Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 13

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 13

–**–**–

یہ دسمبر کا مہینہ تھا، سردی کا عروج شروع ہو چکا تھا ۔مسلمان اتنی زیادہ سردی کے عادی نہیں تھے۔ ان پر سردی بڑا برا اثر کر رہی تھی۔یہ سب سے بڑی وجہ تھی کہ محاصرہ طول پکڑتا گیا اس دوران خلیفۃ المسلمینؓ کا حکم آگیا اس کے تحت کچھ دستے عراق کو بھیجنے تھے۔ یہ دستے چلے گئے تو رومی سمجھے کہ مسلمان محاصرہ اٹھا رہے ہیں۔لیکن ایسا نہ ہوا۔رومی یہی توقع لیے قلعے میں بیٹھے رہے کہ مسلمان محاصرہ اٹھا لیں گے۔مارچ ۶۳۶ ء کا مہینہ آگیا۔سردی کی شدت ختم ہو چکی تھی۔رومی سالار ہربیس روم کے شاہی خاندان کا آدمی تھا۔ اسے کسی کے حکم کی ضرورت نہیں تھی۔ تفصیل سے پڑھئے
اس نے اپنے نائب سالاروں اور کمانداروں سے کہا کہ سردی کا موسم گزر گیا ہے پیشتر ا س کے کہ مسلمانوں کو کمک مل جائے اور یہ سردی سے بھی سنبھل جائیں ان پر حملہ کر دیا جائے۔چنانچہ ایک روز شہر کا ایک دروازہ کھلا اور پانچ ہزار نفری کی رومی فوج نے باہر آکر مسلمانوں کے اس دستے پر حملہ کر دیا جو اس دروازے کے سامنے موجود تھا۔حملہ بڑا تیز اور شدید تھا، مسلمان اس حملے کیلئے پوری طرح تیار نہیں تھے۔ا س کے علاوہ ان پر سردی کا بھی اثر تھا اس لئے وہ مقابلے میں جم نہ سکے۔پیچھے ہٹ کر وہ منظم ہوئے اور آگے بڑھے۔لیکن رومیوں کے دوسرے حملے نے انہیں پھر بکھیر دیا۔’’ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے خالدؓ سے کہا ۔’’کیا تو دیکھتا رہے گا کہ رومی فتح یاب ہو کر واپس قلعے میں چلے جائیں۔‘‘خالدؓ تماشہ دیکھنے والوں میں سے نہیں تھے۔لیکن وہ اس دروازے کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتے تھے جس کے سامنے وہ موجود تھے۔پھر بھی انہوں نے اپنا سوار دستہ ساتھ لیا اور رومیوں پر حملہ کر دیا رومیوں نے جم کر مقابلہ کیا اور سورج غروب ہو گیا۔رومی قلعے میں چلے گئے ان کی بہت سی لاشیں او ر شدید زخمی پیچھے رہ گئے۔دوسرے دن ابوعبیدہؓ نے سالاروں کو بلایا۔’’کیا تم نے خود محسوس نہیں کیا کہ کل رومیوں نے باہر آکر حملہ کیا تو ہمارے آدمی بے دلی سے لڑے؟ ‘‘ابو عبیدہؓ نے شکایت کے لہجے میں کہا۔’’کیا ہم میں ایمان کی حرارت کم ہو گئی ہے؟ سردی سے صرف جسم ٹھنڈے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’سالارِ اعلیٰ !‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ہارے آدمی بے دلی سے نہیں لڑے دراصل جن رومیوں نے حملہ کیا تھا وہ ان رومیوں سے زیادہ جرات و ہمت والے تھے جن سے ہم اب تک لڑتے رہے ہیں۔‘‘’’پھر تو ہی بتا ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے پوچھا۔’’ہمیں اتنے لمبے محاصرے میں یہیں بیٹھے رہنا چاہیے؟‘‘’’نہیں ابو عبیدہ!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’کل صبح ہم محاصرہ اٹھالیں گے۔‘‘دوسرے سالاروں نے حیرت سے خالدؓکی طرف دیکھا۔ ’’ہاں میرے دوستو!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ کل ہم یہاں نہیں ہوں گے اور میری تجویز غور سے سن لو۔‘‘ خالدؓنے انہیں محاصرہ اٹھانے کے متعلق کچھ ہدایات دیں۔ اگلی صبح شہر کی دیوار کے اوپر سے آوازیں آنے لگیں ۔ ’’وہ جا رہے ہیں۔ محاصرہ اٹھ گیا ہے۔ وہ دیکھو مسلمان جا رہے ہیں۔‘‘ سالار ہربیس کو اطلاع ملی تو وہ دوڑتا ہوا دیوار پر آیا اس کے ساتھ بڑا پادری تھا۔
’’سردی نے اپنا کام کر دیا ہے۔‘‘ ہربیس نے کہا۔’’ ان میں لڑنے کی ہمت نہیں رہی۔ میں انہیں زندہ نہیں جانے دوں گا۔ ان کے تعاقب میں جاؤں گا انہیں ختم کر کے آؤں گا۔‘‘’’محترم سالار!‘‘ پادری نے کہا۔’’ مجھے یہ مسلمانوں کی چال لگتی ہے۔ یہ منہ موڑنے والی قوم نہیں۔ وہ دیکھو۔ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو یہیں چھوڑ گئے ہیں۔‘‘ ’’میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ ہربیس نے کہا۔’’ اپنی بیویوں اور بچوں کو وہ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ان کی حفاظت کیلئے انہوں نے بہت کم سپاہی پیچھے چھوڑے ہیں، وہ ساما ن باندھ رہے ہیں۔ لیکن انہیں ہم جانے نہیں دیں گے۔ میں پہلے ان کے تعاقب میں جاؤں گا جو حوصلہ ہار کر چلے گئے ہیں۔‘‘ ہربیس نے فوراً پانچ ہزار سوار تیار کیے، اور ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کے دستوں کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ انہوں نے دو اڑھائی میل فاصلہ طے کر لیا تھا۔ جب رومی ان تک پہنچ گئے۔ جونہی ہربیس اپنے دستے کے ساتھ مسلمانوں کے قریب پہنچا۔ مسلمان اچانک دو حصوں میں بٹ گئے۔خالدؓ نے گزشتہ روز سالاروں کو یہی بتایا تھا کہ رومی ان کے تعاقب میں ضرور آئیں گے اور انہیں گھیرے میں لے کر ختم کرنا ہے۔اس کے مطابق مسلمان چلتے چلتے دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک حصہ دائیں کو ہو کر پیچھے کو مڑا، اور دوسرا بائیں طرف ہو کر گھوم گیا۔رومی ایسی صورتِ حال کیلئے تیار نہیں تھے وہ بوکھلا گئے۔ مسلمانوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کیلئے کچھ مجاہدین کو پیچھے چھوڑ آنا بھی اسی دھوکے کا ایک حصہ تھا۔ رومی پیچھے کو بھاگے تو یہی مجاہدین جو عورتوں اور بچوں کے ساتھ تھے، رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔ پھر انہوں نے رومیوں کی پسپائی کا راستہ روک لیا۔ایک اور سالار معاذؓ بن جبل خالدؓ کی پہلے سے دی ہوئی ہدایات کے مطابق پانچ سو سوار ساتھی لے کر حمص کے راستے میں آگئے تاکہ کوئی رومی شہر کی طرف نہ آسکے۔رومی اتنی جلدی بھاگنے والے نہیں تھے لیکن وہ مجاہدین کے پھندے میں آگئے تھے۔ وہ تازہ دم تھے۔ کچھ اپنی روایات کے مطابق کچھ اپنی جانیں بچانے کیلئے وہ بے جگری سے لڑ رہے تھے۔خالدؓان کے سالار ہربیس کو ڈھونڈ رہے تھے ، ان کی تلوار سے خون ٹپک رہا تھا ، ان کے راستے میں جو آتا تھا کٹتا جاتا تھا ، آخر وہ انہیں نظر آگیا۔
’’میں ہوں ابنِ ولید!‘‘ خالدؓ نے للکار کر کہا۔’’فارسیوں کا قاتل ابن الولید…… رومیوں کا قاتل ابن الولید
ہربیس نامی گرامی جنگجو تھا۔وہ خالدؓکے مقابلے کیلئے بڑھا لیکن گھوڑے سے اتر آیا۔خالدؓ بھی گھوڑے سے اترے اور اس کی طرف بڑھے لیکن ایک رومی دونوں کے درمیان آگیا۔تین چار مؤرخوں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے لیکن اس رومی کا نام نہیں لکھا، اتنا ہی لکھا ہے کہ اس کا جسم پہلوانوں جیسا تھا اور وہ شیرکی طرح گرج کر لڑا کرتا تھا، رومی زبان میں وہ ’’شیر کی مانند دہاڑنے والے‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔تاریخ میں یہ واقعہ اس طرح آیا ہے کہ اک رومی اپنے سالار ہربیس کو پیچھے ہٹا کر خالدؓ کے مقابلے میں آیا۔دو تین پیترے دونوں نے بدلے اور خالدؓنے تلوار کا وار کیا، تلوار رومی کی آہنی خودپر پڑی۔ خود اتنی مضبوط اور وار اتنا زوردار تھا کہ خالدؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ ان کے ہاتھ صرف دستہ رہ گیا۔اب خالدؓ خالی ہاتھ تھے اور رومی پہلوان کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ خالدؓ اپنے محافظوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے تھے کہ ان سے تلوار لے لیں مگر رومی درندوں کی طرح غراتا، دھاڑتا اور خالدؓ کے آگے ہو جاتا تھا تاکہ وہ دوسری تلوار نہ لے سکیں۔ایک محافظ نے خالدؓ کی طرف تلوار پھینکی لیکن خالدؓ سے پہلے رومی تلوار تک پہنچ گیا اور تلوار پرے پھینک دی۔ خالدؓ کا بچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ رومی نے ان پر تابڑ توڑ وار کرنے شروع کر دیئے ۔ خالدؓ اِدھر اُدھر ہو کر وار بچاتے رہے۔ رومی نے ایک وار دائیں سے بائیں کو کیا جسے خالدؓ کی گردن یا اس سے ذرا نیچے پڑنا چاہیے تھالیکن خالدؓ بڑی پھرتی سے بیٹھ گئے۔رومی کا یہ زور دار وار خالی گیا تو اپنے ہی زور سے وہ گھوم گیا۔ خالدؓ اچھل کر اس پر جھپٹے۔ رومی پلک جھپکتے پھر گھوم گیا اور خالدؓ کے بازوؤں کے شکنجے میں آگیا۔ اب صورت یہ تھی کہ دونوں کے سینے ملے ہوئے تھے اور رومی خالدؓ کے بازوؤں میں تھا۔خالدؓ نے بازوؤں کو دبانا اور شکنجہ سخت کرنا شروع کر دیا۔ رومی خالدؓکی گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگا رہا تھا لیکن خالدؓ کی گرفت سخت ہوتی جا رہی تھی، اور وہ اس قدر زور لگا رہے تھے کہ خون ان کے چہرے میں آگیا، اور چہرا گہرا لال ہو گیا۔رومی پہلوان کی آنکھیں باہر کو آنے لگیں۔ اس کی سانسیں رکنے لگیں اور چہرے پر تکلیف کا ایسا تاثر تھا کہ اس کے دانت بجنے لگے۔ مؤرخ واقدی نے لکھا ہے کہ رومی پہلوان کی پسلیاں ٹوٹنے لگیں۔ رومی اور زیادہ تڑپنے لگا۔ خالدؓ اور زیادہ زور سے اپنے بازوؤں کے شکنجے کو تنگ کرتے گئے۔ رومی کی پسلیاں ٹوٹتی گئیں اور اس کا تڑپنا ختم ہو گیا حتیٰ کہ اس کا جسم بے جان ہو گیا۔خالدؓ نے اسے چھوڑا تو وہ گر پڑا۔ وہ مر چکا تھا۔ خالدؓ نے اس رومی کی تلوار اٹھا لی اور ہربیس کو للکارا لیکن ہر بیس اپنے پہلوان کا انجام دیکھ کر وہاں سے کھسک گیا، خالدؓ نے گھوڑے پر سوار ہو کر رومی پہلوان کی تلوار بلند کرکے لہرائی اور نعرہ لگایا۔اس مقابلے کے دوران رومیوں کا قتلِ عام جاری رہا۔ ابو عبیدہؓ کو پتا چلا کہ خالدؓنے اس رومی پہلوان کو کس طرح ہلاک کیا ہے تو وہ دوڑے آئے۔’’خدا کی قسم ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے بڑے مسرور لہجے میں کہا۔ ’’تو نے جو کہا تھا کر دکھایا ہے۔ تو نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔‘‘یہ بات اس طرح ہوئی تھی کہ خالدؓ نے جب گذشتہ روز محاصرہ اٹھا کر واپس جانے کی تجویز پیش کی تھی تو ابو عبیدہؓ اور دوسرے سالاروں نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا تھا۔
خالدؓنے انہیں بتایا کہ انہوں نے کیا سوچا ہے ، پھر بھی ابو عبیدہؓ محاصرہ اٹھانے کے حق میں نہیں تھے ۔ تب خالدؓ نے کہا تھا۔’’ میری تجویز پر عمل کریں ، میں ان کی ہڈیاں توڑ دوں گا۔ ان کی کمر توڑ دوں گا۔‘‘خالدؓ نے صرف ایک پہلوان کی نہیں بلکہ رومی فوج کی ہڈیاں توڑ دی تھیں۔مارچ ۶۳۶ء )صفر ۱۵ھ( مسلمان فاتح کی حیثیت سے حمص میں داخل ہوئے۔حمص پر خوف وہراس طاری تھا۔ وہ اس وقت بھگدڑ اور نفسانفسی کی صورت اختیار کر گیا جب مسلمان حمص میں داخل ہوئے تھے۔انہوں نے سنا تو یہی تھا کہ مسلمان شہریوں کو پریشان نہیں کرتے ہیں لیکن جس شہر کی فوج ہتھیار نہ ڈالے اور مسلمان بزور شمشیر شہر کو فتح کریں تو وہ ہر گھر سے مال و اموال اٹھا لیتے ہیں اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیتے ہیں۔مسلمانوں نے حمص تو بڑی ہی مشکل سے فتح کیا تھا۔ رومیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے بلکہ مسلمانوں نے محاصرہ اٹھایا تو پانچ ہزار سوار رومی ان کے تعاقب میں گئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ محاصرہ اٹھانا مسلمانوں کی چال تھی لیکن رومیوں نے اسے ان کی کمزوری سمجھ کر ان پر حملہ کیا تھا۔ اس معرکے میں رومیوں کے صرف ایک سو سوار زندہ بچے تھے اور مسلمان جو شہید ہوئے ان کی تعداد ۲۳۵ تھی۔اتنی خونریز لڑائی لڑ کر مسلمانوں نے حمص کو فتح کیا تھا ۔حمص والوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے وہ پانچ ہزار سوار مسلمانوں کے تعاقب میں گئے تھے ان میں سے بہت تھوڑے بھاگتے ہوئے واپس آرہے ہیں تو ان پر خوف و ہراس طاری ہو گیا تھا اور جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک سوار دستہ رومیوں اور حمص کے دروازوں کے درمیان آگیا ہے اور رومی سوار نہ بھاگ سکتے ہیں نہ شہر میں داخل ہو سکتے ہیں تو وہ اور زیادہ خوفزدہ ہو گئے۔ شہر میں اتنی فوج نہیں رہ گئی تھی جو ان کی مدد کو پہنچتی۔ یہ سوار مسلمان سواروں کی تلواروں اور برچھیوں سے کٹ گئے۔ابو عبیدہؓ اور خالدؓ جب حمص میں داخل ہوئے تو چند ایک شہری ان کے استقبال کیلئے کھڑے تھے ۔ دونوں مسلمان سالاروں کو دیکھ کر وہ سجدے میں گر پڑے۔ دونوں سالاروں نے گھوڑے روک لیے۔’’اٹھو!‘‘ ابو عبیدہؓ نے گرجدار آواز میں کہا۔’’کھڑے ہو جاؤ۔‘‘وہ سب سجدے سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ان سب کے چہروں پر خوف و ہراس اور رحم طلبی کا گہرا تاثر تھا۔’’بولو!‘‘ ابو عبیدہؓ نے پوچھا۔’’ اگر تمہاری فوج ہمارے کہنے پر پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتی تو تمہیں ہمارے آگے سجدہ کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔‘‘’’ہم رحم کے طلب گار ہیں!‘‘ ایک نے التجا کی۔’’ وہ رومی فوج تھی جو آپ سے لڑی ہے، ہم رومی نہیں۔ ہم آپ کا ہر مطالبہ پورا کریں گے۔‘‘’’ہم صرف یہ بتانے کیلئے آئے ہیں کہ سجدہ صرف اﷲ کے آگے کیا جاتا ہے۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ ہم کسی کو اپنا غلام بنانے نہیں آئے ہیں۔‘‘ابو عبیدہؓ کے حکم سے حمص کے لوگوں سے صرف ایک دینار فی کس جزیہ لیا گیا اور مسلمانوں کی طرف سے اعلان ہوا کہ کوئی شخص شہر چھوڑ کر نہ جائے، شہر کے لوگوں کے جان و مال اور عزت آبرو کی حفاظت کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے۔اس اعلان نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ۔ بعض اسے مسلمانوں کی ایک چال سمجھے۔ وہ رات بھر اس خوف سے جاگتے رہے کہ مسلمان رات کو ان کے گھروں پر ٹوٹ پڑیں گے لیکن رات گزر گئی اور کچھ بھی نہیں ہوا۔
رومی شہنشاہ ہرقل حمص سے تقریباً اسّی میل دور انطاکیہ میں تھا۔اسے جب خبر ملی کہ حمص بھی ہاتھ سے نکل گیا ہے تو اس کے ہونٹوں پرہلکا سا تبسم آگیا جیسے وہ اسی خبر کا منتظر تھا۔ اس کے سالار مشیر اور شاہی خاندان کے افراد یہ جانتے تھے کہ ہرقل کا یہ تبسم موت کی مسکراہٹ ہے اور اس تبسم میں قہر بھرا ہوا ہے۔’’کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ عرب کے ان مسلمانوں نے حمص کس طرح لیا ہے؟‘‘ ہرقل نے خبر لانے والے سے پوچھا۔’’ تم سالار تو نہیں، کماندار ہو، جنگ کو سمجھتے ہو گے……تمہارا نام کیا ہے؟‘‘’’سب سمجھتا ہوں قیصرِ روم!‘‘ خبر لانے والے نے کہا۔’’ میرا نام سازیرس ہے، ایک جیش کا کماندار ہوں…… حمص اک دھوکے نے ہم سے چھینا ہے۔ ہمارے سالاروں کو توقع تھی کہ مسلمان اتنی سردی برداشت نہیں کر سکیں گے اور محاصرہ اٹھا کر چلے جائیں گے، انہوں نے سردی کی شدت محاصرے میں گزار دی اور محاصرہ اس وقت اٹھا کر چلے گئے جب سردی کی شدت گزر گئی تھی اور درختوں کی کونپلیں پھوٹنے لگی تھیں۔‘‘’’اور ہمارے سالار اس وقت قلعے میں بیٹھے رہے، جب دشمن باہر سردی سے ٹھٹھر رہا تھا۔‘‘ ہرقل نے کہا۔’’ ہمارے سالار دشمن پر اس وقت نہ جھپٹے جب سردی نے ان کی رگوں میں خون منجمند کر دیا تھا……پھر کیا ہوا؟‘‘’’قیصرِ روم!‘‘ سازیرس نے کہا۔’’ جب وہ کوچ کر گئے تو سالار ہربیس نے پانچ ہزار سواروں کے ایک دستے کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے تعاقب میں جاؤ اور ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہ رہے …… ہم ان کے تعاقب میں گئے ۔جب ہم ان کے قریب گئے تو انہوں نے پلٹ کر ہمیں گھیرے میں لے لیا۔‘‘ سازیرس نے ہرقل کو تفصیل سے بتایا کہ مسلمانوں نے انہیں کس طرح گھیرے میں لیا اور ان کے سواروں کو تباہ و برباد کر دیا۔’’ہمارا سالار ہربیس کہاں ہے؟ ‘‘ہرقل نے پوچھا۔’’……کیا وہ……‘‘’’وہ زندہ ہیں۔‘‘ سازیرس نے کہا۔’’ وہ اس وقت وہاں سے نکل گئے تھے جب مسلمانوں کے سالار خالدبن ولید نے ہمارے ایک پہلوان کو اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا تھا اور پہلوان کی آنکھیں باہر آگئی تھیں۔‘‘’’کیا ہمارے پہلوان کو خالد بن ولید نے مار ڈالا ہے؟‘‘ہرقل نے پوچھا۔سازیرس کچھ دیر ہرقل کے منہ کی طرف دیکھتا رہا، پھر اس نے دائیں بائیں آہستہ آہستہ سر ہلایا۔’’مسلمان سالار نے ہمارے پہلوان کو بازوؤں میں دبوچ کر اس کی پسلیاں توڑ ڈالی تھیں۔‘‘ سازیرس نے کہا۔’’ اور وہ مر گیا‘‘’’آفرین!‘‘ہرقل کے ہونٹوں سے سرگوشی پھسل گئی۔’’یہ طاقت جسم کی نہیں۔ ‘‘وہ اچانک جیسے بیدار ہو گیا ہو۔ اس نے جاندار آواز میں کہا۔ ’’میں ا نہیں کچل دوں گا…… انہیں آگے آنے دو۔ ‘‘اس کی آواز اور زیادہ بلند ہو گئی۔ ’’انہیں اور آگے آنے دو…… اور آگے جہاں سے وہ بھاگ نہیں سکیں گے۔‘‘سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ اور آگے چلے گئے تھے، انہوں نے حمص کے انتظامات کیے۔ کچھ نفری وہاں چھوڑ دی تھی۔ حمص سے وہ اپنے دستوں کے ساتھ حمص سے آگے حما پھر اس سے آگے شیرز تک جا پہنچے تھے۔ وہاں سے انطاکیہ کا فاصلہ پینتیس چالیس میل کے درمیان تھا۔ انطاکیہ اہم ترین مقام تھا کیونکہ اسے ہرقل نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا یا تھا، اور وہیں رومیوں کی فوج کا اجتماع اور فوج کی تقسیم ہوتی تھی۔مسلمانوں نے شیرز سے کوچ کیا، تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ رومیوں کا ایک قافلہ سا آتا نظر آیا۔ اس کی حفاظت کیلئے رومی فوجیوں کا ایک چھوٹا سا دستہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اونٹوں اور گاڑیوں کے اس قافلے میں فوجی سامان جا رہا ہے۔ خالدؓ کے اشارے پر مجاہدین نے قافلے کو گھیرے میں لے لیا۔ رومی فوجیوں نے مقابلہ کرنے کی حماقت نہ کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فوج کے کھانے پینے کا سامان ہے۔ اس میں ہتھیار بھی تھے۔ ان سب کو پکڑ لیا گیا اور انہیں یہ تاثر دیا گیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
’’ہم نے آپ کا مقابلہ نہیں کیا۔‘‘ اس رومی فوجی قافلے کے کماندار نے جان بخشی کی التجا کرتے ہوئے کہا۔’’ ہم رومی نہیں، ہم تو رعایا ہیں۔ہماری آپ کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔‘‘’’پھر دوستی کا ثبوت دو۔‘‘انہیں کہا گیا۔’’یہ بتا دو کہ انطاکیہ میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘’’آپ کی تباہی کا سامان تیار ہو رہا ہے۔‘‘ قافلے کے کماندار نے جواب دیا۔’’ وہاں بہت بڑی فوج اکٹھی کی جا رہی ہے۔ دور دور سے عیسائی قبیلے آپ کے مخالف لڑنے کیلئے جمع ہو رہے ہیں اور انہیں میدانِ جنگ میں لڑنے کے ڈھنگ سکھائے جا رہے ہیں۔‘‘’’آپ نے ہماری جانیں ہمیں واپس کر دی ہیں تو ہم آپ کی جانیں بچاتے ہیں۔ ‘‘قافلے کے ایک اور آدمی نے کہا۔’’ آپ آگے نہ جائیں۔ آپ کی نفری بہت تھوڑی ہے اور انطاکیہ میں شہنشاہ ہرقل جو فوج اکٹھی کر چکا ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ آپ کا ایک آدمی بھی زندہ نہیں رہے گا۔‘‘’’کیا اتنی زیادہ شکستوں نے اس کی کمر ابھی توڑی نہیں؟ ‘‘مسلمانوں کے ایک سالار نے پوچھا۔’’ہم اتنے بڑے لوگ نہیں کہ شہنشاہ تک رسائی حاصل کر سکیں۔‘‘ رومیوں کے کماندار نے کہا۔’’ہم اس کے ساتھ بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتے لیکن اپنے سالاروں سے جو پتا چلتا ہے وہ آپ کو بتاتے ہیں…… ہرقل کی کمر اتنی کمزور نہیں کہ چند ایک شکستوں سے ٹوٹ جائے۔ اس نے اپنا دماغ اپنے ہاتھ میں رکھا ہو اہے۔ اسے فتح حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے اوپر اس کا نشہ طاری نہیں ہونے دیتا اور شکست سے وہ مایوس نہیں ہواکرتا۔ وہ جو حسین ترین اور نوجوان لڑکیوں اور شراب کا رسیا ہے، اب شراب تو پیتا ہو گا لیکن اپنی پسندیدہ لڑکیوں کو بھی اپنے سامنے نہیں آنے دیتا۔‘‘’’وہ تو شاید راتوں کو سوتا بھی نہیں ہوگا۔‘‘ دوسرے نے کہا۔’’اس پر ایک جنون سا سوار ہے۔ فوج اکٹھی کرو۔ اس کے آدمی بستی بستی جا کر لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ مسلمان طوفان کی طرح آرہے ہیں اور وہ تمہارے مذہب کو اور تہاری عورتوں کو اپنے ساتھ اڑا لے جائیں گے…… لوگ قبیلہ در قبیلہ مذہب کے نام پر اور اپنی عورتوں کو مسلمانوں سے بچانے کی خاطر انطاکیہ میں آرہے ہیں۔ آپ نے آگے جانا ہے تو زیادہ فوج لے کر آئیں ورنہ رک جائیں…… اب شہنشاہ ہرقل زیادہ وقت نئی فوج کی تنظیم اور تربیت میں گزارتا ہے اور کہتا ہے کہ مسلمانوں کو آگے آنے دو۔انہیں اور آگے آنے دو۔‘‘’’اس نے یہ بھی کہا ہے ۔‘‘ ایک اور بولا۔’’ اب میری فوج کی پسپائی میرے دل کو مضبوط کرتی ہے۔ میری فوج کی ہر پسپائی عرب کے ان مسلمانوں کو میرے جال میں لا رہی ہے۔‘‘اس قافلے سے جو صورتِ حال ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کو معلوم ہوئی وہ غلط نہیں تھی ۔ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ہرقل روائتی شہنشاہ نہیں تھا۔ وہ اپنے وقت کا فنِ حرب و ضرب کا ماہر جنگجو تھا اور وہ میدانِ جنگ کا شاطر جرنیل تھا۔ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کو ان اطلاعات نے جو انہیں اس قافلے سے ملیں ، وہیں رکنے پرمجبور کر دیا۔ ’’خدا کی قسم امین الامت!‘‘ خالدؓ نے ابو عبیدہؓ سے کہا۔ ’’ہم یہاں بیٹھے نہیں رہیں گے اور ہم ہرقل کو اتنی مہلت نہیں دیں گے کہ وہ اپنی تیاریاں مکمل کرلے۔‘‘
’’آج رات تک اپنے کسی آدمی کو آجانا چاہیے۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ابو سلیمان! جب تک آگے کی مصدقہ صورتِ حال معلوم نہیں ہو جاتی ہم آگے نہیں جائیں گے۔‘‘اپنے کسی آدمی سے مراد وہ جاسوس تھے جو انطاکیہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ خالدؓ نے اپنی سپہ سالاری کے دور میں جاسوسی کے نظام کو باقاعدہ اور منظم کر دیاتھا اور جاسوسوں کو دور دور تک پھیلا دیا تھا۔
مسلمان جاسوس جان کی بازی لگا کر بڑی قیمتی معلومات لے آتے تھے۔مؤرخوں کے مطابق، ہرقل نے اپنی فوج کی پے در پے شکستوں کی خبریں سن سن کر اس حقیقت کو قبول کر لیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو بکھری ہوئی لڑائیوں میں شکست نہیں دے سکتا۔ایک شکستیں تو وہ تھیں جو رومی فوج کو خالدؓ پھر ابو عبیدہؓ نے دی تھیں، اور دوسری وہ تھیں جو دوسرے سالار شا م کے دوسرے علاقوں میں رومیوں کو دیتے چلے آرہے تھے۔
مسلمانوں کو فیصلہ کن شکست دینے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ انہیں کسی ایک میدان میں اکٹھا ہونے پر مجبور کیا جائے اور ان کے مخالف ان سے کئی گنا زیادہ فوج میدان میں اتاری جائے۔ چنانچہ اس نے نئی اور بہت بڑی فوج تیار کرنی شروع کر دی تھی۔ مسلمانوں نے جب حمص پرقبضہ کیا اس وقت تک اس کی نئی فوج کی نفری ڈیڑھ لاکھ ہو چکی تھی۔ انطاکیہ سے چالیس میل دور ابو عبیدہؓ اور خالدؓ اپنے دستوں کے ساتھ رکے ہوئے تھے۔ اس کے دو روز بعد جب انہوں نے رومیوں کا قافلہ پکڑا تھا، مسلمان مغرب کی نماز کی تیاری کر رہے تھے کہ اک گھوڑ سوار پڑاؤ کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اتنی دور سے پتا نہیں چلتا تھا کہ وہ رومیوں کا کوئی فوجی سوار ہے یا کوئی مسافر ہے۔ پڑاؤ سے کچھ دور اس نے گھوڑا موڑ لیا اور پراؤ کے اردگرد گھوڑا دوڑانے لگا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کا لباس مسلمانوں جیسا نہیں تھا۔ ’’پکڑ لاؤ اسے!‘‘ کسی کماندار نے اپنے سواروں کو حکم دیا۔ سوار ابھی گھوڑوں پر زینیں ڈال رہے تھے کہ اس اجنبی سوار نے گھوڑا پڑاؤ کی طرف موڑ دیا۔ ’’اﷲ اکبر! اس نے نعرہ لگایا اور قریب آکر اس نے بڑی بلند آواز میں کہا۔’’میں اپنے پرچم کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔‘‘ ’’ابنِ احدی!‘‘ کسی نے کہا اور چند ایک مجاہدین اس کی طرف دوڑے۔ ایک نے کہا۔’’ خدا کی قسم! ہم اب بھی تجھے رومی فوج سمجھ رہے ہیں۔‘‘’’کیا یہ لباس اس رومی کا ہے جسے تو نے قتل کیا ہوگا؟‘‘ ایک نے پوچھا۔ابنِ احدی کسی کو بتا نہیں سکتا تھا۔ کہ وہ جاسوس ہے اور انطاکیہ سے آیا ہے۔ وہ ابو عبیدہؓ کے خیمے میں چلا گیا۔ وہ ان تین چار جاسوسوں میں سے ایک تھا جو ڈیڑھ دو مہینوں سے انطایہ گئے ہوئے تھے۔ ’’تجھ پر اﷲ کی سلامتی ہو ابنِ احدی!‘‘ ابو عبیدہؓ نے اسے گلے لگا کر کہا ۔’’ہم انطاکیہ کی خبر کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔‘‘ ابنِ احدی نے خالدؓکے ساتھ مصافحہ کیا۔خالدؓ نے بھی اسے گلے لگا لیا۔ ’’کیا خبر لائے ہو؟‘‘ خالدؓ نے پوچھا۔’’سیاہ کالی گھٹا ہے جو انطاکیہ کے افق سے اٹھ رہی ہے۔‘‘ ابنِ احدی نے عربوں کے مخصوص شاعرانہ انداز میں کہا۔’’ اس گھٹا سے جو مینہ برسے گا وہ زمین پر سیلاب بن کر چٹانوں کو بھی بہا لے جائے گا۔ امین الامت اور ابن الولید! اﷲ نے تمہیں اشارہ دیا ہے کہ آگے نہ جانا۔‘‘ ’’ہمیں یہ اشارہ دشمن کے ایک قافلے نے دیا ہے۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’یہ رومیوں کا فوجی قافلہ ہے جسے ہم نے پکڑ لیا ہے۔‘‘ ’’اسے اﷲکا بھیجا ہوا قافلہ سمجھ امین الامت!‘‘ ابنِ احدی نے کہا۔’’ اب پوری بات مجھ سے سن۔ انطاکیہ کے اندر اور باہر لشکر کے سپاہیوں اور گھوڑوں کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ انطاکیہ کے گردونواح میں دور دور تک خیموں کا جنگل ہے۔ جو بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ہرقل نے جو منصوبہ بنایا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔‘‘ ’’کیا تیری خبر مصدقہ ہو سکتی ہے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’میں ہرقل کی فوج کے ایک ٹولے کا کماندار ہوں ابو سلیمان!‘‘ ابنِ احدی نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’ رومیوں کی اس وقت یہ حالت ہے کہ جو کوئی انطاکیہ کے دروازے پر جا کر کہے کہ فوج میں بھرتی ہونے آیا ہوں تو اس کیلئے شہر کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔‘‘ ابنِ احدی جس طرح انطاکیہ کی فوج میں شامل ہوا تھا اس کی اس نے تفصیلات بتائیں۔
وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ عیسائی عرب بن کر انطاکیہ گیا تھا۔ انہیں اسی وقت فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ اس روز گھوڑ دوڑ کے میدان میں شہسواری، تیغ زنی اور دوڑتے گھوڑے سے تیر نشانے پر چلانے کے مقابلے ہورہے تھے ان میں ہر کوئی شامل ہو سکتا تھا۔ ابنِ احدی اپنی فوج کا مشہور شہسوار تھا اور بڑا ہی خوبصورت جوان۔ وہ مقابلے میں اس طرح شریک ہوا کہ میدان میں جا کر گھوڑا چکر میں دوڑایا اور تلوار نکال کر تیغ زن سواروں کو مقابلے کیلئے للکارا۔ ایک سوار اس کے مقابلے میں اترا وہ رومی تھا۔ ’’اگر تجھے اپنے بازوؤں اور اپنے گھوڑے پر پورا بھروسہ ہے تو میرے مقابلے میں آ اے اجنبی سوار! ‘‘ابنِ احدی نے اس سے کہا۔ ’’میری تلوار تیرے خون کی پیاسی تو نہیں لیکن اس کے سامنے تیری تلوار آئے گی تو……‘‘’’تیری تلوار کے مقابلے میں میری برچھی آئے گی اے بد قسمت اجنبی! ‘‘دوسرے سوار نے کہا۔’’ اگر تجھے زندگی عزیزنہیں تو آجا۔‘‘ابنِ احدی نے گھوڑا اس کے اردگرد دوڑایا اور اسے للکارا۔رومی سوار گھوڑے کو کچھ دور لے گیا اور گھوڑا موڑ کر ایڑ لگائی۔ اس نے برچھی نیزہ بازی کے انداز سے آگے کر لی تھی۔ ابنِ احدی اس کی طرف منہ کرکے کھڑا رہا۔ رومی کی رفتار اور تیز ہو گئی جب اس کی برچھی کی انّی ابنِ احدی کے سینے سے تھوڑی ہی دور رہ گئی تو وہ اس قدر پھرتی سے گھوڑے کی دوسری طرف جھک گیا جیسے وہ گھوڑے پر تھا ہی نہیں۔ رومی کی برچھی ہوا کو کاٹتی آگے نکل گئی۔ ابنِ احدی گھوڑے پر سیدھا ہوا اور اپنے گھوڑے کی لگام کو جھٹکا دیا۔ اس کاگھوڑا دوڑا اورفوراً ہی مڑ کر رومی کے پیچھے چلا گیا۔ رومی اپنا گھوڑا موڑ رہا تھا، کہ ابنِ احدی اس تک جا پہنچا اور تلوار سے اس کی برچھی توڑ دی۔ رومی نے گھوڑا موڑ کر تلوار نکال لی لیکن وہ ابنِ احدی پر صرف ایک وار کر سکا۔ جو ابنِ احدی نے بچا لیا اور فوراً ہی اس مسلمان شہسوار کی تلوار رومی سوار کے پہلو میں اتر گئی۔ وہ اس پہلو کی طرف لڑھک گیا۔ اسے گرتا دیکھ کر ایک رومی سوار ابنِ احدی کے مقابلے میں آیا وہ آتا نظر آیا اور تماشائیوں نے اسے گھوڑے سے گرتے دیکھا۔ ایک اور سوار میدان میں آیا۔ ’’رُک جاؤ!‘‘ ہرقل کی گرجدار آواز سنائی دی۔ ’’اِدھر آ شہسوار۔ ‘‘ابنِ احدی نے گھوڑا ہرقل کے سامنے جا روکا۔ ہرقل اونچی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ ’’کیا تجھے بتایا نہیں گیا تھا کہ یہ مقابلے ہیں لڑائی نہیں۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’ تم ان دونوں کو زخمی کر سکتے تھے جان سے نہیں مارنا تھا۔ پھر بھی ہم تمہاری قدر کرتے ہیں۔ کہاں سے آیا ہے تو؟‘‘ ’’مت پوچھ شہنشاہ کہاں سے آیا ہوں۔‘‘ ابنِ احدی نے کہا۔ ’’یہ میرے دشمن نہیں تھے لیکن میرے ہاتھ میں جب تلوار ہوتی ہے اور جب کوئی مجھے مقابلے کیلئے للکارتا ہے تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ شخص مسلمان ہے میں جب اسے قتل کر چکتا ہوں تو مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں تھا۔ میرا دماغ میرے قابو میں نہیں رہتا۔میں عیسائی عرب ہوں شہنشاہ۔ بہت دور سے آیا ہوں۔‘‘ ’’کیا تیرے دل میں مسلمانوں کی اتنی دشنمی ہے کہ تو اندھا ہو جاتا ہے۔‘‘ ہرقل نے پوچھا۔ ’’اس سے بھی زیادہ جتنی شہنشاہ سمجھیں گے۔ ‘‘ابنِِ احدی نے کہا۔’’ کیا شہنشاہ مجھے آگے نہیں بھیجیں گے؟ میں مسلمانوں سے لڑنے آیا ہوں۔‘‘ ’’ہم تجھے آگے بھیجیں گے۔‘‘ ہرقل نے کہا۔’’ تو نے دو شیروں کو مارا ہے اور تو معمولی سے خاندان کا فرد نہیں لگتا۔‘‘’’امین الامت!‘‘ ابنِ احدی نے ابو عبیدہؓ اور خالدؓسے کہا۔’’ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے سپاہی کی حیثیت میں فوج میں رکھ لیں گے لیکن انہوں نے مجھے ایک سو سپاہیوں کا کماندار بنا دیا۔ اس طرح میری رسائی سالاروں تک ہو گئی۔ میرے دوسرے ساتھی بھی کسی نہ کسی ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سے انہیں قیمتی خبریں مل سکتی ہیں۔ ہم سب عیسائی عرب بنے رہے اور آپس میں ملتے رہے۔ کچھ باتیں مجھے انہوں نے بتائی ہیں۔ باقی حالات میں نے خود دیکھے ہیں۔‘‘
’’حمص پر اپنے دستوں کی اطلاع انطاکیہ پہنچی تو میرے ساتھی مجھے ملے۔ ہمیں معلوم تھا کہ تم حمص میں زیادہ دن نہیں رکو گے اور انطاکیہ کی طرف پیشقدمی کرو گے۔ ہم تمہیں حمص میں ہی روکناچاہتے تھے، تمہیں آگے کے خطرے سے خبردار کرنا ضروری تا۔ انطاکیہ کے اردگرد کے علاقے میں اپنے لشکر کی تباہی کے سوا کچھ نہ تھا۔‘‘ ابنِ احدی نے آگے کے جو حالات بتائے وہ اس طرح تھے کہ ہرقل نے بہت بڑی فوج تیار کرنے کی مہم ایسے طریقے سے چلائی تھی کہ عیسائیوں کے تمام قبیلے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے اپنے گھوڑوں اونٹوں اور ہتھیاروں کے ساتھ انطاکیہ میں جمع ہو گئے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ ان قبیلوں کے علاوہ یورپی ملکوں کے لوگ بھی آگئے تھے۔ روم، یونان، اور آرمینیہ کے رہنے والے بھی بہت بڑی تعداد میں آئے تھے۔ ان سب کو اس فوج کے ساتھ ملا کر جو پہلے موجود تھی ہرقل کی فوج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہو گئی تھی۔ اتنے بڑے لشکر کو تیس تیس ہزار کے پانچ حصوں میں تقسیم کر دیاگیاتھا۔ ہر حصے کا جو سالار مقرر کیا گیا تھا وہ تجربے کار اور منتخب تھا۔ ان پانچ سالاروں میں سے ایک کا نام ماہان تھا۔جو آرمینیہ کا بادشاہ اور اپنے وقتوں کا مانا ہوا سپہ سالار تھا، دوسرا غسان کا حکمران جبلہ بن الایہم تھا۔ جو اپنی فوج ساتھ لایا تھا اور اسی کاوہ سالار تھا۔ تیسرا روس کا ایک شہزادہ قناطیر تھا۔ چوتھے کا نام گریگری اور پانچویں کا دیرجان تھا ۔ یہ سب عیسائی تھے، اور انہوں نے اسے صلیب اور ہلال کی جنگ بنا دیا تھا۔ ڈیڑھ لاکھ کے اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ ماہان تھا۔ ہرقل نے اس لشکر کو اپنے بہتر ہتھیاروں سے مسلح کر دیا اور جب یہ تیار ہو کر پانچ حصوں میں تقسیم ہو گیا تو ہرقل نے اتنے بڑے لشکر کو اکٹھا کیا۔ ’’صلیب کے پاسبانو! ‘‘ہرقل نے بلند جگہ کھڑے ہو کر گلا پھاڑ پھاڑ کر کہا۔’’ تم جس جنگ کیلئے اکٹھے ہوئے ہو یہ کسی ملک کو فتح کرنے کیلئے نہیں لڑی جائے گی۔ یہ تمہارے مذہب اور تمہاری عزت کی جنگ ہے۔ ایک نیا مذہب ہمارے مذہب کے خلاف اٹھا ہے ہمارا یہ فرض ہو کہ اس مذہب کو جو دراصل کوئی مذہب نہیں ختم کردیں۔مسلمانوں کی فوج چالیس ہزار سے زیادہ نہیں، تم ان کی ہڈیاں بھی پیس ڈالو گے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہماری فوج میں مسلمانوں کی دہشت پھیل گئی ہے۔ یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ مسلمانوں نے جہاں بھی ہماری فوج پرحملہ کیا ہے چوروں کی طرح کیا ہے اور وہاں ہماری نفری تھوڑی تھی وہ کوئی جن بھوت نہیں تمہاری طرح کے انسان ہیں۔ وہ لٹیرے ہیں جو تمہارے گھروں میں گھس آئے ہیں لیکن وہ صرف تمہارا مال و اموال نہیں لوٹتے وہ تمہارا مذہب اور تمہاری عزت لوٹنے آئے ہیں۔‘‘ مؤرخ واقدی بلاذری اور ہنری سمتھ لکھتے ہیں کہ ہرقل نے پہلے ہی ان لوگوں کوبھڑکا کر اپنے لشکر میں شامل کیا تھا اب انہیں اور زیادہ بھڑکا دیا، ابنِ احدی نے ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کو بتایا کہ ہرقل نے دوسرا اجتماع سالاروں نائب سالاروں اور کمانداروں کا کیا۔ پہلے انہیں بھی بھڑکایا۔ پھر انہیں احکام دیئے، اور ہدایات دیں ان کے مطابق ہر سالار کی پیش قدمی اور اس کے ہدف کا تعین کیا گیا تھا۔ یہ ایک دہشت ناک منصوبہ تھا جو اتنے بڑے لشکر سے آسانی سے کامیاب ہو سکتا تھا۔ ہدف حمص تھا اور دوسرا دمشق۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی تمام تر فوج کو جس کی نفری تقریباً چالیس ہزار تھی گھیرے میں لے کر ختم کرنا تھا۔ ہرقل نے گھیرا ڈالنے کا بڑا اچھا منصوبہ تیار کیا تھا اس کے سالار قناطیر کو اپنے تیس ہزار لشکر کے ساتھ انطاکیہ سے سمندر کے ساتھ ساتھ بیروت تک پہنچنا اور وہاں سے دمشق کی طرف مڑ جانا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ مسلمان آگے سے پسپا ہو کر دمشق کی طرف آئیں تو قناطیر کا لشکر ان پر حملہ کردے۔
جبلہ بن الایہم نے حمص کی طرف جاکر مسلمانوں کی پیش قدمی کو روکنا اور انہیں ختم کرنا تھا۔ مؤرخوں نے لکھاہے کہ حمص پر حملہ کرنے والے لشکر میں صرف عرب عیسائی تھے جن کی تعداد تیس ہزار تھی۔ ہرقل نے کہا تھا کہ وہ عربوں کے خلاف عربوں کو لڑانا چاہتا ہے۔’’لوہے کو لوہا ہی کاٹ سکتا ہے۔‘‘ یہ ہرقل کے تاریخی الفاظ ہیں۔حمص کے علاقے میں ہرقل کے ایک اور سالار دیرجان نے بھی جانا تھا۔ اس نے جبلہ سے الٹی سمت سے پیش قدمی کرنی تھی تاکہ مسلمان کسی طرف سے بھی نہ نکل سکیں۔ سالار گریگری کو ایک اور سمت سے حمص کے علاقے میں پہنچنا اور مسلمانوں پر حملہ کرنا تھا اس طرح صرف حمص اور گردونواح کے علاقے میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والی رومی فوج کی تعداد نوے ہزار تھی۔ ماہان جو سالارِ اعلیٰ تھا اسے اپنا تیس ہزار کا لشکر کہیں قریب رکھنا تھا تاکہ جہاں کہیں اس کی ضرورت پڑے وہ پہنچے۔ ’’تجھ پراﷲکی سلامتی ہو ابنِ احدی!‘‘ ابو عبیدہؓ نے ہرقل کا تمام تر منصوبہ سن کر کہا۔’’خدا کی قسم! تو نے اپنا گھر جنت میں بنا لیا ہے۔ اگر تو یہ خبریں لے کر نہ آتا تو خود سوچ کہ ہمارا کیا انجام ہوتا…… ابو سلیمان!…… ‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’ کیا تو نے یہ محسوس نہیں کیا کہ ہم اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں؟‘‘خالدؓ جو میدانِ جنگ میں دشمن کے اعصاب پر چھاجایا کرتے تھے، چپ چاپ ابو عبیدہؓ کو دیکھ رہے تھے۔ ’’کیا ہمیں پیچھے نہیں ہٹ جانا چاہیے ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے پوچھا۔’’امین الامت! ‘‘خالدؓنے آہ بھر کر کہا۔’’ پیچھے ہٹنا ایک ضرورت ہے لیکن پیچھے ہٹنا میری فطرت نہیں۔‘‘’’خد اکی قسم ابو سلیمان! جو تو سوچ سکتا ہے وہ شاید میں نہ سوچ سکوں۔ ‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ اس وقت اپنی ذات کو نہ دیکھ۔ اپنے ساتھیوں کو اور ان کے انجام کو دیکھ اور بتا ہم کیا کریں۔‘‘’’ہاں ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ کو دوسرے نام سے پکارتے ہوئے کہا۔’’ میں اس حقیقت کو دیکھ کر بات کروں گا جو ہمارے سامنے ہے، اور یہ طوفان جو آرہا ہے، اسے روکنا ہمارے بس کی بات نہیں لیکن ہمیں اس اﷲکو بھی منہ دکھانا ہے جس کے نام پر ہم یہاں تک اپنا اور اپنے دشمن کا خون بہاتے پہنچے ہیں۔ ہماری جانیں اسی کی امانت ہیں…… پہلا کام یہ کر کہ اپنے تمام سالاروں کو جہاں جہاں وہ ہیں، دستوں سمیت ایک جگہ اکٹھاکرلے۔‘‘’’اور ان جگہوں کا کیا بنے گا جو ہمارے قبضے میں ہیں؟‘‘ابو عبیدہؓ نے پوچھا۔’’امین الامت!‘‘ خالدؓنے کہا۔’’ تو یقیناً دشمن کے ارادے کوسمجھتا ہے، وہ فیصلہ کن جنگ لڑنے آرہا ہے، اور ہر طرف سے آرہا ہے…… آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے…… اور تو نے ابن احدی سے سن لیا ہے کہ ہرقل نے ہماری پسپائی کے راستے روکنے کابھی انتظام کر دیا ہے……ابنِ عبداﷲ! ہرقل ہمارے دستوں کو وہیں گھیرے میں لینا چاہتا ہے جہاں جہاں وہ ہیں۔ یہ تو اﷲکا احسانِ عظیم ہے کہ ہمیں پہلے سے ہی اس کے منصوبوں کا علم ہو گیا ہے۔‘‘’’کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کو ہماری شکست منظور نہیں؟‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔ ’’اﷲہمارے ساتھ ہے امین الامت!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’لیکن اﷲ ان کی مدد نہیں کیا کرتا جو اپنے آپ کو دشمن اور حالات کے رحم و کرم پر پھینک دیتے ہیں ……ہرقل ہمیں بکھرا ہوا رکھناچاہتا ہے۔ تمام سالاروں کو وہ تمام جگہیں چھوڑنی پڑیں گی جو ہمارے قبضے میں ہیں۔ اگر اﷲ نے ہمیں فتح عطا کی تو یہ سب جگہیں ہماری ہوں گی۔‘‘’’ہمیں کہاں اکٹھے ہونا چاہیے؟‘‘ ابو عبیدہؓ نے پوچھا۔
’’جہاں صحرا ہمارے عقب میں ہو۔‘‘ خالدؓ نے جواب دیا۔’’ جتنی آسانی اور تیزی سے ہم صحرا میں حرکت کر سکتے ہیں اتنی تیزی سے ان علاقوں میں نہیں کر سکتے جہاں ہم اس وقت موجود ہیں۔ صحرا میں ہمارا دشمن نہیں لڑ سکتا۔ ہم صحرا کو اپنے قریب رکھیں گے تو پیچھے ہٹنے میں سہولت ہو گی، اور جب دشمن ہمارے پیچھے آئے گا تو وہ اپنے علاقے کی سہولتوں سے محروم ہو جائے گا۔‘‘ ’’تیرے سامنے ایسی کون سی جگہ ہے؟‘‘’’جابیہ!‘‘خالدؓ نے جواب دیا۔’’ وہاں سے تین راستے نکلتے ہیں اور قریب سے ہی صحرا شروع ہو جاتا ہے۔ دریائے یرموک بھی بالکل قریب ہے۔‘‘مسلمانوں کے بکھرے ہوئے دستوں کے سالارِ اعلیٰ ابوعبیدہؓ تھے لیکن وہ خالدؓ کو اپنی نسبت زیادہ قابل ، تجربہ کار اور جارح سالار سمجھتے تھے۔ اس لیے انہوں نے خالدؓ کو اپنا مشیرِ خاص بلکہ دستِ راست بناکر ساتھ رکھا ہو اتھا ۔اب ہرقل نے ایسی صورتِ حال پیدا کر دی تھی جس میں انہیں خالدؓ کے مشوروں کی شدید ضرورت تھی۔ خالدؓ تو اس سے بھی زیادہ خطرناک اور خوفناک صورتِ حال میں بھی نہیں گھبراتے تھے۔ انہوں نے جو مشورے دیئے ، ابو عبیدہؓ نے فوری طور پر ان پر عمل کیا۔ وہ زیادہ سوچنے کا وقت تھا ہی نہیں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔ہرقل کا لشکر انطاکیہ سے کوچ کر چکا تھا،حمص پر مسلمانوں کے قبضے کا تیسرا مہینہ گزر رہا تھا۔ہرقل کے لشکر کا وہ حصہ جو جبلہ بن الایہم کی زیرِ کمان تھا، جون ۶۳۶ء میں حمص کے قریب پہنچ گیا۔ ہرقل کے جاسوسوں نے اسے اطلاع دی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کی فوج کو شیرز کے مقام پر پڑاؤ ڈالے دیکھا ہے لیکن جبلہ کا لشکر وہاں پہنچا تو وہاں پڑاؤ کے آثا ر تو ملتے تھے لیکن لشکر کا کوئی بھی آدمی وہاں نہیں تھا ۔ جبلہ نے کہا کہ وہ حمص میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اس نے اپنا ہراول دستہ حمص کو روانہ کر دیا۔ دیکھا کہ شہر کے دروازے کھلے ہوئے ہیں دیواروں پر شہر کے لوگ کھڑے تھے۔ کوئی فوجی نظر نہیں آتا تھا۔ ’’کہاں ہیں مسلمان؟‘‘ ہراول کے سالار نے پوچھا۔’’یہاں کوئی مسلمان نہیں۔‘‘ اسے اوپر سے جواب ملا۔ ’’کیا تم اپنے مذہب کے دشمن کے ساتھ مل گئے ہو؟‘‘رومی ہراول کے سالار نے کہا۔’’کیا دروازے کھلے چھوڑ کر ہمیں دھوکا دینا چاہتے ہو؟‘‘’’اندر آکر دیکھ لو۔‘‘اوپر سے شہریوں نے اسے بتایا۔ ’’اگر تم بھی اس دھوکے میں شریک ہو تو اپنی سزا سوچ لو۔‘‘ ہراول کے سالار نے کہا۔اس نے اپنے دستے کو شہر کے باہر رہنے دیا اور اپنے سالار جبلہ کی طرف قاصد دوڑا دیا کہ یہ دھوکا معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں کوئی فوج نہیں۔ جبلہ کو پیغام ملا تو وہ واہی تباہی بکنے لگا۔’’یہ دھوکا ہے۔‘‘جبلہ غصے سے چلایا۔’’ مسلمانوں نے ہماری فوج کو جہاں بھی شکست دی ہے دھوکے سے دی ہے۔ وہ شہر میں موجود ہیں اور انہوں نے ہمیں پھانسنے کیلئے شہر کے دروازے کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔‘‘ جبلہ نے اپنے تیس ہزار کے لشکر کو پیش قدمی کا حکم اس ہدایت کے ساتھ دیا کہ حمص کے دروازوں میں سیلاب کی طرح داخل ہوں اور شہر میں بکھریں نہیں۔ مسلمان لوگوں کے گھروں میں چھپے ہوئے ہوں گے۔ اسے یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ اس کا لشکر شہر میں بکھر گیا تو مسلمان اس کے سپاہیوں کو چن چن کر ماریں گے۔ وہ سیلاب کی ہی مانند شہر میں داخل ہوئے اور مسلمانوں کو للکارنے لگے کہ وہ باہر آئیں لیکن کوئی مسلمان باہر نہ آیا۔ جبلہ نے خطرہ مول لے کر ہر گھر کی تلاشی کا حکم دیا۔ سپاہی لوگوں کے گھروں پر ٹوٹ پڑے۔ تلاشی کے بہانے انہوں نے گھروں میں لوٹ مار کی اور عورتوں پر دست درازی کی۔ شہری چیختے چلاتے باہر آگئے۔
’’تم سے تو وہ اچھے تھے جو چلے گئے ہیں۔‘‘ ’’تم نے اپنے مذہب کا بھی احترام نہیں کیا۔‘‘’’ہمارے مذہب کا احترام مسلمانوں نے کیا تھا۔‘‘’’وہ ہم سے لیا ہوا جزیہ واپس کر گئے ہیں۔‘‘’’وہی اچھے تھے…… وہی اچھے تھے‘‘’’مسلمان تمہاری طرح لٹیرے نہیں تھے۔‘‘جبلہ بن الایہم شہر کے مردوں اور عورتوں کی چیخ و پکار اور آہ و بکا سنتا رہا۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ مسلمان چلے گئے ہیں۔اس نے جب اپنے ہم مذہب لوگوں کی زبان سے یہ الفاظ سنے کہ مسلمان اچھے تھے اور وہ تمہاری طرح لٹیرے نہیں تھے اور یہ کہ انہوں نے جزیہ واپس کر دیا تھا تو اس نے اپنے لشکر کو اکٹھا کیا۔ ’’شکست تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔‘‘جبلہ نے اپنے لشکرسے کہا۔’’آج پہلی بار مجھے پتا چلا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کاباعث کیا ہے اور کیوں ہر قصبے اورشہر کے لوگ ان کا استقبال کرتے ہیں۔ یہ اہلِ صلیب کا شہر ہے مسلمانوں نے ان کی عزت اور آبرو پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ تم بھی اہلِ صلیب ہو مگر تم نے ان کی آبرو پامال کر دی ہے اور ان کے گھروں سے قیمتی سامان اٹھا لائے ہو۔ تم لڑنے نہیں آئے لوٹ مار کرنے آئے ہو اور کہتے پھرتے ہو کہ مسلمانوں میں کوئی غیبی طاقت ہے۔ تم نے لڑے بغیر یہ شہر لے لیا ہے۔ اگر تمہارا ایمان ہوتا تو تمہیں نہ لوٹ مار کی ہوش رہتی نہ تم کسی عورت کی طرف دیکھتے۔ جو سامان تم نے لوگوں کے گھروں سے اٹھایا ہے وہ یہاں رکھ دو۔‘‘ جزیہ کی واپسی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ بلاذری ، ابو سعید، ابنِ ہشام اور طبری نے لکھا ہے کہ خالدؓ کے مشورے پر جب سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ نے مفتوحہ قصبے اور شہر چھوڑ کر جابیہ کے مقام پر تمام دستوں کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا تو انہو ں نے حمص کے چند ایک سرکردہ افراد کو بلایااور انہیں بتایا کہ وہ حمص سے جا رہے ہیں۔ پہلے تو ان افراد کو یقین نہ آیا جب یقین آیا تو انہو ں نے افسوس کا اظہار کیا۔ ’’ہم نے پہلی بار عدل و انصاف دیکھا تھا۔‘‘ ایک شہری نے کہا۔’’ ہم نے ظلم جبر اور بے انصافی کا راج دیکھا تھا۔ آپ ہمیں عدل و انصاف و عزت و آبرو سے محروم کر کے پھر ہمیں ظالموں کے حوالے کر کے جا رہے ہیں۔‘‘’’اﷲنے چاہا تو ہم پھر آجائیں گے۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’میں نے تمہیں وہ جزیہ واپس دینے کیلئے بلایا ہے جو ہم نے تم سے وصول کیا تھا۔‘‘ ’’نہیں…… ‘‘شہریوں کے نمائندوں نے متفقہ طور پر احتجاج کیا۔’’ ہم اپنا جزیہ واپس نہیں لیں گے۔‘‘’’ یہ جزیہ ہم پر حرام ہو گیا ہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔ ’’ہم نے تم سے اس معاہدے پر جزیہ لیا تھا کہ ہم تمہاری حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے لیکن ہم تمہیں ان لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کے جا رہے ہیں جنہیں تم ظالم و جابر سمجھتے ہو۔ ہم تمہاری حفاظت اور سلامتی کا معاہدہ پورا نہیں کر سکے۔ تم اپنا جزیہ وپس لے جاؤ اور یہ تمام شہریوں کو واپس کر دینا۔‘‘ایک مؤرخ ابو یوسف نے لکھا ہے کہ حمص کے شہری جو پہلے ہی مسلمانوں کے سلوک اور انتظام اور عدل و انصاف سے متاثر تھے جزیہ کی واپسی سے اور زیادہ متاثر ہوئے۔ حد یہ کہ حمص میں جو یہودی مقیم تھے ان کے نمائندے نے ابو عبیدہؓ سے کہا کہ حمص میں اب وہی حکمران داخل ہو سکے گا جو فوجی طاقت کے بل بوتے پر آئے گا۔ ورنہ وہ کسی اور کو اپنے اوپر حاکم تسلیم نہیں کریں گے۔ایک یہودی کے منہ سے مسلمانوں کی حمایت کے الفاظ اس وجہ سے حیران کن ہیں کہ یہودی مسلمانوں کے بد ترین دشمن تھے۔ رومی فوج کا سالار قناطیر ہرقل کے منصوبے کے مطابق دمشق پر حملہ کرنے گیا تو وہاں اسے اسلامی فوج کا کوئی آدمی نظر نہ آیا، مسلمان دمشق سے نکل کر جابیہ چلے گئے تھے۔ ابو عبیدہؓ نے ان تمام سالاروں کو جو مفتوحہ جگہوں کے حاکم مقررہوئے تھے حکم بھیجا تھا کہ وہاں سے کوچ سے پہلے لوگوں کو جزیہ کی رقم واپس کر دی جائے کیونکہ ہم ان کی حفاظت نہیں کر سکے۔ چنانچہ دمشق کے شہریوں کو بھی جزیہ واپس کر دیا گیاتھا۔
اس طرح مسلمان اپنے پیچھے بڑا اچھا تاثر چھوڑ کر آئے لیکن وہ اس علاقے سے نکلے نہیں۔ تمام دستے دریائے یرموک سے سات آٹھ میل دور جابیہ کے مقام پر اکٹھے ہو گئے، ان میں شرجیلؓ بن حسنہ، عمروؓ بن العاص، یزیدؓ بن ابی سفیان، ضرارؓ بن الازور جیسے نامی گرامی سالار قابلِ ذکر ہیں۔سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ نے سب کو مشاورت کیلئے بلایا۔ ’’تم سب پر اﷲ کی سلامتی ہو! ‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’کیا میرے چہرے پر وہی پریشانی نہیں ہے جو تم ایک دوسرے کے چہروں میں دیکھ رہے ہو؟‘‘ ’’لیکن یہ پریشانی ہے مایوسی نہیں۔مایوس نہ ہونا اس اﷲ کی ذات باری سے جس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور پیروی میں ہم اتنی مدت سے گھروں سے نکلے ہوئے ہیں۔ہم پسپا نہیں ہوئے ہیں پیچھے ہٹے ہیں، اور پیچھے اس لیے ہٹے ہیں کہ اکٹھے ہو کر اس دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں جو ہمارے دین کا دشمن ہے۔ کیا تم نے سن لیا ہے کہ ہرقل کی فوج کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے؟‘‘’’ہاں امین الامت!‘‘ سالاروں کی آوازیں سنائی دیں۔ ’’سن لیا ہے۔‘‘’’اور ہم کتنے ہیں؟‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ چالیس ہزار۔ لیکن تم ہر میدان میں قلیل تعداد میں تھے۔ اور اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ ایمان والے بیس ہوئے تو دو سو، کفار پر غالب آئیں گے۔ پھر بھی میں تمہیں امتحان میں نہیں ڈالوں گا۔ حکم نہیں دوں گا۔ مجھے مشورہ دو۔‘‘ ’’کیا ایسا ٹھیک نہیں ہو گا کہ ہم واپس چلے جائیں؟‘‘ ایک سالار نے کہا۔’’ ہرقل ہمیشہ اتنی زیادہ فوج نہیں رکھے گا جونہی کبھی اطلاع ملے کہ ہرقل نے فوج کی تعداد کم کر دی ہے ہم پھر واپس آجائیں گے۔ہم پہلے سے زیادہ تیار ہو کر آئیں گے۔‘‘’’اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ ہمارے مجاہدین نے اتنا خون بہاکراور قربانیاں دے کر جو علاقے فتح کیے ہیں وہ رومیوں کو واپس کر دیں۔‘‘ابوعبیدہؓنے کہا۔’’اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمارے سارے لشکر کا حوصلہ ٹوٹ جائے گااور دشمن کا حوصلہ مضبوط ہو جائے گا۔رومی فوج پر ہم نے جو دھاک بٹھائی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔‘‘’’ہم فیصلہ کن جنگ لڑیں گے ۔‘‘ ایک اور سالار نے کہا۔’’فتح اور شکست اﷲکے ہاتھ میں ہے۔‘‘ اس مشورے پر زیادہ تر سالاروں نے لبیک کہا۔ ’’لڑے بغیر واپس گئے تو مدینہ والوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟‘‘’’پھر پسپائی بھی ہماری روایت بن جائے گی۔‘‘’’اپنے بچوں کو یہ سبق ملے گا کہ دشمن قوی ہو تو بھاگا بھی جا سکتا ہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓ کی طرف دیکھاجو بالکل خاموش بیٹھے تھے۔ انہوں نے نہ کسی کی تائید میں کچھ کہا نہ مخالفت میں۔ ’’کیوں ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے خالدؓ سے کہا۔ ’’کیا تو کوئی مشورہ نہیں دے گا۔ تیرے جرات اور قابلیت کی ضرورت تو اب ہے۔کیا سوچ رہا ہے تو؟‘‘’’ابنِ عبداﷲ ! جس کسی نے جو کچھ بھی کہا ہے، وہ اپنے خیال کے مطابق ٹھیک کہا ہے۔ لیکن میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سب نے مل کر جو فیصلہ کیا میں اس کا پابند رہوں گا اور تیرا ہر حکم مانوں گا ۔‘‘ ’’تو جو کچھ کہنا چاہتا ہے کہہ دے ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ مجھے تیری رائے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’پہلی بات یہ ہے امین الامت!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ ہم بڑی خطرناک جگہ آکر بیٹھ گئے ہیں، یہاں سے تھوڑی ہی دور قیساریہ میں رومیوں کی فوج موجود ہے اس کی نفری چالیس ہزار ہے اور اس کا سالار ہرقل کا ایک بیٹا قسطنطین ہے۔ ہماری تعداد اتنی ہی ہے۔ جتنی اکیلے قسطنطین کی ہے۔ہم ایسی جگہ پر ہیں کہ وہ ہم پر عقب سے آسانی سے حملہ کر سکتا ہے۔ ایسا حملہ وہ اس وقت کرے گا جب سامنے سے ہم پر ہرقل کی فوج حملہ کرے گی۔ ہمیں یرموک کے مقام پر چلے جانا چاہیے ۔وہ زمین گھوڑ سوار دستوں کے لڑنے کیلئے بہت اچھی ہے اور ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مدینہ سے کمک اور رسد کا راستہ کھلا رہے گا۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے دوسرے سالاروں کی طرف دیکھا۔ سب نے کہا کہ اس سے بہتر اور کوئی تجویز نہیں ہو سکتی۔ ابو عبیدہؓ نے اسی وقت جابیہ سے یرموک کی طرف کوچ کا حکم دے دیا اور خالدؓ کو فوج کی عقبی گارڈ کے طور پر پیچھے رہنے دیا۔خالدؓ کو ان چار ہزار سواروں کے دستے کی کمان دی گئی جوخالدؓ نے تیار کیا تھا۔ یہ سب منتخب شہسوار تھے یہ دستہ جم کر نہیں گھوم پھر کر لڑتا تھا۔ یہ خالدؓ کی اپنی جاسوسی تھی کہ انہوں نے معلوم کر لیا تھا کہ قیساریہ میں ہرقل کی جو فوج ہے اس کی نفری چالیس ہزار اور اس کا سالار ہرقل کا بڑا بیٹا قسطنطین ہے۔ معروف مؤرخ گبن لکھتا ہے کہ جنگی اصولوں اور امور کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو رومی فوج کے مقابلے میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ صرف چالیس ہزار نفری سے اس فوج کے خلاف لڑنا جس کی نفری ڈیڑھ اور دو لاکھ کے درمیان تھی ممکن نہ تھا۔روم کا شہنشاہ صحیح معنوں میں سپاہیوں اور گھوڑوں کا ایسا سیلاب لے آیا تھا جس کے آگے کوئی بھی فوج نہیں ٹھہر سکتی تھی، لیکن مسلمان اس سیلاب کے آگے بند باندھنے اور اسے پھیلا کر ختم کردینے کا تہیہ کر چکے تھے۔ ان کے پاس صرف جذبہ تھا۔مسلمانوں کے جذبے کی شدت اور عزم کی پختگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خالدؓ ان میں موجود تھے اور خالدؓ سراپا عزم اور مجسم جذبہ تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ایمان کے آگے باطل کی کوئی طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ خالدؓ نے ایک مثال وہیں قائم کردی وہ اس طرح کہ مسلمانوں کی فوج جابیہ سے کوچ کر گئی تو خالدؓ ابو عبیدہؓ کے حکم کے مطابق ابھی جابیہ میں تھے۔ادھر ہرقل کے لشکر نے اتنی تیزی سے نقل و حرکت کی تھی کہ اس کے سالاروں کو جن علاقوں میں پہنچنے کا حکم ملا تھا وہ اپنے دستوں کے ساتھ ان علاقوں میں پہنچ گئے تھے۔شام اور فلسطین میں ہرقل کی فوج چھاگئی تھی۔ خالدؓجابیہ سے روانہ ہونے لگے تو اچانک رومی فوج کا ایک دستہ دائیں پہلو سے آتا نظر آیا۔ یہ رومی فوج کے کسی حصہ کا ہراول تھا اور اس سوار دستے کی تعداد خالدؓ کے دستے سے زیادہ تھی۔ رومی دستے کو اپنی بے پناہ فوج کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس نے خالدؓ کے دستے پر حملہ کر دیا۔خالدؓنے اپنے اس سوار دستے کو خود تربیت دی تھی۔ انہوں نے ان سواروں کو بھاگ دوڑ کر لڑنے کی ترتیب میں کر لیا۔ رومی دستے کے سوار اسی علاقے کے عیسائی تھے۔ وہ جنگ کی ترتیب میں حملے پر حملہ کرتے تھے مگر خالدؓ کے سواروں کا انداز کچھ اور تھا۔ عیسائیوں کا ہر ہلہ اس طرح ضائع ہو جاتا تھا جس طرح حریف کو مارا ہوا گھونسا حریف کو لگنے کے بجائے ہوا میں لگے۔ ذرا ہی دیر بعد عیسائی سوار میدان میں بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے اور مسلمان سوار انہیں کاٹ رہے تھے-
خالدؓ نے اپنا مخصوص نعرہ’’میں خالد ابنِ ولید ہوں‘‘ لگایا تو معرکے کی صورت ہی بدل گئی۔ خالدؓ کا یہ نعرہ پہلے ہی رومی فوج میں مشہورتھا اور اس نعرے کے ساتھ ایک دہشت وابستہ تھی۔ عیسائی سواروں کی تنظیم پہلے ہی بکھر گئی تھی اور مسلمان سوار ان پر غالب آگئے تھے۔ خالدؓ کے نعرے نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور عیسائی سوار افراتفری کے عالم میں بھاگنے لگے۔خالدؓ یہ معرکہ ختم ہوتے ہی اپنے لشکر کی طر ف روانہ نہ ہوئے۔ بلکہ دو تین دن وہیں موجود رہے۔ انہیں توقع تھی کہ رومی فوج کا یہ حصہ اپنے ہراول کا انتقام لینے آگے آئے گا۔ خالدؓرومیوں کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ مسلمان کہیں بھاگ نہیں گئے یہیں ہیں، اور زندہ بیدار لڑنے کیلئے تیار ہیں، رومی آگے نہ آئے اور خالدؓاپنے لشکر سے جا ملے۔گبن نے لکھا ہے کہ رومی اسی ایک جھڑپ سے ہی محتاط ہو گئے تھے۔ خالدؓ ابو عبیدہؓ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس میدان کا جائزہ لیا۔ لڑائی کیلئے یہ ہر لحاظ سے موزوں نظر آیا، اس طرح مسلمانوں کو اپنی پسند کے میدان کا فائدہ حاصل ہو گیا، رومی ایک تو اسے بہت بڑی کامیابی سمجھ رہے تھے کہ انہو ں نے مسلمانوں سے مفتوحہ علاقے لے لیے تھے اور وہ اس لیے بھی خوش تھے کہ انہوں نے اس دور کی سب سے بڑی فوج بنا لی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے پیچھے چلے آرہے تھے۔ابو عبیدہؓ نے خالدؓ کے مشوروں کے مطابق اپنے دستوں کو لڑائی کی ترتیب میں کر لیا اور اسی ترتیب میں ڈیرے ڈال دیئے، وہ خیمہ زن ہونے کے بجائے تیاری کی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنے بائیں پہلو کو محفوظ رکھنے کیلئے پہاڑیوں سے فائدہ اٹھایا ۔مسلمانوں کے محاذ کی لمبائی کم و بیش گیارہ میل تھی اور گہرائی کچھ بھی نہیں تھی۔ رومی اتنے بڑے لشکر کے باوجود محتاط ہو کر بڑھ رہے تھے حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کی تعداد چالیس ہزار ہے جو کم ہو سکتی ہے زیادہ نہیں ہو سکتی اور انہیں اتنی جلدی کمک بھی نہیں مل سکتی۔ رومی لشکر چند دنوں بعد آگے آیا لیکن آتے ہی اس نے حملہ نہ کیا۔ وہ چند میل دور رک گئے اور اپنے دستوں کو جنگ کی ترتیب میں پھیلا دیا۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومی فوج کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ صحیح معنوں میں انسانوں اور گھوڑوں کا سمندر لگتی تھی۔ اس فوج کے محاذ کی لمبائی اٹھارہ میل تھی اور گہرائی بھی خاصی زیادہ تھی۔ صفوں کے پیھچے صفیں تھیں۔ رومی لشکر کے سالارِ اعلیٰ ماہان نے آگے آکر مسلمانوں کی فوج کا جائزہ لیا۔ اسے اپنی جنگی طاقت پر اتنا ناز تھا کہ وہ مسلمانوں کی صفوں کے قریب آگیا، اس کے چہرے پررعونت اور ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ مسلمان اسے خاموشی سی دیکھتے رہے اور وہ مسلمانوں کو حقارت سے دیکھتا آگے بڑھتا گیا، اس کے پیچے پیچھے بارہ محافظ گھوڑوں پر بڑی شان سے جا رہے تھے۔ ماہان زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اس کے لشکر کی طرف سے ایک سوار گھوڑا سر پٹ دوڑتا آیا ۔ماہان رک گیا گھوڑ سوار اس کے قریب آرکا اور رومی انداز سے سلام کرکے اس کے ہاتھ میں کچھ دیا۔ یہ ہرقل کا پیغام تھا جو اس نے ماہان کو انطاکیہ سے بھیجا تھا۔ یہ دراصل پیغام نہیں،شہنشاہِ ہرقل کا فرمان تھا۔ ہرقل نے اسے لکھاتھا کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے سے پہلے انہیں صلح نامے کیلئے راضی کرو۔مسلمان اگر یہ شرط مان لیں کہ وہ پر امن طریقے سے واپس چلے جائیں گے اور آئندہ کبھی رومی سلطنت کی سرحد میں داخل نہیں ہوں گے تو انہیں عزت سے اور کچھ رقم دے کر رخصت کرو۔اپنی طرف سے پوری کوشش کرو کہ وہ صلح پر راضی ہوجائیں اگر وہ تمہاری بات نہ مانیں تو عربی عیسائیوں کو استعمال کرو۔شاید ان کی بات مان جائی
ماہان نے یہ پیغام پڑھا تو اس کے چہرے پر غصے کے آثار آگئے،اس نے قاصد کو رخصت کر دیا۔’’ ان بدوؤں کے آگے گھٹنے ہی ٹیکنے تھے تو اتنا لشکر اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘اس نے غصے سے کہا۔اس نے پیچھے دیکھا۔ اس کا احتجاج سننے والے اس کے محافظ ہی تھے۔ اس نے مسلمانوں کے محاذ کی طرف دیکھا اور گھوڑے کا رخ اس طرف کر کے آگے آگیا۔ قریب جا کر ا س نے گھوڑا روک لیا اور ایک محافظ کو اپنے پاس بلایا۔ ’’انہیں کہو کہ اپنے سالارِ اعلیٰ کو سامنے کریں۔‘‘ اس نے اپنے محافظ سے کہا ۔’’اور کہو کہ ہمارے سالارِ اعلیٰ ماہان صلح کی بات کرنے آئے ہیں۔‘‘محافظ نے اس کے الفاظ بلند آواز سے دہرائے۔ مسلمانوں کی طرف سے جواب آیا کہ آتے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہرقل کی آدھی فوج کٹ گئی تھی۔ بے انداز مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا اور مسلمانوں نے سلطنتِ روم کے بے شمار علاقے پر قبضہ کر لیا تھا پھر ہرقل نے انہیں بخش کیوں دیا تھا؟ اس نے ڈیڑھ دو لاکھ فوج اکٹھی کر کے بھی مسلمانوں کے آگے صلح کا ہاتھ کیوں بڑھایا تھا؟فوری طور پر یہ جواب سامنے آتا ہے کہ اس کی فوج پر مسلمانوں کی جو دہشت طاری تھی اس سے وہ خطرہ محسوس کرتا تھا کہ اس کی اتنی بڑی فوج بھی شکست کھاجائے گی۔ لیکن اس وقت کے وقائع نگاروں مؤرخوں اور بعد کے تاریخ نویسوں نے مختلف حوالوں سے لکھا ہے کہ ہرقل اوچھا دشمن نہیں تھا وہ جنگجو تھا اور جنگجو قوم کی قدر کرتا تھا۔ خالدؓ کی قیادت سے وہ متاثر تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک جنگجوقوم کی اتنی پر عزم فوج اس کے لشکر کے ہاتھوں ختم ہو جائے۔ وہ مسلمانوں کو زندہ واپس چلے جانے کا موقع دے رہا تھا۔ اسے توقع تھی کہ مسلمانوں نے جذبے کے زور پر اس کے لشکر سے ٹکر لی تو مسلمانوں کا قتلِ عام ہو گا۔ ہرقل نے جو کچھ بھی سوچا تھا اس کے متعلق آراء مختلف ہوسکتی ہیں لیکن مسلمانوں کی سوچ مختلف تھی۔ میدانِ جنگ میں نہ وہ رحم کرتے تھے نہ رحم کے طلبگار ہوتے تھے۔ اپنی نفری کی کمی اور دشمن کی کئی گنا زیادہ طاقت نے انہیں کبھی پریشان نہیں کیا تھا۔رومی سالار ماہان کی پکار پر ابو عبیدہؓ آگے گئے۔ ان کے ساتھ ایک ترجمان تھا ۔’’اے سالار!‘‘ ماہان نے بارعب لہجے میں پوچھا۔’’کیا تو امن و امان سے یہاں سے چلے جانا چاہتا ہے؟‘‘ ’’ہم امن و امان چاہتے ہیں۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔ ’’لیکن جانا نہیں چاہتے۔‘‘ ’’شہنشاہ ہرقل کے حکم کی تعمیل لازمی ہے۔‘‘ ماہان نے کہا۔’’ اسی کے حکم سے میں تیرے پاس آیا ہوں۔‘‘’’لیکن میرے رومی دوست! ‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ ہم پر صرف اﷲ کے حکم کی تعمیل لازمی ہے۔‘‘ ’’شہنشاہ ہرقل تمہیں ایک موقع دے رہے ہیں۔‘‘ ماہان نے کہا۔’’اپنی اس ذرا سی فوج سے میری فوج کے ساتھ ٹکرلینے سے باز آجاؤ میں اپنے ایک سالار کو صلح کی بات چیت کیلئے بھیج رہا ہوں۔‘‘اور وہ چلا گیا۔رومی فوج کا جو سالار صلح کی بات چیت کرنے آیا وہ گریگری تھا۔ ابو عبیدہؓ نے اس کا استقبال کیا۔ ’’میں شہنشاہ ہرقل کی طرف سے صلح کی پیشکش لے کر آیا ہوں۔‘‘ گریگری نے کہا۔’’ اگر تم واپس چلے جاؤ اور پھر کبھی ادھر نہ آنے کا معاہدہ کرلو تو ہمارے شہروں اور قصبوں سے جو مالِ غنیمت وغیرہ اٹھایا ہے وہ اپنے ساتھ لے جا سکتے ہو۔ ہمارا لشکر دیکھ لو اور اپنی تعداد دیکھ لو۔‘‘
’’اگر یہ لڑائی میری ذاتی ہوتی تو میں تمہاری پیشکش قبول کر لیتا۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’میں شہنشاہ نہیں، شہنشاہ اﷲ ہے، اور ہم اسی کے حکم پر آئے ہیں۔ ہم کوئی پیشکش قبول نہیں کر سکتے۔‘‘ گریگری چلا گیا۔ ہرقل نے اپنے فرمان میں لکھاتھا کہ صلح کا ذریعہ استعمال کرو۔ اس حکم کے مطابق ماہان نے ایک اور سالار جبلہ بن الایہم کو بھیجا ۔’’کیا تمہاری فوج کے تمام سالار باری باری صلح کا پیغام لے کر آئیں گے؟‘‘ ابو عبیدہؓ نے پوچھا۔’’ کیا کوئی میرے انکار کو اقرار میں بدل سکتا ہے؟‘‘’’صلح کا پیغام لانے والا میں آخری سالار ہوں۔‘‘ جبلہ نے کہا۔’’ میں اس لئے آیا ہوں کہ میں بھی عربی ہوں،ہوں تو عیسائی۔ لیکن میرے دل میں اپنے وطن کے لوگوں کی محبت ہے ،میں تمہیں تباہی سے بچانے کیلئے آیا ہوں۔ تم واپس چلے جاؤ اگر تمہارا کوئی مطالبہ ہے وہ بتا دو، میں وہ پورا کردوں گا۔‘‘ ’’ہمارا مطالبہ تم جانتے ہو۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ ہم خیرات نہیں جزیہ لیں گے۔‘‘ ’’اے عربی سالار!‘‘ جبلہ نے حیران ہوکر پوچھا۔’’ کیا چالیس ہزار کی فوج چار گنا طاقت ور لشکرسے جزیہ وصول کر سکتی ہے؟‘‘ابو عبیدہؓ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طر ف کی اور ان کے ہونٹوں پر تبسم آگیا۔ انہوں نے رومیوں کی ہر پیشکش ٹھکرادی اور صلح سے انکار کر دیا۔ جولائی ۶۳۶ء )جمادی الآخر ۱۵ ھ( کا تیسرا ہفتہ شروع ہو چکا تھا۔ جبلہ بن الایہم نے اپنے سالارِ اعلیٰ ماہان کو جاکر بتایا کہ مسلمان کسی قیمت پرکسی شرط پر صلح کیلئے تیار نہیں ہیں۔’’ہم شہنشاہِ ہرقل کے حکم کی تعمیل کر چکے ہیں۔‘‘ ماہان نے کہا۔’’ میں نے اپنے ذرائع استعمال کر لیے ہیں…… جبلہ! اب وہ طریقہ اختیار کرو جو شہنشاہِ ہرقل کو پسند نہیں تھا۔ ان بدقسمت اور کم عقل مسلمانوں پر حملہ کردو۔ اس سے انہیں ہماری طاقت کا اندازہ ہو جائے گا، اور ہم یہ دیکھ لیں گے کہ ان میں کتنا دم خم ہے اور ان کے انداز کیا ہیں۔‘‘رومی لشکر کا پڑاؤ کئی میل دور تھا۔ جبلہ اپنے دستوں کو لے کر مسلمانوں کے سامنے آیا، اس کے دستوں کو رومی فوج کے ہتھیار دیئے گئے تھے جو بہتر قسم کے تھے۔ ان دستوں میں عربی عیسائی تھے، وہ جب آئے تو مسلمان لڑائی کیئے تیار ہو چکے تھے۔ جبلہ نے آتے ہی حملہ نہ کیا۔ وہ مسلمانوں کے محاذ کو دیکھ کر حملہ کرنا چاہتا تھا۔آخر اس نے ہلہ بولنے کاحکم دے دیا، وہ ابھی مسلمانوں کی اگلی صف تک پہنچا بھی نہ تھا کہ اس کے دستوں کے دونوں پہلوؤں پر حملہ ہو گیا۔ حملہ کرنے والا مسلمان سواروں کا دستہ تھا جس کی کمان خالدؓ کررہے تھے ۔گھوم پھر کر لڑنے والے اس دستے نے اپنا مخصوص انداز اختیار کیا۔جبلہ کی ترتیب گڈمڈ ہو گئی۔ اس پر سامنے سے بھی حملہ ہوا۔عیسائی بوکھلا گئے۔ انہیں اپنے پہلوؤں پر حملے کی توقع نہیں تھی۔ مسلمان سواروں نے انہیں بکھیر دیا۔ عیسائی اب بھاگنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔وہ بہت سی لاشیں اور بے انداز زخمی پیچھے پھینک کر پسپا ہو گئے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ ماہان نے مسلمانوں کولڑتے بھی دیکھا اور جس تیزی سے مسلمان سواروں نے جبلہ کے دستوں پر حملہ کیا تھا وہ بھی دیکھااور وہ سمجھ گیاکہ مسلمانوں سے لڑنا بہت مشکل ہے اور اس کیلئے مزید تیاری کی ضرورت ہے۔ ماہان نے حملے کیلئے کوئی اور دستہ نہ بھیجا۔ماہان کو توقع تھی کہ مسلمان جوابی حملہ کریں گے لیکن نفری کی کمی مسلمانوں کی مجبوری تھی۔ وہ جوابی حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے، ادھر جبلہ محتاط ہو گیا۔ دن گزرنے لگے۔ دونوں طرف کی فوجوں نے ایک دوسرے پر نظر رکھنے کیلئے اپنے اپنے آدمی مقرر کر دیئے۔یہ وقفہ مسلمانوں کیلئے فائدہ مند رہا۔ انہیں مدینہ سے چھ ہزار افراد کی کمک مل گئی۔ یہ چھ ہزار افراد یمنی تھے اور تازہ دم تھے۔ ان سے مسلمانوں کے محاذ کو کچھ تقویت مل گئی۔
مسلمانوں کی فوج کی تفصیل کچھ اس طرح تھی کہ اس کی کل تعداد چالیس ہزار تھی۔ ان میں ایک ہزار رسولِ کریمﷺ کے صحابہ کرامؓ تھے۔ ان ایک ہزار میں ایک سو وہ مجاہدین بھی شامل تھے جو بدر کی لڑائی لڑے تھے۔ اس نفری میں رسولِ کریمﷺ کے پھوپھی زاد بھائی زبیرؓ بھی شریک تھے اور اس نفری میں پہلی جنگوں کی دو مشہور شخصیتیں بھی شامل تھیں۔ ابی سفیانؓ اور ان کی بیوی ہندؓ ۔ ابی سفیانؓ کے بیٹے یزیدؓ پہلے ہی چالیس ہزار کی اس فوج میں شامل تھے اور سالار تھے۔ایک مہینہ گزر گیا تو دشمن نے دیکھا کہ اس کا لشکر لڑنے کیلئے تیار ہو گیا ہے اور مسلمانوں کی نفری میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا، تو اس نے مذید انتظار مناسب نہ سمجھا لیکن ایک بار پھر صلح کی کوشش کو ضروری سمجھا۔ اس نے اپنا ایک ایلچی مسلمانوں کے محاذ کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ سالارِ اعلیٰ بات چیت کیلئے آئیں۔’’ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’ کیا اب یہ بہتر نہیں ہو گا کہ اس شخص کے ساتھ تو بات کرے؟ وہ ہمیں اپنی طاقت سے ڈرا کر صلح حاصل کرناچاہتا ہے۔‘‘’’مجھے ہی جانا چاہیے امین الامت!‘‘ خالدؓنے کہا۔’’اس کے ساتھ میں ہی بات کروں گا۔‘‘خالدؓگھوڑےپر سوار ہوئے اور ایڑ لگادی۔ ماہان نظر نہیں آرہا تھا، خالدؓ کے ساتھ چند ایک محافظ تھے وہ رومیوں کے محاذ تک چلے گئے۔ ماہان نے ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنے خیمے میں لے گیا۔ خیمے میں محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ میدانِ جنگ ہے۔ یہ شاہانہ کمرہ تھا۔’’میں ماہان ہوں۔‘‘ ماہان نے اپنا تعارف کرایا۔’’ رومی افواج کا سالارِ اعلیٰ!‘‘’’میں کچھ بھی نہیں ہوں۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’میرا نام خالد بن ولید ہے۔‘‘’’تم سب کچھ ہو ابنِ ولید!‘‘ ماہان نے کہا۔’’ جہاں تک تم نہیں پہنچ سکے وہاں تک تمہارا نام پہنچ گیا ہے……میرا خیال ہے کہ تم جتنے قابل اور جرات مند سالار ہو اتنے ہی دانشمند انسان بھی ہو گے۔ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری چالیس ہزار فوج میرے اس لشکر کے ہاتھوں ماری جائے جو بڑی دور دور تک پھیلی ہوئی چٹانوں کی مانند ہے۔ دانشمند آدی چٹا نوں سے نہیں ٹکرایا کرتے۔‘‘’’بہت اچھے الفاظ ہیں۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ میں ان الفاظ کی قدر کرتا ہوں لیکن ہم وہ دانشمند ہیں جو باطل کی چٹانوں سے ڈرا نہیں کرتے۔ تم نے مجھے یہاں تک آنے کا موقع اس لئے دیا ہے کہ میں تمہارا لشکر دیکھ کر ڈر جاؤں۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ ماہان نے کہا۔ ’’کیا تجھے اپنے سپاہیوں کے بیوی بچوں کا بھی کوئی خیال نہیں جو تمہارے لشکر کے ساتھ ہیں ؟ کیا تم نے سوچا نہیں کہ اگر تم سب مارے گئے تو یہ بیویاں بچے ہماری ملکیت ہوں گے؟‘‘’’ماہان!‘‘خالدؓ نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’ ہم سب کچھ سوچ چکے ہیں …… صلح نہیں ہوگی۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ ماہان نے کہا۔’’کیا تم یہ بھی نہیں سمجھ رہے کہ میں تم پر رحم کر رہا ہوں؟…… میں تمہیں، تمہارے سارے لشکر کو اور تمہارے خلیفہ کو بھی اتنی رقم پیش کروں گاجو تم سب کو حیران کر دے گی۔ ‘‘’’رحم کرنے والا صرف اﷲ ہے جس کے قبضے میں میری اور تیری جان ہے ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے مدد اور رحم مانگتے ہیں۔اگر تو نہیں چاہتا کہ کشت و خون ہو تو اسلام قبول کرلے جو اﷲکا سچا دین ہے۔‘‘’’نہیں!‘‘ ماہان نے بڑے رعب سے جواب دیا۔’’اگر مجھے، میرے لشکر اور میرے خلیفہ کو انعام دینا ہے تو جزیہ ادا کردے۔ ‘‘خالدؓ نے کہا۔’’لیکن جزیہ لے کر ہم چلے نہیں جائیں گے بلکہ تجھے اور ہرقل کی رعایا کی حفاظت ، عزت اور ہر ضرورت کے ذمہ دار ہوں گے…… اگر یہ بھی منظور نہیں تو میدانِ جنگ میں ہماری تلواروں کی ملاقات ہو گی۔‘‘
مؤرخ واقدی، بلاذری اور ابو یوسف نے لکھاہے کہ خالدؓ ماہان پر اپنابڑا ہی اچھا تاثر چھوڑ آئے اور ماہان کا جو تاثر لے کر آئے وہ بھی اچھا تھا۔اس نے کوئی اوچھی بات نہ کی۔ خالدؓ نے واپس آکر ابو عبیدہ ؓکو ایک تو یہ بتایا کہ ماہان کے ساتھ کیا بات ہوئی ہے۔ دوسرے یہ کہ ماہان کتنا اچھا اور کتنا باوقار سپہ سالار ہے۔’’پھر اس میں ایک ہی خرابی ہے۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’اس کی عقل و دانش شیطان کے قبضے میں ہے۔‘‘
خالدؓ ماہان کو آخری فیصلہ سناآئے کہ صلح نہیں ہوگی۔ابو عبیدہؓ نے اپنے تمام سالاروں کو اکٹھا کرکے بتایا کہ دشمن نے صلح کی پیشکس کی تھی جو ٹھکرادی گئی ہے اوراب لڑائی نا گزیر ہوگئی ہے اور تمام مجاہدین کو یہ بھی بتا دیا جائے کہ رومیوں نے ہمیں اپنے لشکر اور اپنی جنگی طاقت سے ڈرایا ہے۔مؤرخ کے مطابق خالدؓاور ماہان کی بات چیت کی ناکامی کے بعد جب دونوں طرف کی فوجوں کو بتایا کہ جنگ ہو کے رہے گی اور کل صبح سے فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجائیں گی، اس وقت سے دونوں فوجوں پر ہیجانی کیفیت طاری ہو گئی، رومی محاذ پر پادریوں نے لشکر کو صلیبیں دکھاکر مذہب کے نام پر گرمایا اور انہیں صلیب اور یسوع مسیح کے نام پر مر مٹنے کی تلقین کی۔پادریوں کے الفاظ اور ان کا انداز اتنا جوشیلا تھا کہ سپاہیوں نے صلیب کی طرف ہاتھ کرکے حلف اٹھائے کہ وہ فتح حاصل کریں گے ورنہ مر جائیں گے۔مسلمانوں نے عبادت اور دعا کیلئے رات کا وقت مقرر کیا۔ انہیں گرمانے اور جوش دلانے کیلئے وعظ کی ضرورت نہیں تھی۔ جس مقصد کیلئے وہ گھروں سے نکلے تھے اس مقصد کی عظمت سے وہ آگاہ تھے۔ انہوں نے اپنی جانیں اﷲ کے سپرد کردی تھیں۔اسی روز دونوں فوجوں نے صف بندی اور دستوں کو موزوں جگہوں پر پہنچانے کا کام شروع کر دیا۔ ماہان نے اپنے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کیا اور انہیں آگے لاکر صف آراء کیا۔ اس کے محاذ کی لمبائی بارہ میل تھی اور گہرائی اتنی زیادہ کہ صفوں کے پیچھے صفیں تھیں جو دور پیچھے تک چلی گئی تھیں۔رومی افواج کو اس ترتیب سے کھڑا کیا گیا تھا کہ ایک پہلو پر سالار گریگری کے دستے تھے اور دوسرے پہلو پر سالار قناطیر کے دستے، قلب میں سالارِ اعلیٰ ماہان کی آرمینی فوج اور سالار دیرجان کے دستے تھے۔گھوڑ سوار دستوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیاتھا اور انہیں ایسی جگہوں پر کھڑا کیا گیاجہاں ان کے سامنے مسلمانوں کے پیادہ دستے تھے۔ رومیوں کے پاس سوار دستے اتنے زیادہ تھے کہ انہوں نے سواروں کے پیچھے بھی سوار کھڑے کر دیئے۔ سالار جبلہ بن الایہم کے سوار دستے اور شتر سواروں کو بارہ میل لمبے محاذ کے آگے کھڑا کیا گیا۔ماہان نے ایک بندوبست اور کیا، گریگری کے دستے ایک پہلو پر تھے۔ ان میں تیس ہزار پیادے تھے ان تمام پیادوں کو زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔ ایک زنجیر میں دس دس آدمی باندھے گئے،زنجیریں اتنی لمبی تھیں کہ ان سے بندھے ہوئے سپاہی آسانی سے لڑ سکتے تھے۔ زنجیروں کا ایک مقصد یہ تھا کہ سپاہی بھاگ نہیں سکیں گے اور دوسرا مقصد یہ کہ مسلمان حملہ کریں گے تو ان زنجیروں سے الجھ جائیں گے گریں گے اور صفیں توڑ کر آگے نہیں نکل سکیں گے۔
خالدؓ رومیوں کی صف بندی دیکھ رہے تھے۔ سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ تھے، ان میں ایک قابل سالار کی ساری خصوصیات موجود تھیں لیکن میدانِ جنگ میں بڑی احتیاط سے قدم اٹھاتے تھے اور خطرہ مول لینے سے کچھ گریز کرتے تھے۔ جنگِ یرموک میں انہوں نے سپہ سالاری کے فرائض خالدؓ کے حوالے کر دیئے تھے۔ یہ جنگ ایسی تھی جس میں خطرے مول لینے ہی تھے ۔دشمن کی اتنی زیادہ طاقت کے مقابلے میں روائتی طریقوں سے جنگ نہیں لڑی جا سکتی تھی ۔ سپہ سالار ابو عبیدہؓ ہی تھے انہوں نے یہ صورتِ حال خالدؓ کے سپرد کر دی تھی۔خالدؓنے ابو عبیدہؓ سے کہا کہ وہ تمام سالاروں اور کمانداروں کو اکٹھا کریں۔ خالدؓ انہیں صف آرائی اور جنگ کے متعلق کچھ بتانا چاہتے تھے۔چونکہ وہ سپہ سالار نہیں تھے اس لیے سالاروں پر ان کا حکم نہیں چل سکتاتھا۔ ابو عبیدہؓ نے سب کو بلا لیا۔خالدؓ نے انہیں بتایا کہ دشمن کی تعداد کو وہ دیکھ رہے ہیں اور اپنی تعداد بھی ان کے سامنے ہے اس لئے یہ زندگی اور موت کی جنگ ہو گی۔ اس کے بعدخالدؓ نے مجاہدین کو اس طرح تقسیم کیا چالیس ہزار تعداد میں کل دس ہزار گھوڑ سوار تھے، تیس ہزار پیادوں کو چھتیس حصوں میں تقسیم کیا، ہر حصے میں آٹھ سو سے نو سو پیادے آئے۔گھوڑ سواروں کو انہوں نے دو دو سو کے تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک کی کمان قیس بن ہبیرہ کو دی۔ دوسرے کی مسرہ بن مسروق کو اور تیسرے کی کمان عامر بن طفیل کو دی۔مسلمانوں کے محاذ کی لمبائی گیارہ میل تھی۔ یعنی دشمن سے ایک میل کم۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی صف آرائی کی گہرائی تھی ہی نہیں۔ ایک پہلو پر یزیدؓ بن ابی سفیان کے اوردوسرے پہلو پر عمروؓبن العاص کے دستے تھے، انہیں دو دو سو کا ایک سوار دستہ بھی دیا گیا تھا۔ابو عبیدہؓ قلب میں تھے۔ انہوں نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کے دستوں کو اپنے ساتھ دائیں طرف رکھا۔ان کے ساتھ ساتھ سالار عکرمہؓ بن ابی جہل اور عبدالرحمٰن بن خالد بھی تھے۔ چار ہزار گھوڑ سواروں کو خالدؓنے اپنی کمان میں اگلی صفوں کے پیچھے رکھا تھا۔انہیں ہر اس جگہ پہنچنا تھا جہاں دشمن کا دباؤ زیادہ ہونا تھا اور ان سواروں نے گھوم پھر کر لڑناتھا۔اگلی صف کے پیادوں کو لمبی برچھیاں دی گئی تھیں۔جو نیزے کہلاتی تھیں۔ان کی انّیاں تین دھاری اور چار دھاری تھیں اور بہت تیز۔ ان پیادوں میں تیر انداز خاص طور پر رکھے گئے تھے۔رومیوں کے حملے کو نیزوں اور تیروں کی بوچھاڑوں سے روکنا تھا۔اس کے بعد تیغ زنوں نے اپنے جوہر دکھانے تھے۔اس دور کے رواج کے مطابق بہت سے مجاہدین کے بیوی بچے اور بعض کی بہنیں ان کے ساتھ تھیں ۔ان عورتوں اور بچوں کو فوج کے پیچھے رکھا گیا۔ابو عبیدہؓ وہاں گئے۔’’قوم کی بیٹیو!‘‘ ابو عبیدہؓ نے عورتوں سے کہا۔’’ہم تمہاری حفاظت کریں گے لیکن تمہیں ایک کام کرنا ہے۔اپنے پاس پتھر جمع کر لو اور اپنے خیموں کے ڈنڈے اپنے ہاتھوں میں رکھو۔اگر کوئی مسلمان بھاگ کر پیچھے آئے تو اسے پتھر مارو۔ ڈنڈے اس کے منہ پر مارو۔ بھاگنے والوں کی بیویوں اور بچوں کو ان کے سامنے کھڑا کر دو۔‘‘عورتوں نے اسی وقت خیموں سے ڈنڈے نکال لیے اور پتھر اکٹھے کرنے لگیں.
صف بندی ہو چکی تو ابو عبیدہؓ ، خالدؓ اور دوسرے سالار ایک سرے سے دوسرے سرے تک گئے۔وہ مجاہدین کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔وہ ہنستے اور مسکراتے تھے اور کہیں رک جاتے تو خالدؓ چندالفاظ کہہ کر ان کے جذبوں کو سہارا دیتے تھے۔ ان کے الفاظ کچھ اس قسم کے تھے کہ اﷲ کی طرف سے بڑے سخت امتحان کا وقت آگیا ہے۔ اﷲ کی مدد اسی کو حاصل ہوتی ہے جو ا س کی راہ پر ثابت قدم رہتا ہے، دنیا میں اور آخرت میں عزت اور تکریم انہیں ملتی ہے جن کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہوتی ہے، اور وہ کفر کی تیز دھار تلوار کا مقابلہ بے خوف ہو کرکرتے ہیں۔مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ یہ سالار ایک دستے کے سامنے سے گزرے تو ایک مجاہد نے کہا ۔’’رومی اتنے زیادہ اور ہم کتنے تھوڑے ہیں۔‘‘خالدؓ نے گھوڑا روک لیا۔’’میرے رفیق!‘‘ خالدؓ نے بڑی بلند آواز میں کہا۔’’کہو رومی کتنے تھوڑے اور ہم کتنے زیادہ ہیں۔طاقت تعداد کی نہیں ہوتی، طاقت اﷲ کی مدد سے بنتی ہے، تعداد رومیوں کے پاس ہے اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔ اﷲجس کا ساتھ چھوڑ دے وہ بہت کمزور ہو جاتا ہے۔‘‘زیادہ تر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سالار اور کماندار جب اپنی فوج میں گھوم پھر رہے تھے تو یہ آیت بلند آواز پڑھتے جاتے تھے:’’کتنی ہی بار چھوٹی چھوٹی جماعتیں اﷲ کے چاہنے سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اﷲ صبر و استقامت والوں کا ساتھ دیتا ہے۔‘‘قرآن حکیم ۲/۲۴۹
وہ اگست ۶۳۶ء کے تیسرے ، رجب ۱۵ ھ کے دوسرے ہفتے کی ایک رات تھی۔مجاہدین تمام رات عبادتِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن میں مصروف رہے۔اﷲ کے سوا کون تھا جو ان کی مدد کو پہنچتا۔ اکثر مجاہدین سورہ انفال کی تلاوت کرتے رہے۔رومی محاذ بھی شب بھر بیدار رہا۔ وہاں پادریوں نے سپاہیوں کو عبادت اور دعا میں مصروف رکھا۔ دونوں طرف مشعلیں بھی جلتی رہیں اور جگہ جگہ لکڑیوں کے ڈھیر جلتے رہے تاکہ رات کو دشمن حملہ کرنے آئے تو آتانظرآجائے۔ دونوں فوجوں پر ہیجان اور کھچاؤکی کیفیت طاری تھی۔مسلمانوں کے محاذ سے صبح کی اذان کی آواز اٹھی۔ مجاہدین نے وضو اور زیادہ تر نے تیمم کرکے باجماعت نماز پڑھی اور اپنی جگہوں پر چلے گئے۔جنگ شروع ہونے والی تھی جس کا شمار تاریخ کی بہت بڑی جنگوں میں ہوتا ہے۔سورج افق سے اٹھا تو اس نے زمین پر بڑا ہی ہیبت ناک منظر دیکھا ۔چالیس ہزار کی فوج ڈیڑھ لاکھ نفری کی فوج کے مقابلے میں کھڑی تھی۔ شان تو ہرقل کے لشکر کی تھی اس کے جھنڈے لہرا رہے تھے اور بہت سی صلیبین اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔ اس میں ذرا سے بھی شک کی گنجائش نہیں تھی کہ یہ لشکر اپنے سامنے کھڑی اس چھوٹی سی فوج کو نیست و نابود کر دے گا۔جرجہ رومی فوج کا ایک سالار تھا جو انفرادی مقابلوں میں بہت شہرت رکھتا تھا، اپنے سالارِ اعلیٰ ماہان کے حکم سے وہ آگے بڑھا۔’’کیا خالد بن ولید میں اتنی ہمت ہے کہ میری تلوار کے سامنے آسکے؟‘‘ جرجہ نے للکار کر کہا۔’’میں ہوں رومیوں کا قاتل!‘‘ خالدؓ للکارتے ہوئے آگے بڑھے۔’’ میں ہوں خالد بن ولید!‘‘ خالدؓ دونوں فوجوں کے درمیان جا کر رُک گئے، انہوں نے تلوار نکال لی تھی لیکن جرجہ نے تلوار نہ نکالی۔ وہ گھوڑے پر سوار آ رہا تھا۔ خالدؓ اپنے گھوڑے کو اس کے گھوڑے کے اتنا قریب لے گئے کہ دونوں گھوڑوں کی گردنیں مل گئیں ۔جرجہ نے پھر بھی تلوار نہ نکالی۔
’’ابنِ ولید!‘‘ جرجہ نے کہا۔’’جھوٹ نہ بولنا کہ جنگجو جھوٹ نہیں بولا کرتے۔ دھوکہ بھی نہ دینا کہ اعلیٰ نسل کے لوگ دھوکہ نہیں دیا کرتے۔‘‘’’پوچھ اے دشمنِ اسلام!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’جنگجو جھوٹ نہیں بولے گا دھوکہ نہیں دے گا۔ پوچھ کیا پوچھتا ہے؟‘‘’’کیا میں اسے سچ سمجھوں کہ تیرے رسول)ﷺ( کو خدا نے آسمان سے تلوار بھیجی تھی؟‘‘ جرجہ نے پوچھا۔’’ اور یہ تلوار تیرے رسول)ﷺ( نے تجھے دی تھی؟اور جب تیرے ہاتھ میں یہ تلوار ہوتی ہے تو دشمن شکست کھاکر بھاگ جاتا ہے؟‘‘’’یہ سچ نہیں! ‘‘خالدؓنے کہا۔’’پھر تو سیف اﷲ کیوں کہلاتا ہے؟‘‘ جرجہ نے پوچھا۔’’ پھر تو اﷲ کی شمشیر کیوں بنا؟‘‘’’سچ یہ ہے کہ اے دشمنِ اسلام!‘‘ خالدؓنے کہا۔’’رسول اﷲ ﷺ نے میری تیغ زنی کے جوہر دیکھے تھے تو آپ)ﷺ( نے بے ساختہ کہا تو اﷲ کی تلوار ہے۔ آپﷺ نے مجھے اپنی تلوار انعام کے طور پر دی تھی۔ اب نکال اپنی تلوار اور تو بھی اس کا ذائقہ چکھ لے۔‘‘’’اگر میں تلوار نہ نکالوں تو؟‘‘’’پھر کہو، لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ۔ ‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ تسلیم کر کہ محمد)ﷺ( اﷲ کے رسول ہیں۔‘‘’’میں ایساکہنے سے انکار کر دوں تو تو کیا کرے گا؟‘‘’’پھر تجھ سے جزیہ مانگوں گا۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’اور تجھے اپنی حفاظت میں رکھوں گا۔‘‘’’اگر میں جزیہ دینے سے انکار کر دوں؟‘‘’’پھر نکال اپنی تلوار!‘‘خالدؓنےکہا۔’’اور پہلا وار کر لے کہ تجھے کوئی افسوس نہ رہے کہ وار کرنے کا تجھے موقع نہیں ملا تھا۔‘‘جرجہ کچھ دیر خاموش رہا اور خالدؓ کے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔’’اگر کوئی آج اسلام قبول کرے تو اس کو کیا درجہ دو گے؟‘‘ جرجہ نے پوچھا۔’’وہی درجہ جو ہر مسلمان کا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اسلام میں کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں۔‘‘’’میں تیرے مذہب میں آنا چاہتا ہوں۔‘‘جرجہ نے کہا۔’’میں اسلام قبول کرتا ہوں۔‘‘خالدؓ کے چہرے پر حیرت کا بڑا گہرا تاثر آگیا۔’’کیا تو اپنے ہوش و حواس میں ہے اے رومی سالار!‘‘ خالدؓ نے پوچھا۔’’ہاں ابنِ ولید!‘‘ جرجہ نے جواب دیا۔’’مجھے اپنے ساتھ لے چل۔‘‘خالدؓ نے اپنا گھوڑا موڑا۔ جرجہ نے اپنا گھوڑا خالدؓکے پہلو میں کر لیا اور وہ مسلمانوں کے محاذ میں آگیا۔ خالدؓ نے اسے کلمہ پڑھایا اوروہ مسلمانوں کے محاذ میں شامل ہو گیا۔مسلمانوں نے تکبیر کے نعرے بلند کیے اور رومی لشکر نے بڑی بلند آواز سے جرجہ پر لعن طعن کی لیکن جرجہ کو کچھ اثر نہ ہوا۔بڑی ہی خونریز جنگ شروع ہونے والی تھی اور جرجہ اپنے ہی لشکر کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔اگست ۶۳۶ء مسلمانوں کے بڑے ہی سخت امتحان کا مہینہ تھا۔ رومیوں کا ایک سالار اسلام قبول کرکے مسلمانوں کے پاس آگیا تھا۔ مسلمانوں نے خوشی کے نعرے تو بہت لگائے تھے لیکن انہیں احساس تھا کہ دشمن کے ایک سالار کے اِدھر آجانے سے رومیوں کے اتنے بڑے لشکر میں ذرا سی بھی کمزوری پیدا نہیں ہوگی اور دشمن کے لڑنے کے جذبے میں بھی کوئی فرق نہیں آئے گا۔مسلمانوں کو اتنے بڑے اور ایسے منظم لشکر کا سامنا پہلی بار ہوا تھا۔ اسلام کیلئے یہ بڑا ہی خطرناک چیلنج تھا جو اسلام کے شیدائیوں نے قبول کر لیا تھا۔ مسلمان ایک خودکش جنگ کیلئے تیار ہو گئے تھے اور یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمان عورتیں بھی مردوں کے دوش بدوش لڑنے کیلئے تیار ہو گئی تھیں۔ انہیں ابو عبیدہؓ نے تو یہ کہا تھا کہ خیموں کے ڈنڈے نکال لیں اور پتھر اکٹھے کر لیں اور جومسلمان بھاگ کر پیچھے آئے اس پر پتھر برسائیں اور اس کے منہ پر ڈنڈے ماریں لیکن عورتوں نے اپنے آپ کو جنگ میں کود پڑنے کیلئے بھی تیار کر لیا تھا، دونوں فوجوں کی نفری ان کے سامنے تھی۔
وہاں تو ہر مسلمان عورت میں اپنے مردوں جیسا جذبہ تھا لیکن ان میں چند ایک عورتیں غیر معمولی جذبے والی تھیں۔ ان میں ایک خاتون ہند اور دوسری خولہ بنت الازور خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ہُند کا پہلے ذکر آچکا ہے وہ ابو سفیانؓ کی بیوی تھی۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے جنگِ احد میں انہوں نے اپنے قبیلے کا حوصلہ بڑھانے کیلئے میدانِ جنگ میں گیت گائے تھے۔ یہ گیت رزمیہ نہیں تھے اور باقاعدہ جنگی ترانے بھی نہیں تھے، ان گیتوں میں اپنے آدمیوں کی مردانگی کو ابھارا گیا تھا اور کچھ اس قسم کے الفاظ تھے کہ ’’تم ہار گئے تو تمہاری بیویاں تمہیں اپنے جسموں کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیں گی‘‘ ہند کا چچا اس لڑائی میں حمزہؓ کے ہاتھوں مارا گیا تو ہند نے مشہور برچھی باز وحشی کو حمزہؓ کے قتل کے لیے کہا اور اسے انعام پیش کیا تھا۔وحشی کی پھینکی ہوئی برچھی کبھی خطا نہیں گئی تھی۔ اس نے میدانِ جنگ میں حمزہؓ کو ڈھونڈ نکالا اور تاک کر برچھی ماری۔ برچھی حمزہؓ کے پیٹ میں اتر گئی اور وہ شہید ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد ابو سفیانؓ نے اور ہند نے اسلام قبول کر لیا اور اب اس عورت کا وہی جوش و خروش اور جذبہ اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑی جانے والی جنگوں میں کام آرہا تھا، ان کا بیٹا یزیدؓ بن ابو سفیان اسلامی لشکر میں سالار تھا۔دوسری نامور خاتون خولہ بنت الازور تھیں، جو ضرار بن الازور کی بہن تھیں۔ ضرار کا بہت ذکر آچکا ہے۔ وہ خود، ذرہ اور قمیض اتار کر لڑا کرتے تھے۔ اس غیر معمولی دلیری کی وجہ سے ضرار رومیوں میں ننگا ہو کر قہر اور غضب سے لڑنے والے کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ دو سال پہلے ضرار ایک معرکے میں رومیوں کی صفوں میں اتنی دور چلے گئے کہ بہت سے رومیوں نے انہیں گھیر لیا اور زندہ پکڑ لیا تھا ۔ضرار رومیوں کیلئے بہت اہم شکار تھے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رومی انہیں زندہ چھوڑ دیں گے۔اور یہ بھی کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ ضرار کی بہن خولہ انہیں چھڑا لے آئیں گی۔ پہلے تفصیل سے بیان ہو چکا ہے کہ خولہ ایک معرکے میں چہرے پر نقاب اور سر پر سبز عمامہ رکھ کر رومیوں کی صفوں پر ٹوٹ پڑی تھیں۔وہ خالدؓ کے قریب سے گزر کر آگے گئی تھیں۔خالدؓ انہیں اپنا کوئی مجاہد سمجھ رہے تھے،انہوں نے آخر انہیں اپنے پاس بلایا تو انہیں پتہ چلا کہ یہ کوئی آدمی نہیں بلکہ ایک عورت ہے اورضرار بن الازور کی بہن ہے۔یہ اطلاع مل گئی کہ رومی ضرار کو پابجولاں کرکے فلاں طرف لے جا رہے ہیں، رومیوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔رافع بن عمیرہ کو ایک سو سوار دے کر خالدؓ نے ضرار کو چھڑا لانے کو بھیجاتو خولہ بھی پیچھے پیچھے چلی گئیں۔خالدؓ کو ان کے جانے کا علم نہیں تھا۔جب وہ رافع بن عمیرہ کے سواروں سے جا ملیں تو رافع نے بھی انہیں روکا تھا لیکن خولہ رکی نہیں۔انہوں نے اپنے بھائی کو آزاد کرانے کیلئے رومیوں پر حملے پر حملہ کیا تو مردوں کو حیران کر دیا تھا۔اس طرح جان کی بازی لگا کر ضرار کر رومیوں سے چھڑا لیا تھا اورا پنے ساتھ لے آئی تھیں،ان کے وہ الفاظ جو انہوں نے ضرار کو گلے لگا کر کہے تھے، تاریخ میں محفوظ ہیں۔ ’’میرے عزیز بھائی! میرے دل کی تپش دیکھ، کس طرح تیرے فراق میں جل رہا ہے۔‘‘اب جبکہ رومی بلند و بالا پہاڑ کی طرح سامنے کھڑے تھے تو ہند اور خولہ اور دوسری مسلمان عورتیں صرف بیویوں اور بیٹیوں کی حیثیت سے بیٹھی نہیں رہ سکتی تھیں،نہ وہ اپنے فرض کو صرف دعاؤں تک محدود رکھ سکتی تھیں،ہند اور خولہ عورتوں کے کیمپ میں مردانہ چال چلتی گھوم پھر رہی تھیں۔وہ عورتوں کو لڑائی کیلئے تیار کر رہی تھیں۔انہوں نے یہاں تک فیصلہ کر لیا تھا کہ بچوں والی عورتوں کو پیچھے پھینک کر آگے چلی جائیں گی۔
رومی سالار جرجہ نے خالدؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، اور اس کے ساتھ ہی انفرادی مقابلے پھر شروع ہو گئے۔ رومی اپنے سالار جرجہ کی کمی کی خفت یوں مٹانے لگے کہ وہ اپنے چنے ہوئے سالاروں کو انفرادی مقابلوں کیلئے اتارتے جا رہے تھے عموماً تین چار مقابلے ہوا کرتے تھے لیکن مقابلوں کو ختم ہی نہیں ہونے دے رہے تھے۔ ادھر سے کوئی سالار نائب سالار یا کوئی کماندار سامنے آکر رومیوں کو للکارتا تو رومی اپنے کسی نامی گرامی تیغ زن یا پہلوان کو آگے کر دیتے تھے۔ تقریباً ہر مقابلے میں رومی مارا گیا یا بھاگ گیا۔خلیفہ اول ابوبکرؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن مقابلے کیلئے سامنے آئے۔ ’’میں ہوں رسول اﷲ)ﷺ( کے پہلے خلیفہ ابی بکر کا بیٹا!‘‘ عبدالرحمٰن نے دونوں فوجوں کے درمیان گھوڑا ایک چکر میں دوڑاتے ہوئے للکار کر کہا۔ ’’رومیوں! میری حیثیت کا کوئی سالار آگے بھیجو۔‘‘تاریخ میں اس رومی سالار کا نام نہیں ملتا جو ان کے مقابلے میں آیا وہ جو کوئی بھی تھا بڑی جلدی کٹ کر گرا۔’’کیا اتنے بڑے لشکر میں میرے پائے کاکوئی سالار نہیں؟‘‘ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے رومیوں کو للکارا۔رومیوں کی صفوں سے کالے رنگ کا ایک گھوڑا نکلا جس کا قد اونچا نہیں تھا۔ سر سے دُم تک لمبائی عام گھوڑوں سے زیادہ تھی۔ اس کا چمکتا ہوا جسم گٹھا ہوا اور غیر معمولی طور پر موٹا تازہ تھا۔ گھوڑا دوڑتا تو زمین ہلتی محسوس ہوتی تھی۔ وہ اپنے سوار کے قابو میں تھا لیکن اس کا چال اور مستی ایسی تھی جیسے اپنے سوارکے قابو میں نہ ہو۔ اس کا سوار گورے رنگ کا تھا اور اپنے گھوڑے کی طرح فربہ جسم کا تھا وہ پہلوان لگتا تھا۔ ’’اے بد قسمت جوان!‘‘ رومی سالار نے للکار کر کہا۔ ’’کیا تو روم کے بیٹے ایلمور کی برچھی کے سامنے کچھ دیر اپنے گھوڑے پر بیٹھا نظر آتا رہے گا؟‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ عبدالرحمٰن نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر کہا ۔’’روم والے ابھی وہ برچھی نہیں بنا سکے جو ابنِ ابی بکر کو گھوڑے سے گرا سکے۔‘‘ ایلمور کی برچھی کالے گھوڑے کی رفتار سے عبدالرحمٰن کی طرف آرہی تھی۔ عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ گھوڑے ایک دوسرے کے قریب آئے تو ایلمور نے رکابوں میں کھڑے ہو کر عبدالرحمٰن کو برچھی ماری لیکن عبدالرحمٰن نے اپنے گھوڑے کو ذرا ایک طرف کر دیا اور خود پہلو کی طرف اتنا جھک گئے کہ رومی سالار کی برچھی کا وار خالی گیا۔ عبدالرحمٰن نے وہیں سے گھوڑا موڑا اور بڑی تیزی سے ایلمور کے پیچھے گئے۔ ایلمور ابھی گھوڑے کو موڑ رہا تھا عبدالرحمٰن کی تلوار اس کی اس کلائی پر پڑی جس ہاتھ میں اس نے برچھی پکڑ رکھی تھی۔ ہاتھ صاف کٹ کر بازو سے الگ ہو گیا۔ برچھی اس ہاتھ سمیت جس نے اسے پکڑ رکھا تھا زمین پر جا پڑی یہ زخم معمولی نہیں تھا۔ ایلمور بلبلا اٹھا۔ عبدالرحمٰن کا گھوڑا اس کے اردگرد دوڑ رہا تھا۔ ایلمور نے کٹے ہوئے ہاتھ والا بازو اوپر اٹھایا وہ اس ٹنڈ منڈ بازو سے ابل ابل کر بہتے ہوئے خون کو دیکھ رہا تھا کہ عبدالرحمٰن کی تلوار اس کی بغل میں گہری اتر گئی۔ ایلمور نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور رُخ اپنے لشکر کی طرف کر لیا، وہ اپنے لشکر تک نہ پہنچ سکا۔ راستے میں ہی گر پڑا۔ اس کا کالا گھوڑا اپنے لشکر تک پہنچ گیا۔ عبدالرحمٰن نے ایک بار پھر رومیوں کو للکارا لیکن خالدؓ نے انہیں پیچھے بلا لیا۔ ضروری نہیں تھا کہ عبدالرحمٰن ہر مقابلہ جیت جاتے۔ یکے بعد دیگرے چھ سات مسلمان سالار انفرادی مقابلوں کیلئے گئے اور ان کے مقابلے میں اترنے والے رومی مارے گئے۔ یا شدید زخمی ہوکر بھاگ گئے۔ عبدالرحمٰن ایک بار پھر بغیر کسی کی اجازت کے آگے چلے گئے اور رومیوں کو للکارا۔
ایک رومی سالار ان کے مقابلے میں آیا اور واپس نہ جا سکا۔ یہ تیسرا رومی سالار تھا جو عبدالرحمٰن کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس طرح عبدالرحمٰن نے تین رومی سالاروں کو مار ڈالا۔ خالدؓ نے انہیں سختی سے کہا کہ اب وہ آگے نہ جائیں۔ ’’اب کوئی آگے نہیں جائے گا۔‘‘ رومی سالارِ اعلیٰ ماہان نے حکم دیا اور اپنے ساتھ کے سالاروں سے کہا ۔’’اگر یہ مقابلے جاری رہے تو ہمارے پاس کام کا کوئی ایک بھی سالارنہیں رہ جائے گا۔کیا ہمیں اعتراف نہیں کر لینا چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا سالار یا کوئی اور آدمی نہیں جو دو بدو مقابلے میں مسلمانوں کو شکست دے سکے۔ اگر ہم اپنے سالاروں کو اسی طرح مرواتے گئے تو اپنے لشکر پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔‘‘ ’’بہت برا اثر پڑ رہا ہے ۔‘‘ ایک تجربہ کار سالار نے کہا۔’’ میدان میں دیکھیں صرف ہمارے سالاروں اور کمانداروں کی لاشیں پڑی ہیں اور مسلمان ہمیں طعنے دے رہے ہیں۔ ہم اتنا لشکر کیوں لائے ہیں، ان چند ہزار مسلمانوں کو ہم اپنے گھوڑوں کے قدموں تلے کچل دیں گے۔ ان کی لاشیں پہچانی نہیں جائیں گی۔‘‘’’ہمیں پورے لشکر سے ایک ہی بار حملہ کر دینا چاہیے۔‘‘ قلب کے ایک سالارنے کہا۔ ’’نہیں!‘‘ماہان نے کہا۔’’مسلمانوں سے اتنی بار شکست کھا کر بھی تم مسلمانوں کو نہیں سمجھے؟ مسلمانوں کی نفری جتنی کم ہوتی ہے یہ اتنے ہی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔میں پہلا حملہ ذرا کم نفری سے کروں گا اور دیکھوں گا کہ یہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔‘‘ آدھا دن گزر گیا تھا۔ سورج سر پر آگیا تھا۔ اگست کی گرمی اور حبس کا عروج شروع ہو چکا تھا۔ ماہان نے اتنی ہی نفری حملے کیلئے آگے بڑھائی جتنی مسلمانوں کی تھی۔ یہ اس کے اپنے لشکر کی نفری کا چوتھا حصہ تھا۔ یعنی تقریباً چالیس ہزار۔ یہ تمام نفری پیادوں کی تھی جب یہ نفری رومیوں کی دفوں کی تال پر آگے بڑھی تو لگتا تھا جیسے طوفانی سمندر کی موجیں پہلو بہ پہلو بپھری ہوئی غراتی ہوئی اپنے ساتھ ہی سب کچھ بہالے جانے کو آرہی ہیں۔ ’’اسلام کے پاسبانو!‘‘ کسی مجاہد کی گرجدار آواز بلند ہوئی۔’’ آج کا دن تمہارے امتحان کا دن ہے۔ اﷲ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘مسلمانوں کی صفوں سے تکبیر کے نعرے گرجے۔ اگلی صف میں جو لمبی برچھیوں والے تھے اور جو تیر انداز تھے وہ تیار ہو گئے۔ ایک ایک تیر کمانوں میں چلا گیا برچھیاں تن گئیں۔ ہر مجاہد کی زبان پر ا ﷲ کا نام تھا۔ بعض کسی نہ کسی آیت کا ورد کر رہے تھے۔رومی پیادوں کا سیلاب قریب آگیا تھا۔ اسلام کے نیزہ بازوں نے بڑھ بڑھ کر برچھیوں کے وار شروع کر دیئے، آگے والے رومی گرتے تھے تو پیچھے والے انہیں روندتے ہوئے آگے بڑھتے۔ نیزہ بازوں کاکام کچھ تو تیر اندازوں نے آسان کر دیاتھا۔ رومی ابھی برچھیوں کی زد سے دور ہی تھے کہ ان پر تیر اندازوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا تھا۔ رومیوں نے تیروں کو ڈھالوں پر لینے کی کوشش کی تھی۔ پھر بھی کئی رومی تیروں کا شکار ہو گئے ۔ اس سے رومیوں کی پیش قدمی کی رفتار سست ہو گئے ۔آگے آئے تو مسلمانوں کی برچھیوں نے انہیں چھلنی کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ان رومیوں کا حملہ مسلمانوں کے سارے محاذ پر نہیں بلکہ گیارہ میل لمبے محاذ کے تھوڑے سے حصے پر تھا۔
اتنے تھوڑے حصے پر اتنی زیادہ نفری کا حملہ روکنا آسان نہیں تھا۔ رومی پیادے بڑھے آرہے تھے۔ حالانکہ ان کا نقصان خاصہ زیادہ ہو رہا تھا۔ مسلمان تیر اندازوں اور نیزہ بازوں نے جب دیکھا کہ رومی سر پر آگئے ہیں تو انہوں نے تلواریں نکال لیں اور معرکے کی خونریزی میں اضافہ ہو گیا۔ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ نے اپنے دماغ حاضر اور حوصلے قائم رکھے۔صورتِ حال ایسی ہو گئی تھی کہ محاذ کے جس حصے پر اتنا زور دار حملہ ہوا تھا۔ اسے کمک سے مذید مضبوط کیا جاتا لیکن خالدؓ اس سے بھی زیادہ خطرے مول لینے والے سالار تھے۔ انہوں نے محاذ کے کسی اور حصے کو کمزور کرنا مناسب نہ سمجھا۔ مجاہدین کو معلوم تھا کہ وہ کتنے کچھ ہیں اور ان کے پاس کیا ہے۔ انہی حالات میں لڑنا تھا وہ دیکھ رہے تھے کہ جنگ فیصلہ کن ہوگی چنانچہ انہوں نے کمک اور مدد کی امید دل سے نکال پھینکی تھی۔ مدد کیلئے وہ صرف اﷲ کو پکارتے تھے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ رومی سالار احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ رومی سالارِ اعلیٰ ماہان دیکھ رہا تھا کہ اس کے حملہ آور پیادے کٹ رہے ہیں اور وہ مقصد پورا کرتا نظر نہیں آرہا تھا جس مقصد کیلئے اس نے حملہ کرایا تھا۔ پھر بھی اس نے اپنے حملہ آور پیادوں کو پیادہ یا سوار دستے کی کمک نہ دی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ماہان کو یہ توقع تھی کہ مسلمان اس حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے پورے محاذ کو درہم برہم کر دیں گے۔ لیکن اس کی یہ توقع پوری نہیں ہو رہی تھی۔ کمک نہ ملنے کا اور اپنے اتنے زیادہ نقصان کااثر رومی حملہ آور پیادوں پر بہت برا ہوا۔ قریب تھا کہ وہ خود ہی پیچھے ہٹ جاتے کہ ان کے سالار نے انہیں پیچھے ہٹا لیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سورج غروب ہو رہا تھا۔وہ منظر جذباتی سا تھا جب مجاہدین جو اپنی جگہ سے آگے چلے گئے تھے، واپس آئے۔ ان کی عورتیں ان کی طرف دوڑ پڑیں۔ وہ اپنے خاوندوں کو پکار رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کو گلے لگایا اور جو زخمی تھے ان کی باقاعدہ مرہم پٹی کرنے سے پہلے اپنی اوڑھنیاں پھاڑ پھاڑکر ان کے زخم صاف کیے اور ان پر اوڑھنیوں کی پٹیاں باندھ دیں۔عورتیں پانی کے مشکیزے اٹھائے میدانِ جنگ میں پھیل گئیں۔ وہ ان زخمیوں کو ڈھونڈتی پھرتی تھیں جو اپنے سہارے اٹھ کر چلنے کے قابل نہیں تھے، عورتوں کے انداز میں والہانہ پن اور دیوانگی سی تھی۔ وہ شدید زخمی ہو جانے والوں کو پانی پلاتیں ان کے زخموں پر کپڑے پھاڑ کرپٹیاں باندھتیں اور انہیں اٹھا کر اپنے سہارے پیچھے لا رہی تھیں۔شام گہری ہو گئی تو میدانِ جنگ میں مشعلیں نظر آنے لگیں۔ عورتوں کے ساتھ مجاہدین بھی اپنے شدید زخمی اور شہید ساتھیوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ان کے حوصلے بلند تھے۔ انہوں نے بڑا ہی شدید حملہ بیکار کر دیا تھا۔ میدانِ جنگ میں رومیوں کی لاشیں دیکھ کر ان کے حوصلے اور جذبے کو مزید تقویت ملی۔ مسلمانوں کے مقابلے میں رومیوں کا نقصان بہت زیادہ تھا۔بہت سے رومی ایک گروہ یا جیش کی صورت میں مشعلیں اٹھائے آگے آئے۔ وہ اپنے زخمیوں کو اور اپنے اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو اٹھانے آئے تھے۔ وہ ایسی ترتیب اور ایسے انداز سے چلے آ رہے تھے جیسے حملہ کرنے آرہے ہوں۔ مسلمان جو اپنے زخمی ساتھیوں کو اٹھا رہے تھے ، تلواریں نکال کر ان پر ٹوٹ پڑے، اچھا خاصا معرکہ ہوا۔’’ہم اپنے زخمیوں کو اٹھانے آئے ہیں۔‘‘ رومیوں کی طرف سے آواز بلند ہوئی۔’’تم زخمی ہو کر ہی اپنے زخمیوں کو اٹھا سکو گے۔‘‘مجاہدین کی طرف سے جواب گرجا۔
دو تین جگہوں پر اسی طرح کی جھڑپیں ہوئیں اور رات گزرتی رہی۔ اس وقت رومیسالارِ اعلیٰ ماہان نے سالاروں کو اپنے سامنے بٹھا رکھا تھا۔’’اپنے آپ کو دھوکے میں نہ رکھو۔ ‘‘وہ کہہ رہا تھا۔’’ ہم اپنے حملے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘’’میرا خیال ہے کہ ہمارے سپاہیوں نے اپنے اوپر مسلمانوں کا خوف طاری کر رکھا ہے۔‘‘ ایک سالار نے کہا۔ ’’نہیں!‘‘ ماہان نے کہا۔’’ ہماری صفوں میں اتحاد نہیں۔ مسلمان ایک ہیں۔ وہ بھی مختلف قبیلوں کے ہیں لیکن وہ سب اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو اسلام کے رشتے کا پابند کر لیا ہے۔ اس عقیدے نے انہیں ایک جان کر دیا ہے۔ ہم میں یہ اتحاد نہیں ، کئی ایک علاقوں اور کئی ایک قبیلوں کے لوگ ہمارے ساتھ آملے ہیں لیکن ہمارے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہیں جو ہم سب کو متحد کر سکے۔‘‘ ’’ایک رات میں اتحاد پیدا نہیں کیا جاسکتا سالارِ اعلی!‘‘ٰ ایک پرانے سالار نے کہا ۔’’ہمارے درمیان اتحاد نہ ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ ہمیں انہی حالات میں لڑناہے۔‘‘ ’’ہاں!‘‘ ماہان نے کہا۔’’ ہمیں انہی حالات میں لڑنا ہے۔ میں مایوس نہیں۔ ہمیں کوئی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ کل صبح ہم اس وقت مسلمانوں پر حملہ کریں گے۔ جب وہ حملہ روکنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے اور یہ ان کی عبادت کا وقت ہوگا۔‘‘ تقریباً ان تمام مؤرخوں نے جنہوں نے جنگِ یرموک کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ماہان کا اگلی صبح کے حملے کا پلان اس طرح لکھا ہے کہ مسلمانوں کے قلب پرحملہ کیا جائے گا۔ جو دھوکا ہو گا۔ اس کا مقصد یہ ہو گا کہ قلب یعنی مسلمانوں کے درمیانی دستوں کو جن میں مرکزی کمان بھی تھی لڑائی میں الجھا کر یہیں روک کر رکھا جائے گا۔ اس سے فائدہ یہ اٹھایا جائے گا کہ مسلمانوں کا مرکز اپنے دائیں بائیں کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ ماہان کے پلان کے مطابق اصل حملہ مسلمانوں کے پہلوؤں پر کرنا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ پہلوؤں کے دستوں کو بکھیر کر ختم کیا جائے۔ ’’اور اگر مسلمان مقابلے میں جم جائیں تو ان پر ایسا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنے قلب کی طرف اکٹھے ہو جائیں۔ اس صورت میں ان پر پہلوؤں اور عقب سے حملہ کیا جائے۔‘‘ پلان بڑا خطرناک تھا۔رومیوں کی نفری اتنی زیادہ تھی کہ اس کے بل بوتے پر اپنے پلان کو کامیاب کر سکتے تھے۔ ’’جاؤ! اور اپنے دستوں کو صبح کے حملے کیلئے تیار کرو۔‘‘ ماہان نے کہا۔’’ لیکن تیاری ایسی خاموشی سے ہو کہ پتا نہ چلے۔ مسلمانوں نے جاسوس ہمارے اردگرد موجود رہتے ہیں۔‘‘ رات کو ہی ماہان نے اپنا خیمہ اکھڑوایا اور ایک چٹان کی سب سے اونچی چوٹی پر لے جا کر نصب کرایا وہاں سے تمام تر محاذ کو وہ دیکھ سکتا تھا۔ اس نے تیز رفتار گھوڑوں والے قاصد اپنے ساتھ رکھ لیے اور اپنا حفاظتی دستہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ دستے کی نفری دو ہزار تھی۔ دونوں طرف کی فوجوں کے درمیان ڈیڑھ ایک میل کا فاصلہ تھا۔ خالدؓ نے حسبِ معمول دشمن کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے اور اطلاع دینے کیلئے اپنے آدمی آگے بھیج رکھے تھے لیکن دشمن کے محاذ کی صورت ایسی تھی کہ قریب جا کر کچھ دیکھنا ممکن نہ تھا۔ اپنے آدمی بلندیوں سے دیکھتے رہتے تھے۔ مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آگے گیا ہوا ایک آدمی دوڑتا آیا اور خالدؓ کو بتایا کہ رومی تیار ہو کر ترتیب میں آرہے ہیں۔’’ترتیب کیسی ہے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔
’ترتیب حملے کی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ جاسوس نے جواب دیا۔’’پہلے دف بجے تھے پھر ان کے دستے بڑی تیزی سے ترتیب میں آگئے۔ سوار گھوڑوں پر سوار ہو چکے ہیں۔‘‘ ’’ہو نہیں سکتا کہ رومی کہیں اور جا رہے ہوں۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ وہ حملے کیلئے آرہے ہیں۔‘‘ خالدؓ کچھ پریشان بھی ہوئے لیکن وہ حوصلہ ہارنے والے نہیں تھے، تیاری کا وقت نہیں تھا۔ اگر رومی تیار تھے تو انہوں نے مسلمانوں کو اس حالت میں آ دبوچنا تھا، جب وہ تیاری کر رہے تھے۔ انہوں نے بڑی تیزی سے تمام سالاروں کو اطلاع بھجوادی کہ دشمن کا حملہ آرہا ہے۔ مسلمان جب تیار ہو رہے تھے۔ اس وقت رومی لشکر اپنے محاذ سے چل پڑا تھا۔ اس کی رفتار خاصی تیز تھی۔ رومی سالاروں کو توقع تھی کہ وہ مسلمانوں کو بے خبری میں جا لیں گے لیکن وہ جب قریب آئے تو مسلمان تیار تھے وہ خلافِ توقع اتنی جلدی تیار ہو گئے تھے۔ خالدؓ نے انہیں لمبا چوڑا حکم نہیں بھیجاتھا نہ کوئی ہدایت جاری کی تھی۔ صرف اتنا پیغام دیا تھا کہ دشمن کا حملہ آرہا ہے۔ اپنے اپنے محاذ پر تیار رہو۔ صبح کا اجالا سفید ہو رہا تھا۔ رومی سیلاب کی طرح بڑھے آرہے تھے۔ ان کا رخ مسلمانوں کے قلب کی طرف تھا۔ ان کے بہت سے دستے دائیں اور بائیں پہلوؤں کی طرف بھی آرہے تھے لیکن معلوم یہی ہوتا تھا کہ وہ حملہ قلب پر کریں گے۔ خالدؓ نے اپنے قلب کے دستوں کو آگے بڑھ کر دشمن کا استقبال کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے دفاع کا طریقہ وہی اختیار کیا کہ برچھی بازوں اور تیراندازوں کو آگے رکھا گیا۔ رومی جو اس امید پر بہت تیزی سے آرہے تھے کہ مسلمان بے خبر ہوں گے اور یہ بڑی آسان فتح ہو گی۔ مسلمانوں کو ہرلحاظ سے تیار دیکھ کر ذرا سست ہو گئے اور ان کے قدم رکنے لگے۔ انہوں نے گزشتہ روز حملہ کرکے دیکھ لیا تھا۔ مسلمان تیر اندازوں نے اتنی تیزی سے تیر چلانے شروع کر دیئے کہ فضاء میں ایک جال تن گیا۔ رومی رک کر پیچھے ہٹے اور تیروں کی زد سے دور نکل گئے۔ کچھ دیر بعد وہ ڈھالیں آگے کر کے بڑھنے لگے۔ تیر اندازوں نے ایک بار پھر تیروں کا مینہ برسا دیا، لیکن اب کے رومی بڑھتے آئے، تیر کھاکھا کر گرتے بھی رہے اور وہ نیزہ بازوں تک آپہنچے۔ رومیوں کے پاس مروانے کیلئے بہت نفری تھی۔ نیزہ بازوں نے رومیوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن رومیوں کی یلغار اتنی شدید تھی کہ رک نہ سکی۔ تب قلب کے دستے آگے بڑھے اور مجاہدین نے جان کی بازی لگا دی، خالدؓ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ رومی پیچھے ہٹنے لگے ہیں، مجاہدین ان کے پیچھے گئے لیکن خالدؓ نے انہیں روک دیا۔کچھ دیر بعد رومی پھر آگے بڑھے اور مجاہدین نے پہلے کی طرح حملہ روکا۔ خاصی خونریزی ہوئی اور رومی پیچھے ہٹ گئے اور اس کے بعد یہی سلسلہ چلتا رہا۔ مسلمان سالاروں کو معلوم نہیں تھا کہ ماہان کا پلان ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کے قلب اور محفوظہ کو الجھائے رکھو، تاکہ اپنے پہلوؤں سے بے خبر رہیں اور انہیں کمک نہ دے سکیں۔ خالدؓ اس دھوکے کو سمجھ تو نہ سکے لیکن انہوں نے ہر حملہ اس طرح روکا کہ مرکزیت اور جمیعت کو درہم برہم نہ ہونے دیا، رومیوں نے پیچھے ہٹ کر مسلمان سالاروں کو موقع دیا کہ وہ جوابی حملہ کریں لیکن خالدؓ نے اپنے دستوں کو دفاع میں ہی رکھا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کی نفری اور نفری کی جسمانی طاقت زائل ہوتی رہے۔ خالدؓنے اپنے پہلوؤں کی طرف توجہ نہ دی۔ انہوں نے سالاروں کو بتا رکھا تھا کہ کمک کی امید نہ رکھیں۔ سالاروں کو بھی اپنی بے مائگی کا احساس تھا اور یہ احساس اسلامی لشکرکے ہر ایک فرد کو تھا کہ صورتِ حال کتنی ہی دگرگوں ہو جائے مدد صرف اﷲ کی طرف سے ملے گی۔
رومیوں کے اصل حملے تو مسلمانوں کے پہلوؤں پر ہو رہے تھے۔ جو ماہان کے پلان کے عین مطابق تھے۔ دائیں پہلو پر یوں ہوا کہ رومیوں نے وہاں بڑا تیز حملہ کیا۔ اس پہلو کی کمان عمروؓ بن العاص کے پاس تھی، مجاہدین نے یہ حملہ نہ صرف روک لیا بلکہ دشمن کو پسپا کر دیا۔ دشمن نے یہ حملہ کرنے والے دستوں کو پیچھے کرکے دوسرا حملہ تازہ دم دستوں سے کیا۔ یہ پہلے حملے سے زیادہ شدید تھا۔ مسلمانوں نے اس کا بھی مقابلہ کیا لیکن ان کے جسم شل ہو گئے۔ انہوں نے رومیوں کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا جتنا رومیوں نے انہیں پہنچایا تھا اور انہوں نے اس حملے کا دم خم توڑ دیا۔ رومی بری طرح ناکام ہو کر پیچھے ہٹ گئے لیکن مسلمانوں کی جسمانی حالت ایسی ابتر ہو گئی کہ وہ مذید لڑنے کے قابل نہ رہے۔ رومیوں نے تیسرا حملہ تازہ دم دستوں سے کیا، اب کہ حملہ آوروں کی نفری بھی زیادہ تھی، مسلمانو ں نے جذبے کے زور پر حملہ روکنے کی کوشش کی تھی مگر جسم ہی ساتھ نہ دیں تو جذبہ ایک حد تک ہی کام آسکتا ہے۔ وہ حد ختم ہو چکی تھی۔ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ ان کی ترتیب اور تنظیم ٹوٹ گئی۔ بیشتر اس طرح پسپا ہوئے کہ خیمہ گاہ تک جا پہنچے اور جنہوں نے پسپائی کو قبول نہ کیا وہ درمیانی دستوں یعنی قلب کی طرف جانے لگے۔ سالار عمروؓ بن العاص بھاگنے والوں میں سے نہیں تھے۔ ان کے پاس محفوظہ میں دو ہزار سوار تھے جو وہاں موجودرہے۔ عمروؓ بن العاص نے ان دو ہزار سواروں سے رومیوں پر حملہ کر دیا۔اس کی قیادت عمروؓ بن العاص نے خود کی، سواروں نے حملہ بہت تیز اور سخت کیا، اور رومیوں کو کچھ پیچھے ہٹا دیا۔ لیکن رومیوں نے تازہ دم دستے آگے لا کر ان دو ہزار مسلمان سواروں کا حملہ ناکام کر دیا اور اتنا دباؤ ڈالا کہ مسلمان سوار منہ موڑ گئے۔ وہ تو جیسے بڑے ہی تیز و تند سیلاب کے بھنور میں پھنس گئے تھے یہ بھی ان کی بہادری تھی کہ وہ لڑائی میں سے زندہ نکل آئے اور خیمہ گاہ کی طرف چلے گئے۔ ’’دشمن کو پیٹھ دکھانے والوں پر اﷲ کی لعنت! ‘‘یہ مسلمان عورتوں کی آوازیں تھیں۔’’ جو خیموں کے ڈنڈے ہاتھوں میں لیے کھڑی تھیں۔‘‘ عورتوں نے بھاگ آنے والے مسلمانوں پر لعن طعن اور طنز کے تیر برسائے ، اور )مؤرخوں کے مطابق( بعض کو عورتوں نے ڈنڈے بھی مارے۔ ’’خد اکی قسم!مسلمان خاوند اتنے بے غیرت نہیں ہو سکتے۔‘‘ یہ بیویوں کی آوازیں تھیں، وہ اپنے خاوندوں سے چلّا چلّا کر کہہ رہی تھیں۔’’ کیا تم ہمارے خاوند ہو؟ جو ہمیں غیر مسلموں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے؟‘‘ اس دور کے عربی رواج کے مطابق چند ایک مسلمان عورتوں نے دف اٹھا کر اس کی تال پر گیت گانا شروع کر دیا۔ یہ کوئی باقاعدہ ترانا نہیں تھا۔ عورتوں نے خود گیت گڑھ لیا اور گانے لگیں:’’ہائے تمہاری غیرت کہاں گئی؟‘‘’’اپنی ان بیویوں کو جو خوبصورت ہیں، نیک بھی ہیں،حقیر اور قابلِ نفرت کفار کے پاس، چھوڑ کر بھاگ رہے ہو اس لئے کہ، کفار ان کو اپنی ملکیت میں لے لیں،ان کی عصمتوں کی بے حرمتی کریں،اور ان کو ذلیل و خوار کر دیں۔‘‘
مسلمان پسپائی میں حق بجانب تھے۔ اتنی زیادہ نفری کے حملے کو روکنا ان کیلئے زیادہ دیر تک ممکن نہیں تھا۔ لیکن ابو عبیدہؓ نے اس لئے عورتوں سے کہا تھا کہ وہ بھاگ آنے والوں کو ڈنڈے اور پتھر ماریں کہ وہ تاریخ ِ اسلام کو پسپائی سے پاک رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد پورا ہو گیا۔ بھاگ آنے والوں کو عورتوں نے نیا حوصلہ دیا۔ ان کا خون کھول اٹھا اور وہ واپس چلے گئے۔ عمروؓ بن العاص نے انہیں جلدی جلدی منظم کیا اور رومیوں پر جوابی حملے کی تیاری کرنے لگے۔بائیں پہلو کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے۔ ان کے والد ابی سفیانؓ ان کے ماتحت لڑ رہے تھے۔ اس پہلو پر بھی رومیوں نے حملہ کیا تھا جو مسلمانوں نے روک کر پسپاکر دیا تھا۔ دوسرا حملہ جس رومی دستے نے کیا وہ زنجیروں میں بندھا ہوا تھا۔دس دس سپاہی ایک ایک زنجیر کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ زنجیریں اتنی لمبی تھیں کہ سپاہی آسانی سے لڑ سکتے تھے۔ کیونکہ اس دستے کے سپاہی زنجیروں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے اس لئے ان کے حملے کی رفتار تیز نہیں تھی۔ مجاہدین نے پہلا حملہ بڑی جانفشانی سے روکا تھا اور رومیوں کو پسپا کرنے کیلئے انہیں چند گھنٹے لڑناپڑا تھا۔اس کے فوراً بعد تازہ دم دستوں کا حملہ روکنا ان کیلئے محال ہو گیا۔ حملہ آوروں کی نفری تین گنا سے بھی کچھ زیادہ تھی چنانچہ مسلمانوں کے جسموں نے ان کے جذبوں کا ساتھ نہ دیا اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ پسپا ہونے لگے۔ان کی عورتوں کے خیمے ان کے پیچھے محفوظ فاصلے پر تھے۔ پسپا ہونے والوں میں ان کے سالار کے والد ابی سفیانؓ بھی تھے۔ وہ کوئی معمولی شخص نہیں تھے قبیلے کے سرداروں میں سے تھے۔ قبولِ اسلام سے پہلے انہوں نے مسلمانوں سے کئی لڑائیاں لڑی تھیں اور مسلمانوں کی تباہی اور بربادی میں پیش پیش رہتے تھے۔ قبولِ اسلام کے بعد بھی وہ اپنے بدلے ہوئے کردار میں اہم حیثیت کے مالک رہے لیکن رومیوں کے سیلاب کے آگے ٹھہر نہ سکے، اور عورتوں کے کیمپ کی طرف پسپا ہوئے۔ وہاں بھی عورتوں نے پسپا ہو کر آنے والوں کا استقبال ڈنڈوں سے کیا۔ ان میں ابی سفیانؓ کی بیوی ہند بھی تھیں۔ وہ ان کی طرف دوڑی آئیں اور ڈنڈہ آگے کر کے انہیں روک لیا۔ ’’اے ابنِ حرب!‘‘ ہند نے ابی سفیانؓ سے کہا۔’’ تو کدھر بھاگا آرہاہے؟‘‘ انہوں نے ابی سفیانؓ کے گھوڑے کے سر پر ڈنڈہ مارا اور کہا۔’’ یہیں سے لوٹ جا اور ایسی بہادری سے لڑ کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے تو نے رسول اﷲﷺ کے خلاف جو کارروائیاں کی تھیں اﷲ وہ بخش دے۔ ‘‘ابی سفیانؓ اپنی بیوی کو جانتے تھے۔ وہ بڑی زبردست خاتون تھیں۔ ابی سفیانؓنے انہیں اتنا کہنے کی بھی جرات نہ کی کہ وہ بھاگ آنے پر مجبور تھے وہ جانتے تھے کہ ہند کے سامنے بولے اور کچھ دیر رکے رہے تو ہند ڈنڈوں سے مار مار کر انہیں بے ہوش کردیں گی۔دوسری عورتوں نے یہاں بھی وہی منظر بنا دیا جو دائیں پہلو کے مجاہدین کی عورتوں نے بنا دیا تھا۔بیویوں نے اپنے خاوندوں کو شرمسار کیا اور انہیں ایسا جوش دلایا کہ وہ سب واپس چلے گئے۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ میدانِ جنگ تک چلی گئیں۔ ان میں ایک عورت کچھ زیادہ ہی آگے چلی گئی۔ ایک رومی سپاہی اس کے سامنے آگیا وہ اسے ایک عورت ہی سجھ رہا تھا ۔ لیکن اس عورت نے تلوار نکال لی اور اس رومی کو مار ڈالا۔
سالار یزیدؓ بن ابی سفیان ایک جگہ پریشانی کے عالم میں اپنے بکھرے ہوئے مجاہدین کو ڈھونڈتے نظر آئے انہوں نے دیکھاکہ پسپا ہونے والے واپس آگئے ہیں تو ان کے چہرے پر رونق واپس آگئی۔ رومی پیچھے ہٹ گئے تھے ۔یزیدؓ نے اپنے دستوں کو بڑی تیزی سے منظم کیا اور جوابی حملے کا حکم دے دیا۔ ہند نے بہت ہی بلند آواز میں وہی گیت گانا شروع کر دیا جو انہوں نے احد کی جنگ میں اپنے قبیلے کو گرمانے کیلئے گایا تھا۔ اس وقت ہند مسلمان نہیں تھیں۔ ا س گیت کا لب لباب یہ تھا کہ ہم تمہارے لیے راحت اور لطف کا ذریعہ بنتی ہیں۔اگر تم نے دشمن کو شکست دی تو ہم تمہیں گلے لگالیں گی اور اگر تم پیچھے ہٹ آئے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی۔ جنگِ یرموک میں بھی ہند نے وہی گیت گایا۔ خالدؓ کی نظر پورے محاذ پر تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ دائیں اور بائیں پہلوؤں پر کیا ہو رہا ہے۔ انہیں احساس تھا کہ پہلوؤں کو مدد کی ضرورت ہے لیکن خالدؓ نے مدد کو انتہائی مخدوش صورتِ حال میں استعمال کرنے کی سوچ رکھی تھی۔انہیں خبریں مل گئی تھیں کہ دایاں پہلو پسپا ہو گیااور بایاں پہلو بھی بکھر کر پیچھے ہٹ گیا ہے۔ خالدؓ نے دونوں پہلوؤں کے سالاروں کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ جوابی حملہ کریں۔ نفری کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہو۔ آخر انہیں اطلاع ملی کہ دائیں پہلو کے سالار نے جوابی حملہ کر دیا ہے۔ خالدؓ نے محفوظہ کے سوار دستے کے ساتھ متحرک سوار دستے کے کچھ حصے کو اس حکم کے ساتھ ادھر بھیج دیا کہ وہ دائیں پہلو پر رومیوں پر دوسری طرف سے حملہ کریں۔اس وقت دائیں پہلو سے عمروؓ بن العاص نے جوابی حملہ کیا تھا۔ یہ تھکے ہوئے مجاہدین کاحملہ تھاجو نئے جوش اور ولولے سے کیا گیا تھا لیکن نفری بہت کم تھی۔ پھر بھی حملہ کر دیا گیا تھا۔ ’’اب زندہ نہ جائیں۔‘‘ یہ رومیوں کی للکار تھی۔’’ اب بھاگ کر نہ جائیں۔‘‘رومی نفری کی افراط پر ایسادعویٰ کر سکتے تھے کہ وہ مسلمانوں کی اس قلیل سی نفری کو زندہ نہیں جانے دیں گے۔ لیکن اچانک ان کے پہلو پر بڑا تیز حملہ ہو گیا حملہ آور گھوڑ سوار تھے وہ نعرے لگاتے اور گرجتے آئے تھے۔ ’’ابنِ العاص!‘ سوار دستوں کا سالار للکار رہا تھا۔’’ ہم آگئے ہیں۔ حوصلہ قائم رکھو۔‘‘ عمروؓ بن العاص کے تھکے ہارے مجاہدین کے حوصلوں میں بھی اور جسموں میں بھی جان پڑ گئی اور اس کے ساتھ ہی رومیوں کے حوصلوں سے جان نکل گئی وہ اب دو طرفہ حملوں کی لپیٹ میں آگئے تھے۔ وہ بوکھلا گئے۔ مسلمان سوارتازہ دم تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ساتھیوں کی بری حالت دیکھ کر اور زیادہ جوش میں آگئے تھے۔ یہ انتقام کا قہر تھا۔ اگر دونوں طرف نفری برابر ہوتی یا دشمن کی نفری ذرا زیادہ ہی ہوتی تو دشمن کا بے تحاشہ نقصان ہوتا اور وہ میدان چھوڑ جاتا لیکن نفری کے معاملے میں رومی سیلابی دریا تھے۔ مسلمانوں کے حملے کاان پر یہ اثر پڑا کہ وہ اپنی بہت سی لاشیں اور بے شمار زخمی چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن بھاگے نہیں ۔ بلکہ منظم طریقے سے اپنے محاذ تک واپس چلے گئے۔ اِدھر مرکز یعنی قلب میں کیفیت یہ تھی کہ خالدؓ دشمن کی چال سمجھ چکے تھے۔ رومی ابھی تک مسلمانوں کے قلب کے سامنے موجود تھے۔ وہ ہلکاسا حملہ کرکے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ خالدؓ جان گئے کہ دشمن انہیں مصروف رکھناچاہتا ہے تاکہ وہ اپنے پہلوؤں کی طرف توجہ نہ دے سکیں۔ خالدؓ کو دائیں بائیں پہلوؤں کی اطلاعیں ملیں تو انہوں نے ماہان کا پلان بے کار کرنے کا طریقہ سوچ لیا۔ پہلے تو انہوں نے دائیں پہلو کو مدد بھیجی پھر بائیں طرف توجہ دی جہاں کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے۔
’’ابن الازور!‘‘ خالدؓ نے اپنے متحرک سوار دستے کے سالار ضرار بن الازور کو بلا کر کہا۔’’ کیا تو دیکھ رہا ہے کہ دشمن ہمارے بازوؤں پر غالب آگیا ہے؟ ‘‘’’دیکھ رہا ہوں ابن الولید!‘‘ ضرار نے کہا۔’’ میں تیرے حکم کا منتظر ہوں۔ کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ میرا گھوڑا کس بے چینی سے کھر مار رہا ہے۔‘‘’’بائیں پہلو پر جلد جا ابن الازور! ‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ سواردستہ اپنے ساتھ لے اور یزید کی مدد کو اس طرح پہنچ کہ جن رومیوں کے ساتھ وہ الجھا ہوا ہے ان پر پہلو سے حملہ کردو۔‘‘ ’’کس حال میں ہے یزید؟‘‘ ضرار نے پوچھا۔’’حال جو مجھے بتایا گیا ہے وہ میں کیسے بیان کروں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ابی سفیان جو کبھی ہمارے قبیلہ قریش کی آنکھ کا تارا تھا وہ بھی پسپاہو گیا۔ دوسری اطلاع ملی ہے کہ پسپا ہو کر آنے والے پھر آگے چلے گئے لیکن تو جانتا ہے کہ حوصلہ ایک ضرب کھالے تو دوسری ضرب کھانے کی تاب نہیں رہتی۔‘‘ ’’اﷲ ہم سب کو حوصلہ دے گا۔‘‘ضرار بن الازور نے کہا۔ضرار تاریخی جنگجو تھے۔ دل میں اﷲ اور رسولﷺ کا عشق ، زبان پر اﷲ اور رسولﷺ کا نام اور ان کی تلوار اﷲ کے نام پر چلتی تھی۔ وہ تو اپنی جان سے لا تعلق ہو چکے تھے۔ خالدؓ کا حکم ملتے ہی انہوں نے اپنے سوار دستے کو ساتھ لیا اور یہ دستہ اپنی ہی اڑائی ہوئی گرد میں غائب ہو گیا۔ وقت بعد دوپہر کا تھا۔ گرمی جھلسا رہی تھی ۔گھوڑے پسینے میں نہا رہے تھے۔ پیاس سے مجاہدین کے منہ کھل گئے تھے اور ان کی روحیں پانی کی نہیں دشمن کے خون کی پیاسی تھیں۔ ضرار بن الازور کے دستے نے ان رومیوں پر ایک پہلو سے حملہ کیا جنہیں یزیدؓ نے اپنے حملے میں الجھا رکھا تھا۔ یہ رومی زنجیر بند تھے۔ انہیں پہلی بار احساس ہو اکہ زنجیریں نقصان بھی دے دیا کرتی ہیں۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ دس دس آدمی ایک ہی زنجیر میں بندھے ہوئے تھے۔ انہوں نے جب حملہ کیا تھا تو ان کی رفتار زنجیروں کی وجہ سے سست تھی۔ اب ان پر ضرار نے حملہ کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ مسلمانوں کی تلواروں اور برچھیوں سے بچنے کیلئے انہیں تیزی سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے تھا لیکن زنجیریں انہیں تیزی سے پیچھے ہٹنے نہیں دے رہی تھیں۔ ضرار کے سواروں کا ہلہ بڑا ہی تیز اور زوردار تھا ضرار بڑے ذہین سالار تھے اور ان کے ساتھی وہ اپنے ہی طریقے اور جوش سے لڑنے والے سپاہی بھی تھے۔ ان کی دلیری کا یہ عالم تھا کہ دشمن کی صفوں میں گھس جایا کرتے تھے۔ یہاں بھی انہوں نے ایسی ہی دلیری کا مظاہرہ کیا وہ رومیوں کے سالار کو ڈھونڈ رہے تھے۔ انہیں وہ سالار نظر آگیا۔ وہ دیرجان تھا۔ اس کے اردگرد اس کے محافظ سوار کھڑے تھے اور وہاں رومی پرچم بھی تھا۔ ضرار اگر اسے للکارتے تو پہلے انہیں اس کے محافظوں کا مقابلہ کرنا پڑتا جو اکیلے آدمی کے بس میں نہیں تھا۔ ضرار محافظوں کو نظر انداز کرکے ان کے حصارمیں چلے گئے اور تلوار کا ایسا وار کیا کہ دیرجان کی گردن تقریباً آدھی کٹ گئی۔
پیشتر اس کے کہ دیرجان کے محافظ ضرار کو گھیر لیتے ضرار وہاں سے غائب ہو گئے تھے۔ محافظوں میں ہڑبونگ مچ گئی۔ ان کا سالار گھوڑے سے لڑھک گیا۔ دو محافظوں نے اسے تھام لیا اور گھوڑے سے گرنے نہ دیا لیکن اس کی زندگی ختم ہو چکی تھی۔ اسے اب مرنا تھا۔ وہ ذبح ہونے والے بکرے کی طرح تڑپ رہا تھا۔ اسے پیچھے لے جانے لگے تو وہ دم توڑ گیا۔ادھر ضرار ایک قہر کی طرح رومیوں پر برس رہے تھے۔ ادھر خالدؓ نے اسی پہلو کے اس مقام پر حملہ کردیا جہاں رومیوں کا سالار گریگری تھا۔ ضرار اور خالدؓ کے حملوں نے رومیوں کا زور توڑ دیا۔ زیادہ نقصان ان رومی سپاہیوں کا ہوا جو زنجیروں سے ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے، وہ تیزی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے۔اس جوابی حملے کا اثر یہ ہوا کہ رومی پیچھے ہٹ گئے لیکن یہ پسپائی نہیں تھی۔ وہ محاذ یا خیمہ گاہ تک چلے گئے ۔ ان کا نقصان بہت ہوا تھا۔ لیکن ان کے پاس نفری کی کمی نہیں تھی۔ مسلمان فوج پر یہ اثر ہوا کہ ان کا حوصلہ اور جذبہ بحال ہو گیا اور ان میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اتنے بڑے لشکر کو پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے تو اسے شکست بھی دی جا سکتی ہے۔اس روز مزید لڑائی نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ سورج غروب ہو رہا تھا۔وہ رات بیداری کی رات تھی۔ مسلمان عورتیں آگے جا کر لڑنے کیلئے بیتاب ہوئے جا رہی تھیں لیکن ان کیلئے دوسرے کام بھی تھے۔ جن میں فوج کیلئے پانی فراہم کرنا اور کھانا پکانا تھا، اور اس سے بھی زیادہ اہم کام زخمیوں کی مرہم پٹی تھا۔ عورتیں زخمیوں کے زخم صاف کرتی اور ان پر پٹیاں باندھتی تھیں۔ ان کے انداز میں جو خلوص اور جو اپنائیت تھی اس سے زخمیوں کے حوصلے اور زیادہ مضبوط ہو گئے۔ ان میں جو اگلے روز لڑنے کے قابل نہیں تھے وہ بھی لڑنے کو تیار ہو گئے۔مجاہدین رات کو اپنے ساتھیوں کی لاشیں ڈھونڈتے اور پیچھے لاتے رہے، کچھ زخمی بے ہوش پڑے تھے۔ انہیں بھی انہوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اٹھایا اور پیچھے لے آئے۔ادھر ماہان نے اپنے سالاروں کو اپنے سامنے بٹھا رکھا تھا۔’’میں شہنشاہِ ہرقل کو کیا جواب دوں گا؟‘‘ وہ سخت برہم تھا۔’’ تم ہی بتاؤ کہ میں شہنشاہ کو کیا بتاؤں کہ ان چند ہزار مسلمانوں کو ہم اپنے گھوڑوں کے قدموں تلے کچل کیوں نہیں سکے؟‘‘کوئی سالار اسے تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔’’ہمارا ایک سالار بھی مارا گیا ہے۔‘‘ ماہان نے کہا۔’’ کیا تم نے ان کے کسی سالار کو قتل کیا ہے؟‘‘اس کے تمام سالار خاموش رہے۔ ’’قورین! ‘‘اس نے اپنے ایک سالار قورین سے کہا۔’’ تم سالار دیر جان کے دستے لے لو…… اور سوچ لو کہ پسپا ہونا ہے تو زندہ میرے سامنے نہ آنا۔ آگے ہی کہیں مارے جانا۔ ‘‘اس نے تمام سالاروں سے کہا۔’’ کل کے سورج کے ساتھ مسلمانوں کا سورج بھی غروب ہو جائے……ہمیشہ کیلئے۔‘‘ماہان نے مسلمانوں کو اگلے روز ختم کردینے کا نیا پلان بنایا اور سالاروں کو سمجھایا۔ اپنے مرے ہوئے سالار دیرجان کی جگہ اس نے قورین کو اس کے دستوں کا سالار مقرر کیا۔مسلمان سالاروں نے بھی رات جاگتے گزاری۔ زخمیوں کی عیادت کی اور مجاہدین کا حوصلہ بڑھایا۔
اگلے روز کی لڑائی پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور خونریز تھی۔مسلمانوں کے دائیں پہلو پر سالار عمروؓ بن العاص کے دستے تھے، اور ان کے ساتھ ہی سالار شرجیلؓ بن حسنہ کے دستے تھے۔ رومیوں نے اس جگہ حملہ کیا جہاں ان دونوں کے دستے آپس میں ملتے تھے ۔دونوں سالاروں نے مل کر رومیوں کا یہ حملہ بے جگری سے لڑ کر پسپا کردیا۔رومیوں نے اپنا پہلے والا طریقہ اختیار کیا، انہوں نے دوسرا حملہ تازہ دم دستوں سے کیا، اس طرح وہ بار بار تازہ دم دستے آگے لاتے رہے اور مسلمان ہر حملہ روکتے رہے۔ انہوں نے اپنی تنظیم اور ترتیب برقرار رکھی مگر جسمانی طاقت جواب دینے لگی۔ رومیوں کی کوشش یہی تھی کہ مسلمانوں کو اتنا تھکا دیا جائے کہ حملہ روکنے کے قابل نہ رہیں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: