نیچے اترنے لگا ۔خالد کو یہ مقام یاد آ گیا۔ جنگِ احد کے بعد واپسی پر قریش نے کچھ دیر یہاں پر قیام کیا تھا۔ نیچے پانی کا خاصا ذخیرہ موجود تھا۔ گھوڑا بڑا تیزی سے گھاٹی اتر گیا اور پانی پر جا رکا ۔خالد گھوڑے سے کود کر نیچے اترا اور دو زانو ہو کر چلو بھر بھر کر اپنے چہرے پر پانی پھینکنے لگا ۔ذرا سستانے کیلئے بھربھر ی سی ایک چٹا ن کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب احد کے معرکے کے بعد اہلِ قریش واپس آ ئے تھے۔ انہوں نے مدینہ سے کچھ دور آ کر قیام کیا تھا ۔اس قیام کے دوران قریش کے سردار اس بحث میں الجھ گئے تھے کہ واپس مکہ پہنچا جائے یا مسلمانوں پر ایک اور حملہ کیا جائے۔ صفوان بن امیہ نے کہا تھا۔’’ ہم شکست کھا کر نہیں آئے ۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مسلمانوں کی حالت بہت بری ہے تو اپنی حالت دیکھو ۔ہماری حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ اب مسلمانوں کے ساتھ اتنی جلدی لڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے ۔ہو سکتا ہے قسمت ہمارا ساتھ نہ دے۔‘‘
جب یہ بحث جاری تھی تو قریش کے کچھ آدمی دو مسافروں کو پکڑ کر سرداروں کے سامنے لے آئے ۔انہیں بتایا گیا کہ یہ دونوں آدمی جو اپنے آپ کو مسافر کہتے ہیں ہمارے خیموں کے اردگرد گھوم پھر رہے تھے اور ہمارے چار پانچ آدمیوں سے انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں جا رہے ہو ؟ان دونوں نے ابو سفیان اور دوسرے سرداروں کے سامنے بھی یہی بیان دیئے کہ وہ مسافر ہیں اور کسی جگہ کا نام لے کر کہاکہ وہ ادھر جارہے ہیں ۔ابو سفیان کے حکم سے ان کے پھٹے پرانے کپڑے جو انہوں نے پہن رکھے تھے۔اتر وائے گئے تو اندر سے خنجر اور تلواریں برآمد ہوئیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ ہتھیار چھپا کر کیوں رکھے ہیں؟ خالد کی نظر بہت تیز تھی۔ اسے شک ہوا کہ یہ مسلمانوں کے جاسوس ہیں ۔ان دونوں کو قریش کی فوج کے سامنے کھڑا کر دیا گیا اور پوچھا گیا کہ انہیں کوئی پہچانتا ہے ؟دو تین آوازیں آئیں کہ ’’ہم انہیں پہچانتے ہیں ۔یہ یثرب )مدینہ( کے رہنے والے ہیں۔‘‘ ’’اس ایک کومیں اچھی طرح جانتا ہوں ۔‘‘قریش کے آدمی نے اٹھ کر کہا۔’’ اسے میں نے اپنے خلاف لڑتے ہوئے دیکھا تھا ۔‘‘’’تم اپنی زبان سے کہہ دو کہ تم محمد کے جاسوس ہو ۔‘‘ابو سفیان نے ان دونوں سے کہا۔’’ اور جاؤ میں تمہاری جان بخشی کرتا ہوں۔‘‘ دونوں میں سے ایک نے اعتراف کر لیا۔ ’’جاؤ!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’ہم نے تمہیں معاف کیا۔‘‘ دونوں جو واقعی مسلمانوں کے بھیجے ہوئے جاسوس تھے اور قریش کے عزائم معلوم کرنے آئے تھے ۔ہنسی خوشی اپنے اونٹوں کی طرف چل پڑے ۔ابو سفیان کے اشارے پر کئی ایک تیر اندازوں نے کمانوں میں تیر ڈالے اور پیچھے سے ان دونوں مسلمانوں پر چلا دیئے۔ دونوں کئی کئی تیر اپنے جسم میں لے کر گرے پھر اٹھ نہ سکے۔’’ کیا تم اس کا مطلب سمجھتے ہو؟‘‘ ابو سفیان نے اپنے قریب کھڑ ے سرداروں سے کہا۔’’ جاسوس بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہارے نہیں۔ وہ ابھی یا کچھ ہی عرصے بعد ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔فوراً مکہ کو کوچ کرو اور اگلی جنگ کی تیاری کرو۔‘‘ اگلے روز رسولِ اکرمﷺ کو کسی نے آ کر بتایا کہ ا ہل ِقریش نے جہاں پڑاؤ کیا تھاوہاں اپنے دونوں جاسوسوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور اہلِ قریش مکہ کو روانہ ہو گئے ہیں-
خالد نے یہ پہلی جنگ لڑی ۔لیکن وہ سمجھتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکا ہے۔ آج چار برس بعد وہ اس سوچ میں غرق تھا کہ مسلمانوں کی یہ طاقت عام انسانوںکی طاقت نہیں تھی کوئی راز ہے جسے وہ ابھی تک نہیں پا سکا۔ اسے اہلِ قریش کی کچھ خامیاں یاد آنے لگیں۔ کچھ باتیں اور کچھ اعمال اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ اسے یہودیوں کی دو بڑی خوبصورت عورتیں بھی یاد آئیں جو اہلِ قریش کے سواروں میں گھل مل گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہودی اپنے نسوانی حسن کے جادو سے اہلِ قریش پر چھا جانے کی اور انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ اسے پسند نہ تھا لیکن ان میں سے ایک عورت ایک روز خالد سے ملی تو خالد نے محسوس کیا کہ یہ عورت جو کچھ کہہ رہی ہے اس میں عقل و دانش ہے۔ اس عورت کے حسن و جوانی کا اپنا ایک اثر تھا لیکن طلسم جو اس کی زبان میں تھا اس کا اثر خالد نے بھی محسوس کیا تھا۔ کچھ دیر تک یہ عورت خالدکے خیالوں پر چھائی رہی۔ اسکا گھوڑا ہنہنایا تو خالد جیسے خواب سے بیدار ہو گیا۔ وہ تیزی سے اٹھا، گھوڑے پر سوار ہوا اور پھر مدینہ کے راستے پر ہو لیا۔ولید کا بیٹا خالد شہزادہ تھا ۔عیش و عشرت کا بھی دلدادہ تھا لیکن فنِ حرب و ضرب کا جنون ایسا تھا کہ عیش و عشرت کو اس جنون پر حاوی نہیں ہونے دیتا تھا۔ مدینہ کی طرف جاتے ہوئے اسے وہ حسین و جمیل یہودن یاد آئی جس کا نام’’ یو حاوہ ‘‘تھا۔ اس نے اس یہودن کو ذہن سے نکال دیا لیکن یوحاوہ رنگ برنگی تتلی بن کر اس کے ذہن میں اڑتی رہی۔ خالد اسے ذہن سے نکال نہ سکا۔ خالد کے ذہن میں اڑتی ہوئی اس تتلی کے رنگ پھیکے پڑنے لگے ۔پھر تمام رنگ مل کر سرخ ہو گئے۔ خون جیسے سرخ ۔یہ ایک بھیانک یاد تھی۔ خالد نے اسے ذہن سے اگل دینے کی بہت کوشش کی لیکن تتلی جو زہریلی بھڑ بن گئی تھی۔ اس کے ذہن سے نہ نکلی۔ یہ معرکہ احد کے تین چار ماہ بعد کا ایک واقعہ تھا۔ یہ ایک سازش تھی جس میں وہ شریک نہ تھا لیکن وہ قبیلہ قریش کا ایک بڑا ہی اہم فرد تھا ۔مسلمانوں کے خلاف کسی سازش میں شریک نہ ہونے کے باوجود وہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس میں شریک نہ تھا۔ معرکہ احد میں زخمی ہونے والے بعض اہلِ قریش کے زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوئے تھے کہ ایک روز خالد کو خبر ملی کہ مدینہ سے چھ مسلمان تبلیغِ اسلام کیلئے رجیع کی طرف جا رہے تھے کہ عفان سے تھوڑی دور ایک غیر مسلم قبیلے نے انہیں روک لیا اور ان میں سے دو کو مکہ لایا گیا اور انہیں نیلام کیا جا رہا ہے ۔
خالد دوڑتا ہوا وہاں گیا ۔وہ دو مسلمان خبیبؓ بن عدی، اور زیدؓ بن الدثنہ تھے۔ خالد دونوں کو جانتا پہچانتا تھا ۔وہ اسی کے قبیلے کے افراد ہوا کرتے تھے ۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ان میں حب رسولﷺ کا یہ عالم تھا کہ رسولِ خدا ﷺ پر جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔ رسولِ خداﷺ انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ خالد نے دیکھا کہ انہیں ایک چبوترے پر کھڑا کر دیا گیا تھا اور اردگرد اہلِ قریش کا ہجوم تھا۔ ایک غیر مسلم قبیلے کے چار افراد ان کے پاس کھڑے تھے ۔دونوں کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔’’یہ دونوں مسلمان ہیں۔‘‘ ایک آدمی چبوترے پر کھڑا علان کر رہا تھا۔’’ یہ دونوں احد میں تمہارے خلاف لڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں تمہارے عزیز اور خون کے رشتے دار مارے گئے تھے ۔ہے کوئی جو انتقام کی آگ بجھانا چاہتا ہے ؟انہیں خریدو انہیں اپنے ہاتھوں قتل کرو،اور خون کے بدلے خون بہاؤ ۔یہ آدمی سب سے اونچی بولی دینے والے کو ملیں گے ۔بولو؟‘‘ ’’دو گھوڑے۔‘‘ ایک آواز آئی۔’’بولو بڑھ کر بولو۔‘‘’’دو گھوڑے ایک اونٹ ۔‘‘ایک اور آواز آئی۔’’گھوڑوں اونٹوں کو چھوڑو ۔سونے میں بولی دو۔سونا لاؤ، دشمن کے خون سے انتقام کی پیاس بجھاؤ۔‘‘وہ لوگ جن کے قریبی رشتے دار احد کی لڑائی میں مارے گئے تھے ۔بڑھ چڑھ کر بولی دے رہے تھے۔ خبیب ؓاور زیدؓ چپ چاپ کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف نہ تھا گھبراہٹ نہیں تھی ۔ہلکی سی بے چینی بھی نہیں تھی ۔خالد ہجوم کو چیرتا ہوا آگے چلا گیا۔’’او قریش کے سردار کے جنگجو بیٹے !‘‘خبیبؓ نے خالد کو دیکھ کر بڑی بلند آواز سے کہا۔’’تیرا قبیلہ ہم دونوں کا خون بہا کر اس مقدس آواز کو خاموش نہیں کر سکتا جو غارِ حرا سے اٹھی ہے ۔لا اپنے قبیلے کا کوئی نامور لڑاکا اور میرے ہاتھ کھلوادے پھر دیکھ کون کس کے خون سے پیاس بجھاتا ہے؟‘‘’’میدانِ جنگ میں پیٹ دکھانے والو! ‘‘زیدؓ نے گرجدار آواز میں کہا۔’’ تم نے شکست کا انتقام ہمارے بھائیوں کی لاشوں سے لیا ۔تمہاری عورتوں نے احد کے میدان میں ہماری لاشوں کے کان اور ناکیں کاٹ کر ان کے ہار اپنے گلوں میں لٹکائے ہیں۔‘‘ آج چار برس بعد مدینہ کی طرف جاتے ہوئے خالد کو خبیب ؓاور زیدؓ کی للکار اور طعنے صاف سنائی دے رہے تھے۔ وہ زیدؓ کے طعنے کو برداشت نہیں کر سکا تھا۔ آج چار برس بعد اسے یہ طعنہ یاد آیا تو بھی اس کے جسم میں جھرجھری لی ۔
اسے احد کے میدان کا وہ منظر یاد آیا جب ابو سفیان کی بیوی ہند نے حمزہؓ کی لاش کا کلیجہ نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور چبا کر اگل دیا تھا ۔اسی عورت نے اپنے ساتھ کی عورتوں سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کی لاشوں کے کان اور ناکیں کاٹ لائیں ۔ان عورتوں نے اس کے آگے کانوں اور ناکوں کا ڈھیر لگا دیا تھا۔ ہند نے ان کا نوں اور ناکوں کا ہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈال لیا تھا اور وہ پاگلوں کی طرح میدان میں ایک گیت گاتی اور ناچتی پھری تھی ۔اس منظر کو اس کے خاوند ابو سفیان نے پسند نہیں کیا تھا ۔خالد نے تو نفرت سے منہ پھیر لیا تھا۔تین چار ماہ بعد دو مسلمان جن کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔اسے طعنے دے رہے تھے ۔وہ اوچھے طریقے سے انتقام لینے والا آدمی نہیں تھا۔ وہ یہاں سے کھسک آیا اور اہلِ قریش کے ہجوم میں گم ہو گیا۔اسے اس قبیلے کا ایک آدمی مل گیاجو ان دو مسلمانوں کو پکڑ لایا تھا۔ کسی بھی تاریخ میں ا س قبیلے کا نام نہیں ہے۔ مؤرخوں نے بھی ہشام کے حوالے سے ایک جنگجو قبیلہ لکھا ہے جو قریش کا اتحادی تھا۔ خالد نے اس جنگجو قبیلے کے اس آدمی سے پوچھا کہ ان دو مسلمانوں کو کس طرح پکڑا گیا۔’’ خدا کی قسم! ‘‘اس آدمی نے کہا۔’’ کہو تو ہم ان مسلمانوں کے رسول کو پکڑ لائیں اور نیلامی کے چبوترے پر کھڑا کر دیں ۔‘‘’’تم جو کام نہیں کر سکتے اس کی قسم نہ کھاؤ۔‘‘خالد نے کہا ۔’’مجھے بتاؤ کہ ان دو کو کہاں سے پکڑا گیا ہے ؟‘‘یہ چھ تھے ۔اس شخص نے جواب دیا۔’’ ہم نے احد میں مارے جانے والوں کا انتقام لیا ہے۔ آئندہ بھی ایسے ہی انتقام لیتے رہیں گے۔ ہمارے قبیلے کے کچھ آدمی مدینہ میں محمد)ﷺ( کے پاس گئے اور کہا کہ وہ اسلام قبول کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا پورا قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ کر چکا ہے لیکن پورا قبیلہ مدینہ نہیں آ سکتا۔ ہمارے ان آدمیوں نے محمد )ﷺ(سے کہا کہ ان کے ساتھ چند ایک مسلمانوں کو ان کے قبیلے میں بھیجا جائے جو پورے قبیلے کو مسلمان کرے اور پھر قبیلے کو مذہبی تعلیم دینے کیلئے کچھ عرصہ وہیں رہے۔‘‘’’ہمارے یہ آدمی جب واپس آئے تو ان کے ساتھ چھ مسلمان تھے ۔ادھر ہمارے سردار شارجہ بن مغیث نے ایک سو آدمیوں کو رجیع کے مقام پر بھیج دیا ۔جب یہ چھ مسلمان رجیع پہنچے تو ہمارے ایک سو آدمیوں نے انہیں گھیر لیا۔ تم سن کر حیران ہو گے کہ یہ چھ مسلمان تلواریں نکال کر ایک سو آدمیوں سے مقابلے پر آگئے ۔ہم نے تین کو مار ڈالا اور تین کو پکڑ لیا۔ان کے ہاتھ رسیوں سے باندھ دیئے ۔شارجہ بن مغیث نے حکم دیا تھا کہ مدینہ سے کچھ مسلمان تمہارے دھوکے میں آکر تمہارے ساتھ آ گئے تو ان میں سے دو تین کو مکہ لے جانا اور انتقام لینے والوں کے ہاتھوں فروخت کر دینا۔‘‘
’’ہم تین کو ادھر لا رہے تھے۔ راستے میں ان میں سے ایک نے رسیوں میں سے ہاتھ نکال لیے مگر وہ بھاگا نہیں۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ اس نے ہمارے ایک آدمی کی نیام سے تلوار نکال لی کیونکہ اسے ہم نے نہتا کر رکھا تھا۔ اس نے بڑی تیزی سے ہمارے دو آدمیوں کو مار ڈالا۔ اکیلا آدمی اتنے سارے آدمیوں کا مقابلہ کب تک کرتا؟ وہ مارا گیااور ہم نے اس کے جسم کا قیمہ کر دیا ۔یہ دو رہ گئے۔ ہم نے ان کے ہاتھ اور زیادہ مضبوطی سے باندھ دیئے اور یہاں لے آئے ۔‘‘’’اور تم خوش ہو؟‘‘خالد نے اسے طنزیہ کہا ۔’’محمد)ﷺ( کیا کہے گا اہلِ قریش اور ان کے دوست قبیلے اتنے بزدل ہو گئے ہیں کہ اب دھوکہ دینے اور چھ آدمیوں کو ایک سو سے مروانے پر اتر آئے ہیں؟ کیا تم نے مجھے یہ بات سناتے شرم محسوس نہیں کی؟کیا ان ایک سو آدمیوں نے اپنی ماؤں کو شرمسار نہیں کیا؟جن کا انہوں نے دودھ پیا ہے؟‘‘’’تم نے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیا تھا ولید کے بیٹے!‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’ کیا تم محمد)ﷺ( کی طاقت کا مقابلہ کر سکتے ہو؟بدر میں ایک ہزار قریش تین سو تیرہ مسلمانوں سے مار کھا آئے تھے۔احد کی لڑائی میں محمد)ﷺ( کے پیروکار کتنی تعداد میں تھے۔سات سو سے کم ہوں گے زیادہ نہیں۔قریش کتنے تھے؟ہزاروں ۔سن خالد بن ولید۔محمد )ﷺ(کے ہاتھ میں جادو ہے۔ جہاں جادو چلتا ہے وہاں تلوار نہیں چل سکتی۔‘‘’پھر تمہاری تلوار کس طرح چل گئی؟‘‘خالد نے پوچھا۔’’
اگر محمد کے ہاتھ میں جادو ہے تو وہ تمہارے سردار شارجہ بن مغیث کے دھوکے میں کس طرح آگیا ؟اس کے چار آدمیوں کو کس طرح مار ڈالا؟ان دو کو محمد)ﷺ( کا جادو آزاد کیوں نہیں کرا دیتا؟تم جس چیز کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتے اسے جادو کہہ دیتے ہو۔‘‘’’ہم نے جادو کو جادو سے کاٹا ہے۔‘‘ شارجہ بن مغیث کے قبیلے کے آدمی نے کہا۔’’ ہمارے پاس یہودی جادوگر آئے تھے ۔انکے ساتھ تین جادوگرنیاں بھی تھیں۔ ان میں سے ایک کا نام یوحاوہ ہے ۔ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ایک گھنی جھاڑی میں سے ایک برچھی زمین سے سرکتی ہوئی باہر آئی ۔یہ برچھی جھاڑی میں واپس چلی گئی اور سانپ بن کر واپس آئی۔یہ سانپ واپس جھاڑی میں چلا گیا ۔‘‘مدینہ کی طرف جاتے ہوئے اسے یہ واقعہ یاد آ رہا تھا ۔وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن زہریلی بھڑوں کی طرح یہ یاد اس کے اوپر بھنبھناتی رہی۔اسے یوحاوہ یاد آئی۔ وہ جادو گرنی تھی یا نہیں۔ا س کے حسن میں، جسم کی ساخت، مسکراہٹ اور بولنے کے انداز میں جادو تھا۔ اس نے شارجہ بن مغیث کے اس آدمی کے منہ سے یوحاوہ کا نام سنا تو وہ چونکا۔
معرکہ احد کے بعد جب اہلِ قریش کی فوج مکہ واپس آئی تھی تو مکہ کے یہودی ایسے انداز سے ابو سفیان ،خالد اور عکرمہ کے پاس آئے تھے جیسے احد میں یہودیوں کو شکست ہوئی ہو۔ یہودیوں کے سرداروں نے ابو سفیان سے کہا تھا کہ مسلمانوں کو شکست نہیں ہوئی اور لڑائی ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی ہے، تو یہ قریش کی شکست ہے۔ یہ یہودیوں کی ناکامی ہے ۔یہودیوں نے اہلِ قریش کے ساتھ اس طرح ہمدردی کا اظہار کیا تھا جیسے وہ اہلِ قریش کی ناکامی پر غم سے مرے جا رہے ہیں ۔انہی دنوں خالد نے پہلی بار یوحاوہ کو دیکھا تھا۔ وہ اپنے گھوڑے کی ٹہلائی کیلئے آبادی سے باہر نکل گیا تھا۔جب وہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں اسے یوحاوہ مل گئی ۔یوحاوہ کی مسکراہٹ نے اسے روک دیا ۔’’میں تسلیم نہیں کر سکتی ،ولید کا بیٹا جنگ سے ناکام لوٹ آیا ہے۔‘‘ یوحاوہ نے کہا اور خالد کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرنے لگی اور بولی۔’’ مجھے اس گھوڑے سے پیار ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑنے گیا ۔‘‘خالد یوں گھوڑے سے اتر آیا جیسے یوحاوہ کے جادو نے اسے گھوڑے سے زمین پر کھڑاکردیا ہو۔’’اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی کہ تم مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکے ۔‘‘یوحاہ نے کہا۔’’ تمہاری شکست ہماری شکست ہے۔ اب ہم تمہارا ساتھ دیں گے لیکن تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے بھی تم ہمیں اپنے ساتھ نہیں دیکھ سکو گے۔۔‘‘خالد نے یوں محسوس کیا جیسے اس کی زبان بند ہو گئی ہو۔ تلواروں برچھیوں اور تیروں کی بوچھاڑوں کا مقابلہ کرنے والا خالد یوحاوہ کی مسکراہٹ کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ ’’اگر یہودی ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے تو ہمارے کس کام آ سکیں گے؟‘‘ خالد نے پوچھا۔’’ کیا تم سمجھتے ہو کہ صرف تیر ہی انسان کے جسم سے پار ہو جاتا ہے؟‘‘ یوحاوہ نے کہا ۔’’عورت کا تبسم تم جیسے دلیر اور جری مردوں کے ہاتھوں سے تلوار گرا سکتا ہے۔‘‘ خالد اس سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن کچھ پوچھ نہ سکا ۔یوحاوہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پھولوں کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر تبسم آ گیا ۔یوحاوہ آگے چل پڑی ۔خالد اسے دیکھتا رہا ۔ اس کے گھوڑے نے کھر مارا تو خالد اپنے آپ میں آ گیا۔ وہ بڑی تیزی سے گھوڑے پر سوار ہوا اور چل پڑا۔ کچھ دور آ کر اس نے پیچھے دیکھا ۔یوحاوہ رک کر اسے دیکھ رہی تھی۔ یوحاوہ نے اپنا ہاتھ ذرا اوپر کر کے لہرایا ۔
اب جب کہ دو مسلمانوں کو نیلام کیا جا رہا تھا اور خالد کو ایک آدمی نے بتایا تھا کہ ان مسلمانوں کو کس طرح دھوکے میں لایا گیا ہے اور اس آدمی نے یوحاوہ کا نام بھی لیا تو اس نے ارادہ کر لیا کہ معلوم کرے گا کہ یوحاوہ نے وہ جادو کس طرح چلایا ہے۔ اسے اپنے قبیلے کاایک سرکردہ آدمی مل گیا۔ اس سے اسے پتا چلاکہ یہ مسلمان اہلِ قریش کے ہاتھ کس طرح آئے ہیں ۔تین چار سرکردہ یہودی یوحاوہ اور دو تین اور یہودیوں کو ساتھ لے کر شارجہ بن مغیث کے پاس چلے گئے ۔یہ قبیلہ تھا تو جنگجو لیکن اس پر مسلمانوں کارعب کچھ اس طرح طاری ہو گیاتھا جیسے لوگ جادوگروں سے ڈرتے تھے۔ اس قبیلے میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ رسولِ اکرمﷺ کے ہاتھ میں کوئی جادو ہے۔ یہودیوں نے اپنی زمین دوز کارروائیوں کیلئے اس قبیلے کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ جنگجو قبیلہ تھا ۔یہودی بڑی دانشمند قوم تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر مسلمانوں کے جادو کا وہم پھیل گیا تو دوسرے قبیلے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ یہ یہودی اس قبیلے کے سردار شارجہ بن مغیث کے پاس گئے اور اس کا یہ وہم دور کرنے کیلئے کہ مسلمان جادوگر ہیں ،اسے بہت کچھ کہا۔ لیکن شارجہ بن مغیث نے تسلیم نہ کیا۔رات کو یہودیوں کے کہنے پر شارجہ بن مغیث نے ان مہمانوں کی ضیافت کا انتظام باہر کھلے آسمان تلے کیا۔ ان یہودیوں نے اپنے ہاتھوں اپنے میزبانوں کو شراب پلائی۔شارجہ بن مغیث اور اس کے قبیلے کے چند ایک سرکردہ افراد کوجو شراب پلائی گئی اس میں یہودیوں نے کوئی سفوف سا ملا دیا تھا، پھر یہودیوں نے اپنے جادو کے کچھ شعبدے دکھائے۔یوحاوہ نے اپنے حسن کا جادو چلایا۔ اس کا ذریعہ ایک رقص بھی تھا جس میں یہ یہودنیں نیم ہرہنہ تھیں۔ ناچتے ناچتے ان کے جسموں پر جو ادھورے سے لباس تھے وہ بھی سرک کر زمین پر جا پڑے ۔یہودی اپنے سازندے ساتھ لے گئے تھے۔
اگلے روز جب شارجہ بن مغیث کی آنکھ کھلی تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ بڑے ہی حسین خواب سے جاگا ہو۔ اس کے خیالات بدلے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ پھر اپنے قبیلے کے دوسرے سرداروں کیساتھ یہودیوں کے پاس بیٹھا تھا۔ یہودنیں بھی وہاں موجود تھیں۔ یوحاوہ کو دیکھ کر وہ بے قابو ہو گیا۔ اس نے لپک کریوحاوہ کا بازو پکڑا اور اسے کھینچ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔’’ضروری نہیں کے دشمن کو میدان میں للکار کر اسے شکست دی جائے ۔‘‘ایک یہودی نے کہا ۔’’ہم مسلمانوں کو دوسرے طریقوں سے بھی ختم کر سکتے ہیں اس کا ایک طریقہ ہم تمہیں بتاتے ہیں۔‘‘خالد کو بتایا گیا کہ ان چھ مسلمانوں کو مدینے سے دھوکے سے لانے کا یہ طریقہ یہودیوں نے بتایا تھا اور شارجہ بن مغیث نے جو آدمی رسولِ کریمﷺ کے پاس بھیجے تھے ان میں ایک یہودی بھی تھا ۔خالد مسلمانوں کو اپنابد ترین دشمن سمجھتا تھا لیکن اسے یہ غیر جنگی طریقے اچھے نہیں لگتے تھے ۔
خالد اپنے گھر گیا۔ اپنی ایک خادمہ سے کہاکہ وہ یوحاوہ یہودن کو بلا لائے۔یوحاوہ اتنی جلدی اس کے پاس آئی جیسے وہ اس کے بلاوے کے انتظار میں قریب ہی کہیں بیٹھی تھی۔’’تم نے مسلمانوں کو کامیابی سے دھوکا دیا ہے۔‘‘خالد نے یوحاوہ سے کہا۔’’ اورمغیث کے قبیلے کے لوگ تمہیں جادوگرنی کہنے لگے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ مجھے پسند نہیں آیا۔‘‘’’میری بات غور سے سنو خالد !’’تم اپنے قبیلے کے نامور جنگجو ہو لیکن تم میں عقل کی کمی ہے۔ دشمن کو مارناہے ۔تلوار سے مارو اور اسے تیکھی نظروں سے ہلاک کر دو، تیر اور تلوار چلائے بغیر دشمن کو کوئی مجھ جیسی عورت ہی مار سکتی ہے۔ آج چار برس بعد وہ جب صحرا میں تنہا جا رہا تھا۔ تو یوحاوہ کی باتیں اُسے یاد آ رہی تھیں۔ اس حد تک تو وہ خوش تھا کہ یہودی ان کے ساتھ تھے لیکن اسے یہ بھی معلوم تھاکہ یہودیوں کی دوستی میں جہاں مسلمانوں کی دشمنی ہے وہاں ان کے اپنے مفادات بھی ہیں ۔البتہ ا س نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ یوحاوہ اگر جادوگرنی نہیں تو اس کے سراپا میں جادوکا کوئی اثر ضرور ہے۔خالد کا گھوڑا مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا ۔ اس کے ذہن میں پھر خبیب ؓبن عدی اور زیدؓ بن الدثنہ آگئے۔ لوگ ان کی بولیاں بڑھ بڑھ کر دے رہے تھے۔ آخر سودا ہو گیا اور قریش کے دو آدمیوں نے انہیں بہت سے سونے کے عوض خرید لیا۔ یہ دونوں آدمی ان دونوں صحابیوںؓ کو ابو سفیان کے پاس لے گئے ۔’’ہم نے اپنے عقیدے سے ہٹ کر محمد )ﷺ(کے پاس چلے جانے والے ان دو آدمیوں کو اس لئے خریدا ہے کہ ان اہلِ قریش کے خون کا انتقام لیں جو احد کے میدان میں مارے گئے تھے۔‘‘ انہیں خریدنے والوں نے کہا ۔’’ہم انہیں آپ کے حوالے کرتے ہیں ۔آپ قریش کے سردار و سالار ہیں۔‘‘’’ہاں!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’مکہ کی زمین مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے ۔ان دو مسلمانوں کا خون اپنی زمین کو پلا دو۔لیکن مجھے یاد آ گیا ہے کہ یہ مہینہ جو گزر رہا ہے ہمارے دیوتاؤں عزیٰ اور ہبل کا مقدس مہینہ ہے ۔یہ مہینہ ختم ہو لینے دو ۔اگلے دن انہیں کھلے میدان میں لے جا کر لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ باندھ دینا اور مجھے بلا لینا۔‘‘خالد نے جب ابو سفیان کا یہ حکم سنا تو وہ اس کے پاس گیا۔ ’’مجھے آپ کا یہ فیصلہ اچھا نہیں لگا ۔‘‘خالد نے ابو سفیان سے کہا ۔’’ہم دگنی اور تگنی تعداد میں ہوتے ہوئے اپنی زمین کو مسلمانوں کا خون نہیں پلا سکے تو ہمیں حق حاصل نہیں کہ دو مسلمانوں کو دھوکے سے یہاں لا کر ان کا خون بہایا جائے ۔ابو سفیان کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو دھوکا دینے والی تین چار عورتیں تھیں ؟کیا آپ اپنے دشمن سے یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ اہلِ قریش اب عورتوں کی آڑ میں بیٹھ گئے ہیں؟‘‘
’’خالد!‘‘ ابو سفیان نے با رعب لہجے میں کہا۔’’ خبیب اور زید کو میں بھی اتنا ہی اپنے قریب سمجھا کرتا تھا جتنا تم انہیں اپنے قریب سمجھتے تھے ۔تم اب بھی انہیں اپنے قریب سمجھ رہے ہو ؟اور یہ بھول رہے ہو کہ اب یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اگر تم انہیں آزاد کرانا چاہتے ہو تو لاؤ اس سے دگنا سونا لے آؤ اور ان دونوں کو لے جاؤ۔‘‘ ’’نہیں!‘‘ پردے کے پیچھے سے ایک گرجدار نسوانی آواز آئی۔ یہ ابو سفیان کی بیوی ہند کی آواز تھی ۔اس نے غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔’’ حمزہ کا کلیجہ چبا کر بھی میرے سینہ میں انتقام کی آگ سرد نہیں ہوئی ہے ۔اگر ساری دنیا کا سونا بھی میرے آگے لا رکھو گے تو بھی میں ان دو مسلمانوں کو آزاد نہیں کروں گی۔‘‘’’ابو سفیان !‘‘خالد نے کہا۔’’ اگر میری بیوی میری بات کے درمیان یوں بولتی تو میں اس کی زبان کھینچ لیتا۔‘‘’’تم اپنی بیوی کی زبان کھینچ سکتے ہو؟‘‘ہند کی آواز آئی۔’’ تمہارا باپ نہیں مارا گیا تھا۔ تمہارا کوئی بیٹا نہیں مارا گیا اور تمہارا چچا بھی نہیں مارا گیا۔ایک بھائی قید ہوا تھا اور تم مسلمانوں کے پاس جا کر منہ مانگا فدیہ دے کر اپنے بھائی کو چھڑا لائے ۔آگ جومیرے سینہ میں جل رہی ہے تم اس کی تپش سے نا آشنا ہو۔‘‘خالد نے ابو سفیان کی طرف دیکھا ۔ابو سفیان کے چہرے پر جہاں مردانہ جاہ و جلال اور ایک جنگجو سردار کا تاثر تھا۔ وہاں ایک خاوند کی بے بسی کی جھلک بھی تھی۔ ’’ہاں خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا ۔’’جس کے دل پر چوٹ پڑتی ہے ا سکے خیالات تم سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔کسی کو اپنا دشمن کہنا کچھ اور بات ہے لیکن اپنے دشمن کو پنے کسی عزیز کا خون بخش دینا بڑی ہی ناممکن بات ہے۔ تم کس کس کو قائل کرو گے کہ وہ ان دو مسلمانوں کی جان بخشی کر دے؟تم جاؤ خالد۔ ان دو مسلمانوں کو اپنے قبیلے کے رحم و کرم پر چھوڑ دو۔‘‘خالد خاموشی سے واپس چلا گیا۔پھر خالد کو وہ بھیانک منظر یاد آیا جب باہر میدان میں لکڑی کے دو کھمبوں کے ساتھ خبیبؓ اور زیدؓبندھے کھڑے تھے۔ تماشائیوں کا چیختا چلاتا ہوا ہجوم اکھٹا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے ابو سفیان اور ہند گھوڑوں پر سوار ہجوم میں داخل ہوئے ۔ہجوم کے نعرے اور انتقامی نعرے پہلے سے زیادہ بلند ہو گئے۔ اگر اس ہجوم میں کوئی خاموش تھا تو صرف خالد تھا۔
ابو سفیان گھوڑے پر سوار دونوں قیدیوں کے قریب گیا اور دونوں نے اسے کہا کہ’’ وہ زندگی کی آخری نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے انہیں اجاز ت دے دی ۔خالد اب مدینہ کی طرف جا رہا تھا۔ اسے جب وہ منظر یاد آیا کہ دونوں قیدیوں کے ہاتھ کھول دیئے گئے اور وہ قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔خالدپر اس وقت جو اثر ہوا تھا وہ اب چار برس بعد اس کی ذات سے ابھر آیا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے خالد کا سر جھک گیا ۔خبیبؓ بن عدی اور زیدؓ بن الدثنہ ہجوم کی چیخ و پکار سے لا تعلق پنی موت سے بے پرواہ خدا کے حضور رکوع و سجود میں محوَ تھے۔ انہوں نے نہایت اطمینان سے نماز پڑھی ۔دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ کوئی نہی بتا سکتا، تاریخ بھی خاموش ہے کہ انہوں نے خدا سے کیا دعا مانگی؟ انہوں نے خدا سے یہ نہیں کہا ہوگا کہ دشمن انہیں آزاد کردے۔وہ اٹھے اورخود ہی لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ پیٹھیں لگا کر کھڑے ہو گئے۔ ’’او بد قسمت انسانو! ‘‘ابو سفیان نے بڑی بلند آواز سے خبیبؓ اور زیدؓ سے کہا۔’’ تمہاری قسمت اور زندگی میرے ہاتھ میں ہے۔ا پنی زبانوں سے کہہ دو کہ ہم اسلام کو ترک کرتے ہیں اور اب ہم اہلِ قریش میں سے ہیں اور تین سو ساٹھ بتوں کو برحق مانتے ہیں ۔یہ اعلان کر دو اور اپنی زندگیاں مجھ سے واپس لو۔اگر نہیں تو موت کو گلے لگاؤ۔یہ بھی سوچ لو کہ تمہاری موت سہل نہیں ہو گی۔‘‘’’اے باطل کے پجاری ابو سفیان!‘‘زیدؓ کی آواز گرجی۔ ’’ہم لعنت بھیجتے ہیں پتھر کے ان بتوں پر جو اپنے اوپر بیٹھی ہوئی مکھی کوبھی نہیں اڑا سکتے۔ ہم لعنت بھیجتے ہیں عزیٰ اور ہبل پر جو تمہیں اگلے جہان دوزخ کی آگ میں پھینکیں گے۔ ہم پجاری ہیں اس ایک اﷲ کے جو رحمٰن اور رحیم ہے اور ہم عاشق ہیں محمد )ﷺ(کے جو اﷲکے رسول ہیں۔‘‘ ’’میرا رستہ وہی ہے جو زید نے تمہیں دِکھا دیا ہے۔‘‘ خبیب نے بلند آواز سے کہا۔’’اے اہلِ مکہ !سچا وہی ہے جس کے نام پر ہم قربان ہو رہے ہیں۔ ہمیں نئی زندگی ملے گی جواس زندگی سے بہت زیادہ حسین اور مقدس ہو گی۔‘‘’’باندھ دو انہیں ان کھبوں کے ساتھ ۔‘‘ابو سفیان نے حکم دیا۔ ’’یہ موت کا ذائقہ چکھنے کے مشتاق ہیں ۔‘‘دونوں کے ہاتھ پیچھے کرکے کھمبوں کے ساتھ جکڑ دیئے گئے ۔ابو سفیان نے گھوڑا موڑا اور ہجوم کی طرف آیا۔
’’عزیٰ اور ہبل کی قسم! ‘‘ابو سفیان نے بلند آواز سے ہجوم سے کہا۔’’ میں نے اپنے قبیلے میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں دیکھا جو اپنے سردار پر اس محبت اور ایثار سے جان قربان کرنے کیلئے تیار ہو۔جس طرح محمد)ﷺ( کے پیروکار اس کے نام پر فدا ہوتے ہیں ۔‘‘ہند اپنے گھوڑے پر سوار کچھ دور کھڑی تھی۔ اس کے قریب اس کے چند ایک غلام کھڑے تھے۔ ایک غلام نے اپنے آقاؤ ں کو خوش کرنے کیلئے جوش کا ایسا مظاہرہ کیا کہ برچھی تان کر دونوں قیدیوں کی طرف کسی کے حکم کے بغیر بڑی تیز دوڑا اور کھمبے سے بندھے زیدؓ کے سینے پر برچھی کااتنا زور داروار کیا کہ برچھی کی انی زید کی پیٹھ سے باہر نکل گئی۔ زیدؓ بن الدثنہ فوراً شہید ہو گئے۔اس غلام نے سینہ تان کر ہجوم کی طرف خراجِ تحسین کی توقع پر دیکھا لیکن ہجوم کچھ اور ہی قسم کا شور بلند کرنے گا ۔تماشائی کہتے تھے کہ’’ یہ کوئی تماشا نہیں ہوا ۔یہ مسلمان اتنی سہل موت کے قابل نہیں ۔ہمیں کوئی تماشا دِکھاؤ۔‘‘’’ قتل کر دو اس غلام کو جس نے ایک مسلمان پر اتنا رحم کیا ہے کہ اسے اتنی جلدی مار ڈالا ۔‘‘ہند نے دبی آواز میں کہا ۔کئی آدمی تلواریں اور برچھیاں لہراتے اس غلام کی طرف دوڑے لیکن بہت سے آدمی دوڑ کر ان آدمیون اور غلام کے درمیان آ گئے۔ ’’خبردار! پیچھے کھڑے رہو۔‘‘ ایک آدمی نے جو گھوڑے پر سوار تھا للکار کر کہا ۔’’عربی خون اتنا بزدل نہیں کہ دو آدمیوں کو باندھ کر مارنے کیلئے قریش کاپورا قبیلہ اکھٹا ہو گیا ہے ۔خداکی قسم! ابو سفیان کی جگہ اگرمیں ہوتا تو ان دونوں آدمیوں کو آزاد کر دیتا۔ یہ ہمارا خون ہیں اور یہ ہمارے مہمان ہیں ۔ہم ان سے میدان ِجنگ میں لڑیں گے۔یہ خالد تھا ۔‘‘’’یہ ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ ہجوم میں سے کئی آوازیں سنائی دیں ۔’’دشمن کو باندھ کر مارنا عرب کی روایت کے خلا ف ہے۔‘‘تماشائیوں کے ہجوم میں سے بے شمار آوازیں ایسی سنائی دے رہی تھیں جو کہتی تھیں کہ ’’ہم تماشا دیکھیں گے۔ ہم دشمن کواس طرح ماریں گے کہ وہ مر مر کے جیئے۔‘‘تھوڑی دیر بعد تماشائیوں کا ہجوم دو حصوں میں بٹ گیا کہ ایک گروہ خبیبؓ کے قتل کے خلاف تھا اسے وہ عرب کی روایتی بہادری کے منافی سمجھتا تھا اور دوسرا گروہ خبیبؓ کو تڑپا تڑپا کہ مارنے کے نعرے لگا رہا تھا۔خالد نے جب اہلِ مکہ کو اور دور دور سے آئے ہوئے تماشائیوں کو اس طرح ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا تو وہ دوڑتاہوا ابو سفیان تک گیا۔
’’دیکھ لیا ابو سفیان!‘‘خالد نے کہا ۔’’دیکھ لیں ۔یہاں میرے کتنے حامی ہیں ،ایک کو مار دیا ہے دوسرے کو چھوڑ دیں ورنہ اہلِ قریش آپس میں ٹکرا جائیں گے ۔‘‘ہند نے خالد کو ابو سفیان کے پاس کھڑے دیکھا تو وہ سمجھ گئی کہ خالد بھی خبیبؓ کی رہائی کا حامی ہے۔ ہند نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ان دونوں کے پاس جا پہنچی۔’’خالد!‘‘ہند نے سخت بپھری ہوئی آواز میں کہا۔’’ میں جانتی ہوں تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم ابو سفیان کو اپنا سردار نہیں مانتے؟اگر نہیں تو یہاں سے چلے جاؤ۔ میں نے جو سوچاہے وہ ہو کر رہے گا۔ ‘‘’’خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’ا گر تم سمجھتے ہو کہ میرا حکم ا ور میرے ارادے صحیح نہیں تو بھی مجھے ان پر عمل کر نے دو۔اگرمیں نے اپنا حکم واپس لے لیا تو یہ میری کمزوری ہو گی۔ پھر لوگ میرے ہر حکم پر یہ توقع رکھیں گے کہ میں اپنا حکم واپس لے لوں۔‘‘خالد کو آج مدینہ کے راستے میں یاد آ رہا تھا اور اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے ابو سفیان کا حکم مان لیا تھا ۔خالد کی خوبیوں میں سب سے بڑی خوبی نظم و نسق اور اپنے سردار کی اطاعت تھی۔اس نے اپنے سینے پر پتھر رکھ کر صرف اس لئے ابوسفیان کا حکم مان لیا تھاکہ اہلِ قریش میں حکم عدولی کی روایت قائم نہ ہو۔’’اے اہلِ مکہ!‘‘ ابو سفیان نے دو گروہوں میں بٹے ہوئے تماشائیوں سے بلند آواز میں کہا۔’’ا گر آج یہاں دو مسلمانوں کے قتل پرہم یوں بٹ گئے تو ہم میدانِ جنگ میں بھی کسی نہ کسی مسئلے پربٹ جائیں گے اور فتح تمہارے دشمن کی ہو گی۔ اگر اپنے سردار کی اطاعت سے یوں انحراف کرو گے تو تمہارا انجام بہت برا ہو گا۔‘‘ ہجوم کا شورور غوغا کم ہو گیا لیکن خالد نے دیکھا کہ اہلِ مکہ کے کئی ایک سردار چہروں پر نفرت کے آثار لیے واپس گھروں کو جا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر بہت سے لوگ بھی جو تماشا دیکھنے آئے تھے واپس چلے گئے۔ خالد وہاں نہیں رکنا چاہتا تھا لیکن وہ خطرہ محسوس کر رہا تھا کہ دونوں گروہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ اس کے اپنے قبیلے کے زیادہ تر لوگ تماشائیوں میں موجود تھے وہ کم از کم اپنے قبیلے کو اپنے قابو میں رکھ سکتا تھا ۔ہند نے تماشے کا پورا انتظام کر رکھا تھا۔ اس کے اشارے پر چالیس کم سن لڑکے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں، دوڑتے اور چیختے چلاتے ہوئے تماشائیوں میں سے نکلے اور خبیبؓ کے اردگرد ناچنے اور چیخنے چلانے لگے۔
دو چار لڑکے برچھیاں تانے ہوئے خبیبؓ تک جاتے اوردوڑ کر خبیبؓ پر وار کرتے تھے لیکن خبیبؓکو گزند پہنچائے بغیر ہاتھ روک لیتے ،خبیب ؓبدکتے اور نعرہ لگاتے تھے۔ ’’میرا خدا سچا ہے اورمحمد)ﷺ( خدا کے رسول ہیں۔‘‘ چند اور لڑکے اس طرح برچھیاں تان کران پر ہلہ بولتے جیسے خبیبؓ کے جسم کو چھلنی کر دیں گے لیکن وار کرکے وار روک لیتے۔ خبیب ؓکے بدکنے پر تماشائیوں کا ہجوم دادوتحسین کے نعرے اور قہقہے لگاتا ۔لڑکوں کا یہ کھیل کچھ دیر جاری رہا اس کے بعد لڑکوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ برچھی کا وار بڑی زور سے کرتے لیکن خبیبؓ کے جسم پر اتنا سا وار لگتا کہ برچھیوں کی انّیاں کھال میں ذرا سی اتر کر پیچھے جاتیں۔ بہت دیر تک یہی کھیل چلتا رہا۔ تماشائی دادوتحسین کے نعرے اور خبیبؓ اﷲ اکبر اور محمد رسول اﷲ)ﷺ(کے نعرے بلند کرتے رہے۔خبیبؓ کے کپڑے خون سے لال ہو چکے تھے ۔ابو جہل کا بیٹا عکرمہ ہاتھ میں برچھی لیے ان لڑکوں کے پاس جا پہنچا اور انہیں ہدایات جاری کرنے لگا ۔لڑکے اب اپنی برچھیاں خبیب ؓکے جسم میں چبھو رہے تھے ۔وہ گول دائرے میں گھومتے اور ناچتے تھے۔ خبیبؓ کے جسم کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ رہا جہاں برچھی نہ چبھی ہو اور وہاں سے خون نہ ٹپک رہا ہو۔ ان کے چہرے پر بھی برچھیاں ماری گئیں ۔جب بہت دیر گزر گئی اور لڑکے ناچ ناچ کر اور برچھیاں چبھو چبھو کر تھک گئے تو عکرمہ نے لڑکوں کو وہاں سے ہٹا لیا۔ خبیبؓ خون میں نہائے ہوئے تھے اور ابھی زندہ تھے۔ اورہر طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کے نعروں میں کمی نہیں آئی تھی۔ عکرمہ ان کے سامنے کھڑا ہو گیا اور برچھی تان کر خبیبؓ کے سینے امیں اتنی زور سے ماری کہ فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے برچھی خبیب ؓکے جسم سے پار ہو گئی۔ خبیبؓ شہید ہو گئے۔‘‘ ’’ان کی لاشیں یہیں بندھی رہنے دو ۔‘‘ہند کی گرجدار آواز سنائی دی۔ ’’اب کئی دن ان کی لاشوں کے گلنے سڑنے کا تماشا دیکھتے رہو۔‘‘یہ واقعہ جولائی ۶۲۵ء کا تھا۔جو خالد کو یاد آ رہا تھا ۔اس نے اپنے دل میں درد کی ٹیس محسوس کی۔خبیبؓ اور زیدؓ کے قتل نے قریش کے سرداروں میں اختلاف کا بیج بو دیا تھا۔ جس طرح ان دو مسلمانوں نے آخری وقت نماز پڑھی اور اسلام سے نکل آنے پر موت کو ترجیح دی تھی۔ اس نے قریش کے کئی سرداروں پرگہرا اثر چھوڑا تھا ۔خود خالد نے اگر اسلام کی نہیں تو خبیبؓ اور زیدؓ کی دل ہی دل میں بہت تعریف کی تھی۔
ابوسفیان اور اس کی بیوی ہند کے خلاف اس کے دل میں نا پسندیدگی پیدا ہو گئی تھی۔’’ جنگجوؤں کا شیوہ نہیں تھا۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا ۔’’یہ جنگجوؤں کو زیب نہیں دیتا ۔‘‘ایک روز وہ ان سرداروں کی محفل میں بیٹھا تھا جو رسولِ خدا ﷺ کے ان دو اصحابؓ کے قتل کے خلاف تھے ۔’’کیا تم سب جانتے ہو کہ مارے جانے والے یہی دو نہیں بلکہ چھ مسلمان تھے۔‘‘خالد نے پوچھا۔’’ہاں!‘‘ ایک نے جواب دیا۔’’ یہ شارجہ بن مغیث کا کام ہے ۔وہ ان چھ مسلمانوں کو دھوکے سے پھندے میں لایاتھا۔‘‘’’اوراس کے پیچھے مکہ کے یہودیوں کا دماغ کام کر رہا ہے۔‘‘ خالد نے کہا ۔’’اور اس میں یوحاوہ یہودن نے دوتین اور یہودی لڑکیاں ساتھ لے جا کر اپنے اور ان کے حسن کا جادو چلایا۔یوحاوہ جادوگرنی ہے۔‘‘ایک سردار نے کہاکہ’’ بھائی کو بھائی کے ہاتھوں ذبح کرا سکتی ہے۔ کیا یہ خطرہ نہیں کہ یہودی ہمیں بھی ایک دوسرے کا دشمن بنا دیں گے ۔‘‘کسی اور سردار نے کہا۔’’ نہیں ۔‘‘ایک بوڑھا سردار بولا۔’’ وہ محمد کے اتنے ہی دشمن ہیں جتنے ہم ہیں ۔یہودیوں کامفاد اس میں ہے کہ وہ ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی اتنی پکی اور اتنی شدید کر دیں کہ ہم مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیں ۔‘‘’’ہمیں یہودیوں پر شک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ایک سردار نے کہا۔’’ بلکہ ضرورت یہ ہے کہ ہم یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف زمین کے نیچے استعمال کریں ۔‘‘لیکن ایسے نہیں جیسے شارجہ نے کیا ۔خالد نے کہا ور ایسے بھی نہیں کہ جیسے ابو سفیان اور اس کی بیوی نے کیا ’’کیا تم سب جانتے ہو کہ یوحاوہ مکہ کے چند ایک یہودیوں کے ساتھ مدینہ چلی گئی ہے؟‘‘ بوڑھے سردار نے پوچھا ۔اور خود ہی جواب دیا۔’’ وہ مدینہ اور اردگرد کے یہودیوں اور دوسرے قبائل کو مسلمانوں کے خلاف ابھاریں گے ۔اسلام کے فروغ سے وہ لوگ خود خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ اگر محمد)ﷺ( کا عقیدہ پھیلتا چلا گیا تو اور میدانِ جنگ میں محمد )ﷺ(کے پیروکاروں کا جذبہ یہی رہا تو جو ہم دیکھ چکے ہیں تو خدائے یہودہ کا سورج غروب ہو جائے گا۔‘‘ ’’لیکن یہودی لڑنے والی قوم نہیں ۔‘‘خالد نے کہا ۔’’وہ میدانِ جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دی سکتی۔‘‘’’مسلمانوں کیلئے وہ میدانِ جنگ میں زیادہ مہلک ثابت ہوں گے۔‘‘ ایک اور سردار نے کہا۔’’ وہ اپنی یوحاوہ جیسی دل کش لڑکیوں کے ذریعے مسلمان سرداروں اور سالاروں کو میدانِ جنگ میں اترنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
یوحاوہ کا کردار خالد بھلا نہیں پا رہا تھا اور چار برس پرانی باتیں اسے سنائی دے رہی تھیں ۔وہ مدینہ کی طرف چلا جا رہا تھا اور احد کی پہاڑی اوپر اٹھتی چلی آ رہی تھی ۔پھر یہ پہاڑی اس کی نظروں سے اوجھل ہونے لگی۔اس کا گھوڑا گھاٹی اتر رہا تھا۔ یہ کوئی ایک میل لمبا اور ڈیڑھ دو فرلانگ چوڑا نشیب تھا۔ اس میں کہیں کہیں مخروطی ٹیلے کھڑے تھے۔ یہ ریتیلی مٹی کے تھے ۔خالد کو دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے چونک کراُدھر دیکھا اور اس کاہاتھ تلوار کے دستے پر چلا گیا ۔وہ چار پانچ غزال تھے جو اس سے نیچے دوڑتے جا رہے تھے ۔کچھ دور جا کرایک غزال نے دوسرے غزال کے پہلو میں ٹکرماری پھر دونوں غزال آمنے سامنے آ گئے اور ان کے سر ٹکرانے لگے ۔دوسرے غزال انہیں دیکھنے رک گئے۔’’اتنے خوبصورت جانور آپس میں لڑتے اچھے نہیں لگتے۔‘‘ خالدانہیں دیکھتا رہا ۔ایک تماشائی غزال نے خالد کے گھوڑے کو دیکھ لیا۔ا س نے گردن تانی اور کھر زمین پر مارا۔ لڑنے والے غزال جہاں تھے وہیں ساقط و جامد ہو گئے اور پھر تمام غزال ایک طرف بھاگ کھڑے ہوئے اور خالدکی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔قریش کے سردار دو گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کی آپس میں دشمنی پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن پیار محبت اتحاد والی پہلی سی بات بھی نہیں رہی تھی۔خالد کو یاد آ رہا تھاکہ سب ابو سفیان کی سرداری اور سالاری کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن کھچاؤ سا پیدا ہو گیا تھا۔ جب اتحاد کی ضرورت تھی اس وقت اہلِ قریش نفاق کے راستے پر چل نکلے تھے۔ خالد کو یہ صورت حال سخت ناگوار گزرتی تھی۔’’کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپس کا نفاق دشمن کو تقویت دیا کرتا ہے؟‘‘خالد نے ایک روز ابو سفیان سے کہا تھا ۔’’کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس نفاق کو اتفاق میں کس طرح بدلہ جا سکتا ہے ؟‘‘’’بہت سوچا ہے خالد!‘‘ابو سفیان نے اکتائے ہوئے سے لہجے میں کہا تھا۔’’ بہت سوچا ہے۔ سب مجھے پہلے کی طرح ملتے ہیں لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ بعض کے دل صاف نہیں ۔کیا تم کوئی صورت پیدا کر سکتے ہو کہ دلوں سے مَیل نکالا جائے؟‘‘ ’’ہاں! میں نے ایک صورت سوچ رکھی ہے ‘‘۔خالد نے کہا تھا۔ ’’میں یہی تجویز آپ کے سامنے لا رہا تھا ،جن سرداروں کے دلوں میں میل پیدا ہوگئی ہے وہ اب سمجھنے لگے ہیں کہ ہم نام کے جنگجو رہ گئے ہیں اور ہم نے مسلمانوں کا ڈر اپنے دلوں میں بٹھا لیا ہے ۔شارجہ نے چھ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اور ان میں سے دو کو آپ کے ہاتھوں مروا کر ہماری شکل و صورت ہی بدل ڈالی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ ہم مدینہ پر حملہ کریں یا مسلمانوں کو کہیں للکاریں اور ثابت کر دیں کہ ہم جنگجو ہیں اور ہم مسلمانوں کو ختم کر کے ہی دم لیں گے۔
’’ہمارے پاس جواز موجود ہے۔‘‘ابو سفیان نے کہا تھا۔’’ میں نے اُحد کی لڑائی میں آخر میں محمد )ﷺ(کو للکار کر کہا تھا کہ تم نے بدر میں ہمیں شکست دی تھی۔ ہم نے احد کی پہاڑی کے دامن میں انتقام لے لیا ہے ۔میں نے محمد سے یہ بھی کہا تھا کہ قریش کے سینوں میں انتقام کی آگ جلتی رہے گی ۔ہم اگلے سال تمہیں بدر کے مقام پر للکاریں گے۔‘‘’’ہاں! مجھے یاد ہے ۔‘‘خالد نے کہا۔’’ ادھر سے عمر کی آواز آئی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ ہمارے اﷲ نے چاہا تو ہماری اگلی ملاقات بدر کے میدان میں ہی ہو گی۔‘‘’’آواز تو عمر کی تھی،الفاظ محمد )ﷺ(کے تھے۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’محمد)ﷺ( بہت زخمی تھا۔ وہ اونچی آواز میں بول نہیں سکتا تھا۔ میں محمد)ﷺ( کو پیغام بھیجتا ہوں کہ فلاں دن بدر کے میدان میں آجاؤ اور اپنے انجام کو پہنچو۔‘‘دونوں نے ایک دن مقرر کر لیا اور فیصلہ کیا کہ کسی یہودی کو مدینہ بھیجا جائے۔دوسرے ہی دن ابو سفیان نے قریش کے تمام سرداروں کو اپنے ہاں بلایا اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ مسلمانوں کو بدر کے میدان میں للکار رہا ہے۔ قریش یہی خبر سننے کے منتظر تھے۔ انہیں اپنے عزیزوں کے خون کا انتقام لینا تھا۔ان کے دلوں میں رسول اﷲﷺ کی نفرت بارود کی طرح بھری ہوئی تھی۔جوا یک چنگاری کی منتظر تھی۔وہ کہتے تھے کہ محمد )ﷺ(نے باپ بیٹے کو اور بھائی بھائی کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے۔ابو سفیان کے اس اعلان نے سب کے دل صاف کر دیئے اور وہ جنگی تیاریوں کی باتیں کرنے لگے۔ایک دانشمند یہودی کو پیغام دیا گیا کہ وہ مدینہ جا کر نبی کریمﷺ کو دے کر جواب لے آئے۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ وہ اس روز کس قدر مطمئن اور مسرور تھا۔ قریش کے سرداروں کے دلوں میں جو تکدر پیدا ہو گیا تھا وہ صاف ہو گیا تھا ۔خالد بڑ ہانکنے والا آدمی نہیں تھا لیکن اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ رسولِ خداﷺ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے گا۔یہودی ایلچی جواب لے کر آ گیا۔رسول اﷲﷺ نے ابو سفیان کی للکار کو قبول کر لیا تھا۔لڑائی کا جو دن مقرر ہوا وہ مارچ ۶۲۶ء کا ایک دن تھا لیکن ہوا یوں کہ سردیوں کے موسم میں جتنی بارش ہوا کرتی تھی اس سے بہت کم ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ موسم تقریباً خشک گزر گیا اور مارچ کے مہینے میں گرمی اتنی زیادہ ہو گئی جتنی اس کے دو تین ماہ بعد ہوا کرتی تھی ۔ابو سفیان نے اس موسم کو لڑائی کیلئے موزوں نہ سمجھا۔اس یاد نے خالد کو شرمسار سا کر دیا۔وجہ یہ ہوئی تھی کہ ابو سفیان موسم کی گرمی کا بہانہ بنا رہا تھا۔ مشہور مؤرخ ابنِ سعد لکھتا ہے کہ ابو سفیان نے قریش کے سرداروں کو بلا کر کہا کہ وہ کوچ سے پہلے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس نے یہودیوں کی خدمات حاصل کیں اور انہیں خاصی اجرت دے کر تاجروں کے بھیس میں مدینہ بھیج دیا۔انہیں ابو سفیان نے یہ کام سونپا تھا کہ وہ مدینہ میں یہ افواہ پھیلائیں کہ قریش اتنی زیادہ تعداد میں بدر کے میدان میں آ رہے ہیں جو مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی
اس مؤرخ کے مطابق ،مدینہ میں اس افواہ کو سچ مانا گیا اور مسلمانوں کے چہروں پر اس کے اثرات بھی دیکھے گئے۔جب رسولِ کریمﷺ تک یہ افواہ پہنچی اور یہ اطلاع بھی کہ بعض مسلمانوں پر خوف و ہراس کے اثرات دیکھے گئے ہیں تو رسولِ کریمﷺ نے باہر آ کر لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا:’’کیا اﷲ کے نام لیوا صرف یہ سن کر ڈر گئے ہیں کہ قریش کی تعداد زیادہ ہو گی؟کیا اﷲسے ڈرنے والے آج بتوں کے پجاریوں سے ڈرگئے ہیں ؟اگر تم قریش سے اس قدر ڈر گئے ہو کہ ان کی للکار پر تم منہ موڑ گئے ہو تو مجھے قسم ہے خدائے ذوالجلال کی !جس نے مجھے رسالت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ میں بدر کے میدان میں اکیلا جاؤں گا۔‘‘رسولِ خداﷺ کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے لیکن رسالتِ مآبﷺ کے شیدائیوں نے نعروں سے آسمان کو ہلا ڈالا۔یہ سراغ نہ مل سکا کہ افواہ کس نے اڑائی تھی لیکن رسول اﷲ ﷺ کی پکار پر قریش کی پھیلائی ہوئی افواہ کے اثرات زائل ہو گئے اور مسلمان جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ دن تھوڑے سے رہ گئے تھے۔ کوچ کے وقت مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار تھی۔ ان میں صرف پچاس گھوڑ سوار تھے۔جن یہودیوں کو افواہ پھیلانے کیلئے مدینہ بھیجا گیا تھا انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ’’ افواہ نے پہلے پورا کام کیا تھا لیکن ایک روز محمد)ﷺ( نے مسلمانوں کو اکھٹا کرکے چند ہی الفاظ کہے تو مسلمان بدر کو کوچ کیلئے تیار ہو گئے۔ان کی تعداد مدینہ میں ہماری موجودگی تک ڈیڑھ ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔ہمارا خیال ہے کہ تعداد اس سے کم یا زیادہ نہیں ہو گی۔‘‘آج مدینہ کو جاتے ہوئے اس واقعہ کی یاد نے خالد کو اس لیے شرمسار کر دیا تھا کہ وہ اس وقت محسوس کرنے لگا تھا کہ ابو سفیان کسی نہ کسی وجہ سے مسلمانوں کے سامنے جانے سے ہچکچا رہا ہے۔ خالد کو جب مسلمانوں کی تعداد کا پتا چلا تو وہ بھڑکا بپھرا ہوا ابو سفیان کے پاس گیا ۔’’ابو سفیان !‘‘خالد نے اسے کہا۔’’ سردار کی اطاعت ہمارا فرض ہے ۔میں اہلِ قریش میں سردار کی حکم عدولی کی روایت قائم نہیں کر نا چاہتا لیکن مجھے قریش کی عظمت کا بھی خیال ہے۔آپ اپنے رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ قبیلہ قریش کی عظمت کا احساس مجھ میں اتنا زیادہ ہو جائے کہ میں آپ کے حکم اور رویہ کی طرف توجہ ہی نہ دوں۔ ‘‘’’کیا تم نے سنا نہیں تھا کہ میں نے یہودیوں کو مدینہ کیوں بھیجا تھا۔‘‘ ابو سفیان نے پوچھا۔’’ میں مسلمانوں کو ڈرانا چاہتا تھا۔‘
’ابو سفیان!‘‘ خالد نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے کہا۔’’ لڑنے والے ڈرا نہیں کرتے۔ کیا آپ نے مسلمانوں کو قلیل تعداد میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا؟ کیا آپ نے خبیب اور زید کو اہلِ قریش کی برچھیوں کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے لگاتے نہیں سناتھا؟ میں آپ سے صرف یہ کہنے آیا ہوں کہ اپنی سرداری کا احترام کریں اور بدر کوچ کی تیاری کریں۔‘‘ دوسرے ہی دن مکہ میں یہ خبر پہنچی کہ مسلمان مدینہ سے بدر کی طرف کوچ کر گئے ہیں ۔اب ابو سفیان کے کیلئے اس کے سوا اورکوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ کوچ کاحکم دے ۔قریش کی جوتعداد بدر کو کوچ کیلئے تیار ہوئی وہ دو ہزار تھی اور ایک سو گھڑ سوار اس کے علاوہ تھے۔قیادت ابو سفیان کی تھی اور اس کے ماتحت خالد ،عکرمہ اور صفوان نائب سالار تھے۔ حسبِ معمول ابو سفیان کی بیوی ہند اور اس کی چند ایک کنیزیں اور گانے بجانے والی عورتیں بھی ساتھ تھیں۔مسلمان رسولِ اکرمﷺ کی قیادت میں ۴ اپریل ۶۲۶ء بمطابق یکم ذ ی القعد ۴ ہجری کے روز بدر کے میدان میں پہنچ گئے۔ قریش ابھی عسفان کے مقام تک پہنچے تھے ۔انہوں نے وہیں رات بھر کیلئے پڑاؤ کیا ۔علی الصبح ان کی روانگی تھی لیکن صبح طلوع ہوتے ہی ابو سفیان نے اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دینے کے بجائے اکھٹا کیا اور لشکر سے یوں مخاطب ہوا :’’قریش کے بہادرو! مسلمان تمہارے نام سے ڈرتے ہیں۔ اب ان کے ساتھ ہماری جنگ فیصلہ کن ہو گی۔ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا ہم نام و نشان مٹا دیں گے۔ نہ محمد اس دنیا میں رہے گا نہ کوئی اس کانام لینے والا۔ لیکن ہم ایسے حالات میں لڑنے جا رہے ہیں جو ہمارے خلاف جا سکتے ہیں اور ہماری شکست کا باعث بن سکتے ہیں ۔تم دیکھ رہے ہو کہ ہم اپنے ساتھ پورا اناج نہیں لا سکے ۔مزید اناج ملنے کی امید بھی نہیں کیونکہ خشک سالی نے قحط کی صورت پیدا کردی ہے پھر اس گرمی کو دیکھو۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے بہادروں کو بھوکا اور پیاسا مروا دوں۔میں فیصلہ کن جنگ کیلئے موزوں حالات کا انتظار کروں گا۔ہم آگے نہیں جائیں گے۔ مکہ کو کوچ کرو۔خالد کو یاد آ رہا تھا کہ قریش کے لشکر نے دو طرح کے نعرے بلند کیے۔ ایک ان کے نعرے تھے جو انہی حالات میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے تھے۔ دوسرے نعرے ابو سفیان کے فیصلے کی تائید میں تھے لیکن حکم سب کو ماننا تھا۔ خالد، عکرمہ اورصفوان نے ابو سفیان کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔
لیکن ابو سفیان پر ان کے احتجاج کا کچھ اثر نہ ہوا۔ ان تینوں نائب سالاروں نے یہ جائزہ بھی لیا کہ کتنے آدمی انکے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ جائزہ ان کے خلاف ثابت ہوا ۔لشکر کی اکثریت ابو سفیان کے حکم پر مکہ کی طرف کوچ کر گئی۔ خالد اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو مجبوراً لشکر کے پیچھے پیچھے آنا پڑا۔خالد کو وہ لمحہ یاد آ رہاتھا جب وہ اہلِ قریش کے لشکر کے پیچھے پیچھے عکرمہ اور صفوان کے ساتھ مکہ کو چلا جا رہا تھا۔ا س کا سر جھکا ہوا تھا ۔یہ تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے تھے جیسے ایک دوسرے سے شرمسار ہوں ۔خالد کو بار بار یہ خیال آتا تھا کہ لڑائی میں اس کی ایک ٹانگ کٹ جاتی۔ بازو کٹ جاتے ۔اس کی دونوں آنکھیں ضائع ہوجاتیں تو اسے یہ دکھ نہ ہوتا جو بغیر لڑے واپس جانے سے ہو رہا تھا۔اس وقت وہ اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے اس کی ذات مٹ چکی ہو اور گھوڑے پر اس کی لاش مکہ کو واپس جا رہی ہو۔نبی کریمﷺ کا قتل اس کا عزم اور عہد تھا جو وہ پورا کیے بغیر واپس آ رہا تھا۔ یہ عزم بچھو بن کر اسے ڈس رہا تھا۔ اسے بہت کچھ یاد آ رہا تھا۔ یادوں کا ایک ریلاتھا جو ختم نہیں ہو رہا تھا۔ اسے یہودیوں کے تینوں قبیلے بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع یادآئے ۔انہوں نے جب دیکھا کہ قریش مسلمانوں کے خلاف لڑنے سے منہ موڑ گئے ہیں تو وہ سرگرم ہو گئے۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف زمین دوز کارروائیاں شروع کیں ۔مکہ گئے اور قریش کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔ مگر قریش کا سردار ابو سفیان ٹس سے مس نہ ہوا۔ خالد کو معلوم نہ ہو سکا کہ ابو سفیان کے دل میں کیا ہے اور وہ مسلمانوں سے لڑنے سے کیوں گھبرا تا ہے۔
اسی سال کے موسم ِ سرما کے اوائل میں خیبر کے چند ایک سرکردہ یہودی مکہ گئے۔ ان کا سردار حیّی بن اخطب تھا ۔یہ شخص یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر کا سردار بھی تھا ۔یہودیوں کے پاس زروجواہرات کے خزانے تھے۔ وہ چند ایک یہودی ابو سفیان اور قریش کے دیگر سرداروں کیلئے بیش قیمت تحفے لے کر گئے ۔ان کے ساتھ حسین و جمیل لڑکیوں کا طائفہ بھی تھا۔ مکہ میں یہ یہودی ابو سفیان سے ملے۔ اسے تحفے پیش کیے اور رات کو اپنے طائفہ کا رقص بھی دکھایا ۔اس کے بعد حیّی بن اخطب نے ابو سفیان سے خالد ،عکرمہ اور صفوان کی موجوگی میں کہا کہ’’ انہوں نے مسلمانوں کو ختم نہ کیا اور ان کے بڑھتے ہوئے قدم نہ روکے تو وہ یمامہ تک پہنچ جائیں گے ۔اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو قریش کیلئے وہ تجارتی راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔جو بحرین اور عراق کی طرف جاتا ہے ۔‘‘قریش کیلئے یہ راستہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا ۔’’اگر آپ ہمارا ساتھ دیں۔‘‘ حیّی بن اخطب نے کہا۔’’ تو ہم مسلمانوں کے خلاف خفیہ کارروائیاں شروع کر دیں گے۔‘‘ ’’ہم مسلمانوں سے دگنے تھے تو بھی انہیں شکست نہ دے سکے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’ ان سے تین گنا تعداد میں ان سے لڑے تو بھی انہیں شکست نہ دے سکے اگر چند اور قبیلے ہمارے ساتھ مل جائیں تو ہم مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر سکتے ہیں۔‘‘
’’ہم نے یہ انتظام پہلے ہی کر دیاہے ۔‘‘حیّی بن اخطب نے کہا ۔’’قبیلہ غطفان اور بنو اسد آپ کے ساتھ ہوں گے۔ چند اور قبیلے ہماری کوششوں سے آپ کے ساتھ آ جائیں گے۔‘‘ خالد کو کیا کچھ یاد نہ آ رہا تھا تین چار سال پہلے کے واقعات ،اسے ایک روز پہلے کی طرح یاد تھے۔ اسے ابو سفیان کا گھبرایا گھبرایا چہرہ اچھی طرح یاد تھا۔ خالد جانتا تھاکہ یہودی ا ہلِ قریش کو مسلمانوں کے خلاف صرف اس لیے بھڑکا رہے ہیں کہ یہودیوں کا اپنا مذہب اسلام کے مقابلے میں خطرے میں آ گیا تھا ۔لیکن انہوں نے ابو سفیان کو ایسی تصویر دکھائی تھی جس میں اسے مسلمانوں کے ہاتھوں تباہی نظر آ رہی تھی۔دوسری طرف خالد، عکرمہ اور صفوان بن امیہ نے ابو سفیان کو سر اٹھا نے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔’’ ہم آپ کو اپنا سردار تسلیم کرتے ہیں ۔لیکن آپ یہ تسلیم کریں کہ آپ بزدل ہیں۔‘‘ ’اگر مسلمان موسم کی خرابی اور قحط میں لڑنے کیلئے آ گئے تھے تو ہم بھی لڑ سکتے تھے۔‘‘ ’’آ پ نے جھوٹ بو ل کر ہمیں دھوکا دیا ہے۔‘‘ ’’ابو سفیان بزدل ہے۔ ابو سفیان نے پورے قبیلے کو بزدل بنا دیا ہے۔ اب محمد )ﷺ(کے چیلے ہمارے سر پر کودیں گے۔‘‘ اور ایسی بہت سی طنز اور غصے میں بھری ہوئی آوازیں مکہ کے گلی کوچوں میں گشت کرتی رہتی تھیں ۔ان آوازوں کے پیچھے یہودیوں کا دماغ بھی کام کر رہا تھا لیکن اہلِ قریش کی غیرت اور ان کا جذبہ انتقام انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ ابو سفیان اس حال تک پہنچ گیا کہ اس نے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا ۔خالد کو وہ دن یاد آیا جب اسے ابوسفیان نے اپنے گھر بلایا تھا۔ خالدکے دل میں ابو سفیان کا وہ احترام نہیں رہ گیا تھا جو کبھی ہوا کرتا تھا ۔وہ بادل نخواستہ صرف اس لیے چلا گیا کہ ابی سفیان اس کے قبیلے کا سردار ہے۔ وہ ابو سفیان کے گھر گیا تو وہاں عکرمہ اور صفوان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’خالد!‘‘ ابوسفیان نے کہا ۔’’میں نے مدینہ پر حملہ کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ خالد کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس نے غلط سنا ہو۔ اس نے عکرمہ اور صفوان کی طرف دیکھا ۔ان دونوں کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آ گئی۔ ’’ہاں خالد!‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’جس قدر جلدی ہو سکے لوگوں کو مدینہ پر حملہ کیلئے تیار کر لو۔‘‘
یہودیوں نے جن قبائل کو قریش کا ساتھ دینے کیلئے تیار کیا تھا ۔ان سب کی طرف پیغام بھیج دیئے گئے ۔یہ فروری627 ء کے آغاز کے دن تھے ۔مختلف قبائل کے لڑاکا دستے مکہ میں جمع ہونے لگے۔ ان قبائل میں سب سے زیادہ فوج غطفان کی تھی ۔اس کی تعداد تین ہزار تھی۔ مُنےّہ اس کا سالار تھا ۔سات سو آدمی بنو سلیم نے بھیجے۔ بنو اسد نے بھی خاصی فوج بھیجی جس کا سالار طلیحہ بن خویلد تھا۔)اس کی تعداد تاریخ میں نہیں ملتی (قریش کی اپنے فوج کی تعداد چار ہزار پیادہ اور تین سو گھڑ سوار اور ڈیڑھ ہزار شتر سوار تھے۔اس پورے لشکر کی تعداد جو مدینہ پر فوج کشی کیلئے جا رہی تھی کل دس ہزار تھی۔اس کی کمان ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی۔ابو سفیان نے اس متحدہ فوج کو جمیعت القبائل کہا تھا۔ ان میں سے کچھ قبائل مکہ میں نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اطلاع دی تھی کہ جب لشکر مکہ سے روانہ ہو گا تو وہ اپنی اپنی بستی سے کوچ کر جائیں گے اور راستہ میں لشکر سے مل جائیں گے۔ خالد کو آج وہ وقت یاد آ رہا تھا جب اس نے مکہ سے کوچ کیا تھا ۔لشکر کا تیسرا حصہ ان کی کمان میں تھا۔ اس نے ایک ٹیکری پر گھوڑا چڑھا کر وہاں سے اس تمام لشکر کو دیکھا تھا۔ اسے لشکر کے دونوں سرے نظر نہیں آ رہے تھے۔ دف اور نفریاں اور شہنائیاں اور لشکر کی مترنم آواز جو ایک ہی آواز لگتی تھی۔ خالد کے خون کو گرما رہی تھی۔ اس نے گردن تان کر اپنے آپ سے کہا تھا کہ ’’مسلمان پس کے رہ جائیں گے ۔اسلام کے ذرے عرب کی ریت میں مل کر ہمیشہ کیلئے فنا ہو جائیں گے ۔یہ اس کا عزم تھا ۔یہ لشکر 24فروری627ء بمطابق یکم شوال ہجری مدینہ کے قریب پہنچ گیا ۔قریش نے اپنا پڑاؤ اس جگہ ڈالا جہاں احد کی لڑائی کیلئے خیمہ زن ہوئے تھے۔ وہاں دوند یاں آکر ملتی تھیں۔ دوسرے تمام قبائل احد کی پہاڑی کے مشرق کی طرف خیمہ زن ہوئے۔قریش نے یہ معلوم کر نے کیلئے کہ مدینہ کے لوگوں کو قریش کی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی ہے یا نہیں ۔دو جاسوس تاجروں کے بھیس میں مدینہ بھیجے ۔ابو سفیان اور ا سکے تمام نائب سالاروں کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ مدینہ والوں پر بے خبری میں حملہ کیا جائے لیکن دوسرے ہی دن قریش کاایک جاسوس جو یہودی تھا مدینہ سے آیا۔ا س نے ابو سفیان کو بتایا کہ مسلمانوں کو حملہ آور لشکر کی آمد کی اطلاع مل چکی ہے۔
مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس یہودی جاسوس نے بتایا ۔’’سارے شہر پر خوف طاری ہو گیا تھا لیکن محمد)ﷺ( اور اس کے قریبی حلقے کے آدمیوں کی للکار پر مسلمانوں کے دل مضبوط ہو گئے ۔گلی کوچوں میں ایسے اعلان ہونے لگے جن سے تمام شہر کا جذبہ اور حوصلہ عود کر آیا اور مسلمان لڑائی کیلئے ایک جگہ اکھٹے ہونے لگے۔میرے خیال میں ان کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہیں ہو گی۔‘‘ مؤرخ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ انہیں اطلاع مل چکی تھی کہ مدینہ پر حملہ کیلئے جو لشکر آیا ہے اس کی تعداد دس ہزار ہے جس میں سینکڑوں گھڑ سوار اور شتر سوار بھی ہیں ۔اس وقت تک عرب کی سرزمین میں کسی لڑائی میں اتنا بڑا لشکر نہیں دیکھا تھا۔ تعداد کو دیکھا جاتا اور فن ِ حرب و ضرب کے پیمانے سے دونوں اطراف کو ناپا تولا جاتا تو مسلمانوں کو لڑے بغیر ہتھیار ڈال دینے چاہیے تھے یا وہ رات کی تاریکی میں مدینہ سے نکل جاتے اور کسی اور بستی میں اپنا ٹھکانا بناتے ۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تین ہزار مسلمان دس ہزار کے لشکر کامقابلہ ذرا سی دیر کیلئے بھی کر سکیں گے۔ دس ہزار لشکر نہایت آسانی سے مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا تھا لیکن یہ حق اور باطل کی ٹکر تھی ۔یہ اﷲ کے آگے سجدے کر نے والوں اور بت پرستوں کا تصادم تھا۔ خدا کو حق کا ساتھ دینا تھا۔ خدا کو اپنے اس عظیم پیغام کی لاج رکھنی تھی جو اس کی ذاتِ باری نے غارِ حرا میں عرب کے سپوت کو دیا تھا اور اسے رسالت عطا کی تھی۔ــ’’خدا ان کا ساتھ دیتا ہے جن کے دلوں میں حق اور صدق ہوتا ہے۔‘‘ یہ نبی کریمﷺ کی للکار تھی جو مدینہ کے گلی کوچوں میں سنائی دے رہی تھی ۔’’لیکن اے اﷲ کی عبادت کرنے والوں! خدا تمہارا ساتھ اسی صورت میں دے گا جب تم دلوں سے خوف و ہراس نکال کر ایک دوسرے کا ساتھ دو گے اور اپنی جانیں اﷲ کی راہ میں قربان کر دینے کا عزم کرو گے۔جو ہمارے اﷲ کو نہیں مانتا اور جو ہمارے دین کو نہیں مانتا وہ ہمارا دشمن ہے اور اس کا قتل ہم پر فرض ہے۔ یاد رکھو قتل کرنے کیلئے قتل ہونا بھی پڑتا ہے۔ ایمان سے بڑھ کر اور کوئی طاقت نہیں جو تمہیں دشمن سے بچا سکے گی۔ تمہیں دفاع مدینہ کا نہیں اپنے عقیدے کا کرنا ہے۔ اگر اس عزم سے آگے بڑھو گے تو دس ہزار پر غالب آ جاؤ گے ۔خدا سوئے ہوئے یا خوف زدہ انسان کو معجزے نہیں دکھایا کرتا ۔اپنے عقیدے اور اپنی بستی کے دفاع کا معجزہ تمہیں خود دکھانا ہے ۔‘‘
نبی کریمﷺ نے مدینہ والوں کا حوصلہ اس قدر مضبوط کر دیا تھا کہ وہ اس سے بڑے لشکر کے مقابلے کیلئے بھی تیار ہو گئے۔ لیکن رسولِ خداﷺ اس سوچ میں ڈوب گئے تھے کہ اتنے بڑے لشکر سے مدینہ کو بچانا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ کو یہ تو پورا یقین تھا کہ خدا حق پرستوں کے ساتھ ہے لیکن حق پرستوں کو خود بھی کچھ کر کے دکھانا تھا۔ بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ خدا نے اپنے نام لیواؤں کی مدد کا انتظام کر رکھاتھا ۔وہ ایک انسان تھا جس نے عمر کے آخری حصہ میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس انسان کا نام ’’سلمان فارسیؓ ‘‘تھا۔ سلمان فارسیؓ آتش پرستوں کے مذہبی پیشوا تھے۔ لیکن وہ شب و روز حق کی تلاش میں سرکردہ رہتے تھے۔ وہ آگ کو پوجتے تو تھے لیکن آگ کی تپش اور چمک میں اُنہیں وہ راز نظر نہیں آتا تھا جسے وہ پا نے کیلئے بے تاب رہتے تھے ۔عقل و دانش میں ان کی ٹکر کا کوئی نہیں تھا۔ آتش پرست انہیں بھی اسی طرح پوجتے تھے جس طرح آگ کو۔جب سلمان فارسیؓ کی عمر بڑھاپے کی دہلیز پھلانگ کر خاصی آگے نکل گئی تو ان کے کانوں میں عرب کی سرزمین کی ایک انوکھی آواز پڑی۔’’ خدا ایک ہے۔ محمد)ﷺ( اس کا رسول ہے ۔‘‘یہ آواز سلمان فارسیؓ کے کان میں گھر بیٹھے نہیں پڑی تھی۔ ان کی عمر علم کی تلاش میں سفر کرتے گزر رہی تھی۔ وہ تاجروں کے قافلے کے ساتھ شام میں آئے تھے جہاں قریش کے تاجروں کے قافلے اور کچھ مسلمان تاجر بھی جایا کرتے تھے۔ قریش کے تاجروں نے سلمان فارسیؓ کو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں بتایا کہ ان کے قبیلے کے ایک آدمی کا دماغ چل گیا ہے اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔
ایک دو مسلمانوں نے عقیدت مندی سے سلمان فارسی کو نبی کریمﷺ کا عقیدہ اور آپﷺ کی تعلیمات سنائیں ۔سلمان فارسیؓ یہ سب سن کر چونک پڑے۔ انہوں نے ان مسلمانوں سے کچھ اور باتیں پوچھیں۔ انہیں جو معلوم تھا وہ انہوں نے بتایا ۔لیکن سلمان فارسیؓ تشنگی محسوس کر رہے تھے۔ وہ اتنا متاثر ضرور ہو گئے تھے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ تک پہنچنے کا فیصلہ کر لیا ۔کچھ عرصہ بعد سلمان فارسیؓ رسولِ خدا ﷺ کے مقدس سائے میں جا بیٹھے ۔انہیں وہ راز مل گیا جس کی تلاش میں وہ مارے مارے عمر گزار رہے تھے۔ انہوں نے رسول اﷲﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا اس وقت تک سلمان فارسیؓ بڑھاپے کے آخری حصہ میں پہنچ چکے تھے۔
اپنے ملک میں سلمان فارسیؓ صرف مذہبی پیشوا ہی نہ تھے وہ جنگی علوم کے ماہر تسلیم کیے جاتے تھے۔ اس دور کے مذہبی پیشوا بھی جنگ و جدل اور سپاہ گری کے ماہر ہوتے تھے۔ علم و ادب کے عالم بھی سپاہی ہوتے تھے لیکن سلمان فارسیؓ کو خدا نے جنگ و جدل کے امور میں غیر معمولی ذہانت دی تھی۔ اپنے ملک میں جب کوئی لڑائی ہوتی تھی یا دشمن حملہ آور ہوتا تھا تو سلمان فارسی ؓکو بادشاہ طلب کر کے صورتِ حال ان کے آگے رکھتا اور مشورے لیتا تھا۔نامور سالار بھی ان کے شاگرد تھے۔ وہ سلمان فارسیؓ اس وقت مدینہ میں رسولِ اکرمﷺ کے صحابہ کرامؓ میں شامل تھے ۔رسولِ اکرمﷺ نے یہ صورتِ حال جو قریش نے آپ ﷺکیلئے پیدا کر دی تھی، سلمان فارسیؓ کے آگے رکھی ۔’’خندق کھودو ،جو سارے شہر کو گھیرے میں لے لے۔‘‘سلمان فارسیؓ نے کہا ۔رسولِ کریمﷺ اور وہاں بیٹھے ہوئے تمام صحابہ کرامؓ اور سالار ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھنے لگے کہ سلمان فارسی ؓنے یہ کیا کہہ دیا ہے؟عرب خندق سے واقف نہیں تھے۔فارس میں جنگوں میں خندق کا رواج تھا۔ سب کو حیران دیکھ کر سلمان فارسیؓ نے بتایا کہ خندق کیا ہوتی ہے اور اس سے دفاعی کام کس طرح سے لیا جاتا ہے ۔رسولِ کریمﷺ نے جو خود تاریخ کے نامور سالار تھے خندق کی ضرورت اور افادیت کو سمجھ لیا لیکن آپﷺ کے دیگر سالار شش و پنج میں پڑ گئے۔ ان کیلئے اتنے بڑے شہر کے اردگرد اتنی چوڑی اور اتنی بڑی خندق کھودنا ناقابلِ فہم نہیں تھا لیکن انہیں رسولِ خداﷺ کا حکم ماننا تھا۔خندق کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کا حساب کر لیا گیا۔ رسولِ خداﷺ نے خندق کھودنے والوں کی تعداد کا حساب کیا۔آپﷺ نے کھدائی کا کام اس تعداد پر تقسیم کیا تو ایک سو دس آدمیوں کے حصہ میں چالیس ہاتھ کھدائی آئی تو رسولِ خداﷺ نے دیکھا کہ لوگ خندق کو ابھی تک نہیں سمجھے اور وہ کھدائی سے ہچکچا رہے ہیں تو آپ ﷺنے کدال اٹھائی اور کھدائی شروع کردی۔یہ دیکھتے ہی مسلمان کدالیں اور بیلچے لے کر نعرے لگاتے ہوئے زمین کا سینہ چیرنے لگے۔ ادھر سے اس وقت کے ایک شاعر حسانؓ بن ثابت آ گئے۔ حسان مشہور نعت گو تھے جنہیں رسولِ اکرمﷺ اکثر اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔
اس موقع پر جب مسلمان خندق کھود رہے تھے حسانؓ نے ایسے اشعار ترنم سے سنانےشروع کر دیئے کہ خندق کھودنے والوں پر وجد اور جنون کی کیفیت طاری ہو گئی۔ خندق کی لمبائی چند گز نہیں تھی، اسے میلوں دور تک جانا تھا۔ شیخین کی پہاڑی سے لے کر جبل بن عبید تک یہ خندق کھودنی تھی زمین نرم بھی تھی اور سنگلاخ بھی تھی اوریہ نہایت تیزی سے مکمل کرنی تھی، کیونکہ دشمن سر پر آن بیٹھا تھا۔قریش کا لشکر اس عجیب و غریب طریقۂ دفاع سے بے خبر احد کی پہاڑی کے دوسری طرف خیمہ زن تھا۔اس کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ تھا، چلتے چلتے خالد کواپنی آواز سنائی دینے لگی۔اہلِ قریش تو ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔ان پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ گھوڑا اپنی مرضی کی چال چلا جا رہا تھا۔ مدینہ ابھی دور تھا، خالد کو جھینپ سی محسوس ہوئی۔ اس کے قبیلہ قریش نے اسے شرمسار کر دیا تھا۔ اسے یہ بات اچھی نہیں لگی تھی کہ یہودیوں کے اکسانے پر اس کے قبیلے کے سردار اور سالار ابو سفیان نے مدینہ پر حملہ کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن وہ خوش تھا کہ حملہ کا فیصلہ تو ہوا۔اتنا بڑا لشکر جو سر زمینِ عرب پر پہلی بار دیکھا گیاتھا یہودیوں نے ہی جمع کیا تھا لیکن خالد اس پر بھی مطمئن تھا کہ کسی نے بھی یہ کام کیا ہو، لشکر تو جمع ہو گیا تھا۔وہ اس روز بہت خوش تھا کہ اتنے بڑے لشکر کو دیکھ کر ہی مسلمان مدینہ سے بھاگ جائیں گے۔اگر مقابلے پر جم بھی گئے تو گھڑی دو گھڑی میں ان کا صفایا ہو جائے گا۔وہ اس وقت تو بہت ہی خوش تھا جب احد کی پہاڑی کی دوسری طرف یہ سارا لشکر خیمہ زن تھا۔ جس صبح حملہ کرنا تھا اس رات اس پر ایسی ہیجانی کیفیت طاری تھی کہ وہ اچھی طرح سوبھی نہ سکا۔ اسے ہر طرف مسلمانو ں کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آ رہی تھیں۔دوسری صبح جب قریش اور دوسرے اتحادی قبائل کا لشکر جس کی تعداد دس ہزار تھی،خیمہ گاہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کیلئے شہرکے قریب پہنچا تواچانک رک گیا۔شہر کے سامنے ایک بڑی گہری خندق کھدی ہوئی تھی۔ابو سفیان جو لشکر کے قلب میں تھا لشکر کو رکا ہوا دیکھ کر گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آگے گیا۔’’قریش کے جنگجو کیوں رک گئے ہیں ؟‘‘ابوسفیان چلاتا جا رہا تھا۔’’ طوفان کی طرح بڑھو اور محمد)ﷺ( کے مسلمانوں کو کچل ڈالو،شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔‘‘ابو سفیان کا گھوڑا جب آگے گیا تو اس نے گھوڑے کی لگام کھینچ دی ا ور اس کا گھوڑا اسی طرح رک گیا جس طرح اس کے لشکر کے تمام سوار رکے کھڑے تھے۔اس کے سامنے خندق تھی اس پر خاموشی طاری ہو گئی ۔’’خدا کی قسم! یہ ایک نئی چیز ہے جو میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔‘‘ابو سفیان نے غصیلی آواز میں کہا۔’’عرب کے جنگجو کھلے میدان میں لڑا کرتے ہیں ۔خالد بن ولید کو بلاؤ، عکرمہ اور صفوان کو بھی بلاؤ۔‘‘ابو سفیان خندق کے کنارے کنارے گھوڑا دوڑاتا لے گیا۔ اسے کہیں بھی ایسی جگہ نظر نہیں آ رہی تھی جہاں سے اس کا لشکر خندق عبور کر سکتا۔یہ خندق شیخین کی پہاڑی سے لے کر جبلِ بنی عبید کے اوپر سے پیچھے تک چلی گئی تھی ۔مدینہ کے مشرق میں شیخین اور لاوا کی پہاڑیاں تھیں۔ یہ مدینہ کا قدرتی دفاع تھا۔
ابو سفیان دور تک چلا گیا۔اس نے دیکھاکہ خندق کے پار مسلمان اس انداز سے گھوم پھر رہے ہیں جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اس نے گھوڑا پیچھے موڑا اور اپنے لشکر کی طرف چل پڑا۔تین گھوڑے اس کی طرف سر پٹ دوڑے آ رہے تھے جو اس کے قریب آ کر رک گئے۔ وہ خالد، عکرمہ اور صفوان کے گھوڑے تھے۔’’کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ مسلمان کتنے بزدل ہیں؟‘‘ابو سفیان نے ان تینوں سے کہا ۔’’کیا تم کبھی اپنے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرکے یا رکاوٹ کھود کر اپنے دشمن سے لڑے ہو؟‘‘خالد پر خاموشی طاری ہو گئی تھی۔آج مدینہ کی طرف جاتے ہوئے سے یاد آ رہا تھاکہ وہ اس خیال سے چپ نہیں ہو گیا تھا کہ ابو سفیان نے مسلمانوں کو بزدل جو کہا تھا وہ ٹھیک کہا تھا۔بلکہ خاموش رہ کر وہ اس سوچ میں کھو گیا تھا کہ یہ خندق بزدلی کی نہیں دانشمندی کی علامت تھی۔جس کسی نے شہر کے دفاع کیلئے یہ طریقہ سوچا تھا وہ کوئی معمولی عقل والا انسان نہیں تھا ۔اس سے پہلے بھی اس نے محسوس کیا تھا کہ مسلمان لڑنے میں اپنے جسم کی طاقت پر ہی بھروسہ نہیں کرتے ۔وہ عقل سے بھی کام لیتے ہیں ۔خالد کا دماغ ایسی ہی جنگی چالیں سوچتا رہتا تھا۔ مسلمانوں نے بدر کے میدان میں نہایت تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے قریش کو بہت بری شکست دی تھی ۔خالد نے اکیلے بیٹھ کر اس لڑائی کا جائزہ لیا تھا۔ مسلمانوں کی اس فتح میں اسے مسلمانوں کی عسکری دانشمندی نظر آئی تھی۔’’کوئی اور بات بھی تھی خالد!‘‘ اسے خیال آیا ۔’’کوئی اور بات بھی تھی۔‘‘’’کچھ بھی تھا !‘‘خالد نے اپنے آپ کو جواب دیا۔’’ جو کچھ بھی تھا ،میں یہ نہیں مانوں گا کہ یہ محمد)ﷺ(کے جادو کا اثر تھایا اس کے ہاتھ میں کوئی جادو ہے۔ ہماری عقل جس عمل اور جس مظاہرے کو سمجھ نہیں سکتی اسے ہم جادوکہہ دیتے ہیں۔ اہلِ قریش میں ایسا کوئی دانشمند نہیں جو مسلمانوں جیسے جذبے سے اہلِ قریش کو سرشار کر دے اور ایسی جنگی چالیں سوچے جو مسلمانوں کو ایک ہی بار کچل ڈالے۔‘‘’’خدا کی قسم !ہم اس لیے واپس نہیں چلے جائیں گے کہ مسلمانوں نے ہمارے راستے میں خندق کھود رکھی ہے۔‘‘ابو سفیان خالد، عکرمہ اور صفوان سے کہہ رہاتھا۔پھر اس نے ان سے پوچھا ۔’’کیا خندق عبور کرنے کا کوئی طریقہ تم سوچ سکتے ہو؟‘‘خالد کوئی طریقہ سوچنے لگا،لیکن اسے خیال آیا کہ اگر ان کے لشکر نے خندق عبور کر بھی لی تو مسلمانوں کو شکست دینا آسان نہ ہو گا۔ خواہ وہ کتنی ہی تھوڑی تعداد میں کیوں نہ ہوں ۔جن انسانوں نے تھوڑے سے وقت میں زمین اور چٹانوں کا سینہ چیر ڈالا ہے ان انسانوں کو بڑے سے بڑا لشکر بھی ذرامشکل سے ہی شکست دے سکے گا۔’’کیا سوچ رہے ہو ولید کے بیٹے !‘‘ابو سفیان نے خالد کو گہری سوچ میں کھوئے ہوئے دیکھ کر کہا ۔’’ہمارے پاس سوچنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ ہم بوکھلاگئے ہیں ۔‘‘’’ہمیں تمام تر خندق دیکھ لینا چاہیے ۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’کہیں نہ کہیں کوئی ایسی جگہ ہوگی جہاں سے ہم خندق عبور کر سکیں گے۔‘‘ صفوان نے کہا۔
’’محاصرہ۔‘‘خالدنے خود اعتمادی سے کہا۔’’مسلمان خندق کھود کر اندر بیٹھ گئے ہیں۔ ہم محاصرہ کرکے باہر بیٹھے رہیں گے ۔وہ بھوک سے تنگ آ کر ایک نہ ایک دن خود ہی خندق کے اس طرف آ جائیں گے جدھر ہم ہیں ۔‘‘’’ہاں!‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’مجھے یہی ایک طریقہ نظر آتا ہے جو مسلمانوں کو باہر آ کر لڑنے پر مجبور کر دے گا۔‘‘ابو سفیان اپنے ان تینوں نائب سالاروں کے ساتھ خندق کے ساتھ ساتھ تمام تر خندق کو دیکھنے کیلئے جبلِ بنی عبید کی طرف چل پڑا۔سلع کی پہاڑی مدینہ اور جبلِ بنی عبید کے درمیان واقع تھی۔ مسلمان اس کے سامنے مورچہ بند تھے۔ ابو سفیان نے مسلمانوں کی تعداد دیکھی تو اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔وہ ذرا آگے بڑھا تو ایک گھوڑا جو بڑا تیز دوڑا آ رہا تھا ا سکے پہلو میں آ ن رکا۔ سوار کو ابو سفیان بڑی اچھی طرح پہچانتا تھا ۔وہ ایک یہودی تھا جو تاجروں کے بہروپ میں مدینہ کے اندر گیا تھا۔ وہ مدینہ سے شیخین کے سلسلۂ کوہ میں سے ہوتا ہوا قریش کے لشکر میں پہنچا تھا۔’’اندر سے کوئی ایسی خبر لائے ہو جو ہمارے کام آ سکے؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا اور کہا۔’’ ہمارے ساتھ ساتھ چلو اور اتنا اونچا بولتے چلو کہ میرے یہ تینوں نائب بھی سن سکیں۔‘‘’’مسلمانوں نے شہر کے دفاع اور آبادی کے تحفظ کے جو انتظامات کر رکھے ہیں وہ اس طرح ہیں‘‘یہودی نے کہا۔’’ یہ تو تم کو معلوم ہوگا کہ مدینہ چھوٹے چھوٹے قلعوں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی بستیوں کا شہر ہے۔مسلمانوں نے شہر کی عورتوں ،بچوں اور ضعیفوں کو پیچھے کی طرف والے قلعوں میں بھیج دیا ہے۔ خندق پر نظر رکھنے کیلئے مسلمانوں نے گشتی پہرے کا جو انتظا م کیاہے اس میں دو اڑھائی سو افراد شامل ہیں ۔یہ افراد تلواروں کے علاوہ پھینکنے والی برچھیوں اور تیر کمانوں سے مسلح ہیں۔ انہوں نے علاقے تقسیم کر رکھے ہیں جس میں وہ سارا دن اور پوری رات گشت کرتے ہیں ۔جہاں کہیں سے بھی تم خندق عبور کرنے کی کوشش کرو گے وہاں مسلمانوں کی خاصی زیادہ تعداد پہنچ جائے گی اور اس قدر زیادہ تیر اوربرچھیاں برسائے گی کہ تم لوگ پیچھے کو بھاگ آنے کے سوا کچھ نہیں کر سکو گے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راتوں کو مسلمانوں کے خویش خندق سے باہر آ کر تم پر شب خون مار کر واپس چلے جائیں ۔‘‘’’عبداﷲ بن ابی کیا کر رہا ہے؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’اے قریش کے سردار!‘‘ یہودی جاسوس نے کہا۔’’اتنی عمر گزار کر بھی تم انسانوں کو سمجھنے کے قابل نہیں ہو سکے۔عبداﷲ بن ابی منافق ہے ۔مسلمان اسے جماعتِ منافقین کا سردار کہتے ہیں اور ہم اسے یہودیت کا غدا ر سمجھتے ہیں ۔اس نے مسلمان ہو کر ہم سے غداری کی تھی۔ مسلمانوں میں جاکر اس نے تمہارے حق میں انہیں دھوکے دیئے ۔اگر احد کی جنگ میں تم جیت جاتے تو وہ تمہارے ساتھ ہوتا مگر مسلمانوں کا پلہ بھاری دیکھ کر اس نے تم سے بھی اور یہودیوں سے بھی نظریں پھیر لی ہیں۔تمہیں اس آدمی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے جو کسی مذہب کا پیروکار اور وفادار نہ ہو ۔‘‘’’اور حیُّ بن اخطب کہاں ہے؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔
اسے محاصرے کامنظر یاد آنے لگا۔ لشکر کا جو حصہ اس کی زیرِ کمان تھا اسے اس نے بڑے اچھے طریقے سے محاصرے کی ترتیب میں کردیا تھا۔یہ محاصرہ بائیس روز تک رہا۔پہلے دس دنوں میں ہی شہر کے اندر مسلمان خوراک کی کمی محسوس کرنے لگے لیکن اس سے قریش کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے ساتھ خوراک اوررسد بہت کم لائے تھے ۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں مسلمان اپنے محاصرے میں لمبے عرصہ کیلئے بٹھا لیں گے۔ خوراک کی جتنی کمی شہر والے محسوس کر رہے تھے اس سے کچھ زیادہ کمی قریش کے لشکر میں اپنا اثر دِکھانے لگی تھی۔ سپاہیوں میں نمایاں طور پر بے چینی نظر آنے لگی تھی۔
مؤرخ ابنِ ہشام نے لکھا ہے کہ اس کیفیت میں کہ شہر میں خوراک کاکوئی ذخیرہ نہ تھا، لوگوں کو روزانہ نصف خوراک دی جا رہی تھی۔ منافقین اور یہودی تخریب کار درپردہ حرکت میں آ گئے تھے۔ کوئی بھی نہ جان سکا کہ یہ آواز کہاں سے اٹھی ہے لیکن یہ آواز سارے شہر میں پھیل گئی۔’’ محمد ہمیں کیسی بری موت مروانے کا بندوبست کر رہا ہے ۔ایک طرف وہ کہتا ہے کہ بہت جلد قیصروکسریٰ کے خزانے ہمارے قدموں میں پڑے ہوں گے، دوسری طرف ہم نے اس کی نبوت کا یہ اثر بھی نہ دیکھا کہ آسمان سے ہمارے لیے خوراک اترے۔‘‘لوگوں نے اسلام تو قبول کرلیا تھا لیکن وہ گوشت پوست کے انسان تھے۔ وہ پیٹ کی آوازوں سے متاثر ہونے لگے ۔آخر ایک آواز نے انہیں پیٹ کے بھوت سے آزادی دلا دی۔ ’’کیا تم خدا سے یہ کہو گے کہ ہم نے اپنے پیٹ کو خدا سے زیادہ مقدس جانا تھا؟‘‘یہ ایک رعد کی کڑک کی طرح آواز تھی جو مدینہ کے گلی کوچوں میں سنائی دینے لگی ۔’’آج خدا کو وہ لوگ عزیز ہوں گے جو اس کے رسولﷺ کے ساتھ بھوکے اورپیاسے جانیں دے دیں گے۔ خدا کی قسم! اس سے بڑی بزدلی اور بے غیرتی مدینہ والوں کیلئے اور کیا ہو گی کہ ہم اہلِ مکہ کے قدموں میں جا گریں اورکہیں کہ ہم تمہارے غلام ہیں ہمیں کچھ کھانے کو دو۔‘‘رسول ِاکرمﷺ شہرکے دفاع میں اس قدر سر گرم تھے کہ آپﷺ کیلئے دن اور رات ایک ہو گئے تھے ۔آپﷺ اﷲ کے محبوب نبیﷺ تھے ۔آپ چاہتے تو معجزے بھی رونما ہو سکتے تھے لیکن آپ ﷺ کو احساس تھا کہ ہر آدمی پیغمبر اور رسول نہیں،نہ کوئی انسان آپﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا درجہ حاصل کر سکے گا اس لیے آپﷺ ان انسانوں کیلئے یہ مثا ل قائم کر رہے تھے کہ انسان اپنی ان لازوال جسمانی اور نفسیاتی قوتوں کو جو خداوند تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہیں، استقلا ل اور ثابت قدمی سے استعمال کرے تو وہ معجزہ نماکارنامے انجا م دے سکتا ہے۔
محاصرے کے دوران آپﷺ کی سرگرمیاں اور آپﷺ کی حالت ایک سالار کے علاوہ ایک سپاہی کی بھی تھی۔ آپﷺ کو اس کیفیت اور اس سرگرمی میں دیکھ کر مسلمان بھوک اور پیاس کو بھول گئے اور ان میں ایساجوش پیدا ہو گیا کہ ان میں بعض خندق کے قریب چلے جاتے او ر قریش کو بزدلی کے طعنے دیتے۔وہ سات مارچ ۶۲۷ء کا دن تھا۔جب ابو سفیان نے پریشان ہو کر کہا کہ۔’’ حیُّ بن اخطب کو بلاؤ ۔‘‘ا سکی پریشانی کا باعث یہ تھا کہ دس دنوں میں ہی اس کے لشکر کی خوراک کا ذخیرہ بہت کم رہ گیا تھا۔ سپاہیوں نے قرب و جوار کی بستیوں میں لوٹ مار کر کہ کچھ خوراک تو حاصل کر لی تھی لیکن اس ریگزار میں لوگوں کے گھروں میں بھی خوراک کا کوئی ذخیرہ نہیں ہوتا تھا۔ قریش کے لشکر میں بددلی پھیلنے لگی ۔اپنے لشکر کے جذبے کو یوں ٹھنڈا پڑتے دیکھ کر اس نے یہودیوں کے ایک قبیلے کے سردار کو حیُّ بن اخطب کو بلایا جو قریش کی زمین دوز مدد کیلئے لشکر کے قریب ہی کہیں موجود تھا ۔وہ تو اس انتظار میں تھا کہ اہلِ قریش اسے بلائیں اور ا س سے مدد مانگیں ۔مدینہ سے کچھ ہی دور یہودیوں کے ایک قبیلے بنو قریظہ کی بستی تھی۔ اس قبیلے کا سردار کعب بن اسد اس بستی میں رہتا تھا ۔اس رات جب وہ گہری نیندسویا ہوا تھا۔دروازے پر بڑی زورکی دستک سے اس کی آنکھ کھل گئی۔اس نے اپنے غلام کو آواز دے کر کہا۔’’ دیکھو باہر کون ہے؟‘‘’’حیُّ بن اخطب آیا ہے۔‘‘غلام نے کہا۔’’رات کے اس وقت وہ اپنے ہی کسی مطلب سے آیا ہوگا۔‘‘کعب بن اسد نے غصیلی آواز میں کہا۔’’اسے کہو کہ میں اس وقت تمہارا کوئی مطلب پورا نہیں کر سکتا،دن کے وقت آنا۔‘‘بنو قریظہ یہودیوں کا وہ قبیلہ تھا جس نے مسلمانوں کے ساتھ دوستی کا اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا تھا۔اس معاہدے میں یہودیوں کے دوسرے دو قبیلے۔بنو قینقاع اور بنو نضیر۔بھی شامل تھے لیکن ان دونوں قبیلوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی اور مسلمانوں نے انہیں وہ سزا دی تھی کہ وہ لوگ شام کی طرف بھاگ گئے تھے۔صرف بنو قریظہ تھا جس نے معاہدے کو برقرار رکھا اور اس کا احترام کیا۔مسلمان جنگ ِخندق میں اس قبیلے کی طرف سے ذرا سا بھی خطرہ محسوس نہیں کر رہے تھے۔حیُّ بن اخطب بھی یہودی تھا۔ وہ کعب بن اسد کو اپنا ہم مذہب بھائی سمجھ کر اس کے پاس گیا تھا۔وہ کعب بن اسد کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا چاہتا تھا اس لیے وہ غلام کے کہنے پر بھی وہاں سے نہ ہٹا ۔کعب بن اسد نے پریشان ہو کر اسے اندر بلا لیا۔’’میں جانتا ہوں تم اس وقت میرے پاس کیوں آئے ہو؟‘‘کعب بن اسد نے حیُّ سے کہا۔’’اگر تم ابو سفیان کے کہنے پر آئے ہو تو اسے کہہ دو کہ ہم نے مسلمانوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس پر مسلمان پوری دیانتداری سے قائم ہیں۔ وہ ہمیں اپنا حلیف سمجھتے ہیں اور انہوں نے ہمیں پورے حقوق دے رکھے ہیں۔‘‘
’’کعب بن اسد! ہوش میں آ!‘‘حیُّ بن اخطب نے کہا۔’’بنو قینقاع اور بنو نضیر کا انجام دیکھ لے۔مسلمانوں کی شکست مجھے صاف نظر آ رہی ہے خدائے یہودہ کی قسم!دس ہزار کا لشکر مسلمانوں کو کچل ڈالے گا۔پھر یہ مسلمان تم پر ٹوٹ پڑیں گے کہ یہودیوں نے انہیں شکست دلائی ہے۔‘‘’’تم چاہتے کیا ہو حیُّ؟‘‘کعب بن اسد نے پوچھا۔’’قریش کے لشکر کا ایک حصہ پہاڑوں کے پیچھے سے تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔‘‘حیُّ نے کہا۔’’تمہاری موجودگی میں یہ سپاہی مسلمانوں پر عقب سے حملہ نہیں کر سکتے ۔تم اپنے قبیلے سمیت قریش سے مل جاؤاور مسلمانوں پر اس طرح سے حملہ کرو کہ تمہیں جم کر نہ لڑنا پڑے،بلکہ ضرب لگا کر پیچھے ہٹ آؤ۔اس سے قریش کو یہ فائدہ ہو گا کہ مسلمانوں کی توجہ خندق سے ہٹ جائے گی اور قریش کا لشکر خندق کو عبور کرلے گا۔‘‘’’اگر میں تمہاری بات مان لوں اور ہمارا حملہ وہ کام نہ کر سکے جو تم چاہتے ہو تو جانتے ہو مسلمان ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’تم مسلمانوں کے قہر و غضب سے واقف ہو۔کیا بنو قینقاع اور بنو نضیر کا کوئی ایک بھی یہودی تمہیں یہاں نظر آتاہے۔‘‘’’ابو سفیان نے سب کچھ سوچ کر تمہیں معاہدے کی دعوت دی ہے۔‘‘حیُّ بن اخطب نے کہا۔’’اگر مسلمانوں کا قہر و غضب تم پر گرنے لگا تو قریش کے لشکر کا ایک حصہ تمہارے قبیلے کی حفاظت کیلئے شیخین اور لاوا کی پہاڑیوں میں موجود رہے گا۔وہ شب ِ خون مارنے والے تجربہ کارسپاہیوں کالشکر ہو گا جو مسلمانوں کو تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی مہلت نہیں دیں گے۔‘‘’’تم مجھے اتنے بڑے خطرے میں ڈال رہے ہو جو میرے پورے قبیلے کو تباہ کر دے گا۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’تمہارا قبیلہ تباہ ہو یا نہ ہو، اہلِ قریش اتنی قیمت دیں گے جو تم نے کبھی سوچی بھی نہ ہو گی۔‘‘حیُّ نے کہا۔’’یا اپنے تعاون کی قیمت خود بتا دو۔جو کہو گے،جس شکل میں مانگو گے تمہیں قیمت مل جائے گی،اور تمہارے قبیلے کو پورا تحفظ ملے گا۔مسلمان اگلے چند دنوں میں نیست و نابود ہو جائیں گے۔تم اس کا ساتھ دو۔ جو زندہ رہے گا اور جس کے ہاتھ میں طاقت ہو گی۔‘‘
کعب بن اسد آخر یہودی تھا۔اس نے زروجواہرات کے لالچ میں آ کر حیُّ بن اخطب کی بات مان لی۔
’’قریش کا کوئی سپاہی ہماری بستی کے قریب نہ آئے۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔مسلمانوں پر میرا قبیلہ شب خون مارتا رہے گا۔ یہ کام رات کی تاریکی میں کیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کو پتہ ہی نہ چل سکے کہ شبخون مارنے والے بنو قریظہ کے آدمی ہیں……اور حیُّ۔‘‘کعب نے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔’’ تم دیکھ رہے ہو کہ میں یہاں اکیلا پڑا ہوں۔ میری راتیں تنہائی میں گزر رہی ہیں۔‘‘’’آج کی رات تنہا گزارو۔‘‘حُیّ نے کہا۔’’کل تم تنہا نہیں ہو گے۔‘‘’’مجھے دس دنوں کی مہلت ملنی چاہیے۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’مجھے اپنے قبیلے کو تیار کرنا ہے۔‘‘قریش اور بنو قریظہ کے درمیان معاہدہ ہو گیا۔’’سعد بن عتیق‘‘ معمولی قسم کا ایک جوان تھا جس کی مدینہ میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ خنجر اور تلواریں تیز کرنے کا کام کرتا تھا ۔اس میں یہ خوبی تھی کہ خدا نے اسے آواز پر سوز اور سریلی دی تھی اور وہ شہسوار تھا۔راتوں کو کسی محفل میں اس کی آواز سنائی دیتی تھی تو لوگ باہر آ کر اس کا گانا سنا کرتے تھے۔کبھی رات کو وہ شہر سے باہر چلا جاتا اور اپنی ترنگ میں گایا کرتا تھا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ایک رات وہ پُر سوز لَے میں شہر سے دور کہیں گا رہا تھا کہ ایک بڑی خوبصورت اور جوان لڑکی اس کے سامنے یوں آن کھڑی ہوئی جیسے کوئی جن یا چڑیل انسان کے حسین روپ میں آ گئی ہو۔سعد گھبرا کر خاموش ہو گیا۔’’اس آواز سے مجھے محروم نہ کر جو مجھے گھر سے نکال لائی ہے۔‘‘ لڑکی نے کہا۔’’ مجھے دیکھ کے تو خاموش ہو گیا ہے تو میں دور چلی جاتی ہوں۔ اپنے نغمے کا خون نہ کر۔تیری آواز میں ایسا سوز ہے جیسے تو کسی کے فراق میں نغمہ سرا ہے۔‘‘’’کون ہے تو؟‘‘سعد نے کہا۔’’ اگر تو جنات میں سے ہے تو بتا دے۔‘‘لڑکی کی جل ترنگ جیسے ہنسی سنائی دی۔صحرا کی شفاف چاندنی میں اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمک رہی تھیں۔’’میں بنو قریظہ کی ایک یہودی کی بیٹی ہوں۔‘‘’’اور میں مسلمان ہوں۔‘‘’’مذہب کو درمیان میں نہ لا۔‘‘یہودن نے کہا۔’’نغموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔میں تیرے لیے نہیں تیرے نغمے اور تیری آواز کیلئے آئی ہوں۔‘‘سعد دوبارہ اپنی دھن میں گنگنانے لگا۔ایک روز یہودن نے اسے کہا کہ سعد قبول کرے تو وہ اس کے پاس آ جائے گی اور اسلام قبول کرلے گی۔دو تین روز ہی گزرے تھے کہ مدینہ کا محاصرہ آ گیا۔سعد بن عتیق کا کام بڑھ گیا ۔اس کے پاس تلواریں خنجر اور برچھیوں کی انّیاں تیز کروانے والوں کا ہجوم رہنے لگا۔وہ راتوں کو بھی کام کرتا تھا۔ایک روز یہ یہودن اپنے باپ کی تلوار اٹھائے اس کے پاس آئی۔
’’تلوار تیز کرانے کے بہانے آئی ہوں۔‘‘یہودن نے کہا۔’’آج ہی رات یہاں سے نکلو ورنہ ہم کبھی نہ مل سکیں گے۔‘‘’’کیا ہو گیا ہے؟‘‘’’پرسوں شام میرے باپ نے مجھے کہا کہ قبیلے کے سردار کعب بن اسد کو میری ضرورت ہے ۔‘‘یہودن نے بتایا۔’’باپ نے حُیّ بن خطب کا نام بھی لیا تھا۔ میں کعب کے گھر چلی گئی۔وہاں حُیّ کے علاوہ دو اور آدمی بیٹھے ہوئے تھے ،وہ اس طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ مسلمانوں کے آخری دن آ گئے ہیں۔‘‘کعب بن اسد، حُیّ بن اخطب اور قریش کے درمیان اس لڑکی کی موجودگی میں معاہدہ ہوااور مسلمانوں پر عقب سے حملوں کا منصوبہ طے ہوا۔اس یہودن کو رات بھر کعب کے پا س گزارنی پڑی۔صبح وہ اپنے گھر آگئی۔اسے مسلمانوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ تھی ۔اس کی دلچسپیاں سعد کے ساتھ تھیں۔اس کے کانوں میں یہ بات بھی پڑی تھی کہ کعب اسے بیوی یا داشتہ کی حیثیت سے اپنے پاس رکھ لے گا۔سعد بن عتیق اس یہودن کی محبت کو تو بھول ہی گیا ۔اس نے یہودن کو گھر بھیج دیا اور ایک بزرگ مسلمان کو بتایا کہ کعب بن اسد نے حُیّ کے کہنے پہ قریش کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے ۔اس بزرگ نے یہ اطلاع اوپر پہنچا دی ۔رسولِ اکرمﷺ کو بتایا گیا کہ بنو قریظہ نے بنو قینقاع اور بنو نضیر کی طرح اپنا معاہدہ توڑ دیا ہے ۔آپﷺ نے کعب بن اسد کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے پہلے یہ یقین کر لینا ضروری سمجھا کہ بنو قریظہ نے واقعی قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔اﷲ اپنے نام لیوا بندوں کی مدد کرتا ہے۔اس کے فوراً بعد ایک ایساواقعہ ہو گیا کہ جس سے تصدیق ہو گئی کہ بنو قریظہ اور قریش کے درمیان بڑا خطرناک معاہدہ ہوا ہے۔واقعہ یوں ہوا۔عورتوں اور بچوں کو شہر کے ان مکانوں اورچھوٹے چھوٹے قلعوں میں منتقل کر دیا گیا تھا جو خندق سے دو ر تھے۔ایک ایسے ہی قلعے میں رسول اکرمﷺ کی پھوپھی صفیہؓ چند ایک عورتوں اور بہت سے بچوں کے ساتھ مقیم تھیں۔ایک روز صفیہؓ قلعے کی فصیل پر گھوم پھر رہی تھیں کہ انہوں نے نیچے دیکھا۔ایک آدمی دیوار کے ساتھ ساتھ مشکوک سی چال چلتا جارہا تھا۔وہ کہیں رکتا،دیوار کو دیکھتا اور آگے چل پڑتا۔صفیہؓ اسے چھپ کر دیکھنے لگیں۔صاف پتا چلتا تھا کہ یہ آدمی قلعہ کے اندر آنے کا کوئی راستہ یا ذریعہ دیکھ رہاہے۔صفیہؓ کو اس وجہ سے بھی اس آدمی پر شک ہوا کہ شہر کے تمام آدمی خندق کے قریب مورچہ بند تھے یا جنگ کے کسی اور کام میں مصروف تھے۔اگر یہ کوئی اپنا آدمی ہوتااور کسی کام سے آیا ہوتا تو دروازے پر دستک دیتا۔
قلعے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ صرف ایک مرد تھا ۔یہ تھے عرب کے مشہور شاعر’’ حسان ؓبن ثابت‘‘۔صفیہ ؓنے حسان ؓسے کہا کہ نیچے ایک آدمی مشکوک انداز سے دیوار کے ساتھ ساتھ جارہا ہے۔’’مجھے شک ہے کہ وہ یہودی ہے۔‘‘صفیہؓ نے حسانؓ سے کہا۔’’تم جانتے ہو حسان! بنو قریظہ نے دوستی کا معاہدہ توڑ دیا ہے۔یہ شخص مجھے یہودیوں کا مخبر معلو ہوتا ہے ۔بنو قریظہ ہم پر عقب سے حملہ کریں گے تاکہ ہمارے مردوں کی توجہ خندق کی طرف سے ہٹ جائے اور وہ پیچھے آ جائیں۔یہودیوں کے پاس ہمارے مردوں کو مورچوں سے نکال کر پیچھے لانے کا یہ طریقہ کارآمد ہو گاکہ وہ ان قلعوں پر حملے شروع کر دیں جن میں عورتیں اور بچے ہیں۔نیچے جاؤ حسان!اﷲ تمہارا نگہبان ہو،اس شخص کو للکارو۔اگر وہ واقعی یہودی ہو تو اسے قتل کر دو۔خیال رکھنا کہ اس کے ہاتھ میں برچھی ہے اور اس کے چغے کے اندر تلوار بھی ہوگی۔‘‘’’اے عظیم خاتون! ‘‘حسانؓ شاعر نے کہا۔’’کیا آپ نہیں جانتیں کہ میں بیمار ہوں اگر مُجھ میں ذرا سی طاقت بھی ہوتی تو اس وقت میں میدان جنگ میں ہوتا۔‘‘مؤرخ ابن ہشام اور ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ عرب کے عظیم شاعر کا یہ جواب سن کر رسول ِاکرمﷺ کی پھوپھی صفیہؓ خود اس مشکوک آدمی کو پکڑنے یا مارنے کیلئے چل پڑیں۔لیکن یہ نہ دیکھاکہ ایک مسلّح مرد کے مقابلے میں جاتے ہوئے ان کے ہاتھ میں کون سا ہتھیار ہے۔وہ جلدی میں جو ہتھیار لے کر گئیں وہ برچھی نہیں تھی،تلوار نہیں تھی،وہ ایک ڈنڈہ تھا۔صفیہؓ دوڑتی ہوئی باہر نکلیں اور اس مشکوک آدمی کے پیچھے جا رکیں۔جودیوار کے ساتھ کھڑا اوپر دیکھ رہا تھا۔’’کون ہے تو؟‘‘صفیہؓ انے اسے للکارا۔مشکوک آدمی نے بدک کر پیچھے دیکھا۔اگر وہ کسی غلط نیت سے نہ آیا ہوتا تو اس کا انداز کچھ اور ہوتا۔مگر اس نے برچھی تان لی۔صفیہؓ نے اس کا چہرہ دیکھا تو کوئی شک نہ رہا وہ یہودی تھااور وہ بنو قریظہ کا ہی ہو سکتا تھا۔اسے یقین تھا کہ ایک عورت ،وہ بھی ایک ڈنڈے سے مسلّح، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔’’تجھ پر خدا کی لعنت!‘‘صفیہؓ نے للکار کر کہا۔’’کیا تو بنو قریظہ کا مخبر نہیں ہے؟‘‘’’محمد)ﷺ( کی پھوپھی !یہاں سے چلی جا۔‘‘یہودی نے کہا۔’’کیا تو میرے ہاتھوں مرنے آئی ہے۔ہاں میں بنو قریظہ کا آدمی ہوں۔‘‘’’پھر تو یہاں سے زندہ نہیں جائے گا۔‘‘
یہودی نے قہقہہ لگایا اور بڑھ کر برچھی ماری۔جس تیزی سے برچھی آئی تھی ،اس سے زیادہ تیزی سے صفیہؓ ایک طرف ہو گئیں۔یہودی کا وار خالی گیا تو وہ سنبھل نہ سکا۔وہ آگے کو جھکا اور اپنے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک نہ سکا۔صفیہؓ نے پوری طاقت سے اس کے سر پر ڈنڈامارا۔ایک عورت کے بازو میں خدا کا قہر آگیاتھا۔یہودی رُک کر سیدھا ہوا لیکن اس کا سر ڈولنے لگا۔صفیہؓ نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا اوراس کے سر پر پہلے سے زیادہ زور سے ڈنڈا مارا۔اب یہودی کھڑا نہ رہ سکا۔اس کے ہاتھ سے برچھی گری پھر اسکے گھٹنے زمین سے لگے،صفیہؓ نے اس کے سر پر ،جس سے خون بہہ بہہ کر اس کے کپڑوں کو لال کر رہا تھا ایک اور ڈنڈہ مارا ،وہ جب بے ہوش ہو کر لڑھک گیا تو صفیہؓ اس کے سر پر ہی ڈنڈے مارتی چلی گئیں،جیسے زہریلے ناگ کا سر کچل رہی ہوں۔صفیہؓ نے اس وقت ہاتھ روکا جب یہودی کی کھوپڑی کچلی گئی اور اس کا جسم بے حس ہو گیا،صفیہ ؓ قلعہ میں چلی گئیں۔’’حسان! ‘‘صفیہؓ نے اپنے شاعر حسان ؓسے کہا۔’’میں وہ کام کر آئی ہوں جو تمہیں کرنا تھا ۔اب جاؤ اور اس یہودی کے ہتھیار اٹھالاؤ اور اس کے کپڑوں کے اندر جو کچھ ہے وہ بھی لے آؤ۔میں عورت ہوں کسی مرد کے کپڑوں کے اندر ہاتھ ڈالنا ایک عورت کیلئے مناسب نہیں۔چاہو تو یہ مالِ غنیمت تم لے سکتے ہو ،مجھے اس کی ضرورت نہیں۔‘‘’’اﷲ آپ کی عصمت و عفت کی حفاظت کرے! ‘‘حسانؓ نے شاعروں کی مسکراہٹ سے کہا۔’’مالِ غنیمت کی ضرورت مجھے بھی نہیں ہے ۔اور میں اپنے اندر اتنی توانائی محسوس نہیں کرتا کہ یہ کام انجام دے سکوں‘‘۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ خبر رسولِ کریمﷺ تک پہنچی تو آپﷺ کو پریشانی ہوئی، شہر میں خوراک کی کیفیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہر فرد کو اس کی اصل ضرورت کی صرف ایک چوتھائی خوراک ملتی تھی۔رسولِ کریمﷺ نے خدائے ذوالجلال سے مدد مانگی اور کوئی حکمت عملی سوچنے لگے۔ادھر خندق کا محاذ سر گرم تھا ۔خالد کو اپنی اس وقت کی بے چینی اور بے تابی اچھی طرح یاد تھی ۔وہ خندق کے ساتھ ساتھ گھوڑا دوڑاتا اور کہیں سے خندق عبور کرنے کے طریقے سوچتا تھا۔وہ مرد ِمیدان تھا لڑے بغیر واپس جانے کو اپنی توہین سمجھتا تھا۔مگر وہاں لڑائی اس نوعیت کی ہو رہی تھی کہ قریش کے تیر انداز خاصی تعداد میں خندق کے اس مقام پر قریب آتے جہاں مسلمان مورچہ بند تھے۔یہ سلع کی پہاڑی تھی ۔تیر انداز مسلمانوں پر تیر برساتے۔ مسلمان جوابی تیر اندازی کرتے۔کبھی قریش کاکوئی تیر انداز جیش کسی اور جگہ گشتی سنتریوں پر تیر چلاتا مگر مسلمانوں کا جیش فوراً پہنچ جاتا۔رات کو مسلمان خندق پر سنتریوں کی تعدداد میں اضافہ کردیتے تھے اور قریش خندق سے دور پیچھے خیمہ گاہ میں چلے جاتے تھے۔
رسولِ کریمﷺ کو جہاں مدینہ میں خوراک کی قلت کا جو قحط کی صورت اختیار کرتی جا رہی تھی احساس تھا،وہاں آپ ﷺکو یہ بھی معلوم تھا کہ قریش کا لشکر بھی نیم فاقہ کشی پر آگیا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے کی شرائط ماننے پر اور معاہدوں اور سمجھوتوں پر مجبور کر دیتی ہے۔ کسی بھی تاریخ میں اس شخص کا نام نہیں لکھا جسے رسولِ کریمﷺ نے خفیہ طریقے سے قریش کے اتحادی غطفان کے سالار عینیہ کے پاس اس مقصد کیلئے بھیجا کہ اسے قریش کی دوستی ترک کرنے پر آمادہ کرے۔اسے یہ نہیں کہا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل جائے۔رسولِ کریمﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ غطفان اور عینیہ رضا مند ہو جائیں اور اپنے قبیلے کو واپس لے جائیں تو قریش کا لشکر دو ہزار نفری کی فوج سے محروم ہو جائے گا۔ یہ توقع بھی کی جا سکتی تھی کہ دوسرے قبائل بھی غطفان کی تقلید میں قریش کے لشکر سے نکل جائیں گے۔’’کیا محمد)ﷺ( ہمیں زبانی معاہدے کی دعوت دے رہا ہے؟‘‘سالار عینیہ نے رسول خداﷺ کے ایلچی سے کہا۔’’ہم نے یہاں تک آنے کا جو خرچ برداشت کیا ہے وہ کون دے گا؟‘‘’’ہم دیں گے۔‘‘رسولِ خداﷺ کے ایلچی نے کہا۔’’نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اپنے قبیلے کو واپس لے جاؤ تو اس سال مدینہ میں کھجور کی جتنی پیداوار ہو گی اس کا تیسرا حصہ تم لے جانا۔خود مدینہ آجانا۔ پوری پیداوار دیکھ لینا اور اپنا حصہ اپنے ہاتھوں الگ کر کے لے جانا۔‘‘سالار عینیہ میدانِ جنگ میں لڑنے اور لڑانے والوں کی قیادت کرنے والا جنگجو تھا۔لیکن غیر جنگی مسائل اور امور کو بہت کم سمجھتا تھا۔مؤرخ ابنِ قتیبہ نے لکھا ہے کہ اس واقع کے کچھ ہی عرصہ بعد رسول اﷲﷺ نے اسے ’’مستعد احمق ‘‘کا خطاب دیا تھا۔وہ بڑے طاقت ور جسم والا اور جسمانی لحاظ سے پھرتیلا اور مستعد رہنے والا آدمی تھا۔اس نے اپنے سردارغطفان سے بات کی ۔’’خدا کی قسم! محمد )ﷺ(نے ہمیں کمزور سمجھ کر یہ پیغام بھیجا ہے۔‘‘غطفان نے کہا۔’’اس کے ایلچی سے پوچھو کہ مدینہ کے اندر لوگوں کو بھوک کا سامنا نہیں؟ہم انہیں بھوک سے نڈھال کر کے ماریں گے۔‘‘’’کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ ہمارا اپنا لشکر بھوک سے نڈھال ہو رہا ہے ؟‘‘سالار عینیہ نے کہا۔’’مدینہ والے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں ہم اپنے گھر سے بہت دور آگئے ہیں۔ کیا لشکر میں تم بے اطمینانی نہیں دیکھ رہے؟کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ہماری کمانوں سے نکلے ہوئے تیر اب اتنی دور نہیں جاتے جتنی دور اس وقت جاتے تھے جب تیر اندازوں کو پیٹ بھر کر کھانا ملتا تھا۔ان کے بازوؤں میں کمانیں کھینچنے کی طاقت نہیں رہی ۔‘‘
’’کیا اس کا فیصلہ تم کرو گے کہ ہمیں محمد )ﷺ(کو کیا جواب دینا چاہیے؟‘‘غطفان نے پوچھا۔’’یا میں فیصلہ کروں گا جوقبیلے کا سردار ہوں۔‘‘’’خدا کی قسم! میدانِ جنگ میں جو فیصلہ میں کر سکتا ہوں وہ تم نہیں کر سکتے۔‘‘سالار عینیہ نے کہا۔’’اور میدانِ جنگ سے باہر جو فیصلہ تم کر سکتے ہو وہ فیصلہ میری عقل نہیں کر سکتی۔میری عقل تلوار کے ساتھ چلتی ہے۔مگر یہاں میری فوج کی تلواریں اور برچھیاں اور ہمارے تیر مایوس ہو گئے ہیں۔ ہم خندق کے پار نہیں جا سکتے ۔ہمیں محمد)ﷺ( کی بات مان لینی چاہیے۔‘‘اور انہوں نے رسولِ کریمﷺ کی بات مان لی۔ایلچی امید افزا جواب لے کر آ گیا۔اسے قریش کا کوئی آدمی نہیں دیکھ سکا تھا کیونکہ غطفان کی فوج محاصرے کے کسی اور مقام پر تھی۔اﷲ کے رسول ﷺکے خلاف کون بول سکتا تھا۔مگر آپﷺ نے اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنے سرکردہ ساتھیوں کو بلایا اور انہیں موقع دیا کہ کسی کو آپﷺ کے فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ بولے۔آپﷺ ایک شخص کا فیصلہ پوری قوم پر ٹھونسنے کے قائل نہ تھے چنانچہ آپﷺ نے سب کو بتایا کہ آپﷺ نے غطفان کو کیا پیش کش کی ہے۔)یہاں اُمت کو مشورے کی اہمیت سکھائی گئی ہے(’’نہیں!‘‘چندپرجوش آوازیں اٹھیں ۔’’ہماری تلواریں جن کے خون کی پیاسی ہیں ،خدا کی قسم! ہم انہیں اپنی زمین کی پیدوار کا ایک دانہ بھی نہیں دیں گے۔جنگ تو ہوئی نہیں ہم لڑے بغیر کیوں ظاہر کریں کہ ہم لڑ نہیں سکتے۔‘‘اس کی تائید میں کچھ آوازیں اٹھیں۔ ایسی دلیلیں دی گئیں جنہیں رسول اﷲﷺ نے اس لیے قبول فرما لیا کہ یہ اکثریت کی آواز تھی۔آپﷺ نے اپنے ایلچی کو دوبارہ غطفان اور عینیہ کے پاس نہ بھیجا لیکن آپﷺ نے سب پر واضح کر دیا کہ تدبر اور حکمت عملی کے بغیر محاصرہ نہیں توڑا جا سکے گا۔خدا حق پرستوں کے ساتھ تھا۔رسولِ کریمﷺ نے اپنے اﷲ سے مدد مانگی جو ایک انسان کے روپ میں آپ ﷺکے سامنے آگئی ۔یہ تھے’’ نعیم ؓبن مسعود‘‘۔ان کا تعلق غطفان کے قبیلے کے ساتھ تھا۔نعیمؓ سرکردہ شخصیت تھے ۔خدا نے انہیں غیر معمولی دماغ عطا کیا تھا۔تین اہم قبیلوں قریش ،غطفان اور بنو قریظہ پر ان کا اثر و رسوخ تھا۔ ایک روز نعیمؓ جو کہ قبیلہ غطفان میں تھے، مدینہ میں رسولِ خداﷺ کے سامنے آکھڑے ہوئے۔’’خدا کی قسم تو قبیلہ غیر کا ہے۔‘‘رسول اﷲﷺ نے فرمایا ۔’’تو ہم میں سے نہیں۔ تو یہاں کیسے آ گیا؟‘‘’’میں آپ میں سے ہوں۔‘‘نعیمؓ نے کہا۔’’مدینہ میں گواہ موجود ہیں۔ میں نے درپردہ اسلام قبول کر لیا تھا۔اپنے قبیلے کے ساتھ اسی مقصدکیلئے آیا تھا کہ آپﷺ کے حضور حاضر ہو جاؤں مگر موقع نہ ملا ،پتا چلا کہ آپﷺ نے میرے قبیلے کے سردار اور سالار کو قریش سے دوستی ترک کرکے واپس چلے جانے کا پیغام بھیجا تھا اور آپﷺ نے اس کا معاوضہ بھی بتا دیا تھا لیکن آپﷺ نے بات کو مزید آگے نہ بڑھایا ۔‘‘’’اﷲ کی تجھ پررحمت ہو۔‘‘رسولِ خداﷺ نے پوچھا۔’’کیا تو بات کو آگے بڑھانے آیا ہے؟‘‘
’’نہیں، میرے اﷲ کے سچے نبیﷺ! ‘‘نعیم نے جواب دیا۔’’مجھے آپﷺ ہی کے قدموں میں آنا تھا۔اہلِ مدینہ پر مشکل کا وقت آن پڑا ہے۔میں اپنی جان لے کے حاضر ہوا ہوں۔ یہ حضور ﷺکے اور اسلام کے شیدائیوں کے جس کام آ سکتی ہے حضورﷺ کے قدموں میں پیش کرتا ہوں۔اپنے لشکر میں سے چھپ چھپا کر نکلا ہوں۔ خندق میں اتر تو گیا لیکن سنتریوں کی موجودگی میں اوپر آنا خودکشی کے برابر تھا۔اوپر چڑھنا ویسے بھی محال تھا ۔بڑی مشکل پیش آئی۔ خدا سے آپ ﷺکے نام پر التجاکی، گڑ گڑا کر دعا مانگی ،اﷲ نے کرم کیا ۔سنتری آگے چلے گئے اور میں خندق پر چڑھ آیا۔‘‘رسولِ اکرمﷺ کو نعیمؓ کے متعلق بتایا گیا کہ یہ کس حیثیت کی شخصیت ہے۔ رسولِ کریمﷺ نے ان کے ساتھ دو چار باتیں کیں تو آپﷺ کو اندازہ ہو گیا کہ نعیمؓ اونچی سطح اور عقل کے انسان ہیں۔ آپﷺ نے نعیم ؓکو بتایا کہ محاصرے نے جو حالات پیدا کر دیئے ہیں ان سے نکلنے کیلئے ضروری ہو گیا ہے کہ قریش کے لشکر میں جو مختلف قبائل شامل ہیں انہیں قریش سے بدزن کیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو تین قبائل کے ساتھ خفیہ معاہدے کرلیے جائیں ۔’’یا رسول اﷲﷺ!‘‘ نعیم نے کہا۔’’اگر میں یہ کام اپنے طریقے سے کردوں تو کیا حضورﷺ مجھ پر اعتماد کریں گے ؟‘‘’’تجھ پر اﷲ کی رحمت ہو نعیم‘‘۔رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔’’ میں تجھے ا ور تیرے نیک ارادوں کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘’’میں واپس اپنے قبیلے میں چلا جاؤں گا۔‘‘نعیم نے کہا۔’’لیکن یہ نہیں بتاؤں گا کہ میں مدینہ میں آیا تھا۔یہاں سے میں کعب بن اسد کے پاس جا رہا ہوں ،میرے اﷲ کے رسولﷺ !میری کامیابی کیلئے دعا فرمائیں۔‘‘مدینہمیں رات کو پہرے بڑے سخت تھے۔ پیچھے کی طرف خندق نہیں تھی ۔ادھر پہاڑیوں نے قدرتی دفاع مہیا کر رکھا تھا ۔ادھر پہرے داروں اور گشتی سنتریوں کی تعداد زیادہ رکھی گئی تھی اور شہر کے کسی آدمی کا بھی ادھر جانا بڑا مشکل تھا۔رسولِ اکرمﷺ نے نعیم ؓکے ساتھ اپنا ایک آدمی بھیج دیا تھا تاکہ کوئی سنتری انہیں روک نہ لے ۔یہ آدمی نعیمؓ کو مدینہ کے ساتھ باہرتک چھوڑ کر واپس آ گیا۔رات کا پہلا پہر تھا جب نعیمؓ بنو قریظہ کی بستی میں کعب بن اسد کے دروازے پر پہنچے۔دروازہ غلام نے کھولا۔’’تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو نہ کعب؟‘‘نعیم ؓنے پوچھا۔’’نعیم بن مسعود کو کون نہیں جانتا۔‘‘کعب نے کہا ۔’’غطفان کے قبیلے کو تجھ جیسے سردار پر بہت فخر ہوگا۔کہو نعیم رات کے اس پہر میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟میں نے دس دنوں کی مہلت مانگی تھی۔ابھی تو چھ سات دن گزرے ہیں ۔میں نے مسلمانوں پر شب خون مارنے کیلئے آدمی تیار کر لیے ہیں۔ کیا تم یہی معلوم کرنے آ ئے ہو؟‘‘
’میں اسی سلسلے میں آیا ہوں ۔‘‘نعیمؓ نے کہا۔’’تم بے وقوفہو کعب۔تم نے قریش کیساتھ کس بھروسے پر معاہدہ کر لیا ہے؟مجھ سے نہ پوچھنا کہ میرے دل میں تمہاری ہمدردی کیوں پیدا ہوئی۔میں مسلمانوں کا بھی ہمدرد نہیں کیونکہ میں مسلمان نہیں۔تم اچھی طرح جانتے ہو میرے دل میں انسانیت کی ہمدردی ہے۔ میرے دل میں ہمدردی ہے تمہاری ان خوبصورت اور جوان بیٹیوں، بیویوں اور بہنوں کی، جو مسلمانوں کی لونڈیاں بن جائیں گی۔تم نے قریش سے بڑا ہی خطرناک معاہدہ کر لیا ہے لیکن اس کی ضمانت نہیں لی کہ اہلِ قریش تمہیں مسلمانوں سے بچا لیں گے۔ہم نے بھی قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن کچھ ضمانت بھی لی ہے ۔‘‘’’کیا قریش جنگ ہار جائیں گے؟‘‘کعب بن اسد نے پوچھا۔’’وہ جنگ ہار چکے ہیں۔‘‘نعیم ؓنے کہا ۔’’کیا یہ خندق انہیں شہر پر حملہ کرنے دے گی؟قریش کے لشکر کو بھوک نے بے حال کرنا شروع کر دیا ہے ۔میرا قبیلہ بھوک سے پریشان ہو گیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کل تم میرے قبیلے کو بدنام کرو کہ غطفان تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے تھے، تم مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں اپنا دشمن بنا لو گے اور قریش اور ہم محاصرہ اٹھا کہ واپس چلے جائیں گے۔ اپنے دونوں قبیلوں قینقاع اور بنو نضیر کا انجام جومسلمانوں کے ہاتھوں ہواتھا وہ تمہیں یا د ہو گا۔‘‘کعب بن اسد پر خاموشی طاری ہو گئی۔’’ میں جانتا ہوں کہ تم نے قریش سے کتنی اجرت لی ہے ۔‘‘نعیم نے کہا ۔’’لیکن یہ خزانہ جو تم ان سے لے رہے ہو، یہ خوبصورت لڑکیاں جو حُیّ بن اخطب نے تمہارے پاس بھیجی ہیں ۔یہ سب مسلمانوں کی ملکیت ہو جائے گی اور تمہارا سر تمہارے تن سے جدا ہوگا۔‘‘’’تو کیا میں قریش سے معاہدہ توڑ دوں؟‘‘ کعب نے پوچھا۔’’معاہدہ نہ توڑو ۔‘‘نعیم ؓنے کہا۔’’انہیں ابھی ناراض نہ کرو لیکن اپنی حفاظت کی ان سے ضمانت لو۔عرب کے رواج کے مطابق انہیں کہو کہ ان کے اونچے خاندانوں کے کچھ آدمی تمہیں یرغمال کے طور پر دے دیں۔اگر انہوں نے اپنے چند ایک معزز اور سرکردہ آدمی دے دیئے تو یہ ثبوت ہو گا کہ وہ معاہدہ میں مخلص ہیں۔‘‘’’ہاں نعیم!‘‘ کعب بن اسد نے کہا۔’’میں ان سے یرغمال میں آدمی مانگوں گا۔‘‘
نعیمؓ بن مسعود رات کے وقت پہاڑیوں میں چلے جا رہے تھے ۔ان کی منزل قریش کی خیمہ گاہ تھی جو کئی میل دور تھی۔ سیدھا رستہ چھوٹا تھالیکن راستے میں خندق تھی۔ وہ بڑی دور کا چکر کاٹ کہ جا رہے تھے۔ وہ گذشتہ رات سے مسلسل چل رہے تھے مگر چھپ چھپ کر چلنے اور عام سفر میں بہت فرق ہوتا ہے ۔نعیمؓ جب ابو سفیان کے پاس پہنچے تو ایک اور رات شروع ہو چکی تھی۔اس وقت ان کی ہڈیاں بھی دکھ رہی تھیں اور ان کی زبان سوکھ گئی تھی۔ ایک ہی بار بے تحاشا پانی پی کر وہ بولنے کے قابل ہوئے۔ابوسفیان نعیم ؓکی دانشمندی اور تدبر سے متاثر تھا۔’’تمہاری حالت بتا رہی ہے کہ تم اپنے لشکر میں سے نہیں آئے۔‘‘ابوسفیان نے نعیمؓ سے پوچھا۔’’کہاں سے آ رہے ہو؟‘‘’’بہت دور سے۔‘‘ نعیمؓ بن مسعود نے جواب دیا۔’’ جاسوسی کی ایک مہم سے آ رہا ہوں ،تم لوگ بنو قریظہ کیساتھ معاہدہ کر آئے ہو۔ کیا تم بھول گئے تھے کہ یہودیوں کو ہمارے ساتھ جو دلچسپی ہے وہ صرف اس لیے ہے کہ وہ اسلام کو ہمارے ہاتھوں یہیں پر ختم کرا دینا چاہتے ہیں۔ میں بنو قریظہ کے دو دوستوں سے مل آیا ہوں اور مجھے مدینہ کا بھی ایک پرانا دوست مل گیا تھا۔ مجھے پتا چلا ہے کہ کعب بن اسد نے محمد)ﷺ( کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ کعب نے مسلمانوں کو خوش کرنے کا ایک نیا طریقہ سوچا ہے۔ تم نے اسے کہا کہ وہ مدینہ میں مسلمانوں پر حملے کرے ۔وہ اب تم سے قریش کے سرکردہ خاندانوں کے چند افراد یرغمال میں ضمانت کے طور پر رکھنے کیلئے مانگے گا۔ مگر انہیں وہ مسلمانوں کے حوالے کر دے گااور مسلمان ان افراد کو قتل کر دیں گے۔پھر یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے اور دونوں ہم پر حملہ کر دیں گے۔ میں تمہیں خبردار کرنے آیا ہوں کہ یہودیوں کو یرغمال میں اپنا ایک آدمی بھی نہ دینا ۔‘‘’’خدا کی قسم نعیم!‘‘ ابوسفیان نے کہا۔’’اگر تمہاری یہ بات سچ نکلی ۔تو میں بنو قریظہ کی بستیاں اجاڑ دوں گا۔کعب بن اسد کی لاش کو میں اپنے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر گھسیٹتا ہوا مکہ لے جاؤں گا۔اس نے کیا سوچ کر ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے؟‘‘’’اس کی سوچ پر آپ نے شراب اور حسین لڑکیوں کا طلسم طاری کر دیا ہے۔‘‘ نعیمؓ بن مسعود نے کہا۔’’ کیا شراب اورعورت کسی کے دل میں خلوص اور دیانت داری رہنے دیتی ہے؟‘‘’’اسے شراب اور عورت کس نے دی؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’کیا بد بخت کعب اتنی سی بات نہیں سمجھ سکا کہ میں نے اس کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس میں اس کی قوم اور اس کے مذہب کا تحفظ ہے۔اگر محمد)ﷺ(کا مذہب اسی طرح پھیلتا چلا گیا تو یہودیت ختم ہو جائے گی۔‘‘
’’تم یہودیوں کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے۔‘‘نعیم ؓنے کہا۔’’وہ اپنے دشمن پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیتے کہ وہ اس کے دشمن ہیں ۔حُیّ بن اخطب بھی یہودی ہے ۔اس نے تمہاری طرف سے کعب کو شراب کا نصف مٹکا اور دو نہایت حسین لڑکیا ں دی ہیں۔ میں جب کعب سے ملا تو وہ شراب میں بد مست تھا اور دونوں لڑکیاں نیم برہنہ حالت میں اس کے پاس تھیں ۔اس نے بد مستی کے عالم میں مجھے کہا کہ وہ اہلِ قریش کو انگلیوں پر نچا رہا ہے۔‘‘’’نعیم!‘‘ ابو سفیان نے تلوار کے دستے پر ہاتھ مار کر کہا۔’’ میں مدینہ سے محاصرہ اٹھاکر بنو قریظہ کی نسل ختم کر دوں گا۔اس کی یہ جرات کہ قبیلہ قریش کے سرکردہ چند افراد کو ضمانت کے طور پر یرغمال بناکر رکھنا چاہتا ہے۔‘‘’’تمہیں اتنا نہیں بھڑکنا چاہیے ابو سفیان۔‘‘نعیمؓنےکہا۔’’ٹھنڈے دل سے سوچواور فیصلہ کر لو کہ کعب کو تم ایک بھی آدمی یرغمال میں نہیں دو گے ۔‘‘’’میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’ کیا تم اہلِ مدینہ کی کوئی خبر دے سکتے ہو؟وہ کس حال میں ہیں؟ وہ کب تک بھوک برداشت کریں گے ؟‘‘نعیمؓ بن مسعود کو ابو سفیان کے پاؤں اکھاڑنے کا موقع مل گیا۔ ’’میں حیران ہوں ابو سفیان !‘‘ نعیمؓ نے کہا۔’’ اہلِ مدینہ خوش اور مطمئن ہیں ۔وہاں بھوک کے کوئی آثار نہیں، خوراک کی کمی ضرور ہے لیکن اہل ِمدینہ کا جوش اور جذبہ ایسا ہے کہ جیسے انہیں خوراک کی ضرورت ہی نہیں۔‘‘’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے محاصرے کا ان پر کوئی اثرنہیں ہوا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’بالکل نہیں۔‘‘نعیم ؓبن مسعود نے کہا۔’’ان پر محاصرے کا یہ اثر ہے کہ وہ جوش و خروش سے پھٹے جا رہے ہیں ۔‘‘’’ہمارے یہودی جاسوس ہمیں بتا رہے ہیں کہ مدینہ میں خوراک تقریباً ختم ہو چکی ہے۔‘‘ابو سفیان نے ذرا پریشان ہو کر کہا۔ ’’وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘نعیمؓ نے اسے اور زیادہ پریشان کرنے کیلئے کہا۔’’میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ یہودیوں پر بھروسہ نہ کرنا۔یہ بتا کر کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہیں وہ تمہیں اکسا رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر کہیں سے خندق عبور کر لو اور مدینہ پر حملہ کر دو۔ وہ اہلِ قریش اور میرے قبیلے غطفان کو مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ کرانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’میں ان کی نیت معلوم کرلیتا ہوں۔‘‘ابو سفیان نے کہااور اپنے غلام کو آوازدی۔’’عکرمہ اور خالد کو بلا لاؤ۔‘‘ابو سفیان نے غلام سے کہا۔نعیمؓ بن مسعود یہ کہہ کر چلے گئے ۔’’میں اپنے سردار غطفان کو خبردار کرنے جا رہا ہوں ۔‘‘خالد اور عکرمہ آئے تو ابوسفیان نے انہیں بتایا کہ نعیم اسے کعب بن اسد کے متعلق کیا بتا گئے ہیں ۔’’غیروں کے سہارے لے کر لڑائیاں نہیں لڑی جاتیں ابو سفیان!‘‘خالد نے کہا ۔’’آپ نے یہ تو سوچا ہی نہیں کہ بنو قریظہ مسلمانوں کے سائے میں بیٹھے ہیں۔ وہ زمین کے نیچے سے مسلمانوں پر وار کر سکتے ہیں لیکن وہ ہیں تو مسلمانوں کے رحم و کرم پر۔اگر آپ لڑنے آئے ہیں تو جنگجوؤں کی طرح لڑیں۔‘‘’’کیا یہ صحیح نہیں ہو گا کہ تم دونوں میں سے کوئی کعب بن اسد کے پاس جائے۔‘‘ ابوسفیان نے پوچھا۔’’ہو سکتا ہے کہ اس نے نعیم سے کہا ہو کہ وہ ہم سے یرغمال مانگے گا۔لیکن تم جاؤ تو وہ ایسی شرط پیش نہ کرے۔کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا ہے کہ تمام کا تمام لشکر نیم فاقہ کشی کی حالت میں ہے۔ کیا یہ لشکر خندق عبور کر سکتا ہے؟ یہی ایک صورت ہے کہ کعب مدینہ کے اندر مسلمانوں پر شب خون مارنے کا انتظام کرے۔‘‘’’میں جاؤں گا ۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’میں آ پ کو یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ کعب بن اسد نے یرغمال کی شرط پیش کی تو میں آپ سے پوچھے بغیر معاہدہ منسوخ کر آؤں گا۔‘‘’’کیا میں بھی عکرمہ کیساتھ چلا جاؤں ؟‘‘خالد نے ابو سفیان سے پوچھا۔’’اس کا اکیلے جانا ٹھیک نہیں ہے ۔‘‘’’نہیں!‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’اگر خطرہ ہے تو میں دو سالار ضائع نہیں کر سکتا۔عکرمہ اپنی حفاظت کیلئے جتنے لشکری ساتھ لے جانا چاہتا ہے لے جائے۔‘‘عکرمہ اسی وقت روانہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ چار لشکری تھے۔اسے بڑی دور کا چکر کاٹ کر بنو قریظہ تک پہنچنا تھا۔وہ جمعہ کی رات اور تاریخ ۱۴ مارچ ۶۲۷ء تھی ۔جب عکرمہ خندق سے دور دور چلتا شیخین کے سلسلۂ کوہ میں داخل ہوااورکعب بن اسد کے گھر پہنچا۔ کعب کو معلوم تھا کہ عکرمہ کیوں آ یا ہے۔’’آؤ عکرمہ!‘‘ کعب بن اسد نے کہا۔’’ میں جانتا ہوں کہ تم کیوں آ ئے ہو۔ تمہارے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔میں نے دس دن کی مہلت مانگی تھی ۔‘‘کعب بن اسد نے اپنے غلام کو آواز دی ۔غلام آیا تو اس نے غلام سے شراب اور پیالے لانے کو کہا۔’’پہلے میری بات سن لو کعب!‘‘ عکرمہ نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔’’میں شراب پینے نہیں آیا ۔مجھے بہت جلدی واپس جانا ہے۔ ہم محاصرے کو اور زیادہ طول نہیں دے سکتے ۔ہم کل مدینہ پر حملہ کر رہے ہیں۔تمہارے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق تم مدینہ میں ان جگہوں پر جو ہم نے تمہیں بتائی ہیں کل سے حملے شروع کر دو۔ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم نے ظاہری طور پر ہمارے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن درپردہ تم نے وہ معاہدہ قائم کر رکھا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ تم نے کیا ہے۔‘‘
اتنے مین ایک نہایت حسین لڑکی شراب کی صراحی اور پیالے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ عکرمہ کو دیکھ کر مسکرائی۔ عکرمہ نے اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر سنجیدگی کا تاثر اور زیادہ گہرا ہو گیا۔’’کعب!‘‘ عکرمہ نے کہا۔’’تم نے اپنا مذہب اور اپنی زبان ان چیزوں کے عوض بیچ ڈالی ہے۔جنہوں نے کبھی کسی کا ساتھ نہیں دیا۔‘‘کعب بن اسد نے لڑکی کو اشارہ کیا تو وہ چلی گئی۔ ’’میرے عزیز عکرمہ!‘‘ کعب نے کہا۔’’میں تمہارے چہرے پر رعونت کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ صاف پتا چلتا ہے کہ تم مجھے اپنا غلام سمجھ کر حکم دینے آئے ہو۔میں نے مسلمانوں کیساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ بنو قریظہ کے تحفظ اور سلامتی کیلئے کیاتھا اور میں نے جو معاہدہ تمہارے ساتھ کیا ہے وہ تمہاری فتح اور مسلمانوں کی شکست کی خاطر کیا ہے۔مسلمانوں کو ختم کرنا میرے مذہب کا حکم ہے۔ تمہارے ساتھ معاہدہ نبھانا اسی سلسلے کی ایک کوشش ہے۔ اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے کیلئے میں تمہیں استعمال کروں گا۔حُیّ بن اخطب سے میں نے کہہ دیا تھا کہ اہلِ قریش اور اہلِ غطفان مجھے بنو قریظہ کی سلامتی کی ضمانت دیں تاکہ ایسانہ ہو کہ تم لوگ ناکام ہو جاؤ اور مسلمان ہم سے ظالمانہ انتقام لیں۔‘‘نعیمؓ بن مسعود نے جو چنگاری ان لوگوں کے درمیان پھینک دی تھی وہ عکرمہ کے سینے میں سلگ رہی تھی ۔نعیم ؓنے عکرمہ کے ذہن میں ابو سفیان کی معرفت پہلے ہی ڈال دیا تھا کہ کعب افراد کی صورت میں ضمانت مانگے گا۔کعب کی زبان سے ضمانت کا لفظ سنتے ہی عکرمہ بھڑک اٹھا۔’’کیا تمہیں ہم پر اعتماد نہیں؟‘‘عکرمہ نے غصیلی آوا ز میں کہا۔’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم شاید بھول گئے ہیں کہ محمد)ﷺ( ہمارا اور تمہارا مشترکہ دشمن ہے۔‘‘’’میں یہ نہیں کہتا جو تم کہہ رہے ہو۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اپنے مشترکہ دشمن کو جتنا میں جانتا ہوں اتنا تم نہیں جانتے۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ جو عقل خدا نے محمد)ﷺ( کو دی ہے وہ ہم میں سے کسی کو نہیں دی……میں اس کی ضمانت چاہتا ہوں۔‘‘’’کہو، تمہیں کیسی ضمانت چاہیے؟‘‘عکرمہ نے پوچھا۔
’’قبیلۂ قریش کے چند ایک سرکردہ افراد ہمارے پاس بھیج دو۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا عکرمہ! یہ ہمارا تمہارا دستور ہے۔اس رواج اور شرط سے تم واقف ہو۔میں نے ضمانت کے طور پر یرغمال میں لینے والے آدمیوں کی تعداد نہیں بتائی ،یہ تعداد تم خود مقرر کر لو۔تم جانتے ہو کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرو گے تو تمہارے ان سرکردہ افراد کو ہم قتل کر دیں گے۔‘‘’’انہیں تم قتل نہیں کرو گے۔‘‘عکرمہ نے بھڑکی ہوئی آواز میں کہا۔’’تم انہیں مسلمانوں کے حوالے کر دو گے۔‘‘’’کیا کہہ رہے ہو عکرمہ؟‘‘کعب بن اسد نے حیرت اور پریشانی کے لہجے میں پوچھا۔’’کیا تم مجھے اتنا ذلیل سمجھتے ہو کہ میں تمہیں یہ دھوکا دوں گا کہ تمہارے قبیلوں کے سرداروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کرواؤں گا؟مجھ پر اعتبار کرو۔‘‘
’’یہودی پر اعتبار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی نے سانپ پر اعتبار کر لیا ہو۔‘‘عکرمہ نے غصے کے عالم میں کہا۔’’اگر تم اپنے آپ کو اتنا ہی قابلِ اعتبار سمجھتے ہو تو کل مدینہ میں ان چھوٹے قلعوں پر حملے شروع کردو جہاں پر مسلمانوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو رکھا ہوا ہے۔‘‘’’کل؟‘‘کعبنے کہا۔’’کل ہفتے کا دن ہے۔ہفتے کا دن یہودیوں کا ایک مقدس دن ہوتا ہے جسے ہم ’’سبت‘‘ کہتے ہیں ۔اس روز عبادت کے سوا ہم اور کوئی کام نہیں کرتے۔کوئی یہودی سبت کے دن کوئی کام یا کاروبار کرے یا کسی پر حملہ کرے تو خدائے یہودہ اسے انسان سے خنزیر یا بندر کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔‘‘عکرمہ دیکھ چکا تھا کہ کعب بن اسد کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔وہ شراب پیتا چلاجا رہا تھا۔عکرمہ نے شراب پینے سے انکار کر دیا تھا۔اس نے ابو سفیان سے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کر کے ہی واپس آ ئے گا۔’’تم کل حملہ کرو یا ایک دن بعد کرو۔ہم تمہاری نیت کو عملی صورت میں دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ تمہیں یرغمال میں اپنے آدمی دیئے جائیں یا نہ دیئے جائیں۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’ اس سے پہلے ہم تمہیں ایک آدمی بھی نہیں دیں گے۔‘‘’’میں کہہ چکا ہوں کہ یرغمال کے بغیر ہم کچھ نہیں کریں گے۔‘‘کعب بن اسد نے کہا۔’’جوں ہی تمہارے آدمی ہمارے پاس پہنچ جائیں گے ہم تمہاری منشاء کے مطابق مدینہ کے اندر کھلبلی مچا دیں گے ۔تم دیکھنا کہ ہم محمد )ﷺ(کی پیٹھ میں کس طرح چھرا گھونپتے ہیں۔‘‘عکرمہ اٹھ کھڑا ہوا اور غصے میں بولا۔’’تم بد طینت ہو۔تمہاری نیت صاف ہوتی تو تم کہتے کہ مجھے کسی ضمانت کی ضرورت نہیں۔آؤ مل کر مسلمانوں کو مدینہ کے اندر ہمیشہ کیلئے ختم کر دیں۔‘‘’’مجھے اگر حکم ماننا ہی ہے تو میں محمد )ﷺ(کا حکم کیوں نہ مان لوں؟‘‘کعب بن اسد نے عکرمہ کاغصہ دیکھتے ہوئے کہا۔’’ہم مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔جو تحفظ ہمیں ان سے مل سکتا ہے وہ تم نہیں دے سکو گے۔‘‘مؤرخ ابنِ ہشام اور ابنِ سعد نے لکھا ہے کہ نعیمؓ بن مسعود کا چھوڑا ہوا تیر نشانہ پہ لگا ۔عکرمہ غصے کے عالم میں کعب بن اسد کے گھر سے نکل آیا۔یہودیوں اور اہلِ قریش کا معاہدہ جو اگر برقرار رہتا تو مسلمانوں کی کمر ٹوٹ جاتی،کعب کے گھر کے اندر ہی ٹوٹ گیا۔جب عکرمہ کعب بن اسد سے ملنے جا رہا تھا۔اس وقت نعیم ؓبن مسعود اپنے قبیلے کے سردارغطفان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔اس کے ساتھ بھی انہوں نے کعب بن اسد کے متعلق وہی باتیں کیں جن باتوں سے وہ ابو سفیان کو بھڑکا چکے تھے۔ابو سفیان نے غصے میں آ کر ابو سفیان کو بلا لیا تھا۔غطفان نے اپنے سالار عینیہ کو بلالیا۔’’کیا تم نے سنا ہے کہ کعب بن اسد ہمیں کیا دھوکا دے رہا ہے؟‘‘غطفان نے عینیہ سے کہا۔’’وہ ہم سے یرغمال میں رکھنے کیلئے سرکردہ افراد مانگتا ہے۔کیا یہ ہماری توہین نہیں؟‘‘
’’سردار غطفان!‘‘ سالار عینیہ نے کہا۔’’میں پہلے تمہیں کہہ چکا ہوں کہ میرے ساتھ میدانِ جنگ کی بات کرو۔میں آمنے سامنے کی لڑائی جانتاہوں۔مجھے اس شخص سے نفرت ہو گی جو پیٹھ کے پیچھے آکر وار کرتا ہے اور مجھے اس شخص سے بھی نفرت ہوگی جس کی پیٹھ پر وار ہوتا ہے اور پھر تم یہودیوں پر اعتبار کرتے ہو؟اگر کعب بن اسد کہے گا کہ مجھے اپنے قبیلے کا سردار غطفان یرغمال میں دے دوتو کیا میں تمہیں اس کے حوالے کر دوں گا؟‘‘’’میں اس شخص کا سر اڑا دوں گا جو ایسامطالبہ کرے گا۔‘‘نعیمؓ بن مسعود نے کہا۔’’میں ان یہودیوں کو اپنے قبیلے کی ایک بھیڑ یا بکری بھی نہ دوں گا۔خدا کی قسم! کعب نے ہماری توہین کی ہے۔‘‘’’ابو سفیان کیا کہتا ہے؟‘‘غطفان نے نعیمؓ سے پوچھا۔’’یہ بات سن کر ابو سفیان غصے سے کانپنے لگا۔‘‘نعیمؓ نے کہا ۔’’ابو سفیان کہتا ہے کہ وہ کعب بن اسد سے اس توہین کا انتقام لے گا۔‘‘
’’اور اسے انتقام لینا چاہیے۔‘‘سالار عینیہ نے کہا۔’’بنو قریظہ کی حیثیت ہی کیا ہے؟وہ ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان اس طرح پس جائیں گے کہ ان کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔‘‘خالد کو آج مدینہ کی طرف جاتے ہوئے وہ وقت یاد آ رہا تھا جب عکرمہ بنو قریظہ کی بستی سے واپس آ یا تھا۔خالد دوڑتا ہوا اس تک پہنچا تھا ۔اُدھر سے ابو سفیان گھوڑا دوڑاتا آگیا۔ عکرمہ کے چہرے پر غصے اور تھکن کے گہرے آثار تھے۔’’کیا خبر لائے ہو؟‘‘ ابو سفیان نے اس سے پوچھا۔’’خدا کی قسم ابو سفیان! میں نے کعب سے زیادہ بد طینت انسان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔‘‘عکرمہ نے گھوڑے سے کود کر اترتے ہوئے جواب دیا۔’’نعیم نے ٹھیک کہا تھا۔‘‘’’کیا اس نے ہم سے یرغمال میں رکھنے کیلئے آدمی مانگے ہیں؟‘‘خالد نے پوچھا تھا۔’’ ہاں خالد!‘‘ عکرمہ نے کہا تھا۔’’ اس نے مجھے شراب پیش کی اور میرے ساتھ اس طرح بولا جیسے ہم اس کے مقروض ہیں۔اس نے کہا کہ پہلے یرغمال میں اپنے آدمی دو پھر میں مدینہ کے اندر شب خون ماروں گا۔‘‘’’کیا تم نے اسے کہا نہیں کہ اہلِ قریش کے سامنے بنو قریظہ کی حیثیت اونٹ کے مقابلے میں ایک چوہے کی سی ہے؟‘‘خالد نے کہا تھا ۔’’کیا تم نے اس کا سر اس کے کندھوں سے اتار نہیں دیا؟‘‘’’میں نے اپنا ہاتھ بڑی مشکل سے روکا تھا۔‘‘ عکرمہ نے کہا تھا۔’’اس کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوا تھا وہ میں توڑ آیا ہوں ۔‘‘’’تم نے اچھا کیا۔‘‘ابو سفیان نے دبی دبی آواز میں کہا تھا۔’’تم نے اچھا کیا۔‘‘اور وہ پرے چلا گیا تھا۔
یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا، ڈیڑھ دو سال پہلے کی ہی بات تھی۔ آج جب خالد مدینہ کی طرف جا رہا تھا تو یہ جانا پہچانا رستہ اسے اجنبی سا لگ رہا تھا ۔کبھی اسے ایسا محسوس ہونے لگتا جیسے وہ خود اپنے لیے اجنبی ہو گیا ہو ۔اسے ابو سفیان کا افسردہ چہرہ نظر آنے لگا۔ خالد نے محسوس کرلیا تھا کہ ابو سفیان مدینہ پر حملے سے منہ موڑ رہا ہے۔خالد اور عکرمہ وہیں کھڑے رہ گئے تھے۔ ’’کیا سوچ رہے ہو خالد ؟‘‘عکرمہ نے پوچھا تھا۔’’کیا تم میری تائید نہیں کرو گے کہ میں اس شخص ابو سفیان کی موجودگی کو صرف اس لیے برداشت کر رہا ہوں کہ یہ میرے قبیلے کا سردار ہے۔‘‘خالد نے عکرمہ کو جواب دیا تھا۔’’اہلِ قریش کو ابو سفیان سے بڑھ کر بزدل سردار اور کوئی نہیں ملے گا۔تم پوچھتے ہو کہ میں کیاسوچ رہا ہوں؟ میں اور زیادہ انتظار نہیں کر سکتا ۔میں نے خندق کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیکھا ہے۔ایک جگہ خند ق کم ہے اور زیادہ گہری بھی نہیں ہے۔ہم وہاں سے خندق کے پار جا سکتے ہیں اگر تم میرا ساتھ دو تو میں آج ہی ابھی اس جگہ سے چند سوار خندق کے اس پار لے جانا چاہتاہوں۔ابو سفیان کسی غیبی مدد اور سہارے کا انتظار کرنا چاہتا ہے تو کرتا رہے۔‘‘ ’’میں تمہارا ساتھ کیوں نہ دوں گا خالد؟‘‘ عکرمہ نے کہا تھا ۔’’کیا میں مسلمانوں کے ان قہقہوں کو برداشت کرسکوں گا جو اس وقت بلند ہوں گے جب ہم یہاں سے لڑے بغیر واپس جائیں گے۔چلو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔‘‘وہ جگہ ذباب کی پہاڑی کے مغرب اور سلع کی پہاڑی کے مشرق میں تھی۔جہاں خندق کی چوڑائی اتنی تھی کہ گھوڑا اسے پھلانگ سکتا تھا۔ضرورت شہسوار کی تھی۔پیادے خندق میں اتر کر اوپر چڑھ سکتے تھے۔ اسی جگہ کے قریب تقریباً سامنے مسلمانوں کی خیمہ گاہ تھی۔ خالد نے عکرمہ کو یہ جگہ دور سے دکھائی۔ ’’پہلے میرے سوار خندق پھلانگیں گے ۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’ لیکن ابھی ہم تمام کا تمام سوا ر دستہ نہیں گزاریں گے۔ پار جا کر مسلمانوں کو ایک ایک سوار کے مقابلے کیلئے للکاریں گے۔وہ اس رواج کی خلاف ورزی نہیں کریں گے،میرے ساتھ آؤ خالد۔میں اپنے منتخب سوار آگے لاؤں گا۔تم ابھی خندق کے پاس نہ جانا۔اگرہم دونوں مارے گئے تو اہلِ قریش کو سوائے ذلت کے اورکچھ نہ ملے گا۔ابو سفیان کا دل محاصرہ اٹھا چکا ہے۔وہ لڑنے کے جذبے کو سرد کر چکا ہے۔‘‘
وہ مقام جہاں خندق گھوڑے کی لمبی چھلانگ سے پھلانگی جا سکتی تھی ایسی اوٹ میں تھا۔جسے گشتی سنتری قریب آ کر ہی دیکھ سکتے تھے۔عکرمہ نے سات سوار منتخب کر لیے تھے ان میں ایک قوی ہیکل بلکہ دیو قامت شخص ’’عمرو بن عبد و‘‘بھی تھا۔جس کی دھاک اس کی جسامت کی بدولت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ عکرمہ ان سات سواروں کو مقررہ مقام سے کچھ دور تک اس اندازے سے لے گیا جیسے گھوڑوں کو ٹہلائی کیلئے لے جا رہے ہوں۔مسلمانوں کے سنتریوں کو ان پر شک نہ ہوا۔’’سب سے پہلے میں خندق پھلانگوں گا۔‘‘عکرمہ نے چلتے چلتے اپنے سات سواروں سے کہا۔’’کیا یہ ٹھیک نہیں ہو گا کہ سب سے پہلے میرا گھوڑا خندق کو پھلانگے؟‘‘عمرو بن عبدو نے کہا ۔’’نہیں عمرو!‘‘عکرمہ نے کہا۔’’پہلے میں جاؤں گا۔ اگر میرا گھوڑا خندق میں گر پڑا تو تم خندق پھلانگنے کی کوشش نہ کرنا۔تمہارا سالار اپنی جان کی قربانی دے گا۔‘‘یہ کہہ کر عکرمہ نے گھوڑے کی باگ کو جھٹکا دیا ۔گھوڑے کا رخ خندق کی طرف ہوا۔تو عکرمہ نے ایڑھ لگا دی۔عربی نسل کا گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا۔عکرمہ نے لگام اور ڈھیلی کر دی اور گھوڑے کو پھر ایڑھ لگائی گھوڑے کی لگام اور تیز ہو گئی۔خندق کے کنارے پہ جا کر عکرمہ گھوڑے کی پیٹھ سے اٹھااور آگے کو جھک گیا۔گھوڑا ہوا میں بلند ہو گیا۔خالد کچھ دور کھڑا دیکھ رہا تھا قبیلہ ٔ قریش کے بہت سے لشکری دیکھ رہے تھے۔ زمین و آسمان دیکھ رہے تھے تاریخ دیکھ رہی تھی۔گھوڑے کے اگلے پاؤں خندق کے دوسرے کنارے سے کچھ آگے اور پچھلے پاؤں عین کنارے پر لگے گھوڑا رفتار کے زور پر آگے چلا گیا۔اس کی اگلی ٹانگیں دوہری ہو گئیں ۔اس کا منہ زمین سے لگا ،عکرمہ گرتے گرتے بچا۔گھوڑا بھی سنبھل گیا اور عکرمہ بھی،اسے اپنے پیچھے للکار سنائی دی ۔’’آگے نکل جاؤ عکرمہ !‘‘عکرمہ نے پیچھے دیکھا۔عمرو بن عبدو کا گھوڑا ہوا میں اڑا آ رہا تھا ۔عمرو رکابوں پر کھڑا آگے کو جھکا ہوا تھا۔کسی کو توقع نہیں تھی کہ اتنے وزنی سوار کے نیچے گھوڑا خندق پھلانگ جائے گا لیکن گھوڑا اسی جگہ جا پڑا جہاں عکرمہ کا گھوڑا گرا تھا۔عمرو کے گھوڑے کی ٹانگیں ایسی دوہری ہوئیں کہ منہ کے بل گرا اور ایک پہلو پر لڑھک گیا ۔عمرو گھوڑے کی پیٹھ سے لڑھک کر قلابازیاں کھاتا گیا ۔ایک لمحے میں گھوڑا اٹھ کھڑا ہوا ،ادھر عمرو اٹھا اور پلک جھپکتے میں گھوڑے پر سوار ہو گیا

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 10

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: