Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 3

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 3

–**–**–

مجاہدین لشکرِ کفار میں گم ہو گئے تھے ۔لیکن ان کا جذبہ قائم تھا۔ ان کی للکار اور ان کے نعرے سنائی دےرہے تھے۔ سالار سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے ۔ان کاعَلَم بلند تھا ۔تھوڑی ہی دیر بعد عَلَم گرنے لگا…… عَلَم گرتا تھا اور اٹھتا تھا ۔عبداﷲ ؓبن رواحہ نے دیکھ لیا۔ سمجھ گئے کہ عَلَم بردار زخمی ہے اور اب وہ عَلَم کو سنبھال نہیں سکتا ۔عَلَم بردار سپہ سالار خود تھا۔ یہ جعفرؓ بن ابی طالب تھے۔ عبداﷲؓ بن رواحہ ان کی طرف دوڑے ۔ان تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔عبداﷲؓ جعفر ؓتک پہنچے ہی تھے کہ جعفرؓ گر پڑے۔ ان کا جسم خون میں نہا گیا تھا ۔جسم پر شاید ہی کوئی ایسی جگہ تھی جہاں تلوار یا برچھی کا کوئی زخم نہ تھا۔جعفر ؓگرتے ہی شہید ہو گئے۔عبداﷲ ؓنے پرچم اٹھا کر بلند کیا اور نعرہ لگا کر مجاہدین کو بتایا کہ انہوں نے عَلَم اور سپہ سالاری سنبھال لی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
یہ دشمن کی فوج کاایک حصہ تھا جس کی تعدا ددس سے پندرہ ہزار تک تھی۔یہ تمام تر نفری غسانی عیسائیوں کی تھی جو اس معرکے کو مذہبی جنگ سمجھ کر لڑ رہے تھے۔اتنی زیادہ تعداد کے خلاف تین ہزار مجاہدین کیا کر سکتے تھے۔لیکن ان کی قیادت اتنی دانشمند اور عسکری لحاظ سے اتنی قابل تھی کہ اس کے تحت مجاہدین جنگی طریقے اور سلیقے سے لڑ رہے تھے۔ ان کا انداز لٹھ بازوں والا نہیں تھا۔مگر دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مجاہدین بکھرنے لگے یہاں تک کہ بعض اس انتشار اور دشمن کے دباؤ اور زور سے گھبرا کر معرکے سے نکل گئے ۔لیکن وہ بھاگ کر کہیں گئے نہیں ۔قریب ہی کہیں موجود رہے۔باقی مجاہدین انتشار کا شکار ہونے سے یوں بچے کہ وہ چار چار ‘پانچ پانچ اکھٹے ہوکر لڑتے رہے۔جنگی مبصرین نے لکھا ہے کہ غسانی مسلمانوں کی اس افراتفری کی کیفیت سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اتنی بے جگری سے اور ایسی مہارت سے لڑ رہے تھے کہ غسانیوں پر ان کارعب طاری ہو گیا۔وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کا بکھر جانا بھی ان کی کوئی چال ہے ۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے سالاروں اور کمانداروں نے اس صورتِ حال کو یوں سنبھالا کہ اپنے آدمیوں کو معرکے سے نکالنے لگے۔تاکہ انہیں منظم کیا جا سکے۔اس دوران عَلَم ایک بار پھر گر پڑا۔ تیسرے سپہ سالار عبداﷲ ؓبن رواحہ بھی شہید ہو گئے۔اب کے مجاہدین میں بد دلی نظر آنے لگی۔ رسولِ کریمﷺ نے یہی تین سالار مقرر کیے تھے۔ اب مجاہدین کو سپہ سالار خود مقررکرنا تھا۔عَلَم گرا ہوا تھا جو شکست کی نشانی تھی۔ایک سرکردہ مجاہد ثابتؓ بن اَرقم نے عَلَم اٹھاکر بلند کیا اور نعرہ لگانے کے انداز سے کہا۔’’اپنا سپہ سالار کسی کو بنا لو،عَلَم کو میں بلند رکھوں گا۔میں ……ثابت بن ارقم…… ‘‘مؤرخ ابنِ سعد نے لکھا ہے کہ ثابتؓ اپنے آپ کو سپہ سالاری کے قابل نہیں سمجھتے تھے اور وہ مجاہدین کی رائے کے بغیر سپہ سالار بننا بھی نہیں چاہتے تھے،کیونکہ نبی کریمﷺ کا حکم تھا کہ تین سالار اگر شہید ہو جائیں تو چوتھے سپہ سالار کا انتخاب مجاہدین خود کریں۔ثابتؓ کی نظر خالد ؓبن ولید پر پڑی جو قریب ہی تھے۔مگر خالدؓ بن ولید کو مسلمان ہوئے ابھی تین ہی مہینے ہوئے تھے۔اس لیے انہیں اسلامی معاشر ت میں ابھی کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ثابت ؓبن ارقم خالدؓ کے عسکری جوہر اور جذبے سے واقف تھے۔انہوں نے عَلَم خالدؓ کی طرف بڑھایا۔’’بے شک! اس رتبے کے قابل تم ہو خالدؓ۔‘‘
’’خالد……خالد……خالد……‘‘ہر طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔’’خالد ہمارا سپہ سالار ہے۔‘‘خالدؓ نے لپک کر عَلَم ثابتؓ سے لے لیا۔غسانی لڑ تو رہے تھے لیکن ذرا پیچھے ہٹ گئے تھے۔خالدؓ کو پہلی بار آزادی سے قیادت کے جوہر دِکھانے کا موقع ملا ۔انہوں نے چند ایک مجاہدین کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور ان سے قاصدوں کا کام لینے لگے۔خود بھی بھاگ دوڑ کر نے لگے۔لڑتے بھی رہے۔اس طرح انہوں نے مجاہدین کو جو لڑنے کے قابل رہ گئے تھے۔یکجا کرکے منظم کرلیااور انہیں پیچھے ہٹالیا ۔غسانی بھی پیچھے ہٹ گئے اور دونوں طرف سے تیروں کی بوچھاڑیں برسنے لگیں۔ فضاء میں ہر طرف تیراُڑ رہے تھے۔
خالدؓ نے صورتِ حال کا جائزہ لیا ۔اپنی نفری اور اس کی کیفیت دیکھی ۔تو ان کے سامنے یہی ایک صورت رہ گئی تھی کہ معرکہ ختم کردیں۔ دشمن کو کمک بھی مل رہی تھی ۔لیکن خالدؓ پسپا نہیں ہونا چاہتے تھے۔پسپائی بجا تھی ،لیکن خطرہ یہ تھا کہ دشمن تعاقب میں آئے گا۔ جس کانتیجہ مجاہدین کی تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔خالدؓ نے سوچ سوچ کر ایک دلیرانہ فیصلہ کیا ۔وہ مجاہدین کے آگے ہو گئے اور غسانیوں پر ہلّہ بول دیا۔مجاہدین نے جب اپنے سپہ سالار اور اپنے عَلَم کو آگے دیکھا تو ان کے حوصلے تروتازہ ہو گئے ۔یہ ہلّہ اتنا دلیرانہ اور اتنا تیز تھا کہ کثیر تعداد غسانی عیسائیوں کے قدم اکھڑ گئے۔مجاہدین کے ہلّے اور ان کی ضربوں میں قہر تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں اور حدیث بھی ہے کہ اس وقت تک خالدؓ کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ چکی تھیں۔خالدؓ دراصل غسانیوں کو بکھیر کر مجاہدین کو پیچھے ہٹانا چاہتے تھے۔اس میں وہ کامیاب رہے۔انہوں نے اپنے اور مجاہدین کے جذبے اوراسلام کے عشق کے بل بوتے پر یہ دلیرانہ حملہ کیا تھا۔حملہ اور ہلّہ کی شدت نے تو پورا کام کیا لیکن غسانی مجاہدین کی غیر معمولی دلیری سے مرعوب ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ان میں انتشار پیدا ہو گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی مجاہدین کے دائیں پہلو کے سالار قطبہؓ بن قتاوہ نے غسانیوں کے قلب میں گھس کر ان کے سپہ سالار’’ مالک‘‘ کو قتل کر دیا۔اس سے غسانیوں کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ تعداد کی افراط کے باوجود بہت پیچھے چلے گئے اور منظم نہ رہ سکے۔خالد ؓنے اسی لیے یہ دلیرانہ حملہ کرایا تھا کہ مجاہدین کو تباہی سے بچایا جا سکے۔وہ انہوں نے کر لیااور مجاہدین کو واپسی کا حکم دے دیا۔اس طرح یہ جنگ ہار جیت کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔جب مجاہدین خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینہ میں پہلے ہی خبرپہنچ چکی تھی کہ مجاہدین پسپا ہو کر آرہے ہیں۔مدینہ کے لوگوں نے مجاہدین کو طعنے دینے شروع کردیئے کہ وہ بھاگ کر آئے ہیں۔خالدؓ نے رسولِ اکرمﷺ کے حضور معرکے کی تمام تر روئیداد پیش کی۔ لوگوں کے طعنے بلند ہوتے جا رہے تھے۔
’’خاموش ہو جاؤ!‘‘ رسولِ کریمﷺ نے بلند آواز سے فرمایا’’ یہ میدانِ جنگ کے بھگوڑے نہیں ……یہ لڑ کر آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیں گے۔خالد اﷲ کی تلوار ہے ۔‘‘ابنِ ہشام، واقدی اور مغازی لکھتے ہیں کہ رسولِ کریمﷺ کے یہ الفاظ خالدؓبن ولید کا خطاب بن گئے۔’’سیف اﷲ ۔اﷲکی شمشیر ۔‘‘اس کے بعد یہ شمشیر، اﷲکی راہ میں ہمیشہ بے نیام رہی۔
قبیلۂ قریش کا سردارِ اعلیٰ ابو سفیان جو کسی وقت للکار کر بات کیاکرتا تھا اور مسلمانوں کے گروہ کو ’’محمد کا گروہ‘‘ کہہ کر انہیں پلّے ہی نہیں باندھتا تھا ،اب بجھ کے رہ گیا تھا۔خالدؓ بن ولید کے قبولِ اسلام کے بعد تو ابوسفیان صرف سردار رہ گیا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے جنگ و جدل کے ساتھ اس کا کبھی کوئی تعلق رہاہی نہیں تھا۔عثمانؓ بن طلحہ اور عمروؓ بن العاص جیسے ماہر جنگجو بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔اس کے پاس ابھی عکرمہ
اور صفوان جیسے سالار موجود تھے لیکن ابو سفیان صاف طور پر محسوس کرنے لگا تھا کہ اس کی یعنی قریش کی جنگی طاقت بہت کمزور ہو گئی ہے۔’’تم بزدل ہو گئے ہو ابو سفیان!‘‘اس کی بیوی ہند نے ایک روز اسے کہا۔’’تم مدینہ والوں کو مہلت اور موقع دے رہے ہو کہ وہ لشکر اکھٹا کرتے چلے جائیں اور ایک روز آ کر مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔‘‘’’میرے ساتھ رہ ہی کون گیا ہے ہند؟‘‘ابو سفیان نے مایوسی کے عالم میں کہا۔’’مجھے اس شخص کی بیوی کہلاتے شرم آتی ہے جو اپنے خاندان اور اپنے قبیلے کے مقتولین کے خون کا انتقام لینے سے ڈرتا ہے۔‘‘ہند نے کہا۔’’میں قتل کر سکتا ہوں ۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں قتل ہو سکتا ہوں۔میں بزدل نہیں،ڈرپوک بھی نہیں لیکن میں اپنے وعدے سے نہیں پھر سکتا۔کیا تم بھول گئی ہو کہ حدیبیہ میں محمد)ﷺ( کے ساتھ میرا کیا معاہدہ ہوا تھا؟اہلِ قریش اور مسلمان دس سال تک آپس میں نہیں لڑیں گے۔اگر میں معاہدہ توڑ دوں اور میدانِ جنگ میں مسلمان ہم پر غالب آ جائیں تو……‘‘’’تم مت لڑو۔‘‘ہند نے کہا۔’’قریش نہیں لڑیں گے۔ہم کسی اور قبیلے کو مسلمانوں کے خلاف لڑا سکتے ہیں۔ہمارا مقصد مسلمانوں کی تباہی ہے۔ہم مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں کو درپردہ مدد دے سکتے ہیں۔‘‘’’قریش کے سوا کون ہے جو مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی جرات کرے گا؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’موتہ میں ہرقل اور غسان کے ایک لاکھ کے لشکر نے مسلمانوں کا کیا بگاڑ لیا تھا؟کیا تم نے سنا نہیں تھا کہ ایک لاکھ کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی؟میں اپنے قبیلے کے کسی آدمی کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے کسی قبیلے کی مدد کیلئے جانے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘’’مت بھول ابو سفیان!‘‘ہند نے غضب ناک لہجے میں کہا۔’’میں وہ عورت ہوں جس نے اُحد کی لڑائی میں حمزہ کا پیٹ چاک کر کے اس کا کلیجہ نکالا اور اسے چبایا تھا ۔تم میرے خون کو کس طرح ٹھنڈا کر سکتے ہو؟‘‘’’تم نے حمزہ کا نہیں اس کی لاش کا پیٹ چاک کیا تھا۔‘‘ابو سفیان نے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ لاکرکہا۔’’مسلمان لاشیں نہیں اور وہ جو کچھ بھی ہیں ،خدا کی قسم! میں معاہدہ نہیں توڑوں گا۔‘‘’’معاہدہ تو میں بھی نہیں توڑوں گی۔‘‘ہند نے کہا۔’’لیکن مسلمانوں سے انتقام ضرور لوں گی اور یہ انتقام بھیانک ہوگا۔قبیلۂ قریش میں غیرت والے جنگجو موجود ہیں۔‘‘’’آخر تم کرنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ابو سفیان نے پوچھا۔’’تمہیں جلدی پتا چل جائے گا۔‘‘ہند نے کہا۔
مکہ کے گردونواح میں خزاعہ اور بنو بکر دو قبیلے آباد تھے۔ان کی آپس میں بڑی پرانی عداوت تھی۔حدیبیہ میں جب مسلمانوں اور قریش میں صلح ہو گئی اور دس سال تک عدمِ جارحیت کا معاہدہ ہو گیا تو یہ دونوں قبیلے اس طرح اس معاہدے کے فریق بن گئے کہ قبیلۂ خزاعہ نے مسلمانوں کا اور قبیلہ بنو بکر نے قریش کا اتحادی بننے کا اعلان کر دیا تھا۔معاہدہ جو تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہوا،خزاعہ اور بنو بکر کے لئے یوں فائدہ مند ثابت ہوا کہ دونوں قبیلوں کی آئے دن کی لڑائیاں بند ہو گئیں۔اچانک یوں ہوا کہ بنو بکر نے ایک رات خزاعہ کی ایک بستی پر حملہ کر دیا۔یہ کوئی بھی نہ جان سکا کہ بنو بکر نے معاہدہ کیوں توڑ دیا ہے۔ایک روایت ہے کہ اس کے پیچھے ہند کا ہاتھ تھا۔خزاعہ چونکہ مسلمانوں کے اتحادی تھے،اس لیے ہند نے اس توقع پر خزاعہ پر بنو بکر سے حملہ کرایا تھا کہ خزاعہ مسلمانوں سے مدد مانگیں گے اور مسلمان ان کی مدد کو ضرور آئیں گے اور وہ جب بنو بکر پر حملہ کریں گے تو قریش مسلمانوں پر حملہ کردیں گے۔ایک روایت یہ ہے کہ یہ غسانی عیسائیوں اور یہودیوں کی سازش تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ قریش اور مسلمانوں کے اتحادیوں کو آپس میں لڑا دیا جائے تو قریش اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ہو جائے گی۔بنو بکر خزاعہ کے مقابلے میں طاقتور قبیلہ تھا۔غسّانیوں اور یہودیوں نے بنو بکر کی ایک لڑکی اغواکرکے قبیلہ خزاعہ کی ایک بستی میں پہنچا دی اور بنو بکر کے سرداروں سے کہا کہ خزاعہ نے ان کی لڑکی کو اغواء کر لائے ہیں،بنو بکر نے جاسوسی کی اور پتا چلا کہ ان کی لڑکی واقعی خزاعہ کی ایک بستی میں ہے۔ہند نے اپنے خاوند ابو سفیان کو بتائے بغیر قریش کے کچھ آدمی بنو بکر کو دے دیئے۔ان میں قریش کے مشہور سالار عکرمہ اور صفوان بھی تھے۔چونکہ حملہ رات کو کیا گیا تھا،اس لیے خزاعہ کے بیس آدمی مارے گئے۔یہ راز ہر کسی کو معلوم ہو گیاکہ بنو بکر کے حملے میں قریش کے آدمی مدد کیلئے گئے تھے۔خزاعہ کا سردار اپنے ساتھ دو تین آدمی لے کر مدینہ چلا گیا۔خزاعہ غیر مسلم قبیلہ تھا ۔خزاعہ کے یہ آدمی حضورﷺ کے پاس پہنچے اور آپﷺ کو بتایا کہ بنو بکر نے قریش کی پشت پناہی سے حملہ کیا اور قریش کے کچھ جنگجو بھی اس حملے میں شریک تھے۔خزاعہ کے ایلچی نے حضورﷺ کو بتایا کہ عکرمہ اور صفوان بھی اس حملے میں شامل تھے۔رسولِ اکرمﷺ غصے میں آگئے۔یہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی ۔آپﷺ نے مجاہدین کو تیاری کا حکم دے دیا۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کارد ِ عمل بڑا ہی شدید تھا۔اگر معاملہ صرف بنو بکراور خزاعہ کی آپس میں لڑائی کا ہوتا تو حضورﷺ شاید کچھ اور فیصلہ کرتے لیکن بنو بکر کے حملے میں قریش کے نامی گرامی سالار عکرمہ اور صفوان بھی شامل تھے۔اس لیے آپﷺ نے فرمایا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری اہلِ قریش پر عائد ہوتی ہے۔’’ابو سفیان نے صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘مدینہ کی گلیوں اور گھروں میں آوازیں سنائی دینے لگیں۔’’رسول اﷲﷺ کے حکم پر ہم مکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔اب قریش کو ہم اپنے قدموں میں بٹھا کر دم لیں گے۔‘‘رسول اﷲﷺ نے مکہ پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔ابو سفیان کو اتنا ہی پتا چلا تھاکہ بنو بکر نے خزاعہ پر شب خون کی طرز کا حملہ کیا ہے اور خزاعہ کے کچھ آدمی مارے گئے ہیں ۔اسے یاد آیا کہ عکرمہ اور صفوان صبح سویرے گھوڑوں پر سوار کہیں سے آ رہے تھے،اس نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں ؟تو انہو ں نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ گھڑ دوڑ کیلئے گئے تھے۔دوپہر کے وقت جب اسے پتا چلا کہ بنو بکر نے خزاعہ پر حملہ کیاہے تو اس نے عکرمہ اور صفوان کو بلایا۔’’تم دونوں مجھے کس طرح یقین دلا سکتے ہو کہ خزاعہ کی بستی پر بنوبکر کے حملے میں تم شریک نہیں تھے؟‘‘ابو سفیان نے ان سے پوچھا۔’’کیا تم بھول گئے ہو کہ بنو بکر ہمارے دوست ہیں؟‘‘صفوان نے کہا ۔’’اگر دوست مدد کیلئے پکاریں تو کیا تم دوستوں کو پیٹھ دکھاؤ گے؟‘‘’’میں کچھ بھی نہیں بھولا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم! تم بھول گئے ہو کہ قبیلۂ قریش کا سردار کون ہے……میں ہوں تمہارا سردار……میری اجازت کے بغیر تم کسی اور کا ساتھ نہیں دے سکتے۔‘‘’’ابو سفیان! ‘‘عکرمہ نے کہا۔’’میں تمہیں اپنے قبیلے کا سردار مانتا ہوں ۔تمہاری کمان میں لڑائیاں لڑی ہیں۔تمہارا ہر حکم ماناہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم قبیلے کے وقار کو مجروح کرتے چلے جا رہے ہو۔تم نے اپنے دل پر مدینہ والوں کا خوف طاری کر لیا ہے۔‘‘’’اگر میں قبیلے کا سردار ہوں تو میں کسی کو ایساجرم بخشوں گا نہیں جو تم نے کیا ہے۔‘‘ابو سفیان نے کہا-
’’ابو سفیان!‘‘ عکرمہ نے کہا۔’’وہ وقت تمہیں یاد ہو گا جب خالد مدینہ کو رخصت ہوا تھا۔تم نے اسے بھی دھمکی دی تھی اور میں نے تمہیں کہا تھا کہ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اُس عقیدے کا پیروکار ہو جائے جسے وہ اچھا سمجھتا ہے اور میں نے تمہیں یہ بھی کہا تھاکہ تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو میں بھی تمہارا ساتھ چھوڑنے اور محمد)ﷺ( کی اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔‘‘
’’کیا تم نہیں سمجھتے کہ باوقار لوگ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے؟‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’تم نے بنو بکر کاساتھ دے کر اور مسلمانوں کے اتحادی قبیلے پر حملہ کرکے اپنے قبیلے کا وقار تباہ کر دیاہے۔ اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ محمد)ﷺ( نے مکہ پر حملہ کر دیا تو تم حملہ پسپا کردو گے۔تو تم خوش فہمی میں مبتلا ہو۔کون سے میدان میں تم نے مسلمانوں کو شکست دی ہے؟کتنا لشکر لے کر تم نے مدینہ کو محاصرے میں لیا تھا؟‘‘’’وہاں سے پسپائی کا حکم تم نے دیا تھا۔‘‘صفوان نے کہا۔’’تم نے ہار مان لی تھی۔‘‘’’میں تم جیسے ضدی ا ور کوتاہ بیں آدمیوں کے پیچھے پورے قبیلے کو ذلیل و خوار نہیں کرواؤں گا۔‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں مسلمانوں کے ساتھ ابھی چھیڑ خانی نہیں کر سکتا۔میں محمد)ﷺ( کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ایک دوست قبیلے نے مسلمانوں کے ایک دوست قبیلے پر حملہ کیا ہے اور اس میں قریش کے چند ایک آدمی شامل ہو گئے تھے،تو اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔میں محمد)ﷺ( کو بتاؤں گا کہ قبیلۂ قریش حدیبیہ کے معاہدے پر قائم ہے۔‘‘وہ عکرمہ اور صفوان کو وہیں کھڑا چھوڑ کروہاں سے چلا گیا۔ابو سفیان اسی روز مدینہ کو روانہ ہو گیا۔اہلِ مکہ حیران تھے کہ ابو سفیان اپنے دشمن کے پاس چلا گیا ہے۔اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں ۔اس کی بیوی ہند پھنکارتی پھر رہی تھی۔مدینہ پہنچ کر ابو سفیان نے جس دروازے پردستک دی وہ اس کی اپنی بیٹی اُمّ ِ حبیبہؓ کاگھر تھا۔دروازہ کھلا۔بیٹی نے اپنے باپ کو دیکھا تو بیٹی کے چہرے پر مسرت کے بجائے بے رُخی کا تاثر آگیا۔بیٹی اسلام قبول کر چکی تھی اور باپ اسلام کا دشمن تھا۔’’کیا باپ اپنی بیٹی کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا؟‘‘ابو سفیان نے اُمّ ِ حبیبہؓ سے پوچھا۔’’اگر باپ وہ سچا مذہب قبول کرلے جو اس کی بیٹی نے قبول کیا ہے تو بیٹی باپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے گی۔‘‘اُمّ ِ حبیبہؓ نے کہا۔’’بیٹی!‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں پریشانی کے عالم میں آیا ہوں ۔میں دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں ۔‘‘
’’بیٹی کیاکر سکتی ہے؟ ‘‘اُمّ ِ حبیبہ ؓ نے کہا۔’’آپ رسول ِ خداﷺ کے پاس جائیں۔‘‘بیٹی کی اس بے رخی پر ابو سفیان سٹپٹا اٹھا۔وہ رسولِ کریمﷺ کے گھر کی طرف چل پڑا۔راستے میں اس نے وہ شناسا چہرے دیکھے جو کبھی اہلِ قریش کہلاتے اور اسے اپنا سردار مانتے تھے۔اب اس سے بیگانے ہو گئے تھے۔وہ اسے چپ چاپ دیکھ رہے تھے۔وہ ان کا دشمن تھا۔اس نے ان کے خلاف لڑائیاں لڑی تھیں۔اُحد کی جنگ میں ابو سفیان کی بیوی ہند نے مسلمانوں کی لاشوں کے پیٹ چاک کیے اور ان کے کان اور ناکیں کاٹ کر ان کاہار بنایا اور اپنے گلے میں ڈالا تھا۔
ابو سفیان اہل ِمدینہ کی گھورتی ہوئی نظروں سے گزرتا رسولِ کریمﷺ کے ہاں جا پہنچا۔اس نے ہاتھ بڑھایا۔رسولِ کریمﷺنے مصافحہ کیا لیکن آپﷺ کی بے رخی نمایاں تھی۔رسولِ کریمﷺ کو اطلاع مل چکی تھی کہ بنو بکر نے اہلِ قریش کی مدد سے خزاعہ پر حملہ کیا ہے۔ آپﷺ اہلِ قریش کو فریب کار سمجھ رہے تھے۔ایسے دشمن کاآپﷺ کے پاس ایک ہی علاج تھا کہ فوج کشی کرو تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ ہم کمزور ہیں۔
’’اے محمد!‘‘ابو سفیان نے کہا۔’’میں یہ غلط فہمی رفع کرنے آیا ہوں کہ میں نے حدیبیہ کے صلح نامے کی خلاف ورزی نہیں کی۔اگر بنو بکر کی مدد کو قبیلۂ قریش کے چند آدمی میری اجازت کے بغیرچلے گئے تو یہ میرا قصور نہیں۔میں نے معاہدہ نہیں توڑا۔اگر تم چاہتے ہو تومیں معاہدے کی تجدید کیلئے تیار ہوں۔‘‘مؤرخین ابنِ ہشام اور مغازی کی تحریروں سے پتہ ملتا ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے نہ اس کی طرف دیکھا نہ اس کے ساتھ کوئی بات کی۔رسولِ کریمﷺ کی خاموشی نے ابو سفیان پر خوف طاری کر دیا۔وہ وہاں سے اٹھ آیا اور ابو بکرؓ سے جا ملا۔’’محمد میری کوئی بات سننے پر آمادہ نہیں۔‘‘ابو سفیان نے ابو بکر ؓسے کہا۔’’تم ہم میں سے ہو ابو بکر! خدا کی قسم، ہم گھر آئے مہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا کرتے کہ اس کی بات بھی نہ سنیں۔میں دوستی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘’’اگر محمد نے جو اﷲ کے رسولﷺ ہیں،تمہاری بات نہیں سنی تو ہم تمہاری کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے۔‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’ہم اس مہمان کی بات سنا کرتے ہیں جو ہماری بات سنتا ہے۔ابو سفیان! کیا تم نے محمد ﷺ کی بات سنی ہے کہ وہ اﷲ کا بھیجا ہوا رسولﷺ ہے؟کیا تم نے اﷲ کے رسولﷺ کی یہ بات نہیں سنی تھی کہ اﷲ ایک ہے اورا سکے سوا کوئی معبود نہیں۔سنی تھی تو تم رسولﷺ کے دشمن کیوں ہو گئے تھے؟‘‘’’کیا تم میری کوئی مدد نہیں کرو گے ابو بکر؟‘‘ابو سفیان نے التجا کی۔
’’نہیں ۔‘‘ابو بکر ؓنے کہا۔’’ہم اپنے رسول کے حکم کے پابند ہیں۔‘‘ابو سفیان مایوسی کے عالم میں سرجھکائے ہوئے چلا گیااورکسی سے حضرت عمرؓ کا گھر پوچھ کر ان کے سامنے جا بیٹھا۔
’’اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو مدینہ میں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی ہے۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’خداکی قسم! تم اسلام قبول کرنے والوں میں سے نہیں۔‘‘ابو سفیان نے عمرؓ کو مدینہ میں آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی کہ رسولِ کریمﷺ نے اس کے ساتھ بات تک نہیں کی اور ابو بکرؓ نے بھی اس کی مدد نہیں کی۔’’ میرے پاس اگر چیونٹیوں جیسی کمزور فوج بھی ہو تو بھی تمہارے خلاف لڑوں گا۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’تم میرے نہیں،میرے رسولﷺ اور میرے مذہب کے دشمن ہو۔میرا رویہ وہی ہو گا جو اﷲ کے رسولﷺ کا ہے۔‘‘ابو سفیان فاطمہؓ سے ملا۔حضرت علیؓ سے ملا لیکن کسی نے بھی ا سکی بات نہ سنی۔وہ مایوس اور نامراد مدینہ سے نکلا۔اس کے گھوڑے کی چال اب وہ نہیں تھی جو مدینہ کی طرف آتے وقت تھی۔گھوڑے کابھی جیسے سر جھکا ہوا تھا،وہ مکہ کو جا رہا تھا۔رسولِ خداﷺ نے اس کے جانے کے بعد ان الفاظ میں حکم دیا کہ مکہ پر حملہ کیلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں فوج تیار کی جائے ۔آپﷺ کے حکم میں خاص طور پرشامل تھاکہ جنگی تیاری اتنے بڑے پیمانے کی ہو کہ مکہ والوں کو فیصلہ کن شکست دے کر قریش کو ہمیشہ کیلئے تہہ و تیغ کر لیاجائے۔اس کے علاوہ حضورﷺ نے فرمایا کہ کوچ بہت تیز ہو گا اور اسے ایسا خفیہ رکھا جائے گا کہ مکہ والوں کو بے خبری میں دبوچ لیا جائے یا مکہ کے قریب اتنی تیزی سے پہنچا جائے کہ قریش کو مہلت نہ مل سکے کہ وہ اپنے اتحادی قبائل کو مدد کیلئے بلا سکیں ۔مدینہ میں مسلمانوں نے راتوں کوبھی سونا چھوڑ دیا۔جدھر دیکھو تیر تیار ہو رہے تھے ۔تیروں سے بھری ہوئی ترکشوں کے انبار لگتے جا رہے تھے۔برچھیاں بن رہی تھیں۔گھوڑے اور اونٹ تیار ہو رہے تھے۔تلواریں تیز ہو رہی تھیں۔عورتیں اور بچے بھی جنگی تیاریوں میں مصروف تھے۔رسولِ اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ بھاگتے دوڑتے نظر آتے تھے۔مدینہ میں ایک گھر تھا جس کے اندر کوئی اور ہی سرگرمی تھی۔وہ غیر مسلم گھرانہ تھا۔وہاں ایک اجنبی آیا بیٹھا تھا ۔گھر میں ایک بوڑھا تھا ،ایک ادھیڑ عمر آدمی،ایک جوان لڑکی ،ایک ادھیڑ عمر عورت اور دو تین بچے تھے۔’’میں مسلمانوں کے ارادے دیکھ آیا ہوں۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’ان کا ارادہ ہے کہ مکہ والوں کو بے خبری میں جا لیں۔بلا شک و شبہ محمد )ﷺ(جنگی چالوں کا ماہر ہے۔اس نے جو کہا ہے وہ کر کے دکھا دے گا۔‘‘’’ہم کیا کر سکتے ہیں ؟‘‘بوڑھے نے پوچھا۔’’میرے بزرگ!‘‘ اجنبی نے کہا۔’’ہم اور کچھ نہیں کر سکتے لیکن ہم مکہ والوں کو خبر دار کر سکتے ہیں کہ تیار رہو اور اِدھراُدھر کے قبیلوں کو اپنے ساتھ ملا لواور مکہ کے راستے میں کہیں گھات لگا کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑو۔مکہ پہنچنے تک ان پر شب خون مارتے رہو۔مسلمان جب مکہ پہنچیں گے تو ان کا دم خم ٹوٹ چکا ہو گا۔‘‘
’’قسم اس کی جسے میں پوجتا ہوں۔‘‘بوڑھے نے جوشیلی آواز میں کہا۔’’تم عقل والے ہو۔تم خدائے یہودہ کے سچے پجاری ہو۔خدائے یہودہ نے تمہیں عقل و دانش عطا کی ہے۔کیا تم مکہ نہیں جا سکتے؟‘‘’’نہیں ۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’مسلمان ہر غیر مسلم کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔یہ جانتے ہیں کہ میں یہودی ہوں، وہ مجھ پر شک کریں گے۔میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گا۔ مجھے ان یہودیوں کے خون کا انتقام لینا ہے جنہیں مسلمانوں نے قتل کیا تھا۔میری رگوں میں بنو قریظہ کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ میرا فرض ہے کہ میں مسلمانوں کو ضربیں لگاتا رہوں اور میں اپنا یہ فرض ادا نہ کروں تو خدائے یہودہ مجھے اس کتے کی موت مارے جس کے جسم پر خارش اور پھوڑے ہوتے ہیں اور وہ تڑپ تڑپ کر مرتا ہے ۔لیکن میں نہیں چاہتا کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں مسلمانوں کو ڈنک مارنے کیلئے زندہ رہنا چاہتا ہوں ۔‘‘’’میں بوڑھا ہوں ۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’مکہ دور ہے ،گھوڑے یا اونٹ پراتنا تیز سفر نہیں کر سکوں گا کہ مسلمانوں سے پہلے مکہ پہنچ جاؤں ۔یہ کام بچوں اور عورتوں کا بھی نہیں ۔میرا بیٹا ہے مگر بیمار ہے ۔‘‘’’اس انعام کو دیکھو جو ہم تمہیں دے رہے ہیں ۔‘‘اجنبی یہودی نے کہا ۔’’یہ کام کر دو ۔انعام کے علاوہ ہم تمہیں اپنے مذہب میں شامل کرکے اپنی حفاظت میں لے لیں گے۔‘‘ ’’کیا یہ کام میں کر سکتی ہوں ؟‘‘ادھیڑ عمر عورت نے کہا۔’’تم نے میری اونٹنی نہیں دیکھی ،تم نے مجھے اونٹنی کی پیٹھ پر کبھی نہیں دیکھا ۔اتنی تیز اونٹنی مدینہ میں کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘’’ہاں! ‘‘یہودی نے کہا۔’’تم یہ کام کر سکتی ہو ۔اونٹوں اور بکریوں کو باہر لے جاؤ۔تمہاری طرف کوئی دھیان نہیں دے گا۔تم انہیں چرانے کیلئے ہر روز لے جاتی ہو، آج بھی لے جاؤ اورمدینہ سے کچھ دور جاکر اپنی اونٹنی پر سوار ہو جاؤ ۔اس نے ایک کاغذ ایک عورت کو دیتے ہوئے کہا اسے اپنے سر کے بالوں میں چھپا لو۔اونٹنی کو دوڑاتی لے جاؤ اور مکہ میں ابو سفیان کے گھر جاؤ اور بالوں میں سے یہ کاغذ نکال کر اسے دے دو۔‘‘’’لاؤ۔‘‘عورت نے کاغذ لیتے ہوئے کہا۔’’میرا انعام میرے دوسرے ہاتھ پر رکھ دو اور اس یقین کے ساتھ میرے گھر سے جاؤ کہ مسلمان مکہ سے واپس آئیں گے تو ان کی تعداد آدھی بھی نہیں ہو گی۔اور ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور شکست ان کے چہروں پر لکھی ہوئی ہو گی۔‘‘یہودی نے سونے کے تین ٹکڑے عورت کو دیئے اور بولا۔’’یہ اس انعام کا نصف حصہ ہے جو ہم تمہیں اس وقت دیں گے جب تم یہ پیغام ابو سفیان کے ہاتھ میں دے کر واپس آ جاؤ گی۔‘‘’’اگر میں نے کام کر دیا اور زندہ واپس نہ آسکی تو؟‘‘’’باقی انعام تمہارے بیمار خاوند کو ملے گا۔‘‘یہودی نے کہا۔
یہ عورت) کسی بھی تاریخ میں نام نہیں دیا گیا(اپنے اونٹ اور بکریاں چرانے کیلئے لے گئی۔ انہیں وہ ہانکتی جا رہی تھی کسی نے بھی نہ دیکھا کہ اونٹوں کی پیٹھیں ننگی تھیں لیکن ایک اونٹنی سواری کیلئے تیار کی گئی تھی ۔اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور ایک تھیلا بھی بندھا ہو اتھا۔ عورت اس ریوڑ کو شہر سے دور لے گئی۔ بہت دیر گزر گئی تو یہودی نے اس جوان لڑکی کو جو گھر میں تھی ،کہا۔’’ وہ جا چکی ہو گی۔ تم جاؤاور اونٹوں اور بکریوں کو شام کے وقت واپس لے آنا۔‘‘وہ لڑکی ہاتھ میں گدڑیوں والی لاٹھی لے کر باہر نکل گئی۔ لیکن وہ شہر سے باہر جانے کی بجائے شہر کے اندر چلی گئی۔وہ اس طرح اِدھر اُدھر دیکھتی جا رہی تھی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہی ہو۔وہ گلیوں میں سے گزر ی اور ایک میدان میں جا رکی ۔وہاں بہت سے مسلمان ڈھالیں اور تلواریں لیے تیغ زنی کی مشق کر رہے تھے۔ایک طرف شتر دوڑ ہو رہی تھی اور تماشائیوں کابھی ہجوم تھا ۔لڑکی اس ہجوم کے اردگرد گھومنے لگی یہ کسی کو ڈھونڈ رہی تھی ۔اسکے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے جو بڑھتے جا رہے تھے ۔اسکے قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ایک جوان سال آدمی نے اسے دیکھ لیا اور بڑی تیزچلتااس کے پیچھے گیا۔قریب پہنچ کر اس نے دھیمی آواز سے کہا:’’زاریہ!‘‘لڑکی نے چونک کر پیچھے دیکھا اور ا سکے چہرے سے پریشانی کا تاثر اُڑ گیا۔’’وہیں آجاؤ !‘‘زاریہ نے کہا اور وہ دوسری طرف چلی گئی۔زاریہ کو وہاں پہنچتے خاصہ وقت لگ گیا جہاں وہ عورت اونٹوں اور بکریوں کو لے جایا کرتی تھی۔ اونٹ اور بکریاں وہیں تھیں۔ وہ عورت اور ا س کی اونٹنی وہاں نہیں تھیں ۔زاریہ وہاں اس انداز سے بیٹھ گئی جیسے بکریاں چرانے آئی ہو ۔وہ بار بار اٹھتی اور شہر کی طرف دیکھتی تھی۔اسے اپنی طرف کوئی آتا نظر نہیں آ رہا تھا ۔وہ ایک بار پھرپریشان ہونے لگی ۔سورج ڈوبنے کیلئے افق کی طرف جا رہا تھا جب وہ آتا دکھائی دیا ۔زاریہ نے سکون کی آہ بھری اور بیٹھ گئی ۔’’او ہ عبید!‘‘ زاریہ نے اسے اپنے پاس بٹھا کر کہا۔’’تم اتنی دیر سے کیوں آئے ہو ؟میں پریشان ہو رہی ہوں۔‘‘’’کیا میں نے تمہیں پریشانی کا علاج بتایا نہیں؟‘‘عبید نے کہا۔’’میرے مذہب میں آجاؤاور تمہاری پریشانی ختم ہو جائے گی۔جب تک تم اسلام قبول نہیں کرتیں ،میں تمہیں اپنی بیوی نہیں بنا سکتا۔
’’یہ باتیں پھر کر لیں گے۔‘‘ زاریہ نے کہا ۔ لیکن آج میرے دل پر بوجھ آ پڑا ہے ۔‘‘’’کیسا بوجھ؟‘‘’’مسلمان­مکہ پر حملہ کرنے جا رہے ہیں ۔‘‘زاریہ نے کہا۔’’تم نہ جاؤ عبید۔تمہیں اپنے مذہب کی قسم ہے نہ جانا۔کہیں ایسا نہ ہو……‘‘’’مکہ والوں میں اتنی جان نہیں رہی کہ ہمارے مقابلے میں جم سکیں۔‘‘عبید نے کہا۔’’لیکن زاریہ! ان میں جان ہو نہ ہو،مجھے اگر میرے رسول ﷺ آگ میں کود جانے کا حکم دیں گے تو میں آپﷺ کا حکم مانوں گا۔دل پر بوجھ نہ ڈالو زاریہ! ہمارا حملہ ایسا ہو گا کہ انہیں اس وقت ہماری خبر ہو گی جب ہماری تلواریں ان کے سروں پر چمک رہی ہوں گی۔‘‘’’ایسانہیںہو گا عبید۔‘‘’’ایسانہیں ہو گا۔وہ گھات میں بیٹھے ہوں گے۔آج رات کے پچھلے پہر یا کل صبح ابو سفیان کو پیغام مل جائے گا کہ مسلمان تمہیں بے خبری میں دبوچنے کیلئے آ رہے ہیں ……تم نہ جانا عبید! قریش اور ان کے دوست قبیلے تیار ہوں گے۔‘‘’’کیا کہہ رہی ہو زاریہ ؟‘‘عبید نے بدک کر پوچھا۔’’ابو سفیان کو کس نے پیغام بھیجا ہے؟‘‘’’ایک یہودی نے۔‘‘زاریہ نے کہا۔’’اور پیغام میرے بڑے بھائی کی بیوی لے کر گئی ہے……میری محبت کا اندازہ کرو عبید! میں نے تمہیں وہ راز دے دیا ہے جو مجھے نہیں دیناچاہیے تھا ۔یہ صرف اس لیے دیا ہے کہ تم کسی بہانے رک جاؤ ،قریش اور دوسرے قبیلے مسلمانوں کا کشت وخون کریں گے کہ کوئی قسمت والا مسلمان زندہ واپس آئے گا۔‘‘عبید نے اس سے پوچھ لیا کہ اس کے بھائی کی بیوی کس طرح اور کس وقت روانہ ہوئی ہے؟عبید اٹھ کھڑا ہوا اور زاریہ جیسی حسین اور نوجوان لڑکی اور اس کی والہانہ محبت کو نظر انداز کرکے شہر کی طرف دوڑ پڑا،اسے زاریہ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔’’ عبید ……رک جاؤ عبید……‘‘اور عبید زاریہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔رسولِ کریمﷺ کو پوری تفصیل سے بتایا گیا کہ ایک عورت بڑی تیز رفتار اونٹنی پرا بو سفیان کے نام پیغام اپنے بالوں میں چھپا کر لے گئی ہے ۔اسے ابھی راستے میں ہوناچاہیے تھا۔رسولِ کریمﷺ نے اسی وقت حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بلا کر اس عورت کی اور اس کی اونٹنی کی نشانیاں بتائیں اور انہیں اس عورت کو راستے میں پکڑنے کو بھیج دیا ۔حضرت علیؓ اور حضرت ؓزبیر کے گھوڑے عربی نسل کے تھے اور انہوں نے اسی وقت گھوڑے تیار کیے اور ایڑیں لگا دیں۔اس وقت سورج غروب ہو رہا تھا۔ دونوں شہسوار مدینہ سے دور نکل گئے تو سورج غروب ہو گیا۔
اگلے دن کاسورج طلوع ہوا تو حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کے گھوڑے مدینہ میں داخل ہوئے ان کے درمیان ایک اونٹنی تھی جس پر ایک عورت سوارتھی۔مدینہ کے کئی لوگوں نے اس عورت کو پہچان لیا۔اسے رسولِ کریمﷺ کے پاس لے گئے اس کے بالوں سے جو پیغام نکالا گیا تھاوہ حضورﷺ کے حوالے کیا گیا۔آپﷺ نے پیغام پڑھا تو چہرہ لال ہو گیا ۔یہ بڑا ہی خطرناک پیغام تھا ۔اس عورت نے اقبالِ جرم کر لیا اور پیغام دینے والے یہودی کا نام بھی بتا دیا ۔رسول ِ اکرمﷺ نے اس عورت کو سزائے موت دے دی لیکن یہودی اس کے گھر سے غائب ہو گیا تھا اگر یہ پیغام مکہ پہنچ جاتا تو مسلمانوں کا انجام بہت برا ہوتا،مکہ پر فوج کشی کی قیادت رسول اﷲﷺ فرما رہے تھے۔رسول اﷲﷺ نے تیاریوں کا جائزہ لیا اور کوچ کا حکم دے دیا۔اس اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار پیادہ اور سوار تھی۔اس لشکر میں مدینہ کے ارد گرد کے وہ قبیلے بھی شامل تھے جو اسلام قبول کرچکے تھے۔مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ لشکر مکہ جا رہا تھا تو راستے میں دو تین قبیلے اس لشکر میں شامل ہو گئے۔ تقریباً تمام مسلم اور غیر مسلم مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کی قیادت میں اس لشکر کی پیش قدمی غیر معمولی طور پر تیز تھی اور یہ مسلمانوں کا پہلا لشکر تھا جس کی نفری دس ہزار تک پہنچی تھی۔یہ لشکر مکہ کے شمال مغرب میں ایک وادی مرّالظہر میں پہنچ گیا جو مکہ سے تقریباً دس میل دور ہے ۔اس وادی کا ایک حصہ وادیٔ فاطمہ کہلاتا ہے ۔رسولِ اکرمﷺ اس مقصد میں کامیاب ہو چکے تھے کہ اہلِ مکہ کو اسلامی لشکر کی آمدکی اطلاع نہ ہو ۔اب خبر ہو بھی جاتی تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔اب قریش دوسرے قبیلوں کو مدد کیلئے بلانے نہیں جا سکتے تھے ۔رسولِ اکرمﷺ نے کسی نہ کسی بہروپ میں اپنے آدمی مکہ کے قریب گردونواح میں بھیج دیئے تھے ۔تھوڑی دیر آرام کرکے اسلامی لشکر مکہ کی طرف چل پڑا۔ جعفہ ایک مقام ہے جہاں لشکر کا ہراول دستہ پہنچاتو مکہ کی طرف سے چھوٹا سا ایک قافلہ آتا دکھائی دیا۔ اسے قریب آنے دیا گیا ۔دیکھا وہ قریش کا ایک سرکردہ آدمی عباس تھا۔جو اپنے پورے خاندان کو ساتھ لیے مدینہ کو جا رہا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے حضرت عباسؓ کے نام سے تاریخِ اسلام میں شہرت حاصل
کی۔یہ آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓبن عبدالمطلب تھے(ا نہیں رسولِ اکرمﷺ کے حضور لے جایا گی
’’کیوں عباسؓ!‘‘رسولِ اکرمﷺ نے کہا ۔’’کیا تو اس لیے مکہ سے بھاگ نکلا ہے کہ مکہ پر قیامت ٹوٹنے والی ہے ؟‘‘’’خدا کی قسم! مکہ والوں کو خبر ہی نہیں کہ محمد )ﷺ(کا لشکر ان کے سر پر آگیا ہے ۔‘‘عباس ؓنے کہا۔’’اور میں تیری اطاعت قبول کرنے کو مدینہ جا رہا تھا۔‘‘’’میری نہیں عباسؓ!‘‘ رسولِ خداﷺ نے کہا۔’’اطاعت اس اﷲ کی قبول کرو جو وحدہٗ لا شریک ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔‘‘حضرت عباس ؓ نے اسلام قبول کر لیا۔رسولِ کریمﷺ نے انہیں گلے لگا لیا۔)نوٹ: عباس ؓ بن عبدالمطلب آپ ﷺ سے تقریباً تین سال بڑے تھے اور آپﷺ بچپن میں اُن کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ حضرت عباس ؓ بن عبدالمطلب کے قبولِ اسلام کے وقت کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔مشہور قول یہ ہے کہ آپؓ غزوہ خیبر کے بعد اسلام قبول کر چکے تھے اور حضورﷺ کی ہدایت پر ہی اب تک مکہ میں مقیم تھے۔( آپﷺ کو مسرت اس سے ہوئی کہ اہلِ قریش مکہ میں بے فکر اور بے غم بیٹھے تھے ۔حضرت عباس ؓنے جب یہ صورتِ حال دیکھی تو انہوں نے رسول اﷲﷺ سے کہا کہ ’’اہلِ قریش آخر ہمارا اپنا خون ہیں ۔دس ہزار کے اس لشکر کے قدموں میں قریش کے بچے اور عورتیں بھی کچلی جائیں گی۔‘‘عباسؓ نے رسول اﷲﷺ کو یہ بھی بتایا کہ’’ قریش میں اسلام کی قبولیت کی ایک لہر پیدا ہو گئی ہے ۔کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ انہیں صلح کاایک اور موقع دیا جائے؟‘‘رسولِ اکرمﷺ نے عباسؓ سے کہا کہ وہ ہی مکہ جائیں اور ابو سفیان سے کہیں کہ مسلمان مکہ پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں اگر اہلِ مکہ نے مقابلہ کیا تو کسی کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا ،مکہ شہر مسلمانوں کے حوالے کر دیا جائے۔‘‘رسولِ اکرمﷺ نے عباسؓ کو نہ صرف مکہ جانے کی اجازت دی بلکہ انہیں اپنا خچر بھی دیا جو آپﷺ گھوڑے کے علاوہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ابو سفیان مدینہ سے جو تاثر لے کر گیا تھا وہ اس کے لیے بڑا ہی ڈراؤنا اور خطرناک تھا۔وہ تجربہ کار آدمی تھا ۔وہ مسلمانوں کی شجاعت اور عزم کی پختگی سے بھی واقف تھا۔ اسے ہر لمحہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ مسلمان مکہ پر حملہ کریں گے۔ اس کی بیوی ہند اس کے سالار عکرمہ اور صفوان اس کا حوصلہ بڑھاتے رہتے تھے ۔ لیکن اسے اپنے ذاتی وقار کی اور اپنے قبیلے کی تباہی نظر آرہی تھی۔وہ ہر وقت بے چین رہنے لگا تھا ۔ایک روز وہ اس قدر بے چین ہوا کہ گھوڑے پر سوار ہو کر مکہ سے باہر چلا گیا ۔اس کی کوئی حس اسے بتا رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے ۔اس کے دل پر گھبراہٹ طاری ہوتی چلی گئی ۔اس نے اپنے آپ سے کہا کہ ’’ہو گا یہی کہ مسلمان مکہ پر حملہ کرنے آجائیں گے۔‘‘ یہ سوچ کروہ یہ دیکھنے کیلئے مدینہ کے راستے پر ہو لیا کہ مدینہ کی فوج آ ہی تو نہیں گئی؟ اسے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے ہواکی بو بھی بدلی بدلی سی ہے۔وہ ان سوچوں میں گم مکہ سے چند میل دور نکل گیا۔اسے عباسؓ ایک خچر پر سوار اپنی طرف آتے دکھائی دیئے ۔وہ رک گیا
’’عباس!‘‘ اس نے پوچھا۔’’کیا تم اپنے پورے خاندان کے ساتھ نہیں گئے تھے؟واپس کیوں آ گئے ہو؟‘‘’’میرے خاندان کی مت پوچھ ابو سفیان !‘‘ عباسؓ نے کہا۔’’مسلمانوں کے دس ہزار پیادوں ،گھوڑ سواروں اور شتر سواروں کا لشکر مکہ کے اتنا قریب پہنچ چکا ہے جہاں سے چھوڑے ہوئے تیر مکہ کے دروازوں میں لگ سکتے ہیں۔کیا تومکہ کو اس لشکرسے بچا سکتا ہے؟کسی کو مدد کیلئے بلا سکتا ہے؟صلح کا معاہدہ تیرے سالاروں نے توڑا ہے ۔محمدﷺ جسے میں اﷲکا رسولﷺ مان چکا ہوں سب سے پہلے تجھے قتل کرے گا۔ اگر تو میرے ساتھ رسول اﷲﷺ کے پاس چلا چلے تو میں تیری جان بچا سکتا ہوں۔‘‘’’خدا کی قسم! میں جانتا تھا مجھ پر یہ وقت بھی آئے گا۔‘‘ ابو سفیان نے کہا۔’’چل! میں تیرے ساتھ چلتا ہوں ۔‘‘شام کے بعد عباسؓ ابو سفیان کو ساتھ لیے ہوئے مسلمانوں کے پڑاؤ میں داخل ہوئے ۔حضرت عمرؓ کیمپ کے پہرے داروں کو دیکھتے پھر رہے تھے ۔انہوں نے ابو سفیان کو دیکھا تو آگ بگولہ ہو گئے ۔کہنے لگے کہ ’’اﷲ کے دین کا یہ دشمن ہمارے پڑاؤ میں رسول اﷲﷺ کی اجازت کے بغیر آیا ہے ۔‘‘عمرؓ رسول اﷲﷺ کے خیمے کی طرف دوڑ پڑے۔ وہ ابو سفیان کے قتل کی اجازت لینے گئے تھے۔لیکن عباسؓ بھی پہنچ گئے۔ رسولِ اکرمﷺ نے انہیں صبح آنے کو کہا۔عباسؓ نے ابو سفیان کو رات اپنے پاس رکھا ۔’’ابو سفیان! ‘‘صبح رسولِ کریمﷺ نے ابو سفیان سے پوچھا۔’’کیا تو جانتا ہے کہ اﷲ وحدہٗ لاشریک ہے اور وہی معبود ہے اور وہی ہم سب کا مدد گار ہے۔‘‘’’میں نے یہ ضرور مان لیا ہے کہ جن بتوں کی عبادت میں کرتا رہا ہوں وہ بتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ابو سفیان نے کہا ۔’’وہ میری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘‘’’پھر یہ کیوں نہیں مان لیتا کہ میں اس اﷲ کا رسول ہوں جومعبود ہے ۔‘‘رسولِ کریمﷺ نے پوچھا۔’’میں شاید یہ نہ مانوں کہ تم اﷲ کے رسول ہو۔‘‘ ابو سفیان ہاری ہوئی سی آواز میں بولا۔ ’’ابو سفیان! ‘‘عباسؓ نے قہر بھری آواز میں کہا۔’’کیا تو میری تلوار سے اپنا سر تن سے جدا کرانا چاہتا ہے ؟‘‘عباسؓ نے رسولِ کریمﷺ سے کہا ۔’’یا رسول اﷲﷺ! ابو سفیان ایک قبیلے کا سردار ہے ،باوقار اور خوددار بھی ہے۔ یہ ملتجی ہو کہ آیا ہے۔‘‘ابو سفیان پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ اس نے بے اختیار کہا۔’’محمد اﷲ کے رسول ہیں، میں نے تسلیم کر لیا ،میں نے مان لیا۔‘‘
’’جاؤ!‘‘ رسولِ کریمﷺ نے کہا ۔’’مکہ میں اعلان کردو کہ مکہ کے وہ لوگ مسلمانوں کی تلواروں سے محفوظ رہیں گے جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو مسجد میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو اپنے دروازے بند کر کے اپنے گھروں میں رہیں گے۔‘‘ابو سفیانؓ اسی وقت مکہ کو روانہ ہو گئے اور رسولِ اکرمﷺ نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلۂ خیال شروع کر دیا کہ مکہ میں عکرمہ اور صفوان جیسے ماہر او ردلیر سالار موجود ہیں ۔وہ مقابلہ کیے بغیر مکہ پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔
اونٹ بہت تیز دوڑا چلا آ رہا تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچا تو اس کے سوار نے چلانا شروع کر دیا ۔’’عزیٰ او رہبل کی قسم! مدینہ والوں کا لشکر مرالظہر میں پڑاؤ کیے ہوئے ہے اور میں نے اپنے سردار ابو سفیان کو وہاں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اہلِ قریش ہو شیار ہو جاؤ! محمد )ﷺ(کا لشکر آ رہا ہے۔‘‘ اس نے اونٹ کو روکا اور اسے بٹھا کر اترنے کے بجائے اس کی پیٹھ سے کود کر اترا۔اس کی پکار جس نے سنی وہ دوڑا آیا ۔وہ گھبراہٹ کے عالم میں یہی کہے جا رہا تھاکہ مدینہ کالشکر مرالظہر تک آن پہنچا ہے اور ابو سفیان کو اس لشکر کے پڑاؤ کی طرف جاتے دیکھا ہے ۔مکہ کے لوگ اس کے اردگرد اکھٹے ہوتے چلے گئے۔
’’ابو حسنہ!‘‘ ایک معمر آدمی نے اس سے پوچھا۔’’تیرا دماغ صحیح نہیں یا تو جھوٹ بول رہا ہے ۔‘‘’’میری بات کو جھوٹ سمجھو گے تواپنے انجام کو بہت جلد پہنچ جاؤ گے ۔‘‘شترسوار ابو حسنہ نے کہا۔’’کسی سے پوچھو ہمارا سردار ادھر کیوں گیا ہے؟‘‘ اس نے پھر چلانا شروع کر دیا۔’’اے قبیلۂ قریش !مسلمان اچھی نیت سے نہیں آئے۔‘‘ابو حسنہ کا واویلا مکہ کی گلیوں سے ہوتا ہوا ابو سفیانؓ کی بیوی ہند کے کانوں تک پہنچا۔ وہ آگ بگولہ ہوکہ باہر آئی اور اس ہجوم کو چیر نے لگی جس نے ابو حسنہ کو گھیر رکھا تھا۔ ’’ابو حسنہ !‘‘اس نے ابو حسنہ کا گریبان پکڑ کر کہا۔’’میری تلوار محمد کے خون کی پیاسی ہے۔ تومیری تلوار سے اپنی گردن کٹوانے کیوں آگیا ہے ؟کیا تو نہیں جانتا کہ جس پر تو جھوٹا الزام تھوپ رہا ہے وہ میرا شوہر اور قبیلے کا سردار ہے۔‘‘’’اپنی تلوار گھر سے لے آ خاتون!‘‘ ابو حسنہ نے کہا۔’’لیکن تیرا شوہر آجائے تو اس سے پوچھنا کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟‘‘’’اور تو کہتا ہے کہ محمد)ﷺ( لشکر لے کر آیا ہے۔‘‘ ہند نے پوچھا۔’’خدا کی قسم!‘‘ ابو حسنہ نے کہا۔’’میں وہ کہتا ہوں جومیں نے دیکھا ہے ۔‘‘’’اگر تو سچ کہتا ہے تو مسلمانوں کو موت ادھر لے آئی ہے ۔‘‘ہند نے کہا۔ابو سفیانؓ واپس آ رہے تھے ۔اہل ِمکہ ایک میدان میں جمع ہو چکے تھے ۔رسولِ کریمﷺ کی پیش قدمی اب راز نہیں رہ گئی تھی لیکن اب کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اہلِ قریش اب کسی کو مدد کیلئے نہیں بلا سکتے تھے۔ابو سفیان ؓآ رہے تھے۔ لوگوں پر خاموشی طاری ہو گئی۔ ابو سفیانؓ کی بیوی ہند لوگوں کو دائیں بائیں دھکیلتی آگے چلی گئی۔اس کے چہرے پر غضب اور قہر تھااور اس کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکل رہے تھے ۔ابو سفیانؓ نے لوگوں کے سامنے آ کر گھوڑا روکا۔ انہوں نے اپنی بیوی کی طرف توجہ نہ دی۔
’’اہلِ قریش! ‘‘ابو سفیان ؓ نے بلند آواز سے کہا۔’’پہلے میری بات ٹھنڈے دل سے سن لینا۔ پھر کوئی اوربات کہنا۔میں تمہارا سردار ہوں، مجھے تمہارا وقار عزیز ہے ۔محمد ﷺاتنا زیادہ لا و لشکر لیکر آیاہے جس کے مقابلے میں تم قتل ہونے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔اپنی عورتوں کو بچاؤ، اپنے بچوں کو بچاؤ ،قبول کرلو اس حقیقت کو جو تمہارے سر پر آ گئی ہے۔ تمہارے لیے بھاگ جانے کا بھی کوئی راستہ نہیں رہا۔‘‘’’ہمیں یہ بتا ہمارے سردار!ہم کیا کریں؟‘‘لوگوں میں سے کسی کی آواز آئی۔’’محمدﷺ کی اطاعت قبول کرلینے کے سوااور کوئی راستہ نہیں۔‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’خداکی قسم! مسلمان ہمیں پھر بھی نہیں بخشیں گے۔‘‘ایک اور آواز اٹھی۔’’وہ اپنے مقتولوں کا بدلہ لیں گے ۔وہ سب سے پہلے تمہیں قتل کریں گے۔ اُحد میں تمہاری بیوی نے ان کی لاشوں کو چیرا پھاڑا تھا ۔‘‘ہند الگ کھڑی پھنکار رہی تھی۔’’میں تم سب کی سلامتی کی ضمانت لے آیا ہوں ۔‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’میں محمدﷺ سے مل کر آ رہا ہوں۔ اس نے کہا ہے کہ تم میں سے جو میرے گھر آجائیں گے وہ مسلمانوں کے جبر و تشد د سے محفوظ رہیں گے۔‘‘’’کیا مکہ کے سب لوگ تمہارے گھر میں سما سکتے ہیں ؟‘‘کسی نے پوچھا۔’’نہیں!‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’محمدﷺ نے کہا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے اور ان کے دروازے بند رہیں گے ان پر بھی مسلمان ہاتھ نہیں اٹھائیں گے،اور جولوگ خانۂ خداکے اندر چلے جائیں گے ان کو بھی مسلمان اپنا دوست سمجھیں گے۔وہ دشمن صرف اسے جانیں گے جو ہتھیار لے کر باہر آئے گا۔‘‘ابو سفیانؓ گھوڑے سے اتر آئے اور بولے۔’’تمہاری سلامتی اسی میں ہے، تمہاری عزت اسی میں ہے کہ تم دوستوں اور بھائیوں کی طرح ان کا استقبال کرو۔‘‘’’ابو سفیان! ‘‘قریش کے مشہور سالار عکرمہ نے للکار کر کہا۔’’ہم اپنے قبیلے کے قاتلوں کا استقبال تلواروں اور برچھیوں سے کریں گے۔‘‘’’ہمارے تیر ان کا استقبال مکہ سے دور کریں گے۔‘‘قریش کے دوسرے دلیر اور تجربہ کار سالار صفوان نے کہا۔’’ہمیں اپنے دیوتاؤں کی قسم! ہم دروازے بند کرکے اپنے گھروں میں بند نہیں رہیں گے۔‘‘’’حالات کو دیکھو عکرمہ ۔‘‘ابو سفیانؓ نے کہا۔’’ ہوش کی بات کرو صفوان،وہ ہم میں سے ہیں ۔آج خالد محمدﷺ کے ساتھ جا ملا ہے تو مت بھول کہ اس کی بہن فاختہ تمہاری بیوی ہے ،کیا تو اپنی بیوی کے بھائی کو قتل کرے گا؟کیا تجھے یاد نہیں رہا کہ میری بیٹی اُمّ ِ حبیبہؓ محمد ﷺ کی بیوی ہے۔کیا تو یقین نہیں کرے گا کہ میں اپنے قبیلے کی عزت اور ناموس کی خاطر مدینہ گیا تو میری اپنی بیٹی نے میری بات سننے سے انکار کر دیا تھا۔میں محمدﷺ کے گھر میں چارپائی پر بیٹھنے لگا تو اُمّ ِ حبیبہؓنے میرے نیچے سے چارپائی پر بچھی ہوئی چادر کھینچ لی تھی کہ اس مقدس چادر پر رسول اﷲ ﷺ کا دشمن نہیں بیٹھ سکتا،باپ اپنی بیٹی کا دشمن نہیں ہو سکتا صفوان۔‘‘
مکہ کے لوگوں میں عکرمہ اور صفوان اور دو تین اور آدمیوں کے سوا اور کسی کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ قبیلہ قریش کی خاموشی ظاہرکرتی تھی کہ ان لوگوں نے ابو سفیانؓ کا مشورہ قبول کرلیا ہے۔ ابو سفیانؓ کے چہرے پر اطمینان کا تاثر آگیا مگر اس کی بیوی ہند جو الگ کھڑی پھنکار رہی تھی ،تیزی سے ابو سفیانؓ کی طرف بڑھی اور اس کی مونچھیں جو خاصی بڑی تھیں اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیں۔
’’میں سب سے پہلے تجھے قتل کروں گی۔‘‘ہند نے ابو سفیان کی مونچھیں زور زور سے کھینچتے ہوئے کہا۔’’ بزدل بوڑھے! تو نے قبیلے کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔‘‘اس نے ابو سفیانؓ کی مونچھیں چھوڑ کر اس کے منہ پر بڑی زور سے تھپڑ مارا اور لوگوں سے مخاطب ہوکر بولی۔’’ تم لوگ اس بوڑھے کو قتل کیوں نہیں کر دیتے ہو جو تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار کرنے کی باتیں کر رہا ہے ۔‘‘مؤرخ مغازی اور ابنِ سعد لکھتے ہیں کہ ہند نے اپنے خاوند کے ساتھ اتنا توہین آمیز سلوک کیا تو لوگوں پر سناٹا طاری ہو گیا ۔ابو سفیانؓ جیسے بت بن گیا ہو ۔عکرمہ اور صفوان ان کے درمیان آ گئے ۔’’ہم لڑیں گے ہند !‘‘صفوان نے کہا۔’’ اسے جانے دے۔ اس پر محمد)ﷺ( کا جادو چل گیا ہے ۔‘‘ابو سفیانؓ خاموش رہے۔شام تک اہلِ قریش دو حصوں میں بٹ چکے تھے ۔زیادہ تر لوگ لڑنے کے حق میں نہیں تھے ۔باقی سب عکرمہ ،صفوان اور ہند کاساتھ دے رہے تھے۔شام کے بعد صفوان اپنے گھر گیا۔ اس کی بیوی جس کا نام فاختہ تھا خالدؓ بن ولید کی بہن تھی۔وہ بھی ابو سفیانؓ کی باتیں سن چکی تھی ۔’’کیا میں نے ٹھیک سنا ہے کہ تم اپنے قبیلے کے سردار کی نافرمانی کر رہے ہو؟‘‘فاختہ نے صفوان سے پوچھا۔’’اگر فرمانبرداری کرتا ہوں تو پورے قبیلے کا وقارتباہ ہوتا ہے ۔قبیلے کا سرداربزدل ہو جائے تو قبیلے والوں کو بزدل نہیں ہونا چاہیے ۔سرداراپنے قبیلے کے دشمن کو دوست بنا لے تو وہ قبیلے کا دوست نہیں ہو سکتا۔‘‘’’کیا تم مسلمانوں کا مقابلہ کرو گے؟‘‘فاختہ نے پوچھا۔’’تو کیا تم یہ پسند کرو گی کہ تمہارا شوہر اپنے گھر کے دروازے بند کرکے اپنی بیوی کے پاس بیٹھ جائے اوردشمن اس کے دروازے کے سامنے دندناتا پھرے۔ کیا میرے بازو ٹوٹ گئے ہیں ؟کیا میری تلوار ٹوٹ گئی ہے؟کیا تم اس لاش کو پسند نہیں کرو گی جو تمہاری گھر میں لائی جائے گی اور سارا قبیلہ کہے گا کہ یہ ہے تمہارے خاوند کی لاش۔جو بڑی بہادری سے لڑتاہوا مارا گیا ہے۔یاتم اس شوہر کو پسند کرو گی جو تمہارے پاس بیٹھارہے گا اور لوگ تمہیں کہیں گے کہ یہ ہے ایک بزدل اور بے وقار آدمی کی بیوی…… جس نے اپنی بستی اور عبادت گاہ اپنے دشمن کے حوالے کردی۔تم مجھے کس حال میں دیکھنا پسند کرو گی؟‘‘
’’میں نے تم پر ہمیشہ فخر کیا ہے صفوان۔‘‘فاختہ نے کہا۔’’عورتیں مجھے کہتی ہیں کہ تمہارا خاوند قبیلے کی آنکھ کا تارا ہے لیکن اب حالات کچھ او رہیں۔ تمہارا ساتھ دینے والے بہت تھوڑے…… بہت تھوڑے ہیں۔سنا ہے مدینہ والوں کی تعدا دبہت زیادہ ہے اور اب میرا بھائی خالد بھی ان کے ساتھ ہے۔تم جانتے ہو وہ لڑنے مرنے والا آدمی ہے ۔‘‘’’کیا تم مجھے اپنے بھائی سے ڈرا رہی ہو فاختہ؟‘‘’’نہیں!­‘‘فاختہ نے کہا ۔’’مجھے خالد مل جاتاتو میں اسے بھی یہی کہتی جومیں تمہیں کہ رہی ہوں ۔وہ میرا بھائی ہے ۔وہ تمہارے ہاتھ سے مارا جا سکتا ہے ۔تم اس کے ہاتھ سے مارے جا سکتے ہو۔ تم ایک دوسرے کے مقابلے میں نہ آؤ۔میں اس کی بہن اور تمہاری بیوی ہوں۔ لاش تمہاری ہوئی یا خالد کی ،میرا غم ایک جیسا ہو گا۔‘‘’’یہ کوئی عجیب بات نہیں فاختہ !‘‘صفوان نے کہا۔’’ دشمنی ایسی پیدا ہو گئی ہے کہ باپ بیٹے کا اور بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا ہے۔ اگر میں تمہارے رشتے کا خیال رکھوں تو……‘‘’’تم میرے رشتے کا خیال نہ رکھو۔‘‘فاختہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔’’قبیلے کا سردار تمہیں کہہ رہا ہے لڑائی نہیں ہو گی ۔محمد)ﷺ(کی اطاعت قبول کر لیں گے ۔پھر تم لڑائی کا ارادہ ترک کیوں نہیں کر دیتے ؟تمہارے ساتھ بہت تھوڑے آدمی ہوں گے۔‘‘ ’’میں اطاعت قبول کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘صفوان نے کہا۔’’پھرمیری ایک بات مان لو! ‘‘فاختہ نے کہا۔’’خالد کے آمنے سامنے نہ آنا۔اسے میری ماں نے جنم دیا ہے۔ ہم دونوں نے ایک ماں کا دودھ پیا ہے ۔وہ جہاں کہیں بھی ہے ،بہن یہی سننا چاہتی ہے کہ اس کابھائی زندہ ہے۔ میں بیوہ بھی نہیں ہونا چاہتی صفوان……‘‘’’پھر اپنے بھائی سے جا کہ کہو کہ مکہ کے قریب نہ آئے۔‘‘صفوان نے کہا۔’’ وہ میرے سامنے آئے گا تو ہمارے رشتے ختم ہو جائیں گے۔‘‘فاختہ کے آنسو صفوان کے ارادوں کو ذرا بھی متزلزل نہ کر سکے۔رسولِ کریمﷺ نے ایک اور انتظام کیا۔انہوں نے چند ایک آدمی مختلف بہروپوں میں مکہ کے اردگرد چھوڑ رکھے تھے۔ان کا کام یہ تھا کہ مکہ سے کوئی آدمی باہر نکل کر کہیں جاتا نظر آئے تو اسے پکڑ لیں۔جاسوسی کا یہ اہتمام اس لیے کیا گیاتھاکہ قریش اپنے دوست قبائل کو مدد کیلئے نہ بلا سکیں۔دوسرے ہی دن دو شتر سواروں کو پکڑا گیا جو عام سے مسافر معلوم ہوتے تھے۔انہیں مسلمانوں کے پڑاؤ میں لے جایا گیا ،ایک دو دھمکیوں سے ڈر کر انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی۔ان میں سے ایک یہودی تھا اور دوسرا قبیلہ قریش کا۔وہ مکہ سے چند میل دور رہنے والے قبیلہ بنو بکر کے ہاں یہ اطلاع لے کے جا رہے تھے کہ مسلمان مرّالظہر میں پڑاؤ کیے ہوئے ہیں ۔بنو بکر کو یہ بھی پیغام بھیجا جا رہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر شب خون ماریں اور دو اور قبیلوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں۔پیغام میں یہ بھی تھاکہ مسلمان مکہ کو محاصرے میں لیں تو بنو بکر اور دوسرے قبیلے عقب سے ان پر حملہ کردیں۔
ان سے پوچھا گیا کہ مکہ میں لڑائی کی تیاریاں کس پیمانے پر ہو رہی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ابو سفیان لڑائی نہیں چاہتا اور مکہ والوں کی اکثریت اس کے ساتھ ہے۔ صرف عکرمہ اور صفوان لڑیں گے لیکن ان کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی ہیں۔ان دونوں آدمیوں کو ابو سفیان نے نہیں عکرمہ اور صفوان نے بھیجا تھا۔رسولِ کریمﷺ نے اپنے سالاروں وغیرہ سے کہا کہ مکہ میں یہ فرض کرکے داخل ہو اجائے گا کہ قریش شہر کے دفاع میں لڑیں گے ۔آپﷺ نے اپنی فوج کو چار حصوں میں تقسیم کیا۔اس زمانے میں مکہ کی طرف چار راستے جاتے تھے جو مکہ کے اردگرد کھڑی پہاڑیوں میں سے گزرتے تھے۔فوج کے ہر حصے کو ایک ایک راستہ دے دیا گیا ۔انہیں اپنے اپنے راستے سے مکہ شہر کی طرف پیش قدمی کرنی تھی ۔فوج کے ان حصوں میں ایک کی نفری سب سے زیادہ رکھی گئی۔ اس کی کمان ابو عبیدہؓ کو دی گئی ۔حضورﷺ کو اس دستے کے ساتھ رہنا تھا ۔ایک حصے کی کمان علیؓ کے پاس تھی۔ ایک کے کماندار زبیرؓ تھے اور چوتھے حصے کی کمان خالدؓ کے پاس تھی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس اسکیم میں غیر معمولی دانش کار فرما تھی۔چار سمتوں سے پیش قدمی کا مقصد یہ تھا کہ مکہ کے دفاعی دستوں کو چار حصوں میں بکھیر دیا جائے۔ اگر وہ مسلمانوں کی پیش قدمی کو کسی ایک یا دو راستوں پر روک بھی لیں تو دوسرے دستے آگے بڑھ کر شہر میں داخل ہو سکیں ۔اس کے علاوہ فوج کی اس تقسیم کا مقصد یہ بھی تھا کہ قریش اگر دفاع میں نہ لڑیں تو وہ کسی راستے سے بھاگ بھی نہ سکیں۔رسولِ اکرمﷺ نے اس اسکیم کے علاوہ جو احکام دیئے وہ یہ تھے۔’’ قریش دفاع میں نہ لڑیں تو ان پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔ امن کا جواب پرامن طریقے سے دیا جائے۔ اگر کہیں جھڑپ ہو جائے تو زخمیوں کو قتل نہ کیا جائے بلکہ ان کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کی جائے۔لڑنے والوں میں جو پکڑا جائے اس پر تشدد نہ کیا جائے نہ اسے قتل کیا جائے اور اسے جنگی قیدی بھی نہ سمجھا جائے،اور ان میں سے کوئی بھاگ نکلے تو اسے بھاگ جانے دیا جائے۔‘‘اسلامی لشکر کے چاروں حصوں کو پیش قدمی کا حکم دے دیا گیا۔ ۲۰ رمضان المبارک ۸ہجری )۱۱جنوری ۶۳۰عیسوی(کا دن تھا۔ اسلامی لشکر کے تین حصے اپنے راستوں سے گزر کر مکہ میں داخل ہو گئے ۔کسی طرف سے ان پر ایک تیر بھی نہ آیا۔ شہر کاکوئی دفاع نہ تھا۔ قریش کی کوئی تلوار نیام سے باہر نہ نکلی ،لوگ گھروں میں بند رہے، کسی کسی مکان کی چھت پر کوئی عورت یا بچے کھڑے نظر آتے تھے ۔مسلمان چوکنّے تھے ،شہر کا سکوت مشکوک اور ڈراؤنا تھا۔ایسے لگتا تھا جیسے اس سکوت سے کوئی طوفان اٹھنے والا ہو-
شہر سے کوئی طوفان نہ اٹھا،طوفان اٹھانے والے دو آدمی تھے ایک عکرمہ اور دوسرا صفوان۔دونوںشہر میں نہیں تھے، کئی اور آدمی شہر میں نہیں تھے۔وہ قریب ہی کہیں چھپے ہوئے تھے۔ وہ رات کو باہر نکل گئے تھے۔ ان کے ساتھ تیر انداز بھی تھے ۔یہ ایک جیش تھا جو اس پہاڑی راستے کے قریب جا پہنچا تھا جو خالد کے دستے کی پیش قدمی کا رستہ تھا۔ عکرمہ اور صفوان کو معلوم نہیں تھا کہ اس اسلامی دستے کے قائد خالدؓ ہیں۔ عکرمہ اور صفوان کا ایک آدمی کہیں بلندی پر تھا۔ اس نے خالدؓ کو پہچان لیا اور اوپر سے دوڑتا نیچے گیا۔’’اے صفوان! ‘‘اس آدمی نے صفوان سے کہا۔’’کیا تو ہمیں اجازت دے گا کہ تیری بیوی کے بھائی کو ہم قتل کر دیں؟ میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتیں۔ میں نے خالدکو دیکھا ہے ۔‘‘’’اپنے قبیلے کی عزت اور غیرت سے بڑھ کر مجھے کوئی اور عزیز نہیں ہے ۔‘‘صفوان نے کہا۔’’اگر خالد میری بہن کا خاوند ہوتا تو آج میں اپنی بہن کو بیوہ کر دیتا۔‘‘’’مت دیکھو کون کس کا بھائی ،کس کا باپ اور کس کا خاوند ہے۔‘‘عکرمہ نے کہا۔’’خالد میرا بھی کچھ لگتا ہے لیکن آج وہ میرا دشمن ہے ۔‘‘خالدؓ کا دستہ اور آگے آیا تو اس پر تیروں کی پہلی بوچھاڑ آئی۔خالد ؓنے اپنے دستے کو روک لیا ۔’’اے اہلِ قریش! ‘‘خالدؓ نے بڑی بلند آواز سے کہا۔’’ہمیں راستہ دے دو گے تو محفوظ رہو گے۔ہمارے رسولﷺ کا حکم ہے کہ اس پر ہاتھ نہ اٹھانا جو تم پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ۔کیا تمہیں اپنی جانیں عزیز نہیں ؟میں تمہیں صرف ایک موقع دوں گا۔‘‘تیروں کی ایک اور بوچھا ڑ آئی۔’’ہم تیرے رسول)ﷺ(کے حکم کے پابند نہیں خالد۔‘‘عکرمہ نے للکار کر کہا۔’’ہمت کر اور آگے آ۔ہم ہیں تمہارے پرانے دوست صفوان اور عکرمہ،تو مکہ میں زندہ داخل نہیں ہو سکے گا۔‘‘خالدؓنے تیروں کی دوسری بوچھاڑ سے معلوم کر لیا تھا کہ دشمن کہاں ہے ۔خالدؓ نے اپنے دستے کو روک کر پیچھے ہٹا لیا اور اپنے کچھ آدمیوں کو پہاڑیوں کے اوپر سے آگے بڑھنے اور تیر اندازوں پر حملہ کرنے کیلئے بھیج دیا۔عکرمہ اور صفوان خالدؓ کے ان آدمیوں کو نہ دیکھ سکے ،تھوڑی سی دیر میں یہ آدمی دشمن کے سر پر جا پہنچے۔وادی سے خالد ؓنے ہلّہ بول دیا جو اس قدر تیز اورشدید تھا کہ قریش کے پاؤں اکھڑ گئے ۔خالدؓ نے اوپر سے بھی حملہ کرایا تھا اور نیچے سے بھی۔
’’کہاں ہو عکرمہ ؟‘‘خالدؓللکار رہے تھے۔’’کہاں ہو صفوان؟‘‘وہ دونوں کہیں بھی نہیں تھے۔وہ خالد ؓکے ہلّے کی تاب نہ لا سکے اور خالدؓکو نظر آئے بغیر کہیں بھاگ گئے۔ ان کا جیش بھی لاپتا ہو گیا ۔پیچھے قریش کی بارہ لاشیں رہ گئیں۔ مختصر سی اس جھڑپ میں دو مسلمان جبشؓ بن اشعر اور کوز بن جابر فہریؓ شہید ہوئے۔اسلامی فوج کے تین حصے مکہ میں داخل ہو چکے تھے ۔خالدؓ کادستہ ابھی نہیں پہنچا تھا۔سب حیران تھے کہ اہل ِمکہ نے مزاحمت نہیں کی پھر خالدؓ کے نہ آنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ ایک قاصد کو دوڑایا گیا ۔وہ خبر لایا کہ خالدؓ دو مسلمانوں کی لاشیں لے کرآ رہا ہے اور اس کے دستے نے قریش کے بارہ آدمی مار ڈالے ہیں ۔رسولِ کریمﷺ نے سنا تو آپﷺ بہت برہم ہوئے۔ آپﷺ اچھی طرح جانتے تھے کہ خالدؓ جنگ و جدل کا دلدادہ ہے۔ اس نے بغیر اشتعال کے لڑائی مول لے لی ہو گی۔خالد ؓ کے مکہ میں آنے کی اطلاع ملی تو رسول اﷲﷺ نے انہیں بلا کر پوچھا کہ اس حکم کے باوجود کہ لڑائی سے گریز کیا جائے انہوں نے قریش کے بارہ آدمیوں کو کیوں مار ڈالا؟خالدؓ نے حضورﷺ کو بتایا کہ عکرمہ اور صفوان کے ساتھ قریش کے متعدد آدمی تھے جنہوں نے ان پر تیر برسائے۔ خالدؓ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے عکرمہ اور صفوان کو ایک موقع دیا تھا لیکن انہوں نے تیروں کی ایک اور بوچھاڑ پھینک دی۔رسولِ خداﷺ نے ابو سفیانؓ سے پوچھا کہ عکرمہ اورصفوان کہاں ہیں؟ابو سفیانؓ نے بتایا کہ وہ مکہ کے دفاع میں لڑنے کیلئے چلے گئے تھے ۔رسولِ خداﷺ کو یقین ہو گیا کہ لڑائی خالدؓ نے شروع نہیں کی تھی۔مکہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔
رسولِ اکرمﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپﷺ کے ہمراہ اسامہؓ بن زیدؓ ،بلالؓ اور عثمان بن طلحہؓ تھے۔رسولِ کریمﷺ کو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو گئے سات سال گزر چکے تھے ۔آپﷺ نے مکہ کے درودیوار کو دیکھا ۔وہاں کے لوگوں کو دیکھا، دروازوں اور چھتوں پر کھڑی عورتوں کودیکھا ۔بہت سے چہرے شناسا تھے۔ آپﷺ گزرتے چلے گئے اور کعبہ میں داخل ہو گئے ۔سات مرتبہ بیت اﷲکا طواف کیا اور اﷲ کا شکر ادا کیا۔اب مکہ میں کسی کو اتنی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ آپﷺ کو جادوگر کہے یا آپﷺ پر پھبتی کسے۔
ہلِ قریش چہروں پر خوف و ہراس کے تاثرات لیے اپنے انجام کے منتظر کھڑے تھے۔عربوں کے ہاں اپنی بے عزتی اور قتل کے انتقام کا رواج بڑا بھیانک تھا۔ رسول اﷲﷺ نے حکم دے دیا تھا کہ جو امن قائم رکھیں گے ان کے ساتھ پر امن سلوک کیا جائے گا۔اس کے باوجود قریش ڈرے سہمے ہوئے تھے ۔’’اہلِ قریش!‘‘ حضورﷺ نے لوگوں کے سامنے رک کر پوچھا۔’’خود بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک ہو؟‘‘لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ وہ خیر اور بخشش کے طلبگار تھے۔’’اپنے گھروں کو جاؤ ۔‘‘حضورﷺ نے کہا ۔’’ہم نے تمہیں بخش دیا۔‘‘رسول اﷲﷺ کی حیات ِ مقدسہ کی عظیم گھڑی تو وہ تھی جب آپﷺ نے کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کی طرف توجہ دی۔ بتوں کی تعداد تین سو ساٹھ تھی۔ان میں ایک بت حضرت ابراہیمؑ کا بھی تھا ۔اس بت کے ہاتھوں میں تیر تھے۔ ان تیروں سے بت خانے کے پیشوا فال نکالا کرتے تھے۔حضورﷺ کے ہاتھ میں ایک موٹی اور مضبوط لاٹھی تھی۔آپﷺ نے اس لاٹھی سے بت توڑنے شروع کر دیئے۔آپﷺ اپنے جد امجد حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو زندہ کر رہے تھے ۔آپﷺ بت توڑتے جاتے اور بلند آواز سے کہتے جاتے:’’ حق آیا…… باطل چلا گیا……بے شک باطل کو چلے جانا تھا……‘‘مؤرخ لکھتے ہیں کہ ایسے لگتا تھا جیسے یہ صدائیں حضورﷺ کی لاٹھی کی ہر ضرب سے کعبہ کی دیواروں سے اٹھ رہی ہوں ۔کعبہ سے بتوں کے ٹکڑے اٹھا کر باہر پھینک دیئے گئے اور کعبہ عالمِ اسلام کی عبادت گاہ بن گیا۔اس کے بعد آپﷺ نے مکہ کے انتظامی امور کی طرف توجہ دی۔قریش اور دیگر قبائل کے لوگ قبولِ اسلام کیلئے آتے رہے۔بت صرف کعبہ میں ہی نہیں تھے۔مکہ کے گردونوح کی بستیوں میں مندر تھے ۔وہاں بھی بت رکھے تھے۔ سب سے اہم بت عزیٰ کا تھا جو چند میل دور نخلہ کے مندر میں رکھا گیا تھا۔ رسولِ اکرمﷺ نے عزیٰ کا بت توڑنے کا کام خالدؓ کے سپرد کیا ۔خالدؓ نے اپنے ساتھ تیس سوار لیے اور اس مہم پر روانہ ہو گئے۔ دوسرے مندروں کے بت توڑنے کیلئے مختلف جیش روانہ کیے گئے۔عزیٰ کا بت اکیلانہیں تھا۔ چونکہ یہ دیوی تھی اس لیے اس کے ساتھ چھوٹی دیویوں کے بت بھی تھے۔خالدؓ وہاں پہنچے تومندر کا پروہت ان کے سامنے آگیا ۔اس نے التجا کی کہ ان کے بت نہ توڑے جائیں ۔’’مجھے عزیٰ کا بت دکھاؤ۔‘‘خالدؓ نے نیام سے تلوار نکال کر پروہت سے پوچھا۔
پروہت موت کے خوف سے مندر کے ایک بغلی دروازے میں داخل ہو گیا۔ خالدؓ اس کے پیچھے گئے۔ ایک کمرے سے گزر کر اگلے کمرے میں گئے تو وہاں ایک دیوی کا بڑا ہی خوبصورت بت چبوترے پر رکھاتھا۔پروہت نے بت کی طرف اشارہ کیا اور بت کے آگے فرش پرلیٹ گیا۔ مندر کی داسیاں بھی آ گئیں ۔خالدؓ نے تلوار سے اس حسین دیوی کا بت توڑ ڈالااور اپنے سواروں سے کہا کہ بت کے ٹکڑے باہر بکھیر دیں۔پروہت دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور داسیاں بَین کر رہی تھیں۔خالدؓ نے دیویوں کے بت بھی توڑ ڈالے اور گرج کر پروہت سے کہا۔’’کیا اب بھی تم اسے دیوی مانتے ہو جو اپنے آپ کو ایک انسان سے نہیں بچا سکی۔‘‘پروہت دھاڑیں مارتا رہا ۔خالدؓ فاتحانہ انداز سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اوراپنے سواروں کوواپسی کا حکم دیا ۔جب خالدؓ اپنے تیس سواروں کے ساتھ مندر سے دور چلے گئے تو پروہت نے جو دھاڑیں مار رہا تھا بڑی زور سے قہقہہ لگایا ۔پجارنیں جو بَین کر رہی تھیں وہ بھی ہنسنے لگیں۔’’ عزیٰ کی توہین کوئی نہیں کر سکتا ۔‘‘پروہت نے کہا۔’’خالد جو خود عزیٰ کا پجاری ہوا کرتا تھا بہت خوش ہو کے گیا ہے کہ اس نے عزیٰ کا بت توڑ ڈالا ہے۔ عزیٰ زندہ ہے…… زندہ رہے گی۔‘‘’’یا رسول اﷲﷺ!‘‘ خالدؓ نے حضور ﷺ کو اطلاع۔’’ دی میں عزیٰ کا بت توڑ آیا ہوں ۔‘‘’’کہاں تھا یہ بت؟‘‘حضورﷺ نے پوچھا۔خالدؓ نے وہ مندر اور اس کا وہ کمرہ بتایا جہاں انہوں نے وہ بت دیکھا اور توڑا تھا۔’’تم نے عزیٰ کا بت نہیں توڑا خالد!‘‘ رسولِ کریمﷺ نے کہا۔’’واپس جاؤ اور اصلی بت توڑکر آؤ۔‘‘مؤرخ لکھتے ہیں کہ عزیٰ کے دو بت تھے ایک اصلی جس کی پوجا ہوتی تھی دوسرا نقلی تھا۔ یہ غالباً مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے بنایا گیا تھا۔خالدؓکا خون کھولنے لگا،انہوں نے اپنے سواروں کو ساتھ لیااور نخلہ کو روانہ ہو گئے۔مندر کے پروہت نے دور سے گھڑ سواروں کو آتے دیکھا تو اس نے مندر کے محافظوں کو بلایا۔’’وہ پھر آ رہے ہیں ۔‘‘پروہت نے کہا۔’’انہیں کسی نے بتادیا ہو گا کہ اصلی بت ابھی مندر میں موجود ہے۔ کیا تم عزیٰ کی عزت کی حفاظت کرو گے؟اگر کرو گے تو عزیٰ دیوی تمہیں مالا مال کر دے گی۔‘‘’’کچھ سوچ کر بات کر مقدس پیشوا!‘‘ ایک محافظ نے کہا۔’’کیا ہم دو تین آدمی اتنے زیادہ گھوڑ سواروں کامقابلہ کر سکتے ہیں ؟‘‘
’’اگر عزیٰ دیوی ہے تو یہ اپنے آپ کو ضرور بچا لے گی۔‘‘ ایک اور محافظ نے کہا۔اس کے لہجے میں طنز تھی۔ کہنے لگا۔’’ دیوی دیوتا انسانوں کی حفاظت کیاکرتے ہیں، انسان دیوتاؤں کی حفاظت نہیں کیا کرتے۔‘‘
’’پھر عزیٰ اپنی حفاظت خود کرے گی۔‘‘ پروہت نے کہا۔خالدؓ کے گھوڑے قریب آ گئے تھے ۔محافظ مندر کی پجارنوں کو ساتھ لے کر بھاگ گئے ۔پروہت کو یقین تھا کہ اس کی دیوی اپنے آپ کو مسلمانوں سے بچا لے گی۔اس نے ایک تلوار لی اور اسے عزیٰ کے گلے میں لٹکا دیا۔ پروہت مندر کے پچھلے دروازے سے نکلا اور بھاگ گیا۔خالدؓمندر میں آن پہنچے اور تمام کمروں میں عزیٰ کا بت ڈھونڈنے لگے ۔انہیں ایک بڑا ہی خوشنما کمرہ نظر آیا ۔اس کے دروازے میں کھڑے ہو کر دیکھا ،عزیٰ کا بت سامنے چبوترے پر رکھا تھا۔اس کے گلے میں تلوار لٹک رہی تھی ۔یہ بت ویسا ہی تھا جیسا خالدؓ پہلے توڑ گئے تھے۔ا س بت کے قدموں میں لوبان جل رہا تھا۔ کمرے کی سجاوٹ اورخوشبو سے پتا چلتاتھاکہ یہ عبادت کا کمرہ ہے۔ خالدؓ نے دہلیز سے آگے قدم رکھا تو ایک سانولے رنگ کی ایک جوان عورت جو بالکل برہنہ تھی خالدؓ کے سامنے آگئی ۔وہ رو رہی تھی اور فریادیں کر رہی تھی کہ بت کو نہ توڑا جائے ۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ عورت خالدؓ کے ارادے کو متزلزل کرنے کیلئے برہنہ ہوکہ آئی تھی اور اس کے رونے کا مقصد خالدؓ کے جذبات پر اثر ڈالنے کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔خالدؓ آگے بڑھے تو اس عورت نے بازو پھیلا کر خالدؓ کا راستہ روک لیا۔ خالدؓ نے نیام سے تلوار نکالی اور اس عورت پر ایسا زور دار وار کیاکہ اس کا ننگا جسم دو حصوں میں کٹ گیا۔خالدؓ غصے سے بپھرے ہوئے بت تک گئے اور اس کے کئی ٹکڑے کر دیئے۔طاقت اور خوشحالی کی دیوی اپنے آپ کو ایک انسا ن سے نہ بچا سکی۔خالدؓ مندر سے نکل کر گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایڑ لگائی۔ ان کے سوار ان کے پیچھے جارہے تھے ۔مکہ پہنچ کر خالدؓ رسولِ اکرمﷺ کے حضورپہنچے۔’’یا رسول اﷲﷺ!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ میں عزیٰ کا بت توڑ آیا ہوں ۔‘‘’’ہاں خالد ! ‘‘رسول اﷲﷺ نے کہا۔’’اب تم نے عزیٰ کا اصلی بت توڑا ہے۔اب اس خطے میں بت پرستی نہیں ہوگی۔‘
قریش کا مشہور اور جوشیلا سالار عکرمہ مکہ کے راستے میں خالدؓ کے خلاف آخری معرکہ لڑ کر روپوش ہو گیا تھا۔اس نےاورصفوان نے اپنے قبیلے کے سردارکی حکم عدولی کی تھی۔ اسے اپنا انجام بہت برا نظر آرہا تھا۔اسے یہ بھی معلوم تھا کہ رسولِ کریمﷺ بھی اس کی یہ خطا نہیں بخشیں گے کہ اس نے اسلامی فوج کے ایک دستے پر حملہ کیا اور اس دستے کے دو آدمی شہید کر دیئے تھے۔عکرمہ کی بیوی مکہ میں تھی۔ تاریخوں میں واضح اشارہ ملتا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فتحِ مکہ کے بعد قریش کی چار عورتوں اور چھ آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیفیں پہنچائی تھیں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کی تھیں۔انہیں مرتد کہاگیا تھا۔ان میں ہند اور عکرمہ کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ۔ابو سفیان کی بیوی ہند ہر اس انسان کے خون کی پیاسی ہو جاتی تھی جو اسلام قبول کرلیتا تھا۔عکرمہ کی بیوی مکہ میں تھی۔فتح مکہ کے دو تین روز بعد ایک آدمی عکرمہ کے گھر آیا۔’’میں تمہارے لیے اجنبی ہوں بہن! ‘‘اس شخص نے عکرمہ کی بیوی سے کہا۔’’عکرمہ میرا دوست ہے ۔میں قبیلہ بنو بکر کا آدمی ہوں ……تمہیں معلوم ہو گا کہ عکرمہ اور صفوان نے مسلمانوں کا رستہ روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے۔ اس کا مقابلہ خالد سے تھا جو تجربہ کار جنگجو ہے اور اس کیساتھ آدمی بھی زیادہ تھے۔‘‘ ’’میں جانتی ہوں ۔‘‘عکرمہ کی بیوی نے کہا۔’’ میں پہلے سن چکی ہوں میرے اجنبی بھائی ۔مجھے بتاؤ وہ کہاں ہے؟ہ زندہ تو ہے ؟‘‘’’وہ مجھے بتا گیا تھا کہ یمن جا رہا ہے ۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’وہ کہہ گیا ہے کہ تجھے وہاں بلا لے گا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کس کے پاس گیا ہے ۔تجھے یہی بتانے آیا تھا۔وہ واپس نہیں آئے گا۔‘‘’’اسے یہاں آنا بھی نہیں چاہیے۔‘‘عکرمہ کی بیوی نے کہا۔’’ وہ آ گیا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔‘‘’’تم تیار رہنا ۔‘‘اجنبی نے کہا۔’’اس کا پیغام آئے گا تو میں تمہیں اس کے پاس پہنچا دوں گا۔تم اس کے پاس پہنچ جاؤ گی تو وہ تمہیں اپنے ساتھ لے کر حبشہ کو چلا جائے گا۔‘‘اجنبی اسے اپنی بستی کا اور اپنانام بتا کر چلا گیا۔
دوروز بعد عکرمہ کی بیوی بنو بکر کی بستی میں گئی اور اس آدمی سے ملی جس نے اسے عکرمہ کا پیغام دیا تھا ۔’’کیا تو عکرمہ کے پاس جانے کو آئی ہے؟‘‘عکرمہ کے دوست نے پوچھا۔’’میں اسے واپس لانے کیلئے جا رہی ہوں۔‘‘ عکرمہ کی بیوی نے کہا۔’’کیا تو نہیں جانتی کہ وہ آیا تو اسے قتل کر دیا جائے گا؟‘‘’’اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘عکرمہ کی بیوی نے کہا۔’’میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور رسول اﷲﷺ نے میری فریاد پر میرے شوہر کو معاف کردیا ہے ۔‘‘’’کیا تو نے محمد)ﷺ( کواﷲ کا رسول مان لیا ہے؟‘‘’’مان لیا ہے۔‘‘’’محمد)ﷺ( نے تمہارے ساتھ سودا کیا ہو گا۔‘‘عکرمہ کے دوست نے کہا ۔’’اس نے تمہارے آگے یہ شرط رکھی ہو گی کہ تم اور عکرمہ اسلام قبول کرلو تو ……‘‘’’نہیں!‘‘عکرمہ کی بیوی نے کہا۔’’محمدﷺ نے ،جو اﷲ کے بھیجے ہوئے رسولﷺ ہیں، میرے ساتھ ایسا کوئی سودا نہیں کیااور محمدﷺ ان میں سے نہیں جو سودا کرکے اپنی بات منوایا کرتے ہیں۔ میں وہاں اپنے شوہر کی جان بخشی کی فریاد لے کر گئی تھی۔ یہ وہی محمدﷺ ہیں جنہیں میں بڑی اچھی طرح جانتی تھی لیکن اب میں نے آپﷺ کو دیکھا تو میں نے دل سے کہا کہ یہ وہ محمدﷺ نہیں جو کبھی ہم میں سے تھے۔ یہ محمدﷺ جن کے پاس میں اب فریاد لے کر گئی۔ آپﷺ کی آنکھوں میں مجھے کوئی ایسی چیز نظر آئی جو کسی اور انسان میں نہیں ہوتی۔مجھے ڈر تھا کہ محمدﷺ جواﷲ کے رسول ہیں کہیں گے کہ یہ عکرمہ کی بیوی ہے، اسے یرغمال بنا کررکھو۔تاکہ عکرمہ آجائے اور اسے قتل کر دیا جائے ۔لیکن آپﷺ نے مجھے ایک مجبور عورت جان کر عزت سے بٹھایا ۔میں نے فریاد کی کہ فتح آپ کی ہے،میرے بچوں کو یتیم نہ کریں ،میرے شوہر کی بد عہدی کی سزا مجھے اور میرے بچوں کو نہ دیں ۔آپﷺ نے کہا میں نے عکرمہ کو معاف کیا اور معلوم نہیں وہ کون سی طاقت تھی جس نے مجھ سے کہلوایاکہ میں نے تسلیم کیا کہ محمدﷺ اﷲکا رسول ہے۔اب میں اس خدا کو مانتی ہوں جس نے محمدﷺ کو رسالت دی ہے۔‘‘’’اور تو مسلمان ہو گئی؟‘‘عکرمہ کے دوست نے کہا۔
’’ہاں!‘‘ عکرمہ کی بیوی نے کہا۔’’میں مسلمان ہو گئی، مجھے اس کے پاس لے چل میرے شوہر کے دوست۔میں اسے واپس لاؤں گی۔‘‘’’میں دوستی کا حق ادا کروں گا!‘‘ عکرمہ کے دوست نے کہا۔’’چل میں تیرے ساتھ یمن چلتاہوں ۔‘‘
کافی دنوں بعد عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا۔ اپنے گھر جانے کے بجائے حضورﷺ کے پاس گیا اور اس نے اپنے کیے کی معافی مانگ کر اسلام قبول کر لیا۔اسی روزصفوان بھی واپس آ گیا، وہ بھاگ کر جدہ چلا گیا تھا ۔ایک دوست اس کے پیچھے گیا اور اسے کہا کہ وہ سالاری رتبے کا جنگجو ہے اور اس کی قدر رسولِ کریمﷺ ہی جان سکتے ہیں۔ اسے یہ بھی کہاگیا کہ قبیلہ قریش ختم ہو چکا ہے۔ صفوان تلوار کا دھنی اور نام ور سالار تھا وہ اپنے دوست کے ساتھ مکہ آ گیا اور اس نے رسول ِ کریمﷺ کے حضور پیش ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ابو سفیانؓ کی بیوی ہند ایسی عورت تھی جس کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ اسلام قبول کرلے گی ۔رسولِ کریمﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے رکھا تھااور وہ روپوش تھی۔ ابو سفیانؓ اسلام قبول کر چکے تھے۔ ہند کو جب پتا چلا کہ عکرمہؓ اور صفوانؓ نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ سامنے آگئی ،یہ جانتے ہوئے کہ اسے قتل کر دیاجائے گا۔ وہ رسولِ اکرمﷺ کے حضور جا پہنچی۔ آپﷺ نے اسے معاف کر دیا اور وہ مسلمان ہو گئی۔مکہ کے اردگرد‘ دور اور نزدیک کچھ قبائل تھے ۔ان میں بعض بت پرست تھے اور بعض توہمات کو عقیدہ بنائے ہوئے تھے ۔رسولِ کریمﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجے کہ وہ اﷲکا سچا دین قبول کرلیں ۔پیغام لے جانے والے فوجی تھے لیکن آپﷺ نے حکم دیا تھاکہ کسی پر تشدد نہ کیا جائے اور جنگی کارروائی سے گریزکیاجائے۔مکہکے جنوب میں تہامہ کا علاقہ ہے جہاں جنگجو قبائل بکھرے ہوئے تھے۔ان کے متعلق خدشہ تھا کہ لڑنے پر اتر آئیں گے ۔اس لیے اس علاقے میں فوج کا ایک دستہ بھیجا گیا اور اس کی کمان خالدؓ کو دی گئی۔ تمام کا تمام دستہ گھڑ سوار تھا۔ اس میں بنو سلیم کے آدمی بھی تھے مدینہ کے بھی۔خالدؓ کو مکہ سے تقریباً پچاس میل دور ململیم کے مقام تک جانا تھا۔ خالدؓ اپنے سوار دستے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ ان کی منزل پچاس میل دور تھی ۔بمشکل پندر ہ میل دور گئے ہوں گے کہ ایک مشہور جنگجو قبیلے بنو جزیمہ کے آدمیوں نے خالدؓ کے دستے کا راستہ روک لیا۔خالدؓنے اپنے دستے کو لڑائی کی ترتیب میں کر لیا۔بنو جزیمہ باقائدہ لڑائی کیلئے نکل آئے۔’’ہم لڑنے نہیں آئے‘‘ ۔خالدؓنے اعلان کیا۔’’ہم دعوت دینے آئے ہیں کہ اسلام قبول کرلو۔‘‘’’ہم اسلام قبول کر چکے ہیں۔‘‘ بنو جزیمہ کی طرف سے جواب آیا۔’’ہم نمازیں پڑھتے ہیں ۔‘‘’’ہم دھوکا کھانے نہیں آئے‘‘ ۔خالدؓنے بلند آواز سے کہا۔’’اگر تم مسلمان ہو چکے ہو تو تلواریں اوربرچھیاں پھینک دو۔‘‘
’’خبردار بنو جزیمہ!‘‘ بنو جزیمہ کی طرف سے کسی نے للکار کر کہا۔’’اسے میں جانتا ہوں‘ یہ مکہ کے الولید کابیٹا خالد ہے ۔اس پر اعتبار نہ کرنا۔ہتھیار ڈال دو گے تو یہ ہم سب کو قتل کرا دے گا ۔ہتھیار نہ ڈالنا۔‘‘’’خدا کی قسم! مجھے رسول اﷲﷺ کا حکم نہ ملا ہوتا کہ جنگ نہ کرنا تومیں دیکھتا کہ تم ہتھیار ڈالتے ہو یا نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم دوست بن کر آئے ہیں ۔ہم تم پر اﷲکادین زبردستی ٹھونسنے نہیں آئے۔ہمیں دوست سمجھو اور ہمارے ساتھ آجاؤ۔‘‘’’اہلِ قریش کی کیا خبر ہے ؟‘‘بنو جزیمہ کی طرف سے آواز آئی۔’’مکہ چل کر دیکھو ۔‘‘خالدؓ نے کہا ۔’’ابو سفیان، عکرمہ اور صفوان اسلام قبول کر چکے ہیں ۔‘‘بنو جزیمہ نے ہتھیار ڈال دیئے ۔خالدؓ گھوڑے سے اتر کر آگے بڑھے اور بنو جزیمہ کے سردار سے گلے ملے ۔پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔مسلمانوں کو مکہ ایک مرکز کی حیثیت سے مل گیا ۔یہ سورج کی مانند تھا ۔جس کی کرنیں دور دور تک پھیلنے لگیں لیکن اسلام کی دشمن قوتیں یکجا ہو رہی تھیں۔ طائف ایک مقام ہے جو مکہ معظمہ سے چند میل دور ہے۔ جنوری ۶۳۰ء)شوال ۸ ہجری(کی ایک رات وہاں جشن کا سماں تھا۔فضاء شراب کی بو سے بوجھل اور رات مخمور تھی۔رقص کے لیے طائف کے اردگرد کے علاقے کی چنی ہوئی ناچنے والیاں آئی ہوئی تھیں ۔ان کے رقص اور حسن نے مہمانوں کو مدہوش کر دیا تھا۔مہمان مکہ کے شمال مشرقی علاقے کے مشہور جنگجو قبیلے ہوازن کے سرکردہ افراد تھے۔ان کے میزبان طائف اور گردونواح میں پھیلے ہوئے قبیلہ ثقیف کے سردار تھے۔جنہوں نے اپنے مہمانوں پر اپنی امارت اور فیاضی اور کشادہ ظرفی کا رعب جمانے کیلئے اتنی شاہانہ ضیافت اور اتنے شاندار جشن کا اہتمام کیا تھا۔دو لڑکیاں رقص کے کمال دکھا رہی تھیں کہ میزبان قبیلے کا سردار ’’مالک بن عوف ‘‘اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے تالی بجائی۔ساز خاموش ہو گئے ۔ناچنے والیں بت بن گئیں اور ان کی نظریں مالک بن عوف پر جم گئیں۔مہمانوں پر سناٹا طاری ہو گیا۔ایسے لگتا تھا جیسے رات کے گزرتے لمحوں کا قافلہ رک گیا ہو۔ہر کوئی مالک بن عوف کی طرف دیکھ رہا تھا۔مالک بن عوف کی عمر تیس سال تھی۔رقص اور مے نوشی کی محفلوں میں وہ عیاش شہزادہ تھا۔لیکن میدانِ جنگ میں وہ آگ کا بگولہ تھا۔وہ صرف تیغ زنی ،تیر اندازی اور گھوڑ سواری میں ہی مہارت نہیں رکھتا تھا بلکہ وہ فنِ حرب و ضرب کا بھی ماہرتھا۔انہی اوصاف کی بدولت وہ قبیلے کا سالار تھا۔جنگ کے معاملے میں وہ انتہا پسند تھا۔یوں لگتا تھا جیسے ٹھنڈے دل سے سوچنا اسے آتا ہی نہیں۔اس کی جنگی چالیں اس کے دشمن کیلئے بڑی خطرناک ہوتی تھیں۔قبیلۂ قریش میں جو حیثیت کبھی خالدؓ بن ولید کو حاصل تھی ویسا ہی دبدبہ مالک بن عوف کا اپنے قبیلے پر تھا۔
’’ہم نے بہت کھالیا ہے۔‘‘مالک بن عوف نے رقص رکوا کر میزبانوں اور مہمانوں سے خطاب کیا۔’’ہم شراب کے مٹکے خالی کر چکے ہیں ۔ہم تھرکتی ہوئی جوانیوں سے لطف اندوز ہو چکے ہیں ۔کیا ہمارے مہمانوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس ضیافت اور جشن کی تقریب کیا ہے؟……میں نے تمہیں کوئی خوشی منانے کیلئے اکھٹا نہیں کیا۔اے اہلِ ہوازن! میں نے تمہاری غیرت کو جگانے کیلئے تمہیں اپنے ہاں بلایا ہے۔‘‘’’ہوازن کی غیرت سوئی کب تھی مالک بن عوف؟‘‘قبیلہ ہوازن کے ایک سردار نے کہا۔’’بتا ہماری غیرت کو کس نے للکارا ہے؟‘‘’’مسلمانوںنے !‘‘ مالک بن عوف نے کہا۔’’محمد)ﷺ( نے……کیا تم محمد)ﷺ( کونہیں جانتے؟کیا تم بھول گئے ہو اس محمد)ﷺ( کو جو اپنے چند ایک ساتھیوں کے ساتھ مکہ سے بھاگ کر یثرب )مدینہ(چلا گیا تھا؟‘‘’’جانتے ہیں!‘‘دو تین آوازیں اٹھیں۔’’اچھی طرح جانتے ہیں ۔وہ اپنے آپ کو خدا کا نبی کہتا ہے۔‘‘’’ہم اسے نبی نہیں مانتے۔‘‘ایک اور آواز اٹھی۔’’کوئی نبی ہوتا تو ہم میں سے ہوتا۔جو اہلِ ثقیف ہیں۔ہوازن کے قبیلے سے ہوتا۔‘‘’’وہ نبی ہے یا نہیں۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس مکہ سے محمد )ﷺ(بھاگا تھا۔اس مکہ کا اب وہ حاکم ہے۔مکہ میں اس کاحکم چلتا ہے اور اس کی جنگی طاقت بڑھتی جا رہی ہے۔قبیلۂ قریش اس کے آگے ہتھیار ڈال چکا ہے اور ا سکے مذہب کو قبول کرتا چلا جا رہا ہے۔ابو سفیان ،عکرمہ اور صفوان جیسے جابر جنگجو محمد)ﷺ( کا مذہب قبول کر چکے ہیں۔خالدؓ بن ولید نے پہلے ہی یہ نیا مذہب قبول کرلیا تھا……مسلمانوں نے مکہ میں تمام بت توڑ ڈالے ہیں۔‘‘’’اہلِ قریش کو اپنی غیرت اور اپنے مذہب کا پاس ہوتا تو وہ اپنی تلواریں اپنے پیٹوں میں گھونپ لیتے۔‘‘کسی اور نے کہا۔’’اب ستاروں سے دھرا یہ آسمان دیکھے گا کہ ہوازن اور ثقیف کو اپنی غیرت کا کتنا پاس ہے۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’کیا تو یہ چاہتا ہے کہ ہم میں سے کوئی محمد )ﷺ(کو قتل کر دے؟‘‘قبیلہ ہوازن کے ایک سردار نے کہا ۔’’اگرتو یہی کہنا چاہتا ہے تو یہ کام میرے سپرد کر۔‘‘’’اب محمد)ﷺ( کو قتل کر دینے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’اسے قتل کر دو گے تو اس کے پیروکار اسے اپنے دلوں میں زندہ رکھیں گے۔ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب وہ ایک آدمی کے قتل سے وہ اس راستے سے نہیں ہٹیں گے جس پر انہیں ڈال دیا گیا ہے۔‘‘
’کہتے ہیں محمد)ﷺ( کے ہاتھ میں کوئی جادو آگیا ہے۔‘‘ہوازن کے ایک سردار نے کہا۔’’ وہ جس پر نگاہ ڈالتا ہے وہ اس کا مطیع ہو جاتا ہے۔‘‘’’جہاں تلوار چلتی ہے وہاں کوئی جادو نہیں چل سکتا۔‘‘ہوازن قبیلے کے ایک اور سردار نے اپنی تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھ کے کہا۔’’مالک…… آگے بول ……تو کیا کہتا ہے ؟ہم تیرے ساتھ ہیں۔‘‘ ’’میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہم نے محمد )ﷺ(کے اسلام کو نہ روکا تو یہ سیلاب کی طرح بڑھتا ہوا ہم سب کو بہا لے جائے گا۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’نہ ہوازن رہیں گے نہ ثقیف کا وجود ہو گا۔قبیلہ قریش کو محکوم بنانے والوں کو ہم مکہ کے اندر ہی ختم کریں گے۔کیا تم محکوم بن جانے کا مطلب سمجھتے ہو ؟‘‘مالک بن عوف نے سب کی طرف دیکھا اور بولا۔’’اگر نہیں سمجھتے تو میں تمہیں بتاتا ہوں ۔‘‘اس نے اپنے پیچھے دیکھا۔مالک بن عوف کے پیچھے مہمانوں میں ایک معمر سفید ریش بیٹھا تھا۔ اس کارنگ دوسروں کی نسبت صاف اور سفیدی مائل تھا۔وہ ضعیف اتنا تھا کہ اس کاسر ہلتا تھا اورکمر میں ہلکا سا خم تھا۔اسکے ہاتھ میں اپنے قد جتنا لمبا عصاتھا۔کندھوں سے ٹخنوں تک چغہ بتاتا تھا کہ وہ کوئی عالم یا مذہبی پیشوا ہے۔مالک بن عوف کے اشارے پر وہ اٹھا اور مالک کے پاس آ گیا۔’’تم پر اس کی رحمت ہو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’اور وہ دیوتا تمہارے بچوں کے محافظ ہوں جن کی تم پوجا کرتے ہو۔تم محکومی اور غلامی کا مطلب نہیں سمجھتے تو مجھ سے پوچھو۔میری چار جوان بچیاں مسلمانوں کی لونڈیاں ہیں اور میرے دو جوان بیٹے مسلمانوں کے غلام ہیں۔وہ تیغ زن اور شہ سوا رتھے۔لیکن اب انہیں تلوار ہاتھ میں لینے کی اور گھوڑے پر سوار ہونے کی اجازت نہیں،ہمیں گھروں سے نکال دیا گیا ہے……کیا تمہیں یاد نہیں کہ قریش نے مدینہ کا محاصرہ کیا تھاتو مسلمانوں نے اردگرد خندق کھودلی تھی۔قریش اس خندق کو پھلانگ نہیں سکے تھے ،پھر اس قدر تندوتیز طوفان آیا کہ قریش جو پہلے ہی بددل ہو چکے تھے۔بکھر گئے اور مکہ کو واپس چلے گئے تھے۔جب مسلمانوں کے سر سے خطرہ ٹل گیا تو انہوں نے ان یہودیوں پر ہلہ بول دیا جو ان کے ساتھ مدینہ میں امن سے رہتے تھے ۔ان یہودیوں کو انہوں نے قتل کر دیا اور ان کی عورتوں کو اور ان کے بچوں کو آپس میں بانٹ کر انہیں لونڈیاں اور غلام بنالیا۔‘‘’’اے بزرگ!‘‘قبیلہ ثقیف کے ایک سرکردہ آدمی نے بلند آواز سے کہا۔’’اگر تو یہودی ہے تو کیا ہم نے غلط سنا تھا کہ تیرے قبیلے نے مسلمانوں کو دھوکا دیا تھا؟‘‘
’’تم نے جو سنا درست سنا تھا۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’ہمارا دھوکا کامیاب نہیں ہو اتھا۔ہم مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر اتارنا چاہتے تھے لیکن قریش پیٹھ دِکھا گئے۔مسلمانوں کو دھوکا دے کر کمزور کرناہمارا فرض تھا لیکن مسلمانوں کی تلواروں نے ہمیں کمزور کر دیا۔‘‘’’تو جو بنی اسرائیل سے ہے…… کیا ہمیں اُکسانے آیا ہے کہ ہم مسلمانوں سے تیرے قبیلے کے خون کا انتقام لیں؟‘‘ثقیف کے قبیلے ایک سردار نے کہا۔ایک اور ضعیف العمر شخص اُٹھ کھڑاہوا ۔اس کا نام’’ درید بن الصّمہ‘‘ تھا۔اس کا نام تاریخ میں تو ملتا ہے لیکن یہ پتا نہیں ملتا کہ وہ قبیلہ ہوازن سے تھا یا قبیلہ ثقیف سے۔’’خاموش رہو۔‘‘درید بن الصّمہ نے گرج کر کہا ۔’’ہم بنی اسرائیل کے خون کا انتقام نہیں لیں گے۔کیا تم ابھی تک شک میں ہو؟کیا تم ابھی تک نہیں سمجھے کہ ہم نے مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کا خون اپنی تلواروں کو نہ پلایا اور ان کے زخمیوں کو گھوڑوں تلے نہ روندا ،تو وہ ہمیں بھی قتل کرکے تمہاری بیٹیوں کو،تمہاری بہنوں کو اور تمہاری بیویوں کو اپنی لونڈیاں اور ہمارے بچوں کواپنا غلام بنالیں گے؟‘‘’’اس سے پہلے کے ان کے گھوڑے طائف کی گلیوں میں ہنہنائیں ،کیا یہ اچھا نہیں ہو گا کہ ہمارے گھوڑے ان کی لاشوں کو مکہ کی گلیوں میں کچلتے پھریں۔‘‘مالک بن عوف نے جوش سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔’’بنی اسرائیل کا یہ بزرگ ہماری پناہ میں آیاہے۔اس نے اپنے قبیلے کا جوانجام بتایا ہے میں تمہیں اس کا انجام سے بچانا چاہتاہوں ……اٹھو اور لات کے نام پر حلف اٹھاؤ کہ ہم محمد )ﷺ(اور اسکے تمام پیروکاروں کو جنہوں نے مکہ کے تمام بت توڑ ڈالے ہیں ،ختم کرکے اپنی عورتوں کو اپنے منہ دکھائیں گے۔‘‘اس زمانے میں جب اسلام کی کرنیں مکہ سے پھیل رہی تھیں،عرب میں بت پرستی عام تھی۔وہ خدا کو بھی مانتے تھے لیکن خدا تک رسائی حاصل کرنے کیلئے وہ بتوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے تھے۔انکاعقیدہ تھا کہ بتوں کو راضی کیے بغیر خدا کو راضی نہیں کیا جا سکتا۔بتوں کی خوشنودی کیلئے وہ کچھ رسمیں ادا کرتے تھے۔طائف کے علاقے میں جس بت کوپوجا جاتا تھا ،اس کا نام لات تھا جو انسانی یا حیوانی شکل کا نہیں تھا۔وہ بہت بڑا پتھر تھا جسے چٹان کہا جا سکتاہے۔یہ چٹا ن باقاعدہ مربع شکل کی تھی۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ مربع شکل کا قدری طور پر بنا ہوا چبوترا تھا ،جس پر شاید کسی زمانے میں کوئی بت رکھا گیا ہو لیکن طلوعِ اسلام کے دور میں یہ صرف چبوترہ تھا اور اردگرد کے قبائل اسی کو پوجتے تھے۔
جنوری ۶۳۰ء کی اس رات جب قبیلۂ ہوازن کے سردار قبیلہ ثقیف کی دعوت پر طائف آئے اور مالک بن عوف اور دُرید بن الصّمہ انہیں مکہ پر حملے کیلئے اکسا رہے تھے۔ہوازن کے ایک سردار نے مشورہ دیا کہ کاہن کو بلا کر فال نکلوائی جائے کہ ہمارا حملہ کامیاب ہو گا کہ نہیں۔یہ فال تیروں کے ذریعے نکالی جاتی تھی جسے ازلام کہتے تھے۔بہت سے تیر اکھٹے رکھے ہوتے تھے۔کسی پر ہاں لکھا ہوتا تھا۔کسی پر نہیں۔بت کا کوئی مجاور یا کاہن مذہبی پیشوا اس ترکش سے ایک تیر نکالتا اور دیکھتا تھا کہ اس پر ہاں لکھا ہے یا نہیں۔یہ فال کا جواب ہوتاتھا۔مجاور کی نسبت کاہن کو بہتر سمجھاجاتا تھا۔کاہن دانشمند ہوتے تھے۔ان کے پاس پُر اثر اور دل میں اتر جانے والے الفاظ کا ذخیرہ ہوتا تھا اور ان کے بولنے کا انداز تو ہر کسی کو متاثر کرلیتا تھا۔کاہن فال نکالے بغیرغیب کی خبریں دیا کرتے اور لوگ انہیں سچ ماناکرتے تھے۔اگلی صبح ہوازن اور ثقیف کے سردار ایک کاہن کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ان میں سے کسی نے ابھی بات بھی نہیں کی تھی کہ کاہن بول پڑا!’اگر میں غیب کی خبر دے سکتا ہوں اور آنیوالے وقت میں بھی جھانک کر بتا سکتا ہوں کہ کیسا ہوگا اور کیاہو گا تو کیا میں یہ نہیں بتا سکوں گا کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے؟‘‘……اس نے کہا۔’’تم اپنی زبانوں کو ساکن رکھو اور میری زبان سے سنو کہ تم کیا کہنے آئے ہو……تم جس دشمن پر حملہ کرنے جا رہے ہو وہ یوں سمجھو کہ سویا ہوا ہے۔اس نے مکہ پر قبضہ کیا ہے اور وہاں کے انتظامات سیدھے کررہا ہے۔وہ اپنی بادشاہی کی بنیادیں پکی کررہا ہے۔مکہ میں اس کے دشمن بھی موجود ہیں ۔ہر کسی نے محمد )ﷺ(کا مذہب قبول نہیں کیا۔‘‘’’مقدس کاہن!‘‘ دُرید بن الصّمہ نے کہا۔’’ہمیں یہ بتا کہ ہم محمد)ﷺ( کو خبر ہونے سے پہلے اس کو دبوچ سکتے ہیں ؟کیاہمارا اچانک حملہ مکہ کے مسلمانوں کو گھٹنوں بٹھا سکے گا؟‘‘کاہن نے آسمان کی طرف دیکھا۔کچھ بڑبڑایا اور بولا۔’’آنے والے وقت کے پردوں کو چاک کرکے دیکھا ہے……تمہارا حملہ اچانک ہوگا۔مسلمانوں کو اس وقت پتا چلے گا جب تمہاری تلواریں انہیں کاٹ رہی ہوں گی۔کون ہے جو برستی تلواروں میں سنبھل کر اپنے آپ کو بچانے کی ترکیب کر سکتا ہے؟……یہی وقت ہے۔یہی موقع ہے۔مسلمان اگر سنبھل گئے تو تم اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکو گے۔پھر مسلمان تمہارے گھروں تک تمہارا پیچھا کریں گے اور تمہارے خزانوں کوا ور تمہاری عورتوں کو تمہاری لاشوں کے اوپر سے گزار کر اپنے ساتھ لے جائیں گے……ازلام کی ضرورت نہیں ۔لات نے اشارہ دے دیا ہے اور پوچھا ہے کہ مجھے پوجنے والوں کی تلواریں ابھی تک نیاموں میں کیوں ہیں؟‘‘’’کوئی قربانی؟‘‘ایک سردار نے پوچھا۔’’حام۔‘‘کاہن نے کہا۔’’ایک حام۔اگر ہے تو دے دو۔نہیں ہے تو اپنے قبیلے سے کہو کہ پیٹھ نہ دکھائیں۔اپنے خون کی اور اپنی جانوں کی قربانی دیں……حام کی تلاش میں وقت ضائع نہ کریں……جاؤ،میں نے تمہیں خبر دے دی ہے۔مکہ میں مسلمان دوسرے کاموں میں مصروف ہیں۔وہ لڑنے کیلئے تیار نہیں۔یہ وقت پھر نہیں آئے گا۔‘‘
حام اس اونٹ کو کہتے تھے جس کی چوتھی نسل پیدا ہو جاتی تھی۔اسے یہ لوگ اپنے بت کے نام پر کھلا چھوڑ دیتے تھے۔اس اونٹ کو متبرک سمجھ کر اس پر نہ کوئی سواری کر سکتا تھا نہ اس سے کوئی اور کام لیا جاتا تھا۔اس پر خاص نشان لگا دیا جاتا تھا۔اسے جو کوئی دیکھتا تھا ،اس کا احترام کرتا اور اسے اپنے کھانے کی چیزیں کھلا دیتا تھا۔جب ہوازن اور ثقیف کے سردار کاہن کی اشیرباد لے کر چلے گئے توکاہن اندرونی کمرے میں چلا گیا۔وہاں وہ بوڑھا یہودی بیٹھا تھا جسے گذشتہ رات ضیافت کے دوران مالک بن عوف نے اشارے سے کہا تھا کہ وہ سب کو بتائے کہ محکومی اور غلامی کیا ہوتی ہے۔’’میں نے تمہارا کام کردیا ہے۔‘‘کاہن نے اسے کہا۔’’اب یہ لوگ مکہ کی طرف کوچ میں تاخیر نہیں کریں گے۔‘‘’’کیا انہیں کامیابی حاصل ہوگی؟‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔’’کامیابی کا انحصار ان کے لڑنے کے جذبے اور عقل پرہے۔‘‘کاہن نے کہا۔’’اگر انہوں نے صرف جوش اور جذبے سے کام لیا اور عقل کو استعمال نہ کیا تو محمد)ﷺ( کی عسکری قابلیت انہیں بہت بری شکست دے گی……میرا انعام؟‘‘’’تمہارا انعام ساتھ لایا ہوں۔‘‘بوڑھے نے کہا اور آواز دی۔دوسرے کمرے سے ایک حسین لڑکی آئی۔بوڑھے یہودی نے اپنے چغے کے اندر ہاتھ ڈال کر سو نے دو ٹکڑے نکالے اور کاہن کو دے دیئے۔’’میں کل صبح اس لڑکی کو لے جاؤں گا۔‘‘بوڑھے نے کہا۔’’میں تمہیں ایک بات بتا دینا چاہتا ہوں ۔‘کاہن نے کہا۔’’میں نے تمہارے کہنے پر ان لوگوں کو کہا ہے کہ فوراً حملہ کریں لیکن ان سرداروں میں سمجھ بوجھ ہے ۔حالات کو سمجھ لیتے ہیں ۔انکا بوڑھا سردار دُرید بن الصّمہ پہلے سے جانتا تھا کہ مسلمان مکہ میں ابھی جم کے نہیں بیٹھ سکے۔ان کے سامنے اور بہت سے مسئلے ہیں۔ان پر حملے کیلئے یہی وقت موزوں ہے۔ہوازن اور ثقیف کے سردار اپنے ارادے کی تصدیق کیلئے میرے پاس آئے تھے۔اچھا ہوا کہ ان سے پہلے تم چوری چھپے میرے پاس آ گئے تھے۔‘‘’’میرا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو ختم کیا جائے۔‘‘بوڑھے یہودی نے کہا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ ہوازن اور ثقیف دو طاقتور قبیلے تھے۔مسلمانوں نے مکہ فتح کرلیا تو ان دونوں قبیلوں کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ دونوں کے لوگ الگ الگ بستیوں میں رہتے ہیں اور بستیوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ ایک دوسرے سے دور دور بھی ہیں۔مسلمان ہر بستی پر قابض ہوکر دونوں قبیلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔انہوں نے سوچا کہ قبیلوں کو متحد کرکے مسلمانوں پر ہلّہ بول دیا جائے۔
دونوں قبیلے لڑنے والے آدمیوں کو ساتھ لے کر حنین کے قریب اوطاس کے مقام پر لے گئے۔ان کے سرداروں نے چھوٹے چھوٹے کئی اور قبائل کو اس قسم کے پیغام بھیج کرکہ مسلمان ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کرنے کیلئے آ رہے ہیں،اپنے اتحادی بنا لیا تھا۔اس متحدہ لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی تھی۔اس کا سپہ سالار مالک بن عوف تھا۔اس نے لشکر کے ہر آدمی کو اجازت دے دی تھی کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو ساتھ لے آئے۔اس نے اس اجازت کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ مکہ کا محاصرہ بہت لمبا بھی ہو سکتا ہے۔اگر ایسا ہو ا تو لشکریوں کو اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کا غم نہ ہوگا کہ معلوم نہیں کیسے ہوں گے۔اس اجازت سے تقریباً سب نے فائدہ اٹھایا تھا۔اس طرح جتنا لشکر لڑنے والوں کا تھا،اس سے کہیں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔اونٹ بھی بے شمار تھے۔دُرید بن الصّمہ بہت بوڑھا تھا۔وہ میدانِ جنگ میں جانے کے قابل نہیں تھا لیکن لڑنے اور لڑانے کا جو تجربہ اسے تھا وہ اور کسی کو نہیں تھا۔سپہ سالار مالک بن عوف کو بنایا گیا تھا لیکن اس میں خوبی صرف یہ تھی کہ وہ بہت جوشیلا تھا۔دُرید کو اس کے تجربے کی وجہ سے بلایاگیا تھا۔دُرید بن الصّمہ اس وقت اس لشکر میں شامل ہوا جب لشکر اوطاس کے مقام پر خیمہ زن تھا۔وہ شام کے وقت پہنچا،اسے بچوں کے رونے کی آوازیں سنائی دیں۔اس نے بکریوں اور گدھوں کی آوازیں بھی سنیں۔اس نے کسی سے پوچھا کہ لشکر کے ساتھ بچے ،بکریاں اور گدھے کون لایا ہے؟اسے بتایا گیا کہ سپہ سالار نے بال بچے اور مویشی ساتھ لے جاے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ انہیں ساتھ لانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔’’مالک!‘‘ دُرید بن الصّمہ نے مالک بن عوف کے خیمے میں جاکر پوچھا۔’’یہ تو نے کیا کیا ہے؟میں نے ایسا لشکر پہلی بار دیکھا ہے جو لڑنے والے لشکر کی بجائے نقل مکانی کرنے والوں کا قافلہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘’’مجھے تمہاری جنگی فہم و فراست پر ذرا سا بھی شک نہیں میرے بزرگ!‘‘ مالک بن عوف نے کہا۔’’لیکن میں نے جو سوچا ہے ،وہ تم ساری عمر نہیں سوچ سکے۔میں نے لشکریوں سے کہا تو یہ ہے کہ محاصرہ لمبا ہو جانے کی صورت میں انہیں اپنے اہل و عیال اور مال مویشی کے متعلق پریشانی پیدا ہو جائے گی۔لیکن میں نے سوچا کچھ اور ہے۔میں مکہ کو محاصرے میں نہیں لوں گا بلکہ یلغار کردوں گا۔مسلمانوں کو ہم بے خبری میں جا لیں گے۔تمہیں معلوم ہے کہ مسلمان لڑنے میں کتنے تیز اور عقل مند ہیں۔وہ پینترے بدل بدل کر لڑیں گے۔ہو سکتا ہے ہمارے آدمی ان کی بے جگری کے آگے ٹھہر نہ سکیں۔
وہ جب دیکھیں گے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں اور بچے اور دودھ دینے والے مویشی بھی ساتھ ہیں تو وہ انہیں بچانے کیلئے جان کی بازی لگاکر لڑیں گے اور زیادہ بہادری سے لڑیں گے۔بھاگیں گے نہیں۔‘‘’’تجربہ عمر سے حاصل ہوتا ہے مالک! ‘‘دُرید نے کہا۔’’تیرے پاس جذبہ ہے، غیرت ہے، جرات ہے لیکن عقل تیری ابھی خام ہے۔لڑائی میں اُن لوگوں کا دھیان آگے نہیں پیچھے ہوگا۔یہ یہی دیکھتے رہیں گے کہ دشمن پہلو سے یا عقب سے ان کے بال بچوں تک تو نہیں آ گیا۔دشمن جب ان پر جوابی حملہ کرے گا تو یہ تیزی سے اپنے بیوی بچوں تک پہنچیں گے کہ یہ دشمن سے محفوظ رہیں……تو بہت بڑی کمزوری اپنے ساتھ لے آیا ہے۔محمد)ﷺ(کی جنگی قیادت کو تو نہیں جانتا میں جانتا ہوں۔اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک قابل سالار ہے۔وہ تیری اس کمزور رگ پر وار کریں گے۔وہ کوشش کریں گے کہ تیرے لشکر کی عورتوں اور بچوں کو یرغمال میں لے لیں۔انہیں دور پیچھے رہنے دو اور مکہ کو کوچ کرو۔‘‘’’احترام کے قابل بزرگ!‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’تم بہت پرانی باتیں کر رہے ہو ۔تم نے محسوس نہیں کیا کہ اتنی لمبی عمر نے تمہیں تجربوں سے تو مالا مال کر دیاہے لیکن عمر نے تمہاری عقل کمزور کر دی ہے۔اگر میں سپہ سالار ہوں تو میرا حکم چلے گا ۔میں جہاں ضرورت سمجھوں گاتم سے مشورہ لے لوں گا۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ دُرید بن الصّمہ یہ سوچ کر چپ ہو گیا کہ یہ موقع آپس میں الجھنے کا نہیں تھا۔’’تم لشکر سے کچھ اور کہنا چاہتے ہو تو کہہ دو۔‘‘مالک بن عوف نے کہا۔’’جو کام مجھے کرنا ہے وہ میں تمہیں بتائے بغیر کروں گا۔‘‘دُرید نے کہا۔’’مجھ میں لڑنے کی طاقت نہیں رہی۔لڑا سکتا ہوں۔‘‘اس نے اپنے خیمے میں جا کر قبیلے کے سرداروں کو بلایا اور اتنا ہی کہا۔’’جب حملہ کرو گے تو تمہارا اتحاد نہ ٹوٹے۔تمام لشکر سے کہہ دو کہ حملہ سے پہلے تلواروں کی نیامیں توڑ کر پھینک دیں۔‘‘عربوں میں یہ رسم تھی کہ لڑائی میں جب کوئی اپنی نیام توڑ دیتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ شخص لڑتا ہوا جان دے دے گا ،پیچھے نہیں ہٹے گا اور شکست نہیں کھائے گا۔نیام توڑنے کو وہ فتح یا موت کا اعلان سمجھتے تھے۔کسی بھی تاریخ میں ایسا اشارہ نہیں ملتا کہ دُرید بن الصّمہ نے قبیلوں کے سراروں سے کہا ہو کہ وہ اپنے اہل و عیال کو اوطاس میں ہی رہنے دیں لیکن دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ لڑائی کے وقت صرف ہوازن قبیلہ تھا جس نے اپنی عورتوں ،بچوں اور بکریوں وغیرہ کو اپنے ساتھ رکھا تھا۔
یہ دوسرا موقع تھا کہ اتنے زیادہ قبیلوں کی متحد ہ فوج مسلمانوں کو تہس نہس کرنے آرہی تھی۔اس سے پہلے جنگِ خندق میں اتنے زیادہ قبیلے مسلمانوں کے خلاف متحد ہوئے تھے۔اب مالک بن عوف اس امید پر متحدہ فوج کو لے کر جا رہا تھا کہ وہ مکہ پر اچانک ٹوٹ پڑے گا۔اس لشکر کو اب اوطاس سے مکہ کو کوچ کرنا تھااور اس کوچ کی رفتار بہت تیز رکھنی تھی۔اوطاس میں لشکر کاقیام اس لیے زیادہ ہو گیا تھا کہ دوسرے قبیلوں کو وہاں اکھٹا ہونا تھا۔اگر اس لشکر میں صرف لڑنے والے ہوتے تو لشکر فوراً مکہ کی طرف پیش قدمی کر جاتا۔اس میں عورتیں اور بچے بھی تھے اور ان کا سامان بھی تھا۔اس لیے وہاں سے کوچ میں خاصی تاخیر ہو گئی ۔اس دوران مکہ کی گلیوں میں ایک للکارسنائی دی۔’’مسلمانو!ہوشیار……تیار ہو جاؤ……وہ ایک شتر سوار تھا۔‘‘ جو رسول اکرمﷺ کے گھر کی طرف جاتے ہوئے اعلان کرتا جا رہا تھا ۔’’خدا کی قسم! میں جو دیکھ کہ آیا ہوں وہ تم میں سے کسی نے نہیں دیکھا۔‘‘’’کیاشور مچاتے جا رہے ہو؟‘‘کسی نے اسے کہا ۔’’رکو اور بتاؤ کیا دیکھ کہ آئے ہو؟‘‘’’رسول اﷲﷺ کو بتاؤں گا۔‘‘وہ کہتا جا رہا تھا۔’’تیار ہو جاؤ……ہوازن اور ثقیف کا لشکر……‘‘’’رسول ِکریمﷺ کو اطلاع مل گئی کہ ہوازن اور ثقیف کے قبیلوں کے ساتھ دوسرے قبیلوں کے ہزاروں لوگ اوطاس کے قریب خیمہ زن ہیں اور انکا ارادہ مکہ پر حملہ کرنے کا ہے اور وہ کوچ کرنے والے ہیں۔تاریخوں میں اس شخص کا نام نہیں ملتا۔جس نے اوطاس میں اس متحدہ لشکر کو دیکھا اور یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ لشکر کا ارادہ کیا ہے۔مؤرخوں نے اتنا ہی لکھا ہے کہ رسولِ کریمﷺ کو قبل از وقت غیر مسلم قبیلوں کے اجتماع کی خبر مل گئی۔ان مؤرخوں کے مطابق)اور بعد کے مبصروں کی تحریروں کے مطابق(رسولِ اکرمﷺ کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ جنگ و جدل سے گریز کیا جائے اور ان غیر مسلموں کو جو آپﷺ کو اور مسلمانوں کو دشمن سمجھتے اور آپﷺ کے خلاف سازشیں تیار کرتے رہتے تھے ،انہیں خیر سگالی اور بھائی چارے کے پیغام دیئے جائیں۔اس خواہش اور کوشش کے علاوہ جنوری ۶۳۰ء میں حضورﷺ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔کیونکہ آپﷺ نے مکہ کو چند ہی دن پہلے اپنی تحویل میں لیا تھا اور شہر کے انتظامات میں مصروف تھے۔حضورﷺ کو مشورے دیئے گئے کہ شہری انتظامات کو ملتوی کرکے دفاعی انتظامات کی طرف فوری توجہ دی جائے۔اور دشمن کے حملے یا محاصرے کا انتظار کیا جائے۔رسول اﷲﷺ نے مشورہ دینے والوں سے یہ کہہ کہ ان کا مشورہ مسترد کردیا کہ’’ ہم یہاں دفاعی مورچے بنا کر ان میں بیٹھ جائیں اور جب دشمن کو یہ خبر ملے کہ ہم بیدار ہیں اور قلعہ بند ہو کہ بیٹھ گئے ہیں تو دشمن مکہ سے کچھ دور خیمہ زن ہو کر اس انتظار میں تیار بیٹھ جائے کہ ہم دفاع میں ذرا سی کوتاہی کریں اور وہ شہر کو محاصرے میں لے لے ،یا سیدھی یلغار کردے۔ تو یہ دشمن کو دعوت دینے والی بات ہو گی کہ مسلسل خطرہ بن کر ہمارے سروں پر بیٹھا رہے۔‘‘
اس دور کیمختلف تحریروں سے صاف پتا چلتا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے یہ اصول وضع کیا اور مسلمانوں کو ذہن نشین کرایا تھا کہ دشمن اگر اپنے گھر بیٹھ کر ہی للکارے تو اس کی للکار کا جواب ٹھوس طریقے یعنی عملی طریقے سے دو۔دوسرایہ کہ دشمن کی نیت اور
ا سکے عزائم کا علم ہو جائے تو اپنی سرحدوں کے اندر بیٹھ کر اس کا انتظا رنہ کرتے رہو ،اس پر حملہ کردو اور حضورﷺ نے اپنی امت کو تیسرا اصول یہ دیا کہ ہر وقت تیاری کی حالت میں رہو اور دشمن کو احساس دلا دو کہ وہ تمہیں للکارے گا یا تمہارے لیے خطرہ بننے کی کوشش کرے گا تو تم بجلی کی طرح اس پر کوندو گے۔نہیں! ایسانہیں ہو سکتا۔‘‘مالک بن عوف اپنے خیمے میں غصے سے بار بار زمین پر پاؤں مارتا اور کہتا تھا۔’’وہ اتنی جلدی کس طرح یہاں تک پہنچ سکتے ہیں؟کیا ہم اپنے ساتھ غداروں کو بھی لائے تھے جنہوں نے محمد)ﷺ( کو بہت دن پہلے خبردار کر دیا تھا کہ ہم آ رہے ہیں؟‘‘’’خود جا کر دیکھ لے مالک!‘‘ بوڑھے دُرید بن الصّمہ نے کہا۔’’اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔اگر میں جھوٹ بول رہاہوں تو اپنے دیوتا لات کو دھوکا دے رہا ہوں۔اس آدمی نے کہا جو دیکھ کہ آیا تھا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر جس کی تعداد کم و بیش دس ہزار تھی ،حنین کے قریب آ کر پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔اس نے کہا۔انہوں نے خیمے نہیں گاڑے ،وہ تیاری کی حالت میں ہیں……اور یہ بھی جھوٹ نہیں کہ اس لشکر کا سپہ سالار خود محمد)ﷺ(ہے۔‘‘مالک بن عوف غصے سے باؤلا ہوا چلا جا رہاتھا۔وہ مسلمانوں پر اچانک ٹوٹ پڑنے چلا تھا۔اس نے اوطاس سے مکہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا تھا مگر اسے اطلاع ملی کہ مسلمان اپنے رسولﷺ کی قیادت میں اس کی جمیعت سے تھوڑی ہی دور حنین کے گردونواح میں آ گئے ہیں اور مقابلے کیلئے تیار ہیں۔’’غصہ تیری عقل کو کمزور کر رہا ہے مالک!‘‘ دُرید نے اسے کہا۔’’اب محاصرے اور یلغار کو دماغ سے نکال اور اس زمین سے فائدہ اٹھا جس پر مسلمانوں سے تیرا مقابلہ ہو گا۔ تو اچھی چالیں سوچ سکتا ہے۔تو دشمن کو دھوکا دے سکتا ہے۔تجھ میں جرات ہے پھر تو کیوں پریشان ہو رہا ہے؟میں تیرے ساتھ ہوں……میں تجھے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ہوازن کے لوگوں نے اپنی عورتوں اور بچوں اور اپنے مویشیوں کو ساتھ لا کہ اچھا نہیں کیا……آ میرے ساتھ حنین کی وادی کو دیکھیں۔‘‘وہ دونوں اس علاقے کو دیکھنے چل پڑے جہاں لڑائی متوقع تھی۔
رسولِ کریمﷺ کے ساتھ مجاہدین کی جو فوج تھی اس کی تعداد بارہ ہزار تھی۔اس نفری میں مکہ کے دو ہزار ایسے افراد تھے جنہیں اسلام قبول کیے ابھی چند ہو د ن ہوئے تھے۔بعض صحابہ کرامؓ ان نو مسلموں پر بھروسہ کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔لیکن اﷲ کے رسولﷺ کو اپنے اﷲ پر بھروسہ تھا۔ابو سفیانؓ،عکرمہ ؓاور صفوانؓ بھی نو مسلم تھے۔یہ تینوں سرداری اور سالاری کے رتبوں کے افراد تھے جن کا نو مسلم قریش پر اثرورسوخ بھی تھا۔لیکن دیکھا یہ گیا کہ یہ سب اپنے مرضی سے اس لشکر میں شامل ہوئے تھے۔ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ ان تینوں نے مجاہدین کیلئے کم و بیش ایک سو زِرہ بکتر دیئے تھے۔یہ لشکر ۲۷ جنوری ۶۳۰ء )۶شوال ۸ھ(کی صبح مکہ سے روانہ ہوااور ۳۱ جنوری کی شام حنین کے گردونواح میں پہنچ گیا تھا ۔کوچ برق رفتار تھا۔رسولِ کریمﷺ کو معلوم تھا کہ قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف لڑنے والے قبیلے ہیں اور ان کے قائد دُرید اور مالک جنگی فہم و فراست اور چالوں سے بخوبی واقف ہیں۔اس لیے آپﷺ نے ہراول میں جن سات سو مجاہدین کو رکھا وہ بنو سلیم کے تھے اور ان کے کمانڈر خالدؓ بن ولید تھے۔حنین ایک وادی ہے جو مکہ سے گیارہ میل دور ہے۔بعض جگہوں پر یہ وادی سات میل چوڑی ہے،کہیں اس کی چوڑائی اس سے بھی کم ہے اور حنین کے قریب جاکر وادی کی چوڑائی کم ہوتے ہوتے بمشکل دو فرلانگ رہ جاتی ہے ۔یہاں سے وادی کی سطح اوپر کو اٹھتی ہے یعنی یہ چڑھائی ہے۔آگے ایک درّہ نما راستہ ہے جو دائیں بائیں مڑتا ایک اور وادی میں داخل ہوتا ہے ۔اس وادی کا نام نخلۃ الیمانیہ ہے ۔راستہ خاصا تنگ ہے۔مسلمانوں نے اپنے جاسوسوں کی آنکھوں سے دیکھا کہ قبیلوں کی متحدہ فوج ابھی اوطاس کے قریب خیمہ زن ہے مگر جاسوس رات کی تاریکی میں نہ جھانک سکے یا انہوں نے ضرورت مہی محسوس نہ کی کہ رات کو بھی دیکھ لیتے کہ دشمن کو ئی نقل و حرکت تو نہیں کر رہا۔دن کے دوران متحدہ قبیلوں کے کیمپ میں کوچ کاپیش قدمی کی تیاری کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔کیمپ پر مردنی سی چھائی ہوئی تھی۔کوئی سرگرمی نہیں تھی۔یکم فروری ۶۳۰ء )۱۱شوال ۸ھ(کی سحر مجاہدین نے اوطاس کی طرف پیش قدمی کی ۔اسکیم یہ تھی کہ دشمن کے کیمپ پر یلغار کی جائے گی۔امید یہی تھی کہ دشمن کو بے خبری میں جالیں گے۔پیش قدمی مکمل طور پرمنظم تھی۔ہراول میں بنو سلیم کے مجاہدین تھے جن کے قائد خالدؓ بن ولید تھے۔اس حیثیت میں خالد ؓ سب سے آگے تھے۔اسلامی فوج کی نفری تو بارہ ہزار تھی۔لیکن اس باقاعدہ فوج کے ساتھ ایک بے قاعدہ فوج بھی تھی جس کی نفری بیس ہزار تھی۔یہ مکہ اور گردونواح کے لوگ تھے جو فوج کی مدد کیلئے ساتھ آئے تھے۔ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے ۔اتنا زیادہ لشکر دیکھ کر بعض صحابہ کرامؓ نے بڑے فخر سے کہا۔’’کون ہے جو ہمیں شکست دے سکتا ہے؟‘‘
دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس فخرمیں تکبر کی جھلک بھی تھی۔
خالدؓ اسلامی لشکر کے آگے تھے۔وہ وادی حنین کے تنگ راستے میں داخل ہوئے تو صبح طلوع ہو رہی تھی ،خالدؓ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور رفتار تیز کردی۔خالدؓ جوشیلے جنگجو تھے اور جارحانہ قیادت میں یقین رکھتے تھے۔وہ جب مسلمان نہیں ہوئے تھے تو قبیلۂ قریش کے سردارِ اعلیٰ ابو سفیانؓسے انہیں سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ وہ انہیں کھُل کر لڑنے نہیں دیتے تھے۔ان کے قبولِ اسلام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے رسولِ کریمﷺ کی عسکری قیادت میں وہ جذبہ دیکھا تھا جو انہیں پسند تھا۔خالدؓنے قبولِ اسلام سے پہلے عکرمہ سے کہابھی تھا کہ میرے عسکری جذبے اور میدانِ جنگ میں جارحانہ انداز کی قدر صرف مسلمان ہی کر سکتے ہیں۔رسول اﷲﷺ کی خالدؓ کی عسکری اہلیت اور قابلیت کی جو قد رکی تھی اس کا ثبوت یہ تھا کہ وہ اتنے بڑے لشکر کے ہراول کے کمانڈر تھے۔صبح طلوع ہو رہی تھی جب خالدؓ بن ولید کا ہراول کا دستہ گھاٹی والے تنگ رستے میں داخل ہوا۔اچانک زمین و آسمان جیسے پھٹ پڑے ہوں ۔ہوازن ،ثقیف اور دیگر قبیلوں کی متحدہ فوج کے نعرے گھٹاؤں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک کی طرح بلند ہوئے اور موسلا دھار بارش کی طرح تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔یہ تیر دائیں بائیں کی چٹانوں اور ٹیکریوں سے آ رہے تھے۔یہ دشمن کی گھات تھی۔مالک بن عوف اور دُرید بن الصّمہ نے دن کے وقت اپنے کیمپ میں کوئی سرگرمی ظاہر نہیں ہونے دی تھی۔ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے یہ جنگی کیمپ نہیں کسی قافلے کا پڑاؤ ہے۔شام کے بعد مالک بن عوف اپنی فوج کو حنین کے تنگ راستے پر لے گیا اور تیر اندازوں کو دونوں طرف چھپا کر بِٹھا دیا تھا۔تیروں کی بوچھاڑیں اچانک بھی تھیں اور بہت زیادہ بھی۔مجاہدین کے گھوڑے تیر کھاکے بے لگام ہو کر بھاگے۔جو سوار تیروں سے محفوظ رہے ،و ہ بھی پیچھے کو بھاگ اٹھے۔تیروں کی بوچھاڑیں اور تندوتیز ہو گئیں۔گھوڑے بھی بے قابو اور سوار بھی بے قابو ہو گئے ۔بھگدڑ مچ گئی۔’’مت بھاگو! ‘‘خالدؓ بن ولید تیروں کی بوچھاڑوں میں کھڑے چلّا رہے تھے۔’’پیٹھ نہ دکھاؤ……مقابلہ کرو……ہم دشمن کو……‘‘گھوڑوں اور سواروں کی بھگدڑ ایسی تھی کہ خالدؓ بن ولید کی پکار کسی کے کانوں تک پہنچتی ہی نہیں تھی۔کوئی یہ دیکھنے کیلئے بھی نہیں رُکتا تھا کہ خالدؓ کے جسم میں کتنے تیر اُتر گئے ہیں اور وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے وہیں کھڑے اپنے دستے کو مقابلے کیلئے للکار رہے ہیں۔وہ آخر بھگدڑ کے ریلے کی زد میں آ گئے اور ان کے دھکوں سے یوں دور پیچھے آ گئے جیسے سیلاب میں بہہ گئے ہوں۔جب بھگدڑ کا ریلا گزر گیا تو خالدؓ اتنے زخمی ہو چکے تھے کہ گھوڑے سے گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے۔
ہراول کے پیچھے اسلامی فوج آ رہی تھی ۔اس کے رضا کاروں کا بے قاعدہ لشکر بھی تھا،ہراول کا دستہ بھاگتا دوڑتا پیچھے کو آیا تو فوج میں بھی بھگدڑ مچ گئی،ہراول کے بہت سے آدمیوں کے جسموں میں تیر پیوست تھے،اور انکے کپڑے خون سے لال تھے۔گھوڑوں کو بھی تیر لگے ہوئے تھے ۔مالک بن عوف کی فوج کے نعرے جو پہلے سے زیادہ بلند ہو گئے تھے ،سنائی دے رہے تھے۔ یہ حال دیکھ کر اسلامی فوج بکھر کر پیچھے کو بھاگی۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ وہ قریش جو بے دلی سے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی فوج کے ساتھ آ گئے تھے انہوں نے اس بھگدڑ کو یوں بڑھایا جیسے جلتی پر تیل ڈالا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف بھاگے بلکہ انہوں نے خوف وہراس پھیلایا۔ اُنہیں ایک خوشی تو یہ تھی کہ لڑائی سے بچے اور دوسری یہ کہ مسلمان بھاگ نکلے ہیں اور انہیں شکست ہوئی ہے۔مسلمانوں کی کچھ نفری وہیں جا پہنچی جہاں سے چلی تھی،اس جگہ کو فوجی اڈا)بیس(بنایا گیا تھا۔زیادہ تعداد ان مسلمانوں کی تھی جنہوں نے پیچھے ہٹ کر ایسی جگہوں پر پناہ لے لی جہاں چھپا جا سکتا تھا لیکن وہ چھپنے کیلئے بلکہ چھپ کر یہ دیکھنے کیلئے وہاں رُکے تھے کہ ہوا کیا ہے؟اور وہ دشمن کہاں ہے جس سے ڈر کر پوری فوج بھاگ اٹھی ہے ۔وہاں تو حالت یہ ہو گئی تھی کہ بھاگتے ہوئے اونٹ اور گھوڑے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور پیادے ان کے درمیان آ کر کچلے جانے سے بچنے کیلئے ہر طرف بھاگ رہے تھے۔رسولِ کریمﷺ نے اپنی فوج کی یہ حالت دیکھی تو آپﷺ بھاگنے والوں کے رستے میں کھڑے ہو گئے ،آپﷺ کے ساتھ نو صحابہ کرامؓ تھے ۔ان میں چار قابلِ ذکر ہیں:حضرت عمرؓ، حضرت عباسؓ ،حضرت علیؓ اور حضرت ابو بکرؓ۔’’مسلمانو ں ! ‘‘رسولِ کریمﷺ نے بلند آواز سے للکارنا شروع کر دیا۔’’کہاں جا رہے ہو؟میں اِدھر کھڑا ہوں۔میں جو اﷲکا رسول ہوں ۔مجھے دیکھو میں محمد ابنِ عبداﷲ یہاں کھڑا ہوں ۔‘‘مسلمان ہجوم کے قریب سے بھاگتے ہوئے گزرتے جا رہے تھے۔ آپﷺ کی ٓواز شور میں دب کر رہ گئی تھی۔خالدؓ بن ولید کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ آگے کہیں بے ہوش پڑے تھے۔ اتنے میں قبیلہ ہوازن کے کئی آدمی اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار بھاگتے ہوئے مسلمانوں کے تعاقب میں آئے۔ان کے آگے ایک شتر سوار تھا جس نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ حضرت علیؓ نے ایک مسلمان کو ساتھ لیا اور اس شتر سوار علمبردار کے پیچھے دوڑ پڑے۔ قریب جا کر حضرت علیؓ نے اس کے اونٹ کی پچھلی ٹانگ پر تلوار کا وار کر کے ٹانگ کاٹ دی۔اونٹ گرا تو سوار بھی گر پڑا۔حضرت علیؓ نے اس کے اٹھتے اٹھتے اس کی گردن صاف کاٹ دی۔حضورﷺ ایک ٹیکری پر جا کھڑے ہوئے ۔دشمن کے کسی آدمی کی للکار سنائی دی۔’’ وہ رہا محمد)ﷺ(……قتل کر دو۔‘‘
تاریخ میں ان آدمیوں کو قبیلۂ ثقیف کے لکھا گیا ہے۔جو اپنے آدمی کی للکار پر اس ٹیکری پر چڑھنے لگے جس پر رسول اﷲﷺ کھڑے تھے۔صحابہ کرامؓ جو آپﷺ کے ساتھ تھے، ان آدمیوں پر ٹوٹ پڑے۔مختصر سے معرکے میں وہ سب بھاگ نکلے۔ ان میں سے کوئی بھی رسول اکرمﷺ تک نہ پہنچ سکا۔’’میں مالک بن عوف سے شکست نہیں کھاؤں گا۔‘‘رسول اﷲﷺ نے کہا۔’’وہ اتنی آسانی سے کیسے فتح حاصل کر سکتا ہے۔‘‘حضورﷺ نے اپنی فوج کو بکھرتے اور بھاگتے تو دیکھ ہی لیا تھا ۔آپﷺ دشمن کو بھی دیکھ رہے تھے بلکہ دشمن کو زیادہ دیکھ رہے تھے۔آپﷺ کی عسکری حس نے محسوس کر لیا کہ مالک بن عوف اپنے پہلے بھرپور اور کامیاب وار پر اس قدر خوش ہو گیا ہے کہ اسے اگلی چال کا خیال ہی نہیں رہا۔وہ اسلامی فوج کی بھگدڑ اور افراتفری کی پسپائی سے فائدہ نہیں اٹھا رہاتھا۔حضورﷺ کو توقع تھی کہ مالک بن عوف کی متحدہ فوج مسلمانوں کے تعاقب میں آئے گی لیکن تعاقب میں دشمن کے جو آدمی آئے تھے وہ تعداد میں تھوڑے اور غیر منظم تھے ۔اس کے علاوہ حضورﷺ نے اپنے ہراول دستے کو پیچھے آتے بھی دیکھ تھا اور آپﷺ نے معلوم بھی کیا تھا کہ ہراول کے کتنے آدمی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔آپﷺ کو بتایا گیا کہ کئی ایک مجاہدین کے گھوڑے اور اونٹ زخمی ہوئے ہیں شہید ایک بھی نہیں ہوا۔اس سے رسول ﷺ نے یہ رائے قائم کی کہ یہ دشمن تیر اندازی میں اناڑی ہے اور جلد باز بھی ہے۔اتنی زیادہ تیر اندازی کسی کو زندہ نہ رہنے دیتی۔حضورﷺ نے اپنے پاس کھڑے صحابہ کرامؓ پر نظر ڈالی۔ آپﷺ کی نظریں حضرت عباسؓ پرٹھہر گئیں ۔حضرت عباس ؓ کی آواز غیر معمولی طورپر بلند تھی۔جو بہت دور تک سنائی دیتی تھی۔جسم کے لحاظ سے بھی حضرت عباسؓ قوی ہیکل تھے۔’’عباس!‘‘حضورﷺ نے کہا۔’’تم پر اﷲکی رحمت ہو۔مسلمانوں کو پکارو ……انہیں یہاں آنے کیلئے کہو۔‘‘’’اے انصار!‘‘ حضرت عباس ؓنے انتہائی بلند آواز میں پکارنا شروع کیا۔’’ اے اہلِ مدینہ…… اے اہلِ ……مکہ آؤ۔اپنے رسول کے پاس آؤ۔‘‘
حضرت عباسؓ قبیلوں کے اور آدمیوں کے نام لے لے کر پکارتے رہے اور کہتے رہے کہ اپنے رسول ﷺ کے پاس اپنے اﷲ کے رسول کے پاس آؤ۔
سب سے پہلے انصار آئے۔ ان کی تعداد معمولی تھی لیکن ایک کو دیکھ کردوسرا آتا چلا گیا۔ مکہ کے کچھ دوسرے قبیلوں کے لوگ بھی آ گئے۔ ان کی تعداد ایک سو ہو گئی۔ رسولِ کریمﷺ نے دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے بہت سے آدمی پسپا ہوئے مسلمانوں کی طرف دوڑے آ رہے تھے۔آپﷺ نے ان ایک سو مجاہدین کو دشمن کے ان آدمیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔مجاہدین ان کے عقب سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ہوازن کے آدمی بوکھلا گئے اور مقابلے کیلئے سنبھلنے لگے لیکن مجاہدین نے انہیں سنبھلنے کی مہلت نہ دی ۔ان میں سے بہت سے بھاگ نکلے ۔ان کے زخمی اور ہلاک ہونے والے پیچھے رہ گئے۔وہ تو اچانک ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ مجاہدین میں بھگدڑ مچ گئی تھی ،ورنہ وہ ہمیشہ اپنے سے کئی گنا زیادہ دشمن سے لڑے اور فاتح اور کامران رہے تھے۔انہوں نے دیکھاکہ عباسؓ کی پکار پر مسلمان رسولِ اکرمﷺ کے حضور اکھٹے ہو رہے ہیں اور دشمن مسلمانوں کے چھوٹے سے گروہ کے جوابی حملے کو بھی برداشت نہیں کر سکا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ہوازن اور ثقیف ان کے تعاقب میں نہیں آ رہے تو کئی ہزار مجاہدین واپس آ گئے ۔رسول اکرمﷺ نے انہیں فوراً منظم کیا اور دشمن پر حملے کا حکم دے دیا۔خالدؓ بن ولید لا پتا تھے۔کسی کو ہوش نہیں تھا کہ دیکھتا کہ کون لاپتا ہے اور کون کہاں ہے ۔وہی تنگ گھاٹی جہاں مجاہدین پر قہر ٹوٹا تھا، اب متحدہ قبائل کیلئے موت کی گھاٹی بن گئی تھی۔ قبیلہ ہوازن چونکہ سب سے زیادہ لڑاکا قبیلہ تھا اس لیے اسی کے آدمیوں کو آگے رکھا گیا تھا۔یہ لوگ بلا شک و شبہ ماہر لڑاکے تھے لیکن مسلمانوں نے جس قہر سے حملہ کیا تھا اس کے آگے ہوازن ٹھہر نہ سکے۔مسلمان اس خفت کو بھی مٹانا چاہتے تھے جو انہیں غلطی سے اٹھانی پڑی تھی۔یہ دست بدست لڑائی تھی ۔مجاہدین نے تیغ زنی کے وہ جوہر دکھائے کہ ہوازن گر رہے تھے یا معرکے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ رسولِ اکرمﷺ معرکے کے قریب ایک بلند جگہ کھڑے تھے۔ آپﷺ نے للکار للکارکر کہا۔’’یہ جھوٹ نہیں کہ میں نبی ہوں ……میں ابنِ عبدا لمطلب ہوں۔‘‘ہوازن پیچھے ہٹتے چلے جا رہے تھے۔وہ اب وار کرتے کم اور وار روکتے زیادہ تھے۔ان کا دم خم ٹوٹ رہا تھا۔ان کے پیچھے قبیلہ ٔ ثقیف کے دستے تیار کھڑے تھے ۔مالک بن عوف نے چلا چلا کر ہوازن کو پیچھے ہٹا لیا۔قبیلۂ ثقیف کے تازہ دم لڑاکوں نے ہوازن کی جگہ لے لی ۔مسلمان تھک چکے تھے اور ثقیف تازہ دم تھے لیکن مسلمانوں کو اپنے قریب اپنے رسولﷺ کی موجودگی اور للکار نیا حوصلہ دے رہی تھی۔مسلمانوں کی تلواروں اور برچھیوں کی ضربوں میں جو قہر اور غضب تھا اور ان کے نعروں اور للکار میں جو گرج اور کڑک تھی اس نے ثقیف پر دہشت طاری کردی۔ثقیف کے لڑاکے جو عرب میں خاصے مشہور تھے تیزی سے پیچھے ہٹنے لگے اور پھر ان کے اونٹوں اور گھوڑوں نے بھگدڑ بپا کر دی۔اس سے دشمن میں وہی کیفیت پیدا ہو گئی جو گھاٹی میں صبح کے وقت مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھی۔ ہوازن بڑی بری حالت میں پیچھے کو بھاگے تھے ۔اب ثقیف بھی پسپا ہوئے تو ان کے اتحادی قبائل کے حوصلے لڑے بغیر ہی ٹوٹ پھوٹ گئے۔وہ افراتفری میں بھاگ اٹھے۔
مالک بن عوف تنگ راستے سے دور پیچھے ہوازن کے بھاگے ہوئے دستوں کو یکجا کر رہا تھا۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ جارحانہ کارروائی سے منہ موڑ چکا ہے اور اپنے دستوں کو دفاعی دیوار کے طور پر ترتیب دے رہا ہے۔رسول اﷲﷺ نے یہ ترتیب دیکھی تو آپﷺ اپنے لشکر کی طرف پلٹے۔ آپﷺ نے دیکھا کہ جو مجاہدین صبح کے وقت بھاگ گئے تھے وہ سب واپس آ گئے ہیں۔ حضورﷺ نے حکم دیا کہ’’ گھوڑ سواروں کو آگے لاؤ۔‘‘ذرا سی دیر میں سوار پیادوں سے الگ ہو گئے ۔آپﷺ نے سواروں کو ایک خاص ترتیب میں کرکے حکم دیا کہ ’’ہوازن کو سنبھلنے اور منظم ہونے کا موقع نہ دواور برق رفتار حملہ کرو۔‘‘ان سواروں میں بنو سلیم کے وہ سوار بھی شامل تھے جن پر سب سے پہلے تیروں کی بوچھاڑیں آئی تھیں اور مسلمانوں کی جمعیت پارہ پارہ ہو گئی تھی۔ لیکن بنو سلیم کا کمانڈر ان کے ساتھ نہیں تھا اور وہ تھے خالدؓبن ولید جو ابھی تک کہیں بے ہوش پڑے تھے۔؁رسولِ اکرمﷺ نے اس سوار دستے کی قیادت زبیر ؓبن العوام کے سپرد کی اور انہیں حکم دیا کہ آگے جو درّہ ہے اس پر مالک بن عوف قبضہ کیے بیٹھا ہے ،اسے درّے سے بے دخل کر دو۔رسولِ کریمﷺ نے جنگ کی کمان اپنے دستِ مبارک میں لے لی تھی۔ آپﷺ کے اشارے پر زبیرؓ بن العوام نے ایسا برق رفتار اور جچا تلا ہلّہ بولا کہ ہوازن جو ابھی تک بوکھلائے ہوئے تھے مقابلے میں جم نہ سکے ا ور درّے سے نکل گئے ۔درّہ خاصہ لمبا تھا۔ رسولِ اکرمﷺ نے زبیر ؓکے دستے کو درّے میں ہی رہنے دیا اور حکم دیا کہ اب درّہ جنگی اڈا ہوگا۔ٓآپﷺ نے دوسرا سوار دستہ آگے کیا جس کے کمانڈر ابو عامر ؓ تھے۔حضورﷺ نے ابو عامر ؓ کے سپرد کام کیا کہ اوطاس کے قریب متحدہ قبائل کا جو کیمپ ہے اس پر حملہ کرو۔ ’’خالد……خالدیہاں ہے ……‘‘کسی نے بڑی دور سے للکار کر کہا۔’’یہ پڑا ہے۔‘‘
رسولِ اکرمﷺ دوڑے گئے اور خالدؓ تک پہنچے ۔خالد ؓابھی تک بے ہوش پڑے تھے ۔آپﷺ خالدؓ کے پاس بیٹھ گئے اورانتہائی شفقت سے ان کے سر سے پاؤں تک پھونک ماری۔ خالد ؓنے آنکھیں کھول دیں ۔رسول اﷲﷺ کے قلب اطہر سے نکلی دُعا کا اعجاز تھا کہ خالدؓ اُٹھ کھڑے ہوئے۔انہیں جو تیر لگے تھے وہ گہرے نہیں اترے تھے۔تیر نکال لیے گئے اور بڑی تیزی سے مرہم پٹی کر دی گئی۔’’یا رسول اﷲﷺ!‘‘ خالدؓ نے کہا ۔’’میں لڑوں گا۔میں لڑنے کے قابل ہوں۔‘‘
آ پﷺ نے خالد ؓ سے کہا کہ’’ زبیر کے سوار دستے میں شامل ہو جاؤ۔تم ابھی کمان نہیں لے سکو گے۔‘‘خالدؓ ایک گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ان کے کپڑے خون سے لال تھے۔انہوں نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور زبیرؓ کے سوار دستے میں شامل ہو گئے۔انہوں نے زبیر ؓسے پوچھا۔’’کیا حکم ہے؟‘‘زبیرؓ نے انہیں بتایا کہ ہوازن کی خیمہ گاہ پر حملہ کرنا ہے جو اوطاس کے قریب ہے لیکن یہ حملہ ابو عامرؓ کریں گے۔اوطاس وہاں سے کچھ دور تھا ۔مالک بن عوف نے ہوازن دستے کو وہاں تک ہٹا لیااور اپنی خیمہ گاہ کے اردگرد پھیلا دیا تھا ۔یہ دفاعی حصار تھا، جس کی ہوازن کے کیمپ کے گرد ضرورت اس لیے تھی کہ وہاں وہ ہزاروں عورتیں بچے اور مویشی تھے جنہیں قبیلۂ ہوازن کے سپاہی اپنے ساتھ لائے تھے۔مالک بن عوف نے تو یہ سوچا تھا کہ ہوازن اپنی عورتوں اور بچوں کو اپنے ساتھ دیکھ کر زیادہ غیرت مندی اور بے جگری سے لڑیں گے مگر اب یہ صورت پیدا ہو گئی کہ دُرید بن الصّمہ ،مالک بن عوف کو برا بھلا کہہ رہا تھا کہ اس کے منع کرنے کے باوجود مالک عورتوں کو ساتھ لے آیا تھا۔ان کیلئے اب اپنے اہل و عیال اور مویشیوں کو مسلمانوں سے بچانا محال دکھائی دے رہا تھا۔ ابو عامر ؓ کا سوار دستہ اوطا س کی طرف بڑھا۔قریب گئے تو ہوازن نے جم کر مقابلہ کیااب وہ جنگ جیتنے کیلئے یا مسلمانوں کو تہس نہس کرکے مکہ پر قبضہ کرنے کیلئے نہیں بلکہ مسلمانوں سے اپنے اہل و عیال اور مویشیوں کو بچانے کیلئے لڑ رہے تھے۔یہ بھی دست بدست معرکہ تھا ،جس میں جنگی چالوں کے نہیں ذاتی شجاعت کے مظاہرے ہو رہے تھے،سوار اور پیادے لڑتے ہوئے وادی میں پھیلتے جا رہے تھے۔ابو عامرؓ نے دشمن کے نو سواروں کو ہلاک کر دیا مگر دسویں ہوازن کو للکارا تو اس کے ہاتھوں خود شہید ہو گئے۔رسولِ اکرمﷺ نے پہلے ہی ان کا جانشین مقررکر دیا تھا ۔وہ تھے ان کے چچا زاد بھائی ابو موسیٰؓ۔انہوں نے فوراً کمان سنبھال لی اور اپنے سواروں کو للکارنے لگے۔ہوازن زخمی ہو ہو کر گر رہے تھے،صاف نظر آ رہا تھا کہ ان کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ نے زبیرؓ بن العوام کو جنہیں آپﷺ نے درّے میں روک لیا تھا۔ حکم دیا کہ اپنے دستے کو ابو موسیٰؓ کی مدد کیلئے لے جائیں ۔حضورﷺ نے یہ اس لیے ضروری سمجھا تھاکہ دونوں دستے مل کر ہوازن کا کام جلدی تمام کر سکیں گے۔زبیرؓ نے اپنے سواروں کو حملے کا حکم دیا۔ جب گھوڑے دوڑے اس وقت خالدؓ بن ولید کا گھوڑا دستے کے آگے تھا۔ ہوازن پہلے ہی ہمت ہار چکے تھے۔ مسلمانوں کے دوسرے سوار دستے کے حملے کی وہ تاب نہ لاسکے ان کے زخمیوں کی تعداد معمولی نہیں تھی۔
وہ اپنی عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔مسلمانوں نے کیمپ کو گھیرے میں لے لیا۔چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے لڑاکوں نے جب ہوازن اور ثقیف جیسے طاقتور قبیلوں کو بھاگتے دیکھا تو وہ وہاں سے بالکل غائب ہو گئے اور اپنی اپنی بستیوں میں جا پہنچے۔مالک بن عوف میدانِ جنگ میں کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔وہ نظر آ ہی نہیں سکتا تھا ۔اسے اپنے شہر طائف کی فکر پیدا ہو گئی تھی۔اس نے اپنے قبیلے کے سرداروں سے کہا کہ’’ مسلمان جس رفتار اور جس جذبے سے آ رہے ہیں، اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ وہ طائف تک پہنچیں گے اور اس بستی کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔‘‘خطرے کے پیشِ نظر اس نے قبیلہ ثقیف کے تمام دستوں کو لڑائی سے نکالا اور طائف جا دم لیا۔پیچھے حنین کی وادی میں کیفیت یہ تھی کہ ہوازن کی عورتیں اور بچے چیخ و پکار کر رہے تھے ۔تمام وسیع و عریض وادی مجاہدینِ اسلام کی تحویل میں تھی۔مکہ کے جو غیر فوجی مجاہدین کے ساتھ آئے تھے وہ زخمی مجاہدین کو اٹھارہے تھے، دشمن کے زخمی کرّاہ رہے تھے، مر رہے تھے۔ مرنے والوں میں بوڑھا دُرید بن الصّمہ بھی تھا۔وہ لڑتا ہوا مارا گیاتھا۔مسلمانوںکو دشمن کے زخمیوں اور قیدیوں سے جو ہتھیار اور گھوڑے ملے ان کے علاوہ چھ ہزار عورتیں اور بچے، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور بے شمارچاندی ہاتھ لگی۔مسلمانوں نے جنگ جیت لی تھی لیکن رسول اﷲﷺ نے فیصلہ کیا کہ مالک بن عوف کو مہلت نہیں دی جائے گی کہ وہ سستا سکے اور اپنی فوج کو منظم کر سکے۔آپﷺ نے دراصل سانپ کا سر کچلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ آپﷺ کے حکم سے مالِ غنیمت آئی ہوئی عورتیں ،بچوں ،مویشیوں اور دیگر مال کو ایک دستے کے ساتھ جعرانہ بھیج دیا گیا ۔اگلے حکم تک انہیں جعرانہ میں ہی رہنا تھا۔دوسرے دن رسولِ اکرمﷺ کے حکم سے اسلامی فوج طائف کی طرف پیش قدمی کر گئی جہاں بڑی خونریز جنگ کی توقع تھی۔معرکۂ حنین کا ذکر قرآن حکیم میں سورۂ توبہ میں آیا ہے ۔بعض صحابہ کرامؓ نے معرکہ شروع ہونے سے پہلے کہا تھا کہ ہمیں کون شکست دے سکتا ہے ۔اتنی بڑی طاقت کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ؟سورۂ توبہ میں آیا ہے:’’اﷲ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مددکی اور حنین کے دن بھی جب تم کو اپنی کثرت پر ناز تھا حالانکہ وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین باوجود اپنی وسعت کے تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگے پھر اﷲ نے اپنے رسول اور مسلمانوں پر تسلی نازل کی اور وہ فوجیں اتاریں جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سزا دی اور کافروں کا بدلہ یہی ہے۔‘‘

طائف بڑی خوبصورت بستی ہوا کرتی تھی۔ باغوں کی بستی تھی، پھولوں اور پھلوں کی مہک سے ہوائیں مخمور رہتی تھیں ۔طائف میں جا کر دکھی دل کھل اٹھتے تھے ۔یہ جنگجو سردارو ں کی بستی تھی۔ یہ ثقیف جیسے طاقتور قبیلے کا مرکز تھا۔اس بستی کے قریب اس قبیلے کی عبادت گاہ تھی جس میں ثقیف ،ہوازن اور چند اور قبائل کے دیوتا لات کا بت رکھا تھا۔جو بت نہیں ایک چبوترا تھا ۔یہ قبائل اس چبوترے کو دیوتا کہتے اور اس کی پوجا کرتے تھے۔اس عبادت گاہ میں ان کا کاہن رہتا تھا جسے خدا کا اوردیوتا لات کا ایلچی سمجھا جاتا تھا۔کاہن فال نکال کر لوگوں کو آنے والے خطروں سے آگاہ کر دیا کرتا تھا ۔کاہن کسی خوش نصیب کو ہی نظر آیا کرتا تھا۔عام لوگوں کو کاہن نہیں عبادت گاہ کے صرف مجاور ملا کرتے تھے۔کاہن کو جو دیکھ لیتا وہ ایسے خوش ہوتا تھا جیسے اس نے خدا کو دیکھ لیا ہو۔ طائف کیونکہ ان کے دیوتا کا مسکن تھا اس لیے یہ قبائل کا مقدس مقام تھا۔ایک ہی مہینہ پہلے طائف میں جشن کا سماں تھا۔یہاں کے سردارِ اعلیٰ مالک بن عوف نے پنے قبیلے جیسے ایک طاقتور قبیلے ہوازن اور کچھ اور قبیلوں کے سرداروں کو بہت بڑی ضرافت میں مدعو کیا تھا۔علاقے کی چنی ہوئی خوبصورت ناچنے اور گانے والیاں بلائی گئی تھیں۔ان کے رقص نے تماشائیوں پر وجد طاری کر دیا تھا۔اس رات شراب کے مٹکے خالی ہو رہے تھے۔اس رات اہلِ ثقیف اور اہلِ ہوازن نے عہد کیا تھا کہ وہ مکہ پر اچانک حملہ کرکے رسول ِ اکرمﷺ اور مکہ کے تمام مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیں گے ،ان قبائل کے ایک ضعیف العمر سردار دُرید بن الصّمہ نے کہا تھا:’’اٹھو اور لات کے نام پر حلف اٹھاؤ کہ ہم محمد)ﷺ( اور اس کے تمام پیروکاروں کو جنہوں نے مکہ کے تمام بت توڑ ڈالے ہیں، ختم کرکے اپنی عورتوں کومنہ دکھائیں گے۔‘‘مالک بن عوف جس کی عمر ابھی تیس سال تھی، جوش سے پھٹا جارہا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ’’قبائل کا متحدہ لشکر مکہ میں مسلمانوں کو بے خبری میں جا دبوچے گا۔‘‘ا س رات مالک بن عوف ،دُرید بن الصّمہ اور دوسرے قبیلوں کے سردار کاہن کے پاس گئے تھے۔ کاہن سے انہوں نے پوچھا تھا کہ وہ مکہ کے مسلمانوں کو بے خبری میں دبوچ سکیں گے ؟اور کیا ان کا اچانک اورغیر متوقع حملہ مسلمانوں کو گھٹنوں بٹھا سکے گا؟کاہن نے انہیں یقین دلایا تھا کہ دیوتا لات نے انہیں اشیرباد دے دی ہے۔کاہن نے بڑے وسوق سے کہا تھا مسلمانوں کو اس وقت پتا چلے گا جب تمہاری تلواریں انہیں کاٹ رہی ہوں گی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: