Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 8

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 8

–**–**–

میں پوری خبر لایا ہوں سالار!‘‘اس آدمی نے کہا۔’’عین التمر ،حیرہ اور دوسرے شہروں میں جن پر مسلمانوں کا قبضہ ہے ،مسلمانوں کی بہت تھوڑی فوج رہ گئی ہے اورایک ایک سالار ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کا بڑا لشکر دومۃ الجندل چلا گیا ہے جہاں ان کی کسی کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے۔شمشیر بن قیس نے مجھے آپ کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ یہ وقت پھر نہیں آئے گا۔اس وقت اپنے مفتوحہ علاقے مسلمانوں سے چھڑائے جا سکتے ہیں۔‘‘کچھ اور سوال و جواب کے بعد بہمن جاذویہ کو یقین ہو گیا کہ یہ آدمی غلط خبر نہیں لایا ہے۔بہمن کو معلوم تھا کہ دومۃ الجندل کتنی دور ہے اور وہاں تک پہنچنے اور واپس آنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
’’تم واپس چلے جاؤ۔‘‘بہمن جاذویہ نے اس آدمی سے کہا۔’’اور شمشیر بن قیس سے کہنا کہ اتنا بڑا انعام تمہارے نام لکھ دیا گیا ہے جسے تم تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔ایک آدمی تمہارے پاس تاجر کے روپ میں آئے گا ،اس کے ساتھ تمہاری بات ہوگی۔وہ تمہارا سائل ہوگا۔ہم بہت جلد حملے کیلئے آرہے ہیں۔اندر سے دروازے کھولنا تمہارا کام ہوگا۔‘‘’’کیا ہو گیا ہے محترم باپ؟‘‘بہمن کی بیٹی نے عین التمر کے سوار کے جانے کے بعد بہمن سے پوچھا۔’’مسلمان کہاں چلے گئے ہیں؟‘‘’’اوہ میری پیاری بیٹی!‘‘بہمن نے بیٹی کو فرطِ مسرت سے گلے لگا لیا اور پر جوش اور پر عزم آواز میں بولا۔’’مسلمان وہیں چلے گئے ہیں جہاں سے آئے تھے۔میں نے کہا تھا کہ وہ مدائن تک پہنچنے کی جرات نہیں کریں گے۔انہوں نے جو فتح حاصل کرنی تھی وہ کر چکے ہیں۔اب ہماری باری ہے۔اب میں اپنی بیٹی کو مسلمانوں کی لاشیں دِکھاؤں گا۔‘‘’’کب؟‘‘بیٹی نے بچوں کے سے اشتیاق سے پوچھا۔’’مجھے خالدکی لاش دِکھانا محترم پدر!یہاں سب کہتے ہیں کہ وہ انسانوں کے روپ میں آیا ہوا جن ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے بڑی زور کا قہقہہ لگایا۔بہمن جاذویہ کا یہ فاتحانہ اور طنزیہ قہقہہ پہلے کسریٰ کے محلات میں پہنچا،وہاں سے سالاروں تک گیا پھر مدائن کی ہزیمت خوردہ فوج نے سنا اور پھر یہ احکام او رہدایت کی صورت اختیار کر گیا۔بہمن جاذویہ کی بیٹی نے اپنی تمام سہیلیوں اور شاہی محل کی عورتوں کو اور جس کے ساتھ بھی اس نے بات کی،یہ الفاظ کہے۔’’میں تمہیں خالد کی لاش دِکھاؤں گی۔‘‘’’خالد کی لاش؟‘‘تقریبٍاًہ­ر لڑکی اور ہر عورت کا رد عمل یہی تھا۔’’کہتے ہیں خالدکو کوئی نہیں مار سکتا۔وہ انسان نہیں۔اسے دیکھ کر فوجیں بھاگ جاتی ہیں۔‘‘شاہی اصطبل میں جہاں شاہی خاندان اور سالاروں کے گھوڑے ہوتے تھے گہما گہمی بڑھ گئی تھی۔سائیسوں کو حکم ملا تھا کہ گھوڑے میں ذرا سا بھی نقص یا کزوری دیکھیں تو اسے ٹھیک کریں یا اسے الگ کر دیں۔بہمن جاذویہ کی بیٹی اس طرح ہر طرف پھدکتی پھر رہی تھی جس طرح عید کاچاند دیکھ کر نئے کپڑوں کی خوشی میں ناچتے کودتے ہیں۔وہ اصطبل میں گئی ۔وہاں اس کے باپ کے گھوڑوں کے ساتھ اس کا اپنا گھوڑا بھی تھا جو باپ نے اسے تحفے کے طور پر دیا تھا۔
’’میرے گھوڑے کا بہت سا را خیال رکھنا۔‘‘اس نے اپنے خاندان کے سائیس سے کہا۔ایک ادھیڑ عمر سائیس جو تین چار مہینے پہلے اس اصطبل میں آیا تھا۔دوڑا آیا اور لڑکی سے پوچھا کہ اپنی فوج کہیں جا رہی ہے یا مدینہ کے لشکر کے حملے کا خطرہ ہے؟’’اب تم مدینہ والوں کی لاشیں دیکھو گے۔‘‘لڑکی نے کہا۔باقی گھوڑوں کے سائیس بھی اس کے اردگرد اکھٹے ہو گئے تھے۔وہ بھی تازہ خبر سننا چاہتے تھے۔لڑکی نے انہیں بتایا کہ خالد تھوڑی سی فوج پیچھے چھوڑ کر زیادہ تر فوج اپنے ساتھ لے گیا ہے اور وہ عراق سے دور نکل گیاہے۔)یہ تمام تر علاقہ جو خالدنے فارس والوں سے چھینا تھا،عراق تھا(لڑکی نے سائیسوں کو بتایا کہ اب اپنی فوج پہلے عین التمرپر پھر دوسرے شہروں پر حملے کرکے انہیں دوبارہ اپنے قبضے میں لے لے گی۔اگر خالد واپس آیابھی تو اسے اپنی شکست اور موت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔’’کیا اسے زندہ پکڑا جائے گا؟‘‘ادھیڑ عمر سائیس نے مسرور سے لہجے میں پوچھا۔’’زندہ یا مردہ!‘‘بہمن کی بیٹی نے کہا۔’’اسے مدائن لایا جائے گا۔اگر زندہ ہوا تو تم اس کا سر قلم ہوتا دیکھو گے۔‘‘تین چار روز گزرے تو یہ ادھیڑ عمر سائیس لا پتا ہو گیا۔اسے سب عیسائی عرب سمجھتے تھے۔ہنس مکھ اور ملنسار آدمی تھا۔صرف ایک سائیس نے اس کے متعلق بتایا تھا کہ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنے قبیلے میں واپس جانا چاہتا ہے جہاں وہ قبیلے کی فوج میں شامل ہوکر مسلمانوں کے خلاف لڑے گا۔وہ اپنے خاندان کے ان مقتولین کا انتقام لیناچاہتا تھا جو دو جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔جس وقت شاہی اصطبل میں اس سائیس کی غیر حاضری کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں ،اس وقت وہ مدائن سے دور نکل گیا تھا۔مدائن سے وہ شام کو نکلا تھا،جب شہر کے دروازے ابھی کھلے تھے۔اس کے پاس اپنا گھوڑا تھا۔کسی کو بھی نہیں معلوم تھاکہ وہ عیسائی نہیں مسلمان تھا اور وہ اسی علاقے کا رہنے والا تھا جس پر ایران کے آتش پرستوں کا قبضہ رہا تھا۔وہ مثنیٰ بن حارثہ کا چھاپہ مار جاسوس تھا،اس نے مدائن میں جاکر شاہی اصطبل کی نوکری حاصل کرلی تھی۔بہمن جاذویہ کی بیٹی سے اس نے عراق سے خالدؓاور ان کے لشکر کی روانگی اور مدائن کے سالاروں کے عزائم کی تفصیل سنی تو وہ اسی شام مدائن سے نکل آیا،یہ اطلاع بہت قیمتی تھی۔سورج نے غروب ہوکر جب اس کے اور مدائن کی شہر پناہ کے درمیان سیاہ پردہ ڈال دیا تو اس مسلمان جاسوس نے گھوڑے کو ایڑھ لگا دی۔اس کی منزل انبار تھی جہاں تک وہ اڑ کر پہنچنے کی کوشش میں تھا۔جہاں گھوڑا تھکتا محسوس ہوتا۔وہ اس کی رفتار کم کر دیتا ۔صرف ایک جگہ اس نے گھوڑے کو پانی پلایا۔اگلے روز کا سورج افق سے اٹھ آیا تھا جب وہ انبار میں داخل ہوااور کچھ دیر بعد وہ سالار زبرقان بن بدر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔وہ ہانپ رہا تھا۔اس نے ہانپتے ہوئے سنایا کہ مدائن میں کیا ہو رہا ہے۔’’میں اسی روز آجاتا جس روز مجھے بہمن کی بیٹی سے یہ خبر ملی تھی۔‘‘اس نے سالار زبرقان سے کہا۔’’لیکن میں وہاں تین دن یہ دیکھنے کیلئے رُکا رہا کہ دشمن کیا کیا تیاریں کر رہا ہے،اور وہ سب سے پہلے کہاں حملہ کرے گا۔‘‘
اس جاسوس نے جسے تاریخ نے ’’ایک جاسوس‘‘لکھا ہے،مدینہ کی فوج کے سالار زبرقان بن بدر کوجو تفصیلی رپورٹ دی ،وہ تاریخ کا حصہ ہے اور تقریباً ہر مؤرخ نے بیان کیا ہے۔خالد ؓجب عین التمر سے عیاضؓ بن غنم کی مدد کیلئے دومۃ الجندل کیلئے روانہ ہوئے تو عین التمر سے ایک عیسائی عرب نے مدائن اطلاع بھیج دی کہ خالدؓعراق سے چلے گئے ہیں۔ان کی منزل دومۃ الجندل بتائی گئی،اس سے مدائن کے تجربہ کار سالار بہمن جاذویہ نے یہ رائے قائم کی کہ مسلمان تخت و تاراج اور لوٹ مار کرنے آئے تھے اور اپنے کچھ دستے برائے نام قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پیچھے چھوڑ کر چلے گئے اور یہ دستے ذرا سے دباؤ سے بھاگ اٹھیں گے۔اس زمانے میں اکثر یوں ہوتا تھا کہ کوئی بادشاہ بہت بڑی فوج تیار کرکے طوفان کی مانند یکے بعد دیگرے کئی ملکوں پر چڑھائی کرتا اور قتلِ عام اور لوٹ مار کرتا اپنے پیچھے کھنڈر اور لاشوں کے انبار چھوڑ جاتا تھا۔وہ کسی بھی ملک پر مستقل طور پر قبضہ نہیں کرتا تھا۔مدائن کے محل میں خالدؓ کے کوچ کے متعلق یہی رائے قائم کی گئی لیکن خالدؓ نے عراق میں فارس کے جو مقبوضہ شہر اور بڑے قلعے فتح کیے تھے ،وہاں وہ ایک ایک سالار اور کچھ دستے چھوڑ گئے تھے ۔یہ صورتِ حال کسریٰ کے سالاروں کو کچھ پریشان کر رہی تھی۔’’فوج کو مدائن سے نکالواور حملے پہ حملہ کرو۔‘‘کسریٰ کے دربار سے حکم جاری ہوا۔’’ہم تیار ہیں۔‘‘شیر زاد نے کہا۔جو حاکم ساباط تھا اور انبار سے مسلمانوں سے شکست کھا کر بھاگا تھا ۔’’ہم بالکل تیار ہیں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا جو عین التمر کا بھگوڑا تھا۔’’مگر لشکر تیار نہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا جو تجربہ کار سالار تھا ۔شکست تو اس نے بھی کھائی تھی لیکن اس نے کچھ تجربہ حاصل کیا تھا۔’’کیا کہہ رہے ہو بہمن؟‘‘کسریٰ کے اس وقت کے جانشین نے کہا۔’’کیا ہم نے اس لشکر کو اس لئے پالا تھا کہ شکست کھا کر ہمارے پاس بھاگ آئے اور ہم ان سپاہیوں اور کمانداروں کو سانڈوں کی طرح پالتے رہیں؟‘‘’’اگر ان سپاہیوں اور کمانداروں کو سزا دینی ہے تو آج ہی کوچ کا حکم دے دیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اپنے لشکر کی حالت مجھ سے سنیں۔‘‘اس نے اپنے لشکر کی جو کیفیت بیان کی وہ،مؤرخوں اور بعد کے جنگی مبصروں کے الفاظ میں یوں تھی کہ ’’فارس کی اس جنگی طاقت کے پرانے اور تجربہ کار سپاہیوں کی بیشتر نفری مسلمانوں کے ہاتھوں چار پانچ جنگوں میں ماری جا چکی تھی یا جسمانی لحاظ سے معذور بلکہ اپاہج ہوگئی تھی۔خاصی تعداد جنگی قیدی تھی اور لشکر کے جو سپاہی اور ان کے کمانڈر بچ گئے تھے وہ ذہنی معذور نظر آتے تھے ۔تین الفاظ مدینہ،خالد بن ولید،اور مسلمان۔ان کیلئے خوف کا باعث بن گئے تھے۔وہ فوری طور پر میدانِ جنگ میں جانے اور لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ان کا جوش اور جذبہ بُری طرح مجروح ہوا تھا۔گھوڑوں کی بھی کمی واقع ہو گئی تھی۔‘‘
بہمن جاذویہ نے دربارِ خاص میں بتایا کہ جو عیسائی قبیلے ان کے اتحادی بن کر لڑے تھے،ان کی بھی یہی کیفیت ہے۔مہراں بن بہرام نے انہیں عین التمر میں جو دھوکا دیا تھا اس کی وجہ سے وہ فارس والوں کے ساتھ ملنے سے انکار کر سکتے تھے۔’’پھر بھی انہیں ساتھ ملا لیا جائے گا۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’لیکن اپنے لشکر کیلئے ہزار ہا جوان آدمیوں کی بھرتی کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے لشکر میں نیا خون شامل کرنا پڑے گا۔ان جوانوں کو ہم بتائیں گے کہ مسلمانوں نے ان کی شہنشاہی کو ،ان کی غیرت کو اور ان کے مذہب کو للکارا ہے۔اگر انہوں نے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیا تو ان پر زرتشت کا قہرنازل ہوگا۔ان کی جوان اور کنواری بہنوں کو مسلمان اپنی لونڈیاں بنا لیں گے۔‘‘’’اتنے زیادہ لشکر کی کیا ضرورت ہے؟‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’اطلاع تو یہ ملی ہے کہ ہر جگہ مسلمانوں کی نفری برائے نام ہے۔‘‘’’ہر شہر اور ہر قلعے میں ہمارے اپنے آدمی موجود ہیں۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’اس وقت وہ مسلمانوں کی ملازمت میں ہیں لیکن انہیں جب پتہ چلے گا کہ فارس کی فوج نے شہر کا محاصرہ کیا ہے تو……‘‘’’تو وہ اندر سے قلعے کے دروازے کھول دیں گے۔‘‘بہمن جاذویہ نے شیرزاد کی بات پوری کرتے ہوئے کہا۔’’تم جھوٹی امیدوں کے سہارے لڑائی لڑنا چاہتے ہو؟مجھے اطلاعیں ملتی رہتی ہیں ،مسلمان اپنے مفتوح اور محکوم لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی آدمی بے وفائی نہیں کرتا۔اگر فاتح اپنے مفتوح کی جوان اور حسین بیٹیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے اور اس کی عزت اور اموال کو تحفظ دے تو مفتوح ایسے فاتح کے ساتھ کبھی بے وفائی نہیں کرے گا۔‘‘’’نہ سہی!‘‘شاہی خاندان کے کسی فرد نے کہا۔’’اتنے زیادہ لشکر کی پھر بھی ضرورت نہیں۔‘‘’’یہ ان سالاروں سے پوچھیں جو مسلمانوں سے شکست کھا کر آئے ہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان جتنے تھوڑے ہوتے ہیں اتنے ہی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ،میں کوئی خطرہ مول نہیں لیناچاہتا۔یہ بھی خیال رکھیں کہ مسلمان قلعہ بند ہوں گے۔انہیں زیر کرنے کیلئے ہمارے پاس دس گنا نفری ہونی چاہیے۔میں اپنی جوابی کارروائی کو فیصلہ کن بنانا چاہتا ہوں۔یہ خیال بھی رکھو کہ ہم ایک دن میں مقبوضہ شہر مسلمانوں سے واپس نہیں لے سکتے،مسلمان جہاں مقابلے میں جم گئے وہاں ہمیں مہینوں تک باندھ لیں گے۔اس عرصے میں خالد اپنے لشکرکے ساتھ واپس آ سکتا ہے۔اس کے واپس آجانے سے صورتِحال بالکل ہی بدل جائے گی۔اگر ہمارے لشکر کی نفری کم ہوئی تو اس جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ہم لشکر تیار کرکے اسے کئی حصوں میں تقسیم کریں گے اور ایک ہی وقت ہر جگہ حملہ کریں گے۔‘‘’’کیا خالد کے خاتمے کاکوئی انتظام نہیں ہو سکتا؟‘‘کسریٰ کے جانشین نے پوچھا۔’’یہ انتظام بھی میرے پیشِ نظر ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’دیکھ بھال کیلئے میں تیز رفتار گھوڑ سوار ہر طر ف پھیلا دوں گا۔خالدجدھر سے بھی آئے گا،مجھے اطلاع مل جائے گی۔میں اسے عراق سے دور روک لوں گا۔‘‘
بہمن جاذویہ کو وسیع اختیارات مل گئے۔اس نے اپنےلشکر میں ان سپاہیوں کو زیادہ ترجیح دی جو مسلمانوں سے لڑ چکے تھے۔اس کے ساتھ ہی نئی بھرتی شروع کر دی۔نوجوانوں کو ایسا بھڑکایا گیا کہ وہ ہتھیاروں اور گھوڑوں سمیت لشکر میں آنے لگے۔عیسائیوں کو زیادہ مراعات دے کر فوج میں شامل کیا گیا۔عیسائی قبیلوں کے سرداروں کو مدائن بلایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ خالدؓ اپنے لشکر کو عراق سے نکال کرلے گیا ہے،اور جو مسلمان فوج پیچھے رہ گئی ہے اسے یہیں ختم کرنا ہے اور زندہ بچے رہنے والے مسلمانوں کو صحرا میں بھٹک بھٹک کر مرنے کیلئے چھوڑ دینا ہے۔’’بنی تغلب سے اب یہ توقع نہ رکھو کہ وہ تمہاری لڑائی لڑیں گے۔‘‘عیسائی قبیلے بنی تغلب کے ایک سالار نے فارس کے سالاروں سے کہا۔’’ہم ایک بار پھر وہ دھوکا نہیں کھانا چاہتے جو ایک بار کھا چکے ہیں۔عین التمر سے مہراں بن بہرام اپنی ساری فوج لے کر نہ بھاگتا تو مسلمان وہیں ختم ہو جاتے۔ہم اپنی لڑائی لڑیں گے ۔ہمیں مسلمانوں سے اپنے سردار عقہ بن ابی عقہ کے خون کا انتقام لینا ہے ۔ہم تمہاری مدد اور تمہارے ساتھ کے بغیر مسلمانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔‘‘’’کیا تم اپنی لڑائی الگ لڑو گے؟‘‘بہمن جاذویہ نے پوچھا۔’’کیا ایسا نہیں ہوگا کہ مسلمان ہم دونوں کو الگ الگ شکست دے دیں؟‘‘’’لڑیں گے تمہارے دوش بدوش ہی۔‘‘بنی تغلب کے سردار نے کہا۔’’میری عقل میرے قابو میں ہے۔ہمارا دشمن مشترک ہے۔ہم تمہارے ساتھ ہوں گے لیکن تم پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ہمیں خالد کا سر چاہیے۔‘‘’’خالد یہاں نہیں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’وہ جا چکا ہے۔‘‘’’جہاں کہیں بھی ہے۔‘‘عیسائی سردار نے کہا۔’’زندہ تو ہے۔ہم پہلے ان کے ان دستوں کو ختم کریں گے جو یہاں ہیں۔پھر ہم خالدبن ولید کے پیچھے جائیں گے……وہ خود آجائے گا۔وہ دستوں کی مدد کو ضرور آئے گا۔لیکن یہاں موت اس کی منتظر ہوگی۔‘‘
یہ مسلمان جاسوس مدائن میں عیسائی بن کرشاہی اصطبل میں نوکری کرتا رہا تھا۔اس لیے وہ عیسائیوں میں گھل مل گیا تھا۔اس نے سالار زبرقان بن بدر کو بتایا کہ آتش پرستوں کی نسبت عیسائی قبیلے خالدؓکے زیادہ دشمن بنے ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے فارس کے سالاروں سے کہا کہ وہ پیچھے رہیں،مسلمانوں پر پہلا وار عیسائی قبیلے بنی تغلب،نمر اور ایاد ہی کریں گے۔سالار زبرقان بن بدر نے مدائن کی یہ رپورٹ سنی اور اسی وقت دو قاصد بلائے۔انہیں کہا کہ دو بہترین گھوڑے لیں اور اُڑتے ہوئے دومۃ الجندل پہنچیں۔زبرقان نے انہیں خالدؓ کے نام زبانی پیغام دیا۔
’’……اور سالارِ اعلیٰ ابن ِ ولید سے یہ بھی کہنا کہ جب تک انبار میں آخری مسلمان کی سانسیں چل رہی ہوں گی ،دشمن شہر کے اندر نہیں آسکے گا۔‘‘زبر قان بن بدر نے قاصدوں سے کہا۔’’تو آجائے گا تو ہمیں سہولت ہو جائے گی ،نہیں آسکو گے تو وہ اﷲہمارے ساتھ ہے جس کے رسولﷺ کا پیغام ہم اپنے سینوں میں لیے یہاں تک آئے ہیں……اور ابنِ ولید سے کہنا کہ دومۃ الجندل کی صورتِ حال تجھے آنے دیتی ہے تو آ،اور اگر تووہاں مشکل میں پھنسا ہو اہے تو ہمیں اﷲکے سپرد کر،ہم اسی طرح لڑیں گے جس طرح تیری شمشیر کے سائے تلے لڑتے رہے ہیں۔‘‘
ان قاصدوں کو روانہ کرکے سالار زبرقان نے چند ایک اور قاصدوں کو بلایا اورہر ایک کو اس کی منزل بتائی۔ان قاصدوں کو ان شہروں میں جانا اور وہاں کے سالاروں کو بتانا تھا کہ خالدؓ کی غیر حاضری سے آتش پرستوں نے کیا تاثر لیا ہے اور وہ حملے کی تیاری کر رہے ہیں،پیغام میں زبرقان نے یہ بھی کہا کہ اس نے دومۃ الجندل کو قاصد بھیج دیا ہے،اگر وہاں سے مدد نہیں آئی تو ہم ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے کی کوشش کریں گے۔مسلمانوں کیلئے بڑی خطرناک صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی۔دشمن کے مقابلے میں نفری پہلے ہی تھوڑی تھی۔وہ بھی بکھری ہوئی تھی۔اس صورت میں کہ دشمن بیک وقت تمام اُن شہروں کو جن پر مسلمانوں کا قبضہ تھا،محاصرے میں لے لیتا تو مسلمان ایک دوسرے کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے تھے۔دونوں طرف بے پناہ سرگرمی شروع ہو گئی۔عیسائی قبیلوں کے سرداروں نے بستی بستی جاکر لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔وہ ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو بھی اپنے سالتھ ملا رہے تھے جو عیسائی نہیں تھے۔وہ بت پرست تھے۔عیسائیوں کی جوان لڑکیاں بھی غیر مسلم بستیوں میں چلی گئیں۔وہ عورتوں کومسلمانوں کے خلاف بھڑکاتی تھیں کہ وہ اپنے مردوں کو،جوان بھائیوں اور بیٹوں کو باہر نکالیں ورنہ تمام جوان لڑکیوں کو مسلمان اپنے ساتھ لے جا کر لونڈیاں بنالیں گے۔ایسے نعرے بھی ان لڑکیوں نے لگائے ’’ہم مسلمانوں کی لونڈیاں بننے جا رہی ہیں۔‘‘اور دوسرا نعرہ جو بستی میں لگ رہا تھاوہ یہ تھا’’اپنے مقتولوں کے انتقام کا وقت آگیا ہے……باہر آؤ۔انتقام لو۔‘‘اُدھر مدائن میں فارس کے لشکر کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی۔اب لشکر میں شامل ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی جو جوش سے پھٹے جا رہے تھے ۔انہیں میدانِ جنگ میں لڑنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔گھوڑ سواری،تیر اندازی، تیغ زنی اور نیزہ بازی تو وہ جانتے تھے، ان میں انہیں مزید طاق کیا جا رہا تھا۔بہمن جاذویہ تو جیسے پاگل ہوا جا رہا تھا۔وہ خود مشقوں کی تربیت اور مشقوں کی نگرانی کرتا تھا۔اس کے ساتھی سالار اسے کہتے تھے کہ حملہ جلدی ہونا چاہیے لیکن وہ نہیں مانتا تھا۔کہتا تھا کہ خالد واپس نہیں آئے گا۔اگر اسے واپس آنا ہی ہوا تو وہ لشکر کے ساتھ اس وقت یہاں پہنچے گا جب عراق کی زمین پر کھڑا ہونے کیلئے اسے ایک بالشت بھر بھی زمین نہیں ملے گی۔مسلمان جن شہروں پر قابض تھے،وہاں کی سرگرمی اپنی نوعیت کی تھی۔ہر شہر میں مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی،انہوں نے کم تعداد سے قلعوں کے دفاع کی مشقیں شروع کر دی تھیں۔لاکھوں کے حساب سے تیر اور پھینکنے والے برچھے تیارہو رہے تھے۔سالاروں نے مجاہدین کا ایک ایک چھاپہ مار جیش تیار کر لیا تھا۔انہیں زیادہ وقت قلعوں کے باہر گزارنا اور عام راستوں سے دور رہنا تھا۔ان کا کام یہ تھا کہ دشمن شہر کا محاصرہ کر لے تو عقب سے اس پر ’’ضرب لگاؤاور بھاگو‘‘ُکے اصول پر چھاپے اور شبخون مارتے رہیں۔خالدؓ کی غیر حاضری میں سالار عاصم بن عمرو کے بھائی قعقاع بن عمرو مفتوحہ علاقوں میں مختلف شہروں میں مقیم دستوں کے سالار تھے۔
اس کا ہیڈ کوارٹر حیرہ میں تھا۔اس کی ذمہ داری صرف حیرہ کے دفاع تک محدود نہیں تھی۔عراق کے تمام تر مفتوحہ علاقے کا دفاع اس کی ذمہ داریمیں تھا۔اس نے اس علاقے میں بکھرے ہوئے تمام سالاروں کو ہدایات بھیج دی تھیں۔اس نے سب کو زور دے کر کہا تھا کہ دومۃ الجندل سے خالدؓ اور اپنے لشکر کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں،اپنے اﷲپر بھروسہ رکھیں اور یہ سمجھ کر لڑنے کی تیاری کریں کہ ان کی مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔قعقاع نے ایک کارروائی یہ کی کہ خالدؓنے جو دستے دریائے فرات کے پار خیمہ زن کئے تھے، ان میں سے زیادہ تر نفری کو حیرہ میں بلالیا تاکہ اس شہر کے دفاع کو مضبوط کیا جاسکے۔قعقاع کا اپنا جاسوسی نظام تھا۔اس کے ذریعے قعقاع کو اطلاع ملی کہ فارس کا لشکر کہاں کہاں جمع ہو گا۔یہ دو جگہیں تھیں۔ایک حُصید اور دوسری خنافس۔یہ دونوں مقام انبار اور عین التمر کے درمیان تھے ۔قعقاع نے اپنے ایک دستے کو حصید کو اور دوسرے کو خنافس اس ہدایت کے ساتھ بھیج دیا کہ فارس کی فوج وہاں آئے تو اس پر نظر رکھیں اور فوج کسی طرف پیشقدمی کرے تو اس پر چھاپے ماریں اور اس پیشقدمی میں رکاوٹ ڈالتے رہیں۔شبخون بھی ماریں۔یہ دونوں دستے جب ان مقامات پر پہنچے تو دونوں جگہوں پر فارس کے ہراول دستے آئے ہوئے تھے۔وہ جو خیمے گاڑھ رہے تھے ،ان سے پتا چلتا تھا کہ یہ خیمے کسی بہت بڑے لشکر کیلئے گاڑے جا رہے ہیں۔مسلمان دستوں نے ان کے سامنے اسی انداز سے خیمے گاڑنے شروع کر دیئے جیسے وہ بھی بہت بڑے لشکر کا ہراول ہوں۔اِدھر یہ تیاریاں ہو رہی تھیں۔مجاہدینِ اسلام کو خس و خاشاک کی مانند اُڑالے جانے کیلئے بڑا ہی تُند طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تھا،اُدھر سالار زبرقان بن بدرکے روانہ کیے ہوئے دونوں قاصد دومۃ الجندل خالدؓ کے پاس پہنچ گئے۔انہوں نے ساڑھے تین سو میل فاصلہ صرف پانچ دنوں میں طے کیا تھا۔خالدؓ جب دومۃ الجندل گئے تھے تو انہوں نے تین سو میل کا فاصلہ دس دنوں میں طے کیا تھا۔اب دو قاصدوں نے ساڑھے تین سو میل سے زیادہ صحرائی اور دشوارمسافت پانچ دنوں میں طے کی۔بھوک او رپیاس سے ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں ،ان کے چہروں پر باریک ریت کی تہہ جم گئی تھی۔ان کی زبانیں اکڑ گئی تھیں۔انہوں نے پھر بھی بولنے کی کوشش کی۔’’تم پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’خشک جسموں سے تم کیسے بول سکو گے؟‘‘
انہیں کھلایا پلایا گیا تو وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئے۔’’سالارِ اعلیٰ کو انبار کے سالار زبرقان بن بدر کا سلام پہنچے۔‘‘ایک قاصد نے کہا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’اور وہ پیغام کیا ہے جو لائے ہو؟‘‘’’مدائن میں بہت بڑا لشکر تیار ہو رہا ہے۔‘‘قاصد نے کہا۔’’اور ایک لشکر عیسائیوں کا تیار ہو رہا ہے۔وہ کہتے ہیں ابنِ ولید ان کے علاقوں سے چلاگیا ہے اور وہ تھوڑے سے جو دستے چھوڑ گیا ہے انہیں ایک ہی حملے میں ختم کرکے اپنے علاقے واپس لیں گے۔‘‘دونوں قاصدوں نے خالدؓ کو تمام تر تفصیل بتائی اور کہا کہ خالدؓ کے دومۃ الجندل کے حالات اجازت نہ دیں تو نہ آئیں۔دستے جو فارس کی شہنشاہی کے علاقے میں ہیں وہ اسی طرح لڑیں گے جس طرح خالدؓ کی قیادت میں لڑے تھے۔
خالدؓ دومۃ الجندل پر قبضہ مکمل کرچکے تھے۔انہوں نے وہاں کا انتظام ایک نائب سالار کے حوالے کیا اور فوری طور پر کوچ کا حکم دے دیا۔’’خدا کی قسم!‘‘مؤرخوں کے مطابق خالدؓنے ان الفاظ میں قسم کھائی۔’’بنی تغلب پر اس طرح جھپٹوں گا کہ پھر کبھی وہ اسلام کے خلاف اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے مجاہدین سے کہا کہ اتنی تیز چلو کہ صحرا کی ہوائیں پیچھے رہ جائیں ،پیادے گھوڑوں سے آگے نکل جائیں۔یہ ایک امتحان ہے جوبڑا ہی سخت ہے۔یہ ایک دوڑ تھی آتش پرستوں اور حق پرستوں کی۔آتش پرستوں کو اپنے ہی علاقے میں پہنچنا تھا اور یہ مسافت کچھ بھی نہیں تھی۔حق پرست بڑی دور سے چلے تھے۔ان کے سامنے سینکڑوں میلوں کی مسافت ہی نہیں تھی ،بڑا ظالم صحرا تھا۔میل ہا میل کی وسعت میں صحرائی ٹیلے تھے اور باقی سب ریت کا سمندر تھا۔سب سے بڑا مسئلہ پانی کا اور اس سے بڑا مسئلہ رفتار کا تھا جو کم نہیں کی جا سکتی تھی۔نا ممکن کو ممکن کر دکھانا تھا۔چاند اور ستاروں نے انہیں چلتے دیکھا۔سورج نے انہیں چلتے دیکھا۔صحرا کی آندھی بھی انہیں نہ روک سکی۔آندھی،سورج ،پیاس اور بھوک جسموں کو معذور کیا کرتی ہے۔وہ جو تپتے صحراؤں میں پیاس سے مر جاتے ہیں وہ جسم ہوتے ہیں،اور وہ جو خالدؓکی قیادت میں دومۃ الجندل سے چلے تھے وہ اپنے جسموں سے دستبردار ہو گئے۔ان کی قوت ارادی کا اور قوت ایمانی کا کرشمہ یہ تھا کہ انہوں نے جسمانی ضروریات سے نگاہیں پھیر لیں اور روحانی قوتوں کو بیدار کر لیا تھا۔ان کی زبان پر اﷲکا نام تھا۔دلوں میں ایمان اور یقین محکم تھا۔اپنی ہی آواز ان پر وجد طاری کر رہی تھی۔جنگی ترانے گانے والے لشکر کے وسط میں اونٹوں پر سوار تھے۔ان کی آوا زآگے بھی اور پیچھے بھی جاتی تھی۔لشکر کے قدم دفوں اور نفیریوں کیتال پر اٹھتے تھے اور یہ تال بڑی تیز تھی۔کچھ فاصلہ طے کرکے ترانے اور دف خاموش ہو جاتے اور تمام لشکر کلمہ طیبہ کا ورد بلند آواز میں شروع کر دیتا۔ہزار ہا حق پرستوں کی آواز ایک ہو جاتی،پھر یہ آواز ایک گونج بن جاتی اور یوں لگتا جیسے صحرا اور صحرائی ٹیلوں پر وجد طاری ہو گیا ہو۔اسلام کے شیدائیوں کا لشکر اپنی ہی آواز سے مسحور ہوتا چلا جا رہا تھا۔
بہمن جاذویہ نے اپنے تیار کیے ہوئے لشکر کو آخری بار دیکھا،اور اسےدو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے کو حُصید کی طرف اوردوسرے کو خنافس کی طر ف روانہ کر دیا۔اب اس نے کمان نئے سالاروں کو دے دی تھی۔حُصید والے حصے کا سالار روزبہ تھااور خنافس والے حصے کا زرمہر۔ان کیلئے حکم تھا کہ اپنے اپنے مقام پر جا کر خیمہ زن ہو جائیں اور بنی تغلب اور دوسرے عیسائی قبیلوں کے لشکر کا انتظار کریں ۔قعقاع کے جاسوس نے صحیح اطلاع دی تھی کہ مدائن کے لشکر حُصید اور خنافس کو اجتماع گاہ بنائیں گے اور اگلی کارروائی یہیں سے کریں گے۔
عیسائیوں کا لشکر ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ایرانیوں کی طرح عیسائی بھی دو حصوں میں تیار ہو رہے تھے۔ایک کا سردار ہذیل بن عمران تھا اور دوسرے کا ربیعہ بن بجیر۔یہ لشکر حُصید اور خنافس سے کچھ دور دو مقامات ثنٰی اور ذُمیل پر جمع ہو رہے تھے۔مدائن کے لشکر کے دو حصوں اور عیسائیوں کے دو حصوں کو یکجا ہونا تھا۔یہ بہت بڑی جنگی طاقت تھی،مسلمانوں کی تعداد ہر جنگ میں دشمن کے مقابلے میں بہت تھوڑی رہی ہے لیکن اب مسلمان آٹے میں نمک کے برابر لگتے تھے۔اسلام کے فدائیوں کا سامنا اتنے بڑے لشکر سے کبھی نہیں ہوا تھا۔ان چاروں خیمہ گاہوں میں رات کو سپاہی اس طرح ناچتے اور گاتے تھے جیسے انہوں نے مسلمانوں کو بڑی بُری شکست دے دی ہو۔انہیں اپنی فتح صاف نظر آرہی تھی۔حالات ان کے حق میں تھے ،نفری ان کی بے پناہ تھی، ہتھیار ان کے بہتر تھے۔گھوڑوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔انعام و اکرام جو انہیں پیش کیے گئے تھے پہلے کبھی نہیں کیے گئے تھے۔مالِ غنیمت کے متعلق انہیں بتایا گیا تھا کہ سب ان کا ہوگا،ان سے کچھ نہیں لیا جائے گا۔ان میں صرف ان پرانے سپاہیوں پر سنجیدگی سی چھائی ہوئی تھی جو مسلمانوں کے ہاتھ دیکھ چکے تھے۔وہ جب کوئی سنجیدہ بات کرتے تھے تو نوجوان سپاہی ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ایسی ایک اور رات فارس کے لشکر نے گاتے بجاتے اور پیتے پلاتے گذاردی۔صبح ابھی سورج نہیں نکلا تھا، اور حُصیدکی خیمہ گاہ میں مدائن کے ایک لشکر کا ایک حصہ سویا ہوا تھا۔انہیں جاگنے کی کوئی جلدی نہیں تھی،انہیں معلوم تھا کہ مسلمان قلعوں میں ہیں اور تعداد میں اتنے تھوڑے کہ وہ باہر آنے کی جرات نہیں کریں گے۔انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے کچھ دور مسلمانوں نے آکر جو ڈیرے ڈالے تھے وہ واپس چلے گئے ہیں۔مسلمان ایک شام پہلے وہاں سے آگئے تھے۔
آتش پرستوں کی خیمہ گاہ کے سنتری جاگ رہے تھے یا چند ایک وہ لوگ بیدار تھے جو گھوڑوں کے آگے چارہ ڈال رہے تھے۔پہلے سنتریوں نے واویلا بپا کیا پھر گھوڑوں کو چارہ وغیرہ ڈالنے والے چلّانے لگے۔ ’’ہوشیار……خبردار……مدینہ کی فوج آگئی ہے‘‘خیمہ گاہ میں ہڑبونگ مچ گئی۔سپاہی ہتھیاروں کی طرف لپکے۔سوار اپنے گھوڑوں کی طرف دوڑے لیکن مسلمان صحرائی آندھی کی مانند آرہے تھے۔ان کی تعداد آتش پرستوں کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی تھی لیکن یہ غیر متوقع تھا کہ ہ حملہ کریں گے ۔مسلمانوں کی تعداد صرف پانچ ہزار تھی۔ ان کا سالار قعقاع بن عمرو تھا۔گذشتہ شام خالدؓ اپنے لشکر سمیت پہنچ گئے تھے۔انہوں نے آرام کرنے کے بجائے صورتِ حال معلوم کی۔انہوں نے شام کو ان مختصر سے دستوں کو حُصید اور خنافس سے واپس بلالیا تھا۔اس سے آتش پرستوں کے حوصلے اور بڑھ گئے۔وہ یہ سمجھے کہ مسلمان ان کے اتنے بڑے لشکر سے مرعوب ہوکربھاگ گئے ہیں۔خالدؓنے دوسرا اقدام یہ کیا کہ پانچ ہزار نفری ایک اور سالار ابو لیلیٰ کو دی اور اسے مدائن کے اس لشکر پر حملہ کرنے کو روانہ کیا جو خنافس کے مقام پر خیمہ زن تھا۔
’’تم پراﷲکی رحمت ہو میرے دوستو!‘‘خالدؓنے­ان دونوں سالاروں سے کہا۔’’تم دونوں صبح طلوع ہوتے ہی بیک وقت پنے اپنے ہدف پر حملہ کرو گے۔خنافس حُصید کی نسبت دور ہے۔ابو لیلیٰ تجھے تیز چلناپڑے گا۔کیا تم دونوں سمجھتے ہو کہ دونوں لشکروں پر ایک ہی وقت کیوں حملہ کرناہے؟‘‘’اس لیے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کو نہ جا سکیں۔‘‘قعقاع بن عمرو نے جواب دیا۔’’ابنِ ولید!تیری اس چال کو ہم ناکام نہیں ہونے دیں گے۔‘‘’’فتح اور شکست اﷲکے اختیار میں ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمہارے ساتھ صرف پانچ پانچ ہزار سوار اور پیادے ہیں ۔میں دشمن کی تعداد کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ یہ لڑائی نہیں ہوگی۔یہ چھاپہ ہوگا۔اتنے بڑے لشکر پر اتنے کم آدمیوں کا حملہ چھاپہ ہی ہوتا ہے……وقت بہت کم ہے میرے رفیقو!جاؤ،میں تمہیں اﷲکے سپرد کرتا ہوں۔‘‘خالدؓخود عین التمر میں اس خیال سے تیاری کی حالت میں رہے کہ عیسائی قبیلے جو ثنّی اور ذمیل میں اکٹھے ہو رہے تھے وہ فارس کے لشکر کے ساتھ جاملنے کو چلیں تو انہیں وہیں اُلجھا لیا جائے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ خالدؓ کی جنگی ذہانت کا کمال تھا کہ انہوں نے دشمن کی اس صورتِحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس کا لشکر ابھی چار حصوں میں بٹا ہوا چار مختلف مقامات پر تھا۔ان چار حصوں کو یکجا ہونا تھا۔خالدؓنے ایسی چال چلی کہ چاروں حصے الگ الگ رہیں اور ایک دوسرے کی مدد کو نہ پہنچ سکیں اور ہ ایک کو الگ الگ شکست دی جائے۔یورپی مؤرخوں نے لکھاہے کہ خالدؓکا یہ حکم تھا۔’’دشمن کو تباہ کرو۔‘‘ان مؤرخوں نے اس حکم کا مطلب یہ لیا ہے کہ جنگی قیدی اکٹھے نہ کیے جائیں ،دشمن کا صفایا کردو۔خالدؓ اتنے طاقتور دشمن کی طاقت کو ختم کرناچاہتے تھے لیکن دیکھنا یہ تھا کہ خالدؓاتنی تھوڑی اور تھکی ہوئی نفری سے تنے طاقت ور دشمن کو ختم کر سکتے تھے؟سالار قعقاع بن عمروتو وقت پر اپنے ہدف پر پہنچ گئے۔دشمن کیلئے ان کا حملہ غیر متوقع تھا۔حُصید کی خیمہ گاہ میں ہڑ بونگ مچ گئی۔مسلمان بند توڑ کر آنے والے سیلاب کی مانند آرہے تھے۔پانچ ہزار نفری کو سیلاب نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن ان پانچ ہزار کی تندی اور تیزی سیلاب سے کم نہ تھی۔
آتش پرستوں کا سالار رُوزبہ اس صورتِ حال سے گھبراگیا۔اس نے ایک قاصد کو اپنے اس لشکر کے سالار زرمہر کی طرف جو خنافس میں خیمہ زن تھا، اس پیغام کے ساتھ دوڑا دیا کہ مسلمانوں نے اچانک حملہ کردیا ہے اور صورتِ حال مخدوش ہے۔قاصد بہت تیز وہاں پہنچا۔فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔سالار زرمہر اپنے ساتھی روزبہ کے اس پیغام پر ہنس پڑا۔اس نے کہا کہ روزبہ کا دماغ چل گیا ہے،مسلمانوں میں اتنی جرات کہاں کہ باہر آکر حملہ کریں۔قاصد نے اسے بتایا کہ وہ کیا دیکھ آیاہے۔زرمہر اپنے لشکر کو وہاں سے کہیں بھی نہیں لے جا سکتا تھا کیونکہ اس کے سالارِ اعلیٰ بہمن جاذویہ کا حکم تھا کہ کسی اور جگہ کچھ بھی ہوتا رہے، کوئی لشکر بغیر اجازت اِدھر اُدھرنہیں ہوگا۔لیکن قاصد نے زرمہر کو پریشان کر دیا تھا۔اس نے بہتر سمجھا کہ لشکر کو خنافس رہنے دے اور خود حُصیدجاکر دیکھے کہ معاملہ کیا ہے۔
وہ جب حُصید پہنچا تو اپنے ساتھی سالار روزبہ کو مشکل میں پھنسا ہوا پایا۔قعقاع کا بڑا زور دار ہلّہ تھا۔اس نے دشمن کو بے خبری میں جا لیا تھا۔دشمن کو یہ سہولت حاصل تھی کہ اس کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔اس افراط کے بل بوتے پر آدھا لشکر بڑی عجلت میں لڑنے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔زرمہر بھی آگیا تھا۔اس نے روزبہ کا ساتھ دیا۔توقع یہی تھی کہ آتش پرست مسلمانوں پر چھاجائیں گے۔قعقاع خالدؓ والی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے،وہ روزبہ کو للکار رہے تھے۔روزبہ قلب میں تھا۔قعقاع کی بار بار للکار پر وہ سامنے آگیا۔قعقاع اپنے محافظوں کے نرغے میں اس کی طرف بڑھے جا رہے تھے۔وہ اپنے محافظوں کے حصار سے نکل آیا۔اِدھر قعقاع اپنے محافظوں کو چھوڑ کر آگے ہوئے۔دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیے۔وار روکے، پینترے بدلے، اور زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ قعقاع کی تلوار روزبہ کے پہلو میں بغل سے ذرا نیچے اُتر گئی۔قعقاع نے تلوار کھینچ لی اور گھوڑے کو روک کر پیچھے کو موڑا۔روزبہ گھوڑے پر سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔قعقاع نے پیچھے سے آکر تلوار اس کی پیٹھ میں خنجر کی طرح مار دی جو روزبہ کے جسم میں کئی انچ اُتر گئی۔روزبہ گھوڑے سے اس طرح گرا کہ اس کا ایک پاؤں رکاب میں پھنس گیا۔قعقاع نے دیکھ لیا اور گھوڑے کو روزبہ کے گھوڑے کے قریب کرکے گھوڑے کو تلوار کی نوک چبھوئی۔گھوڑا سر پٹ دوڑ پڑااور روزبہ کو زمین پر گھسیٹتا اپنے ساتھ ہی لے گیا۔زرمہر قریب ہی تھا،کسی بھی مؤرخ نے اس مسلمان کماندار کا نام نہیں لکھا جس نے زرمہر کو دیکھ لیا اوراسے للکارا۔زرمہر مقابلے کیلئے سامنے آیا اور اس کا بھی وہی انجام ہواجو اس کے ساتھی روزبہ کا ہو چکا تھا۔فرق صرف یہ تھا کہ اسے اس کے گھوڑے نے گھسیٹا نہیں تھا۔وہ خون سے لت پت اپنے گھوڑے سے گرا اور مر گیا۔مدائن کے اس لشکر میں ایک تو وہ کماندار اور سپاہی تھے جو پہلے بھی مسلمانوں کے ہاتھوں پٹ چکے تھے اور انہیں بے جگری سے لڑتے دیکھ چکے تھے۔انہیں اپنی شکست کا یقین تھا۔ان کے حوصلے اور جذبے میں ذرا سی بھی جان نہیں تھی۔وہ کٹ رہے تھے یا لڑائی سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔جاذویہ نے جن نوجوانوں کو بھرتی کیا تھا وہ تیغ زنی اور تیر اندازی وغیرہ میں تو طاق تھے اور ان میں جوش و خروش بھی تھا لیکن انہوں نے میدانِ جنگ پہلی بار دیکھا تھا اور مسلمانوں کو لڑتا بھی انہوں نے پہلی بار دیکھا تھا۔انہوں نے تڑپتے ہوئے اور پیاس سے مرتے ہوئے زخمی کبھی نہیں دیکھے تھے۔زخم خوردہ گھوڑوں کو بے لگام دوڑتے اور انسانوں کو کچلتے بھی انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
اب انہوں نے اتنی غارت گری اور اتنا زیادہ خون دیکھا کہ زمین لال ہو گئی تو انہیں ان پرانے سپاہیوں کی باتیں یاد آنے لگیں جو مسلمانوں سے لڑے اور بھاگے تھے۔اب وہ سپاہی زخمی ہو ہو کر گر رہے تھے یا بھاگ رہے تھے۔نوجوانوں کے حوصلے جواب دے گئے۔تلواروں اور برچھیوں پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔آتش پرستوں کے لشکر کا حوصلہ تو پہلے ہی ٹوٹ رہا تھا انہوں نے جب وہ نعرے سنے تو وہ فرار کا راستہ دیکھنے لگے۔’’خدا کی قسم!‘‘ یہ کسی مسلمان کا نعرہ تھا۔’’زرتشت کے پجاریوں کے دونوں سالار مارے گئے ہیں۔‘‘یہ للکار بلند ہوتی چلی گئی۔
پھر دشمن کے اپنے سپاہیوں نے چلّانا شروع کر دیا۔’’روزبہ اور زرمہر ہلاک ہو گئے ہیں۔‘‘اس کے ساتھ یہ بھی للکار سنائی دی۔’’خالدبن ولیدآگیا ہے……خالد بن ولید کا لشکر آگیا ہے۔‘‘اس نعرے نے مدائن کے لشکر کا رہا سہا دم خم بھی ختم کر دیا اور لشکر بکھر کرفرداًفرداً بھاگ اٹھا۔بھاگنے والوں کا رخ خنافس کی طرف تھا جہاں مدائن کے لشکرکا دوسرا حصہ خیمہ زن تھا۔خنافس کے لشکر پر حملہ کرنے کیلئے خالدؓ نے سالار ابو لیلیٰ کو اس ہدایت کے ساتھ بھیجا کہ خنافس اور حُصید پر بیک وقت حملے ہوں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔وجہ یہ تھی کہ خنافس حُصید کی نسبت دور تھا۔ابولیلیٰ اپنی پانچ ہزار فوج کو لے کر چلے تو بہت تیز لیکن بر وقت نہ پہنچ سکے۔حُصید پر قعقاع نے پہلے حملہ کر دیا۔تاخیر کا نقصان یہ ہونا تھا کہ دشمن بیدار ہوتا لیکن تاخیر بھی سود مند ثابت ہوئی۔وہ اس طرح کہ ابو لیلیٰ کے پہنچنے سے ذرا ہی پہلے خنافس کے لشکر کو اطلاع مل گئی کہ مسلمانوں نے روزبہ اور زرمہر کو مار ڈالا ہے اور لشکر بُری طر سے کٹ رہا ہے۔ابو لیلیٰ جب دشمن کے سامنے گئے تو دشمن کو لڑائی کیلئے تیار پایا۔دشمن کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی ۔ابو لیلیٰ کو سوچ سمجھ کرآگے بڑھنا تھا۔وہ ہلّہ نہیں بول سکتے تھے۔انہیں چالوں کی جنگ لڑنی تھی۔اس انتظار میں کہ دشمن حملے میں پہل کرے ،حُصید سے بھاگے ہوئے سپاہی خنافس کی خیمہ گاہ میں پہنچنے لگے ۔سب سے پہلے گھوڑ سوار آئے ۔ان میں سے بہت زخمی تھے۔یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ بلا وجہ نہیں بھاگے ،انہوں نے مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اور ان کے لڑنے کے قہر و غضب کو مبالغے سے بیان کیااور ایسی دہشت پھیلائی کہ خنافس کے لشکر کا حوصلہ لڑے بغیر ہی ٹوٹ گیا۔بھگوڑوں نے یہ خبر بھی سنائی کہ خالدؓاپنے لشکر کے ساتھ آگیا ہے۔خنافس والے لشکر کی کمان اب ایک اور آتش پرست سالار مہبوذان کے پاس تھی۔زیادہ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مہبوذان اور دیگر تمام سالاروں کو یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان قلعوں میں بند ہیں اور ان کی نفری بہت تھوڑی ہے اور یہ بھی کہ خالد جا چکا ہے۔لہٰذا قلعوں پر حملے کرکے مسلمانوں کو ختم کر دینا ہے۔اب صورتِ حال بالکل ہی بدل گئی تھی ۔مدائن کے سالار مہبوذان نے روزبہ کے لشکر کی حالت سنی اور اپنے لشکر کی ذہنی حالت دیکھی اور یہ سنا کہ خالدؓاپنے لشکر کو لے کر آگئے ہیں تو اس نے لڑائی کا ارادہ ترک کر دیا اور اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا۔ابو لیلیٰ نے بغیر لڑے ہی فتح حاصل کر لی۔اس نے اپنے ایک دوآدمی مہبوذان کے لشکر کے پیچھے بھیجے کہ وہ چھپتے چھپاتے جائیں اور دیکھیں کہ یہ لشکر کہاں جاتا ہے۔
خالدؓعین التمر میں تھے۔انہیں پہلی اطلاع یہ ملی کہ حُصیدکا لشکر بھاگ گیا ہے۔بہت دیر بعد ابولیلیٰ کا بھیجا ہواقاصد خالدؓ کے پاس پہنچا اور یہ خبر پہنچائی کہ خنافس والا لشکر بغیر لڑے پسپا ہو گیا ہے اور مضیح پہنچ کر عیسائیوں کے ساتھ جا ملا ہے۔وہاں جوعیسائی عربوں کالشکر جمع تھا ،اس کی کمان ھذیل بن عمران کے پا س تھی۔اس طرح مضیح میں دشمن کا بہت بڑا لشکر جمع ہوگیا۔خالدؓ سوچ میں پڑ گئے۔وہ آتش پرستوں کے مرکزی مقام مدائن پر حملہ کر سکتے تھے۔مدائن فارس کی جنگی طاقت کا دل تھا۔خالدؓ نے سوچا کہ وہ اس دل میں خنجر اتار سکتے ہیں یا نہیں ۔مشہور مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ خالدؓ مدائن پر حملہ کرتے تو فتح کا امکان تھا ،لیکن ان پر عقب سے یہ لشکر حملہ کر سکتا تھا جو مضیح میں جمع ہو گیا تھا۔خالدؓنے اپنے سالاروں سے مشورہ کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ پہلے مضیح کی اجتماع گاہ کو ختم کیاجائے۔یہ فیصلہ اور ارادہ کر لیناکہ اس لشکر کو ختم کیا جائے ،آسان تھا عملاًاتنے بڑے لشکر کو اتنی تھوڑی نفری سے ختم کرنا کہاں تک ممکن تھا۔یہ یقینی نہیں تھا مگر خالدؓ اسے یقینی بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔وہ نا ممکن کو ممکن کر دکھانے والے جرنیل تھے۔انہوں نے ایسی اسکیم بنائی جسے آج کے جنگی مبصر بے مثال کہتے ہیں۔’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں ،نائب سالاروں اور کمانداروں کو بلا کر کہا۔’’خدا کی قسم!تم نے جتنی کامیابیاں حاصل کی ہیں یہ انسانی سطح سے بالاتر تھیں ۔تم نے پانچ گُنا قوی دشمن کو اس سے بھی زیادہ نفری کو جس طرح کاٹا اور بھگایا ہے ،یہ تمہاری مافوق الفطرت طاقت تھی۔یہ ایمان کی قوت ہے۔تمہیں اس کا اجر خدا دے گا……اب میں تمہیں ایک بڑے ہی کٹھن امتحان میں ڈال رہا ہوں۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے خالدؓکو ٹوک دیا۔’’کیا اتنی باتوں کو ضروری سمجھتا ہے؟ربّ کعبہ کی قسم!ہم اس اﷲکے حکم سے لڑ رہے ہیں جس نے تجھے ہمارا امیر بنایا ہے۔حکم دے کہ ہم آگ میں کود جائیں پھر ہمارے جسموں کو جلتا ہوا دیکھ۔‘‘
’’تجھ پر خدا کی رحمت ابنِ عمرو!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں نے یہ باتیں اس لئے ضروری سمجھی تھیں کہ میں تمہیں آگ میں کودنے کا حکم دینے والا ہوں۔میں ڈرتا ہوں کہ کوئی مجاہد یہ نہ کہے کہ ولید کے بیٹے نے بڑا ظالم حکم دے دیا تھا……میرے رفیقو!ہمیں جان کی بازی لگانی ہے ۔تمام مجاہدین سے کہو کہ تمہارے صبر اور استقلال کا ایک اور امتحان باقی ہے اور اسے اﷲکا حکم سمجھنا۔‘‘خالدؓ نے اپنی جو سکیم سب کو بتائی تھی وہ یہ تھی کہ دشمن پر رات کے وقت تین اطراف سے حملہ کرنا ہے اور حملے کے مقام تک اتنی خاموشی سے پہنچنا ہے کہ دشمن کو خبر نہ ہونے پائے۔خالدؓ نے اپنی تمام تر فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ہر حصے میں تقریباً پانچ ہزار سوار اور پیادے تھے۔یہ تینوں حصے ایک جگہ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے دور مختلف جگہوں پر تھے۔حُصید ،خنافس اور عین التمر۔ان سب کو اپنے اپنے مقام سے مقررہ راستوں سے مضیح تک پہنچنا تھا۔
خالدؓ نے حملے کی رات بھی مقرر کر دی تھی اور مقام بھی جومضیح میں دشمن کی اجتما گاہ سے کچھ دور تھا۔تینوں حصوں کو رات کے وقت اس مقام پر پہنچنا تھا۔مضیح میں دشمن کا جو لشکر خیمہ زن تھا ،اس کی تعداد کے متعلق مؤرخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ دشمن کی تعداد ساٹھ اور ستّر ہزار کے درمیان تھی۔اس پر حملہ کرنے والے مجاہدین کی تعداد پندرہ ہزار تھی۔اس قسم کی اسکیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا نا ممکن کی حد تک مشکل تھا۔پانچ پانچ ہزار کے لشکر کیلئے سفر کے دوران خاموشی برقرار رکھنا آسان کام نہیں تھا لیکن بڑی سختی سے خاموشی برقرار رکھنی تھی۔دوسری مشکل خالدؓ کیلئے تھی۔وہ خود عین التمر میں تھے جہاں ان کی فوج کا صرف ایک حصہ تھا۔دوسرے دو حصوں کو حُصید اور خنافس سے چلنا تھا۔انہیں قاصدوں کے ذریعے اپنے رابطے میں رکھنا تھا تاکہ حملے والے مقام پر بروقت پہنچ سکیں۔جو رات مقرر کی گئی تھی وہ نومبر ۶۳۳ء کے پہلے )شعبان ۱۲ ہجری کے چوتھے (ہفتے کی ایک رات تھی۔خالدؓکے مجاہدین کے تینوں حصے اپنے اپنے مقام سے چل پڑے۔گھوڑوں کے منہ باندھ دیئے گئے تھے۔تینوں حصوں نے یہ انتظام کیا تھا کہ چندایک آدمی لشکر کے آگے اور دائیں بائیں جا رہے تھے۔ان کا کام یہ تھا کہ کوئی بھی آدمی رستے میں مل جائے اُسے پکڑ لیں تاکہ وہ دشمن تک خبر نہ پہنچا سکے۔دشمن کے بیدار ہوجانے کی صورت میں مجاہدین کی کامیابی مخدوش ہو جاتی اور دشمن گھات بھی لگا سکتا تھا۔رات کے چلے ہوئے اُسی رات نہیں پہنچ سکتے تھے۔دن کو لشکر کو چھپا کر رکھا گیا۔دیکھ بھال والے آدمی دور دور پھیلے رہے۔خالدؓ نے اپنے جاسوس دشمن کی اجتماع گاہ مضیح تک بھیج رکھے تھے۔وہ دشمن کے متعلق اطلاعیں دے رہے تھے۔ان کی آخری اطلاع یہ تھی کہ دشمن نے ابھی تک کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے پتہ چلے کہ وہ کسی طرف حملہ کیلئے کوچ کرنے والا ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ دشمن کے سالار اپنے سالارِ اعلیٰ بہمن جاذویہ کے اگلے حکم کا انتظار کر رہے تھے ۔خالدؓ کے آجانے سے ان کیلئے صورتِ حال بدل گئی تھی۔اس کے مطابق انہوں نے اپنی ساری اسکیم بدلنی تھی۔
اس رات بھی مضیح کی خیمہ گاہ میں دشمن کا لشکر گہری نیند سو رہا تھا جس رات خالدؓ کی فوج کے تینوں حصے بخیرو خوبی سکیم کے عین مطابق مضیح کے قریب مکمل خاموشی سے پہنچ گئے تھے۔بعض مؤرخوں نے اسے محض ایک معجزہ کہا ہے اور کچھ اسے خالدؓ کی دی ہوئی ٹریننگ اور ان کے پیدا کیے ہوئے ڈسپلن کا کرشمہ کہتے ہیں۔
آدھی رات سے ذرا بعد دشمن پر قہر ٹوٹ پڑا۔لشکر سویا ہوا تھا۔مجاہدین نے جگہ جگہ آگ لگا دی تھی۔جس کی روشنی میں اپنے پرائے کی پہچان آسان ہو گئی تھی۔مدائن کے اور عیسائی قبیلوں کے اس لشکر کو سنبھلنے اور تیار ہونے کی مہلت ہی نہ ملی۔مسلمان نعرے لگا رہے تھے۔زخمیوں کی چیخ و پکار اس دہشت میں اضافہ کر رہی تھی،جو دشمن کے لشکر پر طاری ہو گئی تھی۔’’مدینہ کے مجاہدو!‘‘خالدؓ کے حکم سے یہ للکاربڑی بلند تھی۔’’کسی کو زندہ نہ رہنے دو۔دشمن کا صفایا کردو۔‘‘دشمن کے گھوڑے جہاں بندھے تھے، وہیں بندھے رہے۔ان کے سوار ان تک پہنچنے سے پہلے ہی کٹ رہے تھے۔مسلمانوں نے رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھایا تھا۔اسی اندھیرے سے دشمن نے بھی فائدہ اٹھایا ۔کئی آتش پرست اور عیسائی زندہ نکل گئے۔ان کی اجتماع گاہ ڈیڑھ دو میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔حملہ تین طرف سے کیا گیا تھا۔صبح کا اجالا صاف ہوا تو دشمن کی اتنی وسیع و عریض خیمہ گاہ میں کوئی بھی لشکری زندہ نہیں تھا۔زندہ وہی رہے تھے جو مسلمانوں کے اس پھندے سے نکل گئے تھے۔منظر بڑا ہی ہیبت ناک تھا۔جدھر نظر جاتی تھی سوائے لاشوں کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔لاشوں کے اوپر لاشیں پڑی تھیں۔زخمی تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو رہے تھے ۔فضاء خون اور موت کی بُو سے بوجھل تھی۔سالاروں کے خیمے دیکھے گئے۔ان میں سامان وغیرہ پڑا تھا۔شراب کی صراحیاں رکھی تھیں۔ہر چیز ایسے پڑی تھی جیسے ان شاہانہ خیموں کے مکین ابھی ابھی نکل کے گئے ہیں اور ابھی واپس آجائیں گے۔کوئی سالار نظر نہ آیا۔وہ زندہ نکل گئے تھے۔سالار مہبوذان بھی نکل گیا تھا اور عیسائیوں کا سردار اور سالار ھذیل بن عمران بھی زندہ نکل گیا تھا۔
جاسوسوں کی اطلاعوں کے مطابق آتش پرستوں اور عیسائیوں کے سردار ذُومیل چلے گئے تھے جہاں عیسائی قبائل کا دوسرا حصہ خیمہ زن تھا۔وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ابھی تیاری ہی کر رہا تھا۔وہ جس لشکر کا حصہ تھا،اس کے تین حصے تباہ ہو چکے تھے ۔ذومیل والے اس لشکر کا سردار ربیعہ بن بجیر تھا۔مالِ غنیمت میں مسلمانوں کو جو سب سے زیادہ قیمتی اور کارآمد چیز ملی وہ ہزاروں گھوڑے تھے جو انہیں زینوں سمیت مل گئے تھے۔اس سے آگے ثنّی اور ذومیل دو مقامات تھے جہاں بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے عیسائی مسلمانوں کے خلاف خیمہ زن تھے ۔وہ بھی مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کے ارادے سے گھروں سے نکلے تھے۔عیسائیوں کے سردار عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بن عقہ بھی کہیں آگے تھا۔وہ اپنے باپ کے قتل کا انتقام لینے کیلئے عیسائی لشکر کے ساتھ آیا تھا۔’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓ نے مضیح کی معجزہ نما فتح کے بعد اپنے سالاروں سے کہا۔’’میں دومۃ الجندل سے قسم کھا کر چلا تھا کہ بنی تغلب پر اس طرح جھپٹوں گا کہ پھر وہ کبھی اسلام کے خلاف اٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے……بنی تغلب ابھی آگے ہیں،ان پر جھپٹنے کی تیاری کرو۔‘‘مضیح کی بستی پر بھی مسلمانوں نے چھاپہ مارا تھا۔یہ عیسائیوں کی بستی تھی۔
وہاں دو ایسے آدمیوں کو مسلمانوں نے قتل کر دیا جو مسلمان تھے۔انہوں نے کسی وقت مدینہ میں آکر اسلام قبول کیا اور واپس اپنی بستی میں چلے گئے تھے۔انہیں مجاہدین نے انجانے میں عیسائی سمجھ کر مارڈالا۔خالدؓ نے اتنی بڑی فتح کی خبر خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکر صدیقؓ کو مدینہ بھیجی اور پیغام میں یہ اطلاع بھی دے دی کہ مجاہدین کے ہاتھوں عیسائیوں کی ایک بستی میں دو مسلما ن بھی غلطی سے مارے گئے ہیں،خلیفۃ المسلمینؓ نے فتح کی خبر کے ساتھ ان دو مسلمانوں کے قتل کی خبر بھی سب کو سنا دی۔’’خالدؓ کو اس کی سزا ملنی چاہیے۔‘‘عمرؓ نے کہا۔’’مسلمان کا خون معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘’’جو لوگ کفار کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس صورتِ حال میں جو وہاں پیدا ہو گئی تھی،مارے جا سکتے ہیں۔‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے کہا۔’’اس قتل کا ذمہ دار خالدہے۔‘‘عمرؓ نے اصرار کیا۔’’اسے سزا ملنی چاہیے۔‘‘’’خلافتِ مدینہ کی طرف سے دونوں مقتولین کے پسماندگان کو خون بہا ادا کیا جائے گا۔‘‘ابو بکر صدیقؓ نے فیصلہ سنایا۔’’اور یہ خون بہا اسی قاصدکے ساتھ بھیج دیا جائے جو فتح کی خبر لایا ہے۔‘‘عمرؓ نے پھر سزا کی بات کی۔’’عمر!‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے گرج کر کہا۔’’خالدواپس نہیں آئے گا،میں اس شمشیر کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے اﷲنے کفار کے خلاف بے نیام کیا ہے۔‘‘)بحوالہ طبری، ابنِ ہشام، ابو سعید، حسین ہیکل(مضیح کے میدانِ جنگ میں ہڈیاں اور کھوپڑیاں رہ گئی تھیں۔جو دور دور تک بکھری ہوئی تھیں۔گدّھ، گیدڑ ، بھیڑیئے ،صحرائی لومڑیاں،گرگٹ،سانپ، اور حشرات الارض ان ہڈیوں سے گوشت کھا گئے تھے۔یہ آتش پرستوں کی اس جنگی قوت کی ہڈیاں تھیں،جس نے عرب عراق اور شام پر دہشت طاری کر رکھی تھی۔ان میں ان عیسائیوں کی ہڈیاں بھی شامل تھیں جو فارس کی جنگی قوت میں اضافہ کرنے آئے تھے۔یہ عیسائی اپنے سرداروں کے خون کا بدلہ لینے آئے تھے ۔اسے انہوں نے مذہبی جنگ بھی سمجھا تھا،وہ اسلام کے راستے میں حائل ہونے آئے تھے۔ان ہڈیوں میں ان ہاتھوں کی ہڈیاں بھی تھیں جنہوں نے حق پرستوں کو کاٹنے کیلئے نیاموں سے تلواریں نکالی تھیں۔ان ہاتھوں میں برچھیاں بھی تھیں۔ان ہاتھوں میں گھوڑوں کی باگیں بھی تھیں۔وہ اس خوش فہمی میں مبتلاہو کر آئے تھے کہ ارض و سما کی طاقت انہی کے ہاتھوں میں ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ جب وہ گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں تو ان کے نیچے زمین کانپتی ہے مگر اب وہ زمین جو کبھی کسی انسان اور اس کے گھوڑے کے بوجھ اور خوف سے نہیں کانپی،ان کے نیچے سے نکل گئی تھی،اور زمین نے ان کے مُردہ جسموں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔زمین اور حق پرستوں کے بوجھ اور رعب سے بھی نہیں کانپتی تھی۔اﷲکا فرمان قرآن کی صورت میں مکمل ہو چکا تھا اور اﷲکو وحدہٗ لا شریک ماننے والے اﷲکے اس فرمان سے آگاہ تھے کہ گردن کو کتنا ہی اکڑا لے، سر کو جتنا اونچا کرلے ، تو پہاڑوں سے اونچا نہیں ہو سکے گا، اور تو کتنے ہی رعب اور دبدبے سے کیوں نہ چلے، زمیں کو تُو نہیں پھاڑ سکے گا۔حق پرستوں کو اﷲ کا یہ وعدہ بھی یاد تھا کہ تم میں دس ایمان والے ہوئے تو ایک سو کفار پر غالب آئیں گے۔یہ ایمان کی ہی قوت تھی کہ دس ایمان والے ایک سو پر اور بیس دوسو پر غالب آگئے تھے۔
’’سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید کہے نہ کہے، کیا تم خود نہیں جانتے؟‘‘مسلمانوں کے سالار ابو لیلیٰ اپنے کمانداروں اور چند ایک سپاہیوں کو جو ان کےاردگرد اکٹھے ہو گئے تھے ،کہہ رہے تھے۔’’اگر تم سے ایمان لے لیا جائے تو تمہارے پاس گوشت اور ہڈیوں کے جسم رہ جائیں گے……کیا انجام ہو گا ان جسموں کا……؟وہ دیکھو۔وہ کھوپڑیاں دیکھو۔ان کے اوپر کا گوشت کھایا جا چکا ہے۔ان کے اندر مغز موجود ہیں مگر یہ مغز اب سوچنے کے قابل نہیں رہے۔ان میں کیڑے داخل ہو چکے ہیں اور ان کے مغز کیڑوں کی خوراک بن رہے ہیں۔‘‘وہ ذرا اونچی جگہ کھڑے تھے ۔سب نے اس وسیع میدان کی طرف دیکھاجہاں کسریٰ کی فوج کا اور عیسائیوں کے لشکر کا کیمپ تھا۔تین راتیں پہلے یہاں گہما گہمی تھی۔سپاہی ناچ رہے تھے،اس کے سالار اور سردار خیموں میں شراب پی رہے تھے۔مسلمانوں کا شب خون ان پر قیامت بن کر ٹوٹا تھا۔’’……اور اب دیکھو!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے اپنے ماتحتوں اور سپاہیوں سے کہہ رہے تھے۔’’یہ ان کا انجام ہے جنہوں نے اﷲکو نہ مانا،محمدﷺ کو اﷲکا رسول نہ مانا،انہوں نے اپنے خدا بنائے ہوئے تھے۔ان کے سردار خداؤں کے ایلچی بنے ہوئے تھے۔فارس کے بادشاہ اﷲکے بندوں کو اپنے بندے سجھتے تھے۔سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید نے کہا ہے کہ مجاہدین کوبتاؤکہ تمہیں اﷲدیکھ رہا ہے،اور وہی ہے اجر دینے والا، اور اسی نے تمہارے جسموں میں اتنی طاقت بھر دی ہے کہ آرام کا ایک پل نہیں ملتا ۔تمہارے جسم لڑ رہے ہوتے ہیں یا کوچ کر رہے ہوتے ہیں اور اگلے روز اگلی لڑائی کیلئے تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔یہ طاقت جسمانی نہیں، یہ روح کی طاقت ہے اور روح کو ایمان تقویت دیتا ہے۔‘‘’’سالارِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ سب سے کہہ دو کہ تم زمین کی ملکیت پر لڑنے نہیں آئے، تم کفر پر غالب آنے کیلئے لڑ رہے ہو۔‘‘سالار زبرقان اپنے دستوں کے کمانداروں سے کہہ رہے تھے۔’’ابنِ ولید نے کہاہے کہ ان جسموں کو ایمان سے اور پاک عزم سے خالی کردوتو ابھی گر پڑو گے اور جسم روحوں سے خالی ہو جائیں گے۔جسم تو دو لڑائیاں لڑ کرہی ختم ہوگئے تھے، اب تمہاری روحیں لڑ رہی ہیں۔‘‘سالار عدی بن حاتم بھی اپنے دستوں کو سالارِ اعلیٰ کا یہی پیغام دے رہے تھے۔سالار عاصم بن عمرو بھی جو سالار قعقاع بن عمرو کے بڑ ے بھائی تھے۔اپنے مجاہدین کے ساتھ یہی باتیں کر رہے تھے۔خالدؓ نے اپنے تمام سالاروں سے کہا تھا کہ مجاہدین کے جسم لڑنے کے قابل نہیں رہے اور یہ عزم کی پختگی کا کرشمہ ہے کہ شل اور چور جسموں سے بھی ہر میدان میں یہ تازہ دم ہو جاتے ہیں، خالدؓنے سالاروں سے کہا تھا کہ ان کے حوصلے اور جذبے کو قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
’دشمن کے پاؤں اکھڑے ہوئے ہیں۔‘‘خالدؓنے کہا تھا۔اسے سنبھلنے کی مہلت مل گئی تو یہ ہمارے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے……اور میرے رفیقو!جس طرح اﷲہمیں فتح پر فتح عطا کرتا چلا جا رہا ہے، یہ فتوحات بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ہمارا یہ لشکر کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ ہمیں شکست ہو ہی نہیں سکتی ۔انہیں بتاؤ کہ انہیں دشمن پر ہر میدان مین غالب کرنے والا صرف اﷲہے۔اس کی ذاتِ باری کو دل سے نہ نکالیں اور تکبر سے بچیں۔‘‘مدینہ کے مجاہدین کا حوصلہ تو بھاگتے دشمن کو، میدانِ جنگ میں اس کے زخمیوں کو تڑپتا اور لاشوں کو سرد ہوتا دیکھ کر تروتازہ ہو جاتا تھا لیکن وہ آخر انسان تھے اور انسان کوتاہی کا مرتکب بھی ہو سکتاہے۔اپنا سر غرور اور تکبر سے اونچا بھی کر سکتا ہے۔خالد اس خطرے کو محسوس کر رہے تھے انہوں نے کفار پر اپنی دہشت طاری کر کے اسے نفسیاتی لحاظ سے بہت کمزور کر دیا تھا لیکن ان مؤرخین کے مطابق جو جنگی امور کو سمجھتے تھے ،خالدؓکو یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ ان کی سپاہ اس مقام تک نہ پہنچ جائے جہاں یکے بعد دیگرے کئی فتوحات کے بعد دشمن کے دباؤ سے تھوڑا سا بھی پیچھے ہٹنا پڑے تو سپاہ بالکل ہی پسپا ہو جائے۔اس خطرے نے انہیں پریشان سا کر دیا تھا۔انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اپنے لشکر کو آرام کیلئے کچھ وقت دے دیں ، وہ ایسی جنگی چالیں سوچ رہے تھے جن سے دشمن کو بے خبری میں دبوچا جا سکے۔ایک چال خالدؓ مضیح میں آزما چکے تھے ۔یہ کامیاب رہی تھی۔یہ تھا شب خون۔پورے لشکر نے دشمن کی خیمہ گاہ پر حملہ کر دیا تھا لیکن ضروری نہیں تھا کہ یہ چال ہر بار کامیاب ہوتی۔کیونکہ پورے لشکر کو خاموشی سے دشمن کی خیمہ گاہ تک پہنچانا آسان کام نہیں تھا۔اس وقت دشمن کا لشکر دو مقامات پر جمع تھا،ایک ذومیل تھا، اور دوسرا تھا ثنّی۔انہی دو مقامات کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ آتش پرستوں اور عیسائیوں کے لشکر جمع ہیں۔اب حُصید کا بھاگا ہوا لشکر بھی وہیں جا پہنچا تھا اور مضیح سے دشمن کی جو نفری بچ نکلی تھی، وہ بھی انہی دو مقامات پر چلی گئی تھی۔اس شکست خوردہ نفری نے ثنّی اور ذومیل میں جاکر دہشت پھیلا دی۔وہاں سردار اور سالار بھی تھے،انہیں بہت مشکل پیش آئی۔جذبے کے لحاظ سے لشکر لڑنے کے قابل نہیں تھا۔جسمانی لحاظ سے لشکر تازہ دم تھا۔ثنّی میں ان کی عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی تھے۔عورتوں نے مردوں کو بزدلی اور بے غیرتی کے طعنے دیئے اور انہیں لڑنے کیلئے تیار کیا۔ان دو مقامات پر جنگ کی تیاریوں کا منظر جنگ جیسا ہی تھا۔سوار اور پیادے تیغ زنی کی مشق صبح سے شام تک کرنے لگے۔سوار دستوں کو حملہ کرنے اور حملہ روکنے کی مشقیں کرائی جانے لگیں۔اس وقت تک کسریٰ کے سالار اور ان کے اتحادی عیسائیوں کے سردار خالدؓ کی جنگی چالیں سمجھ چکے تھے۔
’’لیکن چالیں سمجھنے سے کیا ہوتا ہے!‘‘عیسائیوں کے ایک قبیلے کا سردار ربیعہ بن بجیر کہہ رہا تھا۔’’دل کو ذرا مضبوط رکھیں تو ان تھوڑے سے مسلمانوں کو کچلنا کوئی مشکل نہیں۔‘‘اس کے پاس عیسائیوں کے بڑے سردار عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بن عقہ بیٹھا ہوا تھا۔عقہ بن ابی عقہ سرداروں میں سرکردہ سردار تھا۔اس نے للکار کر کہا تھاکہ وہ خالدؓکا سر کاٹ کر لائے گا۔مگر عین التمر کے معرکے میں وہ پکڑا گیا،اس سے پہلے خالدؓ نے قسم کھائی تھی کہ وہ عقہ کو زندہ پکڑیں گے ۔خالدؓکی قسم پوری ہو گئی ۔انہوں نے عقہ کا سر اپنی تلوار سے کاٹا تھا۔بلال عقہ کا جوان بیٹا تھا۔جو اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے آیا تھا۔’’ابنِ بجیر!‘‘اس نے اپنے سردار ربیعہ کی بات سن کر کہا۔’’میں اپنے باپ کے سر کے بدلے خالد کا سر لینے آیا ہوں۔‘‘’’ایک نہیں ہم پر ہزاروں سروں کا قرض چڑھ گیا ہے۔‘‘ربیعہ بن بجیرنے کہا۔وہ کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر بلال بن عقہ چلا گیا۔رات کا وقت تھا۔رات سرد اور تاریک تھی۔مہینہ نومبر کا تھا اور اسی شام رمضان کا چاند نظر آیا تھا۔بلال باہر جا کر رک گیا۔وہ اپنے لشکر کے خیموں سے کچھ دور تھا۔اسے ایک طرف سے اپنی طرف کوئی آتا نظر آیا۔نیا چاند کبھی کا ڈوب چکا تھا۔تاریک رات میں چلتے پھرتے انسان متحرک سائے لگتے تھے۔سایہ جو بلال کی طرف آرہا تھا ،قریب آیا تو بلال نے دیکھا کہ وہ کوئی آدمی نہیں عورت ہے۔’’ابنِ عقہ!‘‘عورت نے کہا۔’’میں صابحہ ہوں……صابحہ بنتِ ربیعہ بن بجیر…… ذرا رُک سکتے ہو میری خاطر؟‘‘’’اوہ!ربیعہ بن بجیر کی بیٹی!‘‘بلال بن عقہ نے مسرور سے لہجے میں کہا۔’’کیا میں ابھی ابھی تیرے گھر سے اٹھ کر نہیں آیا؟‘‘’’لیکن بات جو کہنی ہے وہ میں باپ کے سامنے نہیں کہہ سکتی تھی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’کیا تو نے مجھے اپنے قابل سمجھا ہے؟‘‘بلا ل نے کہا۔’’بات جو تو کہنا چاہتی ہے وہ پہلے ہی میرے دل میں ہے۔‘‘
’’غلط نہ سمجھ ابنِ عقہ!‘‘صابحہ نے کہا۔’’پہلے میری بات سن لے!……مجھے بتا کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت لڑکی تو نے کبھی دیکھی ہے؟‘‘
’’نہیں بنتِ ربیعہ!‘‘’’کبھی مدائن گیا ہے تو؟‘‘صابحہ نے کہا۔’’گیا ہوں؟‘‘’’سناہے فارس کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’کیا وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں؟‘‘’’کیا یہ اچھا نہیں ہو گا کہ تو وہ بات کہہ دے جو تیرے دل میں ہے؟‘‘بلال نے پوچھا اور کہا۔’’میں نے تجھ سے زیادہ کسی لڑکی کو کبھی حسین نہیں سمجھا۔میں تھجے تیرے باپ سے مانگنا چاہتا تھا۔میں نہیں جانتا تھا کہ تیرے دل میں پہلے ہی میری محبت پیدا ہو چکی ہے۔‘‘’’محبت تو اب بھی پیدا نہیں ہوئی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’میں کسی اور کو چاہتی ہوں۔آج سے نہیں۔اس دن سے چاہتی ہوں اسے جس دن میں نے محسوس کیا تھا کہ میں جوان ہونے لگی ہوں، اور جوانی ایک ساتھی کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘’’پھر مجھے کیا کہنے آئی ہے تو؟‘‘’’یہ کہ میں نے اسے اپنے قابل سمجھناچھوڑ دیا ہے۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’مرد کی طاقت عورت کے جسم کیلئے ہی تو نہیں ہوتی۔وہ طاقتور اور خوبصورت آدمی ہے۔وہ جب گھوڑے پر بیٹھتا ہے تو مجھے اور زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔‘‘’پھر کیا ہوا اُسے؟‘‘
’’وہ بزدل نکلا۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’وہ لڑائیوں میں سے بھاگ کر آیا ہے۔دونوں بار اسے خراش تک نہیں آئی تھی۔مجھے شک ہے کہ وہ لڑے بغیر بھاگ آتا رہا ہے،وہ میرے پاس آیا تھا،میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ وہ مجھے بھول جائے۔میں کسی بزدل کی بیوی نہیں بن سکتی۔اس نے میرے باپ کو بتایا تو باپ نے مجھے کہا کہ میں تو اس کی بیوی بننے والی ہوں۔میں نے باپ سے بھی کہہ دیا ہے کہ میں میدان سے بھاگے ہوئے کسی آدمی کی بیوی نہیں بنوں گی۔میں نے باپ سے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے اس شخص کی بیوی بنانا ہے تو میری لاش اس کے حوالے کر دو۔‘‘
’’کیا اب تم میری بہادری آزمانا چاہتی ہو؟‘‘بلال نے پوچھا۔’’ہاں!‘‘صابحہ نے کہا۔’’اور اس کا انعام دیکھ۔اتنا حسین جسم تجھے کہا ں ملے گا!‘‘’’کہیں نہیں۔‘‘بلال نے کہا۔’’لیکن میں ایک کام کا وعدہ نہیں کروں گا۔ہمارے سردار اور ہمارے قبیلوں کے جوشیلے جوان یہ اعلان کرکے مسلمانوں کے خلاف لڑنے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کے سالار خالدبن ولید کا سر کاٹ لائیں گے مگر وہ خود کٹ جاتے ہیں یا بھاگ آتے ہیں۔میں ایسا وعدہ نہیں کروں گا۔خالد کا سر کون کاٹے گا،اس تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔‘‘’’میں ایسا وعدہ نہیں لوں گی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’میں تیرے منہ سے نہیں ، دوسروں سے سننا چاہتی ہوں کہ تو نے سب سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور مسلمانوں کو شکست دینے میں تیرا ہاتھ سب سے زیادہ ہے۔میں یہ بھی وعدہ کرتی ہوں کہ تو مارا گیا تو میں کسی اور کی بیوی نہیں بنوں گی۔اپنے آپ کو ختم کر دوں گی۔‘‘
’’میں تجھے ایک بات بتا دیتا ہوں صابحہ!‘‘بلال نے کہا۔’’میں تیری خاطر میدان میں نہیں اُتر رہا۔میرے اوپر اپنے باپ کے خون کا قرض ہے۔میں نے یہ قرض چکانا ہے۔میری روح کو تسکین تب ہی ہوگی کہ میں ابنِ ولید کا سر اپنی برچھی پر لاؤں اور بنی تغلب کے بچے بچے کو دِکھاؤں۔لیکن وہ بات کیوں زبان پر لاؤں جو ہاتھ سے نہ کر سکوں۔اس تک پہنچوں گا ضرور۔راستے میں جو آئے گا اسے کاٹتا جاؤں گا۔میں نے اپنا گھوڑا تبدیل کر لیا ہے۔ہوا سے تیز ہے اور بڑا ہی طاقتور۔‘‘’’میں تیری طاقت اور تیزی اور پھرتی دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اگر ایسا ہو تو مجھے ساتھ لے چل۔مردوں کی طرح لڑوں گی لیکن اگر تو نے پیٹھ دکھائی تو میری تلوار تیری پیٹھ میں اتر جائے گی۔‘‘’’میں تجھے مالِ غنیمت میں مسلمانوں کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔‘‘بلال نے کہا۔’’اور یہ بھی سن لے صابحہ!میرا باپ عقہ بن ابی عقہ یہی عہد کرکے گیا تھا کہ وہ خالد بن ولید کو خون میں نہلا کر آئے گا۔مگر اس نے ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔معلوم نہیں مسلمانوں کو کس نے بتادیا یہ شخص ابنِ ولید کا خون بہانے کا عہد کرکے آیاتھا۔ابنِ ولید نے میرے باپ کو قیدیوں سے الگ کیا اور سب کے سامنے اپنی تلوار سے اس کا سر کاٹ دیا……میں تجھے بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ بات نہ کہہ جو تو نہیں کر سکتی۔‘‘
’’اور میں تجھے ایک بات کہنا چاہتی ہوں جو تجھے اچھی نہیں لگے گی۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اگر اب میرے قبیلے نے میدان ہار دیا تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کر دوں گی اور ان سے کہوں گی کہ میں اس آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہوں جو سب سے زیادہ بہادر ہے۔‘‘’’ہم اس کوشش میں اپنی جانیں لڑا دیں گے کہ مسلمان ہماری عورتوں تک نہ پہنچ سکیں۔‘‘بلال بن عقہ نے کہا۔’’لیکن کوئی نہیں بتا سکتا کیا ہوگا۔ایک طرف تیرے دل میں مسلمانوں کی دشمنی ہے اور دوسری طرف تم اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کی باتیں کرتی ہو۔‘‘’’میں یہ باتیں اس لئے کرتی ہوں کہ میرے دل میں کچھ شک اور کچھ شبہے پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ جیسے مذہب مسلمانوں کا ہی سچا ہے۔اتنی تھوڑی تعداد میں وہ فارس کے اور ہمارے تمام قبیلوں کے لشکروں کو ہر میدان میں شکست دیتے چلے آرہے ہیں تو اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ انہیں کسی غیبی طاقت کی مددحاصل ہے۔اگر یسوع مسیحؑ خدا کے بیٹے ہوتے تو کیا خدااپنے بیٹے کی امت کو اس طرح ذلیل و خوار کرتا ؟مجھے بتا نے والا کوئی نہیں کہ مسلمان اسی خدا کو اﷲکہتے ہیں یا اﷲکوئی اور ہے۔‘‘’’ایسی باتیں منہ سے نہ نکالو صابحہ!‘‘بلال نے جھنجھلاکر کہا۔’’تم بہت بڑے سردار کی بیٹی ہو۔اپنے مذہب پر ایسا شک نہ کرو کہ اس کی سزا ہم سب کو ملے۔‘‘’’میں مجبور ہوں ابنِ عقہ!‘‘صابحہ نے کہا۔’’میری ذات سے کچھ آوازیں سی اٹھتی ہیں ۔کبھی خیال آتا ہے جیسے میں اپنے قبیلے میں اور اپنے گھر میں اجنبی ہوں۔ایسے لگتا ہے میں کہیں اور کی رہنے والی ہوں……میں کچھ نہیں سمجھتی بلال……میں جو کہتی ہوں وہ کرو پھر میں تمہاری ہوں۔‘‘’’ایساہی ہوگا صابحہ!‘‘بلال نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا۔’’میں اگر زندہ واپس آیا تو فاتح ہو کر آؤں گا۔اگر مارا گیا تو واپس آنے والوں سے پوچھ لیناکہ میں نے مرنے سے پہلے کتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔‘‘بلال ثنّی کی رات کی تاریکی میں غائب ہو گیا۔صابحہ بنتِ ربیعہ بن بجیر وہیں کھڑی بلال کو سائے کی طرح رات کی تاریکی میں تحلیل ہوتا دیکھتی رہی۔تین یا چار راتیں ہی گزری تھیں، ثنّی کی خیمہ گاہ اور عیسائیوں کی بستیاں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں،رمضان ۱۲ ھ کا تیسرا یا چوتھا چاند کبھی کا افق میں اُتر چکا تھا۔انسانوں کا ایک سیلاب ثنّی کی طرف بڑھا آرہا تھا۔یہ مدینہ کے مجاہدین کی فوج تھی جو سیلاب کہلانے کے قابل نہیں تھی کیونکہ ان کی تعداد پندرہ یا سولہ ہزار کے درمیان تھی اور دشمن کی نفری تین چار گنا تھی۔خالدؓ نے ثنّی پر بھی مضیح والا داؤ آزمانے کا فیصلہ کیاتھا۔ انہوں نے اپنے مجاہدین سے کہا تھا کہ دشمن کو اور اپنے آپ کو بھی مہلت دینا خطرناک ہوگا،اﷲہمارے ساتھ ہے۔فتح اور شکست اسی کے ہاتھ میں ہے۔ہم اسی کی ذاتِ باری کے نام پر کفر کی آگ میں کودے ہیں۔خالدؓ نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا۔مجاہدین کے انداز میں جوش و خروش پہلے والا ہی تھا،جسموں میں البتہ وہ دم خم نہیں رہا تھا،لیکن عزم روزِ اول کی طرح زندہ و پائندہ تھا۔
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ پندرہ سولہ ہزار کے لشکر سے دشمن پر شب خون مارنا اس لیے خطرناک ہوتا ہے کہ خاموشی برقرار نہیں رکھی جا سکتی اور دشمن قبل از وقت بیدار ہو جاتا ہے۔اس میں دشمن کی گھات کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔خالدؓ نے ان خطروں سے نمٹنے کایہ اہتمام کر رکھاتھا کہ پہلے شب خون کی طرح اب کے بھی انہوں نے اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔سالار بھی وہی تھے جنہیں پہلے شب خون کا تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔اب جاسوسوں نے انہیں دشمن کے قیام کی جو اطلاعیں دی تھیں ان کے مطابق مدائن کی فوج اور عیسائیوں کا لشکر ایک ہی خیمہ گاہ میں نہیں تھے ۔خیمہ گاہ میں صرف مدائن کی فوج تھی اور عیسائی اپنی بستیوں میں تھے یہ بنی تغلب کی بستیاں تھیں۔جاسوسوں نے ان بستیوں کے محل وقوع بتا دیئے تھے ۔خالدؓنے اپنی فوج کے ایک حصے کی کمان سالار قعقاع کو اور دوسرے حصے کی کمان سالار ابو لیلیٰ کو دی تھی۔تیسرا حصہ اپنی کمان میں رکھا تھا۔انہوں نے قعقاع اور ابو لیلیٰ کو عیسائی قبیلے بنی تغلب کی بستیوں پر شب خون مارنا تھا جو بستیوں کی نسبت ذرا قریب تھی۔تینوں حصوں کو بیک وقت حملہ کرنا تھا۔مؤرخین نے لکھا ہے کہ خالدؓنے حکم دیاتھا کہ کسی عورت اور کسی بچے پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے۔کفار کو مضیح کے مقام پر مسلمانوں کے ایک شب خون کا بڑا ہی تلخ تجربہ ہو چکا تھا۔انہوں نے ثنّی کی خیمہ گاہ کے اردگرد پہرے کا بڑا سخت انتظام کر رکھا تھا۔گشتی پہرے کا انتظام بھی تھا۔چار چار گھوڑ سوار خیمہ گاہ سے دور دور تک گشت کرتے تھے۔مسلمان جاسوسوں نے خالدؓ کو اس انتظام کی بھی اطلاع دے دی تھی۔خالدؓنے اس انتظام کو بیکار کرنے کا بندوبست کر دیا تھا۔ثنّی سے کچھ دور خالدؓ کی فوج پہلے سے طے کیے ہوئے منصوبے کے مطابق رُک گئی۔اسے آگے کی اطلاع کے مطابق آگے بڑھنا تھا۔چند ایک شتر سوار جو مثنیٰ بن حارثہ کے آزمائے ہوئے چھاپہ مار تھے، آگے چلے گئے تھے۔وہ اونٹوں کے قافلے کی صورت میں جا رہے تھے۔وہ ثنّی کی خیمہ گاہ سے ابھی دور ہی تھے کہ انہیں کسی نے للکارا۔وہ رُک گئے اور اپنی طرف آتے ہوئے گھوڑوں کے ٹاپ سننے لگے۔چار گھوڑے ان کے پاس آرُکے۔’’کون ہو تم لوگ؟‘‘ایک گھوڑ سوار نے ان سے پوچھا۔’’مسافر ہیں۔‘‘ایک شتر سوار نے ڈرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔اور کسی بستی کا نام لے کر کہا کہ وہاں جا رہے ہیں۔شتر سوار آٹھ دس تھے، ان میں سے ایک تو گھوڑ سواروں کو بتا رہا تھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔دوسرے شتر سوار اونٹوں کو آہستہ آہستہ حرکت دیتے رہے حتیٰ کہ چار گھوڑ سوار ان کے نرغے میں آگئے-
’’اُترو اونٹوں سے!‘‘ایک گھوڑ سوار نے بڑے رعب سے حکم دیا۔
چار شتر سوار اونٹوں سے اس طرح اُترے کہ اوپر سے ایک ایک گھوڑ سوار پر جھپٹے۔ان کے ہاتھوں میں خنجر تھے جو گھوڑ سواروں کے جسموں میں اُتر گئے۔انہیں گھوڑوں سے گرا کر ختم کر دیا گیا۔چار مجاہدین چاروں گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور دشمن کی خیمہ گاہ تک چلے گئے۔ایک سنتری انہیں اپنی سوار گشت سمجھ کر ان کے قریب آیا۔اندھیرے میں دو گھوڑ سوار اترے اور اس سنتری کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔انہوں نے کئی اور سنتریوں کو خاموشی سے ختم کیا اور واپس آگئے۔خالدؓبے صبری سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔وہ جو اونٹوں پر گئے تھے ،چار گھوڑے بھی ساتھ لے آئے۔انہوں نے خالدؓکو بتایا کہ راستہ صاف ہے۔خالدؓ نے سرگوشیوں میں قاصدوں کو دوسرے سالاروں کی طرف اس پیغام کے ساتھ دوڑادیا کہ ہلہ بول دو۔اس وقت تک گھوڑوں کے منہ بندھے ہوئے تھے وہ ہنہنا نہیں سکتے تھے،سواروں نے سالاروں کے کہنے پر گھوڑوں کے منہ کھول دیئے۔ان کے ہدف دور نہیں تھے،کچھ دور تک گھوڑے پیادوں کی رفتار کے ساتھ آہستہ چلائے گئے پھر رفتار تیز کر دی گئی اور پیادوں کو دوڑناپڑا۔بستیوں کے قریب جا کر مشعلیں جلالی گئیں۔خالدؓنے اپنے دستوں کو اتنی تیزی سے آگے نہ بڑھایا۔انہیں انہوں نے شب خون کی ترتیب میں پھیلا دیا تھا۔یہ ایسی پیش قدمی تھی جس میں کوئی نعرہ نہ لگایا گیا ،نہ کسی کو للکارا گیا۔نومبر ۶۳۳ء کے دوسرے اور رمضان المبارک کی ۱۲ ہجری کے پہلے ہفتے کی وہ رات بہت سرد تھی۔بنی تغلب کی بستیوں میں اور فارس کی فوج کی خیمہ گاہ میں جو وسیع و عریض تھی، لوگ گرم بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ کون کیا خواب دیکھ رہا تھا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر ایک کے ذہن پر مسلمانوں کی فوج اور اس کی دہشت سوار ہو گی۔لوگ اسی فوج کی باتیں کرتے سوئے تھے۔اچانک بستیوں کے گھروں کے دروازے ٹوٹنے لگے۔گلیوں میں گھوڑے دوڑنے لگے۔مجاہدین نے مکانوں سے چارپائیاں اور لکڑیاں باہر لاکر جگہ جگہ ان کے ڈھیر لگائے اور آگ لگادی تاکہ بستیاں روشن ہوجائیں۔عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار نے سرد رات کو ہلا کر رکھ دیا۔عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ باہر آکر ایک طرف کھڑی ہو جائیں۔یہ مجاہدین کی للکار تھی جو بار بار سنائی دیتی تھی۔بنی تغلب کے آدمی کٹ رہے تھے ۔خالدؓکا حکم تھا کہ بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے سوا کسی آدمی کو زندہ نہ رہنے دیا جائے۔
ان لوگوں کو وہ لشکر بچا سکتا تھا جو تھوڑی ہی دور خیمہ گاہ میں پڑ اتھا۔بستیوں کا واویلا لشکر تک پہنچا لیکن وہاں نیند اور سردی نے سب کو بے ہوش ساکر رکھا تھا۔لشکر کو جگانے کیلئے کوئی سنتری زندہ نہ تھا۔آخر خیمہ گاہ میں کچھ لوگ بیدار ہو گئے ۔انہیں ارد گرد کی بستیوں میں روشنی نظر آئی جیسے آگ لگی ہوئی ہو۔شور بھی سنائی دیا۔وہ ابھی سمجھنے بھی نہ پائے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ویسی ہی ہڑ بونگ خیمہ گاہ کے ایک گوشے میں بپا ہوئی جو آندھی کی مانند بڑھتی اور پھیلتی گئی۔کچھ خیموں کو آگ لگ گئی۔خالدؓ کے دستوں نے آتش پرستوں کی فوج کو کاٹنا شروع کر دیا تھا۔یہ فو ج اب کٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔دشمن کے بہت سے سپاہی خیموں میں دبک گئے تھے۔ان خیموں کی رسیاں مسلمانوں نے کاٹ دیں۔خیمے سپاہیوں کیلئے جال اور پھندے بن گئے۔مسلمانوں نے انہیں بر چھیوں سے ختم کر دیا۔مسلمانوں کے نعرے اور ان کی للکار بڑی دہشت ناک تھی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو اتنے وسیع پیمانے پر شب خون مارنے کا دوسرا تجربہ ہوا۔اب انہوں نے یہ انتظام کر دیا تھا کہ کسی کو بھاگنے نہ دیا جائے۔بستیوں اور خیمہ گاہ کے اردگرد مثنیٰ بن حارثہ کے گھوڑ سوار گھوم پھر رہے تھے۔کوئی آدمی بھاگ کے جاتا نظر آتا تو اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا جاتا اور برچھی یا تلوار سے اسے ختم کر دیا جاتا۔اگر کوئی عورت بھاگتی نظر آتی تو اسے پکڑ کر اس جگہ پہنچا دیتے جہاں عورتوں اور بچوں جو اکٹھا کیا جارہا تھا۔جوں جوں رات گزرتی جا رہی تھی۔بنی تغلب کی بستیوں میں اور مدائن کی فوج کی خیمہ گاہ میں شوروغوغا اور واویلا کم ہوتا جا رہا تھااور زخمیوں کی کرب ناک آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے کیلئے جو نکلے تھے ، ان کی لاشیں تھنڈی ہو رہی تھیں اور ان کے زخمی پیاسے مر رہے تھے اور ان کی بیٹیاں مسلمانوں کے قبضے میں تھیں۔صبح طلوع ہوئی تو اُجالے نے بڑا ہی بھیانک اور عبرتناک منظر دکھایا۔لاشوں کے سوا کچھ نظرنہیں آتا تھا۔لاشیں خون سے نہائی ہوئی تھیں۔یہ فتح ایسی تھی جیسے کسریٰ کے بازو کاٹ دیئے گئے ہوں۔خیمہ گاہ اور بستیاں موت کی بستیاں بن گئی تھیں۔جن گھوڑوں پر ان کفارکو نازتھا۔وہ گھوڑے وہیں بندھے ہوئے تھے جہاں گزشتہ شام انہیں باندھا گیا تھا۔عورتیں الگ بیٹھی رو رہی تھیں۔بچے بلبلا رہے تھے۔خالدؓ نے حکم دیا کہ سب سے پہلے عورتوں اور بچوں کو کھانا دیا جائے۔
مجاہدین مالِ غنیمت لا لا کر ایک جگہ جمع کر رہے تھے۔سالار ابو لیلیٰ کے پاس ایک بہت ہی حسین لڑکی کو لایاگیا۔اس نے درخواست کی تھی کہ اسے سالارِ اعلیٰ یا کسی سالار کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی جائے۔’’یہ ایک سردار کی بیٹی ہے۔‘‘اسے لانے والے سالار نے ابو لیلیٰ سے کہا۔’’سالار کا نام ربیعہ بن بجیر بتاتی ہے۔یہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔‘‘’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘ابو لیلیٰ نے لڑکی سے پوچھا۔’’صابحہ!‘‘لڑکی نے جواب دیا۔’’صابحہ بنتِ ربیعہ بجیر ……میرے باپ کو لڑنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔‘‘’’کیا تو یہی بات کہنے کیلئے ہمارے سالارِ اعلیٰ سے ملنا چاہتی ہے؟‘‘سالار ابو لیلیٰ نے پوچھا۔’’جنہیں لڑنے کا موقع ملا تھا، کیا تو نے ان کا انجام نہیں دیکھا؟……اب بتا تُو چاہتی کیا ہے!‘‘’’تم لوگ مجھے اجازت نہیں دو گے کہ میں لاشوں میں ایک آدمی کی لاش ڈھونڈ لوں۔‘‘صابحہ نے کہا۔’’اس کا نام بلال بن عقہ ہے۔‘‘’’کیا جلی ہوئی لکڑیوں کے انبار میں کسی ایک خاص درخت کی لکڑی کو ڈھونڈ لے گی؟‘‘ابولیلیٰ نے پوچھا۔’’تو اسے ڈھونڈ کہ کیا کرے گی؟ زندہ ہے تو ہمارا قیدی ہوگا۔مر گیا ہے تو تیرے کس کام کا؟‘‘صابحہ نے سالار ابو لیلیٰ کو وہ گفتگو سنائی جو اس کے اور بلال بن عقہ کے درمیان ہوئی تھی اور کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ زندہ ہے یا مارا گیا ہے۔مسلمان سالاروں نے چند عیسائیوں کو اس مقصد کیلئے زندہ پکڑ لیا تھا کہ ان سے اس علاقے اور علاقے کے لوگوں کے متعلق معلومات اور جنگی اہمیت کی معلومات لی جائیں۔ابولیلیٰ کے حکم سے ایسے دو تین آدمیوں کو بلا کر بلال بن عقہ کے متعلق پوچھا۔’’دو تین روز پہلے تک وہ یہیں تھا۔‘‘ایک عیسائی نے بتایا۔’’وہ ذومیل چلا گیا ہے۔‘‘’’کیا اسے وہاں ہونا چاہیے تھا یا یہاں؟‘‘ابولیلی ٰنے پوچھا۔’’وہ قبیلے کے سردار کا بیٹا ہے۔‘‘عیسائی نے بتایا۔’’وہ کسی کے حکم کا پابند نہیں۔وہ حکم دینے والوں میں سے ہے۔‘‘’’کیا وہ اپنے باپ کے خون کا انتقام لینے آیا ہے؟‘‘’’اس نے کئی بار کہا ہے کہ وہ ابنِ ولید سے اپنے باپ کے خون کا انتقام لے گا۔‘‘دوسرے عیسائی نے جواب دیا۔’’اب بتا لڑکی!‘‘ابو لیلیٰ نے صابحہ سے پوچھا۔’’میں تمہاری قیدی ہوں۔‘‘ صابحہ نے کہا۔’’میرے ساتھ لونڈیوں اور باندیوں جیساسلوک کرو گے تو میں تمہیں نہیں روک سکوں گی۔سنا ہے مسلمانوں کے دلوں میں رحم ہوتا ہے۔میری ایک التجا ہے……میں اک سردار کی بیٹی ہوں، کیا میری اس حیثیت کا خیال رکھا جائے گا؟‘‘
’’اسلام میں انسانوں کو درجوں میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔‘‘بولیلیٰ نے کہا۔’’ہم اس شخص کو بھی اپنا سردار مان لیا کرتے ہیں جس کے آباء اجداد نے کبھی خواب میں بھی سرداری نہیں دیکھی ہوتی۔ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ سرداری کا اہل ہے اور اس کا اخلاق بہت اونچا اور پاک ہے اور ا س کو اپنی ذات کا کوئی لالچ نہیں ……پریشان نہ ہو لڑکی!تو خوبصورت ہے۔ایسا نہیں ہو گا کہ تجھے جو چاہے گا اپنا کھلونا بنا لے گا۔کوئی ہمت والا تجھے خریدے گا اور تیرے ساتھ شادی کر لے گا۔‘‘’’تمہاری قیدی ہو کر میری پسند اور ناپسند ختم ہو گئی ہے۔اگر مجھے پسند کی ذرا بھی آزادی دی جائے تو میں تم میں سے اس کی بیوی بننا پسند کروں گی جو سب سے زیادہ بہادر ہے ۔جو اپنی قوم اور قبیلے کی عزت اور غیرت پر جان دینے والا ہو۔میدان سے بھاگنے والا نہ ہو……عورت کا مذہب وہی ہوتا ہے جو اس آدمی کا مذہب ہے جس کی ملکیت میں اسے دے دیا جاتا ہے لیکن عقیدے دلوں میں ہوتے ہیں۔عورت کے جسم کو ملکیت میں لے سکتے ہو،اس کے دل کا مالک کوئی نہیں بن سکتا……میں وعدہ کرتی ہوں کہ مجھے کوئی مضبوط دل والا اور قبیلے کی غیرت پر دشمن کا خون بہانے والا اور اپنا سر کٹوانے والا آدمی مل جائے تو میں اپنا دل اور اپنے عقیدے اس پر قربان کر دوں گی۔‘‘’’خداکی قسم!تو غیرت اور عقل والی لڑکی ہے۔‘‘ابولیلیٰ نے کہا۔’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ تو نے بلال بن عقہ سے جو وعدہ کیا تھا وہ میں پورا کروں گا،شرط یہ ہوگی کہ وہ اپنا وعدہ پورا کردے۔وہ ہمارے سالارِ اعلیٰ خالد بن ولید کو اپنے ہاتھوں قتل کردے، لیکن بنتِ ربیعہ !وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ابنِ ولید کے سر پر اﷲکا ہاتھ ہے، اسے رسول ﷺ نے اﷲکی تلوار کہاہے۔پھر بھی تم انتظار کرو۔ذومیل میں بلال کے ساتھ ہماری ملاقات ہو گی۔‘‘’’کیا میں اپنے گھر میں رہ سکتی ہوں؟‘‘’’کیا ہے اس گھر میں ؟‘‘ابولیلیٰ نے کہا۔’’وہاں تیرے باپ، بھائیوں اور محافظوں کی لاشوں کے سوا رہ ہی کیا گیا ہے؟ اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ رہ، کوئی تکلیف نہیں ہو گی تجھے۔ہمارا کوئی آدمی کسی عورت کے قریب نہیں جائے گا۔‘‘صابحہ بنتِ ربیعہ بجیر رنجیدہ سی چال چلتی ہوئی ایک مجاہد کے ساتھ اس طرف چلی گئی جہاں عورتوں اور بچوں کو رکھا گیا تھا۔اس کی رنجیدہ چال میں اور ملول چہرے پر تمکنت تھی ۔صاف پتا چلتا تھا کہ وہ عام سے کردار کی لڑکی نہیں۔
’’ابنِ حارثہ!‘‘خالدؓنےفتح کی مسرت سے لبریزلہجے میں مثنیٰ بن حارثہ سے کہا۔’’کیا اﷲنے تیری ہر خواہش پوری نہیں کردی؟‘‘’’لاریب،لاریب!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے جوشیلے لہجے میں کہا۔’’کفار کی آنے والی نسلیں کہیں گی کہ مسلمانوں نے ان کے آبا ء اجداد پر بہت ظلم کیا تھا اور ہماری نسلیں انہیں اپنے اﷲکا یہ فرمان سنائیں گی کہ جس پرظلم ہوا وہ اگر ظالم پر ظلم کرے تو اس پر کوئی الزام نہیں……تو نہیں جانتا ولید کے بیٹے !ان آتش پرستوں نے اور صلیب کے پجاریوں نے جو ظلم ہم پر توڑے ہیں، تو نہیں جانتا۔تو نے سنے ہیں، ہم نے سہے ہیں۔‘‘’’اب یہ لوگ اﷲکی گرفت میں آگئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’لیکن حارثہ کے بیٹے!میں ڈرتا ہوں تکبر اور غرورسے……دل میں بار بار یہ ارادہ آتا ہے حج پر جاؤں۔
میں خانہ کعبہ میں جا کر اﷲکا شکر اداکروں گا۔کیا اﷲمجھے یہ موقع دے گا کہ میں اپنا یہ ارادہ پورا کر سکوں؟‘‘’’تو نے ارادہ کیا ہے تو اﷲتجھے ہمت بھی دے گا۔موقع بھی پیدا کر دے گا۔‘‘مثنیٰ نے کہا۔کچھ دیر بعد تمام سالار خالدؓکے سامنے بیٹھے تھے اور خالدؓ انہیں بتا رہے تھے کہ اگلا ہدف ذومیل ہے۔جاسوسوں کو ذومیل بھیج دیاگیا تھا۔پہلے یوں ہوتا رہا ہے کہ ایک جگہ ہم حملہ کرتے تھے تو دشمن کے آدمی بھاگ کر کہیں اور اکٹھے ہو جاتے تھے۔خالدؓ نے کہا۔’’اب ہم نے کسی کو بھاگنے نہیں دیا۔ثنّی سے شاید ہی کوئی بھاگ کر ذومیل پہنچا ہو۔لیکن ذومیل خالی نہیں۔وہاں بھی دشمن موجود ہے اور وہ بے خبر بھی نہیں ہوگا۔کل رات ذومیل کی طرف کوچ ہو گا اور اگلی رات وہاں اسی قسم کا شب خون مارا جائے گا۔‘‘تاریخوں میں یہ نہیں لکھا کہ ثنّی میں خالدؓنے کس سالار کو چھوڑا۔سورج غروب ہوتے ہی مسلمانوں کا لشکر ذومیل کی سمت کوچ کر گیا۔ساری رات چلتے گزری۔دن نشیبی جگہوں میں چھپ کر گزرا اور سورج کا سفر ختم ہوا تو مجاہدین اپنے ہدف کی طرف چل پڑے۔ذومیل میں بھی دشمن سویا ہوا تھا۔سنتری بیدار تھے ۔یہاں بھی گشتی سنتریوں اور دیگر سنتریوں کو اسی طریقے سے ختم کیا گیا جو مضیح اور ثنّی وغیرہ میں آزمایا گیا تھا ۔مسلمانوں کی ترتیب وہی تھی یعنی ان کا لشکر تین حصوں میں تقسیم تھا۔یہ شب خون بھی پوری طرح کامیاب رہا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ کسی ایک بھی آدمی کو زندہ نہ نکلنے دیاگیا۔یہاں بھی عورتوں اور بچوں کو الگ کر لیاگیا تھا۔سالار ابولیلیٰ نے بلال بن عقہ کے متعلق معلوم کیا۔پتہ چلا کہ وہ ایک روز پہلے یہاں سے نکل گیا تھا۔یہ بھی پتا چلا لیا گیا کہ ذومیل سے تھوڑی دور رضاب نام کی ایک بستی ہے جس میں عیسائیوں کی خاصی تعداد جمع ہو گئی ہے اور ان کے ساتھ مدائن کی فوج کے ایک دو دستے بھی ہیں۔خالدؓ نے دو حکم دیئے۔ایک یہ کہ ثنّی سے مالِ غنیمت اوردشمن کی عورتوں اور بچوں کو ذومیل لایا جائے ۔دوسرا حکم یہ کہ فوری طور پر رضاب پر حملہ کیا جائے،آتش پرستوں کا لڑنے کا جذبہ تو جیسے بالکل سرد پڑ گیا تھا۔مسلمان تین اطراف سے رضاب پر حملہ آور ہوئے لیکن یہ گھونسہ ہوا میں لگا۔رضاب بالکل خالی تھا۔پتہ چلتا تھا کہ یہاں فوج موجود رہی ہے لیکن اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔اپنے باپ عقہ بن ابی عقہ کا بیٹا بلال بھی لا پتا تھا۔فوج کا ایک سوار دستہ دوردور تک گھوم آیا۔دشمن کا کہیں نام و نشان نہیں ملا۔آخر فوج واپس آگئی۔ثنّی کی عورتیں ذومیل لائی جا چکی تھیں۔مالِ غنیمت بھی آگیا۔خالدؓنے خلافتِ مدینہ کا حصہ الگ کرکے باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ابولیلیٰ نے صابحہ کو بلایا۔
’’بلال بن عقہ یہاں سے بھی بھاگ گیا ہے۔‘‘ابولیلیٰ نے اسے کہا۔’’اس نے اپنے باپ کے خون کا انتقام لینا ہوتا تو یوں بھاگانہ پھرتا۔کیا اب بھی تو اس کا انتظار کرے گی؟‘‘’’میں اپنی مرضی سے تو کچھ بھی نہیں کرسکتی۔‘‘صابحہ نے کہا۔ابولیلیٰ خالدؓ سے بات کر چکے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس لڑکی کی خوبصورتی اور جوانی کو دیکھ کر سب کا خیال یہ تھا کہ خالدؓ اس سے شادی کر لیں گے۔صابحہ کی یہ خواہش بھی پوری ہو سکتی تھی کہ وہ سب سے زیادہ بہادر اور بے خوف آدمی کی بیوی بننا چاہتی ہے لیکن خالدؓ نے کہا کہ مجھ سے زیادہ بہادر موجود ہیں۔چنانچہ خالدؓ نے اس پیغام کے ساتھ مالِ غنیمت اور عورتیں مدینہ کو روانہ کر دیں۔جو دستہ مالِ غنیمت کے ساتھ بھیجا گیا اس کے کماندار نعمان بن عوف شیبانی تھے۔انہوں نے صابحہ کے متعلق مدینہ میں بتایا کہ یہ لڑکی کون ہے۔کیسی ہے اور اس کی خواہش کیا ہے۔مؤرخوں کے مطابق صابحہ کو حضرت علیؓ نے خریدلیا۔صابحہ نے بخوشی اسلام قبول کر لیا اور حضرت علیؓ نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔حضرت علیؓ کے صاحبزادے عمر اور صاحبزادی رقبعہ صابحہ کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔مدائن میں کسریٰ کے محل پہلے کی طرح کھڑے تھے۔ان کے درودیوار پر خراش تک نہ آئی تھی۔ان کا حسن ابھی جوان تھا لیکن ان پر ایسا تاثر طاری ہو گیا تھا جیسے یہ کھنڈر ہوں۔ایران کی اب کوئی رقاصہ نظر نہیں آتی تھی۔رقص و نغمہ کی محفلیں اب سوگوار تھیں۔یہ وہی محل تھا جہاں سے انسانوں کی موت کے پروانے جاری ہوا کرتے تھے۔یہاں کنواریوں کی عصمتیں لٹتی تھیں۔رعایا کی حسین بیٹیوں کو زبردستی نچایا جاتا تھا۔عرب کے جو مسلمان عراق میں آباد ہو گئے تھے انہیں فارس کے شہنشاہوں نے بھیڑ بکریاں بنا دیاتھا۔عراق فارس کی سلطنت میں شامل تھا۔مسلمانوں کو آتش پرستوں نے دجلہ اور فرات کے سنگم کے دلدلی علاقے میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ان کی فصل ان کے خون پسینے کی کمائی اور ان کے مال و اموال پر ان کا کوئی حق نہ تھا۔حد یہ کہ مسلمانوں کی بیٹیوں بہنوں اور بیویوں پر بھی ان کا حق نہیں رہا تھا۔کسریٰ کا کوئی حاکم کسی بھی مسلمان خاتون کو جب چاہتا زبردستی اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔
یہی وہ حالات ہوتے ہیں جو مثنیٰ بن حارثہ جیسے مجاہدین کو جنم دیا کرتے ہیں،مثنیٰ بن حارثہ کو پکڑ کر قتل کردینے کا حکم انہی محلات میں سے جاری ہوا تھااور اب ان محلات میں یہ خبر پہنچی تھی کہ مدینہ کے مسلمانوں کا لشکر فارس کی سرحد میں داخل ہو گیا ہے تو یہاں سے فرعونوں جیسی آواز اٹھی تھی کہ عرب کے ان بدوؤں کو یہ جرات کیسے ہوئی……تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ فرعونوں کے ان محلات میں موت کا سناٹا طاری تھا۔ان کا کوئی سالار مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکا تھا،نامی گرامی سالار مارے گئے تھے اور جو بچ گئے تھے وہ بھاگے بھاگے پھر رہے تھے۔’’مدائن کو بچاؤ۔‘‘اب کسریٰ کے محلات سے بار بار یہی آواز اٹھتی تھی۔
’’مدائن مسلمانوں کا قبرستان بنے گا۔‘‘یہ آواز ہارے ہوئے سالاروں کی تھی۔’’وہ مدائن پر حملے کی جرات نہیں کریں گے۔‘‘’’کیا تم اب بھی اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہو؟‘‘کسریٰ کا جانشین کہہ رہا تھا۔’’کیا وہ مدائن تک آنے کی جرات نہیں کریں گے جنہوں نے چند دنوں میں چار میدان اس طرح مار لیے ہیں کہ ہماری تجربہ کار فوج کو ختم کر ڈالا ہے؟ہماری فوج میں رہ کیا گیا ہے؟ڈرے ہوئے شکست خوردہ سالار اور اناڑی نوجوان سپاہی……کیا کوئی عیسائی زندہ رہ گیا ہے؟……مدائن کو بچاؤ۔‘‘خالدؓ کی منزل مدائن ہی تھی،مدائن فارس کی شہنشاہی کا دل تھا لیکن مدائن پر شب خون نہیں مارا جا سکتا تھا۔خالدؓجانتے تھے کہ مدائن کوبچانے کیلئے کسریٰ ساری جنگی طاقت داؤ پر لگا دیں گے اور خالدؓ یہ بھی جانتے تھے کہ غیر مسلموں خصوصاًعیسائیوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلے ہیں جو کسی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے۔خطرہ تھا کہ آتش پرست ان قبیلوں کو اپنے ساتھ ملا لیں گے اور مدائن کے اردگرد انسانوں کی بڑی مضبوط دیوار کھڑی ہو جائے گی۔اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ضروری تھا کہ ان قبیلوں کو اپنا وفادار بنا لیا جائے۔اس مقصد کیلئے خالدؓ نے اپنے ایلچی مختلف قبیلوں کے سرداروں سے ملنے کیلئے روانہ کر دیئے صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ یہ لوگ سوچتے کیا ہیں اور ان کا رجحان کیا ہے۔’’ان قبیلوں پر ہماری دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘ایک جاسوس نے خالدؓ کو تفصیلی اطلاع دی۔’’وہ اپنی عورتوں اور اموال کی وجہ سے پریشان ہیں۔انہیں کسریٰ پر بھروسہ نہیں رہا۔‘‘’’……اور وہ نوشیرواں عادل کے دور کو یاد کرتے ہیں۔‘‘ایک ایلچی نے آکر بتایا۔’’وہ مدائن کی خاطر لڑنے پر آمادہ نہیں۔انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ بنی تغلب ،نمر اور ایاد۔ جیسے بڑے اور جنگجو قبیلوں کا کیا انجام ہوا ہے۔‘‘’’وہ اطاعت قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘‘ایک اور ایلچی نے بتایا۔’’بشرطیکہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور محصولات کیلئے انہیں مفلس اور کنگال نہ کر دیاجائے۔‘‘’’خدا­کی قسم!وہ مانگیں گے ہم انہیں دیں گے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’کیا انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ ہم زمین پر قبضہ کرنے اور یہاں کے انسانوں کو غلام بنانے نہیں آئے؟……بلاؤ……ان سب کے سرداروں کو بلاؤ۔‘‘ایک دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے عراق کے طول و عرض میں جگہ جگہ حملے کرکے اور شب خون مار کر تمام قبیلوں کو اپنا مطیع بنا لیا تھا۔یہ صحیح نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو زیادہ تر مؤرخوں نے بیان کی ہے کہ خالدؓ نے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ان قبیلوں کو اپنا اتحادی بنا لیا تھا،ان کے اطاعت قبول کرنے میں خالدؓکی دہشت بھی شامل تھی۔یہ خبر صحرا کی آندھی کی طرح تما م تر قبیلوں کو پہنچ گئی تھی کہ مسلمانوں میں کوئی ایسی طاقت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ایرانیوں کے متعلق بھی انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ ہر میدان میں انہوں نے مسلمانوں سے شکست کھائی ہے اور عیسائیوں کو آگے کر کے خود بھاگ کر آتے رہے ہیں۔
ان کے علاوہ ایرا ن کے بادشاہوں اور ان کے حاکموں نے انہیں زرخرید غلام بنائے رکھا اور ان کے حقوق بھی غصب کیے تھے۔خالدؓ نے ان کے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان سے اطاعت بھی قبول کروا لی اور انہی میں سے عمال مقررکرکے محصولات وغیرہ کی فراہمی کا بندوبست کر دیا۔انہیں مذہبی فرائض کی ادائیگی میں پوری آزادی دی۔ان لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمان ان کی اتنی خوبصورت عورتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔خالدؓنے ان کے ساتھ معاہدے میں یہ بھی شامل کرلیا کہ مسلمان ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
’’ولید کے بیٹے!‘‘ایک قبیلے کے بوڑھے سردار نے خالدؓ سے کہا تھا۔’’نوشیرواں عادل کے دور میں ایسا ہی انصاف تھا۔یہ ہمیں بڑی لمبی مدت بعد نصیب ہوا ہے۔‘‘خالدؓنے دریائے فرات کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔آگے عراق )فارس کے زیرنگیں(کی سرحد ختم ہوتی اور رومیوں کی سلطنت شروع ہوتی تھی۔شام پر رومیوں کا قبضہ تھا۔خالدؓنے بڑے خطرے مول لیے تھے مگر یہ خطرہ جس میں وہ جا رہے تھے ،سب سے بڑا تھااور مسلمانوں کی فتوحات پر پانی پھیر سکتا تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یکے بعد دیگرے اتنی زیادہ فتوحات نے خالدؓ کا دماغ خراب کر دیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ حقائق کا جائزہ لے کر سوچتے تھے ۔ان کا کوئی قدم بلاسوچے نہیں اٹھتا تھا۔’’خدا کی قسم!ہم نے مدینہ کو زرتشت کے پجاریوں سے محفوظ کر لیا ہے۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اب ایسا خطرہ نہیں رہا کہ وہ ہماری خلافت کے مرکز پر حملہ کریں گے۔‘‘’’کیا یہ اﷲکا کرم نہیں کہ فارسیوں کو اب اپنے مرکز کا غم لگ گیا ہے؟‘‘سالار قعقاع نے کہا۔’’وہ اب عرب کی طرف دیکھنے سے بھی ڈریں گے۔‘‘’’لیکن سانپ ابھی مرا نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر ہم یہیں سے واپس چلے گئے تو کسریٰ کی فوج پھر اٹھے گی اور یہ علاقے واپس لینے کی کوشش کرے گی جو ہم نے فارسیوں سے چھین لیے ہیں،ہمیں ان کے راستے بند کرنے ہیں……اور میرے بھائیو!کیا تم میں سے کسی نے ابھی سوچا نہیں کہ آتش پرستوں کے پہلو میں رومی ہیں،اگر رومیوں میں کچھ عقل ہے تو وہ اس صورتِ حال سے جو ہم نے عراق میں پیدا کر دی ہے،فائدہ اٹھائیں گے۔وہ آگے بڑھیں گے اور اگر وہ کامیاب ہو گئے تو عرب کیلئے وہی خطرہ پیدا ہو جائے گا جو اس سے پہلے ہمیں زرتشت کے پجاریوں سے تھا۔‘‘خالدؓنے زمین پر انگلی سے لکیریں کھینچ کر اپنے سالاروں کو بتایا کہ وہ کون سا راستہ ہے جس سے رومی آسکتے ہیں،اور وہ کون سا مقام ہے جہاں قبضہ کرکے ہم اس راستے کو بندکر سکتے ہیں۔
وہ مقام فراض تھا۔یہ شہر فرات کے مغربی کنارے پر واقع تھا۔وہاں پر رومیوں اور فارسیوں کی یعنی شام اور عراق کی سرحدیں ملتی تھیں۔عراق کے زیادہ تر علاقے پر اب مسلمان قابض ہو گئے تھے۔یہی علاقے خطرے میں تھے۔فراض سے خشکی کے راستے کے علاوہ رومی یا فارسی دریائی راستہ بھی اختیار کر سکتے تھے۔مشہور یورپی مؤرخ لین پول اور ہنری سمتھ جو جنگی امور پر زیادہ نظر رکھتا تھا ،لکھتے ہیں کہ خالدؓ نہ صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو غیر متوقع چالیں چل کر شکست دینے کی اہلیت رکھتے تھے بلکہ جنگی تدبر بھی ان میں موجود تھا اور ان کی نگاہ دور دور تک دیکھ سکتی تھی۔وہ آنے والے وقت کے خطروں کو پہلے ہی بھانپ لیا کرتے تھے۔خالدؓ جب فراض کی طرف کوچ کر رہے تھے اس وقت ایک خطرے سے وہ آگاہ نہیں تھے،وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ دشمن فوجوں کے درمیان آجائیں گے۔رومیوں کے دربار میں ایسی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جن میں ضروری پن تھا، اور صاف پتا چلتا تھا کہ کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔تخت شاہی کے سامنے رومی فوج کے بڑے بڑے جرنیل بیٹھے تھے۔’’خبر ملی ہے کہ مسلمان فراض تک پہنچ گئے ہیں۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔‘‘’’وہ کسی اچھے ارادے سے تو نہیں آئے……کیا آپ کو فارسیوں کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی؟‘‘’’ان کے پاس مدائن کے سوا کچھ نہیں رہا۔‘‘’’پھر ہمیں انتظار نہیں کرنا چاہیے۔پیشتر اس کے کہ مسلمان ہمارے ملک میں داخل ہو جائیں ہمیں ان پر حملہ کر دینا چاہیے۔‘‘’’کیا تم سے بڑھ کر کوئی احمق ہماری فوج میں کوئی اور ہو گا؟کیا تم نے سنا نہیں کہ فارس کی فوج کو اور ان کے ساتھی ہزار ہا عیسائیوں کو ان مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ ہر جگہ شکست دی ہے بلکہ ان کے نامور جرنیلوں کواورہزاروں سپاہیوں کو مار ڈالا ہے؟‘‘’’آپ نے ٹھیک کہا ہے۔یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مدینہ والوں کے لڑنے کا طریقہ کیا ہے۔‘‘’’ بہت ضروری ہے دیکھنا۔جو اتنی تھوڑی تعداد میں اتنی زیادہ تعداد کو شکست دے کر ختم کر چکے ہیں، ان کا کوئی خاص طریقہ جنگ ہو گا، ہم بھی فارس کی فوج کے خلاف لڑ چکے ہیں، یہ صحیح ہے کہ ہم نے فارسیوں کو شکست دی تھی لیکن ہماری فوج کی نفری ان سے زیادہ تھی۔‘‘’’اب میرا فیصلہ سن لو۔ہم فارسیوں کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔‘‘’’فارسیوں کو ساتھ ملا کر؟کیا ہیمں یہ بھول جانا چاہیے کہ فارسیوں کے ساتھ ہماری دشمنی ہے؟ہماری آپس میں جنگیں ہو چکی ہیں۔‘‘’’ہاں!ہمیں بھول جانا چاہیے۔مسلمان ان کے اور ہمارے مشترکہ دشمن ہیں۔ایسے دشمن کو شکست دینے کیلئے اپنے دشمن کو دوست بنالینا دانشمندی ہوتی ہے۔ہم فارسیوں کی طرح شکست نہیں کھانا چاہتے۔اگر فارسی ہمارے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیتے ہیں تو ان کے ساتھ عیسائی قبیلے بھی آجائیں گے۔‘‘
اس فیصلے کے مطابق رومیوں کا ایلچی دوستی کا پیغام لے کر مدائن گیا تو آتش پرستوں نے بازو پھیلا کر ایلچی کا استقبال کیا۔تحائف کا تبادلہ ہوا اور ایلچی کے ساتھ معاہدے کی شرطیں طے ہو گئیں۔فارس والوں کو اپنا تخت الٹتا نظر آرہا تھا۔رومیوں کے اس پیغام کو انہوں نے غیبی مدد سمجھا۔مدائن کے دربار سے ان تمام عیسائی قبیلوں کے سرداروں کو بلاوابھیجا گیا۔یہ وہی تین قبیلے بنی تغلب، نمر اور ایاد تھے جو مسلمانوں سے بہت بری شکست کھا چکے تھے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ انہیں جوں ہی اطلاع ملی تو وہ فوراًمدائن پہنچے۔وہ اپنے ہزار ہا مقتولین کا انتقام لینا چاہتے تھے اور وہ اسلام کے پھیلاؤ کو بھی روکنا چاہتے تھے۔ان قبیلوں میں جو لڑنے والے تھے وہ مسلمانون کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے ۔جواں سال آدمی بہت کم رہ گئے تھے۔اب اکثریت ادھیڑ عمرلوگوں کی تھی۔خالدؓ کا فراض کی طرف کوچ ان کی خود سری کا مظاہرہ تھا۔امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیقؓ نے انہیں صرف فارس والوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔امیر المومنینؓ کو یہ بھی توقع نہیں تھی کہ اپنی اتنی کم فوج فارس جیسی طاقتور فوج کو شکست دے گی لیکن امیرالمومنینؓ ایسا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ اتنی لڑائیاں لڑکر رومیوں سے بھی ٹکر لی جائے،رومیوں کی فوج فارسیوں کی فوج سے بہتر تھی۔یہ خالدؓ کا اپنا فیصلہ تھا، کہ فراض کے مقام پر جا کر رومیوں اور فارسیوں کی ناکہ بندی کردی جائے۔ خالدؓ چَین سے بیٹھنے والے سالار نہیں تھے۔اس کے علاوہ وہ رسول کریمﷺ کے جنگی اصولوں کے شائق تھے۔مثلاًیہ کہ دشمن کے سر پر سوار رہو۔اگر دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے تو اس کے حملے کا انتظار نہ کرو۔آگے بڑھو اور حملہ کردو۔خالدؓنے اپنے آپ پر جہادکا جنون طاری کر رکھا تھا۔جب خالدؓ کے جاسوسوں نے انہیں اطلاعیں دینی شروع کیں تو خالدؓکے چہرے پر سنجیدگی طاری ہو گئی ۔انہیں پتا چلا کہ وہ دو فوجوں کے درمیان آگئے ہیں۔ ایک طرف رومی اور دوسری طرف فارسی اور ان کے ساتھ عیسائی قبیلوں کے لوگ بھی تھے۔خالدؓ کے ساتھ نفری پہلے سے کم ہو گئی تھی کیونکہ جو علاقے انہوں نے فتح کیے تھے وہیں اپنی کچھ نفری کا ہونا لازمی تھا۔بغاوت کا بھی خطرہ تھااور آتش پرست فارسیوں کے جوابی حملے کابھی۔خالدؓ فراض میں رمضان۱۲ھ)دسمبر ۶۳۳ء کے پہلے( ہفتے میں پہنچے تھے۔مجاہدین روزے سے تھے۔مسلمانوں کی فوج دریائے فرات کے ایک کنارے پر خیمہ زن تھی۔دوسرے کنارے پر بالکل سامنے رومی، ایرانی او رعیسائی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔دونوں طرف کے سنتری فرات کے کناروں پر ہر وقت پہرے پر کھڑے رہتے اور گشتی سنتری گھوڑوں پر سوار دریا کے کناروں پر پھرتے رہتے تھے۔خود خالدؓ دریا کے کنارے دور تک چلے جاتے اور دشمن کو دیکھتے تھے۔ایک شام رومیوں اور ایرانیوں کی خیمہ گاہ میں ہڑبونگ مچ گئی، اور وہ لڑائی کیلئے تیار ہو گئے۔وجہ یہ ہوئی کہ مسلمانوں کے کیمپ سے ایک شور اٹھا تھااور دف اور نقارے بجنے لگے تھے۔تمام فوج اچھل کود کررہی تھی،دشمن اسے حملے سے پہلے کا شور سمجھا۔اس کے سالار وغیرہ فرات کے کنارے پر آکر دیکھنے لگے۔
’’ان کے گھوڑے زینوں کے بغیر بندھے ہوئے ہیں۔‘‘دشمن کے کسی آدمی نے چلا کر کہا۔’’وہ تیاری کی حالت میں نہیں ہیں۔‘‘کسی اور نے کہا۔’’وہ دیکھو!‘‘ایک اور نے کہا۔’’آسمان کی طرف دیکھو۔مسلمانوں نے عیدکا چاند دیکھ لیا ہے ۔آج رات اور کل سارا دن یہ لوگ خوشیاں منائیں گے۔‘‘اگلے روز مسلمانوں نے ہنگامہ خیز طریقے سے عیدالفطر کی خوشیاں منائیں۔اسی خوشی میں فتوحات کی مسرتیں بھی شامل تھیں۔مسلمان جب عید کی نمازکیلئے کھڑے ہوئے تو دریا کے کنارے اور کیمپ کے اردگرد سنتریوں میں اضافہ کردیا گیا تاکہ دشمن نماز کی حالت میں حملہ نہ کر سکے۔’’مجاہدینِ اسلام!‘‘خالدؓ نے نماز کے بعد مجاہدین سے مختصرسا خطاب کیا۔’’نماز کے بعد ایسے انداز سے اس تقریب ِ سعید کی خوشیاں مناؤ کہ دشمن یہ تاثر لے کہ مسلمانوں کو کسی قسم کا اندیشہ نہیں اور انہیں اپنی فتح کا پورا یقین ہے۔دریاکے کنارے جاکر ناچوکودو،تم نے جس طرح دشمن پر اپنی تلوار کی دھاک بٹھائی ہے، اس طرح اس پر اپنی خوشیوں کی دہشت بٹھا دو۔لیکن میرے رفیقو! اس حقیقت کو نہ بھولنا کہ تم اﷲکی طرف سے آئی ہوئی ایک سے ایک کٹھن آزمائش میں پورے اترے ہو ،مگر اب تمہارے سامنے سب سے زیادہ کٹھن اور خطرناک آزمائش آگئی ہے۔تمہارا سامنا اس وقت کی دو طاقتور فوجوں سے ہے جنہیں عیسائیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔میں جانتا ہوں تم جسمانی طور سے لڑنے کے قابل نہیں رہے۔ لیکن اﷲنے تمہیں روح کی جو قوتیں بخشی ہیں انہیں کمزور نہ ہونے دینا، کیونکہ تم ان قوتوں کے بل پر دشمن پر غالب آتے چلے جا رہے ہو۔میں بتا نہیں سکتا کہ کل کیا ہوگا۔ ہر خطرے کیلئے تیار رہو۔اﷲتمہارے ساتھ ہے۔
خالدؓکے خاموش ہوتے ہی مجاہدین کے نعروں نے ارض و سما کو ہلا ڈالا۔پھر سب دوڑتے کودتے دریا کے کنارے جا پہنچے۔انہوںنے دریا کے کنارے گھوڑے بھی دوڑائے اور ہر طرح عید کی خوشی منائی۔خالدؓ کے سالاروں کو توقع تھی کہ خالدؓ بن ولید یہاں بھی شب خون کی سوچ رہے ہوں گے۔خالدؓ نے اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی سالاروں کو نہیں بتایا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایک مہینہ گزر چکا تھا۔فوجیں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔آخر خالدؓ نے اپنے سالاروں کو مشورے تجاویز اور احکام کیلئے بلایا۔’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’شاید تم یہ سوچ رہے ہو گے کہ یہاں بھی شب خون مارا جائے گالیکن تم دیکھ رہے ہو کہ یہاں صورتِ حال شب خون والی نہیں۔دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ہم ہمیشہ قلیل تعداد میں لڑے ہیں لیکن یہاں ہمارے درمیان دریا حائل ہے۔دشمن اس دریا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ تم نے دیکھ لیا ہے کہ دشمن اتنی زیادہ تعداد کے باوجود ہم پر حملہ نہیں کر رہا ۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ اس کی احتیاط کو ہم اور طول دیں اور حملے میں پہل نہ کریں۔میں چاہتا ہوں کہ حملے میں پہل وہ کرے۔اگر تم کوئی مشورہ دینا چاہو تو میں اس پر غور اور عمل کروں گا۔‘‘
تقریباً تمام سالاروں نے متفقہ طور پر کہا کہ ہم پہل نہ کریں اور کوئی ایسی صورت پیدا کریں کہ دشمن دریا عبور کرآئے۔کچھ دیر سالاروں نے بحث و مباحثہ کیا اور ایک تجویز پر متفق ہو گئے،اور اسی روز اس پر عمل شروع کر دیا گیا۔اس کے مطابق کوئی ایک دستہ تیار ہو کر دریا کے ساتھ کسی طرف چل پڑتا۔دشمن یہ سمجھتا کہ مسلمان کوئی نقل و حرکت کر رہے ہیں چنانچہ اسے بھی اس کے مطابق کوئی نقل و حرکت یا پیش بندی کرنی پڑتی۔یہ سلسلہ پندرہ سولہ دن چلتا رہا۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رومی مسلمانوں کی ان حرکات سے تنگ آگئے۔وہ پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف کسی میدان میں نہیں لڑے تھے،ان کے سالاروں کے ذہنوں پر یہ بات آسیب کی طرح سوار ہو گئی تھی کہ جس قلیل فوج نے فارسیوں جیسی طاقت ور فوج کو ہلنے کے قابل نہیں چھوڑا، وہ فوج کوئی خاص داؤ چلتی ہے جسے ان کے سوا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔پہلے کہا جا چکا ہے کہ خالدؓ دشمن پر نفسیاتی وار کرنے کی مہارت رکھتے تھے۔اس صورتِ حال میں بھی انہوں نے رومیوں کو تذبذب میں مبتلا کرکے ان کے ذہنوں پر ایسا نفسیاتی اثر ڈالا کہ وہ نہ کچھ سمجھنے کے اور نہ کوئی فیصلہ کرنے کے قابل رہے۔۲۱ جنوری ۶۳۴ء )۱۵ ذیقعد ۱۲ھ(کے روز دشمن اس قدر تنگ آگیا کہ کے ایک سالار نے دریا کے کنارے کھڑے ہوکر بڑی بلند آواز سے مسلمانوں سے کہا ۔’’ کیا تم دریا پار کرکے ادھر آؤ گے یا ہم دریا پار کرکے اُدھر آجائیں؟لڑنا ہے تو سامنے آؤ۔‘‘’’ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔‘‘خالدؓ بن ولید نے اعلان کروایا۔’’ہم سے ڈرتے کیوں ہو؟تمہاری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تمہیں ہم سے پوچھے بغیر ادھر آجانا چاہیے۔‘‘’’پھر سنبھل جاؤ۔‘‘دشمن کی طرف سے للکار سنائی دی۔’’ہم آرہے ہیں۔‘‘دشمن نے دریا عبور کرنا شروع کر دیا۔خالدؓ نے اپنے مجاہدین کو دریا کے کنارے سے ہٹا کر کچھ دور لڑائی کی ترتیب میں کرلیا۔حسبِ معمول ان کی فوج تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی،اور خالدؓ خود درمیانی حصے کے ساتھ تھے۔جنگی مبصروں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے دشمن کیلئے اتنی زیادہ جگہ خالی کردی کہ دشمن اور اس کے پیچھے دریا، ان دونوں کے درمیان اتنی جگہ خالی رہے کہ اس کے عقب میں جانا پڑے تو جگہ مل جائے ورنہ دریا ان کے عقب کی حفاظت کرتا۔جب دشمن میدان میں آگیا تو رومی جرنیلوں نے فارسیوں اور عیسائیوں کے لشکر کو ان کے قبیلوں کے مطابق تقسیم کر دیا۔انہوں نے ایرانی سالاروں سے کہا کہ اس تقسیم سے یہ پتہ چل جائے گا کہ کون کس طرح لڑا ہے؟ بھاگنے والوں کے قبیلے کا بھی علم ہو جائے گا۔‘‘یہ تقسیم اس طرح ہوئی کہ رومی الگ ہو گئے، مدائن کی فوج ان سے کچھ دور الگ ہو گئی، اور عیسائیوں کے قبیلے مدائن کی فوج سے الگ اور ہر قبیلہ ایک دوسرے سے الگ الگ ہو گیا۔رومی جرنیلوں نے )مؤرخوں کے مطابق(یہ تقسیم اس لیے بھی کی تھی کہ مسلمانوں کو بھی اس تقسیم کے مطابق اپنی تقسیم کرنی پڑے گی جس کے نتیجے میں وہ بکھر جائیں گے اور انہیں آسانی سے شکست دی جا سکے گی۔
’’میرے رفیقو!‘‘خالدؓ نے دشمن کو اس طرح تقسیم ہوتے دیکھ کر اپنے سالاروں کو بلایا اور ان سے کہا۔’’خدا کی قسم !دشمن خود احمق ہے یا ہیمں احمق سمجھتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ دشمن نے اپنی جمیعت کو کس طرح بکھیر دیا ہے؟‘‘’’دشمن نے ہمارے لیے مشکل پیدا کر دی ہے ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’اس کے مطابق ہمیں بھی بکھرنا پڑے گا۔پھر ایک ایک کا مقابلہ دس دس کے ساتھ ہو گا۔‘‘’’دماغوں کو روشنی دینے والا اﷲہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’ہم آمنے سامنے کی لڑائی نہیں لڑیں گے۔سوار دستوں کے سالار سن لیں ۔فوراًسوار دو حصوں میں تقسیم ہو کر دشمن کے دائیں اور بائیں چلے جائیں۔پیادے بھی ان کے ساتھ رہیں اور دائیں اور بائیں پہنچ کر عقب میں جانے کی کوشش کریں۔میں اپنے دستوں کے ساتھ دشمن کے سامنے رہوں گا،دشمن پر ہر طرف سے شدید حملہ کردو۔دشمن ابھی لڑائی کیلئے تیار نہیں ہوا۔چاروں طرف سے دشمن پر ایسا حملہ کردو کہ اس کی تقسیم درہم برہم ہوجائے۔اﷲکا نام لو اور نکل جاؤ۔‘‘رومی ایرانی اور عیسائی تقسیم تو ہو گئے تھے لیکن ابھی لڑائی کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے۔خالدؓکے اشارے پر مسلمانوں نے ہر طرف سے حملہ کر دیا۔دشن پر جب حملے کے ساتھ ہر طرف سے تیر برسنے لگے تو اس کے بٹے ہوئے حصے اندر کی طرف ہونے لگے اور ہوتے ہوتے وہ ہجوم کی صورت میں یکجا ہوگئے۔مسلمان سواروں نے تھوڑی سی تعداد میں ہوتے ہوئے اتنے کثیر دشمن کو گھیرے میں لے لیا۔دشمن کی حالت ایک گھنے ہجوم کی سی ہو گئی جس سے گھوڑوں کے گھومنے پھرنے کیلئے جگہ نہیں رہی۔ایرانی اور عیسائی پہلے ہی مسلمانوں سے ڈرے ہوئے تھے،وہ چھپنے یا پیچھے ہٹنے کے انداز سے رومی دستوں کے اندر چلے گئے اور انہیں حرکت کے قابل نہ چھوڑا۔مسلمان سواروں نے دوڑتے گھوڑوں سے دشمن کے اس ہجوم پر تیر برسائے جیسے دشمن کی اتنی بڑی تعداد اور زیادہ سمٹ گئی۔اس کیفیت میں پیادہ مجاہدین نے ہلّہ بول دیا۔عقب سے حملہ ایک سوار دستے نے کیا۔خالد ؓنے اپنے تمام سوار دستوں کو ایک ہی بار حملے میں نہ جھونک دیا۔دستے باری باری حملے کرتے تھے۔خالدؓنے ایسی چال چلی تھی کہ لڑائی کی صورت لڑائی کی نہ رہی بلکہ یہ رومیوں آتش پرستوں اور عیسائیوں کا قتلِِ عام تھا۔رومیوں نے دفاعی لڑائی لڑنے کی کوشش کی لیکن میدانِ اس کے زخمیوں اور اس کی لاشوں سے بھر گیا۔سپاہیوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ میدان سے بھاگنے لگے۔’’پیچھے جاؤ۔‘‘ خالدؓ نے حکم دیا۔’’ان کے پیچھے جاؤ۔ کوئی زندہ بچ کر نہ جائے۔‘‘
مجاہدین نے تعاقب کرکے بھاگنے والوں کو تیروں اور برچھیوں سے ختم کیا اور معرکہ ختم ہو گیا۔تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس معرکے میں ایک لاکھ رومی، ایرانی اور عیسائی مارے گئے تھے۔ایک بہت بڑی اتحادی فوج ختم ہو گئی، مسلمانوں کی تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔خالدؓدس روز وہیں رہے، انہوں نے بڑی تیزی سے وہاں کا انتظامی ڈھانچہ مکمل کیا۔ایک دستہ وہاں چھوڑا، اور ۳۱ جنوری ۶۳۴ء )۲۵ ذیقعد ۱۲ھ(کے روز لشکر کو حیرہ کی طرف کوچ کا حکم دیا۔’’کیا تم دیکھ نہیں رہے، ابنِ ولید چپ سا ہو گیا ہے؟‘‘ایک سالار اپنے ساتھی سالار سے کہہ رہا تھا۔’’خدا کی قسم!میں نہیں مانوں گا کہ ابنِ ولید تھک گیا ہے یا مسلسل معرکوں سے اُکتا گیا ہے۔‘‘’’اور میں یہ بھی نہیں مانوں گا کہ ابنِ ولید ڈر گیا ہے کہ وہ اپنے مستقر سے اتنی دور دشمن ملک کے اندر آگیا ہے۔‘‘دوسرے سالار نے کہا۔’’لیکن میں اسے کسی سوچ میں ڈوبا ہوا ضرور دیکھ رہا ہوں۔‘‘’’ہاں وہ کچھ اور سوچ رہا ہے۔‘‘’’پوچھ نہ لیں؟‘‘’’ہم نہیں پوچھیں گے تو اور کون پوچھنے آئے گا؟‘‘خالدؓ سوچ میں ڈوب ہی جایا کرتے تھے۔یہ ایک معرکے کی فراغت کے بعد اگلے معرکے کی سوچ ہوتی تھی۔وہ سوچ سمجھ کر اور تمام تر دماغی قوتوں کو بروئے کار لا کر لڑاکرتے تھے۔دشمن کے پاس بے پناہ جنگی قوت تھی۔وہ گہری سوچ کے بغیر اپنی فوج کی برتری اور افراط کے بل بوتے پر بھی لڑ سکتا تھا۔ مسلمان ایساخطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ان کی تعداد کسی بھی معرکے میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ان کی تعداد پندرہ اور اٹھارہ ہزارکے درمیان رہتی تھی۔ایک ایک مجاہد کا مقابلہ تین سے چھ کفار سے ہوتا تھا۔لہٰذا انہیں عقل اور ہوشمندی کی جنگ لڑنی پڑتی تھی۔
ایسی عقل اورہوشمندی میں خالدؓ کا کوئی ثانی نہ تھاانہی اوصاف کی بدولت رسولِ اکرمﷺ نے انہیں اﷲکی تلوار کہا تھا۔جذبہ تو خالدؓ میں تھا ہی لیکن انہیں دماغ زیادہ لڑانا پڑتا تھا۔ہر معرکے سے پہلے خالدؓ جاسوسوں سے دشمن کی کیفیت اور اس کی زمین اور نفری وغیرہ کی تفصیلات معلوم کرکے گہری سوچ میں ڈوب جاتے پھر اپنے سالاروں سے صلاح و مشورہ کرتے تھے لیکن فراض کی جنگ کے بعد ان پر ایسی خاموشی طاری ہو گئی تھی جوکچھ اور ہی قسم کی تھی۔ان کی اس خاموشی کو دیکھ کر ان کے سالار کچھ پریشان سے ہو رہے تھے، یہ فراض سے حیرہ کی طرف کوچ )۲۵ذیقعد ۱۲ ھ(سے دو روز پہلے کا واقعہ ہے۔تین چار سالار خالدؓکے خیمے میں جا بیٹھے۔’’ابنِ ولید!‘‘سالار قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’خدا کی قسم!جس سوچ میں تو ڈوبا ہوا ہے اس کا تعلق کسی لڑائی کے ساتھ نہیں ہے۔ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں، تجھے اکیلا پریشان نہیں ہونے دیں گے۔‘‘خالدؓ نے سب کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔
’’ابنِ عمرو ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ خالدؓنے کہا۔’’میں جس سوچ میں پڑا رہتا ہوں اس کا تعلق کسی لڑائی کے ساتھ نہیں۔‘‘’’کچھ ہمیں بھی بتا ابنِ ولید!‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو پسند نہیں کرے گا کہ ہم سب تجھے دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتے رہیں۔‘‘’’نہیں پسند کروں گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تم میں سے کوئی بھی پریشان ہو گا تو یہ مجھے ناپسند ہو گا۔میں کسی لڑائی کیلئے کبھی پریشان نہیں ہوا۔تین تین دشمنوں کی فوجیں مل کر ہمارے خلاف آئیں ، میں پریشان نہیں ہوا۔میں نے خلیفۃ المسلمین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رومیوں کو جا للکارا۔ میں نے ایک خطرہ مول لیا تھا۔میں پریشان نہیں ہوا۔ مجھے ہر میدان میں اور ہر مشکل میں اﷲنے روشنی دکھائی ہے اور تمہیں اﷲنے ہمت دی ہے کہ تم اتنے جری دشمن پر غالب آئے……‘‘’’اب میری پریشانی یہ ہے کہ میں فریضہ حج ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ میں کہاں ہوں اور میری ذمہ داریاں کیا ہیں۔کیا میں اس فرض کو چھوڑ کر حج کا فرض ادا کر سکتا ہوں؟……نہیں کر سکتا میرے رفیقو! لیکن میرا دل میرے قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ خدا کی قسم!یہ میری روح کی آواز ہے کہ ولید کے بیٹے، کیا تجھے یقین ہے کہ تو اگلے حج تک زندہ رہے گا؟……مجھے یقین نہیں میرے رفیقو!ہم نے جن دو دشمنوں کو شکستیں دی ہیں ، ان کی جنگی طاقت تم نے دیکھ لی ہے اور تم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ تمام قبیلے فوراً ان سے جا ملتے ہیں۔میں محسوس کر رہا ہوں کہ میری زندگی چند روزہ رہ گئی ہے……اور میرے رفیقو! میں کچھ بھی نہیں۔تم کچھ بھی نہین۔صرف اﷲہے جو ہمارے سینوں میں ہے۔ وہی سب کچھ ہے۔ پھر میں کیوں نہ اس کے حضور اس کے عظیم گھر میں جا کر سجدہ کروں۔ کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں اپنی طرف سے تم سب کی طرف سے اور ہر ایک مجاہد کی طرف سے خانہ کعبہ جاکر اﷲکے حضور شکر ادا کروں؟‘‘’’بے شک، بے شک۔ ‘‘ایک سالار نے کہا۔’’کون رَد کر سکتا ہے اس جذبے کو اور اس خواہش کو جو تو نے بیان کی ہے!‘‘’’لیکن تو حج پر جائے گا کیسے ابنِ ولید؟‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے پوچھا۔’’ پیچھے کچھ ہو گیا تو؟‘‘’’میں کسی لڑائی میں مارا جاؤں گا تو خدا کی قسم تم یہ نہیں سوچو گے کہ اب کیا ہوگا؟‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’کیا میرے نہ ہونے سے تمہارے حوصلے ٹوٹ جائیں گے؟ ……نہیں……نہیں……ایسا نہیں ہو گا۔‘‘’’رب کعبہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ قعقاع بن عمرو نے کہا۔’’ہم میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو گا تو وہ اسلام کے پرچم کو گرنے نہیں دے گا……یوں کر ابنِ ولید!آج ہی قاصد کو روانہ کر دے کہ وہ امیرالمومنین سے اجازت لے آے کہ تو حج پر جا سکتا ہے۔‘‘
’’جس سوچ نے مجھے پریشان کر رکھا ہے یہی وہ سوچ ہے۔‘‘ خالدؓنےمسکرا کر کہا۔’’ میں جانتا ہوں امیر المومنین اجازت نہیں دیں گے۔انہیں یہاں کے حالات کا علم ہے۔ اگر وہ اجازت دے بھی دیں تو یہ خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ دشمن کو پتا چل جائے گا کہ ابنِ ولید چلا گیا ہے۔ میں اپنے لشکر کو بھی نہیں بتانا چاہتا کہ میں ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں بہت کم وقت میں جا کر واپس آنا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’خدا کی قسم ولید کے بیٹے!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’تو نہیں جانتا کہ تو جو کہہ رہا ہے یہ نا ممکن ہے۔‘‘ ’’اﷲناممکن کو ممکن بنا دیا کرتا ہے۔‘‘ خالدؓنے کہا۔ ’’انسان کو ہمت کرنی چاہیے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔ اور کس راستے سے جاؤں گا۔‘‘خالدؓنے انہیں پہلے یہ بتایا کہ وہ کیا کریں پھر وہ راستہ بتایا جس راستے سے انہیں حج کیلئے مکہ جانا اور آناتھا۔حج میں صرف چودہ دن باقی تھے۔ اور فراض سے مکہ تک کی مسافت تیز چلنے سے اڑھائی مہینے سے کچھ زیادہ تھی۔خالدؓ کو کوئی چھوٹا راستہ دیکھنا تھا لیکن کوئی چھوٹا راستہ نہیں تھا۔خالدؓتاجر خاندان کے فرد تھے، قبولِ اسلام سے پہلے خالدؓ نے تجارت کے سلسلے میں بڑے لمبے اور کٹھن سفر کئے تھے۔ وہ ایسے راستوں سے بھی واقف تھے جو عام راستے نہیں تھے۔ بلکہ وہ راستے کہلاتے ہی نہیں تھے۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو ایک ایسا ہی راستہ بتایا۔’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’تیرا دماغ خراب نہیں ہوا، پھر بھی تو نے ایسی بات کہہ دی ہے جو ٹھیک دماغ والے نہیں کہہ سکتے۔ تو جو راستہ بتا رہاہے وہ کوئی راستہ نہیں، وہ ایک علاقہ ہے اور اس علاقے سے صحرا کی ہوائیں بھی ڈر ڈر کر گزرتی ہیں، کیا تو مرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں جانتا!کیا میں اس علاقے سے واقف نہیں؟‘‘’’جس اﷲنے ہمیں اتنے زبردست دشنموں پر غالب کیا ہے وہ مجھے اس علاقے سے بھی گزاردے گا۔‘‘ خالدؓ نے ایسی مسکراہٹ سے کہا جس میں عزم اور خود اعتمادی تھی۔ ’’میں یقین سے کہتا ہوں کہ تم مجھے جانے سے نہیں روکو گے اور میرے اس راز کواس خیمے سے باہر نہیں جانے دو گے۔ میں راز امیر المومنین سے بھی چھپا کر رکھوں گا۔‘‘’’اگر امیر المومنین بھی حج پر آگئے تو کیا کرے گا تو؟‘‘ایک سالار نے پوچھا۔’’میں ان سے اپنا چہرہ چھپا لوں گا۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’تم سب میرے لیے دعا تو ضرور کرو گے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس طرح تم سے آملوں گا کہ تم کہو گے کہ یہ شخص راستے سے واپس آگیا ہے۔‘‘
زیادہ تر مؤرخین ، خصوصاً طبری نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ خالدؓ نے ۱۲ ہجری کا حج کس طرح کیا ۔ان حالات میں کہ ان کی ٹکر فارس کی شہنشاہی سے تھی اور انہوں نے روم کی شہنشاہی کے اندر جاکر حملہ کیا تھا ، یہ خطرہ ہر لمحہ موجود تھا کہ یہ دونوں بادشاہیاں مل کر حملہ کریں گی۔ اس خطرے کے پیشِ نظر خالدؓوہاں سے غیر حاضر نہیں ہو سکتے تھے، لیکن حج کا عزم اتناپکا اور خواہش اتنی شدید تھی کہ اسے وہ دبا نہ سکے۔پہلے سنایا جاچکا ہے کہ لشکرفراض سے حیرہ کو کوچ کر رہا تھا۔خالدؓنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک حصہ ہراول تھا۔دوسرا اس کے پیچھے اور تیسرا حصہ عقب میں تھا۔خالدؓ نے خاص طور پر اعلان کرایا کہ وہ عقب کے ساتھ ہوں گے۔لشکر کو حیرہ تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔تیز کوچ اس صورت میں کیا جاتا تھا جب کہیں حملہ کرنا ہوتا یا جب اطلاع ملتی تھی کہ فلاں جگہ دشمن حملے کی تیاری کر رہاہے۔ اب ایسی صورت نہیں تھی۔لشکر کے کوچ کی رفتار تیز نہ کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ کوچ میدانِ جنگ کی طرف نہیں بلکہ اپنے مفتوحہ شہر کی طرف ہو رہا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ مجاہدین متواتر لڑائیاں لڑتے اور پیش قدمی کرتے رہے تھے۔ان کے جسم شل ہو چکے تھے ۔خالدؓ نے کوچ معمولی رفتارسے کرنے کا حکم ایک اور وجہ سے بھی دیا تھا۔ اس وجہ کا تین سالاروں اور خالدؓ کے چند ایک ساتھیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا۔وہ وجہ یہ تھی کہ خالدؓ کو کوچ کے دوران لشکر کے عقبی حصے سے کھسک جاناتھا،اور اک گمنام راستے سے مکہ کو روانہ ہونا تھا۔لشکر ۳۱ جنوری ۶۳۴ء کے روز چل پڑا۔ تاریخ میں اس مقام کا پتا نہیں ملتا جہاں لشکر نے پہلا پڑاؤ کیا تھا۔رات کو جب لشکر گہری نیند سو گیا تو خالدؓاپنے چند ایک ساتھیوں کے ساتھ خیمہ گاہ سے نکلے اور غائب ہو گئے۔ کسی بھی مؤرخ نے ان کے ساتھیوں کے نام نہیں لکھے جو ان کے ساتھ حج کرنے گئے تھے۔خالدؓ اور ان کے ساتھی اونٹوں پر سوار تھے ، جس علاقے میں سے انہیں گزرنا تھا۔ وہاں سے صرف اونٹ گزر سکتا تھا۔گھوڑا بھی جواب دے جاتا تھا۔صحراؤں میں بعض علاقے بے حد دشوار گزار ہوتے تھے۔مسافر ادھرسے گزرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔صحرائی قزاق اور بڑے پیمانے پر رہزنی کرنے والے انہی علاقوں میں رہتے تھے اور لوٹ مار کا مال وہیں رکھتے تھے۔ان میں کچھ علاقے ایسے خوفناک تھے کہ قزاق اور رہزن بھی ان میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرتے تھے۔اس دور میں صحرا کے جس علاقے کو دشوار گزار اور خطرناک کہنا ہوتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ وہاں تو ڈاکو اور رہزن بھی نہیں جاتے۔خالدؓ نے مکہ تک جلدی پہنچنے کا جو راستہ اختیار کیا تھا وہ ایسا ہی تھا جہاں ڈاکو اور رہزن بھی نہیں جاتے تھے۔اتنے خطرناک اور وسیع علاقے سے زندہ گزر جانا ہی ایک کارنامہ تھا لیکن خالدؓ دنوں کی مسافت منٹوں میں طے کرنے کی کوشش میں تھے ۔انہیں صرف یہ سہولت حاصل تھی کہ موسم سردیوں کا تھا لیکن سینکڑوں میلوں تک پانی کا نام و نشان نہ تھا۔
اس علاقے میں ایک اور خطرہ ریت اور مٹی کے ان ٹیلوں کا تھا جن کی شکلیں عجیب و غریب تھیں۔یہ کئی کئی میل وسیع نشیب میں کھڑے تھے۔بعض چٹانوں کی طرح چوڑے تھے ۔بعض گول اور بعض ستونوں کی طرح اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ایسے نشیب بھول بھلیوں کی طرح تھے۔ان میں بھٹک جانے کا خطرہ زیادہ تھا۔گھوم پھر کر انسان وہیں کا وہیں رہتا تھا اور سمجھتا تھا کہ وہ بہت سا فاصلہ طے کر آیا ہے۔حتٰی کہ وہ ایک جگہ ہی چلتا، اور مڑتا تھک کر چور ہو جاتا تھا۔پانی پی پی کر پانی کا ذخیرہ بھی وہیں ختم ہو جاتا تھا۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ صحرا کے اس حصے کی صعوبتیں ، دشواریاں اور وہاں کے خطرے ایسے تھے جو دیکھے بغیر انسان کے تصور میں نہیں آسکتے۔کئی جگہوں پر اونٹ یوں بدک گئے جیسے انہوں نے کوئی ایسی چیز دیکھ لی ہو جو انسانوں کو نظر نہیں آسکتی تھی۔اونٹ صحرائی جانور ہونے کی وجہ سے اس پانی کی بُو بھی پالیتا ہے جو زمین کے نیچے ہوتا ہے،کہیں چشمہ ہو جو نظر نہ آتا ہو۔اونٹ اپنے آپ اس طرف چل پڑتا ہے ،اونٹ خطروں کو بھی دور سے سونگھ لیتا ہے۔خالدؓ کے مختصر سے قافلے کے اونٹ کئی جگہوں پر بِدکے ۔ان کے سواروں نے اِدھر اُدھر اور نیچے دیکھا مگر انہیں کچھ بھی نظر نہ آیا۔زیادہ خطرہ صحرائی سانپ کا تھا جو ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو بالشت کا ہوتا ہے۔یہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے سانپوں کی طرح آگے کو نہیں رینگتا بلکہ پہلو کی طرف رینگتا ہے، انسان یا جانور کو ڈس لے تو دوچار منٹوں میں موت واقع ہو جاتی ہے،صحرائی بچھو اس سانپ کی طرح زہریلا ہوتا ہے۔ایک مؤرخ یعقوبی نے خالدؓکے اس سفر کو بیان کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے۔اس نے اپنے دور کے کسی عالم کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ایک معجزے وہ تھے جو خدا نے پیغمبروں کو دکھائے، اور خالدؓ کا یہ سفر ان معجزوں میں سے تھا جو انسان اپنی خداداد قوتوں سے کر دکھایا کرتے ہیں۔خالدؓ اپنے ساتھیوں سمیت بروقت مکہ پہنچ گئے۔انہیں اس خبر نے پریشان کر دیا کہ خلیفۃ المسلمین ابو بکر صدیقؓ بھی فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آئے ہوئے ہیں۔خالدؓنے سنت کے مطابق اپنا سر استرے سے منڈوادیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے چہرے چھپا کر رکھیں تاکہ انہیں کوئی پہچان نہ سکے۔فریضہ حج ادا کرکے خالدؓ نے بڑی تیزی سے پانی اور دیگر زادِ راہ اکٹھا کیا اور واپسی کے سفر کو روانہ ہو گئے۔یوں کہناغلط نہ ہوگا کہ وہ ایک بار پھر موت کی وادی میں داخل ہو گئے۔
تمام مؤرخ متفقہ طور پر لکھتے ہیں کہ خالدؓ اس وقت حیرہ پہنچے جب فراض سے چلا ہوا ان کا لشکر حیرہ میں داخل ہو رہا تھا۔لشکر کا عقبی حصہ جس کے ساتھ خالدؓ کو ہونا چاہیے تھا، وہ ابھی حیرہ سے کچھ دور تھا۔خالدؓ خاموشی سے عقبی حصے سے جا ملے اور حیرہ میں اس انداز سے داخل ہوئے جیسے وہ فراض سے آرہے ہوں۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ لشکر نے جب دیکھا کہ ان کے سالارِ اعلیٰ خالدؓ اور چند اور افراد کے سر استرے سے صاف کیے ہوئے ہیں تو لشکر میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں لیکن سر منڈوانا کوئی عجیب چیز نہیں تھی۔ اگر لشکر کو خالدؓ خود بھی بتاتے کہ وہ حج کرکے آئے ہین توکوئی بھی یقین نہ کرتا۔مشہور مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ خالدؓ مطمئن تھے کہ انہیں مکہ میں کسی نے نہیں پہچانا۔چار مہینے گزر گئے۔کسریٰ کے خلاف جنگی کارروائیاں ختم ہو چکی تھیں۔عراق کا بہت سا علاقہ کسریٰ سے چھین کر سلطنتِ اسلامیہ میں شامل کر لیا گیا تھا۔کسریٰ کی جنگی طاقت کا دم خم توڑ دیا گیاتھا۔آتش پرست فارسیوں کی دھونس اوردھاندلی ختم ہو چکی تھی۔یہ خطرہ اگر ہمیشہ کیلئے نہیں تو بڑی لمبی مدت کیلئے ختم ہوگیا تھاکہ فارس کی جنگی طاقت حملہ کرکے مسلمانوں کو کچل ڈالے گی۔فارس آتش پرستوں کے نامور جرنیل قارن، ہرمز، بہمن جاذویہ، اندرزغر، روزبہ، اور زرمہر اور دوسرے جن کی جنگی اہلیت اور دہشت مشہور تھی۔خالدؓ اور ان کے مجاہدین کے ہاتھوں مختلف معرکوں میں مارے گئے تھے۔ان جیسے جرنیل پیدا کرنے کیلئے بڑی لمبی مدت درکار تھی۔اب تو پورے عراق میں اور مدائن کے محلات کے اندر بھی ان مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی جنہیں انہی محلات میں عرب کے بدو اور ڈاکو کہا گیا تھا۔سب سے بڑی فتح تو یہ تھی کہ اسلام نے اپنی عظمت کا احساس دلادیا تھا۔خالدؓ نے حیرہ میں چار مہینے گزار کر اپنے لشکر کو آرام کرنے کی مہلت دی اور اس خیال سے جنگی تربیت بھی جاری رکھی کہ مجاہدین ِ لشکر سست نہ ہوجائیں۔اس کے علاوہ خالدؓنے مفتوحہ علاقوں کا نظم و نسق اور محصولات کی وصولی کا نظام بھی بہتر بنایا۔مئی ۶۳۴ء کے آخری ہفتے میں خالدؓ کو امیر المومنین ابو بکر ؓ کا خط ملا جس کا پہلا فقرہ خالدؓ کے حج کے متعلق تھا جس کے متعلق خالدؓ مطمئن تھے کہ امیر المومنینؓ اس سے بے خبر ہیں۔خط میں خالدؓ کے حج کا اشارہ کرکے صرف اتنا لکھا تھا ۔ آئندہ ایسا نہ کرنا۔باقی خط کا متن یہ تھا:’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ عتیق بن ابو قحافہ کی طرف سے خالد بن ولید کے نام۔ )یاد رہے کہ امیر المومنین اوّل ابو بکر صدیقؓ کہلاتے تھے لیکن انکا نام عبداﷲ بن ابی قحافہ تھا اور عتیق ان کا لقب تھا جو انہیں رسولِ کریم ﷺنے عطا فرمایا تھا(۔السلام و علیکم۔ تعریف اﷲکیلئے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔درود و سلام محمد الرسول اﷲ)ﷺ( پر……’’حیرہ سے کوچ کرو اور شام )سلطنت روما(میں اس جگہ پہنچو جہاں اسلامی لشکر جمع ہے۔ لشکر اچھی حالت میں نہیں، مشکل میں ہے۔ میں اس تمام لشکر کا جو تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے اور اس لشکر کا جس کی مدد کو تم جا رہے ہو، سپہ سالار مقررکرتا ہوں۔ رومیوں پر حملہ کرو۔ ابو عبیدہ اور اس کے ساتھ کے تمام سالار تمہارے ماتحت ہوں گے……
ابوسلیمان!)خالدکا دوسرا نام(پختہ عزم لے کر پیش قدمی کرو۔ اﷲکی حمایت اور مدد سے اس مہم کو پورا کرو۔ اپنے لشکر کو جو اس وقت تمہارے پاس ہے، دو حصوں میں کردو۔ ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے سپرد کر جاؤ۔ عراق )سلطنت فارس کے مفتوحہ علاقوں کا(سپہ سالار مثنیٰ بن حارثہ ہوگا۔ لشکر کا دوسرا حصہ اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اﷲتمہیں فتح عطا فرمائے۔ اس کے بعد یہیں واپس آجانا اور اس علاقے کے سپہ سالار تم ہوگے……تکبر نہ کرنا، تکبر اور غرور تمہیں دھوکہ دیں گے۔ اور تم اﷲکے راستے سے بھٹک جاؤ گے ۔کوتاہی نہ ہو۔ رحمت و کرم اﷲکے ہاتھ میں ہے، اور نیک اعمال کا صلہ اﷲہی دیا کرتا ہے۔‘‘خط پڑھتے ہی خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور کچھ کھسیانا سا ہوکے انہیں بتایا کہ ان کے خفیہ حج کا امیر المومنینؓ کو پتا چل گیا ہے۔’’اور میں خوش ہوں اس پر کہ فراغت ختم ہو گئی ہے۔‘‘
خالدؓ نے کہا۔’’ہم شام جا رہے ہیں۔‘‘خالدؓ تو جیسے میدانِ جنگ کیلئے پیدا ہوئے تھے۔قلعے اور شہر میں بیٹھنا انہیں پسند نہ تھا۔انہوں نے سالاروں کو خط پڑھ کر سنایا اور تیاری کا حکم دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے لشکرکو دوحصوں میں تقسیم کیا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کو اپنے ساتھ رکھا۔صحابہ کرامؓ کو لشکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’خدا کی قسم!میں اس تقسیم پر راضی نہیں ہوں جو تو نے کی ہے۔تو رسول اﷲﷺ کے تمام ساتھیوں کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔صحابہ کرام کو بھی صحیح تقسیم کر۔ آدھے صحابہ کرام تیرے ساتھ جائیں گے، آدھے میرے ساتھ رہیں گے۔کیا تو نہیں جانتا کہ انہی کی بدولت اﷲہمیں فتح عطا کرتا ہے۔‘‘خالدؓ نے مسکرا کر صحابہ کرامؓ کی تقسیم مثنیٰ بن حارثہ کی خواہش کے مطابق کردی اور اپنے لشکر کے سالاروں کو حکم دیاکہ جتنی جلدی ممکن ہو تیاری مکمل کریں۔’’اور یہ نہ بھولناکہ ہم اپنے ان بھائیوں کی مدد کو جا رہے ہیں جو وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ضائع کرنے کیلئے ہمارے پاس ایک سانس جتنا وقت بھی نہیں۔‘مسلمانوں کا وہ لشکر جو شام میں جاکر مشکل میں پھنس گیا تھا ،وہ ایک سالار کی جلد بازی کا اور حالات کو قبل از وقت نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ تھا۔اس نے شام کے اندر جاکر رومیوں پر حملہ کرنے کی اجازت امیر المومنینؓ سے اس طرح مانگی کہ جس طرح وہ خود آگے کے احوال و کوائف کو نہیں سمجھ سکا تھا، اسی طرح اس نے امیر المومنینؓ کو بھی گمراہ کیا۔ امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ دانشمند انسان تھے۔انہوں نے اس سالار کو حملہ کرنے کی کھلی چھٹی نہ دی بلکہ یہ لکھا:
’’……رومیوں سے ٹکر لینے کی خواہش میرے دل میں بھی ہے۔ اور یہ ہماری دفاعی ضرورت بھی ہے۔ رومیوں کی جنگی طاقت کو اتنا کمزور کردینا ضروری ہے کہ وہ سلطنت اسلامیہ کی طرف دیکھنے کی جرات نہ کر سکیں لیکن ابھی ہم ان سے ٹکر نہیں لے سکتے۔ تم ان کے خلاف بڑے یپمانے کی جنگ نہ کرنا، محتاط ہو کر آگے بڑھنا تاکہ خطرہ زیادہ ہو تو پیچھے بھی ہٹ سکو، تم یہ جائزہ لینے کیلئے حملہ کرو کہ رومیوں کی فوج کس طرح لڑتی ہے اور اس کے سالار کیسے ہیں۔‘‘امیر المومنینؓ نے صاف الفاظ میں لکھا کہ اپنے لشکر کو ایسی صورت میں نہ ڈال دینا کہ پسپائی اختیار کرو اور تمہیں اپنے علاقے میں آکر بھی پناہ نہ ملے۔اس سالار کا نام بھی خالد تھا ، خالد بن سعید۔لیکن میدانِ جنگ میں وہ خالدؓ بن ولید کی گَردِ پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اسے جن دستوں کا سالار بنایا گیا تھا وہ سرحدی فرائض انجام دینے والے دستے تھے۔ ان میں لڑنے کی اہلیت تھی اور ان میں لڑنے کا جذبہ بھی تھا لیکن انہیں جنگ کا ویسا تجربہ نہ تھا جیسا خالدؓ بن ولید کے دستوں نے حاصل کر لیا تھا۔امیرالمومنینؓ نے خالد بن سعید کو اپنی سرحدوں پر پہرہ دینے کیلئے بھیجا تھا۔ان دستوں کا ہیڈ کوارٹر تیما کے مقام پر بنایا گیا تھا۔
بعض مؤرخوں نے لکھا کہ خالدؓ کی پے در پے کامیابیاں دیکھ دیکھ کر خالدبن سعید کو خیال آیا کہ خالدؓ نے فارس کو شکستیں دی ہیں تو وہ رومیوں کو ایسی ہی شکستیں دے کر خالدؓ کی طرح نام پیدا کرے۔ ابنِ ہشام اور ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے یہ بھی لکھا ہے کہ خلیفۃ المسلمینؓ خالد بن سعید کی قیادت اور صلاحیتوں سے واقف تھے اسی لیے انہوں نے اس سالار کو بڑی جنگوں سے دور رکھا تھا لیکن وہ اس کی باتوں میں آگئے۔خالدؓ نے بھی فراض کے مقام پر رومیوں سے ٹکرلی تھی، لیکن سرحد پر معرکہ لڑا تھا، انہوں نے آگے جانے کی غلطی نہیں کی تھی، خالد بن سعید نے امیرالمومنینؓ کا جواب ملتے ہی اپنے دستوں کو کوچ کا حکم دیا اور شام کی سرحد میں داخل ہو گئے ۔ اس وقت شام میں ہرقل رومی حکمران تھا۔ اسے جنگوں کا بہت تجربہ تھا، رومیوں کی اپنی جنگی تاریخ اور روایات تھیں،وہ اپنی فوج کو انہی کے مطابق ٹریننگ دیتے تھے۔یہ تقریباً انہی دنوں کا واقعہ ہے جب خالدؓ فراض کے مقام پر رومیوں ، فارسیوں اور عیسائیوں کے متحدہ لشکر کے خلاف لڑے اورانہیں شکست دی تھی۔ اس سے رومی محتاط ، مستعد اور چوکس ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی فوج کو ہر لمحہ تیار رہنے کا حکم دے رکھا تھا۔
خالد بن سعید نے آگے کے احوال و کوائف معلوم نہ کیے، کوئی جاسوس آگے نہ بھیجا، اوراندھا دھند بڑھتے گئے۔ آگے رومی فوج کی کچھ نفری خیمہ زن تھی۔ خالد بن سعید نے دائیں بائیں دیکھے بغیر اس پر حملہ کردیا۔ رومیوں کا سالار باہان تھا، جو جنگی چالوں کے لحاظ سے خالدؓ بن ولید کے ہم پلّہ تھا ۔خالد بن سعید نہ سمجھ سکا کہ رومیوں کی جس نفری پر اس نے حملہ کیا ہے ، اس کی حیثیت جال میں دانے کی ہے، وہ انہی میں الجھ گیا۔تھوڑی ہی دیر بعد اسے پتا چلا کہ اس کے اپنے دستے رومیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں اور عقب سے رومی ان پر ہلّہ بولنے کیلئے بڑھے آرہے ہیں۔ خالد بن سعید کیلئے اپنے دستوں کو بچانا ناممکن ہو گیا۔ اس نے یہ حرکت کی کہ اپنے محافظوں کو ساتھ لے کر میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور اپنے دستوں کو رومیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔مسلمانوں کے ان دستوں میں مشہور جنگجو عکرمہؓ بن ابو جہل بھی تھے۔ اس ابتر صورتِ حال میں انہوں نے اپنے ہراساں دستوں کی کمان لے لی، اور ایسی چالیں چلیں کہ اپنے دستوں کو تباہی سے بچا لائے، جانی نقصان تو ہوا اور زخمیوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ خالدبن سعید کے بھاگ جانے سے تمام دستوں کے جنگی قیدی بننے کے حالات پیدا ہو گئے تھے، عکرمہؓ نے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچالیا۔مدینہ اطلاع پہنچی تو خلیفۃ المسلمینؓ نے خالدبن سعید کو معزول کرکے مدینہ بلالیا۔ خلیفۃ المسلمینؓ کے غصے کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے خالد بن سعید کو بھری محفل میں بزدل اور نالائق کہا۔ خالد بن سعید خاموشی کی زندگی گزارنے لگا۔ اس سے زیادہ اور افسردہ آدمی اور کون ہو سکتا تھا ۔آخر خدا نے اس کی سن لی ، بہت عرصے بعد جب مسلمانوں نے شام کو میدانِ جنگ بنالیا تھا ۔خالد بن سعید کو وہاں ایک دستے کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی۔ اس نے اپنے نام سے شکست کا داغ یوں دھویا کہ بے جگری سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔
امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ نے اپنی مجلسِ مشاورت کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا۔اس مجلس میں جو اکابرین شامل تھے ، ان میں عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰنؓ بن عوف، سعدؓ بن ابی وقاص، ابو عبیدہؓ بن الجراح، معاذؓ بن جبل، ابیؓ بن کعب، اور زیدؓ بن ثابت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔’’میرے دوستو!‘‘خلیفہ ابو بکر صدیقؓ نے کہا۔’’ رسولِ کریم ﷺکا ارادہ تھا کہ شام کی طرف سے رومیوں کے حملہ کا سدّباب کیا جائے ۔آپﷺنے جو تدبیریں سوچی تھیں ،ان پر عمل کرنے کی آپﷺکو مہلت نہ ملی۔آپﷺانتقال فرما گئے۔اب تم نے سن لیا ہے کہ ہرقل جنگی تیاری مکمل کر چکا ہے، اور ہمارا ایک سالار شکست کھا کر واپس بھی آگیا ہے۔ اگر ہم نے رومیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو ایک تو اپنے لشکر کے حوصلے کمزور ہوں گے اور وہ رومیوں کو اپنے سے زیادہ بہادر سمجھنے لگیں گے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ رومی آگے بڑھ آئیں گے اور ہمارے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس صورتِ حال میں تم مجھے کیا مشورہ دو گے؟یہ بھی یاد رکھنا کہ ہمیں مزید فوج کی ضرورت ہے۔‘‘
’’امیرالمومنین!‘‘عمرؓ نے کہا۔’’آپ کے عزم کو کون رد کر سکتا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ شام پر حملے کا اشارہ اﷲکی طرف سے ملا ہے۔
لشکر کیلئے مزید نفری بھرتی کریں ، اور جو کام رسول اﷲﷺنے کرنا چاہا تھا اسے ہم پورا کریں۔‘‘’’امیرالمومنین!‘‘عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے کہا۔’’اﷲکی سلامتی ہو تم پر، غور کر لے، رومی ہم سے طاقتور ہیں۔ خالدبن سعید کاانجام دیکھ، ہم رسول اﷲﷺکے ارادوں کو ضرور پورا کریں گے لیکن ہم اس قابل نہیں کہ رومیوں پر بڑے پیمانے کا حملہ کریں۔کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہمارے دستے رومیوں کی سرحدی چوکیوں پو حملے کرتے رہیں اور ہر حملے کے بعد دور پیچھے آجائیں۔ اس طرح رومیوں کا آہستہ آہستہ نقصان ہوتا رہے گا اور اپنے مجاہدین کے حوصلے کھلتے جائیں گے،اس دوران ہم اپنے لشکر کیلئے لوگوں کو اکھٹا کرتے رہیں۔ امیرالمومنین !لشکر میں اضافہ کرکے تم خود جہاد پر روانہ ہو جاؤ اور چاہو تو قیادت کسی اور سردار کو دے دو۔‘‘مؤرخوں نے اس دور کی تحریروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ تمام مجلس پر خاموشی طاری ہو گئی، عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے بڑی جرات سے اپنا مشورہ پیش کیا تھا۔ ایسالگتا تھا جیسے اب کوئی اور بولے گا ہی نہیں۔’’خاموش کیوں ہو گئے ہو تم؟‘‘ امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’اپنے مشورے دو۔‘‘’’کون شک کر سکتا ہے تمہاری دیانتداری پر!‘‘عثمانؓ بن عفان نے کہا۔’’بے شک تم مسلمانوں کی او ردین کی بھلائی چاہتے ہو۔ پھر کیوں نہیں تم حکم دیتے کہ شام پر حملہ کرو۔نتیجہ جو بھی ہوگا ہم سب بھگت لیں گے۔‘‘مجلس کے دوسرے شرکاء نے عثمانؓ بن عفان کی تائید کی اور متفقہ طور پر کہا کہ دین اور رسول اﷲ ﷺکی امت کے وقار کیلئے مسندِ خلافت سے جو حکم ملے گا سے سب قبول کریں گے۔’’تم سب پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘ خلیفۃ المسلمینؓ نے آخر میں کہا۔’’میں کچھ امیر مقرر کرتا ہوں۔ اﷲکی اور اس کے رسولﷺ کے بعد اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ اپنی نیتوں اور ارادوں کو صاف رکھو۔ بے شک اﷲانہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ امیر المومنین ابو بکرؓ کا مطلب یہ تھا کہ شام پر حملہ ہوگا اور رومیوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے گی ۔مجلس پر پھر خاموشی طاری ہو گئی۔ محمد حسین ہیکل لکھتا ہے کہ یہ خاموشی ایسی تھی کہ جیسے وہ رومیوں سے ڈر گئے ہوں یا انہیں امیرالمومنینؓ کا یہ فیصلہ پسند نہ آیا ہو۔ عمرؓ نے سب کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں جذبات کی شدت سے سرخ ہو گئیں۔’’اے مومنین!‘‘عمرؓ نے گرج کر کہا۔’’ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ خلیفہ کی آواز پر لبیک کیوں نہیں کہتے؟ کیا خلیفہ نے اپنی بھلائی کیلئے کوئی حکم دیا ہے؟ کیا خلیفہ کے حکم میں تمہاری بھلائی شامل نہیں؟ امتِ رسول کی بھلائی نہیں؟……بولو……لبیک کہو اور آواز اپنے دلوں سے نکالو۔‘‘مجلس کا سکوت ٹوٹ گیا، لبیک لبیک کی آوازیں اٹھیں، اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ وہ رومیوں سے ٹکر لیں گے۔
حج سے واپس آکر خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے مدینہ میں گھوڑ دوڑ ، نیزہ بازی ، تیغ زنی، تیر اندازی، اور کُشتیوں کا مقابلہ منعقدکرایا۔اردگ­رد کے قبیلوں کو بھی اس مقابلے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ تین دن مدینہ میں انسانوں کے ہجوم کا یہ عالم رہا کہ گلیوں میں چلنے کو رستہ نہیں ملتا تھا۔کوئی جگہ نہیں رہی تھی۔ جدھر نظر جاتی تھی گھوڑے اور اونٹ کھڑے نظر آتے تھے۔دف اور نفیریاں بجتی ہی رہتی تھیں۔قبیلے اپنے شہسواروں اور پہلوانوں کو جلوسوں کی شکل میں لا رہے تھے۔تین دن ہر طرح کے مقابلے ہوتے رہے۔ جن قبیلوں کے آدمی جیت جاتے وہ قبیلے میدان میں آکر ناچتے کودتے اور چلّا چلّا کر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ ان کی عورتیں اپنے جیتنے والے آدمیوں کی مدح میں گیت گاتی تھیں، مقابلے میں باہر کا کوئی گھوڑ سوار یا تیغ زن یا کوئی شتر سوارزخمی ہو جاتا تھا تو مدینہ کا ہر باشندہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔مدینہ والوں کی میزبانی نے قبیلوں کے دل موہ لیے۔مقابلوں اور میلے کا یہ اہتمام خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے کیا تھا،مقابلے کے آخری روز مدینہ کا اک آدمی گھوڑے پر سوار میدان میں آیا۔میدان کے اردگرد لوگوں ، گھوڑوں اور اونٹوں کا ہجوم جمع تھا۔’’اے رسول اﷲﷺکے امتیو!‘‘میدان میں اترنے والے سوار نے بڑی بلند سی آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!کوئی نہیں جوتمہیں نیچا دِکھا سکے ۔تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنے جوہر دیکھ لیے ہیں۔کونسا دشمن ہے جو تمہارے سامنے اپنے پاؤں پرکھڑا رہ سکے گا، یہ طاقت جو تم نے اک دوسرے پر آزمائی ہے ، اب اسے دشمن پر آزمانے کا وقت آگیا ہے جو تمہاری طرف بڑھا آرہا ہے……‘‘’’اے مومنین!اپنی زمین کو دیکھو۔ اپنے اموال کو دیکھو، اپنی عور توں کو دیکھو جو تمہارے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، اپنی جوان اور کنواری بیٹیوں کو دیکھو، جو تمہارے دامادوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں کہ حلال بچے پیدا کریں۔ اپنے دین کودیکھو جو اﷲکا سچا دین ہے۔ خدا کی قسم!تم غیرت والے ہو۔ عزت والے ہو، اﷲنے تمہیں برتری دی ہے۔ تم پسند نہیں کرو گے کہ کوئی دشمن اس وقت تم پر آپڑے جب تم سوئے ہوئے ہو گے، اور تمہارے گھوڑے اور تمہارے اونٹ بغیر زینوں کے بندھے ہوئے ہوں گے اور تم نہیں بچا سکو گے اپنے اموال کو، اپنے بچوں کو، اپنی عورتوں کو، اور اپنی کنواری بیٹیوں کو اور دشمن تمہیں مجبور کر دے گا کہ سچے دین کو چھوڑ کر دشمن کے دیوتاؤں کی پوجا کرو۔‘‘’’بتا ہمیں وہ دشمن کون ہے؟ ‘‘ایک شتر سوار نے چلّا کر پوچھا۔ ’’کون ہے جو ہماری غیرت کو للکار رہا ہے۔‘‘’’رومی!‘‘گھوڑ سوار نے اعلان کرنے کے لہجے میں کہا۔’’وہ ملک شام پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، ان کی فوج ہم سے زیادہ ہے، بہت زیادہ ہے، ان کے ہتھیار ہم سے اچھے ہیں، لیکن وہ تمہارا وار نہیں سہہ سکتے، تم نے اس میدان میں اپنی طاقت اور اپنی ہمت دیکھ لی ہے، اب اُس میدان میں چلوجہاں تمہاری طاقت اور ہمت تمہارا دشمن دیکھے گا۔‘‘
’’ہمیں اس میدان میں کون لے جائے گا؟‘‘ ہجوم میں سے کسی نے پوچھا۔’’مدینہ والے تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘مدینہ کے گھوڑ سوار نے کہا۔’’دیکھو انہیں جو برسوں سے محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ کٹ رہے ہیں اور وہین دفن ہو رہے ہیں، انہیں اپنے بچوں کی یاد نہیں رہی، انہیں اپنے گھر یاد نہیں رہے، وہ بڑی تھوڑی تعداد میں ہیں اور اس دشمن کو شکست پہ شکست دے رہے ہیں جوتعداد میں ان سے بہت زیادہ ہے۔ وہ راتوں کو بھی جاگتے ہیں تمہاری عزتوں کیلئے……انہوں نے آتش پرست فارسیوں کا سر کچل ڈالا ہے۔ اب رومی رہ گئے ہیں لیکن ہمارے مجاہدین تھک گئے ہیں۔ محاذ ایک دوسرے سے دور ہیں، وہ ہر جگہ فوراً نہیں پہنچ سکتے……کیا تم جو غیرت اور عزت والے ہو، طاقت اور ہمت والے ہو، ان کی مدد کو نہیں پہنچوگے؟‘‘ہجوم جو پہلے ہی بے چین تھا، جوش و خروش سے پھٹنے لگا۔ امیرالمومنینؓ کا یہی منشاء تھا کہ لوگوں کو اسلامی لشکرمیں شامل کیا جائے۔ قبیلوں کی جو عورتیں مدینہ آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے مردوں کو لشکر میں بھرتی ہونے پر اکسانا شروع کر دیا۔اس روز جو مقابلوں کا آخری روز تھا ، مقابلوں میں کچھ اور ہی جوش اور کچھ اور ہی شور تھا۔ مقابلوں میں اترنے والوں کا انداز ایسا ہی تھاجیسے وہ لشکر میں اچھی حیثیت حاصل کرنے کیلئے اپنے جوہر دِکھا رہے ہوں۔ اس کے بعد ان لوگوں میں سے کئی اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔یمن میں اسلام مقبولِ عام مذہب بن چکا تھا۔ارتداد بھی ختم ہو گیا تھا اور یہاں کا غالب مذہب اسلام تھا۔ خلیفۃ المسلمینؓ نے اہلِ یمن کے نام ایک خط لکھا جو ایک قاصد لے کر گیا۔خط میں لکھا تھا:’’اہلِ یمن !تم پر اﷲکی رحمتیں برسیں۔تم مومنین ہو اور مومنین پر اس وقت جہاد فرض ہو جاتا ہے جب ایک طاقتور دشمن کا خطرہ موجود ہو۔ حکم رب العالمین ہے کہ تم تنگدستی میں ہو یا خوشحالی میں، تمہارے پاس سامان کم ہے یا زیادہ، تم جس حال میں بھی ہو ،دشمن کے مقابلے کیلئے نکل پڑو۔ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیلئے نکلو۔ تمہارے جو بھائی مدینہ آئے تھے۔انہیں میں نے بغرضِ جہاد جانے کی ترغیب دی تو وہ بخوشی تیار ہوگئے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔میں یہی ترغیب تمہیں دیتا ہوں۔میری آواز تم تک پہنچ گئی ہے، اس میں اﷲکا حکم ہے وہ سنو اور جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس کے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘اس دور کے رواج کے مطابق مدینہ کے قاصد نے یمن میں تین چار جگہوں پر لوگوں کو اکٹھا کیا اور امیرالمومنینؓ کا پیغام سنایا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک سردار ذوالکلاع حمیری نے نہ صرف اپنے قبیلے کے جوان آدمیوں کو تیار کرلیا بلکہ اپنے زیرِاثر چند اور قبیلوں کے لڑنے والے آدمیوں کو ساتھ لیا اور مدینہ کو روانہ ہو گیا۔
مدینہ کا قاصد ہر قبیلے میں گیا تھا تین اور قبیلوں کے سرداروں قیس بن ھبیرمرادی، جندب بن عمرو الدوسی اور حابس بن سعد طائی۔ نے اپنے اپنے قبیلے کے جوانوں اور لڑنے کے قابل افراد کو ساتھ لیا اور شام کی جنگی مہم میں شریک ہونے کیلیئے عازمِ مدینہ ہوئے۔یہ ایک اچھا خاصہ لشکر بن گیا،ہر فرد گھوڑے یا اونٹ پر سوار اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر آیا، یہ لوگ تیروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی ساتھ لے آئے، مدینہ میں اس لشکرکا اجتماع ۶۳۴ء )محرم ۱۳ھ (میں ہوا تھا۔امیرالمومنین ابو بکرؓ نے خود اس اجتماع کے ہر آدمی کواچھی طرح سے دیکھاکہ وہ تندرست ہے اور وہ کسی کے مجبور کرنے پر نہیں بلکہ جہاد کا مطلب اور مقصد سمجھ کرخود آیا ہے۔ پھر اس لشکرکی چھان بین یہ معلوم کرنے کیلئے کی گئی کہ ان میں کئی افراد مرتدین کے ساتھ رہے اور مسلمانوں نے ارتداد کے خلاف جو جنگ لڑی تھی، اس میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ انہوں نے اسلام تو قبو ل کرلیا تھا لیکن ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا،مرتدین نے یہ عادت بنالی تھی کہ مرتد بنے رہے، جب مسلمانوں کے ہاتھوں میدانِ جنگ میں پِٹ گئے تو اسلام قبول کر لیا مگر مسلمان ان پر بھروسہ کرکے ان کی بستیوں سے ہٹے تو ان میں سے کئی ایک اسلام سے منحرف ہو کر پھر مرتد ہو گئے۔مدینہ میں چھان بین کی گئی تو ان میں سے بعض کو لشکر سے نکال دیا گیا۔باقی لشکر کو چار حصوں مین بانٹ کر ہر حصے کا سالار مقرر کیا گیا۔ ہر حصے میں سات ہزار آدمی تھے یعنی لشکر کی تعداد اٹھائیس ہزار تھی۔زیادہ تر مؤرخوں نے یہ تعداد تیس ہزار لکھی ہے، ایک حصے کے سالار تھے عمروؓ بن العاص، دوسرے کے یزید ؓبن ابی سفیان ، تیسرے کے شرجیلؓ بن حسنہ اور چوتھے حصے کے سالار ابو عبیدہؓ بن الجراح تھے۔ان سالاروں نے چند دن لشکر کو بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی ٹریننگ دی جس میں معرکے کے دوران دستوں کا آپس میں رابطہ اور نظم و نسق قائم رکھنا شامل تھا۔اپریل ۶۳۴ء )صفر ۱۳ھ( کے پہلے ہفتے میں اس لشکر کو شام کی طرف کوچ کا حکم ملا۔ہر حصے کے الگ الگ مقامات پر پہنچنا اور ایک دوسرے سے الگ کوچ کرنا تھا۔ عمروؓ بن العاص کو اپنے دستوں کے ساتھ فلسطین تک جانا تھا، یزیدؓ بن ابی سفیان کی منزل دمشق تھی، انہیں تبوک کے راستے سے جانا تھا، شرجیلؓ بن حسنہ کو اردن کی طرف جانا تھا، انہیں کہا گیا تھا کہ یزیدؓ بن ابی سفیان کے دستوں کے پیچھے پیچھے جائیں، ابو عبیدہؓ بن الجراح کی منزل حمص تھی۔ انہیں بھی تبوک کے راستے سے ہی جانا تھا۔
’’اﷲتم سب کا حامی و ناصر ہو۔ ‘‘خلیفۃ المسلمینؓ نے آخری حکم یہ دیا۔’’سالار اپنے اپنے دستے ایک دوسرے سے الگ رکھیں گے۔ اگر رومیو ں کے ساتھ کہیں ٹکر ہو گئی تو سالار ایک دوسرے کو مدد کیلئے بلا سکتے ہیں۔ اگر لشکرکے چاروں حصوں کو مل کر لڑنا پڑا تو ابو عبیدہ بن الجراح تمام لشکر کے سپاہ سالار ہوں گے۔‘‘سب سے پہلے یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے۔ مدینہ کی عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے تھے۔چھتوں پر عورتیں کھڑی ہاتھ اوپر کرکے ہلا رہی تھیں۔بوڑھی عورتوں نے دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔کئی بوڑھوں کی آنکھیں اس لیے اشکبار ہو گئی تھیں کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔یزیدؓ بن ابی سفیان اپنے دستوں کے آگے آگے جا رہے تھے۔یزیدؓ کے ساتھ امیر المومنین ابو بکرؓ پیدل جا رہے تھے، یزیدؓ گھوڑے سے اتر آئے، امیرالمومنینؓ کے اصرار کے باوجود وہ گھواڑے پر سوار نہ ہوئے ، امیرالمومنینؓ ضعیف تھے پھر بھی وہ دستوں کی رفتار سے چلے جا رہے تھے۔ یزیدؓ نے انہیں کئی بار کہا کہ وہ واپس چلے جائیں لیکن ابو بکرؓ نہ مانے، مدینہ سے کچھ دور جاکر یزیدؓ رک گئے۔’’امیرالمومنین واپس نہیں جائیں گے تو میں ایک قدم آگے نہیں بڑھوں گا ۔‘‘ یزیدؓ بن ابی سفیان نے کہا۔’’خدا کی قسم ابو سفیان!‘‘امیرالمومنینؓ نے کہا۔’’تو مجھے سنتِ رسول اﷲﷺسے روک رہا ہے۔ کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اﷲﷺجہاد کو رخصت ہونے والے ہر لشکرکے ساتھ دور تک جاتے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے تھے؟ آپﷺفرمایا کرتے تھے، کہ پاؤں جو جہاد فی سبیل اﷲکے راستے پر گرد آلود ہو جاتے ہیں، دوزخ کی آگ ان سے دور رہتی ہے۔‘‘تاریخ کے مطابق امیر المومنینؓ کے لشکر کے اس حصے کے ساتھ مدینہ سے دو میل دور تک چلے گئے تھے۔’’یزید!‘‘امیرالمومنین ؓنے کہا۔’’اﷲتجھے فتح و نصرت عطا فرمائے، کوچ کے دوران اپنے آپ پر اور اپنے لشکر پر کوئی سختی نہ کرنا۔ فیصلہ اگر خود نہ کر سکو تو اپنے ماتحتوں سے مشورہ لے لینا، اور تلخ کلامی نہ کرنا ……عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑنا۔ ظلم سے باز رہنااور بے انصافی کرنے والی قوم کو اﷲپسند نہیں کرتا، اور ایسی قوم کبھی فاتح نہیں ہوتی……میدانِ جنگ میں پیٹھ نہ دکھانا، کہ جنگی ضرورت کے بغیر پیچھے ہٹنے والے پر اﷲکا قہر نازل ہوتا ہے……اور جب تم اپنے دشمن پر غالب آجاؤ تو عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھانا، اور جو جانور تم کھانے کیلئے ذبح کرو ان کے سوا کسی جانور کو نہ مارنا۔‘‘
مؤرخین واقدی، ابو یوسف، ابنِ خلدون اور ابنِ اثیر نے امیرالمومنین ابو بکرؓ کے یہ الفاظ لکھے ہیں، ان مؤرخین کے مطابق امیرالمومنین ابو بکرؓ نے یزید ؓبن ابی سفیان سے کہا۔’’ تجھے خانقاہیں یا عبادت گاہیں سی نظر آئیں گی اور ان کے اندر راہب بیٹھے ہوں گے، وہ تارک الدنیا ہوں گے۔ انہیں اپنے حال میں مست رہنے دینا، نہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو کوئی نقصان پہنچانا، نہ ان کے راہبوں کو پریشان کرنا……اور تمہیں صلیب کو پوجنے والے بھی ملیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان کے سروں کے اوپر درمیان میں بال ہوتے ہی نہیں ، منڈوادیتے ہیں۔ ان پر اسی طرح حملہ کرنا جس طرح میدانِ جنگ میں دشمن پر حملہ کیا جاتا ہے۔ انہیں صرف اس صورت میں چھوڑنا کہ اسلام قبول کرلیں یا جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں……اﷲکے نام پر لڑنا، اعتدال سے کام لینا۔ غداری نہ کرنا، اور جو ہتھیار ڈال دے اسے بلا وجہ قتل نہ کرنا نہ ایسے لوگوں کے اعضاء کاٹنا۔‘‘یہ رسولِ کریمﷺکا طریقہ تھا کہ رخصت ہونے والے ہر لشکر کے ساتھ کچھ دورتک جاتے، سالاروں کوان کے فرائض یاد دلاتے، اور لشکر کو دعاؤں سے رخصت کرتے تھے۔خلیفہ اول ابو بکرؓ نے رسول کریمﷺ کی پیروی کرتے ہوئے چاروں سالاروں کو آپﷺہی کی طرح رخصت کیا۔لشکر اور دستے تو محاذوں پر روانہ ہوتے ہی رہتے تھے لیکن یہ لشکر بڑے ہی خطرناک اور طاقتور دشمن سے نبرد آزما ہونے جا رہا تھا۔ شہنشاہ ہرقل جو حمص میں تھا، صرف شہنشاہ ہی نہیں تھا وہ میدانِ جنگ کا استاد اور جنگی چالوں کا ماہر تھا اس لشکر کو مدینہ سے روانہ کرکے مدینہ والوں پر خاموشی سی طاری ہو گئی تھی اور وہ خاموشی کی زبان میں ہر کسی کے سینے سے دعائیں پھوٹ رہی تھیں۔یہ تھی وہ جنگی مہم جس کیلئے امیر المومنینؓ نے فیصلہ کیا تھاکہ اس کی کمان اور قیادت کیلئے خالدؓ سے بہتر کئی سالار نہیں۔ مدینہ کا یہ اٹھائیس ہزار کا لشکر پندرہ دنوں میں شام کی سرحدوں پر اپنے بتائے ہوئے مقامات پر پہنچ چکا تھا۔حمص میں شہنشاہ ہرقل کے محل میں وہی شان و شوکت تھی جو شہنشاہوں کے محلات میں ہوا کرتی تھی۔مدائن کے محل کی طرح حمص کے محل میں بھی حسین اور نوجوان لڑکیاں ملازم تھیں۔ ناچنے اور گانے والیاں بھی تھیں، اور ایک ملکہ بھی تھی اور جس کی وہ ملکہ تھی اس کی ملکہ ہونے کی دعویدار چند ایک اور بھی تھیں۔شہنشاہ ہرقل کے دربار میں ایک ملزم پیش تھا ،اس کا جرم یہ تھا کہ وہ شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تھا، اس کا تعلق اس خاندان کے ساتھ تھا جوشہنشاہ کا نام سنتے ہی سجدے میں گر پڑتاتھا، یہ ملزم ان لوگوں میں سے تھا جو شہنشاہ کو روزی رساں سمجھا کرتے تھے۔
اس ملزم کا جرم یہ تھا کہ شاہی خاندان کی ایک شہزادی اس پر مر مٹی تھی۔ شہزادی غزال کے شکار کو گئی تھی، اور جنگل میں اسے کہیں یہ آدمی مل گیا تھا۔ شہزادی نے تیر سے ایک غزال کو معمولی سا زخمی کر دیا تھا، اور اس کے پیچھے گھوڑا ڈال دیا تھا، لیکن غزال معمولی زخمی تھا، وہ گھوڑے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز بھاگ رہا تھا۔اس ملزم نے دیکھ لیا، وہ گھوڑے پر سوار تھا اور اس کے ہاتھ میں برچھی تھی اس نے غزال کے پیچھے گھوڑا دوڑادیا۔ غزال مڑتا تھا تو سوار رستہ چھوٹا کرکے اس کے قریب پہنچ جاتا تھا، وہ غزال کو اس طرف لے جاتا جدھر شہزادی رُکی کھڑی تھی۔شہزادی نے تین چار تیر چلائے۔ سب خطا گئے۔ اس جوان اور خوبرو آدمی نے گھوڑے کو ایسا موڑا کہ غزال کے راستے میں آگیا، اس نے برچھی تاک کر پھینکی جو غزال کے پہلو میں اتر گئی اور وہ گر پڑا۔شہزادی اپنا گھوڑا وہاں لے آئی تو یہ آدمی اپنے گھوڑے سے کود کر اترا اور شہزادی کے گھوڑے کے قدموں میں سجدہ ریز ہو گیا۔’’میں اگر شہزادی کے شکار کو شکار کرنے کا مجرم ہوں تو مجھے معاف کیا جائے۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑکر کہا۔’’لیکن میں غزال کو شہزادی کے سامنے لے آیا تھاکہ شہزادی اسے شکار کرے۔‘‘
’’تم شہسوار ہو۔‘‘ شہزادی نے مسکرا کر کہا۔’’کیا کام کرتے ہو؟‘‘’’ہر وہ کام کر لیتا ہوں جس سے دو وقت کی روٹی مل جائے۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’میں تجھے محل کے محافظوں میں شامل کروں گی۔‘‘رعایا کے اس ناچیز بندے میں اتنی جرات نہیں تھی کہ انکار کرتا۔شہزادی اسے ساتھ لے آئی اور محافظوں میں رکھوادیا، اسے جب شاہی محافظوں کا لباس ملا اور جب وہ اس لباس میں شاہی اصطبل کے گھوڑے پر سوار ہوا تو اس کی مردانہ وجاہت نکھر آئی۔ وہ شہزادی کا منظورِ نظر بن گیا پھر شہزادی نے اسے اپنا دیوتا بنا لیا۔شہزادی کی شادی ہونے والی تھی لیکن اس نے اپنے منگیتر کے ساتھ بے رخی برتنا شروع کردی۔ منگیتر نے اپنے مخبروں سے کہا کہ وہ شہزادی کو دیکھتے رہا کریں کہ وہ کہاں جاتی ہے اور اس کے پاس کون آتا ہے۔ایک رات شہزادی کے منگیتر کو اطلاع ملی کہ شہزادی شاہی محل کے باغ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ محل سے تھوڑی ہی دور ایک بڑی خوبصورت جگہ تھی۔وہاں چشمہ تھا اور سبزہ زار تھا۔ درخت تھے اور پھولدار پودوں کی باڑیں تھیں۔ چاندنی رات تھی۔ شہزادی اور اس کا منظورِنظر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ انہیں بھاری بھرکم قدموں کی دھمک سنائی دی ۔وہ شاہی محافظوں کے نرغے میں آگئے تھے۔
اس محافظ کو قید میں ڈال دیا گیا،شہنشاہ ہرقل کو صبح بتایا گیا اور محافظ کو زنجیروں میں باندھ کر دربار میں پیش کیا گیا۔اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے ایک شہزادی کی شان میں گستاخی کی ہے۔ یہ الزام دربار میں بلند آواز سے سنایا گیا۔’’شہنشاہِ ہرقل کی شہنشاہی ساری دنیا میں پھیلے!‘‘ملزم نے کہا۔’’شہزادی کو دربار میں بلا کر پوچھا جائے کہ میں نے گستاخی کی ہے یا محبت کی ہے……اور محبت میں نے نہیں شہزادی نے کی ہے۔‘‘’’لے جاؤ اسے!‘‘شہنشاہ ہرقل نے گرج کر کہا۔’’رَتھ کے پیچھے باندھ دو اور رتھ اس وقت تک دوڑتی رہے جب تک اس کا گوشت اس کی ہڈیوں سے الگ نہیں ہوجاتا۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ملزم للکار کر بولا۔’’ تو ایک شہزادی کی محبت کا خون کر رہا ہے۔‘‘اُسے دربار سے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے اور اس کی پکار اور للکار سنائی دے رہی تھی……وہ رحم کی بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔’’تیرا انجام قریب آرہا ہے ہرقل!‘‘وہ چلّاتا جارہا تھا۔’’اپنے آپ کو دیوتا نہ سمجھ ہرقل!ذلت اور رسوائی تیری طرف آرہی ہے۔‘‘محبت کے اس مجرم کو ایک رتھ کے پیچھے باندھ دیاگیا اور دو گھوڑوں کی رتھ دوڑ پڑی، محل سے شور اٹھا۔ ’’شہزادی نے پیٹ میں تلوار اتار لی ہے۔‘‘یہ خبر شہنشاہ ہرقل تک پہنچی تو اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔وہ تخت پر بیٹھا رہا،درباریوں پر سناٹا طاری تھا۔کچھ دیر بعد اٹھا اور اپنے خاص کمرے میں چلا گیا۔وہ سر جھکائے یوں کمرے میں ٹہل رہاتھا، ملکہ کمرے میں آئی،ہرقل نے اسے قہر کی نظروں سے دیکھا۔’’شگون اچھا نہیں۔‘‘ملکہ نے رُندھی ہوئی آواز میں کہا۔’’صبح ہی صبح دو خون ہو گئے ہیں۔‘‘’’یہاں سے چلی جاؤ۔‘‘ ہرقل نے کہا۔’’میں شاہی خاندان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘’’میں کچھ اور کہنے آئی ہوں۔‘‘ ملکہ نے کہا۔’’سرحد سے ایک عیسائی آیا ہے۔اس نے تمام رات سفر میں گھوڑے کی پیٹھ پر گزاری ہے۔اسے کسی نے دربار میں داخل ہونے نہیں دیا۔ مجھے اطلاع ملی تو……‘‘’’وہ کیوں آیا ہے؟‘‘ہرقل نے جھنجھلا کر پوچھا۔’’کیا وہ سرحد سے کوئی خبر لایا ہے؟‘‘’’مسلمانوںکی فوجیں آرہی ہیں۔‘‘ملکہ نے کہا۔’’اندر بھیجو اسے!‘‘ہرقل نے کہا۔ملکہ کے جانے کے بعد ایک ادھیڑ عمر آدمی کمرے میں آیا۔اس کے کپڑوں پر اور چہرے پر گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی۔وہ سلام کیلئے جھکا۔’’تو نے محل تک آنے کی جرات کیسے کی؟‘‘ہرقل نے شاہانہ جلال سے پوچھا۔’’کیا تو یہ خبر کسی سالار یا ناظم کو نہیں دے سکتا تھا؟‘‘’’یہ جرم ہے تو مجھے بخش دیں۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’مجھے ڈر تھا کہ اس خبرکو کوئی سچ نہیں مانے گا۔‘‘
’’تو نے مسلمانوں کا لشکر کہاں دیکھا ہے؟‘‘’’حمص سے تین روز کے فاصلے پر۔‘‘اس نے جواب دیا۔یہ ایک عیسائی عرب تھا۔جس نے ابو عبیدہؓ بن الجراح کے دستوں کو شام سے کچھ دور دیکھ لیا تھا ۔اسی شام دو اور جگہوں سے اطلاعیں آئیں کہ مسلمانوں کی فوج ان جگہوں پر پڑاؤڈالے ہوئے ہے ۔مسلمانوں کے لشکر کے چوتھے حصے کی اطلاع ابھی نہیں آئی تھی۔رات کو ہرقل نے اپنے جرنیلوں اور مشیروں کو بلایا۔’’کیا تمہیں معلوم ہے سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟‘‘ہرقل نے پوچھا۔’’ مدینہ کی فوج تین جگہوں پر آگئی ہے۔اپنی کسی سرحدی چوکی نے کوئی اطلاع نہیں دی ۔کیا وہاں سب سوئے رہتے ہیں؟ کیا تم برداشت کر سکتے ہو کہ عرب کے چند ایک لٹیرے قبیلے تمہیں سرحدوں پر آکر للکاریں،کیا تم ان کے ایک سالار کو اپنی طاقت نہیں دکھا چکے۔وہ خوش قسمت تھا کہ نکل گیا اب وہ زیادہ تعداد میں آئے ہیں وہ مالِ غنیمت کے بھوکے ہیں۔ فوراً تیاری شروع کرو ان کا کوئی ایک آدمی اور کوئی گھوڑا یا اونٹ واپس نہ جائے ۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل!‘‘ شام کی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’آپ اتنے نا تجربہ کار تو نہیں جیسی آپ نے بات کی ہے۔ اگر یہ معاملہ کچھ اور ہوتا تو ہم آپ کی تائید کرتے لیکن یہ مسئلہ جنگی ہے آپ جانتے ہیں کہ شکست کے بعد کیا ہوتا ہے۔‘‘’’مجھے سبق نہیں مشورہ چاہیے۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’وہ کیا ہے جو میں نہیں جانتا۔‘‘ ’’شہنشاہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسی بات نہ کریں۔ جس نے فارس کے شہنشاہ اردشیر کی جان لے لی تھی۔‘‘رومی فوجوں کے کمانڈر نے کہا۔’’اس کی جنگی طاقت ہماری ٹکر کی تھی۔آپ بھی اس فوج سے لڑ چکے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو بھی عراق پر فوج کشی کی جرات نہیں ہوئی۔ اب فراض کے میدان میں ہمیں مسلمانوں کے خلاف فارسیوں کو اتحادی بنانا پڑا اور ہم نے عیسائی قبیلوں کو ساتھ ملایا مگر خالد بن ولید ہمیں شکست دے گیا۔‘‘’’کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمیں مسلمانوں سے ڈرنا چاہیے؟‘‘ہرقل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ ’’نہیں شہنشاہ ۔‘‘کمانڈر نے کہا۔’’اردشیر بھی مدائن میں بیٹھا ایسی ہی باتیں کیا کرتا تھا۔جیسی آپ حمص میں بیٹھے کر رہے ہیں۔میں آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ فارسیوں کاانجام دیکھیں ،مدائن کے محل اب بھی کھڑے ہیں لیکن مقبروں کی طرح۔ اردشیر نے پہلے پہل مسلمانوں کو عرب کے بدو اور ڈاکو کہا تھا۔میں نے فارسیوں کی شکست کی چھان بین پوری تفصیل سے کی ہے۔اردشیر کے منہ سے یہی الفاظ نکلتے تھے۔کچل دو۔ مگر اس کا جو بھی جرنیل مسلمانوں کے مقابلے کو گیا وہ چلا گیا۔مسلمان ان کے علاقوں پہ علاقہ فتح کرتے آئے حتیٰ کہ ان کے تیر مدائن میں گرنے لگے۔‘‘ ’’اور شہنشاہِ ہرقل! مجھے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان مذہبی جنون سے لڑتے ہیں۔ مالِ غنیمت کیلئے نہیں۔ہم زمین کیلئے لڑتے ہیں مسلمان جنگ کو ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔ہم ان کے عقیدے کو سچا سمجھیں یا نہ سمجھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔شہنشاہ کو اس پر بھی غور کرنا پڑ ے گا کہ مسلمان ہر میدان میں تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔وہ جذبے اور جنگی چالوں کے زور پر لڑتے ہیں۔
فراض میں ہم نے اپنے فارسیوں کی اور عیسائیوں کی نفری کو اتنا زیادہ پھیلا دیا تھا کہ مسلمانوں کی تھوڑی سی نفری ہمارے پھیلاؤمیں آکر گم ہو جاتی، لیکن مسلمانوں نے ایسی چال چلی کہ ہمارا پھیلاؤ سکڑ گیا اور ہم پِٹ کر رہ گئے۔‘‘دوسرے جرنیلوں نے بھی اسی طرح کے مشورے دیئے اور ہرقل قائل ہو گیاکہ مسلمانوں کو طاقت ور اور خطرناک دشمن سمجھ کر جنگ کی تیاری کی جائے۔’’لیکن میں اسے اپنی توہین سمجھتا ہوں کہ مسلمان جو کچھ ہی سال پہلے وجود میں آئے ہیں، عظیم سلطنت روم کو للکاریں ۔‘‘ہرقل نے کہا۔’’ہمارے پاس ہماری صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ رومیوں نے ساری دنیا پر دہشت طاری کیے رکھی ہے۔ ہمارا مذہب دیوتاؤں کا مذہب ہے۔ آسمانوں اور زمین پر ہمارے دیوتاؤں کی حکمرانی ہے۔ اسلام ایک انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے جس کے پھیل جانے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔میں صرف یہ حکم دوں گاکہ اس مذہب کے پیروکاروں کو اس طرح ختم کرو کہ اسلام کا نام لینے والا کوئی زندہ نہ رہے۔‘‘اگلے ہی روز ہرقل کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کے ساتھ رومی فوج کی ٹکر ہوئی ہے اور رومی فوج بڑی بری طرح پسپا ہوئی ہے۔یہ عمروؓ بن العاص کے دستے تھے جو تبوک سے آگے بڑھے تو رومی فوج کے کچھ دستے ان کی راہ میں حائل ہو گئے۔یہ شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھے۔جن کے ذمے سرحدوں کی دیکھ بھال کا کام تھا۔ عمروؓ بن العاص بڑے ہوشیار سالار تھے۔انہوں نے ایسی چال چلی کہ اپنے ہراول دستے کو دشمن سے ٹکر لینے کیلئے آگے بھیجا اور دشمن کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی لیکن شام کے عیسائی عربوں کے دستے تھوڑا سا نقصان اٹھا کر پسپا ہو گئے۔عمروؓ بن العاص ایلہ کے مقام پرپہنچ گئے ۔یزیدؓ بن ابی سفیان بھی اپنے دستوں کے ساتھ ان سے آملے۔ جوں ہی مدینہ کے لشکر کے یہ دونوں حصے اکھٹے ہوئے روم کی فوج ان کا راستہ روکنے کیلئے سامنے آگئی۔مؤرخوں کے مطابق روم کی اس فوج کی نفری تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ مسلمانوں کی تھی۔اب دو مسلمان سالار اکٹھے ہو گئے تھے انہوں نے رومیوں کے ساتھ آمنے سامنے کی ٹکر لی۔ رومیوں نے جم کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن قدم جما نہ سکے اور پسپا ہو گئے۔
یزیدؓ بن ابی سفیان نے ایک سوار دستے کو ان کے تعاقب میں بھیج دیا۔ رومیوں پر کچھ ایسی دہشت طاری ہو گئی تھی کہ وہ سوائے کٹ کٹ کر مرنے کہ اور کچھ بھی نہ کر سکے۔شہنشاہ ہرقل کو جب اپنے دستوں کی اس پسپائی کی اطلاع ملی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے اپنے جرنیلوں کو ایک بار پھر بلایا اور حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرکے شام کی سرحد کے باہر کسی جگہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ لڑی جائے اور انہیں وہیں ختم کیا جائے۔
مسلمان سالاروں نے ان جگہوں سے جہاں وہ پڑاؤڈالے ہوئے تھے، چند آدمیوں کو اپنے زیرِ اثر لے لیا،اور انہیں بے انداز انعام و اکرام کا لالچ دیا جس کے عوض وہ مسلمانوں کیلئے جاسوسی کرنے پر آمادہ ہو گئے۔چند دنوں میں ہی وہ مطلوبہ خبریں لے آئے۔ ان کی رپورٹوں کے مطابق رومی جو فوج اکٹھی کر رہے تھے اس کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔ اس فوج کا ایک حصہ اجنادین کی طرف کوچ کر رہا تھا جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی کہ رومی فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہو کر آرہے ہیں۔جاسوسوں نے تیاریوں کی پوری تفصیل بیان کی۔ ابو عبیدہؓ بن الجراح کو امیر المومنینؓ نے یہ حکم دیا تھا کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھے لڑنا پڑا تو وہ یعنی ابو عبیدہؓ پورے لشکر کے سالارہوں گے ۔صورت ایسی پیدا ہو گئی تھی کہ لشکر کے چاروں حصوں کو اکٹھا ہونا پڑا۔ابو عبیدہؓ نے پورے لشکر کی کمان لے لی، لیکن لشکر کو مکمل طور پر ایک جگہ اکٹھا نہ ہونے دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے امیرالمومنینؓ کو تیز رفتار قاصد کے ہاتھ پیغام بھیجا جس میں مکمل صورتِ حال لکھی اور یہ بھی کہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گی۔یہ تھے وہ حالات جن کے پیشِ نظر امیر المومنینؓ نے خا لدؓ کو حکم بھیجا تھا کہ وہ شام کی سرحد پر اس جگہ پہنچیں جہاں مدینہ کا لشکر خیمہ زن ہے۔اس حکم میں یہ بھی لکھاتھا کہ اپنا لشکر کچھ مشکلات میں الجھ گیا ہے ۔اس پیغام نے خالدؓ کو پریشان کر دیا تھا۔ یہ سنایا جا چکا تھا کہ انہوں نے امیر المومنینؓ کے حکم کے مطابق اپنے لشکر کو دو حصو ں میں تقسیم کیا، ایک حصہ مثنیٰ بن حارثہ کے حوالے کر دیا۔خالدؓنے فوج کو فوری کوچ کا حکم دے دیا۔انہوں نے جب فاصلے کا اندازہ کیا، تو وہ اتنا زیادہ تھا کہ خالدؓ کو وہاں پہنچتے بہت دن لگ جاتے ۔انہیں ڈر تھاکہ اتنے دن ضائع ہو گئے تو معلوم نہیں کیا ہو جائے گا۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ رومیوں کی فوج فارسیوں کی نسبت زیادہ طاقتور اور برتر ہے۔خالدؓان راستوں سے واقف تھے۔ سیدھا اور آسان راستہ بہت طویل تھا۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور انہیں بتایاکہ بہت جلد پہنچنے کیلئے انہیں کوئی راستہ معلوم نہیں۔سالارو ں میں سے کسی کو چھوٹا راستہ معلوم نہیں تھا۔
’’ اگر کوئی راستہ چھوٹا ہوا بھی تو وہ سفرکے قابل نہیں ہوگا۔‘‘ایک سالار نے کہا۔’’اگر کسی ایسے راستے سے ایک دو مسافر گزرتے بھی ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ راستہ ایک لشکر کیلئے گزرنے کے قابل ہو۔‘‘’’میں ایک آدمی کو جانتا ہوں ۔‘‘ایک اور سالار بولا۔’’ رافع بن عمیرہ۔ وہ ہمارے قبیلے کا زبردست جنگجو ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ خد انے اسے کوئی ایسی طاقت دی ہے کہ وہ زمین کے نیچے کے بھید بھی بتا دیتا ہے۔ وہ اس صحرا کا بھیدی ہے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے رافع بن عمیرہ کو بلایا گیااور اس سے منزل بتا کر پوچھاگیا کہ چھوٹے سے چھوٹا راستہ کوئی ہے؟
’’زمین ہے تو راستے بھی ہیں۔‘‘رافع نے کہا۔’’یہ مسافر کی ہمت پر منحصر ہے کہ وہ ہر راستے پر چل سکتاہے یا نہیں۔تم منزل تک کسی بھی راستے سے پہنچ سکتے ہو لیکن بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر سانپ بھی نہیں رینگ سکتا۔ میں ایک راستہ بتا سکتا ہوں ، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس سے لشکر کے کتنے آدمی منزل تک زندہ پہنیں گے اور میں یہ بھی بتا سکتاہوں کہ گھوڑا اس صحرائی راستے سے نہیں گزر سکتا، گھوڑا اتنی پیاس برداشت نہیں کر سکتا، اور گھوڑوں کیلئے پانی ساتھ لے جایا نہیں جا سکتا۔‘‘ خالدؓنے اپنا بنایا ہوا نقشہ اس کے آگے رکھا اور پوچھا کہ وہ کون سا راستہ بتا رہا ہے؟’’یہ قراقر ہے۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے نقشہ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔’’یہاں ایک نخلستان ہے جو اتنا سر سبز و شاداب ہے کہ مسافروں پر اپنا جادو طاری کر دیتا ہے ،یہاں سے ایک راستہ نکلتاہے جو سویٰ کو جاتاہے۔ سویٰ میں پانی اتنا زیادہ ہے کہ سارا لشکر اور لشکر کے تمام جانور پانی پی سکتے ہیں لیکن یہ پانی اسے ملے گا جو سویٰ تک زندہ پہنچ جائے گا۔ اوپر سورج کی تپش دیکھو دن کو کتناچل سکو گے ، کتنی دور تک چل سکو گے؟یہ میں نہیں جانتا، اتنے اونٹ لاؤ کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو۔ ابنِ ولید! تم صحرا کے بیٹے ہو مگر اس صحرا سے نہیں گزر سکو گے۔‘‘رافع بن عمیرہ نے جو راستہ بتایا یہ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق اک سو بیس میل تھا، یہ ایک سو بیس میل کا فاصلہ طے کرنے سے منزل تک کئی دن جلدی پہنچا جا سکتا تھا۔خالدؓ وہ سالار تھے جو مشکلات کی تفصیلات سن کر نہیں بلکہ مشکلات میں پڑ کر اندازہ کیا کرتے تھے کہ ان کی شدت کتنی کچھ ہے ، ان کے دماغ میں صرف یہ سمایا ہوا تھا کہ مدینہ کا لشکر مشکل میں ہے، اور اس کی مدد کو پہنچنا ہے ، سیدھے راستے سے فاصلہ چھ سے سات سو میل تک بنتا تھا۔ رافع کے بتائے ہوئے راستے سے جانے سے فاصلہ کم رہ جاتا تھا۔مگر رافع بتاتا تھا کہ اس خطرناک راستے سے جاؤ تو پانچ چھ دن ایسی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے جو انسان کیا برداشت کرے گا گھوڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ پانی تو مل ہی نہیں سکتا، اور سب سے بڑی مشکل یہ کہ مہینہ مئی کاتھا، جب ریگستان جل رہے ہوتے ہیں۔
’’خدا کی قسم ابنِ ولید!‘‘ایک سالار نے کہا۔’’تو اتنے بڑے لشکر کو اس راستے پر نہیں لیجائے گا۔جو تباہی کا اور بہت بری موت کا رستہ ہوگا۔‘‘
’’اور جس کا دماغ صحیح ہو گا وہ اس راستے پر نہیں جائے گا۔‘‘ایک اور سالار نے کہا۔’’ہم اسی راستے سے جائیں گے۔‘‘خالدؓنے ایسی مسکراہٹ سے کہا،جس میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔
’’ہم پر فرض ہے کہ تیری اطاعت کریں۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’لیکن ایک بار پھر سوچ لو۔‘‘’’میں وہ حکم دیتا ہوں جو حکم اﷲمجھے ددیتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہارتے وہ ہیں جن کے ارادے کمزور ہوتے ہیں، اﷲکی خوشنودی ہمیں حاصل ہے اور پھر اﷲکی راہ میں جو مصیبتیں آئیں گی ہم کیوں نہ انہیں بھی برداشت کریں ۔‘‘یہ واقعہ اور یہ گفتگو طبری نے ذرا تفصیل سے بیان کی ہے، خالدؓ کے سالاروں نے ان کے عزم کی یہ پختگی دیکھی تو سب نے پر جوش لہجے میں لبیک کہی، ان میں سے کسی نے کہا۔’’ ابنِ ولید تجھ پر اﷲکا کرم! وہ کر جو تو بہہتر سمجھتا ہے۔ ہم تیرے ساتھ ہیں۔‘‘خالدؓنے اس سفر پر روانگی سے پہلے ایک حکم یہ دیا کہ لشکر کا ہر فرد اونٹ پر سوار ہو گا۔ گھوڑے سواروں کے بغیر پیچھے پیچھے چلیں گے۔ دوسرا حکم یہ کہ عورتوں اور بچوں کو مدینہ بھیج دیا جائے۔ سالاروں کو خالدؓ نے کہا تھا کہ تمام لشکر کو اچھی طرح بتا دیں کہ وہ ایسے راستے پر جا رہے ہیں جس راستے پر پہلے کبھی کوئی لشکر نہیں گزرا۔ ہر کسی کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے۔‘‘مئی کا مہینہ اونٹوں کی فراہمی میں گزر گیا۔ جون ۶۳۴ء )ربیع الآخر ۱۳ھ( کا مہینہ شروع ہو گیا۔اب تو صحرا جل رہا تھا۔خالدؓ نے کوچ کا حکم دے دیا۔ان کے ساتھ نو ہزار مجاہدین تھے جو اس خود کُش سفر پر جا رہے تھے۔قراقر تک سفر ویسا ہی تھا جیسا اس لشکر کا ہر سفر ہوا کرتا تھا۔وہ سفر قراقر سے شروع ہونا تھاجسے مسلمان مؤرخوں نے اور یورپی مؤرخوں نے بھی تاریخ کا سب سے خطرناک اور بھیانک سفر کہا ہے۔مثنیٰ بن حارثہ قراقرتک خالدؓ کے ساتھ گئے۔مثنیٰ کو حیرہ واپس آنا تھا۔قراقر سے جس قدر پانی ساتھ لے جایا جا سکتا تھا مشکیزوں میں بھر لیا گیا۔مٹکے بھی اکٹھے کر لیے گئے تھے۔ان میں بھی پانی بھر لیا گیا۔اگلی صبح جب لشکر روانہ ہونے لگا تو مثنیٰ بن حارثہ خالدؓسے اور اس کے سالاروں سے گلے لگ کے ملے۔یعقوبی اور ابنِ یوسف نے لکھا ہے کہ مثنیٰ بن حارثہ پر رقت طاری ہو گئی تھی۔ان کے منہ سے کوئی دعا نہ نکلی، آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ دعائیں ان کے دل میں تھیں۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ خالدؓ کو اور ان کے نو ہزار مجاہدین کوپھر کبھی دیکھ سکیں گے۔
خالدؓ اونٹ پر سوار ہونے لگے تو رافع بن عمیرہ دوڑتا آیا۔’’ابنِ ولید!‘‘رافع نے خالدؓ کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’اب بھی سوچ لے، رستہ بدل لے، اتنی جانوں سے مت کھیل!‘‘’’ابنِ عمیرہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’اﷲتجھے غارت کرے، مجھے اﷲکی راہ سے مت روک یا مجھے وہ رستہ بتا جو مدینہ کے لشکر تک جلدی پہنچا دے۔ تو نہیں جانتا، توہٹ میرے سامنے سے، اور حکم مان جو میں نے دیا ہے۔‘‘رافع خالدؓ کے آگے سے ہٹ گیا۔خالدؓ اونٹ پر سوار ہوئے اور لشکر چل پڑا۔سب سے آگے رافع کا اونٹ تھا اسے رہبری کرنی تھی۔
مثنیٰ کھڑے دیکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔’’ امیر المومنین نے ٹھیک کہا تھا کہ اب کوئی ماں خالدجیسا بیٹا پیدا نہیں کرے گی۔
۔‘‘وہی صحرا جو رات کو خنک تھا سورج نکلتے ہی تپنے لگا اورجب سورج اور اوپر آیا تو زمین سے پانی کے رنگ کے شعلے اٹھنے لگے۔پانی کے رنگ کا جھلمل کرتا ایک پردہ تھا جو آگے آگے چل رہا تھا۔ اسکے آگے کچھ پتا نہیں چلتا تھا کہ کیا ہے۔ جون کا سورج جب سر پر آیا تو لشکر کے افراد ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔ہرکوئی زمین سے اٹھتی ہوئی تپش کے لرزتے پردے میں لرزتا کانپتا یا لٹکے ہوئے باریک کپڑے کی طرح لہروں کی طرح ہلتا نظر آتا تھا۔مجاہدین نے ایک جنگی ترانہ مل کر گانہ شروع کر دیا، خالدؓنے انہیں روک دیا کیونکہ بولنے سے پیاس بڑھ جانے کا امکان تھا۔ اونٹ کئی کئی دنوں تک پیاسا سفر کر سکتا ہے لیکن انسان پیدل جا رہا ہو یا اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ پیاس برداشت نہیں کر سکتا۔ پہلی شام جب پڑاؤ ہوا تو تمام لوگ پانی پر ٹوٹ پڑے، ان کے جسم جل رہے تھے۔ کھانے کی جگہ بھی انہوں نے پانی پی لیا۔دوسرے دن لشکر کا ہر آدمی محسوس کرنے لگا تھا کہ یہ وہ صحرا نہیں جس میں انہوں نے بے شمار بار سفر کیا ہے۔ یہ تو جہنم ہے جس میں وہ چلے جا رہے ہیں۔ایک تو تپش تھی جو جلا رہی تھی، دوسرے ریت کی چمک تھی جو آنکھیں نہیں کھولنے دیتی تھی۔ریت کا سمندر تھا بلکہ یہ آگ کا سمندر تھا اور لشکر شعلوں میں تیرتا جا رہا تھا۔تیسرے روز کا سفر اس طرح ہولناک اور اذیت ناک ہو گیاکہ ٹیلوں اور نشیب و فراز کا علاقہ شروع ہو گیاتھا۔یہ ریت اور مٹی کے ٹیلے تھے جو آگ کی دیواروں کی مانند تھے۔پہلے تو لشکر سیدھا جا رہا تھا اب تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مڑنا پڑتا تھا۔دیواروں جیسے ٹیلے مجاہدین کو جلا رہے تھے یہاں سب سے زیادہ خطرہ بھٹک جانے کا تھا۔ بعض دیواروں جیسے ٹیلوں کے درمیان جگہ اتنی تنگ تھی کہ اونٹ دونوں طرف رگڑ کھا کر گزرتے تھے۔ اونٹ بدک جاتے تھے کہ ان کے جسموں کے ساتھ گرم لوہا لگایا گیاہے۔تیسری شام پڑاؤ ہوا تو سب کے منہ کھلے ہوئے تھے اور وہ آپس میں بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس شام لشکر نے پانی پیا تو یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ باقی سفر کیلئے پانی نہیں رہا۔ پانی کا ذخیرہ پانچ دنوں کیلئے کافی تھا مگر یہ تیسرے روز ہی ختم ہو گیا۔راستے میں بھی مجاہدین پانی پیتے تھے۔
چوتھا دن قیامت سے کم نہ تھا۔ پانی کی ایک بوند نہیں تھی۔ پیاس کا اثر جسمانی ہوتا ہے اور ایک اثر صحرا کا اپنا ہوتا ہے۔ جو ذہن کو بگاڑ دیتا ہے، یہ ہوتی ہے وہ کیفیت جب سراب نظر آتے ہیں،پانی اور نخلستان دکھائی دیتے ہیں، شہر اور سمندری جہاز نظر آتے ہیں اور مسافر انہیں حقیقت سمجھتے ہیں ۔ریت کی چمک کا اثر بھی بڑا ہی خوفناک تھا۔ لشکر میں کسی نے چلّا کر کہا ’’وہ پانی آگیا۔پہلے میں پیوں گا ۔‘‘وہ آدمی چلتے اونٹ سے کود کر ایک طرف دوڑ پڑا۔ تین چار مجاہدین اس کے پیچھے گئے۔ ’’اسے اﷲکے سپرد کرو۔‘‘ رافع بن عمیرہ نے دور سے کہا۔’’صحرا نے قربانیاں وصول کرنی شروع کر دی ہیں۔ اس کے پیچھے مت دوڑو، سب مرو گے۔‘‘تھوڑی دیر بعد ایک مجاہد بے ہوش ہو کر اونٹ سے گرا وہ اٹھا اور اونٹ کی طرف آنے کے بجائے دوسری طرف چل پڑا کوئی بھی اس کے پیچھے نہ گیا۔ پیچھے نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سب کی آنکھیں بند تھیں۔ایک ریت کی چمک اور تپش آنکھیں کھولنے ہی نہیں دیتی تھی۔چوتھا دن جو پانی کے بغیر گزر رہا تھا صحیح معنوں میں جہنم کے دنوں میں سے ایک تھا۔ایسے لگتا تھا جیسے سورج اور نیچے آگیا ہو ۔پہلے تو سب خود آنکھیں بند رکھتے تھے کیونکہ چمک اور تپش آنکھوں کو جلاتی تھی اب آنکھیں کھلتی ہی نہیں تھیں۔اونٹ تک ہارنے لگے تھے۔ کوئی اونٹ بڑی خوفناک آواز نکالتا بیٹھنے کیلئے اگلی ٹانگوں کو دوہری کرتا اور ایک پہلو پر لڑھک جاتا تھا۔سوار بھی گرتا مگر اس میں اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔لشکر میں ہر کسی کی آنکھیں بند تھیں اور دماغ بیکار ہو گئے تھے۔ انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان کا کوئی ساتھی اونٹ سے گر پڑا ہے یا یہ کہ اس کا اونٹ بھی گر پڑ اہے اور اسے اٹھا کر اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھالیں۔سراب کا شکار ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔خود خالدؓکی حالت ایسی ہو گئی تھی کہ انہیں کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ لشکر میں کیا ہو رہا ہے۔وہ تو عزم اور ایمان کی قوت تھی جو انہیں زندہ رکھے ہوئے تھی اور یہ اونٹ تھے جو چلے جا رہے تھے۔ اگر اونٹ رک جاتے تولشکر کا کوئی ایک بھی فرد ایک قدم نہ چل سکتا۔ گھوڑوں کے منہ کھل گئے تھے اور زبانیں لٹک آئی تھیں۔ مجاہدین کی زبانیں سوج گئی تھیں حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ اس وجہ سے ان کے منہ بھی کھل گئے تھے۔ وہ تو اب لاشوں کی مانند ہو گئے تھے۔ اونٹوں کی پیٹھوں پر اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتے تھے اسی لیے ان میں سے کوئی نہ کوئی گر پڑتا تھا۔ اب وہ عالمِ نزع کے قریب پہنچ رہے تھے ،جسموں کی نمی خشک ہو چکی تھی ۔رات کو لشکر رکا ۔تمام رات مجاہدین نے جاگتے گزاری جسموں کے اندر سوئیاں چبھتی تھیں۔ زبانوں کی حالت ایسی تھی جیسے منہ میں کسی نے لکڑی کا ٹکڑا رکھ دیا ہو۔
سفر کے آخری دن کا سورج طلوع ہوکر مجاہدین کو موت کاپیغام دینے لگا۔ کئی مجاہدین اونٹوں پر بے ہوش ہو گئے۔ وہ خوش قسمت تھے جو لڑھک کر گرے نہیں، یہ لشکر اب ایک لشکر کی طرح نہیں جارہا تھا ۔اونٹ بکھر گئے تھے بعض بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ کئی دائیں اور بائیں پھیل گئے تھے ۔رفتار خطرناک حد تک سست ہو گئی تھی۔ یہ پانی کے بغیر دوسرا دن تھا،اور یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ اب بھی زندہ تھے۔کون سی طاقت تھی جو انہیں زندہ رکھے ہوئے تھی؟ وہ اﷲکا وہ پیغام تھا جو رسولِ کریمﷺلائے تھے اور یہ مجاہدین انسانیت کی نجات کے لیے اﷲکا یہ پیغام زمین کے گوشے گوشے تک پہنچانے کیلئے صحرا کی آگ میں سے گزر رہے تھے۔اﷲنے انہیں بڑی ہی اذیت ناک آزمائش میں ڈال دیا تھا اور اسی کی ذات انہیں زندہ رکھے ہوئے تھی۔غروبِ آفتاب سے بہت پہلے خالدؓ اپنے اونٹ کو رافع بن عمیرہ کے اونٹ کے قریب لے گئے۔’’ابنِ عمیرہ !‘‘خالدؓ نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ زبان سے نکالے۔’’ کیا اب ہمیں اس چشمے پر نہیں ہونا چاہیے تھا۔جس کا تو نے ذکر کیا تھا ۔سویٰ ایک ہی منزل دور رہ گیا ہو گا۔‘‘’’اﷲتجھے سلامت رکھے ولید کے بیٹے!‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’میں آشوبِ چشم کا مریض تھا۔ اس صحرا نے میری آنکھوں کا نور ختم کر دیا ہے۔ میں اب کیسے دیکھوں ؟‘‘’’کیا تو اندھا ہو گیا ہے؟‘‘خالدؓ نے گھبرائی ہوئی آوز میں پوچھا۔’’جو تو دیکھ سکتا تھا وہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا۔کیا ہم بھٹک گئے ہیں؟‘‘مؤرخ واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ رافع بن عمیرہ کی بینائی ختم ہو گئی تھی ۔اس نے ذہن میں کچھ حساب رکھاہوا تھا۔ ان دونوں مؤرخوں نے اس کے صحیح الفاظ اپنی تحریروں میں نقل کیے ہیں۔
’’ابنِ ولید!‘‘ رافع نے کہا۔’’لشکر یہیں روک لے۔اپنے کچھ آدمیوں کو آگے بھیج ،انہیں کہہ کہ وہ عورت کے پستانوں کی شکل کے دو ٹیلوں کو تلاش کریں ۔‘‘خالدؓ نے کچھ آدمیوں کو آگے بھیج دیا یہ آدمی جلد ہی واپس آگئے اور انہوں نے بتایا کہ وہ دو ٹیلے دیکھ آئے ہیں۔رافع نے خالدؓسے کہاکہ اﷲکے کرم سے وہ صحیح راستے پر جا رہے ہیں ۔لشکر کو آگے لے چلو۔’’ابنِ ولید!‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’اب اپنے آدمیوں سے کہہ کہ ایک درخت کو ڈھونڈیں جس پر کانٹے ہی کانٹے ہوں گے اور وہ کوئی اونچا درخت نہیں ہو گا۔ وہ دور سے اس طرح نظر آئے گا جیسے کوئی آدمی بیٹھا ہوا ہو۔یہ درخت ان دو ٹیلوں کے درمیان ہو گا۔‘‘ آدمی گھوم پھر کر واپس آگئے اور انہوں نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ انہیں ٹیلوں کے درمیان اور اردگرد بلکہ دور دور تک کوئی ایسادرخت نظر نہیں آیا۔
رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’سمجھ لو کہ ہم سب مر گئے ۔‘‘اس نے کچھ سوچ کر اور قدرے جھنجھلا کر کہا۔’’ایک بار پھر جاؤ ،درخت مل جائے گا،ریت کے اندر ڈھونڈو۔‘‘ آدمی پھر گئے ،برچھیاں اور تلواریں ریت میں مار مار کر مطلوبہ درخت کھوجنے لگے ۔ایک جگہ انہیں ریت کی ڈھیری نظر آئی۔ریت ہٹائی تو وہاں ایک درخت کا ٹنڈ منڈ سا تنا ظاہر ہوا۔یہ خار دار تھا۔’’اکھاڑ دو اس درخت کو ۔‘‘رافع نے کہا۔’’اور اس جگہ سے زمین کھودو۔‘‘زمین اتنی زیادہ نہیں کھودی گئی تھی لیکن پانی امڈ پڑا اور ندی کی طرح بہنے لگا۔اس گڑھے کو کھود کھود کر کھُلا کرتے چلے گئے۔حتٰی کہ یہ ایک وسیع تالاب بن گیا۔لشکر کے مجاہدین اس پانی پر ٹوٹ پڑے ۔واقدی لکھتا ہے کہ یہ پانی اتنا زیادہ تھا کہ اتنے بڑے لشکر نے پیا ،پھر اونٹوں اور گھوڑوں نے پیا، تب بھی یہ امڈتا رہا۔ مجاہدین نے مشکیزے بھر لیے تب انہیں خیال آیا کہ معلوم نہیں ان کے کتنے ساتھی یپچھے رہ گئے ہیں۔اونٹ بھی تروتازہ ہو چکے تھے اور انسان بھی۔اپنے ساتھیوں کا خیال آتے ہی کئی مجاہدین اونٹوں پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔ وہ منظر بڑا ہولناک تھا ،جگہ جگہ کوئی نہ کوئی مجاہد اور کوئی اونٹ یا گھوڑا ریت پر بے ہوش پڑا جل رہا تھا۔مجاہدین نے ان کے منہ میں پانی ڈالااور انہیں اپنے ساتھ لے آئے۔ بعض مجاہدین شہید ہو چکے تھے۔ انہیں ان کے ساتھیوں نے وہیں دفن کر دیا۔’’ابنِ عمیرہ !‘‘خالدؓنے رافع بن عمیرہ کو گلے سے لگاکر کہا۔’’ تو نے لشکر کو بچا لیا ہے۔‘‘’’اﷲنے بچایا ہے ابنِ ولید!‘‘رافع نے کہا۔’’میں اس چشمے پر صرف ایک بار آیا تھا اور یہ تیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ میں اس وقت کم سن لڑکا تھااور میرا باپ مجھے اپنے ساتھ لایا تھا۔اس چشمے کو اب ریت نے چھپا لیا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ یہاں چشمہ موجود ہے۔یہ اﷲکا خاص کرم ہے کہ چشمہ موجود تھا۔‘‘ ان مجاہدین کی مہم اس سفر پر ختم نہیں ہو گئی تھی۔ یہ تو آزمائش کی ایک کڑی تھی جس میں سے وہ گزر آئے تھے ۔ان کا اصل امتحان ابھی باقی تھا۔شام کی سرحد تک پہنچنے کیلئے ابھی دو منزلیں باقی تھیں لیکن وہ کٹھن نہیں تھیں۔اصل مشکل یہ تھی کہ رومی ان کے مقابلے کیلئے اور انہیں شام کی سرحدوں سے دور ہی ختم کرنے کیلئے اتنی زیادہ فوج اکٹھی کر رہے تھے جس کے مقابلے میں مسلمانوں کی یہ نفری کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی تھی۔
اسلامی فوج کی نفری تو پہلے ہی کم تھی اور خالدؓ نو ہزارنفری کی جو کمک لے کر گئے تھے اس کے ہر فرد کو بالکل خشک اور ناقابلِ برداشت حد سے بھی زیادہ گرم صحرا نے پانچ دنوں میں چوس لیا تھا۔ان کے جسموں میں دم خم ختم ہو چکا تھا۔ان میں کچھ تو شہید ہو گئے تھے اور کچھ ایسے تھے جن پر صحرا نے بہت برا اثر کیا تھا۔وہ آٹھ دس دنوں کیلئے بیکار ہو گئے تھے۔باقی نفری کو بھی دو تین دن آرام کی ضرورت تھی لیکن احوال و کوائف ایسے تھے کہ انہیں آرام کی مہلت نہیں مل سکتی تھی ۔دشمن بیدار اور تیار تھا اور یہ بڑا ہی طاقتور دشمن تھا۔اس وقت کے ملک شام پر رومی حکمران تھے اور ان کی فوج اس دور کی مشہور طاقتور اور مضبوط فوج تھی۔اس دور میں دو ہی شاہی فوجیں مشہور تھیں ۔ایک فارس کی فوج اور دوسری رومیوں کی۔دور دور تک ان دونوں فوجوں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔نفری زیادہ ہونے کے علاوہ ان کے ہتھیار برتر تھے۔روم کی فوج کے متعلق تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ جس راستے سے گزرتی تھی اس راستے کی بستیاں خالی ہو جاتی تھیں۔فارس کی جنگی طاقت کو تو مسلمانوں نے بڑی تھوڑی نفری سے ختم کر دیا تھااور عراق کے بے شمار علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔اب مسلمان دوسری بڑی جنگی طاقت کو للکار رہے تھے۔رومی اکیلے نہیں تھے۔ان کا اتحادی غسان کا بڑا ہی طاقتور قبیلہ تھا۔رومی جب ان علاقوں میں آئے تھے تو غسان واحد قبیلہ تھا جس نے رومیوں کا مقابلہ کیا تھا۔یہ مقابلہ چند دنوں یا مہینوں پر ختم نہیں ہو گیا تھا بلکہ غسانی بڑی لمبی مدت تک لڑتے رہے تھے۔رومیوں نے شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا تو بھی غسانی لڑتے رہے۔ وہ رومی فوج کی سرحدی چوکیوں پر شب خون مارتے رہتے اور کبھی رومیوں کے مقبوضہ علاقے میں دور اندر جا کر بھی حملے کرتے رہتے۔غسانی اور رومیوں کی یہ جنگ نسل بعد نسل چلتی رہی۔ آخر رومیوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ غسانی ایک قبیلہ نہیں قوم ہیں اور انہیں تہہ تیغ نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ رومیوں نے غسانیوں کی الگ قومی حیثیت تسلیم کرلی اور انہیں شام کا کچھ علاقہ دے کر انہیں اس طرح کی خود مختاری دے دی کہ ان کا اپنا بادشاہ ہوگا اور وہ کسی حد تک روم کے بادشاہ کے ماتحت ہوگا،یہ بڑا پرانا واقعہ ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ غسانی قبیلہ ایسی صورت اختیار کر گیا کہ اس کے شاہی خاندان کو روم کا شاہی خاندان سمجھا جانے لگا۔آج کے اردن اور جنوبی شام پرغسانیوں کی حکمرانی تھی۔ یہ بھی رومیوں کی طرح ایک بادشاہی تھی، جس کی فوج منظم اور طاقتور تھی اور اسے ہتھیاروں کے معاملے میں بھی برتری حاصل تھی۔اس بادشاہی کا پایہ تخت بصرہ تھا۔مسلمان رومیوں اور غسانیوں کو للکار کر بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔ جنگ کا یہ دستور ہے کہ حملہ آور فوج کی نفری اس ملک کی فوج سے تین گنا نہ ہو تو دگنی ضرور ہونی چاہیے کیونکہ جس فوج پر حملہ کیا جاتا ہے وہ قلعہ بند ہوتی ہے اور وہ تازہ دم بھی ہوتی ہے۔
حملہ آور فوج بڑا لمبا سفر کرکے آتی ہے اس لیے وہ تازہ دم نہیں ہوتی۔جس فوج پر حملہ کیا جاتا ہے وہ اپنے ملک میں ہوتی ہے جہاں اسے رسد اور کمک کی سہولت موجود ہوتی ہے اس کے مقابلے میں حملہ آور فوج اس سہولت سے محروم ہوتی ہے۔وہاں کا بچہ بچہ حملہ آور فوج کا دشمن ہوتا ہے۔ مسلمان جب شام پرحملہ کرنے گئے تو ان کی نفری ۳۷ ہزار تھی۔ اٹھائیس ہزار پہلے وہاں موجود تھی اورکم و بیش نو ہزار خالدؓ لے کر گئے تھے۔یہ نو ہزار مجاہدین فوری طور پر لڑنے کے قابل نہیں تھے، جس ملک پر وہ حملہ کرنے گئے تھے وہاں کم و بیش ڈیڑھ لاکھ نفری کی تازہ دم فوج موجود تھی اور مقابلے کیلئے بالکل تیار۔ پانچ دنوں کے بھیانک سفر کے بعد جب مجاہدین نے چشمے سے پانی پی لیا کھانا بھی کھا لیا تو ان پر غنودگی کا طاری ہونا قدرتی تھا ۔انہیں توقع تھی کہ انہیں کچھ دیر آرام کی مہلت ملے گی۔ آرام ان کا حق بھی تھا لیکن اپنے سالارِ اعلیٰ خالدؓ کو دیکھا۔ خالدؓ اب اونٹ کے بجائے اپنے گھوڑے پر سوار رتھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک لمحے کابھی آرام نہیں ملے گا۔مؤرخ واقدی نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے ہلکی سی زرہ پہن رکھی تھی ،انہوں نے یہ زرہ اس چشمے پر آکر پہنی تھی۔ زرہ مسیلمہ کذاب کی تھی۔ خالدؓ نے جب اسے شکست دی تھی تو اس کی زرہ اترواکر اپنے پاس رکھ لی تھی۔یہ ارتداد پر فتح حاصل کرنے کی یادگارتھی ۔اس فتح کی ایک نشانی اور بھی خالدؓکے پاس تھی، یہ تلوار تھی ۔یہ بھی مسیلمہ کذاب کی ہی تھی۔خالدؓ نے وہی تلوار کمر سے باندھ رکھی تھی۔واقدی کے مطابق خالدؓکے سر پر زنجیروں والی خود تھی اور خود پر انہوں نے عمامہ باندھا ہوا تھا۔ عمامہ کا رنگ سرخ تھا۔ خود کے نیچے انہوں نے جوٹوپی پہن رکھی تھی وہ بھی سرخ رنگ کی ہی تھی۔خالدؓ کے ہاتھ میں سیاہ اور سفید رنگ کا پرچم تھا جو صرف اس لئے مقدس نہیں تھا کہ یہ قومی پرچم تھا بلکہ اس لئے کہ یہ پرچم ہر لڑائی میں رسولِ کریمﷺاپنے ساتھ رکھتے تھے اور جب آپ ﷺنے خالدؓ کو سیف اﷲ)اﷲکی تلوار( کا لقب عطا فرمایا تو اس کے ساتھ انہیں یہ پرچم بھی دیا تھا۔ اس پرچم کا نام عقاب تھا۔نو ہزار مجاہدین میں جہاں صحابہ کرامؓ بھی تھے، وہاں خالدؓ کے اپنے فرزند عبدالرحمٰن بھی تھے جن کی عمر اٹھارہ سال تھی اور ان میں امیرالمومنین ابو بکرؓ کے نوجوان فرزند بھی تھے ان کا نام بھی عبدالرحمٰن ہی تھا۔مجاہدین کھاپی کر اِدھر اُدھر بیٹھ گئے، انہوں نے اپنے سالارِ اعلیٰ کو گھوڑے پر سوار اپنے درمیان گھومتے پھرتے دیکھا تو سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ خالدؓنے زبان سے کچھ بھی نہ کہا۔وہ ہر ایک کی طرف دیکھتے اور مسکراتے تھے۔ ان کی خود اور زرہ دیکھ کر اور ان کے ہاتھ میں رسولﷺکا پرچم دیکھ کر مجاہدین سمجھ گئے کہ ان کے سالارِ اعلیٰ چلنے کو تیار ہیں۔تمام مجاہدین کسی حکم کے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے اونٹوں کے بجائے گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔وہ جان گئے کہ اﷲکی شمشیر تھوڑی دیر کیلئے بھی نیام میں نہیں جائے گی۔
خالدؓکی جانفزا مسکراہٹ نے پورے لشکر کی تھکن دور کر دی۔ لشکر چلنے کیلئے تیار ہو گیا۔ ’’ولید کے بیٹے یہ دیکھ!‘‘ایک آدمی پر جوش لہجے میں کہتا اور دوڑتا آرہا تھا۔’’یہ دیکھ ولید کے بیٹے!اﷲنے میری بینائی مجھے لوٹا دی ہے۔ میں دیکھ سکتا ہوں، میں تجھے دیکھ رہا ہوں۔‘‘
’’بے شک !اﷲایمان والوں پر کرم کرتا ہے۔‘‘ کسی نے بلندآواز سے کہا۔’’اﷲرحیم و کریم ہے۔‘‘کسی اور نے نعرہ لگایا۔یہ تھا رافع بن عمیرہ جس نے اس لشکرکی رہنمائی اس خطرناک صحرا میں کی تھی ،وہ آشوبِ چشم کا مریض تھا ۔ریت کی چمک اور تپش سے اس کی بینائی ختم ہو گئی تھی لیکن جسم میں چشمے کا پانی گیا اور آنکھوں میں پانی کے چھینٹے پڑے تو رافع کی بینائی واپس آگئی ۔خالدؓ کو اس کی بہت زیادہ خوشی ہوئی جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کے لشکر کا رہنما اور میدانِ جنگ کا شہسوار ہمیشہ کیلئے اندھا نہیں ہو گیاتھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ رافع بن عمیرہ خالدؓ کا داماد تھا۔مجاہدین بغیر آرام کیے اپنی اگلی منزل کو جا رہے تھے۔ اب ان کا سفر سہل تھالیکن اس دشمن پر فتح سہل نظر نہیں آتی تھی جن سے لڑنے وہ جا رہے تھے۔وہ دشمن بہت طاقتور تھا اس کے وہاں قلعے تھے وہ اس کی زمین اور اس کا ملک تھا۔ مسلمان کھلے میدان میں تھے اور اپنے مستقر سے سینکڑوں میل دور تھے۔ انہیں اپنے لیے اور اپنے جانوروں کیلئے خوراک کا خود ہی انتظام کرنا تھا اور ان کیلئے یہ بہت بڑا مسئلہ تھا۔خالدؓ جب اپنے لشکر کے ساتھ شام کی سرحد کی طرف بڑھ رہے تھے اس وقت غسانی بادشاہ جبلہ بن الایہم اپنے امراء اور سالاروں کو حکم دے چکا تھا کہ مسلمانوں کی فوج سرحدوں پر آگئی ہے اور اسے سرحدوں پر ہی ختم کردینا ہے اس وقت خالد بن سعید کو رومی فوج شکست دے چکی تھی اور مدینہ کا اٹھائیس ہزار مجاہدین کا لشکر چار حصوں میں شام کی سرحد پرپہنچ چکا تھا ۔’’ہم نے رومیوں کو شکستیں دی ہیں۔‘‘ غسانی بادشاہ جبلہ نے اپنے امراء اور سالاروں سے کہا تھا ۔’’رومیوں سے بڑھ کر جابر اور جنگجو اور کون ہو سکتا ہے؟ہم نے اس زبردست فوج کو گھٹنوں بٹھا کر اس سے یہ علاقہ لے لیا تھا جس پر آج ہماری حکمرانی ہے۔ تمہارے سامنے مسلمانوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔یہ مت سوچو کہ مسلمانوں نے فارسیوں کو شکست دی ہے اور انہیں اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑا،فارسی بزدل تھے اپنے آباو اجداد کی شجاعت کو یاد کرو ۔اگر تم نے اپنے اوپر مسلمانوں کا خوف طاری کر لیا تو رومی ہی جو آج ہمارے بھائی بنے ہوئے ہیں تم پر چڑھ دوڑیں گے۔ پھر تم دو دشمنوں کے درمیان پس جاؤ گے۔ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے، وہ زیادہ دن تمہارے سامے نہیں ٹھہر سکیں گے۔‘‘
’’شہنشاہ غسان!‘‘ ایک معمر سالار نے کہا۔’’ ان کی تعداد تھوڑی ہے تو کیا وجہ ہے کہ فارس کے تمام نامور سالار ان کے ہاتھوں مارے گئے ہیں؟یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ فارسی بزدل تھے ، کیا ہم اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے رہے؟کیا مسلمانوں نے فراض کے میدان میں رومیوں اور فارسیوں کی متحدہ فوج کو شرمناک شکست نہیں دی؟‘‘
’’ضرور دی ہے۔‘‘جبلہ بن الایہم نے کہا ۔’’میں تمہاری بات کر رہا ہوں، اگر تم نے مسلمانوں کو اپنی تلواروں کے نیچے رکھ لیا تو رومیوں اور فارسیوں پر تمہاری بہادری کی دہشت بیٹھ جائے گی اور تم جانتے ہو کہ اس کا تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا۔ میرا حکم یہ ہے کہ سرحد کی ہر ایک بستی میں یہ پیغام پہنچا دو کہ مسلمانوں کا لشکر یا ان کا کوئی دستہ کسی طرف سے گزرے اس پر حملہ کردو اور اسے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرو، ہر وہ شخص کہ جس نے غسانی ماں کا دودھ پیا ہے وہ اپنے قبیلے کی آن پر جان قربان کردے۔لیکن تین چار مسلمانوں کی جان ضرور لے ۔میں اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے رہا، میں ان مسلمانوں کو کمزور نہیں سمجھتا، جو اپنے وطن سے اتنی دور آگئے ہیں، وہ اپنے عقیدے کے بل بوتے پر آئے ہیں ۔ان کا عقیدہ ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے،اور وہ خد اکے برتر بندے ہیں، اور خدا ان کی مدد کرتا ہے، اگر تم اپنے عقیدوں کو مضبوطی سے پکڑ لو تو تم انہیں کچل کر رکھ دو۔ قبیلے کے بچے بچے کو لڑاؤ، عورتوں کو بھی لڑاؤ اور ہر کوئی یہ کوشش کرے کہ مسلمانوں کو یہاں سے کھانے کو ایک دانہ نہ ملے۔ پینے کو پانی کی بوند نہ ملے اور ان کے اونٹ اور گھوڑے اس گھاس کی ایک پتی بھی نہ کھا سکیں، جو تمہاری زمین نے اگائی ہے۔‘‘خالدؓ کی اگلی منزل سویٰ تھی جس کے متعلق انہیں بتایا گیا تھا کہ سرسبزوشاداب جگہ ہے ۔ان کے راستے میں پہلی بستی آئی تواس سے کچھ دور کم و بیش چالیس گھوڑ سواروں نے مسلمانوں کے ہراول پر اس طرح حملہ کیا کہ گھوڑے اچانک ٹیلوں کے پیچھے سے نکلے ،سرپٹ دوڑتے آئے اور برچھیوں سے مجاہدین پر ہلہ بول دیا،مجاہدین بھی شہسوار تھے اور اس طرح کی چھاپہ مار لڑائی میں مہارت رکھتے تھے ۔اس لیے انہیں زیادہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا ۔کچھ مجاہدین زخمی ہو گئے اور انہوں نے حملہ آور سواروں میں سے تین چار کو گرالیا۔یہ غسانی سوار تھے جنہوں نے پہلے ہلے میں مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ وہ لڑنا جانتے ہیں، اور ان میں لڑنے اور مرنے کا جذبہ بھی ہے۔وہ ہلہ بول کر آگے نکل گئے اور بکھر گئے تھے ۔دور جا کر وہ پھر واپس آئے۔اب مسلمان پوری طرح تیار تھے۔غسانیوں نے ہلہ بولا، وہ برچھیوں اور تلواروں سے مسلح تھے۔مسلمانوں نے انہیں گھیرے میں لینے کی کوشش کی لیکن وہ بے جگری سے لڑتے ہوئے نکل گئے
ان کا انداز جم کر لڑنے والا تھا ہی نہیں۔تقریباًاتنے ہی غسانی سواروں نے مجاہدین کے لشکر کے عقبی حصے پر حملہ کیا، یہ بھی چھاپہ مار قسم کا ہلہ تھا، گھوڑے سر پٹ دوڑتے آئے، اور آگے نکل گئے۔خالدؓلشکر کے وسط میں تھے انہیں اطلاع ملی تو انہوں نے لشکر کی ترتیب بدل دی لیکن وہ لشکر کو زیادہ نہ پھیلا سکے کیونکہ وہ علاقہ ہموار نہیں تھا۔کچھ دیر بعد خالدؓ کے سامنے چند ایک غسانی قیدی لائے گئے، انہیں مجاہدین نے گھوڑوں سے گرا لیا تھا، ان سے جب جنگی نوعیت کی معلومات حاصل کی جانے لگیں توان سب نے بڑی جرات سے باتیں کیں۔’’تم جدھر جاؤ گے تم پر حملے ہوں گے۔‘‘ایک قیدی نے کہا۔’’جب آدمی نہیں ہوں گے وہاں تم پر عورتیں حملہ کریں گی۔‘‘ایک اور قیدی نے کہا۔’’تمہیں کس نے بتایا ہے کہ ہم تمہارے دشمن ہیں؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’دشمن نہیں ہو تو یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ایک قیدی نے جواب دیا۔
ان قیدیوں نے اور کچھ نہ بتایا کہ ان کی فوج کتنی ہے اور کہاں کہاں ہے، ان سے یہ پتہ چل گیا کہ تمام سرحدی بستیوں میں ان کے بادشاہ کا یہ حکم پہنچا تھا کہ مسلمانوں پر حملے کرتے رہیں تاکہ جب مسلمان غسانیوں کی فوج کے مقابلے میں آئیں تو وہ تھکے ہوئے ہوں اور کمزور ہو چکے ہوں۔’’یہاں سے تمہیں اناج کا ایک دانہ نہیں ملے گا۔‘‘ایک قیدی نے کہا۔’’پینے کو پانی کا ایک قطرہ نہیں ملے گا۔‘‘’’تمہارے اونٹوں اور گھوڑوں کو ہم بھوکا مار دیں گے۔‘‘ایک اور قیدی نے کہا۔’’ہماری زمین سے یہ گھاس کی ایک پتی نہیں کھا سکیں گے۔‘‘’’کیا تمہاری موت تمہیں یہاں لے آئی ہے؟‘‘ایک اور قیدی بولا۔’’لڑنے آئے تھے تو خالد بن ولید کو ساتھ لاتے۔‘‘ایک اور قیدی نے کہا۔’’وہ آجاتا تو تم کیاکرتے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’سنا ہے اس کے سامنے اس کا کوئی دشمن پاؤں پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔‘‘قیدی نے جواب دیا۔’’اور سنا ہے وہ بڑا ظالم آدمی ہے، قیدیوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر دیتا ہے۔‘‘’’اگر وہ اتنا ظالم ہوتا،تو تم اس وقت اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوتے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمہارے سر تمہارے کندھوں پر نہ ہوتے۔‘‘’’کہاں ہے وہ؟‘‘قیدی نے پوچھا۔’’تمہارے سامنے کھڑا ہے۔‘‘خالدؓ بن ولید نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’میں تمہاری بہادری کی تعریف کرتا ہوں، ایسا حملہ بہادر کیا کرتے ہیں جیسا تم نے کیا ہے۔‘‘تمام قیدیوں پر خاموشی طاری ہو گئی تھی اور وہ حیرت زدہ تاثر چہروں پر لیے خالدؓ کو دیکھ رہے تھے۔’’کیا تم مجھ سے ڈر رہے ہو کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔ان میں سے کوئی بھی نہ بولا۔’’نہیں۔‘‘خالدؓنے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا۔’’تمہیں قتل نہیں کیا جائے گا، تمہارے بہت سے بھائی ابھی ہماری قید میں آئیں گے۔کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا، قتل وہی ہوگا جو ہمارے مقابلے میں آئے گا……کیا تم غسان کے لشکر کے آدمی ہو؟‘‘’’نہیں!‘‘ایک قیدی نے جواب دیا۔’’ہم اس بستی کے رہنے والے ہیں۔‘‘
’’تم میرا نام کس طرح جانتے ہو؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’ابنِ ولید!‘‘ایک ادھیڑ عمر قیدی نے جواب دیا۔’’تیرا نام غسان کے بچے بچے نے سنا ہے۔غسان کی فوج تیرے نام سے واقف ہے۔فارس کی فوج کو شکست دینے والا سالار عام قسم کا انسان نہیں ہو سکتا۔لیکن ابنِ ولید!اب تیرا مقابلہ قبیلہ غسان سے ہے۔‘‘خالدؓ اس شخص کے ساتھ بحث نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے اس کے ساتھ اور دوسرے قیدیوں کے ساتھ دوستانہ انداز میں باتیں جاری رکھیں اور ان سے کچھ باتیں معلوم کرلیں،مؤرخ واقدی نے لکھا ہے کہ خالدؓکو اندازہ ہی نہیں تھا کہ غسانیوں اور ومیوں تک ان کا صرف نام ہی نہیں پہنچا تھا بلکہ ان کے نام کے ساتھ کچھ روائتیں اور حکایتیں بھی پہنچ گئی تھیں، بعض لوگ خالدؓ کو مافوق الفطرت شخصیت سمجھنے لگے تھے۔خالدؓ آگے بڑھتے گئے،غسانیوں کے گروہوں نے دواور جگہوں پر مسلمانوں کے لشکر پر حملہ کیا، ایک حملہ جو چھاپہ مار قسم کا تھا، خاصا سخت تھا۔مسلمان چونکہ چوکس اور تیار تھے اس لیے ان کا زیادہ نقصان نہ ہوا۔حملہ آوروں کا جانی نقصان زیادہ ہوا۔خالدؓکو قیدیوں سے معلوم ہو چکا تھا کہ ان پر ان حملوں کا مقصد کیا ہے۔انہوں نے سوچا کہ اس طرح مزاحمت جاری رہی توانہیں اپنے لشکر کے کھانے پینے کیلئے بھی کچھ نہیں ملے گا۔وہ سویٰ کے قریب ظہر اور عصر کے درمیان پہنچے تو انہیں بڑا ہی وسیع سبزہ زار نظر آیا۔اس میں بے شمار بھیڑیں ،بکریاں اور مویشی چر رہے تھے۔یہ وسیع چراگاہ تھی اس کے قریب سویٰ کی بستی تھی۔خالدؓ نے اس خیال سے کہ پیشتر اس کے کہ ان پر حملہ ہو،انہوں نے حکم دے دیا کہ تمام بھیڑ بکریاں اور مویشی پکڑ لیے جائیں اور انہیں کھانے کیلئے اور ان میں جودودھ دینے والے جانورتھے انہیں دودھ کیلئے استعمال کیا جائے۔مجاہدین ان جانوروں کو پکڑنے لگے تو بستی والوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔غسانیوں کے گھوڑے اچھے تھے اور ان کے ہتھیار بھی اچھے تھے لیکن مسلمانوں کے آگے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔خالدؓنے چراگاہ پر قبضہ کرلیا،جب بستی میں گئے تو وہاں لڑنے والا ایک آدمی بھی نہیں تھا،وہ بوڑھے تھے اور عورتیں تھیں اور بچھے تھے۔مسلمانوں کو دیکھ کر وہ بھاگنے لگے ۔عورتیں اپنے بچوں کو اٹھائے چھپ گئیں یا بھاگ اٹھیں۔خالدؓ کے حکم سے ان سب کو روک کر کہا گیا کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی ۔اگر بستی سے مسلمان لشکرکے خلاف کوئی کاروائی ہوئی تو بستی کو اجاڑ دیا جائے گا۔مخبروں نے خالدؓکو اطلاع دی کہ کچھ دور آگے ایک قلعہ ہے جس میں عیسائی فوج ہے اور اس کا سالار رومی ہے۔یہ اطلاع بھی ملی کہ سویٰ کے بھاگے ہوئے غسانی اس قلعے میں چلے گئے ہیں۔
اس قلعے کا نام اَرک تھا۔سورج غروب ہو چکا تھا۔شام گہری ہو گئی،قلعے کے دروازے سورج غروب ہوتے ہی بند ہو گئے تھے۔اس کے بعد قلعے کے سنتریوں کو جو دیوار پر ٹہل رہے تھے گھوڑوں کے ٹاپ سنائی دیئے۔سنتریوں نے خبردار ہوشیار کی صدائیں لگانی شروع کردیں۔کماندار دیوار پر گئے اور نیچے دیکھا۔بہت سے گھوڑے دوڑے آرہے تھے۔وہ قلعے کے بڑے دروازے پر آکر رک گئے۔ابھی اورگھوڑے اور اونٹ آرہے تھے۔’’کون ہو تم لوگ؟‘‘ دروازے کے اوپر ایک بُرج سے ایک کماندار نے پوچھا۔’’ہم غسانی ہیں۔‘‘ باہر سے ایک سوار نے جواب دیا۔’’مسلمانوں کا لشکر آرہا ہے ۔ہم نے سویٰ میں انہیں روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ہم ان کے مقابلے میں جم نہ سکے۔ ہم بستی میں جاتے تو مسلمان ہمیں زندہ نہ چھوڑتے۔‘‘’’کیا تم پناہ لینے آئے ہو؟‘‘’’پناہ بھی لیں گے۔‘‘ایک غسانی سوار نے جواب دیا۔’’اور مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے بھی۔تمہیں ہماری ضررت ہو گی۔‘‘رومی سالار کو بلایا گیا۔اس نے ان لوگوں سے اپنی تسلی کیلئے کئی سوال کیے اور ان کیلئے قلعے کا دروازہ کھلوادیا۔انہوں نے رومی سالار کو تفصیل سے بتایا کہ مسلمانوں کی نفری کتنی ہے اور اب وہ کہاں ہیں۔اگلی صبح طلوع ہوئی تو خالدؓکا لشکر قلعے تک پہنچ گیا تھا اور قلعے کو محاصرے میں لے رہا تھا۔عیسائی فوج جو قلعے میں تھی قلعے کی دیواروں پر چلی گئی اور فوج کا ایک حصہ قلعے کے بڑے دروازے سے کچھ دور کھڑا ہوگیا۔اس حصے کو ایسی صورتِ حال کیلئے تیاررکھاگیا کہ دروازہ ٹوٹ جائے تو یہ دستہ حملہ آوروں کو اندر نہ آنے دے اور حکم ملنے پر باہر جا کر مسلمانوں پر حملے کرے۔قلعے کے باہر للکار اور نعرے گرج رہے تھے۔’’قلعہ ہمارے حوالے کر دو۔‘‘خالدؓ کے حکم سے رافع بن عمیرہ نے بلند آواز سے کہا۔’’ورنہ ہر غسانی قتل ہونے کیلئے تیار ہو جائے،ہتھیار ڈال دو اور کسی کو باہر بھیجوجو ہمارے ساتھ صلح کی شرطیں طے کرے۔‘‘’’اے مسلمانو!‘‘اوپر سے ایک کماندار نے للکار کر کہا۔’’یہ قلعہ تمہیں اتنی آسانی سے نہیں ملے گا۔‘‘
واقدی لکھتا ہے کہ قلعہ میں ایک ضعیف العمر عالم تھا۔اس نے رومی سالار کو بلایا۔اس عالم کی قدرومنزلت تھی اور غسانی اس کا حکم مانتے اور اس کی ہر بات کو برحق تسلیم کرتے تھے۔’’کیا اس فوج کا پرچم کالے رنگ کا ہے؟‘‘عالم نے پوچھا۔’’ہاں مقدس باپ!‘‘رومی سالار نے جواب دیا۔’’ان کا جھنڈا نظر آرہا ہے جو سفید اور کالے رنگ کا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: