Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Last Episode 15

0
شمشیر بے نیام, خالد بن الولید ؓ , الله کی تلوار از عنایت اللہ التمش – آخری قسط نمبر 15

–**–**–

مت خون گرما ہمارا اے سالار!‘‘ ایک سوار نے بڑی ہی بلند آواز میں کہا۔’’کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم لڑنے سے منہ موڑ رہے ہیں؟ کیاتجھے ہماری جرات اور غیرت پر شک ہے؟‘‘ ’’اے تن ومند گھوڑے کے بہادر سوار!‘‘ منیاس نے کہا۔’’ میں شک کیوں نہ کروں؟ ہمارا کون سا سالار ہے جو میدان سے نہیں بھاگا یامارا نہیں گیا؟ اطربون جو ہرقل کا ہم پلہ تھا کتنے دعوے کرتا تھا مسلمانوں کو کچل دینے کے، اب وہ کہاں ہے؟ ایک دن بھی نہیں لڑا اور ایلیا )بیت المقدس( سے بغیر لڑے بھاگ گیا۔ کیا اسقفِ اعظم سفرینوس کو تم اپنامذہبی پیشوا مانو گے جس نے قلعے سے باہر جاکر مسلمانوں کے خلیفہ کا استقبال کیا اور اسے کہا کہ کلیسائے قیامت میں نماز پڑھو۔ تفصیل سے پڑھئے
اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ اپنی عبادت گاہ اپنے مذہب کے دشمن کے حوالے کر رہاہے۔ تم نے ثابت کرنا ہے کہ تم اتنے بزدل اور بے غیرت نہیں۔ اگر تم ثابت قدم رہے تو شاید کمک آجائے مگر مجھے کمک آنے کی کوئی امید نہیں، نہ میں کمک کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔‘‘ ’’ہم لڑیں گے سالارِ محترم!‘‘ پہلے ایک پھر کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ ’’ہمیں بزدل اور بے غیرت نہ کہہ سالار۔ آزما کے دیکھ ،باتوں میں وقت ضائع نہ کر۔ ہم ایک دن میں محاصرہ توڑ دیں گے۔‘‘ ’’ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے۔‘‘سالار منیاس نے کہا۔ ’’ہم دشمن کو قلعے سے دور راستے میں روکیں گے۔ میں تم سے آگے ہوں گا۔‘‘ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رومی سالار منیاس جرات مند سالار تھا جس کی جارحانہ قیادت مشہورتھی اور اس کی دوسری شہرت یہ تھی کہ اپنی فوج میں ملنسار اور ہر دل عزیز تھا۔ وہ سپاہیوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتا تھا اور سپاہی اس سے محبت کرتے تھے۔ اسے اتنی جوشیلی اور جذباتی تقریر کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مؤرخوں نے یہ بھی لکھاہے کہ اس کا سامنا مسلمانوں سے نہیں ہوا۔ وہ سالار تھا جب اسے خبرملتی تھی کہ فلاں میدان میں رومیوں کو شکست ہوئی ہے تو وہ شکست کی وجوہات پر غور کرتا تھا، اسے خالدؓکے متعلق بتایا گیا کہ اس جنگی چالوں کو قبل از وقت سمجھ ہی نہیں سکتا اور وہ غیر معمولی طور پر دلیر آدمی ہے۔ ’’وہ کوئی جن بھوت تو نہیں۔ ‘‘منیاس نے کہا تھا ۔’’اس سے شکست کھانے والوں نے اسے مافوق الفطرت بنا دیا ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ شکست کھانے والے اسی طرح جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ میں ہرقل کو خالد بن ولید کی لاش دکھاؤں گا۔‘‘رومی سالار منیاس کی قیادت میں قنسرین میں مقیم رومی فوج رکے ہوئے سیلاب کی مانند باہر نکلی۔ اس کا انداز جوشیلا اور انداز جارحانہ تھا۔ اس کی رفتار تیز تھی۔ادھر خالدؓ کے چار ہزار سوار فاتحانہ شان سے چلے آرہے تھے۔ وہ عام کوچ کی ترتیب میں تھے۔ انہوں نے قنسرین کے قریب جاکر رکنا اور باقی فوج کاانتظار کرنا تھا۔ قنسرین سے چند میل دور حاضر ایک مقام تھا جو راستے میں آتا تھا۔ خالدؓ کادستہ جب حاضر کے قریب پہنچا تو دیکھ بھال کیلئے آگے گئے ہوئے مجاہدین میں سے ایک واپس آیا اور خالدؓ کو اطلاع دی کہ رومیوں کا ایک کثیر تعداد لشکر آرہاہے۔ ’’خدا کی قسم! ‘‘خالدؓ نے للکار کر کہا۔’’ میں امین الامت کا انتظار نہیں کروں گا۔‘‘
باقی لشکر امین الامت ابو عبیدہؓ کے ساتھ پیچھے آرہا تھا۔ خالدؓ کو انتظار کرناچاہیے تھا کیونکہ رومی لشکر کی تعداد زیادہ بتائی گئی تھی لیکن خالدؓ کی سرکش طبیعت انتظار پر آمادہ نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے دستے کو نہایت سرعت سے جنگی ترتیب میں کرلیا۔ اس سوار دستے کو پلک جھپکتے ایک ترتیب سے دوسری ترتیب میں ہوجانے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔دونوں فوجیں حاضر کے مقام پر آمنے سامنے آئیں۔ رومی سالار منیاس کو توقع تھی کہ مسلمان جنگ سے پہلے کے رسم و رواج کا مظاہرہ کریں گے مثلاً ان کا سالار ذاتی مقابلے کیلئے رومی سالار کو للکارے گا ایسے چند ایک مقابلے ہوں گے پھردستوں کو ترتیب میں کیاجائے گا لیکن مسلمان سوار رُکے بغیر ایسی ترتیب میں ہو گئے جسے منیاس سمجھ ہی نہیں سکا۔ اتنے میں ا س پر حملہ ہو چکا تھا۔ منیاس اپنی فوج کاحوصلہ بڑھانے کیلئے آگے تھا ۔اس کے گرد محافظوں کا حصار تھا جو خاصا مضبوط تھا۔ چند ایک مسلمان سوار اس حصار پر حملہ آور ہوئے، محافظوں نے بڑا ہی سخت مقابلہ کیا ۔رومیوں کی تعداد زیادہ تھی اس کے علاوہ انہیں اپنے سالار منیاس کے ساتھ دلی محبت تھی اس لئے وہ جم کر لڑے اور بڑی اچھی ترتیب میں تابڑ توڑ حملے کرتے رہے لیکن ان کا ہر حملہ یوں بیکار جاتاجیسے ہوا میں گھونسا مارا ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا مقابلہ ایسے سواروں کے ساتھ تھا جو جم کر نہیں لڑتے تھے۔ ان کااندازکچھ اور تھا۔ حملے رومی کر رہے تھے اور نقصان بھی ان ہی کا ہو رہا تھا۔ خالدؓ خود بھی سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے ۔انہیں اپنے سواروں کو چالیں بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی ۔ایسی ضرورت منیاس کو تھی۔ وہ دیکھ رہاتھا کہ اس کی فوج کی ترتیب بکھر رہی ہے اس نے کسی ایسے مقام پر پہنچنے کی کوشش کی جہاں سے وہ اپنی فوج کودیکھ کر کوئی چال چل سکتا۔ مگر مسلمان سواروں نے اس کے محافظوں کا حصار توڑ کر اسے قتل کر دیا۔ میدانِ جنگ میں یوں ہوتا تھا کہ سالار مارا جاتا اور پرچم گر پڑتا تو فوج میں بددلی پھیل جاتی اور پسپائی شروع ہو جاتی۔ اسی لیے سپہ سالار کی موت پر پردہ ڈال دیا جاتاتھا۔ لیکن منیاس مارا گیا تو محافظوں نے اعلان کر دیاکہ سالار منیاس مارا گیا ہے۔ مسلمان خوش ہوئے کہ رومیوں میں بھگدڑ مچ جائے گی لیکن رومی غضب ناک ہو گئے۔ انہوں نے انتقام انتقام منیاس کے خون کا انتقام لو ،کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اور ان کے حملوں میں شدت پیدا ہو گئی۔ وہ قہر بن گئے ۔ایک بار توانہوں نے مسلمان سواروں کے پاؤں اکھاڑ دیئے لیکن یہ غضب ناک انداز ان کے اپنے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ انہیں صحیح طور پرطریقے سے لڑانے والا مارا گیا تھا۔ اب وہ غصے میں آئے ہوئے ہجوم کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ خالدؓنے رومیوں کو اس کیفیت میں دیکھا تو اپنے سواروں کو نئی ہدایات دیں۔ا س کے بعد رومیوں کا جیسے قتلِ عام شروع ہو گیاہو، اس کے باوجود وہ پسپا نہیں ہو رہے تھے ۔اس کانتیجہ یہ ہو اکہ کوئی ایک بھی رومی میدان سے نہ بھاگا اور کوئی ایک بھی رومی زندہ نہ رہا۔ زیادہ تر مؤرخ متفقہ طور پر کہتے ہیں کہ منیاس کی فوج کاایک بھی سپاہی زندہ نہیں رہاتھا اور بھاگا بھی کوئی نہیں تھا۔ مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم تھا۔
معرکہ ختم ہو ا تو حاضر کے لوگ جو سب کے سب عیسائی تھے۔ باہر نکل آئے اور خالدؓ سے ملے۔’’آپ کے خلاف جو لڑے ہیں وہ اپنے انجام کوپہنچ گئے ہیں۔‘‘ ایک عیسائی بزرگ نے شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا۔’’ ہم بھی عیسائی ہیں لیکن ہم آپ سے لڑنے کاارادہ نہ پہلے رکھتے تھے نہ اب ایسا کچھ ارادہ ہے ۔ہم آپ کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔‘‘’’جس نے ہم سے لڑے بغیر اطاعت قبول کرلی وہ ہماری پناہ میں آگیا۔‘‘ خالدؓنے کہا۔’’ نہ تم پر جزیہ واجب ہے نہ ہم تہیں اسلام قبول کرلینے کوکہتے ہیں۔تمہاری عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔‘‘ ابھی ابو عبیدہؓ کے دستے نہیں پہنچے تھے۔ انہیں محاصرے کیلئے جانا تھا۔ اس لئے انہیں کوئی جلدی نہیں تھی ۔انہوں نے ایک پڑاؤ بھی کیا تھا۔ خالدؓنے وہاں انتظار نہ کیا کیونکہ انہیں قنسرین کو محاصرے میں لینا تھا۔ یہ جگہ وہاں سے زیادہ دورنہیں تھی۔ قنسرین کے اندر رومیوں کی کچھ فوج موجود تھی۔ خالدؓ نے محاصرہ کیا تو رومیوں نے شہر کی دیوار پر آکر تیر اندازی شروع کردی۔ خالدؓ کو اندازہ تھا کہ اندر فوج اتنی زیادہ نہیں ہوگی اگر ہوتی بھی تو خالد ؓہمت نہ ہارتے۔انہوں نے اپنے ایک ایلچی کو یہ پیغام دے کر قلعے کے دروازے پر بھیجا۔ ’’اے رومیوں! تم اگر آسمان پر چھائے ہوئے بادلوں میں ہوتے تو بھی ہمارا اﷲ ہمیں تم تک یا تمہیں ہم تک پہنچادیتا ۔ ہم تمہیں موقع دیتے ہیں کہ بہت برے انجام تک پہنچنے سے پہلے قلعے کے دروازے کھول دو۔ اگر دروازے ہم نے کھولے تو پھر صلح کی شرطیں تمہاری کمر توڑ دیں گی۔ تمہارا سالارحاضر کے باہر مرا پڑا ہے اور جوفوج وہ اپنے ساتھ لے گیا تھااس کاکوئی ایک بھی سپاہی زندہ نہیں۔ہم نے تمہیں بہت برے انجام سے آگاہ کر دیا ہے۔‘‘ اس پیغام کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ قلعے کے دروازے کھل گئے۔ مسلمان فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے۔ جزیہ کی… رقم اور دیگر شرائط طے ہوئیں۔ جن میں حسبِ معمول ایک شرط یہ بھی تھی کہ قنسرین شہر اور اس کے شہریوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے-
اور جو شہری شہر چھوڑ کرجانا چاہتا ہو وہ اپنے خاندان کےافراد اور اپنے مال و اموال کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ جب خالدؓ قنسرین کوپوری طرح لے چکے تھے۔ اس وقت ابو عبیدہؓ پہنچے۔ ’’ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے خالدؓکوگلے لگاتے ہوئے کہا۔’’ تجھ پر اﷲکی رحمت ہو! میں حاضر کے باہر رومیوں کی لاشیں دیکھ آیا ہوں۔‘‘ ابو عبیدہؓ نے اسی روز مدینہ خلیفۃ المسلمین ؓکو پیغام بھیجا جس میں انہوں نے خالدؓ کی اتنی بڑی کامیابی کی تفصیلات لکھیں۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بہت بڑی تھی کہ سلطنتِ روم کے تابوت میں ایک اور کیل گاڑھ دی گئی تھی۔ تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ امیر المومنین عمرؓ بن الخطاب نے پیغام پڑھ کر کہا تھا۔’’ اﷲ نے خالد کو سپاہ گری اور سالاری پیدائش کے ساتھ ہی عطا فرمائی تھی ۔ابو بکر پر اﷲکی رحمت ہو!وہ مجھ سے بہتر مردم شناس تھے۔‘‘قنسرین سے آگے حلب ایک اور مشہور شہر تھا۔ جہاں رومیوں کی خاصی بڑی تعداد قلعہ بند تھی۔ رومی سالار جو وہاں کا قلعہ دار تھا۔ اس کا نام یوقنّہ تھا۔ یہ بھی تجربہ کار سالار تھا۔ جس نے بے شمار لڑائیاں لڑی تھیں اورہر لڑائی میں فتح حاصل کی تھی۔ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ حلب کی طرف پیش قدمی کررہے تھے ۔رومی سالار یوقنّہ کو اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر آرہاہے۔ رومی سالاروں نے کچھ عرصے سے یہ سلسلہ شروع کردیا تھا کہ وہ جب سنتے تھے کہ مسلمانوں کالشکر آرہا ہے۔ وہ اپنے دستوں کو اکٹھا کرکے جوشیلی تقریر کرتے اور قلعے سے باہر آکر لڑتے تھے، یہ ایک دلیرانہ اقدام تھا۔ وہ شاید یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے نہیں ڈرتے۔ یوقنّہ نے بھی یہی کیا۔ وہ حلب سے اپنے دستے نکال کر قلعے سے چھ میل دور آگیا۔
مسلمانوں کی فوج کے ہراول میں اب بھی خالدؓ اپنے سواروں کے ساتھ تھے۔ یوقنّہ نے اپنے ساتھی سالارمنیاس کی طرح مسلمانوں کے ہراول سے ٹکر لینے کا طریقہ اختیار کیا۔ یوقنّہ کو یقین تھا کہ وہ مسلمانوں کو قلعے سے دور ہی دور ختم کردے گا۔ اسے بھی منیاس کی طرح توقع ہوگی کہ آمنے سامنے آکر مسلمان رُک جائیں گے، اور جنگی ترتیب میں آکر لڑیں گے۔ اب بھی خالدؓ نے ویسے ہی کیا، کہ اطلاع ملتے ہی کہ آگے رومی لشکر آرہا ہے۔ اپنے دستے کو جنگی ترتیب میں کرلیا ۔رومیوں کو دیکھ کر خالدؓنے اپنے دستوں کو روکا نہیں۔ انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے پہلوؤں سے حملہ کردیا، سوار اس طرح گھوم پھرکر لڑے کہ رومی میدان میں اکٹھے ہوگئے،خالدؓنے سامنے سے بھی حملہ کردیا۔ خالدؓ کایہ جارحانہ انداز یوقنّہ کیلئے غیر متوقع تھا۔ اس نے جو سوچا تھا اس کے اُلٹ ہوااور اس کے دستوں کے قدم اکھڑ گئے۔ اس معرکے میں بھی رومیوں کی تعدادمسلمانوں کی نسبت زیادہ تھی۔ یوقنّہ کے دستے حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس نے پسپائی اختیار کی اور قلعے میں چلا گیا۔ یہ قلعہ پہاڑی کے اوپر تھا، اس لئے اسے سر کرنا بہت مشکل تھا۔ مسلمانوں نے قلعے کامحاصرہ کرلیا۔ یوقنّہ نے متعدد بار اپنے دستوں کو باہر نکال کر مسلمانوں پر حملے کروائے لیکن جانی نقصان کے سوا اسے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔یوقنّہ کو امید تھی کہ شہنشاہ ہرقل کمک اور رسدبھیجے گا۔ اسے شاید معلوم نہ تھا کہ تمام تر شام میں مسلمان پھیل گئے ہیں اور اب اسے کہیں سے بھی کمک نہیں مل سکتی۔ اس نے دستوں کو باہر نکال کر حملوں کا سلسلہ روک دیا اور قلعے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ مسلمان کسی نہ کسی طرح قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔چار مہینے محاصرے میں گزر گئے۔ قلعے کے اندر رومی ایسے پریشان اور خوفزدہ ہوئے کہ یوقنّہ نے ایک روز اپناایلچی باہر اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر تیار ہے۔ یوقنّہ کو امید نہیں تھی کہ خالد اس کی شرط کو تسلیم کرلیں گے۔ اس کی شرط یہ تھی کہ اسے اور اس کی فوج کوقلعے سے چلے جانے دیاجائے۔اس کے ایلچی نے جب واپس جاکراسے بتایا کہ مسلمانوں نے اس کی شرط مان لی ہے تووہ حیران رہ گیا۔ ’’نہیں!‘‘اس نے کہا۔ ایسانہیں ہو سکتاکہ فاتح اس فوج کو بخش دے جس نے اس کے آگے ہتھیار ڈالے ہوں…… میں جانتاہوں کیاہوگا…… جب نہتے سپاہی باہر نکلیں گے تو مسلمان انہیں قتل کردیں گے۔‘‘آخر وہ وقت آیا جب یوقنّہ کے دستے بغیر ہتھیاروں کے باہر نکلے اور مسلمانوں کی فوج کے درمیان سے گزر گئے۔یوقنّہ کو سب سے پہلے نکلنا چاہیے تھالیکن وہ آخر میں بھی باہر نہ نکلا۔ خالدؓ قلعے میں گئے تو یوقنّہ نے ان کا استقبال کیا۔’’اے رومی سالار!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تو جاسکتا ہے۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ یوقنّہ نے کہا۔’’میں نہیں جاؤں گا، اگر میں تمہارے ساتھ رہناچاہوں تو مجھے کیا شرط پوری کرنی پڑے گی؟‘‘’’اسلام قبول کرلے!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’پھر تیری حیثیت یہی رہے گی جو اب ہے۔‘‘’’بے شک یہی میری خواہش تھی۔‘‘ یوقنّہ نے کہا۔اس نے خالدؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا، اور اگلے ہی معرکے میں اس نے ثابت کردیا کہ وہ اسلام کاوفادار سالار ہے۔انطاکیہ شام کا ایک بڑا شہر تھا۔ اس کی اہمیت یہ تھی کہ شہنشاہ ہرقل نے اسے اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا تھا۔ یہیں سے وہ احکام کمک اور رسد وغیرہ اپنی فوج کو بھجواتا تھا۔ ہرقل اب وہاں نہیں تھا۔ وہ شام کی سرحد سے جا چکا تھااور غالباً قسطنطنیہ میں تھا۔ لیکن انطاکیہ میں رومی فوج اور ہیڈ کوارٹر موجود تھا۔وہاں سے رومیوں کو نکالنا لازمی تھا۔جس سے شام کی فتح مکمل ہو جاتی۔
ابوعبیدہؓ نے انطاکیہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا۔حسبِ معمول خالدؓ اپنے گھوڑ سوار دستے کے ساتھ ہراول میں جا رہے تھے۔انطاکیہ چونکہ رومیوں کا آخری بڑا قلعہ اور اہم مقام رہ گیا تھا اور وہ رومی فوج کا مرکز بھی تھا۔ اس لیے توقع تھی کہ وہاں یرموک جیسا خونریز معرکہ ہوگا۔ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ نے اپنے مجاہدین کو آگاہ کر دیا تھا کہ آگے کیا خطرہ ہے۔ سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ مجاہدین کی اس فوج کو مدینہ سے نکلے چار سال ہو چکے تھے اور وہ مسلسل لڑ رہے تھے، جہاں تک جسموں کا تعلق تھا وہ ختم ہو چکے تھے ۔اب تو یہ روح کی قوت تھی جو انہیں انسانی سطح سے بہت اوپر لے گئی تھی۔ انہوں نے اپنے آپ کو اﷲکے سپرد کر دیا تھا۔انہیں آرام نہیں ملتا تھا۔ دن تلواروں کی جھنکار، تیروں کے زناٹوں ،برچھیوں کے وار روکنے اور وار کرنے میں گزر جاتا تھا اور راتیں اپنے زخمی ساتھیوں کی کربناک آوازوں میں گزرتی تھیں۔ وہ باطل کی ایک چٹان کو توڑتے تو ایک اور چٹان سامنے آکھڑی ہوتی تھی۔ وہ آخر گوشت پوست کے انسان تھے اور یہ گوشت پوست تھکن سے ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ دشمن ان کی اس جسمانی کیفیت سے آگاہ تھا، اور یہی ایک خطر ہ تھا جو سالار محسوس کر رہے تھے۔ انطاکیہ کا دفاع بہت مضبوط تھا۔ جاسوسوں کی لائی ہوئی اطلاعیں سالاروں کو پریشان کر رہی تھیں مگر رکنااور انتظارکرنا بھی خطرناک تھا۔ رومیوں کی کمک آنے سے پہلے انطاکیہ پر قبضہ کرنا ضروری تھا۔ مجاہدین کو قرآن کی یہ آیت بار بار یاد دلائی جا رہی تھی کہ لڑو اس وقت تک جب تک کفر کا فتنہ ختم نہیں ہو جاتا۔ حکمرانی صرف اﷲاور اﷲکے دین کی رہ جائے۔ انطاکیہ کے راستے میں دو تین چھوٹے چھوٹے قلعے تھے۔ انہیں سر کرتے ہوئے مجاہدین انطاکیہ سے تیرہ چودہ میل کے فاصلے پر پہنچے تو ایک جاسوس آیا۔’’ابو سلیمان!‘‘ جاسوس نے خالدؓ سے کہا۔’’ تھوڑا ہی آگے ایک دریا ہے جس پر ایک مضبوط پل ہے ۔اس پل سے اس طرف رومیوں کاایک لشکر تیار کھڑا ہے۔ راستہ بدل لیا جائے یا جنگ کی تیاری کر لی جائے۔‘‘ ’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو ۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’ اﷲکو منظور ہوا تو یہ لشکر بھی ہمارا راستہ نہیں روک سکے گا۔ تعداد کتنی ہوگی؟‘‘’’ہمارے پورے لشکر سے دوگنی تو ضرور ہوگی۔‘‘اس نے بتایا۔ ’’پیچھے جاؤ۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ سپہ سالار سے کہو کہ بہت جلدی لشکر کو آگے لے آئیں۔‘‘ابو عبیدہؓ جب خالدؓ سے آملے تو پورے لشکر نے جنگی ترتیب میں پیش قدمی کی۔ رومیوں کا لشکر زیادہ دور نہیں تھا۔ یہ مقام جہاں رومی لشکر مسلمانوں کا راستہ روکے کھڑا تھا انطاکیہ سے بارہ میل دور تھا۔ رومی سالار نے یہ دانشمندی کی تھی کہ دریا کو اپنی پشت پررکھا تھا۔ اسی مقام پر بڑا مضبوط پل تھا یہ بھی رومیوں کے عقب میں تھا۔ خالدؓنے حسبِ معمول توقف نہ کیا۔ آمنے سامنے آتے ہی اپنے رسالے کو خاص انداز سے حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کی ترتیب بکھر جائے یا وہ سکڑ جائیں۔ اس خصوصی رسالے کے سوار ضرب لگاؤ اور اِدھر اُدھر جاؤ کے اصول پر حملے کرتے تھے۔جب دشمن کی جمیعت بکھرنے لگی تو ابو عبیدہؓ نے دشمن کے ایک پہلو پر حملہ کرا دیا۔ پیچھے دریا تھا۔ خالدؓ کی کوشش یہ تھی کہ دشمن کو اتنا پیچھے دھکیل دیا جائے کہ دریا اس کیلئے مصیبت بن جائے یا اسے اتنا آگے لایا جائے کہ اس کے عقب میں جانے کیلئے گھوڑ سوراوں کو جگہ مل جائے۔ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کے حملے اسی نوعیت کے تھے۔
جس سے مقصد حاصل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن رومی لشکر کا سالار بھی تجربہ کار اور جنگی قیادت اور چالوں کا ماہر تھا۔ اس نے اپنے دستوں کو ترتیب میں منظم رکھا اور مسلمانوں پر حملے کیے بھی اور مسلمانوں کے حملے روکے بھی۔ اس طرح جنگ زیادہ سے زیادہ خونریز ہوتی چلی گئی۔خالدؓ نے رومی سالار کو دیکھ لیا، اور اپنے چند ایک سواروں سے کہا کہ وہ رومیوں کے قلب میں گھسنے کی کوشش کریں۔کئی ایک سوار اس کوشش میں جان پر کھیل گئے۔ آخر کچھ سوار رومی سالار تک جاپہنچے اور اسکے محافظوں کاحصار توڑ کر اسے ہلاک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ رومیوں کا پرچم گرتے ہی ان میں افراتفری مچ گئی اور وہ پسپا ہونے لگے۔ کچھ دریا میں کود گئے باقی پل کے ذریعے دریا کے پار گئے ۔ جتنی دیر میں مسلمان ان تک پہنچتے تھے۔ وہ انطاکیہ کے قلعے کے اندر جا چکے تھے۔ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ نے جا کر قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ رومیوں کے لڑنے کا جذبہ میدان میں ہی ختم ہو گیاتھا۔قلعے میں انہوں نے پناہ لی تھی۔ خالدؓ نے کئی بار اعلان کروایا کہ قلعے کے دروازے کھول دیئے جائیں ورنہ کسی کی جان بخشی نہیں ہوگی اورکوئی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔ رومیوں کا لشکر جو اب پہلے جیسا طاقتور نہیں رہ گیا تھا ۔بغیر سالار کے تھا۔ اندر سے ایک ایلچی باہر آیاجس نے ہتھیار ڈال دیئے اور یہ شرط پیش کی کہ لشکر کو آزادی سے چلے جانے دیا جائے۔ مسلمان سالاروں نے یہ شرط مان لی۔ روم کی تمام تر فوج جو قلعے کے ا ندر تھی۔ قلعے سے نکل گئی اور مسلمان انطاکیہ میں داخل ہو گئے۔یہ ۳۰ اکتوبر ۶۳۷ء )۵ شوال ۱۶ھ( کا دن تھا۔ رومیوں کا آخری اور سب سے بڑا شہر بھی مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔ اس کے بعد چھوٹی چھوٹی دو چار جگہیں رہ گئی تھیں جہاں رومی موجود تھے لیکن وہ لڑنے کیلئے موجود نہیں تھے۔ بلکہ انہیں بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا ۔۶۳۷ء کے آخری مہینے تک شام پر مسلمانوں کا قبضہ مکمل ہو گیااور وہاں رومیوں کا عمل دخل بالکل ہی ختم ہو گیا۔قسطنطنیہ میں ہرقل عیسائیوں کے ایک وفد کے سامنے اپنے محل میں بیٹھا تھا۔ یہ وہی شہنشاہ ہرقل تھاجس کی آنکھوں کی ہلکی سی جنبش سے کئی انسانوں کو جلاد کے حوالے کر دیاجاتا تھا۔ یہی ہرقل تھا جس نے ابتداء میں مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دینے کا حکم دیا تھا۔ یہی ہرقل تھا جس نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ عرب کے ان بدوؤں کو اتنی جرات کیونکر ہوئی کہ انہوں نے سلطنت روم کی سرحد کے اندر قدم رکھاہے۔ اب تھوڑے ہی عرصے بعد وہی ہرقل اپنی آدھی سلطنت مسلمانوں کے حوالے کرکے شکست خوردگی کے عالم میں اپنے دارالحکومت قسطنطنیہ میں بیٹھا جیسے کبھی نہ ہارنے والا جواری ہار گیاہو۔ اور اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ رہی ہو۔’’تم لوگ مجھے کس طرح یقین دلا سکتے ہو کہ مسلمانوں کو ان علاقوں سے باہر نکال دو گے جو انہوں نے فتح کرلیے ہیں؟‘‘ ہرقل ان عیسائیوں سے کہہ رہا تھا۔’’ اگرتم میں اتنی جان ہوتی تو میں آج تہا رے سامنے اس طرح نہ بیٹھا ہوتا۔‘‘’’شہنشاہِ روم!‘‘ عیسائیوں کے وفد کے لیڈر نے کہا۔’’ اب یہ سوچنا بیکار ہے کہ شکست کا ذمہ دار کون ہے۔ ہم یہ مسئلہ لے کر آئے ہیں وہ ایک بار پھر سن لیں۔ آپ جس خطے کومسلمانوں کے حوالے کر آئے ہیں وہ نہ آپ کا تھا اور نہ مسلمانوں کا ہے۔ وہ ہمارا خطہ ہے۔ شکست آپ کی فوج کو ہوئی لیکن ایک غیر قوم کے غلام ہم بن گئے۔ مسلمانوں نے جزیہ ہم سے لیا ہے۔ یہ ہماری بے عزتی ہے۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے خلاف نہیں لڑ سکتے۔ ہم لڑیں گے۔ ہم اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کمک بھیجنے کا وعدہ کریں۔ تو ہم مسلمانوں کے خلاف جنگ کااعلان کر دیتے ہیں۔‘‘
ہرقل ان عیسائیوں کی جو شام کے شمالی علاقوں کے رہنے والے تھے یہ باتیں اس طرح سن رہا تھا جیسے یہ لوگ اس سے بھیک مانگنے آئے ہیں اور اسے ان لوگوں کے اس مسئلے کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ ہو۔ حقیقیت یہ تھی کہ ہرقل چاہتا ہی یہی تھا کہ شام کے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف ایسی جنگ کیلئے تیار کرے جو بہت ہی طویل ہو تاکہ مسلمان شام کے علاقے میں ہی الجھے رہیں اور روم کی سلطنت میں مزید آگے نہ بڑھیں۔ یہ جنگ شب خون قسم کی ہو سکتی تھی۔بیشتر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ہرقل نے در پردہ شام کے قابلِ اعتماد پادریوں کو اکسایا تھا کہ وہ عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں۔ تاریخوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ عیسائی تیار ہو گئے تھے۔ عیسائیوں کا یہ وفد جو اس کے پاس بیٹھا تھا۔ اس سے بے خبر تھا کہ جو تجویز وہ پیش کرنے آئے ہیں اس پر ہرقل پہلے ہی کام کر رہا ہے۔ اس وفد پر وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ انہیں مدد دے کر وہ ان پر بہت بڑ ا احسان کر رہا ہے۔ ہرقل نے انہیں کہا کہ وہ واپس جا کر اپنے پادریوں سے ملیں اور پادری انہیں بتائیں گے کہ کہ اس تجویز پرکس طرح عمل درآمد ہو گا۔ اس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ عیسائی جب مسلمانوں پر جگہ جگہ حملے شروع کریں گے تو ہرقل انہیں کمک کی صورت میں اپنی فوج دے دے گا۔ مسلمانوں نے اپنے جاسوس تمام علاقے میں پھیلا رکھے تھے۔ جن میں ایسے جاسوس بھی تھے جو عیسائی بن کر عیسائیوں کے ساتھ رہتے اور پادریوں کے مرید بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض شام سے نکل کر جنوبی ترکی تک چلے گئے تھے۔ یہ علاقہ سلطنت روم کا حصہ تھا۔ ایک روز ایک جاسوس نے شمالی شام کے جاسوسوں سے رپورٹیں لے کر ابوعبیدہؓ کو آخر بتایا کہ عیسائی وسیع پیمانے پر جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اور ہرقل نے انہیں کمک دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے بعد دو جاسوس اور آئے جنہوں نے اسی قسم کی رپورٹیں دیں۔ ان سے بڑی خوفناک صورت سامنے آئی۔ عیسائیوں کا اجتماع بہت زیادہ تھا۔ ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کو احساس تھا کہ عیسائیوں کے خلاف ٹکر بہت خطرناک ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رومی جن علاقوں سے بھاگے تھے وہ ان کے نہیں تھے۔ وہ تو بھاگ کر اپنی سلطنت میں جا پناہ گزیں ہوئے تھے۔ یہ خطے دراصل عیسائیوں کے تھے۔ مسلمانوں کی اطاعت قبول کر کے انہیں کوئی معاشی معاشرتی یا مذہبی پابندی نہیں تھی لیکن وہ مسلمانوں کی غلامی قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ لڑائی کی صورت میں اگر انہیں شکست ہوتی تو ان کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے جنگ کی تیاریاں ایسے پیمانے پر کی تھیں جو ان کی فتح کا باعث بن سکتی تھیں۔جاسوسوں سے پوری رپورٹ لی گئی کہ لڑنے والے عیسائیوں کی تعداد کتنی ہوگی۔ ان کے ہتھیار کیسے ہوں گے اور ان کی قیادت کیسی ہوگی۔ خیال کیا جاتا تھا کہ قیادت رومی سالار کریں گے کیونکہ عیسائیوں کے پاس قیادت کیلئے کوئی سالار نہیں تھا۔ اگر کوئی تھا بھی تو وہ مسلمان سالاروں کی ٹکر کا نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر بھی جو صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی وہ مسلمانوں کیلئے بہت بڑے خطرے کا باعث بن سکتی تھی۔ ’’ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے خالدؓ سے مشورہ لینے کیلئے کہا۔ ’’شام میں ہماری حکومت نوزائیدہ ہے۔ ہمارے قدم ابھی جمے نہیں۔ اگر ہم نے کوئی خطرہ مول لیا، اور حالات ہمارے خلاف ہوگئے تو ہم پسپا ہو کر مدینہ تک زندہ بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔‘‘
’’امین الامت! سوال ہمارے زندہ رہنے یا نہ رہنے کا نہیں۔ یہ سوچ کہ اسلام کا زوال شروع ہو جائے گا۔ تمام فوج شام میں ہے۔‘‘ ’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم امیر المومنین کو اطلاع دے دیں۔‘‘ابوعبیدہؓ نے پوچھا۔’’اور مدینہ سے کمک بھی مانگ لیں، ہماری تعداد رہ ہی کیا گئی ہے۔‘‘’’امین الامت!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ مدینہ تک پیغام جاتے اور وہاں سے کمک آتے بہت وقت لگے گا۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم ہر جگہ سے فوج ایک مقام پر اکٹھی کر لیں۔ ان جگہوں پر ہم ضرورت کے مطابق فوج رہنے دیں۔خدا کی قسم! میں عیسائیوں کو کھلے میدان میں لا کر لڑانا چاہتا ہوں۔‘‘یہ باتیں حمص میں ہو رہی تھیں ۔وہاں دوسرے سالار بھی تھے۔ ان سب کی رائے یہ تھی کہ حمص کے اندر رہیں اور عیسائیوں کو آنے دیں کہ وہ محاصرہ کر لیں۔ ابو عبیدہؓ کو اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے ان دستوں کو بھی حمص میں بلالیا جو اردگرد کے علاقوں میں تھے ۔اس کے ساتھ ہی ابو عبیدہؓ نے ایک تیز رفتار قاصد کے ہاتھ خلیفۃ الرسول عمرؓ بن الخطاب کو پیغام بھیج دیا جس میں انہوں نے تفصیل سے لکھوایا کہ عیسائیوں نے ہرقل کی پشت پناہی میں کیا صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ ابو عبیدہؓ نے یہ بھی لکھوایا کہ وہ حمص میں قلعہ بند ہو کر لڑیں گے۔۶۳۸ء کا سال شروع ہو چکا تھا ۔ڈیڑھ دو مہینے اور گزر گئے تو ایک روز عیسائیوں کا جم غفیر حمص میں آپہنچا اور شہر کا محاصرہ کرلیا۔ مسلمان اس کیلئے تیار تھے۔ انہوں نے بڑے لمبے عرصے کے خوراک اور تیروں وغیرہ کا ذخیرہ شہر میں جمع کر لیا تھا۔ عیسائیوں نے مسلمانوں کو قلعہ بند دیکھا تو وہ حیران ہوئے کہ کھلے میدان میں لڑنے والی فوج قلعہ بند ہوکر لڑنے پرآگئی ہے۔ اسے عیسائیوں نے مسلمانوں کی کمزوری سمجھا۔
انہوں نے مسلمانوں کو للکارنا شروع کر دیا۔ ’’اہلِ اسلام! اب تمہارا مقابلہ عیسائی عربوں سے ہے۔‘‘’’ہم رومی نہیں مسلمانوں! ہمت کرو۔ باہر آکر لڑو۔‘‘’’قلعے کے دروازے کھول دو۔ ورنہ تم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔‘‘ ’’اب ہم جزیہ لیں گے۔‘‘’’اسلام کا سورج ڈوب گیا ہے۔‘‘ ’’باہر آؤ اور ہم سے رحم مانگو۔‘‘اور ایسے بے شمار طنزیہ نعرے تھے جو عیسائی لگاتے رہے۔ مسلمانوں کی طر ف سے خاموشی تھی۔ ابوعبیدہؓ، خالدؓ اور دوسرے سالاروں نے طے کر رکھا تھا کہ وہ باہر نکل نکل کر عیسائیوں پر حملے کریں گے۔ حملوں کی نوبت ہی نہ آئی۔ محاصرے کا چوتھا یا پانچواں دن تھا۔ عیسائیوں میں ہڑبونگ سی بپا ہو گئی ۔ان پر کوئی مصیبت نازل ہو گئی تھی۔ یا ہو رہی تھی۔ مسلمان جو دیوار پر کھڑے تھے۔ وہ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ انہیں ہو اکیا ہے؟ دور افق سے گرد اٹھنے لگی۔ جو پھیلتی اوپر ہی اوپر اٹھتی گئی ۔ یہ کسی قافلے کی اڑائی ہوئی گرد نہیں تھی۔ یہ کسی فوج کی گرد معلوم ہوتی تھی۔ اگر یہ فوج تھی تو عیسائیوں کی ہی ہو سکتی تھی یا یہ رومیوں کی فوج ہو سکتی تھی۔ عیسائیوں میں جوافراتفری بپا ہوئی تھی۔ وہ زیادہ ہو گئی اور وہ لڑنے کی ترتیب میں آنے لگے۔ گرد ابھی دور تھی۔ عیسائیوں نے تو محاصرہ اٹھا ہی دیا اور وہ بڑی تیزی سے ایک سمت کو روانہ ہو گئے۔ مسلمانوں نے قلعے کی دیواروں پر نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ گرد میں سے ایک فوج آہستہ آہستہ نمودار ہونے لگی ۔یہ مسلمانوں کی فوج تھی۔ عیسائیوں کو اس کی آمد کی اطلاع پہلے ہی مل گئی تھی۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عیسائی غیر تربیت یافتہ تھے۔ وہ وہاں رکتے تو خود محاصرے میں آجاتے۔ حمص کے دروازے کھل جاتے اور اندر سے بھی مسلمانوں کی فوج باہر آجاتی۔ عیسائیوں کاانجام بہت برا ہوتا۔ انہوں نے یہ خطرہ بھی دیکھ لیا تھا کہ وہ اپنی بستیوں میں کوئی فوج نہیں چھوڑ آئے تھے۔ لڑائی کی صورت میں مسلمانوں نے انہیں شکست دے کر ان بستیوں پر ٹوٹ پڑنا تھا۔ مسلمانوں کی یہ فوج جو حمص میں محصور فوج کی مدد کو آئی تھی۔ وہ چار ہزار سوار تھے جو قعقاعؓ بن عمرو کے زیرِ کمان تھے۔ یہ سوار اس طرح آئے تھے کہ خلیفۃ الرسول عمر ؓکو ابو عبیدہؓ کا پیغام ملا تھا۔ تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ عیسائی تربیت یافتہ فوج نہیں ۔بلکہ یہ غیر منظم ہجوم ہے۔ جسے ابو عبیدہؓ اور خالدؓ سنبھال لیں گے۔ لیکن کمک ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے سعدؓ بن ابی وقاص کو جو عراق میں مقیم مسلمانوں کی فوج کے سپہ سالار تھے۔ حکم بھیجاکہ تین سالاروں کو عیسائیوں کے علاقے جزیرہ کی طرف بھیج دو۔ان سالاروں میں سہیل بن عدی، عبداﷲ بن عتبہ، اور عیاض بن غنم بھی شامل تھے۔ عمرؓ نے حکم نامے میں یہ بھی لکھا تھا کہ سالار قعقاعؓ بن عمرو کو چار ہزار سوار دے کر ابو عبیدہؓ کی مدد کیلئے حمص بھیج دیا جائے۔ اس طرح قعقاعؓ محصور مسلمانوں کی مدد کو پہنچ گئے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ حمص عیسائیوں کے محاصرے میں ہے۔ انہیں دیکھ کر ہی عیسائی محاصرہ اٹھا کر چلے گئے۔ امیر المومنینؓ نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ عیسائی کوئی منظم فوج نہیں۔یہ عیسائیوں نے خود ہی ثابت کر دیا اور اس کے ساتھ ہی عیسائیوں نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کو عیسائیوں پر اعتماد نہیں کرناچاہیے اور مسلمان ارضِ شام کی فتح کو اس وقت تک مکمل نہ سمجھیں جب تک کہ وہ اندرونی خطروں کو بھی ختم نہ کرلیں۔ عیسائیوں کے اس جنگی اقدام سے واضح ہو گیا تھا کہ ہم مذہب ہونے کی وجہ سے یا مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے ان کی دلچسپیاں اور وفاداریاں رومیوں کے ساتھ ہیں۔ خلیفہؓ کے حکم کے مطابق جزیرہ کے تمام علاقے کو مسلمانوں نے اپنی عمل داری میں لے لیا۔ عیسائیوں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر کہیں عیسائیوں نے مسلح مزاحمت کی تو ان کے خلاف جنگی کارروائی کی گئی۔ شمالی سرحد کو تخریب کاری سے بچانے کیلئے ابو عبیدہؓ نے سرحد پار جا کر حملے شروع کر دیئے۔ اس سے شام میں امن و امان ہو گیا۔
عمرؓ بن الخطاب نے عدل و انصاف میں شہرت پائی ہے ۔عدلِ فاروقی ضرب المثل کے طور پراستعمال ہوتا ہے۔ ان کے عدل کی لاٹھی سے سب یکساں طور پر ہانکے جاتے تھے۔ ان کی لاٹھی غربت اور امارت رنگ ونسل آقا اور غلا م کو نہیں پہچانتی تھی۔ اس دور میں خالدؓ کی ٹکر کا کون سا ایسا سالار تھا جس نے اسلام کو ارضِ شام، اردن اور فلسطین تک پھیلا دیا ہو؟ بیت المقدس کا فاتح جوکوئی بھی تھا، اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ خالدؓ نہ ہوتے تو بیت المقدس کی فتح اتنی آسان بھی نہ ہوتی۔ عمرؓ ذاتی طور پر جانتے تھے ۔قیصر و کسریٰ کے خلاف بعض فتوحات اس لئے ممکن ہو سکی تھیں کہ خالدؓ نے غیر معمولی طور پر دلیرانہ فیصلے کیے تھے۔ ابو عبیدہؓ ٹھنڈے مزاج کے سالار تھے۔ اگر خالدؓ ان کے ساتھ نہ ہوتے تو رومیوں کے خلاف اتنی تیزی سے اتنی زیادہ کامیابیاں حاصل نہ کی جا سکتیں۔خود عمرؓ خالدؓ کے معترف تھے لیکن عمرؓ کو جب خالدؓ کے خلاف ایک ایسی بات کاپتا چلاجواسلام کی روح کی منافی تھی اور جسے عمرؓ نظر انداز بھی کرسکتے تھے ۔تو انہوں نے فوری کارروائی کاحکم دے دیا۔ عمرؓ نے سوچا تک نہیں کہ خالدؓ کی جو قدروقیمت ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ یہ چھوٹا سا الزام ہضم بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عمرؓ بن الخطاب نے مسندِ خلافت پر بیٹھتے ہی تمام دستوں میں ایک ایک دو دو مخبر رکھ دیئے تھے۔ جو سالاروں اور دیگر عہدیداروں کی ذاتی سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے۔ جب شام میں امن و امان ہو گیا اور خالدؓ کو قنسرین کا حاکم بنا دیا گیا۔ عمرؓ کو مدینہ میں اطلاع ملی کہ خالدؓ نے ایک شاعر کو جس کا نام اشعث بن قیس تھا، دس ہزار درہم صرف اس لئے انعام کے طور پردیئے ہیں کہ اس نے قنسرین میں جاکر خالدؓ کی فتوحات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ایک قصیدہ پڑھا تھا۔ اشعث بن قیس بنو کندہ کا سردار تھا۔ا س نے شاعری اور مدح سرائی کو پیشہ بنا لیا تھا۔ وہ اور اس جیسے چند اور شاعر سالاروں اور حاکموں وغیرہ کے ہاں جاتے ،قصیدہ پڑھتے اورتحفے تحائف اور انعام و اکرام وصول کرتے تھے۔ اس ضمن میں اشعث قنسرین خالدؓ کے ہاں جا پہنچا۔ خالدؓامیر باپ کے بیٹے تھے انہوں نے غربت دیکھی ہی نہیں تھی۔ شہزادوں کی طرح پلے بڑھے تھے۔ یہ تو ان کی عظمت تھی کہ صحیح معنوں میں شہزادہ ہوتے ہوئے انہوں نے آدھی عمر میدانِ جنگ میں پیش قدمیوں میں زمین پر سوتے اور گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دی تھی۔ وہ طبعاً خوش ذوق تھے، فیاض تھے، ہر حسین چیز کے دلدادہ تھے۔انہوں نے اس شاعر کو جو انعام دیا تھا وہ اپنی جیب سے دیا تھا۔ اس وقت سالار اس سے زیادہ امیر ہوتے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ دشمن کے جس سالار کو وہ ذاتی مبازرت میں شکست دیتے تھے ان کے تمام تر مال و دولت کے خود حقدار ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں مالِ غنیمت میں سے بھی حصہ ملتا تھا۔ خالدؓ نے دشمن کے بے شمار سالاروں کو ذاتی مقابلوں میں قتل کیا تھا۔ ان کے مال و اموال خالدؓ کے حصے میں آئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خالدؓنے اتنا مال و دولت اپنے پاس رکھا ہی نہیں تھا۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ شام کی جنگ ختم ہوئی تو خالدؓ نے اپنے سوار دستے کے سواروں کو اپنی جیب سے نقد انعامات دیئے تھے ۔ان کے سوار دستے نے جو کارنامے کردکھائے تھے وہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ وہ اس سے بھی بڑے انعام کے حقدار تھے لیکن خلافتِ مدینہ کی نگاہ میں انعام کاتصور کچھ اور تھا، اور وہی اسلام کی روح کے عین مطابق تھا۔
عمرؓ بن خطاب نے تاریخِ اسلام کے مشہور مؤذن بلالؓ کے ہاتھ ابو عبیدہؓ کو ایک تحریری حکم نامہ بھیجا۔’’…… خالدبن ولید کو مجاہدین کی جماعت کے درمیان کھڑا کرو۔ اس کے سر سے دستار اتارو۔ دستار سے اس کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے باندھو، ٹوپی بھی اس کے سر سے اتار دو۔ پھر اس سے پوچھو کہ اس نے ایک شاعر اشعث بن قیس کوانعام اپنی جیب سے دیا ہے یا مالِ غنیمت سے؟ اگر وہ اقبال کرے کہ مالِ غنیمت میں سے دیا ہے تو اسے خیانت میں پکڑو۔ اگر ا س نے اپنی جیب سے دیا ہے تو اس پر اسراف کا الزام عائد کرو۔ان میں سے جس الزام کا بھی وہ اعتراف کرتا ہے۔ اس کی پاداش میں اسے اس کے موجودہ عہدے سے معزول کردو اور اس کی جگہ تم خود کام کرو۔‘‘ یہ عربوں کا رواج تھاکہ جس پر کوئی الزام ہوتا تھا اس کے ہاتھ اسی کی پگڑی سے باندھ کر لوگوں کے سامنے پوچھا جاتا تھا کہ اس نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں؟ ایک عام آدمی کے ساتھ یہی سلوک ہوتا تھا۔ لیکن عمرؓ نے خالدؓ جیسے عظیم اور تاریخ ساز سالار کو بھی عام آدمی کی سطح پر کھڑا کر دیا۔ مؤرخوں نے لکھاہے کہ ابو عبیدہؓ نے جب یہ حکم نامہ پڑھا تو ان پر سناٹا طاری ہوگیا۔اگر عمرؓ ابو عبیدہؓ کو تھوڑی سی بھی اجازت دے دیتے کہ وہ یہ تحقیقات اپنے طور پر کریں تو ابو عبیدہؓ خالدؓکے ساتھ یہ طریقہ اختیارنہ کرتے لیکن وہ جانتے تھے کہ عمرؓ ڈسپلن اور عدل و انصاف کے معاملے میں کس قدر سخت ہیں۔ اس وقت ابو عبیدہؓ حمص میں اور خالدؓ قنسرین میں تھے۔ابو عبیدہؓ نے قاصد کو بھیجا کہ وہ قنسرین سے خالدؓکو بلالائیں۔قاصدنےجب خالدؓ کو پیغام دیا، تو خالدؓ اچھل کر اٹھے۔’’خداکی قسم! ‘‘خالدؓ نے نعرہ لگانے کے انداز میں کہا۔’’ مجھے ایک اور جنگ لڑنے کیلئے بلایا گیا ہے۔‘‘ خالدؓاس خوشی کو دل میں بسائے حمص پہنچے کہ رومیوں یا بازنطینیوں کے خلاف کوئی بڑی جنگ لڑی جانے والی ہے۔ لیکن وہ جب ابو عبیدہؓ کے سامنے گئے تو ابو عبیدہؓ کے چہرے پر اداسی کے آثار دیکھے۔ ’’امین الامت!‘‘ خالدؓ نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔’’ کیا وہ غلط ہے جو میں سمجھ کر آیا ہوں؟‘‘ ’’ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے غم سے بوجھل آواز میں خالدؓ سے کہا۔ ’’امیرالمومنین نے تجھ پر الزام عائد کیاہے کہ تو نے دس ہزار درہم اشعث کو دیئے ہیں۔ وہ اگر مالِ غنیمت سے دیئے ہیں تو یہ خیانت کاجرم ہے اور اگر اپنی جیب سے دیئے ہیں تو یہ فضول خرچی ہے ۔جو اسلام کی نگاہ میں ناجائز ہے۔ بلال یہی جواب لینے آیا ہے۔‘‘ خالدؓ کا ردِ عمل یہ تھا کہ ان پر خاموشی طاری ہو گئی۔ ابو عبیدہؓ نے ایک بار پھر پوچھا۔ لیکن خالدؓ کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ دراصل ابو عبیدہؓ چاہتے تھے کہ خالدؓ کچھ نہ کچھ ضرور کہیں تاکہ وہ طریقہ اختیار نہ کرنا پڑے جو امیرالمومنینؓ نےاختیار کرنے کو لکھا تھا۔خالدؓ پر ایسااثرہوا کہ انہوں نے بلالؓ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔آخر ابو عبیدہؓ نے بلالؓ کی طرف دیکھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بلالؓ عربوں کے رواج کے مطابق خالدؓ سے بیان لیں۔ بلالؓ پورا حکم لے کر آئے تھے۔ انہوں نے کارروائی مکمل کرکے جانا تھا۔ خالدؓ نے تھوڑی سی مہلت مانگی جو انہیں دے دی گئی۔ یہ مہلت تو انہیں ملنی ہی تھی۔ کیونکہ دستور کے مطابق تمام فوج کو اکٹھا کرنا تھا۔ جس کے سامنے خالدؓ سے اعترافِ جرم کرانا تھا۔ خالدؓکی ایک بہن فاطمہ حمص میں رہتی تھیں۔ خالدؓ ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ عمرؓ نے ان پر کیا الزام عائد کیا ہے۔ بہن سے مشورہ لینے کی ضرورت یہ پیش آئی تھی کہ عمرؓ خالدؓ کے قریبی رشتے دار تھے۔ فاطمہ نے بڑے دکھ سے عمرؓ کے خلاف ایک بات کہہ دی ۔خالدؓ پہلے ہی مغموم تھے اورکسی حد تک مشتعل بھی۔ انہیں اپنی بہن کامشورہ اچھا لگا اور وہ واپس ابو عبیدہؓ کے پاس چلے گئے۔’’امین الامت!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔میں کوئی بیان نہیں دوں گا۔‘‘
اس کے بعد زمین و آسمان نے جو منظر دیکھا۔اسے دیکھ کر بھی کوئی فرد یقین نہیں کرتا تھا کہ یہ سلوک اس عظیم شخصیت کے ساتھ ہو رہا ہے جو عظمتِ اسلام کا ستون ہے اور جس کے بغیر اسلام اس جگہ تک نہ پہنچتا۔ جہاں خالدؓ کے ہاتھ ان کی پیٹھ کے پیچھے ان کی دستار سے بندھے ہوئے تھے۔ ان کے سر سے ٹوپی اتری ہوئی تھی اور وہ زمین پر دو زانو بیٹھے ہوئے تھے اور بلالؓ ان کے سامنے کھڑے اعترافِ جرم کرارہے تھے۔ ’’اے ابنِ ولید!‘‘ بلالؓ پوچھ رہے تھے۔’’ تو نے اشعث کو دس ہزاردرہم اپنی جیب سے دیئے ہیں یا مالِ غنیمت سے؟‘‘خالدؓ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ وہ خاموش رہے۔ بلالؓ نے ایک بار پھر پوچھا۔خالدؓ پھر بھی خاموش رہے۔ ’’ابنِ ولید!‘‘بلال نے کہا۔ ’’میں امیرالمومنین کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں۔جواب دے۔ تو نے دس ہزار درہم اشعث کو اپنی جیب سے دیئے تھے یا مالِ غنیمت سے؟‘‘’’اپنی جیب سے۔‘‘ خالدؓ نے آخر جواب دیا۔ بلالؓ نے ان کے ہاتھ کھول دیئے اور اپنے ہاتھوں پگڑی ان کے سر پر رکھی۔ ’’ہم سب پر امیرالمومنینؓ کے حکم کی تعمیل فرض ہے۔‘‘ بلالؓ نے کہا۔’’ ہم ہر سالارکی عزت کرتے ہیں۔‘‘ وہاں جتنی فوج تھی ۔اس پر خاموشی طاری تھی۔ اس خاموشی میں اضطراب چھپا ہوا تھا۔ ہر کسی کے چہرے پر گلہ اور شکوہ تھا۔ کم از کم خالدؓ کے ساتھ ایساسلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن نظم و ضبط کا تقاضا تھا کہ ایک جائز کارروائی کے خلاف کوئی نہیں بول سکتا۔ ابو عبیدہ ؓاور بلالؓ کی بھی کیفیت یہ تھی کہ وہ آنکھیں اوپر کر کے نہیں دیکھتے تھے۔ ان کی نظریں زمین پر لگی ہوئی تھیں۔ خالدؓ اس خیال سے گھوڑے پر سوار ہوئے اور وہاں سے نکل آئے کہ معاملہ یہیں پر ختم ہو گیا ہے ۔ سات آٹھ دن گزر گئے۔ خالدؓ کو کوئی حکم نہ ملا۔ وہ حمص گئے اور ابو عبیدہؓ سے ملے۔ ’’ابو سلیمان! ‘‘ابو عبیدہؓ نے امیر المومنینؓ کا حکم نامہ خالدؓ کے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔’’یہ پڑھ لو۔‘‘ یہ وہ حکم نامہ تھا جو امیرالمومنینؓ نے ابو عبیدہؓ کی طرف بھیجا تھا کہ خالدؓ جو بھی اعتراف کریں انہیں معزول کردیا جائے۔’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو امین الامت !‘‘خالدؓ نے ابو عبیدہؓ سے کہا۔’’امیر المومنین کا یہ حکم مجھے اسی روزکیوں نہ سنا دیا۔‘‘ ’’خد اکی قسم ابو سلیمان!‘‘ ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’مجھے اندازہ تھا اس دکھ کا جو تجھے ہونا تھا۔ میں اپنی زبان سے تجھے دکھ نہیں دے سکتا تھا۔ یہ دکھ میرے لیے بھی کم نہیں کہ تجھے معزول کر دیا گیا ہے۔‘‘ خالدؓخاموشی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور حمص سے نکل آئے۔ تاریخ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس وقت خالدؓ کیا سوچ رہے تھے؟ ان کی جذباتی دنیا میں کیسے کیسے زلزلے آرہے تھے۔ انہوں نے اپنی جیب سے یہ انعام دیا تھا۔اسے وہ جرم نہیں سمجھتے تھے۔ وہ یہی سمجھتے تھے کہ انہیں جو سزا دی گئی ہے وہ بہت سنگین ہے۔ ان کی زندگی میں یہ دوسرا موقع تھا کہ وہ سوچوں اور خیالوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے سفر کر رہے تھے۔ ایک روز جب وہ مکہ سے مدینہ کو تن تنہا جا رہے تھے۔ انہوں نے مدینہ جاکر رسوِ ل اکرمﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کرنا تھا۔ اور اب وہ حمص سے اپنی معزولی کاحکم سن کر قنسرین کو جا رہے تھے۔ ان کے ذہن میں اضطراب کا رنج و الم کا اور نا جانے کیسی کیسی سوچوں کا طوفان اٹھتا تھا اور وہ اس طوفان کے زناٹے سنتے جا رہے تھے۔ گھوڑے نے انہیں قنسرین پہنچا دیا۔ شہر کے اندر جاتے ہی انہوں نے اپنے اس گھوڑ سوار دستے کو بلایا جو انہوں نے اپنے ہاتھوں تیار کیا تھا۔ یہ چنے ہوئے سواروں کا دستہ تھا۔ اس دستے نے اپنے سے کئی گناقوی دشمن کے پاؤں اکھاڑے تھے۔ اس دستے سے خالدؓ کو بہت ہی پیار تھا۔ ابھی کل ہی کی بات تھی کہ اس دستے کے سامنے کھڑے ہو کر خالدؓ کہا کرتے تھے کہ دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ آج وہ اسی دستے کے سامنے رنج و الم کا مرقع بنے اپنے گھوڑے پر بیٹھے تھے۔خالدؓ اپنے اس محبوب دستے سے نہ جانے کیسی کیسی باتیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بولنا چاہا تو ان پر رقت سی طاری ہو گئی۔ وہ اس دستے کی جدائی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے انتہائی مختصر الفاظ میں سواروں کی کامیابیوں کی ان کی برق رفتاریوں کی جانبازی اور سرفروشی کی دل کھول کی تعریف کی۔ پھر انہیں بتایا کہ وہ ہمیشہ کیلئے ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ سواروں کا ردِ عمل یہ تھا کہ جیسے ان کی سانسیں رُک گئی ہوں۔ درد ناک سا ایک سکوت تھا جو ان پر طاری ہو گیاتھا ۔اس سکوت کو سواروں کی سسکیوں نے توڑا ۔خالدؓ نے گھوڑا موڑا اور وہاں سے ہٹ آئے۔ یہ منظر ان کی برداشت سے باہر تھا۔وہاں سے خالدؓ حمص گئے۔ تمام مجاہدین سے ملے۔بوجھل دل سے سب کو خدا حافظ کہا اور مدینہ کو روانہ ہوگئے۔خالدؓ مدینہ میں داخل ہوئے لیکن ایک فاتح سالار کی حیثیت سے نہیں کہ لوگ گھروں سے باہر آکر ان کا استقبال کرتے ان کی حیثیت ایک سزا یافتہ مجرم کی سی تھی۔ اتفاق سے عمرؓ انہیں ایک گلی میں آتے مل گئے۔ ’’ابو سلیمان!‘‘عمرؓ نے خالدؓکے جنگی کارناموں کو ان الفاظ میں سراہا۔’’ تو نے وہ کام کیا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتاتھا۔ مگر ہر کام اﷲکرتا ہے۔‘‘’’اور تو نے جو کام کیا ہے وہ کسی بھی مسلمان کو پسند نہیں آیا۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’ اے ابن ِخطاب تو نے میرے ساتھ بے انصافی کی ہے ۔‘‘’’کہاں سے آئی یہ دولت کہ تو اسے ناجائز اسراف میں پھینکتا پھرتا ہے؟ ‘‘عمرؓنے کہا۔ ’’ابو سلیمان!کیا تو رومیوں اور فارسیوں جیسا بادشاہ بننا چاہتا ہے؟ خدا کی قسم !تو میرے لیے قابلِ احترام ہے۔ تو مجھے عزیز ہے۔ اب تجھے مجھ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ خدا کی قسم! میں کسی سالار، کسی امیر اور کسی حاکم کو بادشاہوں جیسا بننے نہیں دوں گا کہ جس نے مدح سرائی کی اس کی جھولی انعام سے بھر دی۔‘‘خالدؓ ایک دو دن مدینہ میں رہ کر قنسرین چلے گئے۔ وہ مدینہ کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ گئے تھے۔ ا ﷲ کی تلوار نیام میں بند ہو گئی۔ا س واقعے کے متعلق بہت کچھ کہا جا سکتا تھا۔ بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ تاریخ دانوں نے اپنی اپنی رائے دی ہے۔ بعض نے عمرؓ کے اس فیصلے کے خلاف لکھا ہے۔ خلفائے راشدینؓ کو رسوا کرنے والوں نے لکھا ہے کہ عمرؓ کے دل میں خالدؓ کے خلاف ذاتی رنجش تھی ۔جسے انہوں نے یوں مٹایا کہ خلیفہ بنتے ہی خالدؓ کو معزول کر دیا۔ حقیقت کچھ اور تھی۔ اگر ہم آج کے دور میں اور آج کے حکمرانوں کو سامنے رکھ کر سوچیں تو عمرؓ کا یہ فیصلہ اچھا نہیں لگتااور اگر ہم اس دور کو تصور میں لائیں اور گہرائی میں جائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ عمرؓ کا فیصلہ صحیح تھا۔ غور کیجئے عمر ؓنے کہا تھا کہ’’ تم بادشاہ بننا چاہتے ہو؟بادشاہوں کے انداز یہی ہوتے ہیں کہ جس نے تعریف میں دو کلمے کہہ دیئے تو اسے انعام و اکرام سے مالا مال کردیا۔‘‘ غور کیجیے عمرؓ بن الخطاب کی نظر آنے والے وقت کے پردے چاک کرکے کتنی دور چلی گئی تھی۔خلفائے راشدینؓ کے بعد آنے والے خلفاء نے انعام و اکرام کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ عباسی تو روائتی بادشاہ بن گئے تھے۔ اندلس کے آخری دور کو دیکھیے۔ دربار لگا ہوا ہے۔ شاعر اور ادیب منظوم اور نثری قصیدے پڑھ رہے ہیں اور انعامات سے جھولیاں بھر رہے ہیں۔ خوشامد ایک فن اور ایک پیشہ بن گیا ہے اور ان انعام خوروں، مدح سراؤں اور خوشامدیوں نے سلطنتِ اندلس کو سقوطِ غرناطہ تک پہنچایا۔ اس کے بعد سلطنتِ اسلامیہ بادشاہیوں میں بٹ گئی۔ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے انعام مشہور ہوئے اور اس سلطنت کو زوال آیا۔ اب پاکستان میں دیکھ لیں۔ انعام و اکرام کا وہی مذموم سلسلہ چل رہا ہے ۔جسے اسلام نے ناجائز اسراف قرار دیا تھا۔ خالدؓ بن ولید نے تو اپنی جیب سے انعام دیا اور معزولی کی سزا پائی تھی۔ لیکن ہمارے حکمران سرکاری خزانے سے انعام دیتے چلے جارہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ غیر ممالک سے لیے ہوئے قرضوں کی رقم ہے ۔جس پر ہم سود اد اکر رہے ہیں۔عمرؓ کی دوربین نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ انعام و اکرام کا سلسلہ چل نکلا تو اس کا نتیجہ زوال کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔عمرؓ نے اس لئے بھی خالدؓ کو نہیں بخشا تھا کہ عدل و انصاف اور سزا میں چھوٹے بڑے کا فرق نہ رہے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ انہوں نے خالدؓ کو معاف کر دیا تو یہ دستور بن جائے گا کہ سالار امیر حاکم اور حیثیت والے افراد کو سزا مل ہی نہیں سکتی۔ اس طرح عدل و انصاف ختم ہوجائے گا۔ اور اسلامی معاشرہ چھوٹے اور بڑے میں بٹ جائے گا۔عمرؓ احکام منوانے میں اس قدر سخت تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک سو کوڑوں کی سزا دی تھی۔ اسّی کوڑے مارے گئے تو ان کا بیٹا مر گیا۔ عمرؓ کو اطلاع دی گئی۔ انہوں نے حکم دیا کہ ایک سو کوڑے پورے کرو۔ باقی بیس کوڑے اس کی لاش پر مارو۔ مدینہ سے خالدؓ قنسرین گئے۔ وہاں سے حمص چلے گئے اور ان کی عمر کے باقی چار سال وہیں گزرے۔ ایک وقت آیا کہ خالدؓ تنگ دست ہو گئے۔ اہلِ قریش کا شہزادہ ،میدانِ جنگ کا بادشاہ، دل کا سخی اور فیاض ہزاروں درہم حقداروں میں تقسیم کردینے والا انسان مفلسی کے چنگل میں آگیا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد امیر المومنین عمرؓ نے کچھ مسلمانوں کیلئے وظیفہ مقررکیا تھا۔ جو تین ہزار درہم سالانہ تھا۔ یہ خالدؓ کو بھی ملنے لگا جس سے وہ حمص میں اپنے کنبے کے ساتھ زندگی کے دن پورے کرنے لگے۔ خالدؓ اب وہ خالدؓ نہیں رہے تھے جن کی اس للکار ۔۔۔انا فارس الضدید۔۔۔۔انا خالد بن ولید۔۔۔۔سے دشمن پر دہشت طاری ہو جایا کرتی تھی ۔وہ گوشہ نشین ہو گئے۔ ان کی زندہ دلی خوش ذوقی اور شوخی ختم ہو گئی۔ وہ چپ اور اداس رہنے لگے۔جنوری ،فروری ۶۳۹ء )۱۸ھ( میں انہیں ایک اور صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ فلسطین کے ایک قصبے عمواس میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی جو دیکھتے ہی دیکھتے تمام فلسطین اور شام میں پھیل گئی۔ لوگ بڑی تیزی سے موت کا شکار ہونے لگے۔ یہاں ابو عبیدہؓ کے کرداد کا ذکر بے مہل نہ ہوگا۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ امیر المومنین عمرؓ نے ابو عبیدہؓ کو پیغام بھیجا کہ وہ مدینہ آجائیں کچھ ضروری مشورہ کرنا ہے۔ ابو عبیدہؓ نے جواب دیا کہ میرے جن ساتھیوں نے میدانِ جنگ میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ انہیں میں طاعون کے ڈر سے چھوڑ کر نہیں آؤں گا۔چنانچہ وہ اپنی فوج کے ساتھ رہے اور طاعون کی وبا میں شہید ہو گئے۔
خالدؓ کے تمام ساتھی سالار جن کے ساتھ انہوں نے بڑی خوفناک جنگیں لڑی تھیں، طاعون سے انتقال کر گئے۔ ان میں ابوعبیدہؓ، شرجیلؓ بن حسنہ، ضرار بن الازور، یزیدؓ بن ابی سفیان بھی شامل تھے۔ خالدؓ کے اپنے بہت سے بیٹے طاعون کا شکار ہو گئے۔ ایک باپ کیلئے یہ صدمہ ناقابلِ برداشت تھا۔ طاعون کی اس وبا میں پچیس ہزار مسلمان اﷲکو پیارے ہو گئے۔خالدؓ پہلے بھی چپ ہی رہتے تھے مگر اب تو جیسے ان کی قوتِ گویائی ختم ہی ہوگئی ہو۔ مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ چل رہا تھا۔ ابو عبیدہؓ کے انتقال کے بعد سپاہ سالاری عرھوؓ بن العاص کوملی۔ خالدؓ جب مسلمانوں کی نئی فتح کی خبرسنتے تھے تو ان کے چہرے پر رونق آجاتی تھی مگرکچھ دیر بعد وہ پھر سے بجھ کے رہ جاتے۔ غالباً انہیں یہ خیال آجاتا تھا کہ وہ اس جنگ میں شریک نہیں تھے۔ ۶۴۲ء )۲۱ھ( میں خالدؓ کوایسی بیماری نے آلیا جو انہیں بڑی تیزی سے کھانے لگی۔ یہ صدموں کا اثر تھا۔ ان کاجسم گھلتا چلا گیا۔ ایک روز ایک دوست انہیں دیکھنے آیا۔’’غور سے دیکھ!‘‘ خالدؓنے اپنی ایک ٹانگ ننگی کرکے اپنے دوست کو دکھائی اور پوچھا۔’’ کیا میری ٹانگ پر کوئی جگہ تجھے نظر آتی ہے جہاں تیر تلوار یا برچھی کا زخم نہ ہو؟‘‘دوست کو ایسی کوئی جگہ نظر نہ آئی۔ جہاں زخم نہ تھا۔ خالدؓ نے دوسری ٹانگ ننگی کر کے دوست کو دکھائی اور یہی سوال پوچھا۔پھر دونوں بازو باری باری ننگے کیے اور یہی سوال پوچھا پھر سینہ اور پیٹھ دکھائی۔ دوست کو ایک بالشت سے زیادہ کوئی جگہ نظر نہ آئی جہاں زخم کا نشان نہ ہو۔’’کیا تو نہیں جانتا میں نے کتنی جنگیں لڑی ہیں؟‘‘ خالدؓ نے بڑی نحیف آواز میں کہا۔ ’’پھر میں شہید کیوں نہ ہوا؟میں لڑتے ہوئے کیوں نہ مرا؟‘‘ ’’تو میدانِ جنگ میں نہیں مر سکتا تھا ابی سلیمان !‘‘دوست نے کہا۔’’ تجھے رسول اﷲ)ﷺ(نے اﷲکی تلوار کہا تھا۔ یہ رسول اکرم)ﷺ( کی پیشن گوئی تھی کہ تو میدان جنگ میں نہیں مارا جائے گا۔ اگر تو مارا جاتا تو سب کہتے تھے کہ کافر نے اسلام کی تلوار توڑ دی ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔تو اسلام کی شمشیر بے نیام تھا۔‘‘انتقال کے وقت خالدؓ کے پاس ان کا ایک ملازم حمام تھا۔ نزع کے عالم میں خالدؓ نے کہا۔’’ میں ایک اونٹ کی طرح مر رہا ہوں۔ بستر پر مرنامیرے لیے شرمناک ہے۔‘‘ اور خالدؓ اس اﷲکے حضور پہنچ گئے جس کی وہ شمشیر تھے۔ خالدؓ بن ولید سیف اﷲ دنیا سے اٹھ گئے۔خالدؓ کی عمر اٹھاون سال تھی۔
ان کی وفات کی خبر مدینہ پہنچی تو بنی مخزوم کی عورتوں میں کہرام مچ گیا۔مدینہ کی دوسری عورتیں بھی باہر آگئیں اور مدینہ کی فضا سوگوار ہو گئی۔ عورتوں کی آہ و بکا سے مدینہ کی فضائیں گونج اٹھیں۔ امیر المومنین عمرؓ نے خلافت کی مسند پر بیٹھتے ہی یہ حکم جاری کیا تھا کہ کسی کی وفات پر گریہ و زاری نہیں کی جائے گی۔ ان کے اس حکم پر سختی سے عمل ہوتا رہا تھا، مگر خالدؓکی وفات پر عورتیں گھروں سے باہر آکر بین کر رہی تھیں۔ عمرؓ نے اپنے گھر میں بیٹھے یہ آوازیں سنیں تو وہ غصے سے اٹھے اور دیوار کے ساتھ لٹکتا ہوا دُرّہ لے کر تیزی سے باہر کو چلے لیکن دروازے میں رُک گئے۔ کچھ دیر سوچ کر واپس آگئے اور دُرّہ وہیں لٹکا دیا جہاں سے اٹھایا تھا۔ ’’بنی مخزوم کی عورتوں کو رونے کی اجازت ہے۔‘‘عمرؓ نے اعلان کیا۔’’ انہیں ابو سلیما ن پہ رونے دو۔ ان کا رونا دکھاوے کا نہیں۔ رونے والے ابو سلیمان جیسوں پر ہی رویا کرتے ہیں۔‘‘
حمص میں بڑا ایک حسین باغ ہے ۔پھولوں کی کیاریاں ہیں۔ درمیان میں راستے ہیں۔ درخت ہیں، اس باغ میں ایک مسجد ہے۔ جو’’ مسجدخالدؓ بن ولید‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بہت دلکش مسجد ہے اور اس مسجد کے ایک کونے میں خالدؓ کی قبر ہے ۔خالدؓ کی داستانِ شجاعت جاننے والوں کو جیسے اب بھی اس مسجد میں جا کر للکار سنائی دیتی ہے
انا فارس الضدید
انا خالد بن الولید ؓ

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: