Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 9

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 9

–**–**–

کیا یہ فوج صحرا میں سے اس راستے سے گزر کر آئی ہے جس راستے سے کبھی کوئی نہیں گزرا؟‘‘عالم نے پوچھا۔مؤرخ واقدی، طبری اور ابنِ یوسف نے لکھا ہے کہ دو مخبروں نے اس عالم کو بتایا کہ مسلمانوں کی فوج صحرا کے اس حصے میں سے گزر کر آئی ہے جہاں اونٹ بھی نہیں جاتے اور جہاں سانپ بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔’’کیا اس فوج کے سالار کا قد اونچا ہے؟‘‘معمر عالم نے پوچھا۔’’کیا اس کا جسم گٹھا ہوا ہے، اور اس کے کندھے چوڑے ہیں؟‘‘’’مقدس باپ!‘‘کسی نے جواب دیا۔’’قد تو ان سب کے اونچے ہیں اور جسم بھی سب کے گٹھے ہوئے ہیں لیکن اس کے کندھے سب سے چوڑے ہیں۔‘‘’’کیا اس کی داڑھی زیادہ گھنی ہے؟‘‘ تفصیل سے پڑھئے
عالم نے پوچھا۔’’اور کیا اس کے چہرے پر کہیں کہیں چیچک کے گہرے داغ ہیں؟‘‘’’ہاں مقدس درویش!‘‘کسی اور نے جواب دیا۔’’اس کی داڑھی دوسروں سے زیادہ گھنی ہے اور یہ داڑھی اس کے چہرے پر بہت اچھی لگتی ہے اور اس کے چہرے پر چیچک کے کچھ داغ ہیں۔‘‘اس عالم درویش نے رومی سالار اور عیسائی سرداروں کی طرف دیکھا اور کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے اپنا سر دائیں بائیں دو بار ہلایا۔’’یہ وہی شخص ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ہمت تم میں سے کسی میں بھی نہیں ۔‘‘اس نے کہا۔’’اَے کہ تو جس کا احترام ہم سب پر لازم ہے ،کیا کہہ رہا ہے؟‘‘رومی سالار نے کہا۔’’وہ تو ہمارا قیدی ہو گا جس سے تو ہمیں ڈرا رہا ہے۔‘‘’’کیا تو نے ان کا انجام نہیں دیکھا جنہوں نے اس کا مقابلہ کیا تھا؟‘‘عالم نے کہا۔’’کیا وہ آسمانوں کا کوئی دیوتا ہے جسے زمین کا کوئی انسان شکست نہیں دے سکتا؟‘‘ایک عیسائی سردار نے پوچھا۔’’اے عیسائی سردار!‘‘عالم نے کہا۔’’وہ چوڑے کندھوں اور چیچک کے داغوں والا جو مدینہ سے آیا ہے۔اس کے پاس عَلَم ہے اور میرے پاس علم ہے۔تیرے پاس نہ عَلَم ہے نہ علم۔تو رومی نہیں، تو غسانی بھی نہیں اور جو مجھے نظر آتا ہے وہ تو نہیں دیکھ سکتا……اور تو کہتا ہے کہ وہ آسمان کا دیوتا تو نہیں……سن رومی سالار! اور تو بھی سن عیسائی سردار!جو اپنے لشکر کو اس صحرا میں سے زندہ گزار لایا ہے جہاں کی ریت پہلے اندھا کرتی پھر جسم کوخشک لکڑی بناتی اور پھر جلا دیتی ہے وہ انسان آسمانوں کے دیوتاؤں کو بھی شکست دے سکتا ہے……میں کچھ اور نہیں کہتا سوائے اس کے کہ قلعہ اس کے حوالے کردو،اور اگر لڑنا چاہو تو عقل اور ہوش سے کام لینا لیکن عقل تمہارا ساتھ نہیں دے گی۔‘‘اس وقت جب یہ عالم اور درویش قلعہ دار اور عیسائی سرداروں کو بتا رہا تھا کہ وہ خالدؓ کے مقابلے میں آئیں تو ذرا سوچ لیں، اس وقت قلعے کے اندر مسلمانوں کی للکار سنائی دے رہی تھی۔ ’’دروزے کھول دو……ہتھیار ڈال دو……ہم قلعہ لینے آئے ہیں……اپنے لشکر کو، عورتوں کو اور بچوں کو بچاؤ۔‘‘رومی سالار عیسائی سرداروں کے ساتھ قلعے کی دیوار پر آیا اور ہر طرف جا کر دیکھا۔اسے مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ دکھائی نہیں دے رہی تھی کہ وہ قلعہ سر کر لیتی لیکن وہ مسلمانوں کا پرچم عقاب دیکھتا تو وہ اپنے آپ میں دھچکہ محسوس کرتا تھا۔’’کیا یہی ہے سارا لشکر؟‘‘رومی سالار نے کسی سے پوچھا۔’’یہی نہیں ہو سکتا۔‘‘
’’یہ لشکر اتنا ہی ہے۔‘‘اسے جواب ملا۔’’تیروں کا مینہ برسا دو ان پر!‘‘اس نے حکم دیا۔’’قریب آئیں تو برچھیاں پھینکو۔‘‘دیوار سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔’’خداکی قسم!یہ تیر ہمیں نہیں روک سکتے۔‘‘خالدؓ نے گلا پھاڑ کر کہا۔’’ایسے تیر ہم پر بہت برسے ہیں۔تیر اندازوں کو آگے کرو۔دروازوں پر ہلہ بول دو……اور سب سے کہہ دو کہ یہ شام کا پہلا قلعہ ہے۔اگر ہم پہلے قلعے پر ہار گئے تو شکست ہمارا مقدر بن جائے گی۔‘‘خالدؓ کے قاصدوں نے جب قلعے کے چاروں طرف یہ پیغام پہنچا دیا تو تیر اندازتیروں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھے اور اندھا دھند نہیں بلکہ ایک ایک آدمی کا نشانہ لے کر تیر چلا نے لگے،سب سے زیادہ تیر انداز قلعے کے بڑے دروازے کے سامنے جمع ہو گئے تھے اور دروازے کے اوپر اور بُرجوں میں تیر پھینک رہے تھے۔مجاہدین کی بے خوفی اور شجاعت کا یہ عالم تھا کہ کئی مجاہدین دروازے تک پہنچ گئے اور کلہاڑیوں سے دروازہ توڑنے لگے۔دروازہ مضبوط تھاجسے اس حالت میں توڑنا آسان نہیں تھا کہ اوپر سے تیر آرہے تھے لیکن مجاہدین کی اس جرات نے اور لشکر کے نعروں نے قلعے والوں کا حوصلہ توڑ دیا۔ان پر اپنے عالم درویش کی باتوں کا اثر بھی تھا۔’’اب بھی وقت ہے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے ایک بلند آواز مجاہد نے اعلان کیا۔’’قلعہ دے دو گے تو فائدے مین رہو گے ۔قلعہ ہم نے لے لیا تو ہم سے رحم کی امید نہ رکھنا۔‘‘تھوڑی ہی دیر بعد قلعے پر سفید جھنڈا لہرانے لگا۔خالدؓ نے اپنے سالاروں کی طرف قاصد دوڑا دیئے کہ رُک جاؤ۔’’باہر آکر بات کرو۔‘‘مسلمانوں کی طرف سے اعلان ہوا۔قلعے کا دروازہ کھلا۔رومی سالار دو تین عیسائی سرداروں کے ساتھ باہر آیا اورمدینہ کے اس سالار کے سامنے آن کھڑا ہوا جس کے کندھے چوڑے، داڑھی گھنی اور جس کے چہرے پر چیچک کے چند ایک داغ تھے۔’’خدا کی قسم!تو عقل والا ہے۔‘‘خالدؓ نے رومی سالار سے کہا۔’’تو نے اپنی آبادی کو اور اپنے لشکر کو قتلِ عام سے بچا لیا ہے۔اب تو مجھ سے وہ توقع رکھ سکتا ہے جو دوست دوستوں سے رکھا کرتے ہیں۔‘‘خالدؓ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔رومی سالار نے مصافحہ کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا۔’’ہاتھ نہیں!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’پہلے تلوار۔‘‘رومی سالا رنے اپنی کمر بند سے تلوار مع نیام کھول کر خالدؓ کے حوالے کردی۔پھر عیسائی سرداروں نے اپنی اپنی تلواریں اتار کر خالدؓ کے آگے پھینک دیں۔’’اب بتا اے سالارِ مدینہ!‘‘رومی سالار نے پوچھا۔’’تیری اور شرط کیا ہے؟کیا ہماری جوان لڑکیاں اور بچے تیرے لشکر سے محفوظ رہیں گے؟‘‘’’ہم تمہاری لڑکیاں اٹھانے نہیں آئے اے رومی سالار!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم جزیہ لیں گے۔کوئی اور محصول نہیں لیں گے۔اگر تو کچھ دیر اور لڑتا اور ہم قلعہ اپنے زور پر لیتے تو اَرک کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی اور اندر لاشوں کے ڈھیر لگے ہوتے۔تو امن سے آیا ہے امن سے جا،اپنی لڑکیوں کو،بچوں کواور ان کی ماؤں کو ساتھ لے جا ……اور دل میں یہ بات رکھ کہ ہم لوٹ مار کرنے نہیں آئے ،ہم کچھ دینے آئے ہیں،یہ ہمارا عقیدہ ہے اسلام، اس پرغور کرنا۔‘‘
مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومی سالار اور عیسائی سردار خوف زدہ حالت میں آئے تھے۔خوف یہ تھا کہ خالدؓانہیں قتل کرادے گا،اور قلعے میں کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، لیکن خالدؓ نے جزیہ کے سوا اور کوئی شرط عائد نہ کی۔اب رومی اور عیسائی خوف زدہ نہیں حیرت زدہ تھے۔انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی فاتح مفتوح کے ساتھ اتنی فیاضی سے پیش آسکتا ہے۔ان لوگوں پر کرم یہ کیا گیا کہ صرف فوج کو وہاں سے نکالا گیا۔باقی تمام آبادی امن و امان میں وہاں موجود رہی۔خالدؓ کو وہاں سے مقامی گائیڈ مل گئے تھے۔اَرک سے آگے دومقامات سخنہ اور قدمہ تھے۔خالدؓ نے اَرک پر قبضہ کر لیا تھا لیکن اپنے لشکر کو قصبے کے باہر خیمہ زن کیا۔رات کو خالدؓ نے اپنے سالاروں کے ساتھ بڑے جذباتی انداز سے اﷲکا شکر ادا کیا۔شام کے پہلے ہی قلعہ دار نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ شام کی سرحد سے قریب پہنچ کر خالدؓ کی چال ڈھال میں تبدیلی سی آگئی تھی۔وہ سرخ رنگ کا عمامہ سر پر رکھتے تھے۔مسیلمہ کذاب کی تلوار ان کے پاس رہتی تھی۔رسولِ اکرمﷺکا دیا ہوا مقدس پرچم ان کے خیمے پر لگا رہتا، اور خالدؓ کو اکثر دیکھا گیا کہ اس مقدس پرچم پر نظریں گاڑے کھڑے ہیں۔کوچ اور پیش قدمی کے دوران بھی وہ اس پرچم عقاب کودیکھتے تو ان کی نظریں کچھ دیر پر چم پر جمی رہتی تھیں۔انہیں شاید یہ احساس پریشان کر رہا تھا کہ وہ وطن سے بہت دور ایک طاقتور ملک کو فتح کرنے آگئے ہیں لیکن ان کی باتوں اور مسکراہٹوں میں حوصلہ مندی صاف نظر آتی تھی۔رات کو خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا۔’’بیشک اﷲغفورالرحیم ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’فتح اور شکست اسی کے ہاتھ میں ہے۔ہم لڑتے ہیں تو اﷲکے نام پر ہی لڑتے ہیں، جانیں دیں گے تو اسی کے نام پر دیں گے……میرے دوستو!کیسے شکر بجالاؤگے رب کریم کا جس نے تمہارے نام کا خوف تمہارے قدم یہاں پڑنے سے پہلے ہی دشمنانِ اسلام کے دلوں پر طاری کر دیا تھا۔کیسے احسان چکاؤگے اپنے اﷲکا جس نے پہلا ہی قلعہ کسی جانی نقصان کے بغیر تمہاری جھولی میں ڈال دیا ہے۔تکبر نہ کرنا، اور یہ نہ بھولنا کہ ہمارے ساتھ وہ پرچم ہے جو رسول اﷲﷺاپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔یہ پرچم نہیں یہ ہمارے رسول اﷲﷺکی روحِ مقدس ہے جو ہمارے ساتھ ہے……‘‘
’’تم نے صبر اور تحمل کی، جرات اور شجاعت کی جو روایت قائم کی ہے یہ ہماری آنے والی نسلوں کو راستہ دکھانے والی روشنی کا کام دے گی۔ہمیں ابھی اور روایات قائم کرنی ہیں، اور یہی روایات اسلام کو زندہ رکھیں گی۔‘‘ایسی کچھ اور باتیں کرکے خالدؓ اپنی اگلی پیش قدمی کے متعلق احکام دینے لگے۔انہوں نے دو دستوں کے سالاروں سے کہا کہ وہ اگلے دو مقامات پر قبضے کیلئے جائیں گے۔ ایک کو سخنہ اوردوسرے کو قدمہ جانا تھا۔خالدؓ نے انہیں کہا کہ انہیں ایک ایک دستے سے ان دونوں بستیوں کو لینا ہے۔جاسوسوں کی اطلاع کے مطابق یہ دونوں بستیاں چھوٹے چھوٹے قلعوں یا قلعہ نما حویلیوں کا مجموعہ تھیں۔’’اَرک کی فتح دونوں بستیوں کی فتح کو مشکل بنا چکی ہوگی۔‘‘خالدؓ نے سالاروں سے کہا۔’’اَرک کے شکست خوردہ آدمی وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔عیسائی اور رومی ارک کی شکست کا انتقام ضرور لیں گے۔تمہیں بڑے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔پسپا نہ ہونا، میں کمک تیاررکھوں گا۔اﷲنے ہمیں یہ اڈہ دے دیا ہے۔میں تمہاری مدد کو پہنچوں گا۔اﷲتمہارے ساتھ ہے۔‘‘خالدؓ نے سالار ابو عبیدہؓ کے نام ایک پیغام لکھوایا اور ایک قاصد کو دے کر کہا کہ فجر کی نماز کے فوراًبعد وہ روانہ ہو جائے گا،اور یہ پیغام ابو عبیدہؓ کو دے آئے۔ابو عبیدہؓ ان اٹھائیس ہزار مجاہدین کے ایک حصے کے سالار تھے جو امیرالمومنین ابوبکرؓنے مدینہ سے تیار کراکے شام کی فتح کیلئے روانہ کیا تھا۔اس لشکر کے چار حصے کیے گئے تھے اور ہر حصہ شام کی سرحد پرایک دوسرے سے دور مختلف جگہوں پر پہنچ گیا تھا۔سالار ابو عبیدہؓ جابیہ کے علاقے میں تھے۔خالدؓ نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ جہاں بھی ہیں وہیں رہیں اور جب تک انہیں خالدؓ کی طرف سے کوئی حکم نہ ملے وہ کوئی حرکت نہ کریں۔’’اور میں تدمُر جارہا ہوں۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بتایا۔’’تدمُر باقاعدہ قلعہ ہے۔اسے سرکرنا آسان نہیں ہوگااس لیے اسے میں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے……میرے رفیقو!معلوم نہیں ہم ایک دوسرے کو زندہ مل سکیں گے یا نہیں۔یہ خیال رکھنا کہ ہم اﷲکے حضور اکٹھے ہوں گے تونہ اﷲکے آگے شرمسار ہوں نہ ایک دوسرے کے آگے!‘‘
خالدؓ کے ساتھ مجاہدین کاجو لشکر تھا اس کی تعداد نوہزار پوری نہیں تھی۔اسے بھی خالدؓ نے تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ہر حصے کو ایک ایک مقام فتح کرنا تھا، خالدؓ نے بہت بڑا خطرہ مول لیا تھا لیکن انہیں اﷲکی ذات پر اتنابھروسہ تھا کہ انہوں نے اتنا بڑا خطرہ مول لے لیا۔صبح ہوتے ہی خالدؓ تدمر کی طرف کوچ کر گئے اور دو سالار اپنے اپنے دستوں کو لے کر سخنہ اور قدمہ کو روانہ ہوگئے۔خالدؓ نے جاتے ہی تدمر کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔اس میں بھی عیسائیوں کی فوج تھی۔خالدؓنے نعروں کے ساتھ قلعے کے دروازوں پر ہلے بولے اور بار بار اعلان کرایا کہ قلعہ ان کے حوالے کر دیا جائے،یہ دیکھا گیا کہ قلعہ کے دفاع میں لڑنے والوں میں کوئی جوش و خروش نہیں تھا۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ قلعے کا دروازہ کھلا اور عیسائی سردار باہر آگئے۔انہوں نے خالدؓ سے پوچھا کہ وہ کن شرائط پر صلح کرنا چاہتے ہیں؟’’جزیہ ادا کرو۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اور یہ معاہدہ کہ یہاں سے مسلمانوں کا جوبھی لشکر یا دستہ گزرا کرے گا اسے کھانے پینے کاسامان تم مہیا کرو گے اور قلعہ میں رُکنا ہوا تو تم اسے جگہ دوگے۔‘‘’’تمہاریفوج لوٹ مار تو نہیں کریگی؟‘‘ایک عیسائی سردار نے پوچھا۔’’جزیئے کے عوض تمہاری عزت اور تمہاری جانوں اور اموال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہوگی۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’کسی اور نے تم پر حملہ کیا تو مسلمان تمہاری مدد کو پہنچیں گے اور تم رومی اور غسانیوں کا ساتھ نہیں دو گے۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ایک سردار نے کہا۔’’ہم نے جیسا سنا تھا تجھے ویسا ہی پایا۔اب تو ہمیں اپنا دوست پائے گا۔‘‘عیسائیوں کے سب سے بڑے سردار نے اعلیٰ نسل کا ایک گھوڑا خالدؓ کو پیش کیا۔یہ بڑا قیمتی گھوڑا تھا۔یہ دوسرا قلعہ تھا جو خالدؓکے قدموں میں آن پڑا اور خالدؓ اﷲکے حضور سجدے میں گر پڑے۔ادھر سخنہ اور قدمہ میں ایک جیسا ہی معجزہ ہوا۔دونوں دستوں کے سالاروں پر ہیجانی کیفیت طاری تھی۔ایک خطرہ یہ تھا کہ وہ دشمن ملک کے زیادہ اندر یعنی گہرائی میں جا رہے تھے،دوسرے یہ کہ ارک سے فوجی چلے گئے تھے۔ان کا ان قصبوں میں ہونا وہاں کے لوگوں کو ساتھ ملا کر مقابلے میں آنا لازمی تھااور سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ دونوں سالاروں کے پاس صرف ایک ایک دستہ تھا۔دونوں دستے تقریباًایک ہی وقت اپنے اپنے ہدف پر پہنچے۔دونوں سالاروں نے اپنے اپنے طور پر یہ طے کر لیا تھا کہ ان کامقابلہ اگر زیادہ تعداد سے ہو گیا تو وہ جم کر نہیں لڑیں گے بلکہ گھوم پھر کر اوردشمن کو بکھیر کر لڑیں گے۔انہوں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ خالدؓ سے مدد نہیں مانگیں گے کیونکہ خالدؓ ایک قلعہ پر حملہ کرنے گئے تھے۔
ایمان کے جذبے کی یہ انتہا تھی کہ وہ اتنی قلیل تعداد میں کہاں جا پہنچے تھے۔انہوں نے اپنی جانیں اور اپنے اموال اﷲکے سپرد کر دیئے تھے۔وہ اپنی بیویوں اور اپنے ماں باپ اور اپنے بہن بھائیوں کو فراموش کیے ہوئے تھے۔ان پر یہ نشہ طاری تھا کہ کفر کے فتنے کو ختم کرکے اﷲکے پیغام کو زمین کے دوسرے سرے تک پہنچانا ہے۔ان کے دلوں میں اﷲکا نام اور رسول ﷺکا عشق تھااور ان کے ذہنوں میں کوئی وہم اور کوئی شک نہ تھا،جہاد ان کی عبادت تھی اور وہ اﷲہی سے مدد مانگتے تھے……ایک سالار سخنہ کے قریب اور دوسرا قدمہ کے قریب پہنچا تو دونوں جگہوں پر ایک ہی جیسا منظر دیکھنے میں آیا۔وہاں کے لوگ باہر نکل آئے اور ان کی تعداد بڑھتی گئی۔سالاروں نے اپنے اپنے دستے کو پھیلادیا۔یہاں کوئی دھوکا دکھائی دے رہا تھا،وہ لوگ مسلح نہیں تھے۔ان کی عورتیں اور بچے بھی باہر آگئے اور سب ہاتھ اوپر کرکے ہلا رہے تھے۔سالاروں نے اپنے اپنے دستے کو محاصرے کی ترتیب میں کردیا،ان کی نظریں ان مکانوں پر لگی ہوئی تھیں جو چھوٹے چھوٹے قلعوں کی مانند تھے سالاروں کو خطرہ یہ نظر آرہاتھا کہ وہ اگر آگے بڑھیں گے تو ان مکانوں سے ان پر تیر برسنے لگیں گے۔وہ رک رک کر آگے بڑھنے لگے۔دونوں بستیوں کی آبادی عربی عیسائیوں کی تھی، ان میں سے چار پانچ معمر سفید ریش آگے بڑھے، قریب آکر انہوں نے استقبال کے انداز میں بازو پھیلا دیئے۔’’ہم تمہارا استقبال کرتے ہیں۔‘‘ ایک سفید ریش عیسائی نے کہا۔’’آؤ……دوستوں کی طرح آؤ، ہم امن کے بندے ہیں۔‘‘’’اور اگر ہم پر ایک بھی تیر آیا تو اس بستی کی تباہی دیکھ کر بھی یقین نہیں کروگے۔‘‘سالار نے کہا۔’’مکانوں کے دروازے کھلے ہیں۔‘‘عیسائی بزرگ نے کہا۔’’آبادی کا ایک بچہ بھی اندر نہیں، دیکھ لو، کسی کے ہاتھ میں کمان نہیں، برچھی نہیں تلوار نہیں۔‘‘’’کہاں ہیں وہ جو ارک سے یہاں آئے تھے؟‘‘سالار نے پوچھا۔’’کچھ ہیں کچھ چلے گئے ہیں۔‘‘ایک معمر عیسائی نے کہا۔’’انہوں نے ہی ہمیں بتایا ہے کہ تمہاری فوج لوٹ مار نہیں کرتی، نہتوں اور بے کسوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتی، اور تم ایسی شرطوں پر دوستی قبول کر لیتے ہو جو کسی پر بار نہیں ہوتیں۔‘‘’’اور جو ہماری شرطیں قبول نہ کرے اس کا انجام کچھ اور ہوتا ہے۔‘‘سالار نے کہا۔
’’اے مدینہ کے سالار!‘‘عیسائی سردار نے کہا۔’’بتا تیری شرطیں کیا ہیں؟‘‘
’’وہی جو تمہاری پیٹھ اٹھا سکے گی، اور کمر کو توڑے گی نہیں۔‘‘سالار نے کہا۔’’جزیہ……ہم خود دیکھیں گے کہ جو جزیہ ادا کرنے کے قابل نہیں اس سے ہم کچھ بھی نہیں لیں گے۔‘‘’’کچھ اور؟‘‘’’مسلمانوں کا لشکر، یا کوئی دستہ یا کوئی قاصد یہاں سے گزرے گا تو یہ اس بستی کی ذمہ داری ہوگی کہ اس پر حملہ نہ ہو۔‘‘ سالار نے کہا۔’’اگر وہ یہاں رکنا چاہیں گے تو ان کے جانوروں کا چارہ بستی کے ذمہ ہوگا۔ ان کی کوئی اور ضرورت جو تم پر بار نہیں ہوگی وہ تم پوری کرو گے۔ہمارے لشکر کا کوئی فرد بستی کے کسی گھر میں داخل نہیں ہوگا،تمہاری عزتوں کی اور تمہارے جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔رومیوں کی طرف سے، غسانیوں اور فارسیوں کی طرف سے تمہیں کوئی دھمکی ملے گی یا تم پر کوئی حملہ کرے گا تو اس کا جواب ہم دیں گے۔‘‘دونوں بستیوں میں ایسے ہی ہوا، اس دور میں فوجوں کا یہ رواج تھا کہ بستیوں کو لوٹتی اجاڑتی چلی جاتی تھیں۔ کوئی عورت ان سے محفوظ نہیں رہتی تھی، جو آبادیاں ان کے آگے جھک جاتی تھیں، ان کے ساتھ تو فاتح فوجیں اور زیادہ برا سلوک کرتی تھیں ۔لیکن یہ روایت مسلمانوں نے قائم کی کہ جس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اسے اپنی پناہ میں لے لیا، اور اس کی عزت کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔اسی کا اثر تھا کہ کفار کی بستیاں ان کے ساتھ دوستی کے معاہدے کرتی جارہی تھیں۔خالدؓ کو اطلاع ملی کہ سخنہ اور قدمہ کی آبادی نے اطاعت قبول کرلی ہے تو انہوں نے وہاں کیلئے عمال مقررکرکے دونوں دستوں کو اپنے پاس بلا لیا۔خالدؓنے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔آگے قریتین کا قصبہ تھا، جس کی آبادی دوسری بستیوں کی نسبت زیادہ تھی۔خالدؓ نے اس کے قریب پہنچ کر لشکر کو روک لیا اور اپنے دو نائبین سے کہا کہ وہ بستی میں جا کر صلح اور معاہدے کی بات کریں۔یہ دونوں ابھی چلے ہی نہیں تھے کہ وہاں ایک آبادی نے دائیں اور بائیں سے مسلمانوں کے لشکر پر حملہ کر دیا۔یہ حملہ اگر غیر متوقع نہیں تو اچانک ضرور تھا،خالدؓ نے اپنے لشکر کو ہجوم کی صورت میں نہیں بلکہ جنگی تربیت میں رکھا ہوا تھا، وہ آخر دشمن ملک میں تھے، انہوں نے ایک دو دستے پیچھے رکھے ہوئے تھے۔ جوں ہی حملہ ہوا، خالدؓ نے پیچھے والے دستوں کو آگے بڑھا دیا۔حملہ آوروں میں بستی کے لوگ زیادہ معلوم ہوتے تھے، اور ان میں کچھ تعداد باقاعدہ فوجیوں کی بھی تھی۔یہ دوسری جگہوں مثلاً ارک اور تدمر سے آئے ہوئے فوجی تھے۔یہ سب لوگ تعداد میں تو زیادہ تھے لیکن ان کے لڑنے کا انداز اپنا ہی تھا اور یہ انداز باقاعدہ فوج والا نہیں تھا۔
خالد کی جنگی چالوں کے سامنے تو بڑے تجربہ کار سالار بھی نہیں ٹھہر سکے تھے۔تھوڑے ہی وقت میں مجاہدین نے اس ہجوم کی یہ حالت کردی کہ ان کیلئے بھاگ نکلنا بھی محال ہو گیا۔چونکہ یہ لڑائی تھی اور مسلمانوں پر باقاعدہ حملہ ہوا تھا، اس لیے خالدؓ نے جنگی اصولوں کے تحت احکام دیئے۔مسلمانوں نے بستی پر حملہ کیا اور مالِ غنیمت اکٹھا کیا۔قیدی بھی پکڑے اور آگے بڑھے۔ اب خالدؓ پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئے تھے۔جوں جوں وہ آگے بڑھتے جا تے تھے۔انہیں دشمن قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا جاتا تھا۔اس جھڑپ سے فارغ ہو کر آگے گئے تو آٹھ نو میل آگے بے شمار مویشی چر رہے تھے۔خالدؓنے حکم دیا کہ تمام مویشی اپنے قبضے میں لے لیے جائیں۔یہ حوّاریں کا علاقہ تھا،مجاہدین مویشیوں کو پکڑ رہے تھے تو ہزاروں آدمیوں نے ان پر حملہ کردیا۔یہ سب عیسائی تھے غسانیوں کی خاصی تعداد نہ جانے کہاں سے ان کی مدد کو آن پہنچی، یہ ایک شدید حملہ تھا۔حملہ آور قہر اور غضب سے لڑ رہے تھے۔ان کا ایک ہی نعرہ سنائی دے رہا تھا۔’’اُنہیں)مسلمانوں کو(کاٹ دو……انہیں زندہ نہ جانے دو۔‘‘خالدؓ کی حاضر دماغی اور مجاہدین کی ہمت اور ان کے استقلا ل نے انہیں اس میدان میں بھی فتح دی لیکن مجاہدین کے جسموں میں اگر کچھ تازگی رہ گئی تھی تو وہ بھی ختم ہو گئی۔کسی بھی تاریخ میں مجاہدین کی شہادت اور زخمی ہونے کے اعدادوشمار نہیں ملتے،ان پر جو حملے ہوئے تھے ان میں یقیناًکئی مجاہدین شہید ہوئے ہوں گے۔بعض شدید زخمی ہو کر ساری عمر کیلئے معذور بھی ہوئے ہوں گے،شہیدوں کی تعداد دشمن کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے ، یہ کہنا کہ کوئی بھی شہید نہیں ہوا، درست نہیں۔اس طرح مجاہدین کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی اور کمک کی کوئی امید نہیں تھی ۔پھر بھی مجاہدین سیلاب کی مانند بڑھے جا رہے تھے۔
خالدؓ اب زنجیروں والی خود جس پر وہ سرخ عمامہ باندھے رکھتے تھے۔رات کو ہی اتارتے تھے، لشکر کا کہیں قیام ہوتا تھا تو خالدؓ مجاہدین کے درمیان گھومتے پھرتے رہتے، ان کے چہرے پر تازگی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوتی تھی، ان کی مسکراہٹ میں طلسماتی سا تاثر تھا، جو مجاہدین کے حوصلوں اور جذبے کو تروتازہ کر دیتا تھا۔حوّاریں کے لوگوں کو شکست دے کر خالدؓ نے وہاں صرف ایک رات قیام کیا، اور صبح دمشق کی سمت کوچ کر گئے۔شام اور لبنان کے درمیان ایک سلسلہ کوہ ہے، اس کی ایک شاخ شام میں چلی جاتی ہے، دمشق سے تقریباً بیس میل دور دو ہزار فٹ کی بلندی پراک درہ ہے جس کانام ثنیۃ العقاب )درہ عقاب(ہے۔اسے یہ نام خالدؓ نے دیا تھا۔دمشق کی طرف کوچ کے دوران خالدؓکا لشکر تقریباًایک گھنٹے کیلئے رکا تھا اور خالدؓ نے اپنا پرچم عقاب یہاں گاڑا تھا۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالدؓ کتنی دیر وہاں رکے رہے، ایک جگہ کھڑے دمشق کی طرف دیکھتے رہے۔ان کے سامنے زرخیز، سرسبز اور شاداب علاقہ تھا۔ صحراؤں کے یہ مجاہد اتنا سر سبز اور دلنشیں خطہ دیکھ کر حیرت کا اظہار کر رہے تھے۔دمشق سے گیارہ بارہ میل دور مرج راہط نام کا ایک شہر تھا،اس کی تمام تر آبادی غسانیوں کی تھی۔غسانیوں کی بادشاہی میں ہلچل بپا تھی، ان کے پایہ تخت بصرہ میں اطلاع پہنچ چکی تھی کہ مسلمان بڑی تیزی سے بڑھے چلے آرہے ہیں، اور عیسائی ان کے آگے ہتھیار ڈالتے چلے جا رہے ہیں۔غسانیوں کا بادشاہ جبلہ بن الایہم غصے میں رہنے لگا تھا۔فارسیوں کی طرح وہ بھی بار بار کہتا تھا کہ ان ذرا جتنے مسلمانوں کو اس کی بادشاہی میں داخل ہونے کی جرات کیسے ہوئی ہے۔ اس نے اپنے جاسوس بھیج کر معلوم کر لیا تھا کہ مسلمان کس طرف سے آرہے ہیں، اور ان کی نفری کتنی ہے، اسے آخری اطلاع یہ ملی کہ خالدؓ بن ولید دمشق سے کچھ دور رہ گیا ہے اور وہ مرج راہط کے راستے دمشق تک پہنچے گا۔’’مرج راہط!‘‘جبلہ غسانی نے کہااور سوچ میں پڑ گیا پھر بھڑک کر بولا۔’’ مرج راہط……کیا ان دنوں وہاں میلہ نہیں لگا کرتا؟‘‘’’میلہ شروع ہے۔‘‘اسے جواب ملا۔جبلہ نے اسی وقت اپنے سالاروں کو بلایا اور انہیں کچھ احکام دیئے اور کہا کہ ان احکام پر فوراً عمل درآمد شروع ہو جائے ۔یہ ایک جال تھا جو اس نے خالدؓ کے لشکر کیلئے مرج راہط کے میلے میں بچھا دیا تھا۔’’وہ عیسائی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔’’مسلمان اس خوشی کے ساتھ آگے بڑھتے آرہے ہیں کہ ان کے راستے میں جو بھی آئے گا ان کی اطاعت قبول کر لے گا۔رومیوں کو نیچا دکھانے والے غسانی عرب کے بدوؤں کی اطاعت قبول نہیں کریں گے۔ہم مرج راہط میں ہی ان کا خاتمہ کر دیں گے۔‘‘
خالدؓمرج راہط کے قریب پہنچ رہے تھے اور انہیں میلہ نظر آرہا تھا۔بہت بڑا میلہ تھا۔ یہ غسانیوں کا کوئی تہوار تھا۔ہزار ہا لوگ جمع تھے ، کھیل تماشے ہورہے تھے ، گھڑ دو ڑ اور شتر دوڑ بھی ہو رہی تھی،کہیں ناچ تھا کہیں گانے تھے، ایک وسیع میدان تھا جس میں آدمی ہی آدمی تھے ۔ان کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔خالدؓکا لشکر جب کچھ اور قریب گیا تو تہوار منانے والا یہ ہجوم دیکھتے ہی دیکھتے فوج کی صورت اختیار کرکے جنگی ترتیب میں آگیا۔گھوڑ سوار باقاعدہ رسالہ بن گئے۔ ہر آدمی تلوار یا برچھی سے مسلح تھا، عورتیں اور بچے بھاگ کر قصبے میں چلے گئے اور ہجوم جو فوج کی صورت اختیار کرگیا تھا ، اس طرح دائیں اور بائیں پھیلنے لگا جیسے مجاہدین کو گھیرے میں لینا چاہتا ہو۔مجاہدین کو اپنے پیچھے سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کا قیامت خیز شور سنائی دیا۔اُدھر دیکھا ، غسانی سواروں کا ایک دستہ تلواریں اور برچھیاں تانے سمندر کی طوفانی لہروں کی طرح چلا آرہا تھا،یہ تھا وہ جال جو جبلہ بن الایہم نے خالدؓ کیلئے بچھایا تھا۔ممکن نظر نہیں آتا تھاکہ خالدؓ اپنے لشکر کو اس جال سے نکال سکیں گے،مجاہدین کی تعداد نو ہزار بھی نہیں رہ گئی تھی،اور جس دشمن نے انہیں اپنے جال میں لیا تھا اس کی تعداد تین گنا تھی۔مجاہدین تھکے ہوئے بھی تھے۔پانچ روزہ صحرائی سفر کے بعد وہ مسلسل پیش قدمی اور معرکہ آرائی کرتے آرہے تھے۔غسانیوں کے بادشاہ جبلہ نے ٹھیک سوچا تھا کہ مسلمان کوچ کی ترتیب میں آرہے ہوں گے اور انہیں جنگی ترتیب میں آتے کچھ وقت لگے گااور ان پر حملہ اس طرح ہوگا کہ انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔اس نے مسلمانوں کی قلیل تعداد کو بھی پیشِ نظر رکھا تھااور یہ کہ مسلمان میلے کو بے ضرر لوگوں کا میلہ ہی سمجھیں گے۔غسانیوں کو معلوم نہیں تھا کہ خالدؓمیلے پر نہیں آئے تھے۔وہ تجربہ کار سالار تھے۔انہیں اچانک حملوں کا تجربہ ہو چکا تھا،انہیں احساس تھا کہ جوں جوں وہ دشمن ملک کے اندر ہی اندر جا رہے ہیں ، حملوں اور چھاپوں کا خطرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے، چنانچہ وہ لشکر کو ایسی ترتیب میں رکھتے تھے کہ اچانک اور غیر متوقع حملے کا فوراًمقابلہ کیا جائے۔ان کے عقب سے غسانیوں کے جو سوار طوفانی موجوں کی طرح آرہے تھے وہی مسلمانوں کو کچلنے کیلئے کافی تھے۔خالدؓ کی توجہ اس رسالے پر تھی اور وہ مطمئن تھے۔مجاہدین ایک مشین کی طرح اس صورتِ حال سے نمٹنے کی ترتیب میں آگئے۔خالدؓ نے خود نعرہ تکبیر بلند کیا جس کا مجاہدین نے رعد کی کڑک کی طرح جواب دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بلند آواز سے کچھ احکام دیئے۔’’خدا کی قسم!ہم انہیں سنبھال لیں گے۔‘‘خالدؓ نے بلند آواز سے کہا۔’’اﷲکے نام پر، محمد الرسول اﷲﷺ کے نام پر!‘‘
غسانیوں کا رسالہ بڑی تیزی سے قریب آرہا تھا۔اس کے پیچھے اور کچھ دائیں سے ایک اور رسالہ نکلا، سینکڑوں گھوڑے انتہائی رفتار سے دوڑے آرہے تھے۔ان کا رخ غسانی سواروں کی طرف تھا۔’’پیچھے دیکھو!‘‘کسی غسانی سوار نے چلّا کر کہا۔’’یہ مسلمان سوار معلوم ہوتے ہیں۔‘
پیچھے سے آنے والے سوار مسلمان ہی تھے ۔یہ مجاہدین کے لشکر کا عقبی حصہ )ریئر گارڈ(تھا۔ان سواروں نے غسانی سواروں کو آن لیا، غسانی سوار اس حملے کیلئے تیار نہیں تھے۔ان کا ہلّہ )چارج(بے ترتیب ہوتے ہوتے رک گیا۔ادھر سے خالدؓ نے اپنے سوار دستے کو تیز حملے کا حکم دے دیا۔غسانی سوار گھیرے میں آکر سکڑنے لگے، پھر وہ اتنے سکڑ گئے کہ ان کے گھوڑوں کو ایک قدم بھی دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہلنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ نے شتر سوار تیر اندازوں کو میلے والے لشکر پر تیر برسانے کا حکم دے دیا اور دوسرے دستوں کو دشمن کے پہلوؤں پر حملے کیلئے بھیج دیا انہوں نے اپنے دستے کے سامنے سے حملہ کیا۔یہ عقل اور جذبے کی لڑائی تھی۔ غسانی پیادوں کو اپنے گھوڑ سواروں پر بھروسہ تھا جواَب مجاہدین کی تلواروں سے کٹ رہے تھے یا معرکے سے نکل کر بھاگ رہے تھے۔خالدؓکی کوشش یہ تھی کہ دشمن کے لشکر کے عقب میں چلے جائیں تاکہ دشمن شہر میں نہ جا سکے، خالدؓکے حکم سے غسانیوں کے خیموں کو آگ لگا دی گئی۔ یہ خیمے میلے کیلئے لگے ہوئے تھے۔شعلوں نے غسانیوں پر خوف طاری کر دیا۔ان کے حوصلے تو یہی دیکھ کر ٹوٹ گئے تھے کہ انہوں نے جو جال بچھایا تھا وہ بری طرح ناکام ہوگیا تھا۔غسانیوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ان کا جانی نقصان اتنا زیادہ ہو رہا تھا کہ خون دیکھ کر وہ گھبراگئے۔آخر وہ بھاگنے لگے۔خالدؓ بار بار اعلان کرا رہے تھے کہ اپنے شہر کو تباہی سے بچانا چاہتے ہو تو باہر رہو۔شام تک خالدؓ اس شہر سے مالِ غنیمت اور بہت سے قیدی اکٹھے کر چکے تھے۔شہر میں ان عورتوں کے بَین سنائی دے رہے تھے جن کے خاوند بھائی باپ اور بیٹے مارے گئے تھے۔خالدؓنے رات کو ابو عبیدہؓ کے نام ایک پیغام بھیجا کہ وہ خالدؓ کو بصرہ کے قرب و جوار میں ملیں، بصرہ غسانی حکومت کا پایہ تخت تھا۔ غسانی اور رومی مل کر بصرہ کے دفاع کا انتظام کر رہے تھے۔ مجاہدین کا بڑا ہی سخت امتحان ابھی باقی تھا۔
وہ جو محمد ﷺکو اﷲکا بھیجا ہوا رسول نہیں مانتے تھے، اور اﷲکو واحدہ لا شریک نہیں سمجھتے تھے۔ وہ ابھی تک جنگی طاقت کو افراد کی کمی بیشی سے اور ہتھیاروں کی برتری اورکمتری سے ناپ تول رہے تھے۔حیران تو وہ ہوتے تھے کہ مسلمان کس طرح اور کس طاقت کے بل بوتے پر فتح حاصل کرتے آرہے ہیں، لیکن اپنی فوجوں اور گھوڑوں کی افراط اور اپنے ہتھیاروں کی برتری کا ان کو ایسا گھمنڈتھا کہ وہ سوچتے ہی نہیں تھے کہ انسان میں کوئی اور طاقت بھی ہو سکتی ہے اور یہ طاقت عقیدے اور مذہب کی سچائی ہوتی ہے۔غسانیوں کا بادشاہ جبلہ بن الایہم بصرہ میں اس خبر کا انتظار بڑی بے تابی سے کر رہا تھا کہ مرج راہط میں اس کا دھوکا کامیاب رہا ہے اور مسلمانوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔اس نے فرض کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دی جا چکی ہے۔اسے آخری اطلاع یہ ملی تھی کہ مسلمانوں کیلئے میلے کی صورت میں پھندا تیار ہوچکا ہے اور مسلمان تیزی سے اس پھندے میں آرہے ہیں۔جبلہ کے طور اور انداز ہی بدل گئے تھے ۔گذشتہ رات اس نے اپنے ہاں جشن کا سماں بنا دیاتھا۔شراب کے مٹکے خالی ہو گئے تھے۔جبلہ بن الایہم شراب میں تیرتا اور نشے میں اڑتا جوان ہو گیا تھا۔اس نے بڑھاپے کا مذاق اڑایا تھا۔اس نے یہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ اس کے حرم کی جوان عورتیں من مانی کر رہی ہیں اور ان میں سے بعض اس کی قیدوبند سے آزاد ہو کر اپنی پسند کے آدمیوں کے ساتھ محل کے باغیچوں میں غائب ہو گئی ہیں۔خود جبلہ کی بدمستی کا یہ عالم تھا کہ اس جشنِ مے نوشی میں ایک بڑی حسین اور نوجوان لڑکی اس کے سامنے سے گزری تو اس نے لپک کر لڑکی کو پکڑ لیا اور اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ کر بے ہودہ حرکتیں کرنے لگا۔لڑکی اس کے بازوؤں سے آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔’’تیری یہ جرات؟‘‘اس نے لڑکی کو الگ کرکے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کیا اور بڑے سخت غصے میں بولا۔’’کون ہے تو جو میرے جسم کو ناپسند کر رہی ہے؟‘‘’’تیری بھانجی!‘‘لڑکی نے روتے ہوئے چلّا کر کہا۔’’تیرے باپ کی بیٹی کی بیٹی!‘‘جبلہ بن الایہم نے بڑی زور سے قہقہہ لگایا۔ ’’فتح کی خوشی کا نشہ شراب کے نشے سے تیز ہوتاہے۔‘‘جبلہ نے کہا۔اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔’’کل جب مجھے خبر ملے گی کہ مسلمانوں کو کچل دیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکا تو میری حالت اور زیادہ بری ہو جائے گی۔‘‘اس کی بھانجی روتی ہوئی جشن سے نکل گئی۔پھر وہ وقت آگیا جب وہ مسلمانوں پر اپنی فتح کی خبر کا منتظر تھا۔اب تک خبر آجانی چاہیے تھی۔ وہ باغ میں جا بیٹھا تھا۔ایک جواں سال خادمہ طشتری میں شراب کی صراحی اور پیالہ رکھے اس کی طرف جا رہی تھی۔اُدھر سے دربان بڑا تیز چلتا اس تک پہنچا۔’’آیا ہے کوئی؟‘‘جبلہ نے بیتاب ہو کر دربان سے پوچھا۔’’کوئی مرج الراہط سے آیا ہے؟‘‘
’’قاصد آیا ہے۔‘‘دربان سے دبے دبے سے لہجے میں کہا۔’’زخمی ہے۔‘‘’’بھیجو اسے!‘‘جبلہ نے جوش سے اٹھتے ہوئے کہا۔’’وہ فتح کی خبر لایا ہے۔اسے جلدی میرے پاس بھیجو۔‘‘خادمہ طشتری اٹھائے اس کے قریب کھڑی تھی۔ادھر سے ایک زخمی چلا آرہا تھا۔’’وہیں سے کہو کہ تم فتح کی خبر لائے ہو۔‘‘جبلہ بن الایہم نے کہا۔زخمی قاصد نے کچھ نہ کہا۔وہ چلتا آیا۔اس کے کپڑے اپنے زخموں کے خون سے لال تھے۔اس کا سر کپڑے میں لپٹا ہو اتھا۔’’کیا تم اتنے زخمی ہو کہ بول نہیں سکتے؟‘‘جبلہ نے بلند آواز سے پوچھا۔’’بول سکتا ہوں۔‘‘قاصد نے کہا۔’’لیکن جو خبر لایا ہوں وہ اپنی زبان سے سنانے کی جرات نہیں۔‘‘’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘جبلہ کی آواز دب سی گئی۔’’کیا مسلمان پھندے میں نہیں آئے؟……آکر نکل گئے ہیں؟‘‘’’ہاں!‘‘قاصد نے شکست خوردہ آواز میں کہا۔’’وہ نکل گئے……انہوں نے ایسی چال چلی کہ ہم ان کے پھندے میں آگئے۔اپنی فوج کٹ گئی ہے۔مرج راہط کو انہوں نے لوٹ لیا ہے۔‘‘جبلہ بن الایہم نے طشتری سے شراب کی صراحی اٹھائی ۔خادمہ نے پیالہ اٹھا کر اس کے آگے کیا۔جبلہ نے صراحی بڑی زور سے قاصد پر پھینکی۔ قاصد بہت قریب کھڑا تھا۔صراحی ا س کے ماتھے پر لگی۔وہ تیورا کر گرا۔جبلہ نے خادمہ کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر اس کے منہ پر مارا، اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلاگیا۔غسانیوں کے بادشاہ کامحل ماتمی فضاء میں ڈوب گیا، مرج راہط کے بھگوڑے غسانی بصرہ میں آگئے اور بصرہ ماتمی شہر بن گیا۔اصل ماتم تو ان کے یہاں تھا جن کے بیٹے بھائی خاوند اور باپ اس پھندے میں آکر مارے گئے تھے جو انہوں نے خالدؓ کے مجاہدین کیلئے تیار کیا تھا۔اس ماتم کے ساتھ ایک دہشت بھی آئی تھی اور یہ دہشت ہر گھر میں پہنچ گئی تھی۔’’ان کے تیر زہر میں بجھے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی کو اس تیر سے خراش بھی آجائے تو وہ مر جاتا ہے۔‘‘’’ان کے گھوڑے پروں والے ہیں، کہتے ہیں ہوا سے باتیں کرتے ہیں۔‘‘’’ان مسلمانوں کا رسول )ﷺ(جادوگر تھا۔اس کا جادو چل رہا ہے۔‘‘’’ان کے سامنے لاکھوں کی فوج بھی نہیں ٹھہر سکتی۔‘‘’’سنا ہے دل کے بڑے نرم ہیں، جو ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں انہیں وہ گلے لگا لیتے ہیں۔‘‘’’جس شہر میں ان کا مقابلہ ہوتا ہے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔‘‘’’کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے، لڑنے والوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں۔‘‘دبی دبی ایسی آواز بھی سنائی دیتی تھی ۔’’مذہب ان کا سچا معلوم ہوتا ہے۔وہ اﷲاور اس کے رسولﷺکومانتے ہیں، یہی ان کی طاقت ہے ،جنون سے لڑتے ہیں۔‘‘ان لوگوں پر جو حیرت اور دہشت طاری ہو گئی تھی اس میں وہ حق بجانب تھے۔
’’تم لوگ بصرہ کو بھی نہیں بچا سکو گے۔‘‘جبلہ بن الایہم قہر بھرے لہجے میں اپنے سالاروں سے کہہ رہا تھا ۔’’تمہاری بزدلی کو دیکھ کر میں نے رومیوں کو مدد کیلئے پکارا ہے،اگر تم مسلمانوں کو شکست دے دیتے تو میں رومیوں کے سینے پر کودتا۔ان پر میری دھاک بیٹھ جاتی۔مگر تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔رومی ہمارے پایہ تخت کی حفاظت کرنے آئے ہیں۔‘‘وہ اپنے سالاروں کوکوس ہی رہا تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی ایک فوج بصرہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔’’اتنی جلدی؟‘‘اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔’’مرج راہط سے وہ اتنی جلدی بصرہ تک کس طرح آگئے ہیں؟رومی سالار کو اطلاع دو۔‘‘رومی فوج جو خالدؓ کی کامیابیوں کی خبریں سن کر جبلہ بن الایہم کی مددکو آئی تھی وہ بصرہ کے باہر خیمہ زن تھی، اس کے سالار کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کی فوج آرہی ہے توسالار نے فوج کو تیاری کا حکم دے دیا،اس فوج میں عرب عیسائی بھی تھے۔فوج جو بصرہ کی طرف بڑھ رہی تھی وہ خالدؓ کی نہیں تھی۔یہ ایک مسلمان سالار شرجیلؓ بن حسنہ کا لشکر تھا، جس کی نفری چار ہزار تھی۔مسلمان لشکر جو شام کی فتح کیلئے بھیجا گیا تھایہ اس کا حصہ تھا۔خلیفۃ المسلمینؓ کے احکام کے مطابق سالار ابو عبیدہؓ نے لشکر کے دوسرے حصوں کو بھی یکجا کرکے اپنی کمان میں لے لیا تھا۔بصرہ پر شرجیلؓ بن حسنہ کے حملے کا پس منظر یہ تھا کہ خلیفۃ المسلمینؓ نے ابو عبیدہؓ کو ایک خط لکھا تھا:’’میں نے خالد بن ولید کو یہ کام سونپاہے کہ رومیوں پر چڑھائی کرے۔تم پر اس کی اطاعت فرض ہے۔کوئی کام اس کے حکم کے خلاف نہ کرنا۔ میں نے اسے تمہارا امیر مقررکیا ہے۔مجھے احساس ہے کہ دین کے باقی معاملات میں تم خالد سے برترہو اور تمہارا رتبہ اونچا ہے لیکن جنگ کی جو مہارت خالد کو ہے وہ تمہیں نہیں۔اﷲہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔‘‘خالدؓ کو اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔جس وقت خالدؓ اپنے رستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو کچلتے جا رہے تھے، اس وقت ابو عبیدہؓ فارغ بیٹھے تھے۔خالدؓنے جب مرج راہط کے مقام پر بھی دشمن کو شکست دے دی تو ابو عبیدہؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا، اس وقت ابو عبیدہؓ کے دستے دریائے یرموک کے شمال مشرق میں ایک مقام حوران میں تھے۔ان کے ماتحت دو سالار تھے ایک شرجیلؓ بن حسنہ اور دوسرے یزیدؓ بن ابی سفیان۔
’’رفیقو!‘‘ابو عبیدہؓ نے دونوں سالاروں سے کہا۔’’ہم کس طرح شکر ادا کریں اﷲتبارک وتعالیٰ کا جو ابنِ ولید کو راستے میں آنے والے ہر دشمن پر حاوی کرتا آ رہا ہے۔
کیا تم نےنہیں سوچا کہ ہم ابنِ ولید کے کسی کام نہیں آرہے؟وہ جوں جوں آگے بڑھتا جا رہا ہے ، اس کی مشکلات خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔اس کا لشکر تھک کر بے حال ہو چکا ہو گا،آگے دمشق ہے،بصرہ ہے۔ غسانی ہیں، عیسائی اوررومی ہیں، کیا یہ تینوں یہ نہیں سوچ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو آگے آنے دیں اور جب وہ مسلسل کوچ اورلڑائیوں سے شل ہو جائیں اور ان کی نفری کم ہو جائے تو انہیں کسی مقام پر گھیر کر ختم کر دیا جائے؟‘‘’’رومیونے ایسا ضرور سوچا ہوگا۔‘‘سالار یزیدؓ نے کہا۔’’رومی لڑنے والی قوم ہے،اور اس کے سالار عقل والے ہیں۔‘‘
’’خدا کی قسم!میں رومیوں کو ایسا موقع نہیں دوں گا۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے پر جوش لہجے میں کہا۔’’کیا ہم اتنی دور سے ابنِ ولید کی کوئی مدد نہیں کر سکتے؟……بے شک کر سکتے ہیں۔‘‘’’تو نے جو سوچا ہے وہ ہمیں بتا ابو عبیدہ!‘‘شرجیلؓ بن حسنہ نے کہا ۔’’ اﷲاس کا مددگار ہے۔‘‘’’ابنِ ولید کے آگے دمشق اور بصرہ دو ایسے مقام ہیں جہاں رومیوں اور غسانیوں نے اپنی فوجیں جمع کر رکھی ہوں گی۔‘‘ابوعبیدہؓ نے کہا۔’’اس سے پہلے کہ سالارِ اعلیٰ ابنِ ولید بصرہ پہنچے ہم بصرہ پر حملہ کردیتے ہیں۔اس سے یہ ہوگا کہ رومی اور غسانی بھی تازہ دم نہیں رہیں گے……ابنِ حسنہ!‘‘ابو عبیدہؓ نے شرجیلؓ سے کہا۔’’میں یہ کام تمہیں سونپتا ہوں۔چار ہزار نفری کافی ہوگی۔‘‘ابو عبیدہؓ نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو ہدایات دیں اور بصرہ کو روانہ کر دیا۔اس وقت خالدؓ مرج راہط سے فارغ ہو چکے تھے ،اور انہوں نے ابو عبیدہؓ کے نام یہ پیغام دے کر قاصد روانہ کر دیا تھا کہ ابو عبیدہؓ اپنے دستوں کے ساتھ انہیں بصرہ کے قریب کہیں ملیں، خالدؓ نے مرج راہط کے قصبے کے باہر دو چار روز قیام کیا تھا،۔
شرجیلؓ چار ہزار مجاہدین کے ساتھ بصرہ پہنچ گئے……رومی بصرہ کے باہر خیمہ زن تھے ، وہ سمجھے یہ خالدؓکی فوج ہے۔ان کے جاسوسوں نے انہیں بتایا کہ اس فوج کا سالار کوئی اور ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومی سالار یہ سمجھے کہ یہ مسلمانوں کی فوج کا ہراول ہے اور پوری فوج پیچھے آرہی ہے……وہ مان نہیں سکتے تھے کہ اتنی فوج اتنے بڑے لشکر کو محاصرے میں لینے آئی ہوگی۔رومی فوج جس کی تعداد بارہ ہزار تھی قلعے کے اندر چلی گئی ۔بصرہ قلعہ بند شہر تھا۔شرجیلؓ نے قلعے کے قریب مغرب کی طرف کیمپ کیا اور اپنے لشکر کو کئی دستوں میں تقسیم کرکے قلعے کے ہر طرف متعین کر دیا۔دودن گزر گئے۔رومی اور غسانی قلعے کی دیواروں کے اوپر سے مسلمانوں کو دیکھتے رہے۔شرجیلؓ نے قلعے کے اردگرد کچھ نہ کچھ حرکت جاری رکھی۔ دشمن قلعے سے دور دور بھی دیکھتا تھا ۔اسے توقع تھی کہ مسلمانوں کی پوری فوج آرہی ہے۔اسے اب اپنے جاسوسوں کے ذریعے کوئی خبر نہیں مل سکتی تھی کیونکہ قلعہ محاصرے میں تھا۔
سالار شرجیلؓ بن حسنہ کے متعلق یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ رسولِ کریمﷺکے قریبی صحابیؓ تھے۔جو صحابہ کرامؓ وحی لکھتے تھے ، ان میں شرجیلؓ بن حسنہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔اسی حوالے سے انہیں کاتبِ رسول کہا جاتا تھا۔شرجیلؓ کا زہدوتقویٰ تو مشہور تھا ہی ، وہ فن حرب و ضرب اور میدانِ جنگ میں قیادت کی مہارت رکھتے اور کہا کرتے تھے کہ انہوں نے یہ فن خالدؓ سے یمامہ کی جنگ میں پھر آتش پرستوں کے خلاف لڑائیوں میں سیکھا ہے۔محاصرہ بصرہ کے وقت ان کی عمر ستر سال سے کچھ ہی کم تھی، جذبے اور جوش و خروش کے لحاظ سے وہ جوان تھے اور ان کی شہسواری اور تیغ زنی جوانوں جیسی ہی تھی۔محاصرے کا تیسرا دن تھا، رومیوں کو یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی نفری اتنی ہی ہے جس نے محاصرہ کررکھا ہے۔اگر مزید فوج نے آنا ہوتا تو اب تک آچکی ہوتی۔چنانچہ انہوں نے اپنی بارہ ہزار نفری کی فوج باہر نکال لی۔نفری کی افراط کے بل پر وہ ایسی دلیرانہ کارروائی کر سکتے تھے۔مسلمان کل چار ہزار تھے۔شرجیلؓ نے بڑی تیزی سے اپنے دستوں کو اکٹھاکرکے جنگی ترتیب میں کرلیا۔اس طرح دونوں فوجیں آمنے سامنے آ گئیں۔’’اے رومیو!‘‘شرجیلؓ نے آگے آکر بلند آواز سے کہا۔’’خدا کی قسم!ہم بھاگنے کیلئے نہیں آئے۔اپنی پہلی شکستوں کو یاد کرو، تم ہر میدان میں ہم سے زیادہ تھے۔خون خرابے سے تم بچتے کیوں نہیں؟ہماری شرطیں سن لو اور اپنے شہر اور اپنی آبادی کو تباہی سے بچالو۔‘‘’’ہم شکست کھانے کیلئے باہر نہیں آئے۔‘‘رومی سالارنے آگے آکر کہا۔’’واپس چلے جاؤ اور زندہ رہو، وہ کوئی اور تھے جنہوں نے تم سے شکستیں کھائی ہیں۔‘‘’’خدا کی قسم!ہم لڑائی سے منہ نہیں موڑیں گے۔‘‘شرجیلؓ نے اعلان کیا۔’’لیکن تمہیں ایک موقع دیں گے کہ سوچ لو، آگے آؤاور ہماری شرطیں سن لو۔‘‘مکالموں اور للکار کا تبادلہ ہوا، اور رومی سالاروں نے شرائط پر بات چیت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ان کا سپہ سالار آگے گیا۔ادھر سے شرجیلؓ بن حسنہ آگے گئے۔’’بول اے مسلمان سالار!‘‘رومی سالار نے کہا۔’’اپنی شرائط بتا۔‘‘’’اسلام قبول کرلو۔‘‘ شرجیلؓ نے کہا۔’’یہ منظور نہیں تو جزیہ ادا کرو۔یہ بھی منظور نہیں تو لڑائی کیلئے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’ہم اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے اور ہم جزیہ نہیں دیں گے ۔لڑائی کیلئے ہم تیار ہیں۔‘‘اس کے ساتھ ہی رومی سالار نے مسلمانوں پر حملے کا حکم دے دیا۔رومیوں کی تعداد تین گنا تھی۔شرجیلؓ نے اپنے چار ہزار مجاہدین کو جنگی ترتیب میں صف آراء کررکھا تھا۔انہیں اپنی نفری کی قلت کا احساس بھی تھا۔انہون نے اپنے دونوں پہلوؤں کو پھیلا دیا تھا تاکہ دشمن گھیرے میں نہ لے سکے۔رومی جنگجو تھے اور ان کے سالار تجربہ کار تھے۔وہ مسلمانوں کو گھیرے میں لینے کی ہی کوشش کر رہے تھے ،لڑائی گھمسان کی تھی ، شرجیلؓ قاصدوں کو دائیں بائیں دوڑا رہے تھے اور مجاہدین کو للکار بھی رہے تھے ، مجاہدین اپنی روایت کے مطابق بے جگری سے لڑ رہے تھے لیکن رومی بارہ ہزار تھے ۔
ان کے سالار انہیں دائیں بائیں پھیلاتے جا رہے تھے ۔شرجیلؓ نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو انہیں اپنے دستوں کی صورتِ حال بڑی تشویشناک دکھائی دی۔ایسی صورت حال پسپائی کا مطالبہ کیا کرتی ہے لیکن شرجیلؓ کی للکار پر مجاہدین کا جوش اور جذبہ بڑھ گیا۔وہ پسپائی کے نام سے ناواقف تھے ، ان پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی اور چارپانچ گھنٹے گزر گئے۔پھر وہ صورت پیدا ہو گئی جس سے شرجیلؓ بچنے کی کوشش کر رہے تھے ، دشمن کے پہلو پھیل کر مسلمانوں کے پہلوؤں سے آگے نکل گئے تھے۔وہ گھیرے میں آچکے تھے۔’’اندر کی طرف نہیں سکڑنا۔‘‘شرجیلؓ نے اپنے دونوں پہلوؤں کے کمانداروں کو پیغام بھیجے۔’’ باہر کی طرف ہونے کی کوشش کرو۔‘‘شرجیلؓ کی چالیں بے کار ہونے لگیں۔بے شک مسلمانوں کا جذبہ رومیوں کی نسبت زیادہ تھا لیکن رومی تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ مسلمانوں پر غالب آسکتے تھے۔
’’اﷲکے پرستارو!‘‘شرجیل نے للکار کر کہا۔’’فتح یا موت……فتح یا موت……فتح یا موت……اﷲسے مددمانگو۔ اﷲکی راہ میں جانیں دیدو۔اﷲکی مدد آئے گی۔‘‘مسلمانوں کیلئے یہ زندگی اور موت کا معرکہ بن گیا تھا۔شرجیلؓ کی پکار اور للکار پر مجاہدین نے بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا جس سے انہیں تقویت ملی لیکن رومی ان پر حاوی ہو گئے تھے،مسلمانوں کے جوش اور جذبے میں قہر پیدا ہو گیاتھا۔رومی فوج مسلمانوں کے عقب میں چلی گئی ، اب مسلمانوں کا کچلا جانا یقینی ہو گیا تھا۔رومی جو مسلمانوں کے عقب میں چلے گئے تھے ،انہیں اپنے عقب میں گھوڑے سر پٹ دوڑنے کا طوفانی شور سنائی دیا۔انہوں نے پیچھے دیکھا تو سینکڑوں گھوڑے ان کی طرف دوڑے آرہے تھے۔ان کے آگے دو سوار تھے جن کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ان میں سے ایک کے سر پر جو عمامہ تھا اس کا رنگ سرخ تھا……وہ خالدؓ تھے۔خالدؓ اپنے لشکر کے ساتھ بصرہ کی طرف آرہے تھے۔ان کے راستے میں دمشق آیا تھا لیکن وہ دمشق سے ہٹ کر گزر آئے تھے، پہلے وہ بصرہ کو فتح کرنا چاہتے تھے۔یہ اﷲکے اشارے پر ہوا تھا۔اﷲنے کاتبِ رسولﷺ کی پکار اور دعا سن لی تھی۔ خالدؓ جب کوچ کرتے تھے تو اپنے جاسوسوں کو بہت آگے بھیج دیا کرتے تھے۔ بصرہ کی طرف آتے وقت بھی انہوں نے جاسوسوں کو بہت آگے بھیج دیا تھا۔ؒخالدؓ بصرہ سے تقریباًایک میل دور تھے۔جب ان کا ایک شتر سوار جاسوس اونٹ کو بہت تیز دوڑاتا واپس خالدؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ مسلمانوں کا کوئی لشکر بصرہ کے باہر رومیوں کے گھیرے میں آرہا ہے۔
‘ ‘کون ہے وہ سالار؟‘‘خالدؓ نے کہا اور سوار دستوں کو ایڑھ لگانے اور برچھیاں اور تلواریں نکال لینے کا حکم دے دیا۔خالدؓکے ساتھ جو دوسرا سوار گھوڑ سواروں کے آگے آگے آرہا تھا وہ خلیفۃ المسلمینؓ کا بیٹا عبدالرحمٰنؓ تھا۔ اس نے اﷲاکبر کا نعرہ لگایا۔رومیوں نے مقابلے کی نہ سوچی۔ان کے سالاروں نے تیزی دکھائی، اپنے پہلوؤں کے دستوں کو پیچھے ہٹا لیا اور اپنے تمام دستوں کو قلعے کے اندر لے گئے۔ ان کا مسلمانوں کی تلواروں سے کٹ جانا یقینی تھا۔قلعے میں داخل ہوتے ہوتے مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور کئی رومیوں کو ختم کردیا۔قلعے کے دروازے بند ہو گئے۔خالدؓغصے میں تھے۔انہوں نے ایک حکم یہ دیا کہ زخمیوں اور لاشوں کو سنبھالو، اور دوسرا حکم یہ کہ تمام لشکر اکٹھا کیا جائے، انہوں نے سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو بلایا۔’’ولیدکے بیٹے!‘‘شرجیلؓ نے آتے ہی خالدؓ سے کہا۔’’خدا کی قسم!تو اﷲکی تلوار ہے۔تو اﷲکی مدد بن کر آیا ہے۔‘‘’’لیکن تو نے یہ کیا کیا ابنِ حسنہ!‘‘خالدؓ نے غصے سے کہا۔’’کیا تو یہ نہیں جانتا کہ یہ قصبہ دشمن کا مضبوط قلعہ ہے اور یہاں بے شمار فوج ہوگی؟کیا اتنی تھوڑی نفری سے تو یہ قلعہ سر کر سکتا تھا؟‘‘’’میں نے ابو عبیدہ کے حکم کی تعمیل کی ہے ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا-
’’آہ ابوعبیدہ!‘‘خالدؓنے آہ لے کر کہا۔’’میں اس کا احترام کرتا ہوں۔ وہ متقی و پرہیزگارہے۔لیکن میدانِ جنگ کو وہ اچھی طرح نہیں سمجھتا۔‘‘مؤرخ واقدی لکھتا ہے کہ ابوعبیدہؓ کو سب خصوصاًخالدؓ بزرگ و برتر سمجھتے تھے۔لیکن جس نوعیت کی لڑائیاں جاری تھیں ان کیلئے ابو عبیدہؓ موزوں نہیں تھے لیکن جہاں نفری کی کمی تھی وہاں سالاروں کی بھی کمی تھی۔بہرحال،مؤرخ لکھتے ہیں کہ ابو عبیدہؓ جذبے اور حوصلے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے اور وہ بڑی تیزی سے تجربہ حاصل کرتے جا رہے تھے۔بصرہ پر ان کا حملہ جرات مندانہ اقدام تھا۔خالدؓ قلعے کے باہر اپنی اور شرجیلؓ کی نفری کا حساب کر رہے تھے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے کہ قلعے کے اندر کتنی نفری ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں چند ایک رومی سپاہی آگئے تھے جو زخمی تھے۔خالدؓ کے لشکرکے آجانے سے مسلمانوں کی نفری تیرہ ہزار کے قریب ہو گئی تھی ،لیکن رومیوں غسانیوں اور عیسائیوں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ تھی۔’’کیا تم بھی ڈر کر بھاگ آئے ہو؟‘‘قلعے کے اندر جبلہ بن الایہم رومی فوج کے سپہ سالار پر غصہ جھاڑ رہا تھا۔’’ کیا تم نے اس فوج کا جو قلعے کے اندر تھی اور شہر کے لوگوں کا حوصلہ توڑ نہیں دیا؟‘‘
’’نہیں!‘‘رومی سالار نے کہا۔’’میں مسلمانوں پر باہر نکل کر حملہ کر رہا ہوں،اگر میں ان کے عقب میں گئے ہوئے دستوں کوپیچھے نہ ہٹا لیتا تو ان کے عقب سے مسلمان سالار انہیں بری طرح کاٹ دیتے۔مجھے ان کی نفری کا اندازہ نہیں تھا۔میں صرف ایک دن انتظار کروں گا،ہو سکتا ہے کہ ان کی مز ید فوج آرہی ہو، میں انہیں آرام کرنے کی مہلت نہیں دوں گا۔‘‘
’’پھر انہیں قلعے کا محاصرہ کرلینے دو۔‘‘ جبلہ نے کہا۔’’انہیں قلعے کے ا ردگرد پھیل جانے دو، پھر تم قلعے سے اتنی تیزی سے نکلنا کہ انہیں اپنے دستے اکٹھے کرلینے کی مہلت نہ ملے……اور شہر میں اعلان کر دو کہ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ، دشمن کو قلعے کے باہر ہی ختم کر دیا جائے گا۔‘‘قلعے کے اندر ہڑبونگ بپا تھی، شہریوں میں بھگدڑ اور افراتفری مچی ہوئی تھی۔رومی فوج کا باہر جاکر لڑنا اور اندر آجانا شہریوں کیلئے دہشت ناک تھا۔ مسلمان فوج کی ڈراؤنی ڈراؤنی سی باتیں تو شہر میں پہلے ہی پہنچی ہوئی تھیں۔مؤرخوں کے مطابق رومیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں کو آرام کی مہلت ہی نہ دی جائے لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ مسلمان آرام کر نے کے عادی ہی نہیں ، انہیں اتنی ہی مہلت کی ضرورت تھی کہ زخمیوں کو سنبھال لیں اور شہیدوں کی لاشیں دفن کر لیں۔اگلے روز کا سورج طلوع ہونے تک رومی فوج قلعے سے باہر آگئی اور دروزے بند ہو گئے۔خالدؓ نے اپنے لشکر کو جنگی ترتیب میں کر لیا ۔قلعے کے باہر میدان کھلا تھا۔خالدؓنے حسبِ معمول اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ قلب کی کمان اپنے پاس رکھی، اب چونکہ انہیں شرجیلؓ کے چار ہزار مجاہدین مل جانے سے ان کے پاس نفری کچھ زیادہ ہو گئی تھی اس لیے انہوں نے قلب کو محفوظ کرنے کیلئے ایک دستہ قلب کے آگے رکھا، اس دستے کی کمان خلیفۃ المسلمینؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن بن ابو بکرؓ کے پاس تھی۔ایک پہلو کے دستوں کے سالار رافع بن عمیرہ اور دوسرے پہلو کے سالار ضرار بن الازور تھے۔
جنگ کا آغاز مسلمانوں کے نعرہ تکبیر سے ہوا۔ رومی سپہ سالار اپنے قلب کے آگے آگے آرہا تھا۔عبدالرحمٰنؓ بن ابو بکر جوان تھے۔خالدؓ نے جوں ہی ان کے دستے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، عبدالرحمٰنؓ سیدھے رومی سالار کی طرف گئے۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی ان کی نظریں اس رومی سالار پر لگی ہوئی تھیں۔عبدالرحمٰنؓ نے گھوڑے کو ایڑلگائی اور تلوار سونت کر اس کی طرف گئے مگر اس کی طرف گئے تو وہ بڑی پھرتی سے آگے سے ہٹ گیا۔ عبدالرحمٰنؓ آگے نکل گئے۔رومی سالار نے گھوڑا موڑا اور عبدالرحمٰنؓ کے پیچھے گیا۔عبدالرحمٰن ؓنے گھوڑا موڑتے موڑتے دیکھ لیا، رومی نے وار کر دیا جو عبدالرحمٰنؓ بچاگئے۔ تلوار کا زنّاٹہ ان کے سر کے قریب سے گزرا۔اب عبدالرحمٰنؓ اس کے پیچھے تھے۔رومی گھوڑا موڑ رہا تھا، عبدالرحمٰنؓ نے تلوار کا زورداروار کیا جس سے رومی تو بچ گیا لیکن اس کے گھوڑے کی زین کا تنگ کٹ گیا، اور ضرب گھوڑے کو بھی لگی۔ گھوڑے کا خون پھوٹ آیا اور وہ رومی کے قابو سے نکلنے لگا۔رومی تجربہ کار جنگجو تھا۔اس نے بڑی مہارت سے گھوڑے کو قابو میں رکھا، اور اس نے وار بھی کیے۔ عبدالرحمٰنؓ نے ہر وار بچایا، اور انہوں نے رکابوں میں کھڑے ہوکر وار کیے تو رومی گھبراگیا۔اس کے آہنی خود اور زرہ نے اسے بچالیا لیکن اپنی ایک ٹانگ کو نہ بچا سکا، گھٹنے کے اوپر سے اس کی ٹانگ زخمی ہو گئی۔تابڑ توڑ وار اسے مجبور کرنے لگے کہ وہ بھاگے اور وہ بھاگ اٹھا۔ اسے اپنی جان کا غم تھا یا نہیں ، اسے خطرہ یہ نظر آرہا تھا کہ وہ گر پڑا تو اس کا سارا لشکر بھاگ اٹھے گا۔ یہ سوچ کر کو وہ اپنے لشکر میں غائب ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ عبدالرحمٰنؓ اس کے تعاقب سے نہ ہٹے، وہ ان کے ہاتھ تو نہ آیا لیکن اپنے لشکر کی نظروں سے بھی اوجھل ہو گیا۔
خالدؓ نے رومیوں پر اس طرح حملہ کیا کہ سالار رافع بن عمیرہ اور سالار ضرار بن الازور کو حکم دیاکہ وہ باہر کو ہو کر رومیوں پر دائیں اور بائیں سے تیز اور شدید ہلہ بولیں۔ مجاہدین شدید کا مطلب سمجھتے تھے۔ مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق یہ حملہ اتنا تیز اور اتنا سخت تھا جیسے مجاہدین تازہ دم ہوں اور ان کی تعداد دشمن سے دگنی ہو۔ دونوں سالاروں کے دستے دیوانگی کے عالم میں حملہ آور ہوئے۔مؤرخ واقدی اور ابنِ قتیبہ لکھتے ہیں کہ سالار ضرار بن الازور نے جوش میں آکر اپنی زرہ اتار پھینکی۔یہ ہلکی سی تھی لیکن جولائی کا آغاز تھا، اور گرمی عروج پر تھی۔ ضرار نے گرمی سے تنگ آکر اور لڑائی میں آسانی پیدا کرنے کیلئے زرہ اتاری تھی۔انہوں نے اپنے دستوں کو حملے کا حکم دیا۔ان کا گھوڑا ابھی دشمن کے قریب نہیں پہنچا تھا کہ انہوں نے قمیض بھی اتار پھینکی، اس طرح ان کا اوپر کا دھڑ بالکل ننگا ہو گیا۔ایسی خونریز لڑائی میں زرہ ضروری تھی، اور سَر کی حفاظت تو اور زیادہ ضروری تھی، لیکن ضرار بن الازور نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی تھی۔انہیں اس حالت میں دیکھ کر ان دستوں میں کوئی اور ہی جوش پیدا ہو گیا ۔ضرار دشمن کو للکارتے اور ٹوٹ ٹوٹ پڑتے تھے۔ان کے سامنے جو آیا ان کی تلوار سے کٹ گیا۔وہ سالار سے سپاہی بن گئے تھے۔رافع بن عمیرہ نے رومیوں کے دوسرے پہلو پر ہلہ بولا تھا، ان کا انداز ایسا غضب ناک تھا کہ دشمن پر خوف طاری ہو گیا۔خالدؓ نے جب دیکھا کہ ضرار اور رافع نے دونوں پہلوؤں سے ویسا ہی ہلہ بولا ہے جیسا وہ چاہتے تھے اور دشمن کے پہلو عقب کی طرف سکڑ رہے ہیں تو خالدؓ نے سامنے سے ہلہ بول دیا۔رومی پیچھے ہٹنے لگے لیکن پیچھے قلعے کی دیوار تھی جو دراصل شہر کی پناہ تھی، ان کیلئے پیچھے ہٹنے کو جگہ نہ رہی۔ مجاہدین انہیں دباتے چلے گئے۔’’دروازے کھول دو۔‘‘ دیوار کے اوپر سے کوئی چلایا۔قلعے کے اس طرف کے دروازے کھل گئے اور رومی سپاہی قلعے کے اندر جانے لگے۔انہیں قلعے میں ہی پناہ مل سکتی تھی، مسلمانوں نے دباؤ جاری رکھا، اور رومی جم کر مقابلہ کرتے رہے۔ ان میں سے جسے موقع مل جاتا وہ قلعے کے اندر چلا جاتا۔
جو رومی قلعے میں پناہ لینے کو جا رہے تھے وہ ان کی تمام نفری نہیں تھی،ان کی آدھی نفری بھی نہیں تھی۔ان کی آدھی نفری خالدؓ کے دستوں سے نبرد آزما تھی، خالدؓ نے جب دیکھ لیا تھا کہ ان کے پہلوؤں کے سالار وں نے ویسا ہی حملہ کیا ہے جیسا کہ وہ چاہتے تھے تو انہوں نے دشمن کے قلب پر حملہ کر دیا۔رومی بڑے اچھے سپاہی تھے،وہ پسپا ہونے کی نہیں سوچ رہے تھے اور خالدؓانہیں پسپائی کے مقام تک پہنچانے کی سر توڑ کوششیں کررہے تھے۔خالدؓنے شجاعت اور بے خوف قیادت کا یہ مظاہرہ کیا کہ گھوڑے سے اتر آئے اور سپاہیوں کی طرح پا پیادہ لڑنے لگے۔اس کا اثر مجاہدین پر ایساہوا کہ وہ بجلیوں کی مانند کوندنے لگے۔یہ ان کے ایمان کا اور عشقِ رسولﷺ کا کرشمہ تھا کہ مسلسل کوچ اور معرکوں کے تھکے ہوئے جسموں میں جان اور تازگی پیدا ہو گئی تھی ۔یہ مبالغہ نہیں کہ وہ روحانی قوت سے لڑ رہے تھے۔خالدؓ اس کوشش میں تھے کہ رومیوں کو گھیرے میں لے لیں لیکن رومی زندگی اور موت کا معرکہ لڑ رہے تھے۔وہ اب وار اور ہلے روکتے اور پیچھے یادائیں بائیں ہٹتے جاتے تھے۔وہ محاصرے سے بچنے کیلئے پھیلتے بھی جا رہے تھے۔آخر وہ بھی بھاگ بھاگ کر قلعے کے ایک اور کھلے دروازے میں غائب ہونے لگے۔خالدؓ نے بلند آواز سے حکم دیا۔’’ان کے پیچھے قلعے میں داخل ہو جاؤ۔ ‘‘لیکن دیوار کے اوپر سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔ برچھیاں بھی آئیں۔مجاہدین کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا، اور رومی جو بچ گئے تھے وہ قلعے میں چلے گئے اور قلعے کا دروازہ بندہو گیا۔باہر رومیوں اور ان کے اتحادی عیسائیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔زخمی تڑپ رہے تھے۔زخمی گھوڑے بِدکے اور ڈرے ہوئے بے لگام اور منہ زور ہو کر دوڑتے پھر رہے تھے۔چند ایک گھوڑ سواروں کے پاؤں رکابوں میں پھنسے ہوئے تھے اور گھوڑے انہیں گھسیٹتے پھر رہے تھے ۔سوار خون میں نہائی لاشیں بن چکے تھے۔لڑائی ختم ہو چکی تھی۔مجاہدین کے فاتحانہ نعرے گرج رہے تھے۔فتح ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی،دشمن کا نقصان تو بہت ہوا تھا لیکن وہ قلعہ بند ہو گیا تھا۔فتح مکمل کرنے کیلئے قلعے سر کرنا ضروری تھا۔خالدؓ نے اپنے زخمیوں کو اٹھانے کا حکم دیا اور قاصد سے کہا کہ تمام سالاروں کو بلا لائے۔خالدؓنے ایک سوار کو دیکھا جو ان کی طرف آرہا تھا۔وہ دوسروں سے کچھ الگ تھلگ لگتا تھا۔ایک اس لیے کہ اس کا قد لمبا تھا اور جسم دبلا پتلا تھا۔عرب ایسے دبلے پتلے نہیں ہوتے تھے،یہ سوار کچھ آگے کو جھکا ہوا بھی تھا۔اس کی داڑھی گھنی نہیں تھی،اور لمبی بھی نہیں تھی۔اس داڑھی کو اس شخص نے مصنوعی طریقے سے کالا کر رکھا تھا۔وہ اس لیے بھی الگ تھلگ تھا کہ خالدؓ نے اسے لڑتے دیکھا تھا اور اس کاانداز کچھ مختلف سا تھا۔سب کی توجہ اس شخص کی طرف اس وجہ سے بھی ہوئی تھی کہ اس کے ہاتھ میں پیلے رنگ کا پرچم تھا۔یہ وہ پرچم تھاجو خیبر کی لڑائی میں رسولِ اکرمﷺنے اپنے ساتھ رکھا تھا۔خالدؓ اسے پہچان نہ سکے، دھوپ بہت تیز تھی۔اس نے سر پر کپڑا ڈال رکھا تھا جس سے اس کا آدھا چہرہ ڈھکا ہوا تھا،خالدؓ کے قریب آکر وہ شخص مسکرایا تو خالدؓ نے دیکھا کہ اس آدمی کے سامنے کے دو تین دانت ٹوٹے ہوئے ہیں-
’’ابو عبیدہ!‘‘خالدؓنےمسرت سے کہا اور اس کی طرف دوڑے۔وہ ابو عبیدہؓ تھے۔مرج راہط سے خالدؓ نے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ وہ انہیں بصرہ کے باہر ملیں۔ابو عبیدہؓ حواریں کے مقام پر پراؤ ڈالے ہوئے تھے جہاں سے انہوں نے شرجیلؓ بن حسنہ کو چار ہزار مجاہدین دے کو بصرہ پر حملہ کرایا تھا۔ان کے پاس خالدؓ کا قاصد بعد میں پہنچا تھا۔ابو عبیدہؓ پیغام پر اس وقت بصرہ پہنچے جب خالدؓ رومیوں کے ساتھ بڑے سخت معرکے میں الجھے ہوئے تھے۔انہوں نے تلوار نکالی اور معرکے میں شامل ہو گئے۔ابوعبیدہؓ کی اس وقت عمر پچپن سال کے لگ بھگ تھی۔وہ رسولِ کریمﷺکے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ان کے دادا اپنے وقتوں کے مشہور جراح تھے۔اسی نسبت سے انہوں نے اپنا نام ابو عبیدہ بن الجراح رکھ لیا تھا۔ان کا نام عامر بن عبداﷲبن الجراح تھا۔لیکن انہوں نے ابو عبیدہ کے نام سے شہرت حاصل کی۔دبلا پتلا اور کچھ جھکا ہونے کے باوجود ان کے چہرے پر جلال جیسی رونق رہتی تھی۔وہ دانشمند تھے۔میدانِ جنگ میں بھی ان کی اپنی شان تھی اور ذہانت اور عقلمندی میں بھی ان کا مقام اونچا تھا۔ابو عبیدہؓ کے سامنے کے دانت جنگِ احد میں ٹوٹے تھے۔اس معرکے میں رسولِ اکرمﷺ زخمی ہو گئے تھے۔آپﷺ کے خود کی زنجیروں کی دو کڑیاں آپﷺکے رخسار میں ایسی گہری اتری تھیں کہ ہاتھ سے نکلتی نہیں تھیں۔ابو عبیدہؓ نے یہ دونوں اپنے دانتوں سے نکالی تھیں اور اس کامیاب کوشش میں ان کے سامنے کے دو یا تین دانت ٹوٹ گئے تھے۔ابنِ قتیبہ نے لکھا کہ رسولﷺ ابو عبیدہؓ سے بہت محبت کرتے تھے اور حضورﷺنے ایک بار فرمایا تھا کہ ’’ابو عبیدہ میری امت کا امین ہے ۔‘‘ اس حوالے سے ابو عبیدہ ؓکو لوگ امین الامت کہنے لگے۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ نے جب ابو عبیدہؓ کو بصرہ کے میدان میں دیکھا تو انہیں خدشہ محسوس ہوا کہ ابو عبیدہؓ ان کی سپہ سالاری کو قبول نہیں کریں گے،گو خلیفۃ المسلمینؓ نے ابو عبیدہؓ کو تحریری حکم بھیجا تھا کہ جب خالدؓ شام کے محاذ پر پہنچ جائیں تو تمام لشکر کے سالارِ اعلیٰ خالدؓ ہوں گے لیکن خالد ؓکو احساس تھا کہ معاشرے میں جو مقام اور رتبہ ابو عبیدہؓ کو حاصل تھا وہ انہیں حاصل نہیں تھا۔خالدؓ خود بھی ابو عبیدہؓ کا بہت احترام کرتے تھے۔یہ احترام ہی تھا کہ بصرہ کے میدانِ جنگ میں خالدؓنے انہیں اپنی طرف آتے دیکھا تو خالدؓ دوڑ کر ان تک پہنچے ۔ابو عبیدہؓ گھوڑے سے اترنے لگے۔’’نہیں ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ سے کہا۔’’گھوڑے سے مت اتر۔میں اس قابل نہیں ہوں کہ امین الامت میرے لیے گھوڑے سے اترے۔‘‘ابو عبیدہؓ گھوڑے پر سوار رہے اور جھک کر دونوں ہاتھ خالدؓکی طرف بڑھائے۔خالدؓ نے احترام سے مصافحہ کیا۔’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے خالدؓ نے سے کہا۔’’ امیر المومنین کا پیغام مجھے مل گیا تھا جس میں انہوں نے تمہیں ہم سب کا سالارِ اعلیٰ مقرر کیا ہے ۔میں اس پر بہت خوش ہوں۔کوئی شک نہیں کہ جنگ کے معاملات میں جتنی عقل تجھ میں ہے وہ مجھ میں نہیں۔‘‘
’’خدا کی قسم ابنِ عبداﷲ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’امیرالمومنین کے حکم کی تعمیل مجھ پر فرض ہے ورنہ میں تم پر سپہ سالار کبھی نہ بنتا۔ رتبہ جوتمہیں حاصل ہے وہ مجھے نہیں۔‘‘’’ایسی بات نہ کر ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ابو بکر نے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ میں تیرے ماتحت ہوں،تیرے حکم پر آیا ہوں ، اﷲتجھے غسانیوں اور رومیوں پر فتح عطا فرمائے۔‘‘خالدؓ نے بصرہ کومحاصرے میں لینے کا حکم دیا۔رومیوں اور عیسائیوں کی لاشیں جہاں پڑی تھیں۔وہیں پڑی رہیں۔اوپر گِدّھوں کے غول اڑ رہے تھے اور درختوں پر اتر رہے تھے۔مجاہدین اپنے شہیدوں کی لاشیں اٹھا رہے تھے ان کی تعداد ایک سو تیس تھی۔خالدؓنے شہر پناہ کے اردگرد گھوڑا دوڑا کر جائزہ لیا کہ دیوار کہیں سے توڑی جاسکتی ہے یا نہیں۔دیوار کے اوپر سے تیر آرہے تھے لیکن مسلمان ان کی زد سے دورتھے۔قلعے کے اندر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔جبلہ بن الایہم اور رومی سپہ سالار خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔’’کیا تم بالکل ہمت ہار بیٹھے ہو؟‘‘جبلہ بن الایہم نے رومی سالار سے پوچھا۔’’تم نے کہاں کہاں ہمت نہیں ہاری!‘‘رومی سالار نے شکست کا غصہ جبلہ پر نکالا اور کہا۔’’مسلمانوں کے راستے میں سب سے پہلے تم اور عیسائی آئے تھے اور مسلمانوں کو نہ روک سکے۔مرج راہط میں بھی تمہاری فوج ناکام رہی۔کیا تو مجھے اور میری فوج کو مروانا چاہتا ہے؟باہر نکل کے دیکھ۔ فوج کی نفری کتنی رہ گئی ہے ہمارے ساتھ۔ کچھ نفری میدانِ جنگ میں ماری گئی ہے، اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے بہت سے سپاہی اور کماندار اجنادین کی طرف بھاگ گئے ہیں۔قلعے میں تھوڑی سی نفری آئی ہے۔دیوار پر جاکر باہر دیکھ اور لاشوں سے حساب کر کہ ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے؟‘‘باہر سے مسلمانوں کی للکار سنائی دے رہی تھی:’’رومی سالار باہر آکر صلح کی بات کرے۔‘‘’’رومیو!قلعہ ہمارے حوالے کر دو۔‘‘’’ہم نے خود قلعہ سر کیا تو ہم سے رحم کی امید نہ رکھنا۔‘‘اس کے ساتھ ہی خالدؓ کے حکم سے مجاہدین دروازے توڑنے کیلئے آگے جاتے رہے، مگر اوپر کے تیروں نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔انہوں نے ایک جگہ سے دیوار توڑنے کی کوشش بھی کی۔لیکن کامیابی نہ ہوئی۔شہر کے لوگوں پر خوف طاری تھا،وہ مسلمانوں کی للکار سن رہے تھے۔وہ جانتے تھے کہ فاتح فوجیں شہر کے لوگوں کو کس طرح تباہ کیا کرتی ہیں۔مسلمان کہہ رہے تھے کہ قلعے خود دے دو گے تو شہری اور ان کے گھر محفوظ رہیں گے۔جبلہ بن الایہم اور رومی سالار کمرے سے باہر نہیں آتے تھے۔شہر کے لوگ ایک ایک لمحہ خوف و ہراس میں گزار رہے تھے۔وہ تنگ آکر جبلہ کے محل کے سامنے اکٹھے ہو گئے۔’’مسلمانوں سے صلح کر لو۔‘‘ وہ کہہ رہے تھے۔’’ہمیں بچاؤ، قلعہ انہیں دے دو۔ ہمارا قتلِ عام نہ کراؤ۔‘
جبلہ اور رومی سالار نے تین چار دنوں تک کوئی فیصلہ نہ کیا، خالدؓ نے محاصرے کے بہانے اپنے لشکر کو آرام کی مہلت دے دی۔ انہوں نے شہیدوں کا جنازہ پڑھ کر اسے دفن کر دیا۔آخر ایک روز قلعے پر سفید جھنڈا نظر آیا،قلعے کا دروازہ کھلا اور رومی سالار باہر آیا۔ اس نے صلح کی بھیک مانگی۔ خالدؓ نے ان پر یہ شرط عائد کی وہ جزیہ ادا کریں۔رومی سالار نے قلعہ خالدؓ کے حوالے کردیا۔ یہ جولائی ۶۳۴ء )جمادی الاول(کا وسط تھا۔رومی اور غسانی قلعے سے نکلنے لگے۔شرجیلؓ بن حسنہ نے دیکھا تھا کہ رومی سپاہی اجنادین کی طرف بھاگ رہے تھے۔شرجیلؓ نے اپنا ایک جاسوس اجنادین بھیج دیا۔اس جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ رومی فوج اجنادین میں جمع ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ وہاں نوے ہزار فوج تیار ہو جائے گی۔’’ہماری اگلی منزل اجنادین ہو گی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔نپولین ان جرنیلوں میں سے تھا جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ کا پانسہ پلٹا اور کرہ ارض کو ہلا دیا تھا۔فرانس کے تاریخ ساز جرنیل نپولین نے خالدؓبن ولید کے متعلق کہا تھا،اگر مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار کوئی اور ہوتا تو یہ فوج اجنادین کی طرف پیش قد می ہی نہ کرتی۔نپولین کا دور خالدؓکے دور کے تقریباً بارہ سو سال بعد کا تھا۔تاریخ کے اس نامور جرنیل نے ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا اور ان کی فوجوں کی کیفیت اور کارکردگی کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ جولائی ۶۳۴ء میں بصرہ کی فتح کے بعد خالدؓ نے اپنی فوج کو اجنادین کی طرف پیش قدمی کا جو حکم دیا تھا وہ مسلمانوں کی فوج کی جسمانی کیفیت اور تعداد کے بالکل خلاف تھا۔ انہیں جاسوس نے صحیح رپورٹ دی تھی، کہ اجنادین میں رومیوں نے جو فوج مسلمانوں کو کچلنے کیلئے اکٹھی کر رکھی ہے، اس کی تعداد نوے ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے کم نہیں۔ یہ فوج تازہ دم تھی۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ تھی اور یہ فوج مسلسل لڑتی چلی جاتی تھی۔صرف بصرہ کی لڑائی میں ایک سو تیس مجاہدین شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تھے۔یہاں موزوں معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کی اسلامی فوج کے متعلق کچھ تفصیل پیش کی جائے۔اسلامی فوج کی کوئی وردی نہیں تھی۔جس کسی کو جیسے کپڑے میسر آتے تھے وہ پہن لیتا تھا۔ایسا تو اکثر دیکھنے میں آتا تھا کہ کئی سپاہیوں نے بڑے قیمتی کپڑے پہن رکھے ہیں اور سالار، نائب سالار وغیرہ بالکل معمولی لباس میں ہیں۔ وجہ تھی کہ سپاہی مالِ غنیمت میں ملے ہوئے کپڑے پہن لیتے تھے۔اسلامی فوج کی ایک خوبی یہ تھی کہ سالاروں کمانداروں یعنی افسروں کا کوئی امتیازی نشان نہ تھا۔افسری کا یہ تصور تھا ہی نہیں جو آج کل ہے۔بعض قبیلوں کے سردار سپاہی تھے اور انہی قبیلوں کے بعض ادنیٰ سے آدمی کماندار تھے۔عہدے اور ترقیاں نہیں تھیں۔آج ایک آدمی جذبے کے تحت فوج میں سپاہی کی حیثیت سے شامل ہواہے تو ایک دو روز بعد وہ ایک دستے کاکماندار بن گیا ہے۔جذبہ اور جنگی اہلیت دیکھی جاتی تھی،ایسے بھی ہوتا تھا کہ ایک معرکے کا افسر اگلے معرکے میں سپاہی ہو۔
اسلام کی تعلیمات کے مطابق افسری اور ماتحتی کا تصور کچھ اور تھا۔ جس کسی کو افسر بنایا جاتا تھا وہ فرائض کی حد تک افسر ہوتا تھا۔ اس کا کوئی حکم ذاتی نوعیت کا نہیں ہوتا تھا۔چونکہ افسر کے انتخاب کا معیار کچھ اور تھا اس لیے اس وقت کا معاشرہ خوشامد اور سفارش سے آشنا ہی نہیں ہوا تھا۔اتنی وسیع اسلامی سلطنت کا زوال اس وقت شروع ہوا تھا جب مسلمان افسر اور ماتحت میں تقسیم ہو گئے تھے اور حاکموں نے ماتحتوں کو محکوم سمجھنا شروع کر دیا تھااور وہ خوشامد پسند ہو گئے تھے۔ہتھیارون کا بھی کوئی معیار نہ تھا۔ فوج میں شامل ہونے والے اپنے ہتھیار خود لاتے تھے۔زِرہ اور خود ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی تھی۔مسلمان سپاہی جو زرہ اور خودپہنتے تھے وہ دشمن سے چھینی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان میں اس قسم کی یکسانیت نہیں ہوتی تھی جیسی فوجوں میں ہوا کرتی ہے۔اسلامی فوج کا کوچ منظم فوج جیسا نہیں ہوتا تھا۔یہ فوج غیر منظم قافلے کی مانند چلتی تھی۔ان کی خوراک اور رسد ان کے ساتھ ہوتی تھی۔بیل گائیں، دنبے اور بھیڑ بکریاں جو فوج کی خوراک بنتی تھیں، فوج کے ساتھ ہوا کرتی تھیں، رسد کا باقاعدہ انتظام بہت بعد میں کیا گیا تھا۔گھوڑ سوار کوچ کے وقت پیدل چلا کرتے تھے تاکہ گھوڑے سواروں کے وزن سے تھک نہ جائیں۔سامان اونٹوں پر لدا ہوتا تھا، عورتیں اور بچے ساتھ ہوتے تھے انہیں اونٹوں پر سوار کرایاجاتا تھا۔اس وقت کی اسلامی فوج کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ فوج ہے،اس کوقافلہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس فوج کی ایک تنظیم تھی۔آگے ہراول دستہ ہوتا تھا جسے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا پورا احساس ہوتا تھا، اس کے پیچھے فوج کا ایک بڑا حصہ، اس کے پیچھے عورتیں اور بچے اور اس کے پیچھے عقب کی حفاظت کیلئے ایک دستہ ہوتا تھا۔اسی طرح پہلوؤں کی حفاظت کا بھی انتظام ہوتا تھا.
یہ فوج عموماً دشوار رستہ اختیار کیا کرتی تھی۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا تھا کہ منزل تک کا راستہ چھوٹا ہو جاتا تھا، دوسرا فائدہ یہ کہ راستے میں دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں رہتا تھا، اگر دشمن حملہ کر بھی دیتا تو اسلامی فوج فوراً علاقے کی دشواریوں یعنی نشیب و فراز وغیرہ میں روپوش ہو جاتی تھی، دشمن ایسے علاقے میں لڑنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔جولائی ۶۳۴ء کے آخری ہفتے میں خالدؓ کی فوج اسی طرح اجنادین کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی ۔ پہلے سنایا جا چکا ہے کہ مدینہ کی فوج کے چار حصے مختلف مقامات پر تھے ۔خالدؓ نے ان کے سالاروں کو پیغام دیئے تھے کہ سب اجنادین پہنچ جائیں۔
خالدؓنے بصرہ پر قبضہ کر لیا تھا، رومیوں اور غسانیوں کیلئے یہ چوٹ معمولی نہیں تھی۔بصرہ شام کا بڑا اہم شہر تھا،یہ مسلمانوں کا اڈہ بن گیا تھا۔سب سے بڑا نقصان رومیوں کو یہ ہوا تھا کہ لوگوں پر اور ان کی فوج پر مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔مسلمانوں نے بصرہ تک شکستیں دی تھیں، کہیں بھی شکست کھائی نہیں تھی،کہیں ایک سالار کو پسپا ہونا پڑا تو فوراً دوسرے سالار نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔قیصر روم کی تو نیندیں حرام ہو گئی تھیں،خالدؓنے جب بصرہ کو محاصرہ میں لے رکھا تھا اور صورتِ حال بتا رہی تھی کہ بصرہ رومیوں کے ہاتھ سے جارہا ہے تو شہنشاہِ ہرقل رومی نے حمص کے حاکم وِردان کو ایک پیغام بھیجا تھا:’’کیا تم شراب میں ڈوب گئے ہو یا تم ان عورتوں جیسی عورت بن گئے ہو جن کے ساتھ تمہاری راتیں گزرتی ہیں؟‘‘ہرقل نے لکھا تھا۔’’اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا دن اونگھتے گزرتا ہے ۔کیا ہے ان مسلمانوں کے پاس جو تمہارے پا س نہیں؟اگر میں کہوں کہ قیصرِ روم کی ذلت کے ذمہ دار تم جیسے حاکم ہیں تو کیا جواب دو گے؟تم شاید یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ مسلمانوں کی اتنی تیز پیش قدمی اور فتح پہ فتح حاصل کرتے چلے آنے کو کس طرح روکا جا سکتا ہے ۔کیا تمہاری تلواروں کو زنگ نے کھا لیا ہے؟ کیا تمہارے گھوڑے مر گئے ہیں؟لوگوں کو تم بتاتے کیوں نہیں کہ مسلمان تمہارے مال و اموال لوٹ لیں گے۔ تمہاری بیٹیوں کو ، تمہاری بیویوں اور تمہاری بہنوں کو اپنے قبضے میں لے لیں گے!……مجھے بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار سے ذرا کم یا زیادہ ہے۔تم زیادہ سے زیادہ فوج اکٹھی کرو اور اجنادین کے علاقے میں پہنچ جاؤ ۔محاذ کو اتنا پھیلا دو کہ مسلمان اس کے مطابق پھیلیں تو ان کی حالت کچے دھاگے کی سی ہو جائے……انہیں اپنی تعداد میں جذب کرلو۔انہیں اپنی تعداد میں گم کر دو۔‘‘رومیوں کی بادشاہی میں ہنگامہ بپا ہو گیا تھا۔رومیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں پادریوں اور پروہتوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز وعظ شروع کر دیئے تھے،وہ کہتے تھے کہ اسلام ان کے مذہبوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دے گااور انہیں مجبوراًاسلام قبول کرنا پڑے گا،اور یہ ایسا گناہ ہوگا جس کی سزا بڑی بھیانک ہوگی۔رومیوں کی فوج ایک منظم لشکر تھا۔ان کے پاس گھوڑوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان کے پاس گاڑیاں بھی تھیں جو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے۔رسد کا انتظام بہت اچھا تھا۔عبادت گاہوں میں لوگوں نے وعظ سنے تو وہ فوج میں شامل ہونے لگے۔اس طرح ان کی فوج کی تعداد بڑھ گئی۔حمص کا حاکم وردان جب فوج کے ساتھ اجنادین کو روانہ ہوا اس وقت فوج کی تعداد نوے ہزار تھی۔
مسلمانوں کے جاسوسوں نے اس لشکر کو اجنادین کے علاقے میں خیمہ زن ہوتے دیکھا تھا۔اتنے بڑے اور ایسے منظم لشکر کے مقابلے کیلئے جانا ہی بہت بڑی جرات تھی، مقابلہ تو بعد کا مسئلہ تھا۔
۲۴جولائی ۶۳۴ء کے روز خالدؓ اپنی فوج کے ساتھ اجنادین پہنچ گئے ۔وہ بیت المقد س کے جنوب میں پہاڑیوں میں سے گزرے تھے۔ان پہاڑیوں کے ایک طرف میدان تھا۔ خالدؓ نے وہاں قیام کا حکم دیا۔تقریباًایک میل دور رومی فوج خیمہ زن تھی۔اس کا سالارِ اعلیٰ وردان اور سالار قُبقُلارتھا۔رومی فوج تو جیسے انسانوں کا سمندر تھا۔مسلمانوں کی فوج اس کے مقابلے میں چھوٹا سادریا لگتی تھی۔اسلامی فوج کے جو دستے دوسری جگہوں پر تھے وہ آگئے اور مسلمانوں کی تعداد بتیس ہزار ہو گئی۔ایک میل کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ مسلمان اونچی جگہوں پر کھڑے ہوکر رومیوں کی خیمہ گاہ کی طرف دیکھتے تھے۔انہیں حدّ نگاہ تک انسان اور گھوڑے نظر آتے تھے۔دو تین دنوں بعد خالدؓ کو بتایا گیا کہ فوج میں کچھ گھبراہٹ سی پائی جاتی ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اُن نو ہزار مجاہدین میں ذرا سی بھی گھبراہٹ نہیں تھی جو خالدؓ کے ساتھ تھے۔وہ عیسائیوں غسانیوں اور رومیوں کے خلاف لڑتے چلے آئے تھے۔وہ رومیوں کی اتنی زیادہ فوج سے خوفزدہ نہیں تھے۔دوسرے دستوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے خالدؓ خیمہ گاہ میں گھومنے پھرنے لگے۔وہ جہاں رکتے ان کے اردگردمجاہدین کا مجمع لگ جاتا۔خالدؓنے سب سے ایک ہی جیسے الفاظ کہے:’’اسلام کے سپاہیو!میں جانتا ہوں تم نے اتنی زیادہ رومی فوج پہلے کبھی نہیں دیکھی لیکن تم اتنی بڑی فوج کو پہلے شکست دے چکے ہو۔ خدا کی قسم!تم ڈر گئے تو ہار جاؤ گے،اور اگر تم نے اس لشکر پر فتح پالی تو رومی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں گے۔اپنے اﷲکے نام پر لڑو۔ اسلام کے نام پر لڑو۔ اگر تم نے پسپائی اختیار کی تو دوزخ کی آگ میں جلو گے۔جب لڑائی شروع ہو جائے تو اپنی صفوں میں بد نظمی پیدا نہ ہونے دینا۔ قدم جما کر رکھنا۔ جب تک میری طرف سے حکم نہ ملے، نہ پیچھے ہٹنا نہ حملہ کرنا……اﷲتمہارے ساتھ ہے۔‘‘اُدھر رومیوں کا سالارِ اعلیٰ وردان اپنے کمانداروں سے کہہ رہا تھا:’’اے رومیو!قیصرِ روم کو شکست کی ذلت سے بچانا تمہارا فرض ہے، قیصر روم کو تم پر اعتماد ہے۔اگر تم نے ان عربی مسلمانوں کو فیصلہ کن شکست نہ دی تو یہ تم پر ہمیشہ کی طرح غالب آجائیں گے ۔یہ تمہاری بہنوں ، بیٹیوں اور بیویوں کو بے آبرو کریں گے۔اپنے آپ کو منتشر نہ ہونے دینا، صلیب کی مددمانگو، فتح تمہاری ہے۔مسلمانوں کی تعدادبہت تھوڑی ہے۔ایک کے مقابلے میں تم تین ہو۔‘‘
دو تین دن مزید گزر گئے۔خالدؓ دشمنوں کی صحیح تعداد اور کیفیت معلوم کرنا چاہتے تھے۔وہ کسی بھی جاسوس کو بھیج سکتے تھے لیکن انہیں جس قسم کی معلومات کی ضرورت تھی وہ کوئی ذہین اور دلیر آدمی حاصل کرسکتا تھا۔انہوں نے اپنے سالاروں سے کہا کہ انہیں کوئی
آدمی دیا جائے۔’’ابنِ ولید!‘‘سالار ضرار بن الازور نے کہا۔’’کیا میں یہ کام نہیں کر سکوں گا؟خدا کی قسم!مجھ سے بہتر یہ کام کوئی اور نہیں کر سکے گا۔‘‘ضرار وہ سالار تھے جنہوں نے بصرہ کے معرکے میں نہ صرف اپنی زرہ اتار پھینکی بلکہ قمیض بھی اتار کر کمر تک برہنہ ہو گئے اور ایسے جوش سے لڑے کہ سارے لشکر کے جوش و جذبے میں بے پناہ اضافہ ہو گیاتھا۔’’ہاں ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔’’ تمہارے سوا یہ کام اور کون کر سکتا ہے۔ تم ہی بہتر جانتے ہو کہ تمہیں وہاں کیا دیکھنا ہے۔‘‘ضرار نے قمیض اتار پھینکی اور کمر تک برہنہ ہو گئے ۔وہ گھوڑے پر سوار ہوئے تو خالدؓ اور دوسرے سالاروں نے قہقہہ لگایا۔’’خدا حافظ میرے رفیقو!‘‘ضرار نے ہلکی سی ایڑ لگا کر کہا۔’’اﷲتجھے سلامت رکھے ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔رومیوں کی خیمہ گاہ کے قریب ایک اونچی ٹیکری تھی۔ ضرار نے گھوڑا نیچے چھوڑا اور ٹیکری پر چڑھ گئے۔مسلمانوں اور رومیوں کی خیمہ گاہ کے درمیان ایک میل کا علاقہ خالی تھا۔دونوں فریقین کے گشتی سنتری اس علاقے میں گردش کرتے رہتے تھے۔یہ گشتی سنتری گھوڑ سوار ہوتے تھے۔ضرار کو رومیوں کے گشتی سوار نہیں دیکھ سکے تھے۔ضرار ٹیکری پر چڑھے تو دوسری طرف رومیوں کے سنتری موجود تھے۔انہوں نے ضرار کو دیکھ لیا۔ضرار تیزی سے نیچے اترے اور کود کر گھوڑے پر سوار ہوئے۔انہیں پکڑنے کیلئے رومی سوارٹیکری کے دونوں طرف سے آئے۔ان کی تعداد )مؤرخوں کے مطابق( تیس تھی۔ضرار نے گھوڑے کو ایڑ لگائی لیکن گھوڑے کو تیز نہ دوڑایا۔رومی سواروں نے بھی گھوڑے تیز نہ دوڑائے۔وہ غالباً محتاط تھے کہ مسلمان سنتری کہیں قریب موجود ہوں گے۔پھر بھی رومی سواروں نے ضرار کا تعاقب جاری رکھااور ضرار معمولی رفتار سے چلے آئے۔رومی سوار انہیں گھیرے میں لینے کیلئے پھیلتے چلے گئے اور وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔ضرار ان کے بکھرنے کے ہی منتظر تھے۔ان کے پاس برچھی تھی،ان کی اپنی خیمہ گاہ قریب آگئی تھی۔اچانک ضرار نے تیزی سے گھوڑے کو پیچھے موڑا اور ایڑ لگائی۔ان کا رخ اس رومی سوار کی طرف تھا جو ان کے قریب تھا،انہوں نے اس رومی پر برچھی کا وار کیا۔وار بڑا زوردار تھا۔رومی سنبھل نہ سکا۔ ضرار کا حملہ غیر متوقع تھا۔یہ سوار گھوڑے سے گر پڑا۔دوسرے رومی سوار ابھی سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ یہ کیا ہوا ہے، کہ ضرار کی برچھی ایک اور رومی کے پہلو میں اتر چکی تھی۔تیسرا سوار ضرار کی طرف آیا تو ضرار کی برچھی میں پرویا گیا۔مسلمانوں کی خیمہ گاہ قریب ہی تھی پھر بھی رومی ضرار کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہے تھے ۔ضرار مانے ہوئے شہسوار تھے،وہ رومیوں کے ہاتھ نہیں آرہے تھے۔رومیوں کی تعداد اب ستائیس تھی۔ضرار بھاگ نکلنے کے بجائے انہی میں گھوڑا دوڑاتے اور پینترے بدلتے پھر رہے تھے۔ان کی برچھی کا کوئی وار خالی نہیں جاتا تھا۔
واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ ضرار نے برچھی کے ساتھ ساتھ تلوار بھی استعمال کی تھی۔ان کی تحریروں کے مطابق ضرار نے تیس میں سے انیس رومی سواروں کو مار ڈالا تھا۔ضرار کو زد میں لینے کی کوششش میں رومی مسلمانوں کی خیمہ گاہ کے اورقریب آگئے تھے۔بہت سے مسلمان سوار ضرار کی مدد کو پہنچنے کیلئے تیار ہونے لگے۔رومیوں نے یہ خطرہ بر وقت بھانپ لیا اور وہ بھاگ گئے۔ضرار اپنی خیمہ گاہ میں داخل ہوئے تو مجاہدین نے دادوتحسین کا شور و غوغا بپا کرکے ان کا استقبال کیا لیکن خالدؓ کے سامنے گئے تو خالدؓ کے چہرے پر خفگی تھی-
’’کیا میں نے تجھے کسی اور کام کیلئے نہیں بھیجا تھا؟‘‘خالدؓ نے درشت لہجے میں کہا۔’’اور تو نے دشمن سے لڑائی شروع کر دی۔ کیا تو نے اپنے فرض کے ساتھ بے انصافی نہیں کی؟‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ضرار بن الازور نے کہا۔’’خدا کی قسم!تیرے حکم کا اور تیری ناراضگی کا خیال نہ ہوتا تو جو رومی بچ کر نکل گئے ہیں وہ بھی نہ جاتے۔انہوں نے مجھے گھیر لیا تھا۔‘‘اس کے بعد خالدؓ نے کسی کو رومی خیمہ گاہ کی جاسوسی کیلئے نہ بھیجا۔تین چار دن اور گزر گئے۔خالدؓ کے لشکر نے آرام کر لیا لیکن خالدؓکے اپنے شب وروز جاگتے سوچتے اور خیمے میں ٹہلتے گزرے۔اپنے سے تین گنا طاقتور فوج کو شکست دینا تو ذرا دور کی بات ہے، اس کے مقابلے میں اترنا ہی ایک بہادری تھی لیکن خالدؓ فتح کے سوا کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔وہ ہر شام سالاروں اور کمانداروں کو بلا کر ان سے مشورے لیتے اور ہدایات دیتے تھے۔رومی کیمپ میں کچھ اور ہی صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی۔ان کے سالار قُبقُلار کا حوصلہ جواب دے رہا تھا۔متعدد مؤرخوں نے خصوصاًواقدی نے یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے۔’’میں بڑا ہی خوش قسمت ہوتا اگر میں مسلمانوں کی فوج سے دور رہتا۔‘‘قُبقُلارنے اپنے سالارِ اعلیٰ وردان سے کہا۔’’ایسے نظر آرہا ہے کہ وہ ہم پر غالب آجائیں گے۔‘‘’’ایسی بے معنی بات میں آج پہلی بار سن رہا ہوں۔‘‘وردان نے کہا۔’’کیا ایک آدمی کبھی تین آدمیوں پر غالب آیا ہے؟’’ایسا کئی بار ہوا ہے۔‘‘قبقلار نے کہا۔’’ہاں ایسا کئی بار ہوا ہے۔‘‘وردان نے کہا۔’’اور وہ تم جیسے تین آدمی تھے جو میدان میں اترنے سے پہلے ہی حوصلہ ہار بیٹھے تھے۔‘‘’’کیا وہ ایک آدمی نہیں تھا جس نے ہمارے تیس میں سے انیس سواروں کو مار گرایا ہے؟‘‘قبقلار نے کہا۔’’تیس سوار ایک سوار پر غالب نہیں آسکے۔‘‘’’وہ سپاہی تھے، بزدل تھے۔‘‘وردان نے کہا۔’’تم سالار ہو، تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ میدانِ جنگ میں بزدلی کی سزا موت ہے……لیکن مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں ہوا کیا ہے؟کیا تم پر مسلمانوں کا جادو چل گیا ہے؟‘‘’’جب سے ایک مسلمان نے ہمارے تیس آدمیوں کا مقابلہ کیا اور انیس کو مار گرایا ہے میں سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ اس ایک آدمی میں اتنی طاقت اور اتنی پھرتی کہاں سے آگئی تھی؟‘‘سالار قبقلار نے کہا۔’’میں نے ایک عربی عیسائی کو مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج رکھا تھا۔وہ تین چار دن مسلمان بن کر ان کی خیمہ گاہ میں رہا ، کل وہ واپس آیا ہے۔اس نے جوکچھ بتایا ہے اس سے مجھے پتا چلا ہے کہ ان کی طاقت کیا ہے۔‘‘’’ا س نے کیا بتایا ہے؟‘‘وردان نے پوچھا۔’’میں اسے ساتھ لایا ہوں۔‘‘قبقلار نے کہا۔’’ساری بات اسی سے سن لیں۔‘‘جاسوس کو بلایا گیا۔وردان نے اس سے پوچھا کہ مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں اس نے کیا دیکھا ہے۔’’سالارِ اعلیٰ کا رتبہ قیصرِ روم جتنا ہو۔‘‘جاسوس نے تعظیم سے کہا۔’’میں نے اس خیمہ گاہ میں عجیب لوگ دیکھے ہیں۔وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں، ہم جیسے نہیں۔‘‘’’تم اتنے دن ان کے درمیان کس طرح رہے؟‘‘وردان نے پوچھا۔’’کیا تم پر کسی نے شک نہیں کیا؟‘‘’’میں ان کی زبان بولتا ہوں۔‘‘جاسوس نے جواب دیا۔’’ان کے طور طریقے جانتا ہوں۔ان کے مذہب اور ان کی عبادت سے واقف ہوں،وہ اپنی فوج میں آپ کی طرح کسی کو بھرتی نہیں کرتے، جو کوئی ان کی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہے ، اپنا ہتھیار اور اپنا گھوڑا لے کر شامل ہو جاتاہے۔میں مسلمان بن کر ان کی فوج میں شامل ہو گیا تھا……‘‘’’میں نے ان مسلمانوں میں کچھ نئے اصول دیکھے ہیں۔رات کو وہ عبادت گزار ہوتے ہیں، اور دن کو ایسے جنگجو جیسے وہ لڑنے مرنے کے سوا کچھ جانتے ہی نہ ہوں۔اپنے عقیدے کے تحفظ اور اس کے فروغ کیلئے لڑنے اور جان دینے کو یہ اپنا ایمان کہتے ہیں،ان کا ہر ایک سپاہی اس طرح بات کرتا ہے جیسے وہ کسی سالار کے حکم سے نہیں بلکہ اپنی ذاتی لڑائی کیلئے آیا ہو۔وہ سب ایک جیسے ہیں۔ لباس سے سالار اور سپاہی میں فرق معلوم نہیں کیا جا سکتا……‘‘’’میں نے ان میں مساوات کے علاوہ انصاف دیکھا ہے۔ اگر ان کے حاکم یا امیر کا بیٹا چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ہیں۔اگر وہ کسی عورت کے ساتھ بد کاری کرتے ہوئے پکڑا جائے تو اسے سرِ عام کھڑا کرکے پتھر مارتے ہیں حتیٰ کہ وہ مر جاتا ہے۔یہ لوگ اتنے مطمئن ہیں کہ انہیں کوئی فکر اور کوئی پریشانی نہیں……‘‘
’’سالارِ اعلیٰ اگر مجھے معاف کر دیں تو میں کہوں……ہماری فوج میں وہ وصف نہیں جو مسلمانوں میں دیکھ کر آیا ہوں۔مسلمانوں کا کوئی بادشاہ نہیں۔ہمارے سپاہی بادشاہ کے حکم سے لڑتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ بادشاہ انہیں نہیں دیکھ رہا تو وہ اپنی جانیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مسلمان ایک خدا کو اپنا بادشاہ سمجھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ خدا ہر جگہ موجود ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘مشہور مؤرخ طبری نے لکھاہے کہ قبقلار بول پڑا۔’’ میں کہتا ہوں میں اس زمین کے نیچے چلا جاؤں جس زمین پر ان سے مقابلہ کرنا پڑے۔کاش، میں ان کے قریب نہ جا سکوں۔نہ خدا اُن کے خلاف میری نہ میرے خلاف اُن کی مدد کرے۔‘‘وردان نے قبقلار سے کہا کہ اسے لڑنا پڑے گا۔ لیکن قبقلار کا لڑنے کا جذبہ ماند پر گیا تھا۔۲۷ جمادی الاول ۱۳ہجری )۲۹ جولائی ۶۳۴ء( کی شام خالدؓنے اپنے سالاروں کو آخری ہدایات دیں اور اپنے لشکر کی تقسیم کر دی۔۲۸ جمادی الاول ۱۳ ہجری )۳۰ جولائی ۶۳۴ء( کو مجاہدین نے روز مرہ کی طرح فجر کی نماز باجماعت پڑھی۔سب نے گڑگڑاکر بڑے ہی جذباتی اندازمیں دعائیں مانگیں۔بہت سے ایسے تھے جن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ان میں سے نہ جانے کس کس کی یہ آخری نماز تھی۔نماز کے فوراًبعد انہیں اپنے اپنے دستوں کے ساتھ ان جگہوں پر چلے جاناتھا جو ان کیلئے گذشتہ رات مقرر کی گئی تھیں۔سورج نکلنے سے پہلے پہلے خالدؓ کا لشکر اپنی جگہوں پر پہنچ چکا تھا۔رومیوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ اپنی اتنی زیادہ تعداد کے بل بوتے پر اتنا پھیل جائیں گے کہ مسلمان اتنا پھیلے تو ان کی صفوں میں شگاف پڑ جائیں گے۔لیکن خالدؓ نے تعداد کی قلت کے باوجود محاذ پانچ میل لمبا بنا دیا،اس سے یہ خطرہ کم ہو گیا کہ رومی پہلوؤں میں جا کر یا پہلوؤں سے عقب میں جاکر حملہ کریں گے۔خالدؓنے دوسری دانشمندی یہ کی کہ اپنے لشکر کا منہ مغرب کی طرف رکھا تاکہ سورج ان کے پیچھے اور رومیوں کے سامنے رہے اور وہ آنکھوں میں سورج کی چمک پڑنے کی وجہ سے آنکھوں کو کھول نہ سکیں۔
حسبِ معمول خالدؓ نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک پہلو کے دستوں کے سالار سعید بن عامر تھے، دوسرے کے امیرالمومنین ابو بکرؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن،اور قلب کی کمان معاذؓ بن جبل کے پاس تھی۔خالدؓنے دونوں پہلوؤں کے دستوں کی حفاظت کے لئے یا مشکل کے وقت ان کی مدد کو پہنچنے کا یہ اہتمام کیا تھا کہ ان دستوں کے آگے ایک ایک دستہ کھڑا کر دیا تھا۔چار ہزار نفری جس کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے، خالدؓ نے قلب کے عقب میں محفوظہ)ریزرو( کے طور پر رکھ لی، وہاں اس نفری کی موجودگی اس لیے بھی ضروری تھی کہ وہاں عورتیں اور بچے تھے۔خالدؓنے سالاری کے رتبے کے افراد کو اپنے ساتھ رکھ لیا، مقصد یہ تھا کہ جہاں کہیں سالار کی ضرورت پڑے، ان میں سے ایک کو وہاں بھیج دیا جائے، یہ چاروں بڑے قابل اور تجربہ کار سالار تھے۔ عمرؓ کے بیٹے عبداﷲؓ، عمروؓ بن العاص، ضرار بن الازور، اور رافع بن عمیرہ۔سورج طلوع ہوا تورومی سنتریوں نے اپنے سالاروں کو اطلاع دی کہ مسلمان جنگی ترتیب میں تیار ہو گئے ہیں۔ رومیوں کے اجتماع میں ہڑبونگ مچ گئی۔
ان کا خدشہ بجا تھا کہ مسلمان حملہ کر دیں گے۔رومی سالاروں نے بڑی تیزی سے اپنے لشکر کو تیار کیااور مسلمانوں کے سامنے کھڑا کر دیا۔دونوں فوجوں کے درمیان فاصلہ تقریباً چار فرلانگ تھا۔خالدؓنے اپنے محاذ کو کم و بیش پانچ میل لمبا کر دیا تھا۔رومی اپنے لشکر کو اس سے زیادہ پھیلا سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے محاذ کی لمبائی تقریباً اتنی ہی رکھی جتنی خالدؓنے رکھی تھی۔اس سے خالدؓکا یہ مسئلہ تو حل ہو گیا کہ رومی مسلمانوں کے پہلوؤں کیلئے خطرہ نہ بن سکے لیکن رومی لشکر کی گہرائی زیادہ بلکہ بہت زیادہ تھی۔دستوں کے پیچھے دستے اور ان کے پیچھے دستے تھے۔مسلمانوں کیلئے ان کی صفیں توڑنا تقریباًناممکن تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ رومیوں کا لشکر جب اس ترتیب میں آیا تو دیکھنے والوں پر ہیبت طاری کرتا تھا۔بہت سی صلیبیں جن میں کچھ بڑی اور کچھ ذرا چھوٹی تھیں ، اس لشکر میں سے اوپر کو ابھری ہوئی تھیں اور کئی رنگوں کے جھنڈے اوپر کو اٹھے ہوئے لہرا رہے تھے۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوج نہایت معمولی اور بے رعب سی لگتی تھی۔رومیوں کا سالار رودان اور سالار قُبقُلار اپنے لشکر کے قلب کے سامنے گھوڑوں پر سوار کھڑے تھے۔ان کے ساتھ ان کے محافظوں کا ایک دستہ تھا جو لباس وغیرہ سے بڑی شان والے لگتے تھے۔رومیوں کی تعداد اور ان کے ظاہری جاہ وجلال کو دیکھ کر خالدؓ نے محسوس کیا ہوگا کہ ان کے مجاہدین پر رومیوں کا ایسا اثر ہو سکتا ہے کہ ان کا جذبہ ذرا کمزور ہو جائے۔شاید اسی لیے خالدؓ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ گائی اور گھوڑے کا رخ اپنی فوج کے ایک سرے کی طرف کر دیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے اپنامحاذ اتنا زیادہ پھیلایا تھا،انہوں نے گھوڑا ایک پہلو کے دستے کے سامنے جا روکا۔’’یاد رکھنا کہ تم اس اﷲ کے نام پر لڑنے آئے ہو جس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے۔‘‘خالدؓنے ایک ہاتھ اور اس ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف کرکے انتہائی بلند آواز میں کہا۔’’اﷲکسی اور طریقے سے بھی اپنی دی ہوئی زندگی تم سے واپس لے سکتا ہے۔اﷲنے تمہارے ساتھ ایک رشتہ قائم کر رکھا ہے ،کیا یہ اچھا نہیں کہ تم اﷲکی خاطر اپنی جانیں قربان کردو؟اﷲاس کا اجر دے گا۔ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے کہ تم تھوڑے تھے اور تمہارا مقابلہ اس دشمن سے ہوا جو تم سے دوگنا اور تین گناتھااور اتنا طاقتور دشمن تمہاری ضرب سے اس طرح بھاگا جس طرح بکری شیر کو اور بھیڑ بھیڑیئے کو دیکھ کر بھاگتی ہے……رومیوں کی ظاہری شان و شوکت کو نہ دیکھو۔شان و شاکت ایمان والوں کی ہوتی ہے۔جاہ و جلال ان کا ہے جن کے ساتھ اﷲہے۔اﷲتمہارے ساتھ ہے۔آج اپنے اﷲپر اور اﷲکے رسولﷺ پر ثابت کر دو کہ تم باطل کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنیو الے ہو-
یہ تو جذباتی باتیں تھیں جو خالدؓ نے کیں، اور ان کا اثر وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا ، خالدؓنے ان باتوں کے علاوہ کچھ ہدایات دیں، مورخوں نے ان کے صحیح الفاظ لکھے ہیں:’’جب آگے بڑھ کر حملہ کرو تو مل کر دشمن پر دباؤ ڈالو، جیسے ایک دیوار بڑھ رہی ہو، جب تیر چلاؤ تو سب کے تیر اکٹھے کمانوں سے نکلیں اور دشمن پر بوچھاڑ کی طرح گریں، دشمن کو اپنے ساتھ بہا لے جاؤ۔‘‘خالدؓ تمام دستوں کے سامنے رُکے، اور یہی الفاظ کہے۔ اس کے بعد وہ عقب میں عورتوں کے پاس چلے گئے۔’’دعا کرتی رہنا اپنے خاوندوں کیلئے ۔ اپنے بھائیوں اور اپنے باپوں کیلئے!‘‘خالدؓنےعورتوں سے کہا۔’’تم دیکھ رہی ہو کہ دشمن کی تعداد کتنی زیادہ ہے، اور ہم کتنے تھوڑے ہیں، ایسا ہو سکتا ہے کہ دشمن ہماری صفوں کو توڑکے پیچھے آجائے ۔خدا کی قسم!مجھے پوری امید ہے کہ اپنی عزت اور اپنی جانیں بچانے کیلئے تم مردوں کی طرح لڑو گی۔ ہم انہیں تم تک پہنچنے نہیں دیں گے لیکن وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو ہم نہیں چاہتے کہ ہو جائے۔‘‘’’ولید کے بیٹے!‘‘ایک عورت نے کہا۔’’کیا وجہ ہے کہ ہمیں آگے جا کر لڑنے کی اجازت نہیں؟‘‘’’مرد زندہ ہوں تو عورت کیوں لڑے!‘‘خالدؓنے کہا۔’’اور اپنے آپ کو بچانے کیلئے لڑنا تم پر فرض ہے، اور تم پر فرض ہے کہ مرد تھوڑے رہ جائیں، دشمن غالب آرہا ہو تو آگے بڑھو، اور مردوں کی طرح لڑو، اور اپنے اوپر غیر مرد کا غلبہ قبول نہ کرو۔‘‘یہ پہلا موقع تھا کہ خالدؓ نے عورتوں کو بھی دشمن سے خبردار کیا اور انہیں اپنے دفاع میں لڑنے کیلئے تیار کیاتھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں خاصی تشویش تھی۔انہوں نے کسریٰ کی فوجوں کو شکست پہ شکست دی تھی لیکن رومی فارسیوں کی نسبت زیادہ منظم اور طاقتور تھے۔خالدؓ کے سامنے یقیناً یہ پہلو بھی ہو گا کہ مجاہدین کو گھروں سے نکلے خاصا عرصہ ہو چکا تھا، اور وہ مسلسل لڑائیوں کے تھکے ہوئے بھی تھے۔انہیں اپنے اﷲپر، اﷲکی دی ہوئی روحانی طاقتوں پر اور ایمان پر بھروسہ تھا۔دونوں فوجیں لڑائی کیلئے تیار ہو گئیں۔رومیوں کی طرف سے ایک معمر پادری آگے آیا اور مسلمانوں سے کچھ دور آکر رک گیا۔’’اے مسلمانو!‘‘اس نے بلند آواز سے کہا۔’’تم میں کوئی ایسا ہے جو میرے پاس آکر بات کرے؟‘‘خالدؓنے اپنے گھوڑے کی لگام کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور پادری کے سامنے جا گھوڑا روکا۔’’تم سالار ہو۔‘‘بوڑھے پادری نے کہا۔’’کیا تم میں مجھ جیسا کوئی مذہبی پیشوا نہیں؟‘‘’’نہیں!‘‘خالدؓنے جواب دیا۔’’ہمارے ساتھ کوئی مذہبی پیشوا نہیں ہوتا،سالار ہی امام ہوتا ہے۔ میں سپہ سالار ہوں اور میں معزز پادری کو یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ میں اس وقت تک سپہ سالار رہوں گا جب تک میری قوم اور میری فوج چاہے گی۔اگر میں اپنے اﷲ وحدہ لا شریک کے احکام اور اس کے رسول ﷺکے فرمان سے انحراف کروں گاتومجھے سپہ سالار نہیں رہنے دیا جائے گا۔اگر اس حالت میں بھی سپہ سالار رہوں گا تو سپاہیوں کو حق حاصل ہے کہ وہ میرا کوئی حکم نہ مانیں۔‘‘
مؤرخ لکھتے ہیں کہ معمر پادری پر خاموشی طاری ہو گئی،اور وہ کچھ دیر خالدؓکے منہ کی طرف دیکھتا رہا۔’’شاید یہی وجہ ہے۔‘‘پادری نے ذرا دبی زبان میں کہا۔’’یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ فتح ہمیشہ تمہاری ہوتی ہے۔‘‘’’وہ بات کر معزز پادری جو تو کرنے آیا ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔
’’ہاں!‘‘پادری نے جیسے بیدار ہوکر کہا۔’’اے عرب سے فتح کی امید لے کر آنے والے!کیا تو نہیں جانتا کہ جس زمین پر تو فوج لے کر آیا ہے،اس پر کسی بادشاہ کو کبھی پاؤں رکھنے کی جرات نہیں ہوئی تھی؟ تو اپنے آپ کوکیا سمجھ کر یہاں آگیا ہے، فارسی آئے تھے لیکن ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ بھاگ گئے کئی دوسرے بھی آئے تھے وہ بڑی بہادری سے لڑے تھے لیکن ناکامی اور مایوسی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہ ہوا، اور وہ چلے گئے……تجھے ہمارے خلاف کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن یہ خیال دماغ سے نکال دے کہ ہر میدان میں فتح تو ہی پائے گا۔‘‘مؤرخوں کے مطابق خالدؓ خاموشی سے سن رہے تھے، اور بوڑھا پادری پُر اثر لہجے میں بول رہا تھا۔’’میرا سپہ سالار وردان جومیرا آقا ہے، تجھ پر کرم اور نوازش کرنا چاہتا ہے ۔‘‘پادری کہہ رہا تھا۔’’اس سے بڑی نوازش اور کیا ہوگی کہ اس نے تیری فوج کو کاٹ دینے کے بجائے مجھے یہ پیغام دے کر تیرے پاس بھیجا ہے کہ اپنی فوج کو ہمارے ملک سے واپس لے جا۔میرا آقا تیرے ہر سپاہی کو ایک دینار، ایک قبا، اور ایک عمامہ دیگا اور تجھے ایک سو عمامے، ایک سو قبائیں، اور ایک سو دینارعطا کرے گا۔تیرے لیے یہ فیاضی معمولی نہیں،کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ ہمارا لشکر ریت کے ذروں کی طرح بے حساب ہے؟تو جن فوجوں سے لڑ چکا ہے ہماری فوج ان فوجوں جیسی نہیں۔ تو نہین جانتا کہ اس فوج پر قیصر روم کا ہاتھ ہے۔ اس نے منجھے ہوئے تجربہ کار سالار اور چوٹی کے پادری اس فوج کو دیئے ہیں……بول……تیرا کیا جواب ہے؟ انعام چاہتا ہے یا اپنی اور اپنی فوج کی تباہی؟‘‘’’دو میں سے ایک!‘‘خالدؓنے جواب دیا۔’’میری دو شرطوں میں سے ایک پوری کر دو تو میں اپنی فوج کو لے کر چلاجاؤں گا……اپنے آقا سے کہو کہ اسلام قبول کر لو یا جزیہ ادا کرو،اگر نہیں تو ہماری تلواریں فیصلہ کریں گی۔میں تیرے آقا کے کہنے پر واپس نہیں جاؤں گا……تیرے آقا نے جو دینار قبائیں اور عمامے پیش کیے ہیں وہ تو ہم وصول کر ہی لیں گے۔‘‘’’ایک بار پھر سوچ عربی سالار!‘‘’’عرب کے سالار نے سوچ کر جواب دیا ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’جا اپنے آقا تک میرا جواب پہنچا دے۔‘‘بوڑھے پادری نے رومی سپہ سالار وردان کو خالدؓ کا جواب دیا۔’’عرب کے ڈاکوؤں کی یہ جرات؟‘‘وران نے غصے سے پھٹتے ہوئے کہا۔’’کیا وہ نہیں جانتے کہ میں ان سب کو ایک ہی ہلہ میں ختم کر سکتا ہوں؟‘‘اس نے اپنی سپاہ کی طرف گھوڑا گھما کر حکم دیا۔’’تیر انداز آگے جائیں اور ان بد بختوں کو فنا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں، فلاخن بھی آگے لے آؤ۔‘‘تیر انداز آگے آئے تو مسلمانوں کے قلب کے سالار معاذؓ بن جبل نے اپنے دستوں کو حملے کی تیاری کا حکم دیا۔’’ٹھہر جا ابنِ جبل!‘‘خالدؓنے کہا۔’’جب تک میں نہ کہوں حملہ نہ کرنا۔
سورج سر پر آکر آگے جانے لگے گا تو ہم حملہ کریں گے۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘معاذؓ بن جبل نے کہا۔’’کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ ان کی کمانیں ہم سے اچھی اور بڑی ہیں جو بہت دور تک تیر پھینک سکتی ہیں؟وہ ہمارے تیر اندازوں کی زد سے دور ہیں ۔میں ان تیر اندازوں پر حملہ کرکے انہیں بیکار کرناچاہتا ہوں، ان کے فلاخن دیکھو۔ یہ پتھر برسائیں گے۔‘‘’’رومی ترتیب میں کھڑے ہیں ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم نے حملے میں پہل کی تو ہمیں پسپا ہونا پڑے گا ۔ان کی ترتیب ذرا اکھڑنے دو۔ان کا کوئی نہ کوئی کمزور پہلو ہمارے سامنے آجائے گا۔‘‘رومیوں نے کچھ دیر انتظار کیا،مسلمانوں نے کوئی حرکت نہ کی تو وردان کے حکم پر اس کے تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑیں پھینکنی شروع کر دیں اور فلاخن سے وہ پتھر پھینکنے لگے۔کئی مسلمان شہید اور زخمی ہو گئے۔خالدؓنے یہ نقصان دیکھ کر بھی حملے کاحکم نہ دیا۔رومی تیر اندازوں کو تیروں سے مؤثر جواب نہیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ مسلمانوں کی کمانیں نسبتاً چھوٹی ہونے کی وجہ سے دور تک تیر نہیں پھینک سکتی تھیں۔اُدھر سے تیر اور پتھر آتے رہے۔ تب مسلمانوں میں ہیجان اور اضطراب نظر آنے لگا،وہ حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں حکم نہیں مل رہا تھا۔سالار ضرار بن الازور دوڑے دوڑے خالدؓکے پاس گئے۔’’ابنِ ولید!‘‘ضرار نے خالدؓ سے کہا۔’’تو کیا سوچ رہاہے؟کیا تو دشمن کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم اس سے ڈر گئے ہیں؟……اگر اﷲہمارے ساتھ ہے تو مت سوچ !حملے کا حکم دے۔‘‘خالدؓکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی، یہ اطمینان اور سکون کی مسکراہٹ تھی۔ ان کے سالار اور سپاہی پسپائی کے بجائے حملے کی اجازت مانگ رہے تھے۔’’ابن الازور!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تو آگے جا کر دشمن کو مقابلے کیلئے للکار سکتا ہے۔‘‘ضرار نے زرہ اورخود پہن رکھی تھی۔ان کے ایک ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔انہوں نے پچھلے ایک معرکے میں یہ ڈھال ایک رومی سے چھینی تھی،ضرار آگے گئے تو رومی تیر اندازوں نے اپنے سالار کے حکم سے کمانیں نیچے کرلیں۔
یہ اس زمانے کا رواج تھا کہ فوجوں کی لڑائی سے پہلے دونوں فوجوں میں سے کسی ایک کا ایک آدمی اپنے دشمن کو انفرادی مقابلے کیلئے للکارتا تھا۔اُدھر سے ایک آدمی آگے آتااور دونوں زندگی اور موت کا معرکہ لڑتے تھے۔اس کے بعد جنگ شروع ہوتی تھی۔مقابلے کیلئے للکارنے والا اپنے دشمن کو توہین آمیز باتیں کہتا تھا۔ضرار بن الازور رومیوں کے سامنے گئے اور انہیں للکارا:’’میں سفید چمڑی والوں کیلئے موت کا پیغام لایا ہوں۔‘‘
’’رومیو!میں تمہارا قاتل ہوں۔‘‘’’میں خدا کا قہر بن کر تم پر گروں گا۔‘‘’’میرا نام ضرار بن الازور ہے۔‘‘رومیوں کی طرف سے ضرار کے مقابلے کیلئے آنا تھا لیکن چار پانچ رومی سوار آگے آگئے۔ضرار نے پہلے اپنی خود اتاری پھر زرہ اتاری پھر قمیض بھی اتاردی، اور کمر تک برہنہ ہو گئے۔تب ان رومیوں نے انہیں پہچانا جو بصرہ میں انہیں اس حالت میں لڑتے دیکھ چکے تھے،اور وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ اس شخص میں جنات جیسی پھرتی اور طاقت ہے حقیقت بھی یہی تھی۔ضرار ایک سے زیادہ آدمیوں کا مقابلہ کرنے کی خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ضرار کے مقابلے میں جو رومی آئے تھے ان میں دوسالار بھی تھے۔ایک طبریہ کا اور دوسرا عمان کا حاکم یا امیر تھا۔باقی بھی کوئی عام سپاہی نہیں تھے۔وہ کمانداروں کے رتبے کے تھے۔انہوں نے ضرار کو گھیرے میں لینے کیلئے گھوڑوں کے رخ موڑے۔ضرار نے اچانک گھوڑے کو ایڑ لگائی اور جب وہ عمان کے حاکم کے قریب سے گزر گئے تو یہ سالار اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی دوہرا ہو گیا پھر گھوڑے سے لڑھک کر نیچے جا پڑا۔ضرار کی تلوار اس کے پہلو سے اس کے جسم میں گہری اتر گئی تھی۔حیران کن پھرتی سے ضرار کا گھوڑا مڑااور ایک اور رومی ان کی تلوار سے کٹ کر گرا۔ضرار ایسی چال چلتے اور ایسا پینترا بدلتے تھے کہ رومی سواروں کے دو تین گھوڑے آپس میں ٹکراجاتے یا ایک دوسرے کے آگے آجاتے تھے۔اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ضرار ان میں سے ایک کو تلوار سے کاٹ جاتے تھے۔کوئی رومی سوار گرتا تھا تو مسلمان بڑے جوش سے نعرے لگاتے تھے۔ضرار کا یہ عالم تھا جیسے ان میں مافوق الفطرت طاقت آگئی ہو۔اپنے مقابلے میں آنے والے رومیوں میں سے زیادہ تر کو انہوں نے گرا دیا۔ان میں سے ایک دو ایسے بھی تھے جنہیں مہلک زخم نہیں آئے تھے لیکن وہ دوڑتے گھوڑوں کے قدموں تلے کچلے گئے۔دو رومی سوار بھاگ کر اپنے لشکر میں چلے گئے-
ضرارفاتحانہ انداز سے خون ٹپکاتی تلوار کو لہراتے اور رومیوں کو للکار رہے تھے:’’میں سفید چمڑی والوں کا قاتل ہوں……رومیو!میری-تلوار تمہارے خون کی پیاسی ہے۔‘‘مؤرخوں )واقدی، ابنِ ہشام اور طبری(نے لکھاہے کہ دس رومی سوار گھوڑے دوڑاتے آگے آئے۔یہ سب سالاری سے ذرا نیچے کے عہدوں کے رومی تھے۔خالدؓ نے جب دس سواروں کو آگے آتے دیکھاتو اپنے محافظ دستے میں سے انہوں نے دس سوار منتخب کیے اور انہیں آگے لے گئے۔رومی سوار ضرار کی طرف آرہے تھے۔خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’خدا کی قسم!ضرار کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘اس کے ساتھ انہوں نے اپنے دس سواروں کو اشارہ کر کے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔دس سوار ان کے ساتھ گئے۔رومی سواروں کی نظریں ضرار پر لگی ہوئی تھیں۔خالدؓ اور ان کے سوار رومی سواروں پر جا جھپٹے۔ضرار کی تلوار بھی حرکت میں آگئی۔رومیوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن خالدؓ اور ان کے سواروں کی تیزی اور تندی نے رومیوں کی ایک نہ چلنے دی اور سب کٹ گئے۔رومی سالاروں نے اسے اپنی بے عزتی سمجھااور مزید آدمیوں کو انفرادی مقابلوں کیلئے آگے بھیجنے لگے۔ضرار نے ان میں سے دو تین کو ہلاک کر دیا۔
مقابلے کیلئے آگے آنے والے ہر رومی کے ساتھ ضرار ہی مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن خالدؓ نے انہیں پیچھے بلالیا، اور دوسرے مجاہدین )تاریخوں میں ان کے نام نہیں(کو باری باری آگے بھیجا۔ہر مقابلے میں مجاہدین فاتح رہے۔ دونوں فوجوں کے درمیان بہت سے رومیوں کی لاشیں پڑی تھیں۔
مؤرخوں کے مطابق یہ مقابلے کم و بیش دو گھنٹے جاری رہے اور سورج اس مقام پر آگیاجس مقام پر خالدؓ چاہتے تھے کہ آجائے تو حملہ کریں گے۔مقابلوں کے دوران تیر انداز اور فلاخن سے پتھر پھینکنے والے خاموش کھڑے تھے۔مقابلہ ابھی جاری تھا، خالدؓ نے حملے کا حکم دے دیا۔یہ عام قسم کا حملہ تھا جسے ہلہ یا چارج کہا جاتا ہے۔اس سے پہلے رومی تیر اندازاور فلاخن بہت بڑی رکاوٹ تھے۔انہیں خاموش دیکھ کر خالدؓ نے حملہ کیا تھا۔حملہ اتنا زور دار تھا اور مجاہدین میں اتنا قہر بھرا ہواتھاکہ رومی سالارِ اعلیٰ وردان کو کوئی چال چلنے کی مہلت ہی نہ ملی۔وہ اپنے لشکر کے آگے کھڑا مقابلے دیکھ رہا تھا، اس نے پیچھے کو بھاگ کر اپنی جان بچائی۔توقع یہ تھی کہ وردان اپنی تعداد کی افراط کے بل بوتے پر اپنے پہلوؤں کو آگے بڑھا کر خالدؓ کے پہلوؤں سے آگے نکلنے اور عقب میں آنے کی کوشش کرے گا لیکن اسے اتنا ہوش ہی نہیں تھا،اس نے اپنے لشکر کو پھیلانے کے بجائے اس کی گہرائی زیادہ کر دی تھی یعنی دستوں کے پیچھے دستے رکھے تھے۔اس کی یہ ترتیب بڑی اچھی تھی،لیکن خالدؓکی چال نے اس کی ترتیب کو اس کیلئے ایک مسئلہ بنا دیا۔مسلمان دستوں نے سامنے سے حملہ کیا تو رومیوں کے اگلے دستے پیچھے ہٹنے لگے۔پچھلے دستوں کو اور پیچھے ہونا پڑا۔پھر ان کی ترتیب گڈ مڈ ہوگئی۔مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچا، یہ بڑا ہی شدید معرکہ تھا اور بڑا ہی خونریز۔سورج مغرب کی سمت ڈھل گیا تھا۔خالدؓنے محسوس کیا کہ مجاہدین تھک گئے ہوں گے،انہوں نے مجاہدین کو معرکے سے نکلنے کا حکم دیا۔ ایسے لگا کہ رومی سالار بھی یہی چاہتے تھے۔انہوں نے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹانا بہتر سمجھا۔جب دونوں فوجیں پیچھے ہٹیں تو پتہ چلا کہ رومی ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے ہیں، اور زخمیوں کی تعداد بھی بے شمار ہے۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا نقصان بہت ہی تھوڑا تھا۔سورج غروب ہونے کو تھا اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی فوج حملہ نہیں کر سکتی تھی ۔اس طرح پہلے روز کی جنگ ختم ہو گئی۔رات کو دونوں فوجوں کے سالاروں نے اپنے اپنے نائب سالاروں وغیرہ کو بلایا، اور اپنے اپنے نقصان کا جائزہ لینے لگے اور اگلی کاروائی کے متعلق سوچنے لگے۔رومیوں کے سالارِ اعلیٰ وردان کی کانفرنس میں گرما گرمی زیادہ تھی۔وردان نے صاف کہہ دیا کہ جنگ کی یہی صورتِ حال رہی جو آج ہو گئی تھی تو نتیجہ ظاہر ہے کیا ہو گا اور اس نتیجے کا نتیجہ کیا ہوگا۔’’کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا؟وردان کے سالار قُبقُلار نے کہا۔’’میں اب بھی کہتا ہوں کہ اور زیادہ سوچو اور وجہ معلوم کرو کہ ہر میدان میں فتح مسلمانوں کی ہی کیوں ہوتی ہے اور وہی خوبی ہماری فوج میں کیوں پیدا نہیں ہوتی،آج کی لڑائی دیکھ کر مجھے اپنی فتح مشکوک نظر آنے لگی ہے۔
’’کیا تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں؟‘‘وردان نے کہا۔’’میں تم سب کو کہتا ہوں کہ اپنی اپنی رائے اور مشورہ دو کہ ہم مسلمانوں کو کس طرح شکست دے سکتے ہیں۔‘‘قُبقُلار کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ آگئی۔اس نے کچھ بھی نہ کہااور دوسرے سالار اپنی آراء اور مشورے دینے لگے۔ان سالاروں کے مشورے مختلف تھے لیکن ایک بات مشترک تھی ۔سب کہتے تھے کہ مسلمانوں کو شکست دینی ہے اور ایسی شکست کہ ان میں سے زندہ وہی رہے جو جنگی قیدی ہو۔’’اگر خالد ان کا سالار نہ ہو تو انہیں شکست دینا آسان ہو جائے۔‘‘ایک سالا رنے کہا۔’’وہ جدھر جاتا ہے اس کی شہرت اور دہشت اس کے آگے آگے جاتی ہے۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ مسلمانوں کے اس سالار میں اتنی زیادہ جنگی مہارت ہے جو بہت کم سالاروں میں ہوتی ہے ……میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘سب متوجہ ہوئے۔’’مسلمانوںکو خالد سے محروم کر دیا جائے۔‘‘اس نے کہا۔’’اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے……قتل!‘‘’’کل کی لڑائی میں اسے قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘‘وردان نے کہا۔’’یہ مشورہ کوئی مشورہ نہیں۔‘‘’’لڑائی میں ابھی تک اسے کوئی قتل نہیں کر سکا۔‘‘مشورہ دینے والے سالار نے کہا۔’’میری تجویز یہ ہے کہ ہماری طرف سے ایک ایلچی خالد کے پاس جائے اور کہے کہ ہم مزید خون خرابہ روکنا چاہتے ہیں۔ہمارے پاس آؤ، اور ہمارے ساتھ بات چیت طے کرلو۔وہ جب ہمارے سالارِ اعلیٰ وردان سے ملنے آرہا ہوتو کم از کم دس آدمی راستے میں گھات میں بیٹھے ہوئے ہوں۔وہ خالد کو اس طرح قتل کریں کہ اس کے جسم کی بوٹی بوٹی کردیں۔‘‘’’بہت اچھی تجویز ہے۔‘‘وردان نے کہا۔میں ابھی اس کا بندوبست کرتا ہوں……داؤد کو بلاؤ۔‘‘تھوڑی ہی دیر بعد ایک عیسائی جس کا نام تاریخوں میں داؤد لکھا ہے وردان کے سامنے کھڑا تھا۔’’داؤد!‘‘رودان نے اس عیسائی عرب سے کہا۔’’ابھی مسلمانوں کی خیمہ گاہ میں جاؤاور ان کے سپہ سالار خالدبن ولید کو ڈھونڈ کر اسے بتانا کہ میں رومیوں کے سالار کا ایلچی ہوں۔اسے میری طرف سے یہ پیغام دینا کہ ہم اس کے ساتھ صلح کی بات کرنا چاہتے ہیں۔وہ ہمارے پاس کل صبح آئے اور ہمارے ساتھ بات کرے کہ کن شرائط پر صلح ہو سکتی ہے۔اسے یہ بھی کہنا کہ اس بات چیت میں صرف وہ اور میں اکیلے ہوں گے۔ہم دونوں کے ساتھ ایک بھی محافظ نہیں ہوگا۔‘‘داؤد معمولی آدمی نہیں تھا، نہ وہ فوجی تھا۔وہ قیصرِ روم کا ایک طرح کا نمائندہ تھا، اور اس کا رُتبہ وردان سے ذرا ہی کم تھا۔
’’وردان!‘‘داؤد نے کہا۔’’میرا خیال ہے کہ تم قیصرِ روم کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ کیا شہنشاہِ ہرقل نے یہ حکم نہیں بھیجاتھا کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کردو؟میں سمجھ نہیں سکتا کہ تم صلح اور شرائط کی بات کس کے حکم سے کر رہے ہو……میں صلح کا پیغام لے کر نہیں جاؤں گا۔‘‘
’’پھر تمہیں اپنے راز میں شریک کرنا پڑے گا۔‘‘وردان نے کہا۔’’میں مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے کا ہی منصوبہ بنارہاہوں۔میں خالد بن ولید کو صلح کا دھوکا دے رہا ہوں،وہ اگر آگیا تو مجھ تک اس کی لاش پہنچے گی۔میں نے راستے میں اس کے قتل کا انتطام کر رکھاہے۔‘‘’’اگر یہ کام کرنا ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘داؤد نے کہا۔’’میں ابھی جاتا ہوں۔‘‘داؤد مسلمانوں کے کیمپ میں چلاگیا۔ہر طرف چھوٹی بڑی مشعلیں جل رہی تھیں۔داؤد نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ رومیوں کا ایلچی ہے، اور ان کے سپہ سالار کیلئے پیغام لایا ہے۔اسے اسی وقت خالدؓکے خیمے تک پہنچا دیا گیا۔داؤد آداب بجالایا اور اپنا تعارف کراکے وردان کا پیغام دیا۔خیمے میں مشعلوں کی روشنی تھی۔خالدؓ نے داؤد سے اتنا بھی نہ کہا کہ وہ بیٹھ جائے۔وہ خالدؓ کے سامنے کھڑا رہا۔خالدؓآہستہ آہستہ اٹھے، اور اس کے تھوڑا اور قریب چلے گئے۔ان کی نظریں داؤد کی آنکھوں میں گڑ گئی تھیں۔انہوں نے داؤد سے کچھ بھی نہ کہااور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے، خالدؓدراز قد اور قوی ہیکل تھے۔ان کی شخصیت کا پر تو ان کی آنکھوں کی چمک میں تھا۔اس دور کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کی آنکھوں کا سامنا کوئی مضبوط دل گردے والا ہی کرسکتا تھا۔یہ ایمان کا جلال تھا اور آنکھوں کی اس چمک میں عشقِ رسولﷺرچا بسا تھا۔اس کے علاوہ خالدؓ شام کے علاقے میں خوف و ہراس کا ایک نام بن گیا تھا۔خالدؓ داؤد کو دیکھے جا رہے تھے۔ داؤد کا ضمیر مجرمانہ تھا، وہ خالدؓکی نظروں کی تاب نہ لا سکا، مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالدؓکے چہرے پر ایک یا دو زخموں کے نشان تھے جن سے ان کا چہرہ بگڑا تو نہیں تھا لیکن زخموں کے نشانات کا اپنا ایک تاثر تھا جو داؤد کیلئے غالباً دہشت ناک بن گیا تھا۔’’اے عربی سالار!‘‘داؤد بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔’’میں فوجی نہیں ہوں، میں ایلچی ہوں۔‘‘’’سچ بول داؤد!‘‘خالدؓنے اس کے ذرا اور قریب آکر کہا۔’’تو ایک جھوٹ بول چکا ہے ، اب سچ بول اور اپنی جان سلامت لے جا۔‘‘داؤد خالدؓ کے سامنے کھڑا چھوٹا سا آدمی لگتا تھا۔ حالانکہ قد اس کا بھی کچھ کم نہیں تھا۔’’اے عربی سالار!‘‘داؤد نے اپنے جھوٹ کو دہرایا۔’’میں صلح کا پیغام لے کر آیا ہوں، اور اس میں کوئی دھوکا نہیں۔‘‘’’اگر تو دھوکا دینے آیا ہے تو میری بات سن لے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’جتنی مکاری اور عیاری ہم لوگوں میں ہے اتنی تم میں نہیں۔مکروفریب میں ہمیں کوئی مات نہیں دے سکتا۔اگر تمہارے سپہ سالار وردان نے کوئی فریب کاری سوچی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ رومیوں کی تباہی کا عمل اس سے تیز ہوجائے گا جتنا میں نے سوچا تھا……اور اگر اس نے سچی نیت سے صلح کا پیغام بھیجا ہے تو جاؤ اسے کہو کہ جزیہ ادا کردے پھر ہم صلح کر لیں گے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: