Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 1

0

شرارت از نبیلہ عزیز – قسط نمبر 1

–**–**–

 

“دلہن کے ہاتھوں میں مہندی کیوں نہیں ہےامی؟”کسی بچی نے دلہن کو پر اشتیاق نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی ماں سے سوال کیا اور جہاں اس کی بات پر اس کی ماں ٹھٹھکی وہیں دلہن کی بھی نظریں اپنے ہاتھو پر ٹھہری شفاف گلابی ہتھیلیاں ویران اور بے رونق…..
اس عورت سے کوئی جواب نا بن پڑا تو بچی کو ڈانٹ کر چپ کروا دیالیکن اس کے چپ کروانے سے کیا ہوسکتا تھا حقیقت ساری دنیا جان گئی تھی کچھ بھی چھپا ہوا نہیں تھا….
“نائمہ تم ایسا کرو دلہن کو اس کے بیڈ روم میں چھوڑ آؤ تھک گئی ہوگی” عارفہ بیگم نے اپنی دیورانی کی بیٹی کو اشارہ کیا وہ سمجھ گئی تھی اس لیے فوراً اٹھ کھڑی ہوئی
“آئیے بھابھی آپ کو اوپر بیڈ روم میں چھوڑ آؤ ں” نائمہ نے اس کا بازو تھامتے ہوئے سہارا دیا وہ بھی اس ماحول سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی اس لیےکھڑی ہوگئی
” کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ؟” وہ اچانک ڈرائنگ روم کے دروازے سے اندر داخل ہوا نائمہ کے ساتھ دلہن کے قدم بھی تھم گئے سامنے وہ دیوار بنا کھڑا تھا
“دلہن رخصتی کے بعد کہاں جاتی ہے؟” نائمہ نے تایا زاد بھائی کو شرارت سے دیکھا
” عام دلہنیں تو رخصتی کے بعد اپنے شوہر کے بیڈروم میں ہی جاتی ہیں لیکن اگر دلہن خاص ہو اور جی دار ہو تو کہیں بھی جاسکتی ہے” وہ دلہن کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
دلہن نے یک دم اس کو دیکھا اس کی آنکھوں سے شرارےنکل رہے تھے وہ انتہائی بے نیازی سے آنکھیں پھیر گیا….
“جائیے” وہ کہ کر سائیڈ ہوگیا
نائمہ دلہن کو اوپر لے گئی
پھر بیڈ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تازہ پھولوں کی مہک ایک جھونکے کی طرح آئی۔ دلہن کا دماغ خوشبو سے جھنجھلا سا گیا وہ ٹھٹھک گئی اندر کسی کے ارمان سجے تھے اور ان ارمانوں پر وہ قدم رکھنے جارہی تھی گویا روندنے جا رہی تھی
اس کے قدم من من بھر کے ہوگئے تھے وہ دہلیز پر قدم نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ جب کسی زندگی میں ہی قدم رکھ لیا تھا تو پھر دہلیز کیا معنی رکھتی؟ نائمہ اسے بیڈ پر بٹھا کر چلی گئی تھی اور اسے پھولوں سے سجا بیڈ انگاروں کا محسوس ہوا تھا دل جیسے تپتے توے پر رکھ دیا گیا ہو…..
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
رات اچھی خاصی گہری ہو چکی تھی جب اسے اپنے بیڈ روم میں جانےکا خیال آیا
وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتےہوئےاٹھ کھڑا ہوااپنےدوست حسان کورخصت کرنےکےبعد وہ روم کی طرف بڑھا وہ سیڑھیاں طےکرتا ہوااپنے بیڈ روم میں آیا بیڈ روم کا دروازہ لوک کر کے پلٹاتو ٹھٹک کررہ گیا دلہن کے ساتھ ساتھ کمرے کا حلیہ بھی بگڑا ہوا تھا انتہائی خوبصورت پھولوں کی چادر نیچےزمین پرڈھیرتھی سائیڈٹیبل پر رکھےگئےگلدان ٹوٹ کر پھولوں سمیت زمیں پر بھکرے ہوئےتھے
ڈریسنگ ٹیبل کی ساری چیزیں اوندھی پڑی تھی
دلہن کااپنا دوپٹاآدھا صوفے پراورآدھا نیچےلٹک رہاتھا
سینڈل کہیں تھے پرس کہیں….
وہ ایک ایک قدم قدم بڑھاتاآگےآرہاتھا کہ نیچے کوئیچیز چرمرا کے رہ گئی اس نےقدم پیچے اٹھایا اوردیکھاوہ دلہن کا سونےکاگلوبند تھا جو اپنی نا قدری پررورہاتھا اسنےجھک کرگلابنداٹھایا اس کے کچھ موتی ٹوٹ گئےتھے
اس نےوہ گلوبند صوفے کے سامنے کرسٹل ٹیبل پر رکھ دیا
وہ خودبیڈپراوندھی لیٹی تھی چہرے پر تکیہ رکھا ہواتھا
مہروزکاپسندیدہ سلور کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا مگردوپٹاصوفے پرجھول رہاتھا وہ قدم بچابچا کربیڈ کےقرےب آیا
“ربیع”اس کی بھاری آوازبا آسانی اسکےکانوں تک پہنچی تھی
“ربیع” اس نےدوبارہ آواز دی مگروہ ٹس سے مس نا ہوئی
وہ جیسےہی تھوڑاقریب ہوااس کی نظر دلہن کہ کمر پر پڑی
پچھلا گلا خاصا گہراتھا دودھیارنگت سلوررنگ کوماند کررہی تھی اس نے بمشکل اپنی نظریں چرائی
“ہیلو سوگئی؟” اس نےہاتھ بڑھاکراسکابازو ہلایا
اس کےلمس سےیک دم کرنٹ کھا کراٹھ بیٹھی
“ڈونٹ ٹچ می مسٹر مہروزبخت” اس نے انگلی اٹھا کرکہا
” کیوں کیاتم میری بیوی نہیں ہو؟” وہ اسکی آنکھوں میں انکھیں ڈالتےہوئے کہنے لگا
” نہیں ہوں میں تمہاری بیوی….. نہیں ہوں سمجھے تم”وہ یک چلااٹھی
” توپھر یہاں میرےبیڈ روم میں کیاکر رہی ہو؟” وہ انتہائیاطمنان سےکہ رہا تھا
“سزابھگت رہی ہوں اپنے کیے کی سزا”وہ چبا کرکہنے لگی
مہروز اسے سرتاپا دیکھ کر رہ گیا
روئی روئی سرخ آنکھیں مٹا مٹاسامیک اپ کندھوں پر بکھرے شولڈر کٹنگ سلکی بال اوربنادوپٹے کے اجاگر ہوتی رعنائیاں نظر ہٹ نہیں رہی تھی…….
” تمہارے لیے سزا ہے مگر میرے لیے تو اللہ کی عطا کردہ ایک خاص نعمت ہو تم” اس نے گھمبھیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کے گال کو چھوا وہ اس کے انداز پر بھڑک اٹھی
” کہا ہے نا مجھے ہاتھ مت لگانا۔ہاتھ پیچھے ہٹاؤ” اس نے سخت لہجے میں کہا
مہروز کے ہاتھ اس کی کمر کو چھو رہے تھے اسے ایسا لگا جیسے اس کے جسم پر بچھو رینگ رہے ہوں۔
“اتنا صبر نہیں ہے مجھ کہ میں آج کی رات پیچھے ہٹ جاؤں٬ بلکہ جو کل کی رات گزاری تھی وہ بھی خدا جانتا ہے” اس نے کہتے ہوئے اسے زور سے بھیچ لیا تھا
” میں کہ رہی ہوں مجھے ہاتھ مت لگاؤ” وہ پھنکار کر کہتی ہوئی اس پر جھپٹ پڑی وہ اسے اپنے ناخنوں سے نوچنے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے اس کے ہاتھ روک رہا تھا لیکن جیسے ہی ربیع کے ناخنوں نے اس کی گردن پہ خراش ڈالی وہ اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکا اور یکدم اس کا ہاتھ اٹھ گیا
وہ اس کے بھاری ہاتھ سے تھپڑ کھا کر پیچھے کی طرف بیڈ پر گری
” بس بہت ہوگیا تمہارا تماشا ہر چیز کی حد ہوتی ہے اپنی حد میں رہنا سیکھو” وہ پہلی بار یوں غصہ سے دھاڑا
” تم مجھے حد بتا رہے ہو؟ حد تم نے پار کی ہے” وہ تھپڑ کی تکلیف بھول کر پھر سیدھی کھڑی ہوئی
” مجھے حد پار کرنے کا راستہ تم نے دکھایا تھا” وہ زور دے کر بولا
“میں نے توایک شرارت کی تھی” وہ روہانسی ہوئی
” لیکن میں نے کوئی شرارت نہیں کی میں کل بھی سنجیدہ تھا آج بھی ہوں، تم کسی بھی کورٹ میں چلی جاؤ میرا قصور کہیں بھی ثابت نہیں ہوگا” اس نے چبا کر کہا
” تم اتنے بے قصور بھی نہیں ہو” وہ چیخی
” میں اتنا قصور وار بھی نہیں ہوں” اس نے کاندھے اچکائے
” تم پچھتاؤ گے اپنے فیصلے پر”
“فلحال تو پچھتانے کا وقت تمہارا ہے” وہ پھر پر سکون ہو چکا تھا
” سید مہروز بخت تم نے خصارے کا سودا کیا ہے”
” ہونہہ تمہیں کیا پتا کہ سب سے زیادہ فائدہ مجھے ہی حاصل ہوا ہے تمہاری صورت میں” وہ اس کے سراپے کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
” خوش فہمی ہے تمہاری” وہ نفرت سے بولی
” یہ تو بعد کی بات ہے نا کہ کون خوش فہم ہے اور کون غلط فہم؟ پہلے تم یہ بتاؤ تم چینج کرو گی یا لائٹ آف کردوں؟” اس کے لہجے اور نظروں کا مفہوم وہ انجان ہوکر بھی سمجھ گئی تھی اور اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی اس کا خون کھول اٹھا تھا
” تم کہنا کیا چاہتے ہو؟”
” جو تم سمجھ چکی ہو”
وہ کہتا ہوا اس کی طرف بڑھا لیکن وہ بدک کر پیچھے ہٹی
” میں ہنگامہ مچادوں گی اگر تم نے مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی تو” اس نے دھمکی دی
” مسز ربیع مہروز بخت یہ آپ کی بھول ہے کہ میں آپ کی دھمکیوں میں آکر آپ کو چھوڑ دوں گا اور اپنے حق سے دست بردار ہوجاؤں گا میں ایسے لوگوں میں سے نہیں میں اپنی ضد پوری کرنا جانتا ہوں اور بہتر ہے آپ میرے ساتھ سیدھی طرح پیش آئیں ورنہ مجھے الٹا پیش آنے میں بھی وقت نہیں لگتا یہ تو آج آپ دیکھ چکی ہیں” وہ اسے کلائی سے پکڑ کر اپنے طرف کھینچ چکا تھا
ایک مرد سے مقابلہ کرنا اس کے بس سے باہر ہوگیا تھااس کی ساری جدوجہد ناکام ہوگئی تھی وہ بے بسی سے تڑپ تڑپ کر رونے لگی مگر مہروز پر اس کے آنسوؤں اور سسکیوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا…
اب چاہے وہ تڑپتی یا بلکتی اسے پرواہ نہیں تھی بقول اس کے اس نے اپنا حق وصول کیا تھا……
⁩⁦⁩⁦
باہر دروازے پر دستک ہو رہی تھی مگر وہ بے حس بنی بیٹھی تھی اور کوئی جواب نہیں دیا تھا پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ دستک ہوئی اس بار دستک متواتر ہونے لگی تھی
تبھی بے سدھ سوئے مہروز کی نیند کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا
اس نے چونک کر آگے پیچھے دیکھا وہ دونوں پاؤں صوفے پر چڑھائے گھٹنوں کے گرد بازوں لپیٹےبیٹھی تھی اور اسے دیکھ رہی تھی
” مہروز بیٹا دروازہ کھولو” باہر عارفہ بیگم کی پریشان آواز آئی وہ یک دم اٹھ بیٹھا بیڈ کے دوسرے کونے پر رکھی اپنی شرٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے وہ کمرے میں بکھری چیزوں سے بچتا ہوا دروازے تک آیا اور بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔
“گڈمارننگ موم” اس نے ہمیشہ کی طرح کہا
” کیا بات ہے سب خیریت تو ہے نا کب سے دروازہ بجا رہی ہوں” انہیں پریشانی ہوئی
“جی سب خیریت ہے میں سو رہا تھا اس لیے پتا نہیں چلا”
اس نے پریشانی کم کرنی چاہی
” وہ… ربیع کیسی ہے؟” عارفہ بیگم نے ٹھہر کر پوچھا
” اندر اکر دیکھ لیں کیسی ہے؟” اس نے دروازے سے ہٹتے ہوئے کہا
” کیوں کیا ہوا؟” وہ باہر سے ہی اندر کا حال دیکھ چکی تھی
کی صفائی کردے” اس نے سر جھٹک کر کہا
” اور ناشتا؟”
“نہیں ناشتا میں نیچے آکر ہی کروں گا”
“اور دلہن؟”
“اس کا ناشتا آپ اوپر بھیج دیں”
” وہ اکیلی ناشتا کرے گی؟”
” فلحال تو اکیلی بھی کرلے تو بہت ہے”
عارفہ بیگم بات سمجھ گئی تھی
” ٹھیک ہے میں ملازمہ کو بھیجتی ہوں”
وہ کہ کر پلٹ گئی اور وہ اندر آگیا
” اتنی سہمی ہوئی کیوں بیٹھی ہو بھوک کی وجہ تھکن کی وجہ سے یا نیند کی وجہ سے؟” وہاس کے برابر صوفے پر آ بیٹھا لیکن اس نے پھر بھی سر نہیں اٹھایا
” اوکے یار نہ بولو تمہاری مرضی آج کا دن تمہارا ہے”
وہ کہتا ہوا اس کے بالوں کو چھیڑتا اٹھ کھڑا ہوااور واشروم چلا گیا ملازمہ کمرے میں آکر صفائی کرنے لگی اور اندر ہی اندر حیران ہو رہی تھی
” بیگم صاحبہ آپبیڈ پر بیٹھ جائیں میں صوفہ بھی صاف کردیتی ہوں” صوفے پر پھولوں کی پتیا بکھری تھی
لیکن اس کا پارہ ہائی ہوگیا
” دفع ہوجاؤ یہاں سے میں آگ لگا کر جلا دوں گی سب کچھ” وہ ملازمہ پر چلانے لگی اتنے میں وہ واش روم سے باہر نکلا
” تم جاؤ یہ کام بعد میں کرلینا” اس نے ملازمہ کونرمی سے جانے کا کہا
وہ سر ہلا کرچلی گئی البتہ وہ باقی ساری صفائی کرچکی تھی
” پاگل ہہوگئی ہو؟”
” ہاں میں پاگل ہوں تم نے مجھے پاگل کردیا” وہ کاٹ کھانے کو دوڑی
“بس صرف دودن میں ہی؟” اس نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا
اور وہ بے بسی کے اس مقام پر آگئی تھی کہبار بار آنسوں آرہے تھے
” تم نے مجھے میرے اپنوں سے دور کردیا مہروز بخت تم مجھے سب کی نظروں میں گرا دیا کہیں کا نہیں چھوڑا”
وہ روتے ہوئے کہ رہی تھی
” مجھے اپنی طرف مائل تم نے کیا تھا کیوں مجھے اپنی جھلک دکھائی؟ کیوں راغب کیا مجھے؟” وہ اسے دونو کاندھوں سے پکڑے جھنجھوڑتے ہوئے بولا
” مجھے کیا پتا تھا تم اتنے کمزور نیت ہو کوئی زبان ہی نہیں؟”
” مرد کی نیت کمزور نہیں ہوتی اسے عورت کمزور بناتی ہے تمہاری طرح جھلک دکھا کر ادا دکھا کر”
“تم نے اگر اس رات وہ سب نا کیا ہوتا تو تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی اورمہروز بخت کی بیوی بننے پر فخر کر رہی ہوتی”
” جو کیا اسے چپ چاپ بھگتو اپنی غلطی کا الزام میرے سر مت ڈالو تمہارےاس واویلہ سے کچھ نہیں ہوگا غلطی کر بھی نا مانناایک اور غلطی ہے تمہاری” وہ جھٹکے سے اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹا
” میں اگر اپنی غلطی بھگتوں تو تمہیں بھی اپنی غلطی کی سزا بھگتنی ہوگی” وہ چیخی
” میں تمہاری سزاؤں کے لیے تیار ہوں جی جان سے” وہ شیشے کے سامنے کھڑا بال رگڑنے لگا اور وہ نفرت سے رخ موڑ گئی ملازمہ اسکا ناشتا بھی لے آئی تھی مگر اس نے واپس بھیج دیا……..

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: