Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 11

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 11

–**–**–

شرجیلؓ بن حسنہ نے خالدؓ بن ولید کو لڑائی کی ساری روئیداد سنائی اور یہ بھی بتایا کہ رومی سالار توما اگر مرا نہیں تو وہ لڑائیکیلئے ناکارہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کتنی نفری شہید اور کتنی نفری زخمی ہو گئی ہے۔’’اگر رومیوں نے ایسا ہی ایک اور حملہ کیا تو شاید ہم نہ روک سکیں۔‘‘شرجیلؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’مجھے کمک کی ضرورت ہے۔‘‘’’حسنہ کے بیٹے!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ایسا حملہ کسی اور دروازے سے ہم میں سے کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے۔کسی بھی دستے کی نفری کم نہیں کی جاسکتی……ابنِ حسنہ!خدا کی قسم، تو ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔کیا اپنے اتنے زیادہ ساتھیوں کے خون نے تیرا حوصلہ کمزور کر دیا ہے؟‘‘’’نہیں ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’اگر مجبوری ہے تو میں ایک آدمی کی بھی کمک نہیں مانگوں گا۔‘‘’’میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ تفصیل سے پڑھئے
‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تجھ پر حملہ ہوا تو ہم دیکھتے رہیں گے، اگر حملہ تیری برداشت سے باہر ہوا تو ضرار تیری مدد کو پہنچے گا۔پھر بھی ضرورت پڑی تو میں آجاؤں گا……تیرے پاس جتنی بھی نفری رہ گئی ہے اسے تیار رکھ۔ رومیوں کے سالار کو اگر آنکھ میں تیر لگا ہے تو ایک دو دن رومی باہر آکر حملہ نہیں کریں گے۔‘‘خالدؓ کی رائے صحیح نہیں تھی،توما نے ایک معجزہ کر دکھایا تھا۔وہ صحیح معنوں میں جنگجو تھا۔چونکہ وہ شاہی خاندان کافرد تھا، اس لیے سلطنتِ روم کی جو محبت اس کے دل میں تھی وہ قدرتی تھی۔بعد میں پتا چلا تھا کہ اس کی آنکھ میں تیر لگا تو اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔جراح نے دیکھا کہ تیر اتنا زیادہ اندر نہیں اترا کہ توما کی ہلاکت کا باعث بن جائے۔کھوپڑی کی ہڈی کو تیر نے مجروح نہیں کیا تھا۔یہ صرف آنکھ میں اترا لیکن نکالا نہیں جا سکتا تھا۔
’’کاٹ دو اسے!‘‘توما نے جراح سے کہا۔’’باقی اندر ہی رہنے دو،اور اس آنکھ پر پٹی باندھ دو،دوسری آنکھ پر پٹی نہ آئے۔میں آج رات ایک اور حملہ کروں گا۔‘‘’’سالارِ اعلیٰ!‘‘جراح نے کہا۔’’کیا کہہ رہے ہیں آپ؟آپ لڑائی کے قابل نہیں۔‘‘’’اس ایک آنکھ کے بدلے مسلمانوں کی ایک ہزار آنکھیں ضائع کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’میں انہیں صرف شکست نہیں دوں گا، میں ان کے وطن عرب تک ان کا تعاقب کروں گا۔میں اپنے کام کو اس وقت مکمل سمجھوں گا جب ان کے ملک کو اس قابل رہنے دوں گا کہ وہاں صرف جانور رہ جائیں گے۔‘‘توما کے یہ الفاظ متعدد مؤرخوں نے لکھے ہیں اور واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ان میں یورپی تاریخ دان ہنری سمتھ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ان سب کی تحریروں کے مطابق توما کے حکم سے جراح نے تیر آنکھ کے قریب سے کاٹ دیااور اوپر پٹی کس کر باندھ دی۔یہ جذبے اور عزم کی پختگی کا کرشمہ تھا کہ تومانے اتنے شدید زخم کو برداشت کر لیا اور حکم دیا کہ آج ہی رات باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے گا۔’’اتنی ہی فوج بابِ توما کے سامنے اکٹھی کی جائے جتنی میں دن کے حملے میں لے کر گیا تھا۔‘‘توما نے حکم دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔چلتے چلتے اس نے شراب پی اور ہتھیار بند ہو کر باہر نکل گیا۔
اُن راتوں کو چاند پورا ہوتا تھا۔فضاء صاف رہتی تھی۔اس لئے چاندنی شفاف ہوتی تھی۔توما نے بڑا اچھا طریقہ اختیار کیا۔اس نے اپنے تمام دستوں کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تین اور دروازوں بابِ صغیر، بابِ شرق، اور بابِ جابیہ۔سے باہر جا کر مسلمانوں پر اس طرح حملے کریں کہ اپنے آپ کو لڑائی میں اتنا زیادہ نہ الجھائیں بلکہ انہیں اپنے ساتھ لڑائی میں مصروف رکھیں، وہ خود بڑا حملہ بابِ توما سے کر رہا تھا۔دوسرے دروازوں سے حملے کرانے سے اسکا مطلب یہ تھا کہ شرجیلؓ کو کسی طرف سے مدد نہ مل سکے۔’’تمہارا دشمن اس وقت حملے کی توقع نہیں رکھتا ہوگا۔‘‘توما نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’تم انہیں سوتے میں دبوچ لو گے۔‘‘توما کی فوج چار دروازوں سے باہر نکلی۔وقت آدھی رات کا تھا۔چاندنی اتنی صاف تھی کہ اپنے پرائے کو پہچانا جا سکتا تھا، مسلمانوں پر چار جگہوں سے حملے ہوئے،ایک دروازے کے سامنے سالار ابو عبیدہؓ تھے، دوسرے کے سامنے یزیدؓ بن ابو سفیان تھے، ابو عبیدہؓ نے رومیوں کو جلدی بھگا دیا اور رومی قلعے میں واپس چلے گئے۔یزیدؓ بن ابو سفیان کی حالت کمزور سی ہو گئی۔رومیوں نے ان پر بڑا ہی شدید ہلہ بولا تھا۔یزیدؓ نے مقابلہ تو کیا لیکن رومی ان پر حاوی ہوتے جا رہے تھے ۔ضرار بن الازور مدد دینے کے کام پر معمور تھے ۔انہیں پتا چلا کہ یزیدؓ کو مدد کی ضرورت ہے تو وہ دو ہزار سوار اور پیادہ مجاہدین کے ساتھ یزیدؓ کے پاس پہنچ گئے۔ضرار کی جسمانی حالت لڑنے کے قابل نہیں تھی،ان کے بازو میں تیر لگا تھا اور جسم پر دو تین اور گہرے زخم تھے۔پھر بھی وہ میدانِ جنگ میں موجود تھے اور ان کی برچھی پورا کام کر رہی تھی۔ضرار نے اپنی اور یزیدؓ کی فوج کو ملا کر حملے کا حکم دیا۔یہ بڑا ہی شدید حملہ تھا،رومیوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ قلعے میں واپس چلے گئے۔ان کی لاشیں اور زخمی پیچھے رہ گئے۔تیسرے دروازے کے سامنے رافع بن عمیرہ کے دستے تھے۔ان پر بھی رومیوں نے شدید حملہ کیا اور رافع کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔مسلمان بڑی بے خوفی سے لڑرہے تھے لیکن رومیوں کا دباؤ بڑا سخت تھا۔اتفاق سے خالدؓ نے دیکھ لیا اور وہ چار سو سواروں کو ساتھ لے کر رافع کے پاس پہنچے۔’’میں فارس جلیل ہوں!‘‘خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’میں خالد ابنِ ولید ہوں۔‘‘خالدؓ نے رومیوں پر صرف چار سو سواروں سے حملہ کر دیا۔رومی جو رافع کے دستوں پر غلبہ پا رہے تھے ، پیچھے کو دوڑ پڑے، اور دروازے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔
اصل لڑائی تو بابِ توماکے سامنے ہو رہی تھی۔توما نے خود وہاں حملہ کیا تھا۔شرجیلؓ کی نفری تھوڑی تھی۔مجاہدین کی تعداد کم رہ گئی تھی،اور وہ دن کی لڑائی کے تھکے ہوئے بھی تھے ۔شرجیلؓ نے اب بھی پہلوؤں کے تیر اندازوں کو استعمال کیا ۔رومی تیر کھا کھاکر گرتے تھے
لیکن حملے کیلئے آگے بڑھے آرہے تھے۔شرجیلؓ نے دن کے حملے میں توما کی گرجدار آواز سنی تھی، انہوں نے رات کو بھی اسی آواز کی للکار سنی تو وہ حیران رہ گئے کہ توما حملے کی قیادت کر رہا ہے۔یہی وجہ تھی کہ رومی تیروں کی بوچھاڑوں میں بھی آگے بڑھے آرہے تھے۔چاندنی رات میں دونوں فوجوں کی بڑی سخت ٹکر ہوئی۔شرجیلؓ کے مجاہدین نے حملہ روک لیا اور بڑی خونریز لڑائی ہوتی رہی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ لڑائی کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی اور وہ دونوں فوجوں کے آدمی گرتے رہے۔شرجیلؓ کو کسی طرف سے بھی مدد ملنے کی توقع نہیں تھی۔ لڑائی شدت اختیار کرتی گئی۔شرجیلؓ کو توما کی آواز حیران کر رہی تھی، اور توما شرجیلؓ کو ڈھونڈ رہا تھا۔اس کی دلیری غیر معمولی تھی۔اسے چاندنی میں مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا، اور وہ شرجیلؓ کو للکار کر ان کی طرف بڑھا۔شرجیلؓ اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔
’’ایک آنکھ کے بدلے ایک ہزار آنکھیں لوں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو دوسری آنکھ بھی دینے آیا ہے۔‘‘شرجیلؓ نے کہا۔دونوں آمنے سامنے آگئے،اور دونوں گھوڑوں سے اترآئے۔دونوں کے ہاتھوں میں تلواریں اور ڈھالیں تھیں اور دونوں تیغ زنی کے ماہر تھے۔شرجیلؓ کو توقع تھی کہ توما کی ایک ہی آنکھ ہے اور اس کی دوسری آنکھ بھی زخمی ہے اس لیے وہ لڑ نہیں سکے گالیکن وہ پوری مہارت سے لڑ رہا تھا۔شرجیلؓ کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تیر ابھی توما کی آنکھ میں ہی ہے۔شرجیلؓ کا ہر وار توما بچا جاتا تھا، اور توما کا ہر وار شرجیلؓ بچا رہے تھے۔شرجیلؓ نے ایک وار بڑا ہی زور دار کیا، ان کی تلوار پہلے توما کی آہنی خود پر لگی، اور وہاں سے پھسل کر کندھے پر لگی جہاں آہنی زرہ تھی۔اتنا زور دار وار لوہے پر پڑا تو تلوار ٹوٹ گئی۔توما نے للکار کر وار کیا، جو شرجیلؓ نے ڈھال پر لیا۔وہ اب تلوار کے بغیر تھے ،وار صرف روک سکتے تھے۔توما بڑھ بڑھ کر وار کر رہا تھا۔شرجیلؓ کے دو مجاہدین نے دیکھ لیا کہ شرجیلؓ تلوار کے بغیر خطرے میں ہیں تو وہ شرجیلؓ اور توما کے درمیان آگئے۔شرجیلؓ نے اِدھر اُدھر دیکھا،وہ کسی کی تلوار ڈھونڈ رہے تھے ۔کچھ دور انہیں اپنے ایک شہید مجاہد کی لاش کے قریب اس کی تلوار پڑی نظر آئی۔انہوں نے دوڑ کر تلوار اٹھا لی اور واپس آئے لیکن توما وہاں نہیں تھا،شرجیلؓ نے اپنے دونوں مجاہدین سے پوچھا کہ توما کہاں ہے؟انہوں نے بتایا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے لڑائی کے ہنگامے میں گم ہو گیا ہے۔انہوں نے اسے گھوڑے پر سوارہوتے دیکھا تھا۔
شرجیلؓ کے اعصاب پر بڑا تکلیف دہ دباؤتھا۔انہیں پوری طرح یقین نہیں تھا کہ وہ رومیوںکو شکست دے سکیں گے۔لڑنے میں شرجیلؓ اور ان کے دستے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔انہوں نے چند سو سواروں کو الگ کرکے پہلو سے رومیوں پر ایک زور دار ہلّہ بولا۔کچھ تو اس ہلّے نے کام کیا،کچھ رومی مایوس ہو گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے،رومیوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ بے ترتیب ہو کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ ترتیب اور تنظیم سے پیچھے ہٹتے تھے۔شرجیلؓ نے انہیں پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان کے پیچھے نہ گئے کیونکہ مسلمانوں کی نفری تھوڑی رہ گئی تھی۔شرجیلؓ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے،پیچھے جانے کے بجائے انہوں نے تیراندازوں کو آگے کرکے پیچھے ہٹتے ہوئے رومیوں پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔رومی اپنی لاشوں اور زخمیوں کو پیچھے چھوڑتے،دروازے میں جا کر غائب ہو گئے۔رومی جس دروازے سے بھی باہرآئے تھے وہ لاشیں اور زخمی پھینک کر اُسی دروازے سے اندر چلے گئے۔سب سے بڑا حملہ توما نے کیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔اگر بات ناکامی تک ہوتی تو رومی ایسے حملے پھر بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں جو جانی نقصان اٹھانا پڑاوہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ان کی نفری پہلے ہی کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی اور اب تو آدھی رہ گئی تھی،توما کیلئے ایک دشواری یہ پیدا ہو گئی کہ جب شہر پناہ کے دروازے بند ہو گئے اور توما شہر میں آکر رکا تو کئی شہریوں نے اسے گھیر لیا۔’’سالارِ معظم!‘‘ایک آدمی نے کہا۔’’ہم سلطنتِ روم کے وفادار ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ روم کی شہنشاہی کو مزید نقصان پہنچے۔ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کی بات کی جائے۔‘‘’’شہریوںمیں جو بے چینی اور بد امنی پھیل چکی ہے اسے آپ نہیں دیکھ رہے۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’فوج جو نقصان اٹھا چکی ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور آپ خود بھی زخمی ہیں، خطرہ ہی ہے کہ شہری جو اب نیم فاقہ کشی تک پہنچ گئے ہیں اپنی ہی فوج کیلئے نقصان کا باعث بن جائیں گے۔‘‘توما جابر قسم کا سالار تھا۔اس کی دلیری اور عزم کی پختگی میں کوئی شک نہیں تھا لیکن اس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ جو شہری اس کے ساتھ بات کرتا تھا وہ اس شہری کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔یہ وہ توما تھا جو کسی کی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔اس کے چہرے کے تاثرات میں شکست صاف نظر آرہی تھی۔اس نے اپنی اس آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا جس کے اندر تیر کا ایک ٹکڑا موجود تھااور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔صاف پتا چلتا تھا کہ اسے یہ زخم پریشان کر رہا ہے۔’’مجھے سوچنے دو۔‘‘اس نے ہاری ہوئی آواز میں کہا۔’’میں صلح کر لوں گا لیکن کوئی ایسی شرط نہیں مانوں گا جو روم کی شہنشاہی کی تذلیل کا باعث بنے۔‘‘
دراصل توما ذہنی طور پر شکست تسلیم کر چکا تھا۔اس کے سامنے اب یہی ایک مسئلہ رہ گیا تھا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ باعزت سمجھوتہ ہوجائے۔مؤرخوں کے بیانات کے مطابق اسے کسی نے یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کے نائب سالار ابوعبیدہؓ نرم مزاج اور صلح جو انسان ہیں۔اگر ان تک رسائی ہوجائے تو باعزت سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔خالدؓ کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ مکمل شکست اور ہتھیار ڈالنے سے کم بات نہیں کرتے۔توما نے اپنے مشیروں کو بلایا۔باہر مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور وہ للکار ہے تھے کہ رومیو!شہر ہمارے حوالے کردو۔ لیکن شہر میں داخل ہونے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتاتھا۔خالدؓ نے فیصلہ کرلیا کہ مجاہدین کو ایک دو دن آرام کیلئے دے کر شہر کے دروازے توڑنے کی یا دیوار میں سرنگ لگانے کی کوشش کریں گے۔صبح طلوع ہوئی تو اﷲنے ایک غیر مسلم کو خالدؓ کے سامنے کھڑا کردیا۔یہ ایک یونانی تھا جس کا نام یونس ابن مرقس تھا۔وہ رات کے وقت جب رومی اندر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے تھے، شہر کی دیوار سے ایک رسّے کے ذریعے اترا تھا۔اس نے کہا کہ وہ ایک لڑکی کو حاصل کرنے کیلئے اپنی جان کا خطرہ مول لے کر آیا ہے۔یہ لڑکی بھی یونانی تھی اور یہ ۱۸ ستمبر ۶۳۴ء )۱۹ رجب ۱۳ھ( کا واقعہ ہے۔۱۸ ستمبر ۶۳۴ء کی رات تھی۔خالدؓ کو بتایا گیا کہ قلعے کے اندر سے ایک آدمی آیا ہے جو اپنا نام یونس ابن مرقس بتاتا ہے۔’’وہ قلعے سے نہیں آیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر قلعے کے اندر ہی سے آیا ہے تو صاف نیت سے نہیں آیا،اگر باہر سے آیا ہے تو بھی اس کی نیت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔وہ رومیوں کا جاسوس ہوگا……اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘وہ ایک جواں سال آدمی تھا۔خوبرو اور پھرتیلا تھا۔خالدؓ کے دو محافظوں نے اس کی تلاشی لی۔اس نے کمر بند میں ایک خنجر اڑسا ہوا تھا جو اس نے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔یہ اس سے لے کر اسے خالدؓ کے خیمے میں بھیج دیا گیا۔خالدؓ نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا پھر اس پر نظریں جما دیں۔’’سالارِ اعلیٰ مجھے شک کی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں۔‘‘اس جواں سال آدمی نے کہا۔’’میں آپ کے دشمن کے قلعے سے آیا ہوں۔آپ کو مجھ پر شک کرنا چاہیے……میرا نام یونس ابن مرقس ہے اور میں یونانی ہوں۔آپ کی اور رومیوں کی جنگ کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘’’یونان کے جوان!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اپنے آنے کا مقصدفوراً بتا دو؟‘‘’’مقصد میرا ذاتی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’اگر آپ یہ پورا کردیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔‘‘’’تُو میری کیا مدد کر سکتا ہے؟‘‘’’میں آپ کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’پھر دمشق آپ کا ہوگا۔‘‘
’’تو قلعے سے نکلاکیسے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں کیسے یقین کروں کہ تو جھوٹ نہیں بول رہا؟‘‘’’میں باب الشرق کے قریب فصیل سے رسہ لٹکا کر اترا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’میرے آنے کا مقصد بھی سن لیں سالارِ اعلیٰ!دمشق میں یونانیوں کے تین چار خاندان آبادہیں۔ایک یونانی لڑکی کے ساتھ میری محبت ہے۔میں آپ کونہیں بتا سکتا کہ ہم ایک دوسرے کو کس قدر چاہتے ہیں۔آپ کی فوج نے دمشق کا محاصرہ کیا تو اس سے تھوڑی ہی دیر پہلے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی ہو گئی۔اتنے میں شور اٹھا کہ مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔لڑکی کے والدین نے لڑکی کو میرے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔کہتے ہیں کہ محاصرہ ٹوٹ جانے کے بعد ہی لڑکی کو میرے حوالے کریں گے……‘‘
’’سالارِ اعلیٰ !میں محبت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہوں کہ انتظار نہیں کر سکتا۔دراصل لڑکی کی ماں کی نیت ٹھیک نہیں۔وہ اپنی بیٹی کی شادی ایک بڑے ہی مالدار تاجر کے ساتھ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی بیٹی نے میری محبت کی خاطر اسے مجبور کر دیا کہ اس کی شادی میرے ساتھ کردے۔آپ کی فوج نے شہر کو محاصرے میں لے لیا تو اسے بہانہ مل گیا۔اس نے کہا کہ ہر کوئی شہرکے دفاع میں لگا ہوا ہے اچھا نہیں لگتا کہ تم دونوں شادی کی تقریب مناؤ۔‘‘’’لیکن میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا میں یہاں محبت کی داستانیں سننے آیا ہوں؟تو وہ بات فوراً کیوں نہیں کہہ دیتا جو تو کہنے آیا ہے۔اگر تو یہاں کسی اورنیت سے آیا ہے تو تو یہاں سے زندہ کس طرح جائے گا۔‘‘’’آہ ابنِ ولید!‘‘یونس ابن مرقس نے آہ لے کر کہا۔’’کون ہے جو تیرے خیمے میں بری نیت سے آنے کی جرات کر سکتا ہے۔جس نے سلطنت روم جیسے عظیم اور جابر سلطنت کی بنیادوں تک کو ہلا ڈالا ہے اسے مجھ جیسے معمولی آدمی سے نہیں ڈرنا چاہیے……اور یہ بھی سوچ کہ میں رومی نہیں یونانی ہوں۔مجھے صرف اپنی بیوی چاہیے اور تجھے دمشق……راز کی بات یہ ہے کہ تین چار دن لڑائی نہیں ہوگی۔‘‘’’کیوں نہیں ہوگی؟‘‘’’دمشق کا سالار توما زخمی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے جوا ب دیا۔’’لیکن لڑائی نہ ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہر کے لوگ سالار توما کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ بندی اور صلح کی بات کرے۔شہر میں اناج کی قلت قحط کی حد تک پہنچ گئی ہے،اور سب سے بڑی وجہ لڑائی نہ ہونے کی یہ ہے کہ کل رات دمشق کے لوگوں کا ایک جشن ہے جس میں روم کی فوج بھی شریک ہوگی۔کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔میں آپ کی یہ مدد کروں گا کہ فصیل پر کمند پھینکنے کی موزوں جگہ بتا دوں گا۔آپ کے چند ایک آدمی فصیل پر چڑھ آئیں اور اندر سے ایک دروازہ کھول دیں پھر آپ کی فوج شہر میں داخل ہو جائے۔‘‘
بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اہلِ دمشق اپنا کوئی سالانہ جشن منا رہے تھے۔ایسے جشن میں وہ اتنی زیادہ شراب پیتے اور رنگ رلیوں میں ایسے مگن ہوتے تھے کہ انہیں اپنے پرائے کی ہوش نہیں رہتی تھی،اور فوج بھی اس میں شریک ہوتی تھی لیکن اب ایسی حالت میں دمشق والوں کا ایسا جشن منانا کہ وہ اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھیں قابلِ یقین نہیں لگتا تھا۔دمشق کے اندر کی حالت بیان کی جا چکی ہے۔وہاں تو قحط اور خوف و ہراس کی کیفیت تھی۔روم کی فوج کی بے شمار نفری ماری جا چکی تھی۔لاشیں باہر گل سڑرہی تھیں اور زخمی اندر کراہ رہے تھے۔ان حالات میں جشن کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے وہ حقیقی لگتا ہے۔اس نے شام سے رومیوں کی پسپائی کے بیان میں لکھا ہے کہ دمشق کے محاصرے میں رومیوں کی حالت اتنی بری ہو گئی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر آگئے تھے۔ان کے مذہبی پیشواؤں نے رومی سالار توما سے کہا تھا کہ ان سے خدا ناراض ہے۔خدا کو راضی کرنے کیلئے مذہبی قسم کے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔دمشق میں دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی تھے جو اپنے انداز سے مذہبی تقریب منعقد کر رہے تھے۔چونکہ یہ مذہب کا اور فتح کیلئے دعا کا معاملہ تھا اس لیے ا س میں ہرکسی کی شرکت لازمی تھی۔فوج کو بھی اس میں شامل ہونا تھا۔اس یورپی مؤرخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ مسلمان قلعے پر چڑھائی کردیں گے،یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔مسلمانوں کی اپنی حالت ایسی مضبوط نہیں رہی تھی کہ وہ ہلہ بول دیتے۔یہ تو خالدؓ کا عزم تھا اور انہیں اپنے تمام سالاروں کا بھرپور تعاون حاصل تھا کہ دمشق کو چند دنوں میں سر کرنا ہے۔یونس ابن مرقس کے متعلق تمام مؤرخ متفق ہیں۔اس نے خالدؓ کو قائل کر دیا کہ وہ انہیں قلعے میں داخل کر دے گا اور اس کے عوض وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اسے دلا دی جائے۔خالدؓنے اس یونانی پر اعتبار کر لیااور اسے سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔’’میں نے اسلام کے متعلق بہت کچھ سنا ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’لیکن مجھے کوئی بتانے والا نہیں تھا اور میرا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہ تھا۔مجھے اپنے پاس رکھیں، میں اسلام قبول کرتا ہوں۔کیا مجھے اپنا نام بدلنا پڑے گا؟‘‘’’نہیں !‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمہارا نام پہلے ہی اسلامی ہے۔‘‘خالدؓ نے اسے مسلمان کر لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ کمند کہاں اور کس طرح لگائی جائے،اور اندر کی طرف دروازے کی حفاظت کا کیا انتظام ہے؟
یونس ابن مرقس نے انہیں پوری تفصیل سے سب کچھ بتایا۔یونس ابن مرقس کو اتنا ہی معلوم تھا کہ دو تین دن لڑائی نہیں ہو گی،اور کل رات لوگ ایک جشن یا تقریب منائیں گے۔اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ رومی سالار توماہمت ہار چکا ہے،اور وہ کوئی اور چال چل رہا ہے۔یہ چال توما اور اس کے مشیروں نے مل کر سوچی تھی۔جس طرح مسلمانوں کے پاس اسی علاقے کے جاسوس موجود تھے ۔اسی طرح رومیوں کے پاس ایسے جاسوس موجود تھے جو خالدؓ اور اس کے تمام سالاروں کے کردار اور عادات کے تعلق پوری واقفیت رکھتے تھے۔یہ عرب کے عیسائی تھے اور مکہ ،مدینہ اور انہی علاقوں کے رہنے والے یہودی بھی تھے۔یہ سب صرف جاسوس ہی نہیں تھے بلکہ ان میں سے دو چار توما کے مشیر بھی بنے ہوئے تھے۔توما نے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملے کیے تھے پورا زور لگا لیا تھا مگر صرف جانی نقصان کے اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو اتھا۔شہریوں نے اسے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ شہر میں خوراک ختم تھی اور اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ ایک تیر کا اگلا حصہ اس کی آنکھ میں اترا ہوا تھا اور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ’’پھر بھی میں شہر کو تباہی اور لوٹ مار سے اور لوگوں کے قتلِ عام سے بچانا چاہتا ہوں۔‘‘ توما نے اپنے سلاروں اور مشیروں کو بلاکر انہیں اپنی صورتِ حال بتائی اور کہا کہ ہم لڑ نہیں سکتے۔مسلمان آسانی سے اندر نہیں آسکتے لیکن اناج اور رسد کا جو حال ہے وہ تم سب جانتے ہو مسلمانوں نے صرف محاصرہ ہی جاری رکھا تو لوگ بھوک سے مرنے لگیں گے۔‘‘’’اور وہ بغاوت بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’بغاوت کریں یا نہ کریں۔‘‘توما نے کہا۔’’ یہ میرافرض ہے کہ انہیں ہر تکلیف سے بچائے رکھوں۔مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم شہر خالی کرنا چاہیں تو مسلمان ہمیں اجازت دید یں اور ہمیں کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘’’خالدابنِ ولید بڑا جابر سالار ہے ۔‘‘ایک یہودی مشیر نے کہا۔’’وہ ہمیں پر امن طریقہ سے نہیں نکلنے دے گا۔ا س کی فوج کا جو نقصان ہو چکا ہے وہ بھی نہیں بخشے گا۔ ہمیں کہے گا اسلام قبول کرو۔‘‘’’یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ آپ سے اتنا تاوان مانگے گا جو آپ اپنے خزانے کے علاوہ لوگوں کے گھروں سے اکٹھا کریں تو بھی مشکل سے پورا ہوگا۔‘‘یہودی مشیر نے کہا۔
توما گہری سوچ میں پڑ گیا۔
’’ان میں کوئی سالار ایسا ہے جو نرم مزاج ہو ؟‘‘اس نے پوچھا۔’’ابو عبیدہ!‘‘یہو دی نے جواب دیا۔’’بڑا ہی قابل بڑا ہی دلیر سالار ہے۔مگر رحم دل ہے۔‘‘’’اپنی فوج میں اس کی حیثیت کیا ہے؟‘‘’’ابنِ ولید کے بعد حیثیت ابو عبیدہ کی ہے۔‘‘دوسرے یہودی نے کہا۔’’ان کی خلافت میں جو قدرومنزلت ابو عبیدہ کی ہے وہ ابنِ ولید کی نہیں۔ابنِ ولید کا درجہ اس کے بعد کا ہے۔تمام مسلمان خود خلیفہ اور ابنِ ولید ابو عبیدہ کا احترام کرتے ہیں۔‘‘یہاں سے توما کے دماغ میں ایک فریب کاری آگئی۔یہودی اور عیسائی عرب مشیروں اور دانشوروں نے اس کی رہنمائی اور مدد کی،اور ایک منصوبہ تیار ہو گیا۔جو مختصراً اس طرح تھا کہ توما ابو عبیدہ کے آگے اس شرط پر ہتھیار ڈالے گا کہ اسے اس کی فوج اور شہر کے ہر اس باشندے کو جو شہر چھوڑ کر جانا چاہے اسے اس کے مال و اسباب وعورتوں اور بچوں سمیت نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو۔تومانے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جزیہ اداکرے گا یہ بھی طے پایا کہ خالدؓ کو قبل از وقت پتا نہ چلے۔یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ ابو عبیدہ شہر کے اس دروازے )باب جابیہ(کے سامنے اپنے دستوں کے ساتھ تھے۔جو اس دروازے )باب الشرق(کے بالمقابل تھا۔دونوں دروازوں کے درمیان پورا شہر حائل تھا اور فاصلہ ایک میل سے کچھ زیادہ تھا توما آسانی سے اپنے ایلچی ابو عبیدہ کے پاس بھیج سکتا تھا۔توما نے یہ کانفرنس اس رات سے دو تین راتیں پہلے منعقد کی تھی جس رات یونس ابن مرقس خالدؓ کے پاس آیاتھا۔اگلی رات کا واقعہ ہے ،خالدؓ ،قعقاعؓ اور ایک بڑے بہادر مجاہد مذعور بن عدی شہرِ پناہ کے دروازے بابِ الشرق سے کچھ دور کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں رسے تھے، دیوار کے ساتھ لگے ایک سو مجاہدین کھڑے تھے۔ یہ سارے لشکر میں سے چنے ہوئے نڈر اور ذہین مجاہدین تھے۔ یونس ابن مرقس خالدؓ کے ساتھ تھا۔اسی نے خالدؓکو یہ جگہ بتائی تھی وہ رسے کے ذریعے یہیں سے اترا تھا۔ خالدؓ اپنی زندگی کا بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے، وہ سپہ سالار تھے انہیں اوپر نہیں جانا چاہیے تھا۔ پکڑے جانے کا امکان تھا۔مارے جانے کا خطرہ تھا، لیکن اس خطرے میں وہ کسی اور کو نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں اعتماد تھا کہ ان کے ناہونے سے مجاہدین میں بد دلی نہیں پھیلے گی اور ابو عبیدہؓ ان کی جگہ لے لیں گے،یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھاکہ خالدؓکی غیر حاضری میں سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ ہوں گے۔خالدؓ نے اپنے ہاتھ سے کمند اوپر پھینکی دیوار کی بلندی تیرہ چودہ گز تھی۔کمند دیوار کے اوپراٹک گئی۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا، دیوار پر کوئی حرکت نہ ہوئی،جس کا مطلب یہ تھا کہ اوپر کوئی نہیں تھا۔اگر کوئی تھا بھی تو اسے پتا نہیں چلا تھا کہ دیوار پر کمند پھینکی گئی ہے۔
خالدؓنے اپنے آپ کو مزید خطرے میں یوں ڈالا کہ سب سے پہلے خود کمند کے ذریعے اوپر گئے۔ ان کے پیچھے قعقاعؓ اور مذعور اوپر گئے۔اوپرکوئی بھی نہیں تھا، دیوار کا یہ حصہ شہر سے کچھ دور تھا۔شہر کی آوازوں سے پتا چلتا تھا کہ لوگ جاگ رہے ہیں، اور کسی تقریب میں مصروف ہیں۔ خالدؓ کو یقین آگیا کہ یونس ابن مرقس انہیں دھوکا نہیں دے رہا۔انہوں نے دیوار یعنی شہر کی فصیل کے ساتھ دو تین رسے باندھ کر نیچے لٹکا دیئے۔ جو وہ اسی مقصد کیلئے ساتھ لے گئے تھے۔ان کے ایک سو مجاہدین میں سے پچاس ان رسوں سے اوپر چلے گئے۔ یونس ابن مرقس بھی ان کے ساتھ گیا۔وہ خالدؓکا گائیڈ تھا۔ خالدؓنے ان جانبازوں میں سے کچھ کو اس کام کیلئے دیوار پر بٹھا دیا کہ رومی فوج کے آدمی اگر اوپر آجائیں تو انہیں ختم کر دیں،لیکن خاموشی سے تاکہ شہر میں کسی کو کچھ پتا نہ چلے۔ ہر کام خاموشی سے کرنا تھا۔خالدؓ نے قعقاعؓ اور مذعور کو اپنے ساتھ رکھا اور پچاس جانبازوں میں سے باقی کو اپنے ساتھ فصیل سے اتار کر لے گئے۔ جوں ہی وہ دیوار سے اترے انہیں کسی کی باتیں سنائی دیں۔’’رومی سپاہی۔‘‘یونس ابن مرقس نے خالدؓ کے کان میں سرگوشی کی۔’’میں ان کی زبان سمجھتا ہوں، انہیں ان کی زبان میں رعب سے کہو کہ جلدی چلو۔‘‘خالدؓ نے یونس ابن مرقس سے کہا اور اپنے جانبازوں سے کہا ۔’’تلواریں نکال لو اور اتنی تیزی سے وار کرنے ہیں کہ رومیوں کو منہ سے کوئی آواز نکالنے کی مہلت نہ ملے۔‘‘یونس ابن مرقس نے فوجی افسروں کی طرح بڑے رعب سے رومی سپاہیوں کو بلایا۔ ان کے آنے تک خالدؓ کے جانباز گھیرے کی ترتیب میں ہو گئے۔ رومی سپاہی کم و بیش چالیس تھے۔ وہ دوڑے آئے، رات کا وقت تھا، چاند آدھی رات کے لگ بھگ افق سے اٹھتا تھا۔جب رومی سپاہی آرہے تھے اس وقت چاند شہر کی فصیل سے اوپر آگیاتھا۔رومی سپاہی خالدؓ کے جانبازوں کو اپنے آدمی سمجھے ہوں گے وہ قریب آئے تو مسلمان جانباز سواروں سے ان پر ٹوٹ پڑے، ان میں سے سات آٹھ نے تلواریں نکالیں اور مقابلے کی کوشش کی لیکن مارے گئے،مگر خاموشی ٹوٹ گئی۔ دو تین رومی سپاہیوں نے زخمی ہوتے ہی بڑی اونچی آوازوں میں شور بپا کیا کہ مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے ہیں۔’’اب دروازہ فوراً کھلنا چاہیے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’رومی فوج کو آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔میرے پیچھے آؤ۔‘‘
جہاں دروازہ تھا وہاں ڈیوڑھی تھی۔خالدؓ اپنے جانبازوں سے آگے تھے ،وہ دوڑتے ہوئے دروازے والی ڈیوڑھی میں گئے وہاں صرف دو رومی سپاہی تھے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں وہ شور سن چکے تھے۔ اس لئے مقابلے کیلئے تیار تھے۔لیکن خالدؓ نے انہیں مقابلے کی زیادہ مہلت نہ دی۔ ایک کو خالدؓنے اور دوسرے کو قعقاعؓ نے مار ڈالا۔
دروازہ کھولا خالدؓنے حکم دیااور زیادہ آدمی باہر تیار رہو۔رومی آرہے ہیں۔‘‘دروازے کے اند رکی طرف بڑے وزنی تالے لگے ہوئے تھے اوربڑی زنجیریں باندھ کر دروازے کو مستحکم کیا ہوا تھا۔بڑی مشکل سے تالے توڑے گئے اور زنجیریں بھی اتار لی گئیں۔خالدؓدروازہ کھول کر باہر نکلے ان کے باقی پچاس جانباز باہر کھڑے تھے۔ خالدؓنے انہیں اندر بلایا اور کہا کہ وہ دروازے کے باہر پھیل کر مقابلے کیلئے تیار رہیں۔رومی فوج آرہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس دروازے کے سامنے جو دستے تھے انہیں خالدؓ تیاری کا حکم دے آئے تھے ،اور یہ حکم بھی کہ دروازہ کھلتے ہی طوفان کی طرح دروازے میں داخل ہوجائیں۔دروازہ کھلتے ہی یہ دستے طوفان کی طرح دروازے میں داخل ہونے لگے۔ چاند اب اور اوپر آگیا تھا۔ اپنے پرائے کی پہچان میں سہولت پیدا ہو گئی تھی۔ادھر سے رومی فوج کا ایک دستہ باب الشرق کی طرف آرہا تھا۔یہ مسلمانوں کی طوفانی لپیٹ میں آگیا۔ذرا سی دیر میں یہ دستہ لاشوں میں تبدیل ہو گیا۔ دمشق کی تمام تر رومی فوج فصیل کی طرف دوڑی،اور جن دستوں کو جن دروازوں کی ذمہ داری دی گئی تھی، وہ تقسیم ہو کر ان دروازوں کے سامنے چلے گئے۔سارے شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ شہری پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے وہ بھاگ نہیں سکتے تھے۔دروازے بند تھے وہ اپنی قیمتی چیزیں اِدھر اُدھر چھپا رہے تھے۔ عورتوں کا یہ عالم تھا کہ چیختی چلاتی تھیں۔’’ہمارے آدمی بے غیرت ہیں۔‘‘عورتوں کی چیخ نما آوازیں سنائی دینے لگیں۔’’ہمارے آدمی ہمیں مسلمانوں سے نہیں بچا سکتے ۔ہمارے آدمی بزدل ہیں اپنی جانیں بچاتے پھر رہے ہیں۔‘‘عورتوں کی اس طعنہ زنی نے دمشق کے جوانوں کو گرما دیا وہ تلواریں اور برچھیاں لے کر نکل آئے،اس طرح رومی فوج کو سہارا مل گیا لیکن خالدؓ کے دستے رومیوں پر حاوی ہو چکے تھے۔ مسلمان محاصرے سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ وہ دمشق کو فتح کرنے کیلئے قہر اور غضب سے لڑرہے تھے۔ تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے ایسا دانستہ طور پر کیا تھا یا ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ انہوں نے دوسرے دروازوں پر جو سالار متعین کیے تھے انہیں نہ بتایا،کہ آج رات وہ کیا کرنے والے ہیں۔خالدؓ نے ابو عبیدہؓ تک کو اطلاع نہ دی کہ وہ بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔کسی بھی تاریخ میں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ خالدؓ نے ایسی غلطی کیوں کی تھی؟ابو عبیدہؓ وہاں سے بہت دور تھے۔ انہوں نے شہر میں شور سنا تو کہنے لگے کہ رومیوں نے کسی دروازے سے باہر جاکر اس دروازے والے مسلمان دستوں پر حملہ کیا ہے۔رومی ایسے حملے پہلے بھی کر چکے تھے ،دوسرے دروازوں والے مسلمان سالار بھی غلط فہمی میں رہے۔ خالدؓ شہر کے اندر اتنے الجھ گئے تھے کہ دوسرے سالاروں کو اندر نہ بلاسکے انہوں نے شاید یہ بھی سوچا ہو گا کہ دوسرے سالار دروازوں کے باہر اپنے دستوں کو تیار رکھیں تاکہ رومی فوج کسی دروازے سے بھاگ نہ سکے۔’’یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مسلمان دستے شہر کی فصیل اور دروازوں سے قریب نہیں تھے وہ فصیل سے کم از کم ایک ایک میل دور تھے۔
قریب ہو کر وہ تیروں کی زَد میں آتے تھے، اتنی دور سے وہ شہر کے اندر کا شور اچھی طرح سن نہیں سکتے تھے۔ توما کو جب اطلاع ملی، کہ مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ہیں تو اس نے اپنے مشیروں کو بلایا۔ ’’کون کون سے دروازے سے مسلمان اندر آئے ہیں؟‘‘توما نے پوچھا۔’’صرف ایک دروازے سے۔‘‘ اسے کسی نے جواب دیا۔’’شرقی دروازے سے۔باقی سب دروازے بند ہیں۔‘‘’’کیا کسی نے فصیل پر جا کردیکھا ہے؟‘‘توما نے پوچھا۔’’کیا مسلمانوں کی باقی فوج بھی قریب آگئی ہے؟‘‘’’دیکھاہے۔¬‘‘اسے جواب ملا۔’’ان کے باقی دستے جہاں پہلے تھے وہیں ہیں۔‘‘’’بابِ جابیہ کو دیکھا ہے؟‘‘تومانے پوچھا۔’’کیا ابو عبیدہ کے دستے بھی آگے نہیں آئے؟‘‘’’نہیں!‘‘اسے بتایا گیا۔’’وہ دستے بھی آگے نہیں آئے۔یہ صرف ان کے سپہ سالار خالد ابنِ ولید کے دستے ہیں۔‘‘توما کے مشیر اور سالار آگئے۔’’ہم شہر کو نہیں بچا سکیں گے۔‘‘توما نے ان سے کہا۔’’مجھے ابھی تک کسی نے نہیں بتایا کہ مسلمانوں نے دروازہ کس طرح کھول لیا ہے؟انہیں اندر سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔‘‘’’کیا فائدہ یہ سوچنے کا کہ مسلمان شہر میں کس طرح داخل ہو گئے ہیں۔‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’وہ اندر آگئے ہیں۔اب یہ سوچنا ہے کہ کیا کیا جائے؟‘‘’’اسی منصوبے پر عمل کیا جائے جو ہم نے پہلے سوچا تھا۔‘‘ایک اور مشیر نے کہا۔’’ابو عبیدہ کو صلح کا پیغام بھیجیں۔‘‘اس مسئلے پر کچھ تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ آخر طے پایا کہ ابو عبیدہؓ کی طرف ایک ایلچی بھیجاجائے۔’’ اور میں نے جو دستے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔انہیں ادھر بھیج دیا جائے۔جدھر مسلمان اندر آگئے ہیں۔‘‘توما نے حکم دیا۔’’انہیں میرا پیغام دیاجائے کہ دمشق شہر کی نہیں بلکہ سلطنت روم کی آبرو اور آن ان کے ہاتھ میں ہے۔وہ جانیں قربان کر دیں اور مسلمانوں کے سالار ابنِ ولید کو زندہ یا مردہ میرے پاس لے کر آئیں۔‘‘ہنری سمتھ ، ابو سعید ، واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ توما ذہنی طور پر ہتھیار ڈال چکا تھا وہ اپنے محفوظہ کے دستوں کو اس لئے شہر کی لڑائی میں جھونک رہا تھا کہ خالدؓ کو اپنے فریب کارانہ منصوبے کی کامیابی تک روکا جا سکے۔اس کے یہودی اور عیسائی مشیر معمولی دماغوں کے آدمی نہیں تھے۔
رات گزرتی جا رہی تھی، اور شہر کے اندر کی لڑائی بڑھتی جارہی تھی۔اب گلیوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔پلہ خالدؓ کے دستوں کا بھاری تھا، رومیوں کے محفوظہ کے دستوں نے خالدؓ کیلئے مشکل پیدا کر دی۔ لیکن خالدؓ ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔ان کے آگے بڑھنے کی رفتار کم ہو گئی تھی۔ادھر ابو عبیدہؓ فجر کی نماز پڑھ چکے تو انہیں بتایا گیا کہ رومی سپہ سالار کے دو ایلچی آئے ہیں۔ ابو عبیدہؓ نے انہیں بلا لیا۔’’کیا تمہارے سالار کے ابھی ہوش ٹھکانے نہیں آئے؟‘‘ابو عبیدہؓ نے ایلچیوں سے کہا۔’’کہو تم کیوں آئے ہو؟‘‘’’سپہ سالار توما کا پیغام لائے ہیں۔‘‘ایک ایلچی نے کہا۔’’جب تک ہتھیار نہیں ڈالو گے میں صلح کیلئے تیار نہیں ہو سکتا۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔
’’اے عرب کے رحم دل سالار!‘‘دوسرے ایلچی نے کہا۔’’ہم لڑائی اور خونریزی ختم کرنے آئے ہیں۔سپہ سالار توما نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر ر ضا مند ہے۔ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں شہر سے نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو، کسی کو قتل نہ کیا جائے ،ہر
شہری اور فوجی اپنے ساتھ اپنا جو مال و اموال لے جا سکتا ہے لے جانے کی اجازت دی جائے۔‘‘’’ہم ناحق خون بہانے نہیں آئے اے رومیو!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم! میں اپنے ان ساتھیوں کا خون تمہیں معاف نہیں کر سکتاجو تم نے بہایا ہے۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل کے داماد سپہ سالار توما نے کہا ہے کہ ہم تاوان ادا کریں گے ۔‘‘ایک ایلچی نے کہا۔’’آپ اسے شاید جزیہ کہتے ہیں یا جو کچھ بھی کہتے ہیں۔‘‘’’ہمارا شہنشاہ اﷲہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’تم نے ہرقل کواس طرح شہنشاہ کہا ہے جیسے وہ ہمارا بھی شہنشاہ ہو، اور وہ ہمیں خیرات دے رہا ہو۔‘‘ ’’ہرقل ہتھیار ڈال دے گا، تو بھی ہم اسے شہنشاہ ہی کہیں گے۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’ہم اس کے نوکر ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔کیا آپ ہم پر اور دمشق کی عورتوں اور بچوں پر رحم نہیں کریں گے؟‘‘’’اے سالارِ مدینہ!‘‘دوسرے ایلچی نے کہا۔’’دمشق کے شہری تو لڑا ئی نہیں چاہتے تھے ،وہ تو بہت پہلے سے سپہ سالار توما کو کہہ رہے تھے کہ مدینہ والوں کے ساتھ صلح کر لو، اگر اسلام کے متعلق ہم نے جوسنا ہے وہ درست ہے تو آپ کو زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔‘‘ ’’خدا کی قسم!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’تم میرے سپہ سالار خالد بن ولید کے پاس جاتے تووہ بھی وہی کہتا جو میں کہوں گا۔ہمارے آگے جو جھک جاتا ہے اور ہم سے جو صلح کی بھیک مانگتا ہے، اسے ہم بخش دیتے ہیں کہ اسلام کا حکم یہی ہے۔اگر کوئی آخر دم تک لڑے اور ہم بزورِ شمشیر اس سے ہتھیار ڈلوائیں تو پھر ہم اسے رحم کے قابل نہیں سمجھتے۔‘‘اس وقت خالدؓ شہر کے مشرقی حصے میں لڑ رہے تھے اور وہ رومی فوجیوں کا اور ان شہری جوانوں کا جو اپنی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے صفایا کرتے جا رہے تھے۔رومیوں کی فوج دوسرے دروازوں کے آگے بھی چلی گئی تھی اس طرح یہ فوج تقسیم ہو کر کمزور ہو گئی تھی۔اس سے خالدؓنے بہت فائدہ اٹھایا۔ادھر بابِ جابیہ کھل گیا اور ابو عبیدہؓ اپنے دستوں کے ساتھ توما کے ایلچیوں کی رہنمائی میں شہر میں داخل ہوئے۔ توما نے تین اور دروازے کھول کر اعلان کرادیا کہ صلح ہو گئی ہے اور رومی دمشق سے جا رہے ہیں۔معاہدہ ہو گیا ہے کہ لوٹ مار نہیں ہو گی، مسلمان کسی شہری کو قتل نہیں کریں گے اور کسی عورت کو مسلمان اپنے قبضے میں نہیں لیں گے۔غروبِ آفتاب میں کچھ وقت ابھی باقی تھا،جب ابو عبیدہؓ شہر میں داخل ہوئے تھے، خود توما نے آگے بڑھ کر ابو عبیدہؓ کا استقبال کیا۔ توما کے ساتھ اس کا ایک سالار ہربیس بھی تھا،دمشق کا بڑا پادری بھی تھا۔
’’اے رومیو!‘‘ابو عبیدہؓ نے توما اور ہربیس سے کہا۔’’تم خوش قسمت ہو کہ تم نے خود ہی شہر ہمارے حوالے کر دیا ہے اس سے تم نےاپنے آپ کو اپنی فوج اور اپنے شہریوں کو بہت بڑی ذلت سے بچالیا ہے اور تم نے اپنے مال و اموال کو بھی بچا لیا ہے،اور یہ شور کیسا ہے؟کیا کہیں لڑائی ہو رہی ہے؟‘‘’’لوگ صلح کی خوشی میں شوروغل مچا رہے ہیں۔‘‘توما نے جھوٹ بولا۔’’وہ دیکھیں ۔میری فوج دیوار کے ساتھ کھڑی ہے۔ سب کے ہتھیار زمین پر پڑے ہیں۔‘‘اس وقت خالدؓ شہر کے اس حصے پر غالب آچکے تھے جس میں رومی فوج کے دو تین دستوں نے ان کا مقابل کیا تھا ، اب خالدؓ بچ بچ کر آگے بڑھ رہے تھے، وہ حیران تھے کہ شہر کی باقی فوج ان کے مقابلے کیلئے کیوں نہیں آرہی۔اسے خالدؓ پھندہ سمجھ رہے تھے۔اسی خطرے کے پیشِ نظر وہ محتاط ہو کر آگے بڑھ رہے تھے۔ باہر سے ان کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔انہیں ایسی توقع نہیں تھی کہ دروازے کھل جائیں گے اور ان کی باقی فوج بھی اندر آجائے گی۔خالدؓ اپنے آپ کو بڑی ہی خطرناک صورتِ حال میں پھنسا ہوا محسوس کر رہے تھے۔دمشق کے وسطی حصے میں شہر کا بڑا گرجا تھا۔جو کلیسائے مریم کہلاتا تھا۔ابو عبیدہؓ کو وہاں لے جایا جا رہا تھا، وہ گرجے کے قریب پہنچے ہی تھے کہ خالدؓ اپنے محافظوں کے ساتھ ادھر آنکلے ۔انہوں نے ابو عبیدہؓ کو ایسے پر امن انداز سے توما وغیرہ کے ساتھ دیکھا کہ ان کی تلواریں نیاموں میں تھیں تو خالدؓ بن ولید پریشان ہو گئے۔ابو عبیدہؓ نے خالدؓ اور ان کے محافظوں کو دیکھا، خالدؓ کے ہاتھ میں تلوار اور ڈھال تھی۔تلوار خون سے لال تھی ، دستے تک خون گیا ہوا تھا۔خالدؓ پسینے میں نہائے ہوئے تھے اور ان کے کپڑوں پر خون کے بے شمار چھینٹے اور دھبے تھے۔ان کا سانس پھولا ہو اتھا۔خالدؓ کے محافظوں کی بھی حالت ویسی ہی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ خالدؓ لڑتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔محافظوں کے پاس برچھیاں تھیں جن کی انیاں جیسے خون میں سے نکالی گئی تھیں۔خالدؓ اور ابو عبیدہؓ ایک دوسرے کو حیرت زدگی کے عالم میں دیکھتے رہے۔
’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے آخر سکوت توڑا اور خالدؓسے کہا۔’’کیا تو اﷲکا شکر ادا نہیں کرے گا کہ اس کی ذاتِ باری نے یہ شہر ہمیں عطا کر دیا ہے۔اﷲنے صلح منظور کرنے کی سعادت مجھے عطا فرمائی ہے۔ ان لوگوں نے بغیر لڑے میرے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔پھر تو کیوں خون ٹپکاتی تلوار اپنے ہاتھ میں لیے پھرتا ہے؟ میں نے انہیں شہر سے اپنے مال و اموال لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘’’ابو عبیدہ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کون سی صلح کی بات کرتے ہو؟کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ میں نے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا ہے؟خدا کی قسم!رومیوں نے مجھے امن اور صلح کا پیغام دے کر اندر نہیں بلایا۔میرے لیے انہوں نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔ میں خود شہر میں داخل ہوا ہوں، میں نے خون بہایا ہے اور میرے آدمیوں کا خون بہایا گیا ہے۔میں رومیوں کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ یہ خیر و عافیت سے شہر سے نکل جائیں۔ ان کے شہرکے خزانے اور جو کچھ بھی شہر میں ہے وہ ہمارا مالِ غنیمت ہے اور میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ صلح کس نے کی ہے اور کیوں کی ہے؟‘‘
’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’میں اور میرے دستے پر امن طریقے سے شہر میں داخل ہوئے ہیں۔ دیکھ، شہر کے دروازے کھل گئے ہیں اگر تو میرے فیصلے کو رد کرنا چاہے تو کردے لیکن یہ سوچ کہ میں دشمن کے ہتھیار ڈالنے پر اسے بخشش کا وعدہ دے چکا ہوں۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا، تو رومی کہیں گے کہ مسلمان وعدوں کے کچے ہیں۔اس کی زد اسلام پر بھی پڑے گی۔‘‘خالدؓکی حالت یہ تھی کہ غصے سے ان کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ سالارِ اعلیٰ وہ ہوں اور صلح کے معاہدے کوئی اور کرتا پھرے۔ابو عبیدہؓ اپنی بات پر اس طرح اڑے ہوئے تھے کہ انہیں پرواہ ہی نہیں تھی کہ خالدؓ خلیفہؓ کی طرف سے سالارِ اعلیٰ مقرر کیے گئے ہیں۔توما ،اس کا نائب سالار ہربیس ،پادری اور مشیر وغیرہ الگ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ انہیں اپنی چال کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی۔بلکہ چال ضرورت سے زیادہ کامیاب ہو رہی تھی۔ وہ اس طرح کہ مسلمانوں کا سپہ سالار اور اس کا قائم مقام سالار آپس میں لڑنے پر آگئے تھے۔ابو عبیدہؓ کی جگہ کوئی اور سالار ہوتا تو خالدؓ اسے سالاری سے معزول کرکے سپاہی بنا دیتے، یا اسے واپس مدینہ بھیج دیتے لیکن وہ ابو عبیدہؓ تھے۔ جنہیں رسولِ اکرمﷺ نے امین الامت کا خطاب دیا تھا۔انہیں الاثرم بھی کہتے تھے کیونکہ ان کے سامنے کے دانت احد کی جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ مشہور مؤرخ ابنِ قتیبہ اور واقدی نے لکھا ہے کہ رسول اﷲﷺکو ابو عبیدہؓ سے خاص محبت تھی۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ابو عبیدہؓ دانت والوں سے زیادہ خوبرو لگتے تھے ۔ان کا ذہد و تقویٰ ضرب المثل تھا۔خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور مجاہدین ان کے اشارے پر جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔خالدؓ کے دل میں ابو عبیدہؓ کا اتنا احترام تھا کہ میدانِ جنگ میں دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تو خا لدؓگھوڑے پر سوار نہیں تھے۔ ابو عبیدہؓ گھوڑے پر سوار تھے۔خالدؓ چونکہ سالارِ اعلیٰ تھے اس لئے ابوعبیدہؓ نے اتر کر خالدؓ سے ملنا چاہا لیکن خالدؓ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ میرے دل میں اپنے احترام کو قائم رکھیں۔وہ ابو عبیدہؓ اب خالدؓ سے پوچھے بغیر دشمن کے متعلق بڑا اہم فیصلہ کر بیٹھے، اور اسے بدلنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے۔ابو عبیدہؓ عشرہ مبشرہ میں سے بھی تھے۔ابو عبیدہؓ کی تمام خوبیوں اور اسلامی معاشرے میں ان کی قدرومنزلت کو تسلیم کرتے ہوئے اس دور کے وقائع نگار اور مؤرخ لکھتے ہیں کہ جنگی امور کی جو سوجھ بوجھ خالدؓ میں تھی وہ ابو عبیدہؓ میں نہیں تھی۔وہ باریکیوں کو نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ حرب و ضرب میں مہارت رکھتے تھے۔’’میں تجھے امیر مانتا ہوں ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’لیکن یہ سوچ کہ میں اپنے دستوں کے ساتھ پر امن طریقے سے شہر میں لایا گیا ہوں۔‘‘’’ابنِ الجراح!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’آتجھے دکھاؤں کہ میں شہر میں کس طرح داخل ہوا ہوں، اور رات سے اب تک مجھے کیسی لڑائی لڑنی پڑی ہے، ان رومیوں نے دیکھا کہ یہ لڑ نہیں سکتے اور میں شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا تو یہ تیرے پاس جا پہنچے۔میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔‘‘’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے دبدبے سے کہا۔’’کیا تو اﷲسے نہیں ڈرتا؟میں نے انہیں اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ان سے حفاظت کا وعدہ کر چکا ہوں۔‘‘لیکن خالدؓ ابو عبیدہؓ کی بات ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔
’’آہ ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے افسوس کے لہجے میں کہا۔’’میں نے جب ان کی شرطیں سن کر انہیں حفاظت کا وعدہ دیا تھا، اس وقت مجھے گمان تک نہ ہو اتھا کہ تو میرے فیصلے پر اعتراض کرے گا۔میں یہ بھی نہیں جانتا تھاکہ تو لڑ رہا ہے۔میں نے اپنے اﷲاور رسولﷺ کے احکام کے مطابق اور انہی کے نام پر رومیوں کو بخش دیا ہے……سمجھ لے ابو سلیمان! میری بات سمجھ لے۔مجھے بد عہدی کا ارتکاب نہ کرنے دے۔‘‘دونوں کے درمیان بحث چلتی رہی۔خالدؓ کے محافظوں کو بھی غصہ آگیا۔وہ تلواریں سونت کر توما اور اس کے ساتھیوں پر جھپٹے۔ وہ انہیں قتل کر دینا چاہتے تھے۔انہیں کسی طرح شک ہو گیا تھا کہ یہ رومیوں کی چال ہے جو دو سالاروں کو لڑا رہی ہے۔محافظوں نے توما وغیرہ پر ہلہ بولا توابو عبیدہؓ دوڑ کر ان کے آگے ہو گئے۔’’خبردار !‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’پہلے کچھ فیصلہ ہونے دو،یہ ابھی میری پناہ میں ہیں اور تمہیں جب تک کوئی حکم نہیں ملتا تم کوئی حرکت نہیں کر سکتے۔‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ کے اس حکم کو بھی برداشت کیا۔خالدؓ کی موجودگی میں ابو عبیدہؓ کوئی حکم نہیں دے سکتے تھے۔یہ صورتِ حال مسلمانوں کیلئے اچھی نہیں تھی۔ایک غلطی تو خالدؓ سے ہوئی تھی کہ کمند پھینک کر شہر میں داخل ہونے جیسا خطرناک کام کر رہے تھے،مگر ابو عبیدہؓ کو اطلاع نہ دی۔حالانکہ وہ خالدؓ کے قائم مقام سالار تھے۔خالدؓ نے تو ان سالاروں میں سے بھی کسی کو نہ بتایا جو شہر کے دوسرے دروازوں کے سامنے اپنے دستوں کے ساتھ موجود تھے۔اس کے بعد غلطی ابو عبیدہؓ کی تھی۔جنہوں نے وہ فیصلہ کیا جو صرف سالارِ اعلیٰ کو کرنا چاہیے تھا۔خالدؓ اور ابو عبیدہؓ کے درمیان یہ جھگڑا ان کی انا کا مسئلہ بن کر کوئی ناگوار صورت اختیار کر سکتا تھا لیکن یہ اس دور کا واقعہ ہے جب مسلمان آپس کے کسی جھگڑے کو ذاتی مسئلہ نہیں بنایا کرتے تھے اور ان کا حاکم اپنے آپ کو آج کل کے حاکموں کی طرح نہیں سمجھا کرتے تھے۔خالدؓنے دوسرے سالاروں کو بلایا۔اس وقت تک دوسرے دستے بھی شہر میں آچکے تھے۔سالار جب خالدؓ کے پاس آئے توخالدؓ نے اپنا اور ابو عبیدہؓ کا جھگڑا ان کے آگے رکھ دیا۔’’ابنِ ولید!‘‘ سالاروں نے آپس میں بحث و مباحثہ کرکے خالدؓ سے کہا۔’’ابو عبیدہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن وہ جو فیصلہ کر چکے ہیں ہمیں اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ورنہ یہ خبر دور دور تک پھیل جائے گی کہ مسلمان دھوکے باز ہیں، صلح اور عام معافی کا وعدہ کرتے ہیں پھر لوٹ مار اور قتلِ عام کرتے ہیں۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘سالار شرجیلؓ بن حسنہ نے کہا۔’’ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ بعض شہر ہمیں مزاحمت کے بغیر مل گئے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان شہروں میں ہماری وہاں آمد سے آگے آگے یہ خبر مشہور ہو گئی تھی کہ مسلمانوں کی شرطیں سخت نہیں ہوتیں اور اپنی شرطوں پر قائم رہتے ہیں اور رحم دلی سے ہر کسی کے ساتھ پیش آتے ہیں……ابنِ ولید!ہمیں اس روایت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ورنہ پھر ہمیں کوئی شہر آسانی سے نہیں ملے گا-
’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓ نے غصے کو دباتے ہوئے کہا۔’’تم سب نے مجھے مجبور کر دیا ہے۔‘‘رومی سالار توما اور ہربیس ذرا دورکھڑے اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔خالدؓ نے ان کی طرف دیکھا تو غصہ پھر تیز ہو گیا۔’’میں تم سب کا فیصلہ قبول کرتا ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’لیکن ان دونوں رومی سالاروں کو نہیں چھوڑوں گا۔میں انہیں زندہ رہنے کا حق نہیں دے سکتا۔‘‘’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو ولید کے بیٹے!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’انہی دونوں کے ساتھ تو میرا معاہدہ ہو اہے اور انہی کو میں نے حفاظت کی ضمانت دی ہے۔میرے فیصلے کو تو نے قبول کر ہی لیا ہے تو ان دونوں کو بھی جانے دے۔‘‘’’تیرے عہد نے انہیں میرے ہاتھ سے بچا لیا ہے۔‘‘خالدؓ نے غضب ناک آواز میں کہا۔’’لیکن یہ دونوں اﷲکی لعنت سے نہیں بچ سکیں گے۔‘‘ایک اور مؤرخ بلاذری نے لکھا ہے کہ توما اور ہربیس کے پاس ایک آدمی کھڑا تھا جو عربی زبان سمجھتا اور بولتا تھا۔وہ مسلمان سالاروں کی باتیں سن کر توما اور ہربیس کو رومی زبان میں سناتا جا رہا تھا۔آخر انہیں عام معافی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔’’آپ سب نے ہم پر احسان کیا ہے۔‘‘تو ما نے خالدؓاور ابو عبیدہؓ کا شکریہ ادا کیا اور کہا۔’’ہمیں اجازت دی جائے کہ اپنی منزل تک ہم اپنی پسند کے راستے سے جا سکیں۔‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓکی طرف دیکھا کہ وہ جواب دیں لیکن خالدؓ نے منہ پھیر لیا۔’’تمہیں اجازت ہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے توما کو جواب دیا۔’’جس راستے پر چاہو جا سکتے ہو۔لیکن یہ بھی سن لو، تم جہاں رکو گے یا جہاں قیام کرو گے اگر ہم نے اس جگہ پر قبضہ کر لیا تو ہم سے اپنی حفاظت کی توقع مت کرنا۔تمہارے ساتھ جو معاہدہ کیا جا رہا ہے یہ صرف اس مقام تک ہے جہاں تم جا رہے ہو، یہ دوستی کا معاہدہ نہیں۔‘‘’’اگر معاہدہ عارضی ہے تو میری ایک درخواست اور ہے۔‘‘توما نے کہا۔’’ہمیں تین دنوں کی مہلت دی جائے کہ ہم اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔تین دنوں بعد ہم معاہدے کو ختم سمجھیں گے۔‘‘’’پھر ہم تمہارے ساتھ جوسلوک کرنا چاہیں گے کریں گے۔‘‘خالدؓ گرج کر بولے۔’’آپ ہمیں قتل کر سکتے ہیں۔‘‘توما نے کہا۔’’ہمیں پکڑ کر اپنا غلام بنا سکتے ہیں۔‘‘
’’یہ بھی منظور ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تین دنوں میں ہی کہیں غائب ہو جانا،وہاں تک چلے جانے کی کوشش کرنا جہاں تک میں نہ پہنچ سکوں……اب ایک شرط میری بھی سن لو……تم اپنے ساتھ چند دنوں کے کھانے پینے کا سامان لے جا سکو گے۔اس سے زیادہ تم کچھ نہیں لے جا سکو گے۔کوئی آدمی ہتھیار لے کر نہیں جائے گا۔‘‘’’نہیں ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’تیری یہ شرائط اس معاہدے کے خلاف ہیں جو میں نے ان کے ساتھ کیا ہے۔یہ اپنا مال و اسباب اورجو کچھ یہ لے جا سکتے ہیں لے جائیں۔میں انہیں یہ حق دے چکا ہوں۔‘‘خالدؓنے گذشتہ رات کو اپنے آپ کو زندگی کے سب سے بڑے خطرے میں ڈالا تھا کہ دیوار پر کمند پھینک کر اوپر چلے گئے تھے۔اب ابو عبیدہؓ نے خالدؓکو ایک اور بڑے ہی سخت امتحان میں ڈال دیاتھا۔خالدؓرومیوں پر اپنی کوئی نہ کوئی شرط عائد کرنا چاہتے تھے مگر ابو عبیدہؓ ان کی ہر شرط کو یہ کہہ کر رَد کر دیتے تھے کہ توما کے ساتھ وہ کچھ اور معاہدہ کر چکے ہیں۔خالدؓکو بار بار اپنے غصے کو دبانا پڑتا تھا، یہ کام بہت مشکل تھا۔’’لے جائیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’جو کچھ اٹھا سکتے ہیں، لے جائیں۔لیکن ان میں کوئی بھی کوئی ہتھیار اپنے ساتھ نہیں لے جائے گا۔‘‘’’ہم پر یہ ظلم نہ کریں۔‘‘توما نے کہا۔’’ہم لمبے سفر پر جا رہے ہیں۔راستے میں کوئی اور دشمن ہم پر حملہ کر سکتا ہے ، ہمیں نہتا دیکھ کر ڈاکو ہی ہمیں لوٹ لیں گے۔اگر آپ ہمیں نہتا یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہیں رہنے دیں اور ہمارے ساتھ جیسا سلوک چاہے کریں۔ایک طرف آپ کی نیکیاں اتنی ہیں کہ ان کا شمار نہیں۔مگر آپ کا یہ حکم ہمارے قتل کے برابر ہے کہ ہم نہتے جائیں۔‘‘خالدؓکچھ دیر توما کے منہ کی طرف دیکھتے رہے ۔ان کا چہر ہ بتا رہاتھا کہ وہ اپنے اوپر جبر کر رہے ہیں۔’’اے رومی سالار!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تو خوش قسمت ہے کہ صلح کیلئے تو میرے پاس نہیں آگیا تھا……میں تجھے ہتھیار اپنے ساتھ لے جانے کی بھی اجازت دے دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ ہر شخص جن میں تو بھی شامل ہے ،صرف ایک ہتھیار لے جا سکتا ہے۔ایک تلوار یا ایک برچھی، یا ایک کمان اور ایک ترکش یا ایک برچھی یا ایک خنجر۔‘‘اس کے بعد معاہدہ لکھا گیا جس کے الفاظ یہ تھے:’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔سالارِ اعلیٰ عساکرِ مدینہ خالد بن ولید کی طرف سے دمشق کے باشندگان کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا ہے۔مسلمان شہر دمشق میں داخل ہوں گے وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے کہ شہر کے لوگوں کے جان و مال کا، ان کی املاک کا ان کی عزت و آبرو کا تحفظ کریں۔اس میں ان کی عبادت گاہوں اور شہر کی فصیل کا تحفظ بھی شامل ہے۔انہیں اﷲاور رسولﷺ اور تمام تر مومنین اور خلیفۃ المسلمین کی طرف سے ضمانت دی جاتی ہے۔ان کے ساتھ مسلمان رحمدلی اور ہمدردی، کا سلوک اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اہلِ دمشق جزیہ دیتے رہیں گے۔‘‘جزیہ کی رقم ایک دینار فی کس مقرر ہوئی اور کچھ مقدار اناج وغیرہ کی مقرر ہوئی جو اہلِ دمشق نے مسلمانوں کو دینی تھی۔
وہ منظر مسلمانوں کیلئے بڑا ہی تکلیف دہ تھا جب رومی فوج دمشق سے روانہ ہوئی ۔جو شہری دمشق میں نہیں رہنا چاہتے تھے وہ فوج کے ساتھ جا رہے تھے۔ان کی فوج نے شہریوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا جیسے مسلمان ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔رومی سپہ سالار توما بھی جا رہا تھا۔اس کی اس آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی جس میں تیر کا ٹکڑا ابھی تک موجود تھا۔اس کے ساتھ اس کی بیوی تھی جو شہنشاہِ روم ہرقل کی بیٹی تھی۔اس وقت کی وہ بہت ہی حسین اور جوان عورت تھی۔شاہی مال و اسباب بے شمار گھوڑا گاڑیوں میں جا رہا تھا ظاہر ہے ان گاڑیوں میں خزانہ بھی جا رہاتا۔دمشق کے وہ باشندے جنہوں نے دمشق میں رہنا پسند نہیں کیا تھا وہ اپنا مال و متاع گھوڑا گاڑیوں اور ریہڑوں پر لے جا رہے تھے جنہیں خچر کھینچ رہے تھے۔ان میں منڈی کا مال اور تجارتی سامان بھی جا رہا تھا۔مؤرخ بلاذری اور واقدی لکھتے ہیں کہ سونے چاندی کے بعد جو بیش قیمت سامان جا رہا تھا وہ بڑے عمدہ زربفت کی تین سو سے کچھ زیادہ گانٹھیں تھیں۔ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ یہ ہرقل کی تھیں اور بعض نے لکھا ہے کہ یہ منڈی کا مال تھا۔لوگ دودھ والے مویشی بھی ساتھ لے جا رہے تھے۔مختصر یہ کہ دمشق سے تمام مال و دولت جا رہا تھا۔خالدؓکے مجاہدین دیکھ رہے تھے۔یہ ان کا مالِ غنیمت تھاجو ان کا جائز حق تھا۔زیادہ افسوس ان دستوں کے مجاہدین کو ہو رہا تھا، جنہوں نے شہر کے اندر جاکر بڑی سخت لڑائی لڑی تھی۔اس سے بھی زیادہ افسوس ان ایک سو جانبازوں کو تھا۔ جن میں سے پچاس کمندوں سے دیوارپر گئے تھے اور باقی پچاس دروازہ کھلتے ہی سب سے پہلے اندر گئے تھے۔ان سب نے لڑ کر شہر لیا تھا۔خالدؓ کا اپنا یہ حال تھا کہ دمشق سے جانے والے مال و اسباب کو دیکھ دیکھ کرغصے سے ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔انہوں نے اپنے مجاہدین کودیکھا،ان کے چہروں پر افسردگی اور غصے کے تاثرات صاف نظر آرہے تھے۔بعض کے تاثرات تو ایسے تھے جیسے وہ دمشق سے جانے والوں پر ہلہ بول دیں گے اور اپنا حق وصول کر لیں گے۔مؤرخ واقدی، اور ابنِ قتیبہ نے لکھا ہے کہ خالدؓ کیلئے اپنے غصے پر قابو پانا محال ہو رہا تھاآخر انہوں نے دونوں ہاتھ آگے اور کچھ اوپر کرکے آسمان کی طرف دیکھا اور ذرا اونچی آواز میں کہا۔’’یااﷲ!یہ سامان تو تیرے مجاہدین کا تھا ،یہ انہیں دے دے۔‘‘خالدؓ کی جذباتی حالت ٹھیک نہیں تھی۔’’سالارِ محترم!‘‘خالدؓکواپنے قریب ایک آواز سنائی دی۔’’آپ کو دمشق مبارک ہو۔‘‘خالدؓ نے اُدھر دیکھا، وہ یونس ابن مرقس تھا۔اسے دیکھ کر خالدؓکو یاد آیا کہ اس شخص نے اس لڑکی کی خاطر دمشق فتح کروادیا تھا جس کے ساتھ اس کی شادی ہو چکی تھی۔ لیکن لڑکی کے ماں باپ اسے یونس ابن مرقس کے ساتھ نہیں بھیج رہے تھے۔’’ابنِ مرقس!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’دمشق تجھے مبارک ہو۔یہ کارنامہ تیرا ہے۔تو نہ ہوتا تو ہم اس شہر میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔‘‘’’لیکن میں نے جسے حاصل کرنے کیلئے اپنے آپ کو خطرے میں ڈالا اور یہاں کی بادشاہی ختم کرادی ہے۔وہ مجھے نہیں ملی۔‘‘’’کیا اس کے ماں باپ یہیں ہیں؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔
’’وہ چلے گئے ہیں۔‘‘یونس ابن مرقس نے جواب دیا۔’’میں لڑکی سے ملا تھا، اسے کہا کہ وہ ماں باپ کو بتائے بغیر میرے ساتھ آجائے ،میری محبت اس کی روح میں اتری ہوئی ہے۔وہ فوراً تیار ہو گئی لیکن کہنے لگی کہ مسلمان آگئے ہیں، یہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ پھر تم کیا کرو گے؟میں نے اسے کہا کہ میں بھی مسلمان ہوں، تم اب محفوظ ہو……‘‘’’اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ تم نے یہ کیوں کہا ہے کہ تم بھی مسلمان ہو؟میں نے اسے بتایا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں۔اتنا سننا تھا کہ وہ بالکل ہی بدل گئی۔کہنے لگی کہ اپنے مذہب میں واپس آجاؤ۔میں نے اسلام کی خوبیاں بیان کیں تو اس نے کہا اگر تم اپنے مذہب میں واپس نہیں آؤ گے تو میری محبت نفرت میں بدل جائے گی۔میں نے کہا کہ محبت مذہب کو نہیں دیکھا کرتی۔میں نے یہ بھی کہا کہ میں اب مسلمان ہی رہوں گا۔اس نے کہا۔میں قسم کھاتی ہوں کہ آج کے بعد تمہاری شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کروں گی۔میں دمشق سے جا رہی ہوں۔ اور وہ چلی گئی۔‘‘’’کیا تم بھی اس کی محبت کو نفرت میں نہیں بدل سکتے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’نہیں محترم سالار!‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’میری محبت ایسی نہیں۔یہ لڑکی مجھے نہ ملی تو شاید میں پاگل ہو جاؤں۔میں نے آپ کو یہ شہر دیا ہے، کیا آپ مجھے ایک لڑکی نہیں دلا سکتے؟وہ میری بیوی ہے۔میں نے آپ کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔آپ چاہیں تو اپنا ایک دستہ بھیج کر لڑکی کو زبردستی لا سکتے ہیں۔آپ فاتح ہیں۔‘‘’’ابنِ مرقس!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’معاہدہ ہو چکا ہے۔ہم جانے والوں کا ایک بال بھی ان سے زبردستی نہیں لے سکتے۔‘‘مؤرخ بلاذری نے لکھا ہے کہ یونس ابن مرقس عقل اور ذہانت کے اعتبار سے کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔خالدؓ اس سے متاثر تھے اور اس کے احسان مند بھی تھے۔دمشق کی فتح اس یونانی جوان کے بغیر ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور تھی۔خالدؓ کو یہ شخص اس لئے بھی اچھا لگتا تھا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا اور جس لڑکی کی محبت اسے پاگل کیے ہوئے تھی اس کے کہنے پر بھی اس نے اسلام ترک نہیں کیا تھا۔’’میں نے سنا ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’کہ آ پ نے دمشق سے جانے والوں کو تین دنوں کیلئے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔کیا ان تین دنوں کے دوران آپ ان لوگوں کا تعاقب کرکے ان پر حملہ نہیں کرسکتے؟‘‘’’نہیںابنِ مرقس!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ معاہدے کے خلاف ہے۔‘‘’’تین روز گزر جانے کے بعد تو آپ ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’تین دنوں میں تو یہ بہت دور پہنچ چکے ہوں گے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’یہ قافلہ بہت تیز جائے گا کیونکہ اس کے پاس خزانہ ہے اور بہت قیمتی مال بھی ہے۔راستے میں رومیوں کے قلعے آتے ہیں، وہ کسی بھی قلعے میں جا پناہ لیں گے۔میں کسی قلعے پر اتنی جلدی حملہ نہیں کر سکوں گا۔‘
’’اے اسلام کے عظیم سالار!‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’یہ اس راستے پر نہیں جا رہے جس راستے پر قلعے آتے ہیں۔میں ان قلعوں سے واقف ہوں……بعلبل، حمص اور طرابلس……یہ قافلہ انطاکیہ جا رہا ہے ، میں جانتا ہوں قافلے کے ساتھ سالار توما ہے۔وہ اپنی فوج اور شہریوں کو انطاکیہ لے جارہا ہے جہاں اس کا سسر شہنشاہ ہرقل رہ رہا ہے۔میں تمام علاقے سے واقف ہوں۔انطاکیہ تک پہنچنے کیلئے تین سے بہت زیادہ دن سفر کرنا پڑتا ہے۔میں آپ کو ایسی طرف سے لے جاسکتا ہوں جو کوئی راستہ نہیں۔آپ کے گھوڑ سوار تیز ہوں تو میں چوتھے دن کی صبح تک انہیں قافلے
تک پہنچا سکتاہوں۔‘‘خالدؓنے یہ سنا تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔یہی تو وہ چاہتے تھے۔ان کاارادہ یہ تھا کہ مجاہدین کو مالِ غنیمت ضرور دلائیں گے۔ انہیں دمشق والوں پر غصہ تھا جو دمشق سے اپنے مال و متاع لے کر چلے گئے تھے۔’’میں آپ کی رہنمائی کروں گا۔‘‘یونس ابنِ مرقس نے کہا۔’’میں آپ سے کچھ نہیں لوں گا۔مجھے صرف میری بیوی دلا دینا۔‘‘چوتھے دن کی صبح طلوع ہوئی تو توما کا قافلہ انطاکیہ سے ابھی بہت دور تھا۔توما کو شکست کا افسوس تو تھا ہی لیکن وہ خوش تھا کہ اس کی چال کامیاب رہی تھی اور وہ دمشق کے لوگوں کو قیمتی اشیاء سمیت اپنے ساتھ لے جا رہاتھا۔اس روز قافلہ ایک پہاڑی سلسلے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھا اور کچھ دیر میں چلنے کو تھا، اچانک کسی طرف سے ہزاروں گھوڑ سوار آندھی کی طرح آئے اور رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔اس سے ذرا ہی پہلے رومیوں پر ایک اور قہر ٹوٹا تھا،یہ بڑی تیز بارش تھی۔گھٹائیں پھٹ پڑی تھیں۔اس رومی قافلے کیلئے کوئی پناہ نہیں تھی۔یہ بارش آسمانی آفت تھی اور اس آفت میں رومی فوج اور دمشق کے باشندوں پر ایک اور آفت ہزاروں گھوڑ سواروں کی شکل میں ٹوٹی۔اس وقت تک قافلے والے اِدھر اُدھر بکھر گئے تھے۔وہ اپنے سامان کو گھسیٹتے پھر رہے تھے۔زربفت کی تین سو سے زائد گانٹھیں جو بڑے بڑے بنڈلوں کی مانند تھیں، ہر طرف بکھری پڑی تھیں، بعض گانٹھیں کھل گئیں اور کپڑا کھل کر بکھر گیا تھا۔زربفت کا کپڑا اتنا زیادہ بکھرا کہ اس جگہ کا نام ’’مرج الدیباج‘‘یعنی ریشم کا خیابان پڑ گیا۔یہاں جو معرکہ لڑا گیا اسے تمام مؤرخوں نے معرکہ مرج الدیباج لکھا ہے۔یہ گھوڑ سوار جنہوں نے رومیوں اور دمشق والوں کے قافلے پر حملہ کیا تھا۔ان کی تعداد ایک ہزار تھی، اور یہ خالدؓ کے بھیجے ہوئے سوار تھے۔اس حملے کی تفصیلات یوں ہیں کہ یونس ابنِ مرقس نے جب خالدؓکو بتایا کہ وہ انہیں ایک چھوٹے راستے سے رومیوں تک پہنچا سکتا ہے تو خالدؓ کو روشنی نظر آئی۔یونس ابنِ مرقس خالدؓ کو اس لئے تعاقب اور حملے کیلئے اُکسا رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو پکڑ کر اپنے ساتھ لانا چاہتا تھا لیکن خالدؓ کچھ اور سوچ رہے تھے۔انہوں نے اپنی فوج کی مایوسی دیکھی تھی۔دشمن مالِ غنیمت اپنے ساتھ لے جارہا تھا۔
خالدؓ پر پابندی یہ عائد ہو گئی تھی کہ رومیوں کو تین دنوں کی مہلت دی گئی تھی۔اس دوران مسلمان ان پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔تین دنوں میں رومیوں کو کسی نہ کسی پناہ میں پہنچ جانا تھا لیکن یونس ابنِ مرقس کہتا تھا کہ قافلہ انطاکیہ جا رہا ہے اور یونس اسے راستے میں پکڑوا سکتا ہے۔خالدؓ کو غصہ اور تاسف پریشان کر رہا تھا۔دشمن مع مالِ غنیمت کے ابو عبیدہؓ کی غلطی یا غلط فہمی سے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔یونس کی یقین دہانی پر خالدؓ نے حملے کا پلان تیارکر لیا۔اس پلان کے مطابق خالدؓ نے وہ سوار دستہ ساتھ لیا جو انہوں نے گھوم پھر کرلڑنے کیلئے تیار کیا تھا، اسے طلیعہ کہتے ہیں،یہ چار ہزار منتخب سواروں کا دستہ تھا۔یہ سب شہسوار او رجانباز تھے۔اس دستے کا گائیڈ یونس ابنِ مرقس تھا۔وہ خوش تھا کہ خالدؓ اسے اس کی بیوی دلانے کیلئے اتنا بڑا جنگی اہتمام کر رہے ہیں لیکن خالدؓ کے سامنے کچھ اور مسئلہ تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔خالدؓ نے اس دستے کو چار حصوں میں تقسیم کیا، اور روانہ ہو گئے۔ان کی رفتار بہت تیز تھی۔خالدؓ نے ہر حصے کے سالار کو اور سواروں کو بھی بتا دیا تھا کہ جس قافلے پر حملہ کرنے جا رہے ہیں اسے صرف قافلہ نہ سمجھیں۔ وہ سب مسلح ہیں ان کے پاس گھوڑے بھی ہیں، اور وہ رومی ہیں جو جان کی بازی لگا کر لڑنا جانتے ہیں اور وہ پسپا ہوتے ہیں تو منظم طریقے سے پیچھے ہٹتے ہیں، بھاگتے نہیں۔چوتھے دن رومی فوج اور دمشق کے باشندوں کا یہ قافلہ انطاکیہ سے ابھی کچھ دور تھا کہ موسلا دھار بارش نے اسے بکھیر دیا،جوں ہی بارش ختم ہوئی ، ایک ہزار گھوڑ سواروں نے ان پر حملہ کر دیا۔رومی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان سواروں کے آگے آگے ضرار بن الازور تھے جنہوں نے حسبِ معمول سر پر خود بھی نہیں رکھی تھی اور قمیض بھی اتاری ہوئی تھی اور وہ کمر تک برہنہ تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومی سالار توما اور ہربیس پہلے تو اس پر حیران ہوئے کہ مسلمان کدھر سے آنکلے ہیں، انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہیں دمشق کا ہی ایک گائیڈ مل گیاتھا جو انہیں ایک چھوٹے راستے سے لے گیا تھا۔’’ہربیس!‘‘توما نے کہا۔’’سب کو مقابلے کیلئے تیار کرو۔ مسلمانوں نے ہمیں تین دن کی ضمانت دی تھی، یہ تین دن ختم ہو گئے ہیں۔‘‘’’جم کرمقابلہ کرو۔‘‘ہربیس نے للکار کر کہا۔’’یہ بہت تھوڑے ہیں کاٹ دو انہیں۔‘‘
رومی فوج حملہ روکنے کی ترتیب میں ہو گئی۔دمشق کے جو شہری لڑ سکتے تھے وہ بھی مسلمانوں کے مقابلے میں آگئے۔رومی سپاہی اور اہلِ دمشق بارش سے بھیگے ہوئے تھے اور ان کا سامان بکھرا ہوا تھا، انہوں نے اپنی عورتوں کو بچوں کو پیچھے کر دیا اور ان کے ڈیڑھ دو سو آدمی
تلواریں اور برچھیاں لے کر عورتوں اور بچوں کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوگئے۔رومی للکار کر اور نعرے لگالگا کر لڑ رہے تھے۔ضرار جو برہنہ جنگجو کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔اپنی روایت کے مطابق لڑ رہے تھے۔بلکہ جو سامنے آیا اسے کاٹتے جا رہے تھے،لیکن رومی جس بے جگری سے لڑ رہے تھے اس سے یہی نظر آرہا تھا کہ وہ مسلمان سواروں کا صفایا کردیں گے۔تقریباً نصف گھنٹہ گزرا ہو گا کہ ایک طرف سے خالدؓ کے دستے کے ایک ہزار مزید سوار گھوڑے سرپٹ دوڑاتے آرہے تھے۔ان کے سالار رافع تھے۔رومی سالار نے دیکھا تو انہوں نے اپنی ترتیب بدل ڈالی، اور چلا چلا کر کہنے لگے، کہ وہ ان سواروں کو بھی ختم کردیں گے۔ان کے لڑنے کا انداز ایسا ہی تھا کہ وہ اپنے دعوے کو صحیح ثابت کر سکتے تھے، معرکہ اور زیادہ خونریز ہو گیا۔نصف گھنٹہ اور گزرا ہو گا کہ مزید ایک ہزار سوار شمال کی جانب سے آئے۔ان کے سالار خلیفۃ المسلمینؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن تھے۔اب رومیوں کے حوصلے مجروح ہونے لگے۔یہ ایک ہزار سوار جدھر سے آئے تھے یہ رومیوں کی پسپائی کا راستہ تھا۔اُدھر انطاکیہ تھا۔مسلمانوں نے یہ راستہ روک لیا تھا۔اب تین ہزار مسلمان سوار رومیوں پر ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تھے لیکن رومی اور اہلِ دمشق پہلے سے زیادہ شدت سے لڑنے لگے۔یہ معرکہ ان کیلئے زندگی اور موت کامعرکہ بن گیا تھا۔ ان کا بڑا ہی قیمتی مال و متاع، ان کے بچے اور بڑی خوبصوت اور جوان بیٹیاں بہنیں اور بیویاں ان کے ساتھ تھیں۔ وہ بھاگ نہیں سکتے تھے ۔ان کے لڑنے میں شدت پیدا ہو گئی۔تقریباً ایک گھنٹے تک رومیوں نے مسلمانوں کا ناک میں دم کیے رکھا۔ ان کا سالار توما جس کی آنکھ میں تیر اترا ہوا تھا، سپاہیوں کی طرح لڑرہا تھا۔اچانک ایک ہزار مزید گھوڑ سوار ایک اور سمت سے آئے ۔ان کا سالار تلوار بلند کیے نعرے لگا رہا تھا:اَنا فارس الضدیداَنا خالد بن ولیدرومی اس نعرے سے بخبوبی واقف تھے۔ ان ایک ہزار سواروں کے قائد خالدؓ خود تھے۔یہ تھا خالدؓکا پلان۔ وہ ایک ایک ہزار سوار بھیجتے رہے اور آخر میں خود ایک ہزار سواروں کے ساتھ آئے۔خالدؓ توما اور ہربیس کو ڈھونڈ رہے تھے۔’’کہاں ہے ایک آنکھ والا رومی؟‘‘خالدؓ للکار رہے تھے۔’’کہاں ہے وہ جس کی ایک آنکھ میں مومن کا تیر اترا ہوا ہے۔
رومی سالاروں کی تلاش میں خالدؓ دشمن کے دور اندر چلے گئے۔وہ اکیلے تھے۔ان کے محافظوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں غائب ہو گئے ہیں۔’’ابنِ ابی بکر!‘‘خالدؓ کا ایک محافظ سالار عبدالرحمٰن کو دیکھ کر ان تک پہنچا اور لڑائی کے شوروغل میں چلا کر بولا۔’’سالارِ اعلیٰ کا کچھ پتا نہیں۔اکیلے آگے چلے گئے ہیں۔‘‘’’نہیں، نہیں!‘‘عبدالرحمٰن نے گھبرا کر کہا۔’’ابنِ ولید لا پتا نہیں ہو سکتا۔اﷲکی تلوار گرنہیں سکتی۔‘‘عبدالرحمٰن نے کچھ سواروں کو ساتھ لیا، بے طرح اور بے خطر اس طرف گئے جدھر خالدؓ چلے گئے تھے۔لڑائی ایسی تھی جیسے سوار گتھم گتھا ہو گئے ہوں۔عبدالرحمٰن ان میں راستہ بناتے خالدؓ کو ڈھونڈنے لگے۔دیکھا کہ خالدؓدشمن کے قلب میں پہنچے ہوئے تھے اور وہ توما کو اور دوسرے رومی سالار ہربیس کو ہلاک کر چکے تھے،اور اب رومیوں کے نرغے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ رومی زیادہ تھے۔یہ خالدؓ تھے جو ابھی تک ہر وار بچا رہے تھے۔رومیوں کے ہاتھوں ان کی شہادت یقینی تھی۔عبدالرحمٰن اپنے سواروں کے ساتھ پہنچ گئے اور رومیوں پر ایسا زور دار حملہ کیا کہ ان میں سے کئی ایک کو ہلاک کر دیا اور خالدؓ کو وہاں سے زندہ نکال لائے۔اس معرکے کی صورت ایسی بن گئی تھی کہ کوئی ترتیب نہیں رہی تھی۔یہ کھلی لڑائی تھی جو لڑنے والے اپنے اپنے انداز سے انفرادی طور پر لڑ رہے تھے۔مسلمان سواروں کی کمزوری یہ تھی کہ ان کی تعداد کم تھی اس لیے وہ رومیوں اور اہلِ دمشق کی اتنی زیادہ نفری کو گھیرے میں نہیں لے سکتے تھے۔اس سے یہ ہوا کہ رومی اپنے سالاروں کی ہلاکت کے بعد ایک ایک دو دو معرکے میں سے نکلنے لگے۔وہ علاقہ پہاڑی تھا اور کھڈ نالے بھی تھے۔رومی وہیں کہیں غائب ہوتے گئے، اور انطاکیہ کی طرف نکل گئے۔اس طرح معرکہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔خالدؓ کے حکم سے عورتوں کو گھیرے میں لے لیا گیا، کچھ عورتیں بھاگ گئی تھیں۔عورتوں کے ساتھ کئی آدمیوں کو بھی قیدی بنا لیا گیا۔اس قافلے کے ساتھ جو مال اموال، خزانہ اور دیگر قیمتی سامان جا رہا تھا، وہ سب وہیں رہ گیا۔یہ مجاہدین کا مالِ غنیمت تھا۔وہاں ایک حادثہ یوں ہوا کہ یونس ابن مرقس اپنی بیوی کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ وہ اسے نظر آگئی۔وہ اس کی طرف دوڑا۔لڑکی بھاگ نکلی لیکن وہ کہیں جانہیں سکتی تھی کیونکہ سب عورتیں مسلمان سواروں کے گھیرے میں تھیں۔لڑکی نے جب دیکھا کہ کوئی راہِ فرار نہیں اور یونس جومسلمان ہو چکا تھا، اسے پکڑ لے گا۔تو اس نے اپنے کپڑوں کے اندر ہاتھ ڈالا اور خنجر نکال لیا۔یونس کے پہنچنے تک لڑکی نے خنجر اپنے سینے میں گھونپ لیا، وہ گری اور یونس اسے اٹھانے لگا۔
’’جا ابنِ مرقس!‘‘لڑکی نے کہا۔’’میرا خاوند مسلمان نہیں ہو سکتا۔‘‘اور وہ مر گئی۔یونس ابنِ مرقس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔اس لڑکی کی خاطر اس نے دمشق مسلمانوں کو دلوایا تھاپھر یہ خونریز معرکہ لڑایا تھامگر لڑکی نے اپناخون بہا کر اس کی محبت کا خون کر دیا۔مسلمان سواروں نے اپنے شہیدوں کی لاشوں اور زخمیوں کو اٹھایا، مالِ غنیمت رومیوں کی گھوڑا گاڑیوں پر لادا، عورتوں اور بچوں کو مرے ہوئے رومیوں کے گھوڑوں پر بٹھایا اور دمشق کو چل پڑے۔یہ اگلی صبح تھی۔جب مالِ غنیمت وغیرہ اکٹھا کیا جا رہا تھا اس وقت خالدؓ عورتوں کے قریب جا کر احکام دے رہے تھے، انہیں یونس ابن مرقس اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔اس سے پوچھا کہ اسے اپنی بیوی ملی ہے یا نہیں؟’’مل گئی ہے۔‘‘یونس نے روتے ہوئے جواب دیا۔’’لیکن زندہ نہیں۔اس نے اپنے خنجر سے اپنے آپ کو مار دیا ہے۔‘‘’’غم نہ کر ابنِ مرقس!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تو اس سے زیادہ قیمتی انعام کا حقدار ہے۔ آ، میں تجھے اس سے زیادہ خوبصورت بیوی دوں گا۔‘‘خالدؓ نے اسے ایک رومی عورت دِکھائی جو جوان تھی اور جس کا حسن لا جواب تھا،اس کا لباس ریشم کا تھا اور اس کے گلے میں بڑا ہی قیمتی ہار تھا۔’’یہ تیرا مالِ غنیمت ہے۔‘‘خالدؓ نے اسے حسن کا یہ پیکردکھا کر کہا۔’’میں اس کے ساتھ تیری شادی کرادوں گا۔‘‘’’نہیں سالارِ محترم!‘‘یونس ابنِ مرقس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔’’میں اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا،آپ شاید نہیں جانتے۔یہ شہنشاہِ ہرقل کی بیٹی ہے۔یہ ان کے سالار توما کی بیوی تھی۔‘‘’’اب یہ کسی شہنشاہ کی بیٹی نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اب یہ تیری بیوی ہو گی۔‘‘’’یہ مجھے واپس کرنی پڑے گی۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’ہرقل اپنی بیٹی کو واپس لینے کیلئے اپنی تمام تر سلطنت کی فوج اکٹھی کرکے دمشق پر حملہ کردے گا۔ایسا نہیں کرے گا تو فدیہ ادا کرکے اسے آپ سے واپس لے لے گا۔‘‘خالدؓ خاموش ہو گئے۔اگلی صبح خالدؓ واپس روانہ ہوئے۔وہ بہت خوش تھے۔انہوں نے معاہدہ نہیں توڑا تھااور اپنا مقصد بھی پورا کر لیا تھا۔دمشق تک جانے والا راستہ آدھا طے ہوا تھا کہ انطاکیہ کی طرف سے بارہ چودہ گھوڑ سوار آئے۔وہ رومی تھے۔ ان میں ایک اونچی حیثیت کا معلوم ہوتا تھا۔وہ خالدؓ سے ملنا چاہتا تھا، اسے خالدؓ تک پہنچا دیا گیا۔’’میں شہنشاہِ ہرقل کا ایلچی ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔’’اور یہ میرے محافظ ہیں، میں امن سے آیا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ آپ سے بھی مجھے امن اور دوستی ملے گی۔‘‘’’کیا پیغام لائے ہو؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔
’’شہنشاہِ ہرقل کو اطلاع مل گئی ہے کہ آپ نے ہماری فوج اور دمشق سے ہجرت کرنے والوں پر حملہ کیا ہے۔‘‘ہرقل کے ایلچی نے کہا۔’’شہنشاہ نےآپ کے حملے کے متعلق کچھ نہیں کہا۔انہوں نے اپنی بیٹی واپس مانگی ہے،اور کہا ہے کہ آپ جس قدر فدیہ طلب کریں گے ، ادا کیا جائے گا۔شہنشاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ فیاض اور کشادہ ظرف ہیں۔اگر آپ فدیہ نہ لینا چاہیں تو میری بیٹی مجھے بخش دیں۔‘‘ہرقل نے خالدؓ کو فیاض اور کشادہ ظرف کہہ کر ان کی خوشامد نہیں کی تھی۔وہی خالدؓ جو میدانِ جنگ میں دشمن کیلئے قہر تھے ، میدان کے باہر اتنے ہی حلیم اور فیاض تھے۔’’اگر تمہارے شہنشاہ نے بخشش مانگی ہے تو اس کی بیٹی کو بخشش کے طور پر لے جاؤ۔‘‘خالدؓ نے ایلچی سے کہااور رکابوں پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے حکم دیا۔’’رومیوں کے شہنشاہ ہرقل کی بیٹی کو اس کے ایلچی کے حوالے کر دو۔خدا کی قسم!میں نے تم سب کی طرف سے اسے بخشش کے طور پر چھوڑ دیا ہے۔ہمیں ہرقل کی سلطنت چاہیے اس کی بیٹی نہیں۔‘‘ہرقل کی بیٹی اس کے سفیر کے ساتھ چلی گئی۔یونس ابن مرقس نے ٹھیک ہی کہا تھاکہ ہرقل ہر قیمت پر اپنی بیٹی واپس لے گا،یونس کو خالدؓ نے اپنے حصے کے مالِ غنیمت میں سے بے انداز انعام دینا چاہا لیکن اس نے صاف انکار کر دیااور کہاکہ وہ باقی عمر شادی نہیں کرے گا۔بعد میں اس نے اپنی زندگی اسلام اور جہاد کیلئے وقف کر دی تھی لیکن اس کی باقی زندگی صرف دو سال تھی۔وہ جنگِ یرموک میں شہید ہو گیا تھا۔خالدؓ جب مالِ غنیمت کے ساتھ دمشق میں داخل ہوئے تو ان کی فوج نے دیوانہ وار ان کا استقبال کیا۔وہ کامیاب لَوٹے تھے۔خالدؓ نے پہلا کام یہ کیا کہ امیر المومنینؓ کے نام بڑا لمبا پیغام لکھوایا جس میں انہیں دمشق کی فتح کی خوشخبری سنائی۔یہ بھی لکھا کہ وہ دمشق میں کس طرح داخل ہوئے تھے اور ابو عبیدہؓ نے کیا غلطی کی تھی۔انہوں نے تفصیل سے لکھا کہ وہ کس طرح رومیوں کے پیچھے گئے اور ان کے سالاروں توما اور ہر بیس کو ہلاک کیا پھر ہرقل کی بیٹی کس طرح واپس کی، مالِ غنیمت کے متعلق لکھا کہ اس کا پانچواں حصہ خلافت کیلئے جلدی بھیج دیا جائے گا۔خالدؓ نے یہ پیغام اکتوبر ۶۳۴ء کی پہلی تاریخ )۲شعبان ۱۳ ھ(کے روز بھیجاتھا۔قاصد روانہ ہو گیا۔کئی گھنٹے گزر گئے تو ابوعبیدہؓ خالدؓ کے خیمے میں آئے۔ابو عبیدہؓ مغموم تھے۔خالدؓ نے پوچھا کہ ان کا چہرہ ملول کیوں ہے؟’’ابنِ ولید!‘‘ابو عبیدہؓ نے بوجھل آواز میں کہا۔’’خلیفہ ابو بکر فوت ہو گئے ہیں، اور اب عمر خلیفہ ہیں۔‘‘خالدؓسُن ہو کر رہ گئے،اور کچھ دیر ابو عبیدہؓ کے منے پر نظریں جمائے رہے۔’’کب فوت ہوئے ہیں؟‘‘خالدؓ نے سرگوشی میں یوں پوچھا جیسے سسکیاں لے رہے ہوں ۔’’۲۲جمادی الآخر کے روز!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔یہ تاریخ ۲۲ اگست ۶۳۴ء تھی۔حضرت ابو بکرؓ کو فوت ہوئے ایک مہینہ اور آٹھ دن ہو گئے تھے۔
’’اطلاع اتنی دیر سے کیوں آئی؟‘‘’’اطلاع جلدی آگئی تھی۔‘‘ابو عبیدہؓ نے جواب دیا۔’’مدینہ سے قاصد آیا تو اس نے دیکھا کہ ہم نے دمشق کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اس نے سوچا کہ محاصرے کے دوران یہ اطلاع دی تو اپنے لشکر میں کہرام بپا ہو جائے گا، اور اس محاصرے پر بہت برا اثر پڑے گا۔اس نے صر ف یہ بتایا کہ مدینہ میں خیریت ہے اور کمک آرہی ہے۔ایک دو دنوں بعد اس نے پیغام مجھے دے دیا اور چلا گیا۔میں نے پڑھا اور یہی بہتر سمجھا کہ دمشق کا فیصلہ ہو جائے تو تجھے اور لشکر کو اطلاع دوں۔‘‘ابو عبیدہؓ نے نئے خلیفہ کا خط جو ابو عبیدہؓ کے نام لکھا گیا تھا، خالدؓ کو دے کر کہا۔’’اور یہ وہ خبر ہے جو میں تجھے لڑائی ختم ہونے تک نہیں دینا چاہتا تھا۔‘‘خالدؓ خط پڑھنے لگے۔یہ خلیفہ عمرؓ نے ابو عبیدہؓ کو لکھا تھا:
’’خلیفہ عمر کی طرف سے ابو عبیدہ کے نام:
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
میں تجھے اﷲسے ڈرتے رہنے کی نصیحت کرتا ہوں۔اﷲلازوال ہے جو ہمیں گمراہی سے بچاتا ہے، اور اندھیرے میں روشنی دِکھاتا ہے۔میں تمہیں خالد بن ولید کی جگہ وہاں کے تمام لشکر کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔فوراً اپنی جگہ لو، ذاتی مفاد کیلئے مومنین کو کسی مشکل میں نہ ڈالنا۔انہیں اس پڑاؤ پر نہ ٹھہرانا جس کے متعلق تو نے پہلے دیکھ بھال نہ کرلی ہو۔کسی لڑائی کیلئے دستوں کو اس وقت بھیجنا جب وہ پوری طرح منظم ہوں، اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کرنا جس سے مومنین کا جانی نقصان ہو۔اﷲنے تجھے میری آزمائش کا، اور مجھے تیری آزمائش کا ذریعہ بنایاہے۔دنیاوی لالچوں سے بچتے رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح تجھ سے پہلے تباہ ہوئے ہیں تو طمع سے تباہ ہوجائے۔تو جانتا ہے وہ اپنے رتبے سے کس طرح گرے ہیں۔‘‘اس خط کا مطلب یہ تھا کہ خلیفۃ المسلمین عمرؓ نے خالدؓ کو سپہ سالاری سے معزول کر دیا تھا۔ اب ابو عبیدہؓ سپہ سالار تھے۔بلکہ وہ ایک مہینہ آٹھ دن پہلے سے سپہ سالار تھے۔’’اﷲکی رحمت ہو ابو بکر پر!‘‘خالدؓنے خط ابو عبیدہؓ کو دے کر کہا۔
رات جو خالدؓ نے مدینہ سے دور دمشق میں خلیفہ اول ابو بکرؓ کی رحلت پر روتے گزاردی تھی، اس رات ڈیڑھ دو مہینے پہلے مدینہ پر ماتم کے بادل چھانے لگے تھے۔امیرالمومنین ابو بکرؓ ایسی حالت میں ٹھنڈے پانی سے نہا بیٹھے جب ان کا جسم گرم اور پسینے میں شرابور تھا۔فوراً انہیں بخار ہو گیا۔علاج ہوتا رہا لیکن بخار جسم کو کھاتا رہا۔اگر امیرالمومنینؓ آرام کرتے تو شاید بخار کا درجہ حرارت گر جاتا مگر بیماری کی حالت میں بھی انہوں نے اپنے آپ کو امور سلطنت میں مصروف رکھا۔
ایک روایت یہ ہے کہ ابو بکرؓ نے علاج کروایا ہی نہیں تھا۔انہیں ایک روز تیمارداروں نے کہا کہ طبیب کو بلا کر علاج کرائیں۔’’میں ن طبیب کو بلایا تھا۔‘‘امیرالمومنینؓنے کہا۔’’اس نے کہا تھا کہ علاج اور آرام کی ضرورت ہے۔میں نے اسے کہا تھا کہ میں جو چاہوں گا کروں گا ، میں نے اسے واپس بھیج دیا تھا۔‘‘’’علاج کیوں نہیں کرایا امیرالمومنین؟‘‘’’آخری منزل پر آن پہنچا ہوں میرے رفیقو!‘‘خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے جواب دیا۔’’اﷲنے جو کام میرے سپرد کیے تھے وہ اگر سب کے سب پورے نہیں ہوئے تو میرے لیے یہ اطمینان کیا کم ہے کہ میں نے کوتاہی نہیں کی……میں اﷲکے محبوب کے پاس جا رہا ہوں۔‘‘تاریخ گواہ ہے کہ خلیفۃ المسلمین ابو بکر ؓنے اپنے دو سال تین ماہ کے دورِ خلافت میں معجزہ نما کام کیے تھے۔رسولِ کریمﷺ کی وفات کے فوراًبعدارتداد کا جو فتنہ تمام تر سر زمینِ عرب میں پھیل گیا تھا وہ ایک جنگی طاقت تھی جسے ختم کرنے کیلئے اس سے زیادہ جنگی طاقت کی ضرورت تھی۔لیکن ابو بکرؓ نے تدبر سے اور جنگی فہم و فراست سے مجاہدینِ اسلام کی قلیل تعداد کو استعمال کیااور تھوڑے سے عرصے میں ارتداد کے فتنے اور اس کی جنگی طاقت کو ریزہ ریزہ کردیا۔اس کے نتیجے میں ان تمام قبیلوں نے جو ارتداد کی لپیٹ میں آگئے تھے۔اسلام قبول کرلیا۔ابو بکرؓ نے آنے والے مسلمان حکمرانوں ، اُمراء اوروزراء کیلئے یہ سبق ورثے میں چھوڑا کہ ان میں بے لوث جذبہ ہو، اقتدار کی ہوس، اور کوئی ذاتی مفاد نہ ہو تو پوری قوم مجاہدین کا لشکر بن جاتی ہے اور قوم کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نہ ہو وہ کفر کی چٹانوں کے دل چاک کر دیا کرتی ہے۔یہ سربراہِ سلطنت پر منحصر ہے کہ قوم فتح کامرانی کی رفعتوں تک جاتی ہے یا ذلت و رسوائی کی اندھیری کھائیوں میں۔ارتداد کے علاوہ بھی کہیں بغاوت اورکہیں شورش تھی۔خلیفہ ابو بکرؓ نے ہر سو امن و امان قائم کر دیا تھا۔فتنہ و فساد نہ رہا۔ بغاوت اور شورش نہ رہی تو ابو بکرؓ نے انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔انہوں نے مسلمانوں کو فارس جیسی شہنشاہی کے خلاف اور پھر اسی جیسی دوسری بڑی جنگی طاقت کے خلاف بھیج دیا۔مجاہدین نے کسریٰ کی طاقت کو کچل کر اس کے بے شمار علاقے کو اسلامی سلطنت میں شامل کر لیا پھر قیصرِ روم کی فوج پر دہشت بن کر چھاگئے اور اس کے کئی علاقے اسلامی سلطنت میں آگئے۔کسریٰ بھی اور قیصر بھی اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے۔مسلمانوں نے خلیفہ اولؓ کے احکام کی پیروی کرتے ہوئے، ان دونوں دشمنانِ اسلام کا گھمنڈ توڑ دیا اور اسلامی فوج کو ایک طاقت بنا دیا۔انہی جنگوں میں مجاہدین کو فوج کی صورت میں منظم کیا گیاتھا۔ابو بکرؓ کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اسلام ایک مذہب کی صورت میں ہی عرب سے عراق اور شام میں نہ پھیلا بلکہ اس سے اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب بھی پھیلی بلکہ یوں کہنا درست ہوگا کہ ایک نئے کلچر نے جنم لیا جسے لوگوں نے اسلامی کہا اور اسے اپنایا۔اس سے پہلے تو لوگ فارس اور روم کے کلچر کو ہی تہذیب و تمدن سمجھتے تھے اور اسے فوراً قبول کر لیتے تھے-
خلیفہ اولؓجیسے تھک سے گئے تھے،اور پوری طرح سے مطمئن تھے کہ وہ خالق حقیقی کے حضور جا رہے ہیں، اور سرخرو جا رہے ہیں۔اس دور کی تحریروں سے اور مؤرخین کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ابو بکرؓ کو ایک مسئلہ پریشان کر رہا تھا۔یہ تھا ان کی جانشینی کا مسئلہ۔ انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے اس مسئلہ کا ذکر کیا تھا۔’’میرے اﷲ کے رسول )ﷺ(کو موت نے اتنی مہلت نہیں دی تھی کہ کسی کو خود خلیفہ مقرر کرتے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا تھا۔’’اور سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف پر فتنہ و فساد پیدا ہو گیا تھا۔یہ تو اﷲ کو منظور نہ تھا کہ اس کے رسول)ﷺ( کی امت جس کی تعداد ابھی بہت تھوڑی ہے، آپس میں لڑ کر ختم ہو جائے۔اﷲنے امت کا اتحاد میرے ہاتھ پر قائم رکھا۔خدا کی قسم!میں رسول)ﷺ( کی امت کو اس فساد میں نہیں ڈال کر مروں گا کہ میرے بعد خلیفہ کون ہو۔ میں خود خلیفہ مقرر کرکے جان اﷲکے سپرد کروں گا۔‘‘عظیم تھے خلیفہ اولؓ کہ انہوں نے یہ بات سوچ لی تھی۔اس دور کے تھوڑا عرصہ بعد کے وقائع نگار اور مبصر لکھتے ہیں کہ خلیفہ اولؓ نے سوچ لیا تھا کہ قبیلوں یا طبقوں یا افراد میں جب اقتدار کی ہوس پیدا ہو جاتی ہے تو قوم کا اتحاد پھٹے ہوئے دامن کی مانند ہو جاتا ہے۔فوجوں کی پیش قدمی پسپائی میں بدل جاتی ہے، پیچھے ہٹتا ہوا دشمن آگے بڑھنے لگتا ہے۔ پھر فوج بھی اقتدار کی جنگ کا ہتھیار بن جاتی ہے اور سالار سلطانی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔مسلمانوں کا وہ دور فتوحات سے مالامال ہو رہا تھا۔درخشاں روایات جنم لے رہی تھیں اور یہی تاریخِ اسلام کی بنیاد بن گئی تھیں۔ابو بکرؓ کی دوربیں نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ قیصرو کسریٰ جو پسپائی اور زوال کے عمل سے گزر رہے ہیں، اور نیست و نابود ہوجانے تک پہنچ گئے ہیں۔وہ مسلمانوں کے نفاق سے فائدہ اٹھائیں گے، اور عفریت بن کر اسلام کو نگل جائیں گے۔’’کیا عمرکو لوگ قبول کرلیں گے؟‘‘ابو بکرؓ نے اپنے اہلِ خانہ سے کہا۔’’شاید نہ کریں……عمر کا مزاج بہت سخت ہے……اپنے احباب سے مشورہ لے لیتا ہوں۔‘‘ابو بکرؓ نے عبدالرحمٰنؓ بن عوف کو بلایا اور تنہائی میں بٹھایا۔’’ابنِ عوف!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’کیا تو مجھے سچے دل سے بتا سکتا ہے کہ عمر بن خطاب کیسا آدمی ہے؟تو اسے کیسا سمجھتا ہے؟‘‘’’خدا کی قسم خلیفہ رسول!‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے کہا۔’’جو میں جانتا ہوں، وہ اس سے بہتر نہیں جو تو جانتا ہے۔‘‘’’جو کچھ بھی تو جانتا ہے کہہ دے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’خلیفہ رسول!‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے کہا۔’’ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو عمر بن خطاب سے بہتر ہو۔ لیکن اس کی طبیعت میں جو سختی ہے، وہ بھی ہم میں سے کسی میں نہیں۔‘‘
’’رائے میری بھی یہی ہے ابنِ عوف!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’تم سب کو عمر کی سختی اس لئے زیادہ محسوس ہو تی ہے کہ میرے مزاج میں بہت نرمی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو گا کہ اپنے بعد خلافت کا بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دوں تو اس کی سختی کم ہوجائے؟……ایسے ہی ہوگا۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ میں کسی پر سختی کرتا ہوں تو عمر اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے؟اور اگر میں کسی کی غلطی یا کوتاہی پر اپنا رویہ نرم رکھتا ہوں تو عمر اس پر سختی کرتا ہے؟وہ سمجھتا ہے کہ کب سختی اور کب نرمی کی ضرورت ہے۔‘‘’’بے شک !ایسا ہی ہے۔‘‘عبدالرحمٰنؓ نے کہا۔’’خلیفہ رسول!بے شک ایسا ہی ہے۔‘‘’’اس بات کا خیال رکھنا ابو محمد)عبدالرحمٰنبن عوف(!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میرے تیرے درمیان جو باتیں ہوئی ہیں وہ کسی تک نہ پہنچیں۔‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف چلے گئے تو امیرالمومنینؓ نے اپنے ایک اوررفیق اور مشیر عثمانؓ بن عفان کو بلایا۔’’ابو عبداﷲ!‘‘ابو بکرؓ نے عثمانؓ بن عفان سے کہا۔’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو۔کیا تو بتا سکتا ہے کہ عمر بن خطاب کیسا آدمی ہے؟‘‘’’امیرالمومنین!‘‘عثمانؓ بن عفان نے جواب دیا۔’’خدا کی قسم!ابنِ خطاب کو تو مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہے پھر تو مجھ سے کیوں پوچھتا ہے؟‘‘’’اس لئے کہ میں اپنی رائے رسول اﷲ)ﷺ( کی امت پر نہیں ٹھونسنا چاہتا۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میں تیری رائے ضرور لوں گا۔‘‘’’امیرالمومنین !‘‘ عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’عمر کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے، اور جو علم و دانش اس کے پاس ہے وہ ہم میں سے کسی میں نہیں۔‘‘’’ایک اور سوال کا جواب دے دے ابو عبداﷲ!‘‘ابو بکرؓ نے عثمانؓ بن عفان سے کہا۔’’اگر میں اپنے بعد خلافت عمر کے سپرد کرجاؤں تو تیرا کیا خیال ہے کہ وہ تم سب پر سختی کرے گا؟‘‘’’ابنِ خطاب جو کچھ بھی کرے گا ہم اس کی اطاعت میں فرق نہیں آنے دیں گے۔‘‘عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’ابو عبداﷲ!اﷲ تجھ پررحم و کرم کرے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میں نے جو تجھے کہا اور تو نے جو مجھے کہا۔یہ کسی اور کے کانوں تک نہ پہنچے۔‘‘ابو بکرؓ نے کئی اور صحابہؓ سے عمرؓ کے متعلق رائے لی۔ان میں مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی۔ابو بکرؓ نے ہر ایک سے کہا تھا کہ وہ کسی اور سے اس گفتگو کا ذکر تک نہ کرے، لیکن یہ معاملہ اتنا اہم تھا کہ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بات کی۔یہ آئندہ خلافت کامعاملہ تھا اور صحابہ کرامؓ کیلئے مسئلہ یہ تھا کہ ابو بکرؓ عمرؓ کو خلیفہ مقرر کر رہے تھے۔عمرؓ سخت طبیعت کے مالک تھے۔ان کے فیصلے بڑے سخت ہوتے اور وہ بڑی سختی سے ان پر عمل کراتے تھے۔
ان سب نے ایک وفد اس مقصد کیلئے بنایا کہ ابو بکرؓ کو قائل کریں کہ عمرؓ بن خطاب کو خلیفہ مقرر نہ کریں۔جب وفد خلیفہ اولؓ کے پاس گیا تو وہ لیٹے ہوئے تھے۔بخار نے انہیں اتنا کمزور کر دیا تھا کہ اپنے زور سے اٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔’’امیرالمومنین!‘‘وفد کے قائد نے کہا۔’’خدا کی قسم!عمر خلیفہ نہیں ہو سکتا۔اگر تو نے اس کو خلیفہ مقرر کر دیاتو اﷲکی باز پرس کا تیرے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔عمر تیری خلافت میں سب پر رعب اور غصہ جھاڑتا ہے وہ خود خلیفہ بن گیا تو اس کا رویہ ظالموں جیساہو جائے گا۔‘‘ابو بکرؓ کو غصہ آگیا۔انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکے۔’’مجھے بٹھاؤ۔‘‘ انہوں نے غصیلی آواز میں کہا۔انہیں سہارا دے کر بٹھادیا گیا۔’’کیا تم سب مجھے اﷲکی باز پرس سے اور اس کے غضب سے ڈرانے آئے ہو؟‘‘ ابو بکرؓ نے غصے اور نقاہت سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔’’میں اﷲکے حضور جا کرکہوں گا کہ میرے رب! میں نے تیرے بندوں میں سے بہترین بندے کو خلافت کی ذمہ داری سونپی ہے، اور میں نے جو کہا ہے وہ تمام لوگوں کو سنا دو۔میں نے عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کر دیا ہے۔‘‘وہ جو سب ابو بکرؓ کو ان کے فیصلے کے خلاف قائل کرنے آئے تھے خاموش ہو گئے،اور شرمسار بھی ہوئے کہ انہوں نے امیرالمومنینؓ کو بیماری کی حالت میں پریشان کیا ہے۔وہ سب اٹھ کر چلے گئے۔ اس سے اگلے روز ابو بکرؓ نے عثمانؓ بن عفان کو بلایا، عثمانؓ خلیفہ کے کاتب تھے۔ ’’ابو عبداﷲ!‘‘ابو بکرؓ نے عثمانؓ بن عفان سے کہا۔’’لکھ جو میں بولتا ہوں۔‘‘ انہوں نے لکھوایا۔ ’’بسم اﷲالرحمٰن الرحیم۔ یہ وصیت ہے جو ابو بکر بن ابو قحافہ نے اس وقت لکھوائی ہے جب وہ دنیا سے رخصت ہوکر موت کے بعد کی زندگی میں داخل ہو رہا تھا۔ایسے وقت پکا کافر بھی ایمان لے آتا ہے، اور جس نے کبھی سچ نہ بولا ہو، وہ بھی سچ بولنے لگتا ہے۔میں اپنے بعد عمر بن خطاب کو تمہارا خلیفہ مقرر کرتا ہوں، تم سب پر اس کی اطاعت فرض ہے، میں نے تمہاری بھلائی اور بہتری میں کوئی کسر نہیں رہنے دی۔اگر عمر نے تم پر زیادتی کی اور عدل و انصاف نہ کیا تو وہ ہر انسان کی طرح اﷲکے حضور جواب دہ ہو گا۔مجھے امید ہے کہ عمر عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑے گا۔میں نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں تمہاری بھلائی اور بڑائی کے سوا اور کچھ نہیں سوچا۔‘‘وصیت لکھواتے لکھواتے ابو بکرؓ پر غشی طاری ہو گئی تھی، انہوں نے یہاں تک لکھوایا ۔’’ میں اپنے بعد عمر بن خطاب کو……‘‘اور وہ غشی میں چلے گئے۔عثمانؓ بن عفان نے خود یہ فقرہ مکمل لکھ دیا ۔’’ تمہارا خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔تم سب پر اس کی اطاعت فرض ہے۔ میں نے تمہاری بھلائی اور بہتری میں کوئی کسر نہیں رہنے دی۔‘‘
ابو بکرؓ ہوش میں آگئے-
’’ابو عبداﷲ!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’پڑھ جو میں نے لکھوایا ہے۔‘‘ عثمانؓ بن عفان نے پڑھ کر سنایا۔’’اﷲاکبر!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم! تم نے جو سوچ کرلکھا ہے وہ سوچ غلط نہیں تھی۔تو نے یہ سوچ کر عبارت پوری کردی، کہ میں غشی کی حالت میں ہی دنیا سے رخصت ہو گیا تو نا مکمل وصیت خلافت کیلئے جھگڑے کا باعث بن جائے گی۔‘‘’’بے شک امیرالمومنین!‘‘عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’میں نے یہی سوچ کر عبارت مکمل کرلی تھی۔‘‘’’اﷲتجھے اس کی جزا دے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’انہوں نے عثمانؓ بن عفان کے الفاظ نہ بدلے اور وصیت مکمل لکھوادی۔’’مجھے اٹھا کر مسجد کے دروازے تک لے چلو۔‘‘ امیرالمومنینؓ نے کہا۔ان کے مکان کا ایک دروازہ مسجد میں کھلتا تھا۔ وہ دروازہ کھولا گیا، نماز کا وقت تھا، بہت سے لوگ مسجد میں آچکے تھے۔ ابو بکرؓ کی زوجہ اسماء بنت عمیس دونوں ہاتھوں سے سہارا دے کر مسجد والے دروازے تک لے گئیں۔ نمازیوں نے انہیں دیکھاتو متوجہ ہوئے۔’’میرے بھائیو!‘‘ابو بکرؓ نے نقاہت کے باوجود بلند آواز سے بولنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔’’کیا تم اس شخص پر راضی ہو گے جسے میں خلیفہ مقررکروں؟ میں نے اس میں تمہاری بھلائی سوچی ہے اور اپنے کسی رشتے دار کو خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ میرے بعد عمر بن خطاب خلیفہ ہوگا۔ کیا تم سب اس کی اطاعت کرو گے؟‘‘’’ہاں امیرالمومنین!‘‘بہت سی آوازیں سنائی دیں۔’’ ہم اس فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ہم ابنِ خطاب کی اطاعت قبول کریں گے۔‘‘اس کے بعد ابو بکرؓ نے وصیت پر اپنی مہر ثبت کردی۔ابو بکرؓ کا پیشہ تجارت تھا لیکن خلافت کابوجھ کندھوں پر آپڑا تو تجارت کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ گزر اوقات تو کرنی ہی تھی، انہوں نے اپنے کنبے کیلئے بیت المال سے کچھ الاؤنس منظور کرا لیا تھا، اب جب انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ زندہ نہیں رہ سکیں گے، تو انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے کہا، کہ ان کی جو تھوڑی سی زمین ہے وہ ان کی وفات کے بعد بیچ کر یہ تمام رقم جو وہ گزارے کیلئے بیت المال سے لیتے رہے ہیں، بیت المال میں جمع کرادیں۔’’سب میرے قریب آجاؤ!‘‘ ابو بکرؓ نے آخری وقت اہلِ خانہ کو بٹھا کر کہا۔’’ مجھے صرف دو کپڑوں کا کفن پہنا کر دفن کرنا، تم دیکھتے رہے ہو کہ میں ایک ہی کپڑا پہنا کرتا تھا، اس کے ساتھ ایک کپڑا اور ملالینا، ان کپڑوں کو پہلے دھو لینا۔‘‘’’ہم تین نئے کپڑے لے سکتے ہیں۔‘‘عائشہؓ نے کہا۔’’کفن تین کپڑوں کا ہوتا ہے۔‘‘
’’نہیں عزیز بیٹی!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’کفن تو اس لئے ہوتا ہے، کہ جسم سے کوئی مواد اور نمی نکلے تو اسے کفن چوس لے۔کفن پرانے کپڑوں کا ہوا تو کیا؟نئے کپڑے پہننے کا حق زندہ لوگوں کا ہے۔مجھے غسل اسماء بنت عمیس )زوجہ(دے گی، اگر اکیلے غسل نہ دے سکے تو اپنے بیٹے کو ساتھ لے لے۔‘‘
اتنے میں اندر اطلاع دی گئی کہ عراق کے محاذ سے مثنیٰ بن حارثہ آئے ہیں۔ گھر کے کسی فرد نے کہا کہ امیرالمومنینؓ اس وقت بات کرنے کے قابل نہیں۔امیرالمومنینؓ نے قدرے درشت لہجے میں کہا۔’’اسے آنے دو۔وہ بہت دور سے آیا ہے۔جب تک میرا سانس چل رہا ہے، میں اپنے فرائض سے کوتاہی نہیں کر سکتا۔‘‘مثنیٰ کو اندر بلا لیا گیا۔انہوں نے جب ابو بکرؓ کی حالت دیکھی تو پشیمان ہو گئے، اور بات کرنے سے جھجکنے لگے۔’’مجھے گناہگار نہ کر ابنِ حارثہ!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’ہو سکتا ہے تو مدد لینے آیا ہو۔میں اگر تیرے لیے کچھ نہ کر سکا تو اﷲکی باز پرس پر کیا جواب دوں گا؟‘‘’’یا امیرالمومنین!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’محاذ ہمارے قابو میں ہے۔حالات ہمارے حق میں ہیں لیکن تعداد کی کمی پریشان کرتی ہے۔مسلمان اب اتنے نہیں رہے کہ انہیں فوج میں شامل کرکے محاذوں پر بھیجا جائے۔جو جہاد کے قابل تھے وہ پہلے ہی محاذوں پر ہیں۔امیرالمومنین کے حکم سے ان لوگوں کو مجاہدین کی صفوں میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا جو مرتد ہو گئے تھے۔میں یہ درخواست لے کر آیا ہوں کہ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو سچے دل سے اسلام قبول کر چکے ہیں اور محاذوں پر جانا چاہتے ہیں۔کیا امیرالمومنین انہیں فوج میں شامل ہونے کی اجازت دیں گے؟‘‘’’ابنِ خطاب کو بلاؤ۔‘‘امیرالمومنینؓ نے کہا۔عمرؓ دور نہیں تھے،جلدی آگئے۔’’ابنِ خطاب!‘‘امیرالمومنینؓ نے عمرؓ سے کہا۔’’ابنِ حارثہ مدد مانگنے آیا ہے۔یہ جو کہتا ہے ایسا ہی کر اور اسے فوراً مدد دے کر محاذ پر روانہ کر……اور اگر میں اس دوران فوت ہو جاؤں تو اس کام میں رکاوٹ نہ ہو۔‘‘عربوں میں رواج تھا کہ باتیں شاعرانہ الفاظ اور انداز سے کیا کرتے تھے۔خلیفہ اول ابو بکرؓ کی نزع کے وقت کی چند باتیں تاریخ میں محفوظ ہیں۔ان کی بیٹی عائشہؓ ان کے ساتھ لگی بیٹھی تھیں۔انہوں نے باپ کو نزع کے عالم میں دیکھ کر اس وقت کے ایک شاعر حاتم کا ایک شعر پڑھا:’’نزع کا عالم طاری ہوتا ہے، سانس نہ آنے سے سینہ گھٹنے لگتا ہے، تو دولت انسان کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔‘‘’’نہیں بیٹی!‘‘ابو بکرؓ نے نحیف آواز میں کہا۔’’ہمیں دولت سے کیا کام؟اس شعر کے بجائے تو نے قرآن کی یہ آیت کیوں نہ پڑھی……تجھ پر نزع کا عالم طاری ہو گیا ہے ۔یہی ہے وہ وقت جس سے تو ڈرا کرتا تھا۔‘‘ابو بکرؓ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تو انہیں آخری ہچکی آئی۔انہوں نے سرگوشی میں یہ دعا کی۔’’یا اﷲ!مجھے مسلمان کی حیثیت میں دنیا سے اٹھانا اور بعد از مرگ مجھے صالحین میں شامل کرنا۔‘‘یہ خلیفہ اول ابو بکرؓ کے آخری الفاظ تھے۔دن سوموار تھا۔سورج غروب ہو چکا تھا۔تاریخ ۲۲ اگست ۶۳۴ء )بمطابق ۲۱جمادی الآخر ۱۳ ہجری(تھی۔
اسی رات دفن کر دینے کا فیصلہ ہوا۔ابو بکرؓ کی وصیت کے مطابق ان کی زوجہ اسماء بنتِ عمیس نے غسل دیا۔میت پر پانی ان کے بیٹے عبدالرحمٰن ڈالتے جاتے اور عبدالرحمٰن کی والدہ غسل دیتی جاتی تھیں۔غسل کے بعد وہ چارپائی لائی گئی جس پر رسولِ کریمﷺ کا جسدِ مبارک قبر تک پہنچایا گیا تھا۔
اس چارپائی پر خلیفہ رسول کا جنازہ اٹھا،اور جنازہ مسجدِ نبوی میں رسول اﷲﷺکے مزار اور منبر کے درمیان رکھا گیا۔نمازِ جنازہ کی امامت عمرؓ نے کی۔مدینہ کی وہ رات سوگوار تھی۔گلیوں میں ہچکیاں اور سسکیاں سنائی دیتی تھیں۔رات بھی رو رہی تھی،وہ عٖظیم ہستی اس دنیا سے اٹھ گئی تھی جس نے اسلامی سلطنت کی نہ صرف بنیادیں مضبوط بنائی تھیں۔بلکہ ان پر مضبوط عمارت کھڑی کر دی تھی۔ابو بکرؓ کو رسولِ کریمﷺ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔قبر اس طرح کھودی گئی کہ ابو بکرؓ کا سر رسولِ کریمﷺ کے کندھوں کے ساتھ تھا۔اس طرح رسولِ کریمﷺ اور خلیفہ رسول کی وہ رفاقت جو انہوں نے زندگی میں قائم رکھی تھی ، وفات کے بعد بھی قائم رہی۔ابو بکرؓ سب سے پہلے آدمی تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔اب خلیفۃ المسلمین عمر فاروقؓ تھے۔انہوں نے اپنی خلافت کے پہلے روز ہی جو پہلا حکم نامہ جاری کیا وہ خالدؓ کی معزولی کا تھا۔انہوں نے تحریری حکم نامہ ابو عبیدہؓ کے نام قاصد کے ہاتھ بھیج دیا۔خالدؓ اب سالارِ ااعلیٰ نہیں بلکہ نائب بنا دیئے گئے تھے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اب وہ کسی مفتوحہ علاقے کے امیر نہیں بن سکتے تھے۔مدینہ میں عمرؓ نے اپنی خلافت کے دوسرے دن مسجد نبوی میں نماز کی امامت کی اور خلیفہ کی حیثیت سے پہلا خطبہ دیا۔انہوں نے سب سے پہلے یہ بات کہی:’’قوم اس اونٹ کی مانند ہے جو اپنے مالک کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔اسے جہاں بٹھا دیا جاتا ہے وہ اسی جگہ بیٹھا اپنے مالک کا انتظار کرتا رہتا ہے۔رب کعبہ کی قسم!میں تمہیں صراطِ مستقیم پر چلاؤں گا۔‘‘انہوں نے خطبے میں اور بھی بہت کچھ کہااور آخر میں کہا۔’’میں نے خالد بن ولید کو اس کے عہدے سے معزول کر دیا ہے، اور ابو عبیدہ اس فوج کے سالارِ اعلیٰ اور شام کے مفتوحہ علاقوں کے امیر ہیں۔‘‘مسجد میں جتنے مسلمان موجود تھے ان کے چہروں کے رنگ بدل گئے۔بعض کے چہروں پر حیرت اور بعض کے چہروں پر غصہ صاف دکھائی دے رہا تھا، وہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔خالدؓ کی فتوحات تھوڑی اور معمولی نہیں تھیں۔ابو بکرؓ ان کی ہر فتح اور ہر کارنامہ مسجد میں بیان کیا کرتے تھے اور یہ خبر تمام تر عرب میں پھیل جاتی تھی۔خالدؓ کی زیادہ تر فتوحات معجزہ نما تھیں،اس طرح خالدؓ سب کیلئے قابلِ احترام شخصیت بن گئے تھے مگر عمرؓ نے خلیفہ بنتے ہی خالدؓ کو معزول کر دیا۔ہر کوئی عمرؓ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ خالدؓ نے کیا جرم کیا ہے جس کی اسے اتنی سخت سزا دی گئی ہے؟ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو پوچھے بغیر عمرؓ کے فیصلے کی مخالفت کرناچاہتے تھے لیکن کسی میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ عمرؓ سے باز پرس کرتا۔سب جانتے تھے کہ عمرؓ ابو بکرؓ جیسے نرم مزاج نہیں،اور ان کی طبیعت میں اتنی درشتی ہے جو بعض اوقات برداشت سے باہر ہو جاتی ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: