Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 2

0

شرارت از نبیلہ عزیز – قسط نمبر 2

–**–**–

 

وہ پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل اپنی مام کا نمبر ڈائل کر رہی تھی مگر مسلسل آف جارہا تھااور پریشانی کی بات یہ تھی کہ مام کے ساتھ ڈیڈ کا بھی نمبر آف تھا تنگ آکر لینڈ لائن نمبر ڈائل کیا۔
” ہیلو” کال رسیو کرنے والی ملازمہ تھی
” رضیہ میں ربیع بات کر رہی ہوں مام سے کہو میں بات کرنا چاہتی ہوں” اس نےبے قراری سے کہا
” سوری بی بی جی بیگم صاحبہ نے کہا ہے وہ آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی” ملازمہ نے کہا
” لیکن رضیہ تم ان سے کہا میں صرف ایک بار…”
اس نے کچھ کہنا چاہا مگر دوسری طرف سے فون بند کردیا گیا اور فون اس کی مام نے بند کیا تھا وہ دور بیٹھی بھی سمجھ گئی تھی۔
“کیا بات ہے بیٹا یہاں کیوں بیٹھی ہو؟” عارفہ بیگم کی نظر لابی میں بیٹھی اپنی بہو پر پڑی
” خیریت تو ہے کسی کا فون ایا تھا؟” انہوں نے فون کے قریب بیٹھے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں”
“تو پھر کال کی ہے؟”
“جی”
“کس کو؟”
” اپنے مام ڈیڈ کو”
“اچھا بات ہوئی ان سے؟کیا کہتے ہیں؟” عارفہ بیگم کو سن کر خوشی ہوئی
“کہتے ہیں مجھ سے بات نہیں کرنی انھوں نے بھی مجھے دھتکار دیا”
عارفہ بیگم کی خوشی ماند پڑ گئی
“ارے نہیں بیٹا ایسا نہیں کہتے وہ تمہارے ماں باپ ہیں تم سے ناراض نہیں رہ سکتے یہ سب بس وقتی غصہ ہے جب غصہ اتر گیا تو سب سےپہلے تمہارا خیال آئے گا” انہوں نے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا
“ڈیڈ کاغصہ وقتی ہوسکتا ہے مگر موم کا نہیں وہ اپنے بھائی سے کم نہیں ہیں”
” لیکن بیٹا تمہارے لیے ان کے دل میں نرم گوشہ ہمیشہ رہے گا”
“ہونہہ اگر نرم گوشہ ہوتا تو وہ کل میری زندگی کے فیصلے پر یوں چپ رہ کر ماموں کا ساتھ نا دیتی” وہ بدگمان تھی
” لیکن بیٹا بات اصول کی اورسچائی کی تھی تمہاری مام الیاس بھائی کا ساتھ نا دیتی تو وہ لوگ جھوٹے پڑ جاتے”
” ایسی کون سے قیامت آگئی تھی جہاں نوبت اصول اور سچائی تک چلی گئی ایک زرا سی بات کو سب نے ایشو بنا دیا میرے ہنسی مزاق کو میرے گلے کا طوق بنا دیا”
” بس بیٹا سب قسمت کی بات ہے اللہ کی رضا تھی اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھو”
” اور اچھا تو آپ اور آپ کے بیٹے نے بھی نہیں کیا اس کو تو میں کبھی معاف نہیں کروں گی اس نے مجھے سب کی نظرو میں گرا دیا نفرت ہے مجھے اس سے اور خود سے”کہ کر وہ کھڑی ہوگئی
” اندر بیوٹیشن تمہارا انتظار کر رہی ہے”
“بیوٹیشن ؟”
” آج شام تمہاری شادی کی ریسیپشن ہے نا؟”
“میں نہیں جاؤں گی نا تیار ہو رہی”
“نہیں بیٹا ایسا نہیں کرو ایک غلطی تم سے پہلے ہوئی ایک اب کر رہی ہو”
” کل ہزاروں لوگوں نے باتیں کی سرگوشیاں کی لیکن جیسے تیسے گزر گیا کیا تم پھر چاہتی ہو لوگ باتیں بنائیں تمہاری غیر موجودگی پر سرگوشی کریں؟”
عارفہ بیگم کہ کر چلی گئی تھی وہ کتنی ہی دیر سوچتی پھر قدم ہلے تو کمرے کی طرف جہاں بیوٹیشن اس کا انتظار کر رہی تھی
جب وہ تیار ہوکر نیچے اتری تو عارفہ بیگم کے قدم تھم گئے تھے ملٹی شیڈ لہنگے میں اس کی دو دھیاں رنگت اور چمک گئی تھی اور اوپر سے اس کےتیکھے نین نقش اس کی خوبصورتی کو دو اتشہ کر رہے تھے۔”
” مام اور کتنی دیر ڈیڈ دو بار فون کر چکے” مہروز بے دھیانی میں اندر داخل ہوا لیکن اسے دیکھ کر مبہوت رہ گیا
“چلو دیر ہو رہی ہے” انہوں نے چونکایا لیکن میرج ہال پہنچنے تک اس کی نظر اس پر ٹکی رہی یہی تو جھلک تھی جو وہ پاگل ہوگیا تھا اور وہ آج اس کے ہمراہ تھی
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“بھابھی کے گھر والے نہیں آئے؟” حسان نے مہروز سے سوال کیا
” نہیں” مہروز نے جواب دیا
“کیوں؟”
“تم اچھی طرح جانتے ہو”
” لیکن یار انہیں خیال کرنا چاہیے تھا اکلوتی اولاد ہے ان کی بھابھی اس طرح تعلق توڑنا حیرت کی بات ہے” حسان نے ربیع کے اکیلا پن نوٹ کرتے ہوئے کہا
” ان کی بیٹی ہے ان کی مرضی” مہروز نے لاپروائی سے کہا
” قصور وار تو تو بھی سزا صرف بھابھی کو کیوں مل رہی ہے تمہاری وجہ سے سارے رشتے ٹوٹ گئے اور تم ٹھاٹھ سے انجائے کر رہے ہو”
” اوئے یار بس بس اپنے اونچے آدرش اپنے تک رکھ اس نے سن لیا تو ہنگامہ مچا دے گیوہ تو پہلے ہی اپنا کوئی ہم نوا ڈھونڈ رہی ہے”
صوفی الیاس سے پھر کوئی رابطہ ہوا؟”
“نہیں یار لیکن کوشش کروں گا سب ٹھیک ہوجائے”
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
(ماضی)
ربیع اٹھ کر شاور لے لومیں نے ناشتہ بنا دیا”
” اتنی جلدی؟”
“ہاں الیاس بھائی آرہے ہیں ملنے”
” کیا؟ مگر کیوں؟”
” شاید کسی جماعت کے ساتھ آئے تھے آج واپس اسلام آباد جا رہے تھے تو مل کر جائیں گے”
” صرف مل کر جائیں گے یا لیکچر بھی دے کر جائیں گے؟”
“بس کردو ربیع جلدی تیار ہوکر اؤ”
وہ نیچے آئی سکینہ بیگم جزبز ہوئی
“اب کیا ہوا؟” ربیع نے کہا
کوئی اور کپڑے نہیں تھے پہننے کے لیے؟”
انہوں نے جنس پر وائٹ ٹاپ کو ناگواری سے دیکھا
” میرے سارے کپڑے ایسے ہی ہیں مام”
” الیاس بھائی کو پسند نہیں ایسے لباس”
” وہ پہلی بار تو مجھے ان کپڑوں میں نہیں دیکھ رہے کئی بار دیکھ چکے اور مام میں اپنے گھر میں ہوں”
“بیگم صاحبہ صوفی صاحب آئے ہیں” ملازمہ نے بتایا
” تم بھی ناشتہ کر کے جلدی آنا میں جارہی ہوں” وہ کہ کر ڈرائنگ روم کی طرف گئی…..
” خدیجہ بھابھی اور بچے کیسے ہیں ؟” سکینہ نے کہا
” سب ٹھیک تمہیں سلام دیا ہے” الیاس نے کہا
“وعلیکم اسلام بہت دن ہوگئے ملے بھی ان سے”
” فاطمہ تمہیں اور ربیع کو بہت یاد کرتی ہے”
” تو فون پر بات کرلیا کرے وہ ہم سے”
” نہیں سکینہ فون کے رابطوں کو میں ٹھیک نہیں سمجھتا”
” تو ہم کرلیا کریں گے”
“اتنا ضروری بھی اسلام آباد اتی ہو تو تمہاری بات ہو ہی جاتی ہے” انہوں نے فون کی بات ٹالی
“ربیع بیٹی کہاں گئی؟”
“ناشتہ کر رہی ہے”
“اس وقت؟”
” ہاں یونیورسٹی کی چھٹی تھی تو سنڈے کو دیر سے اٹھتی ہے”
“اچھا”
“اسلام علیکم مامو جان” ربیع نے آتے ہی کہا لیکن اس کے لباس کو دیکھ ان کے چہرے پر ناگواری اتری
“فاطمہ کیسی ہے؟”
” ٹھیک ہے”
” کبھی لاہور لائیں نا اسے”
“وہ گھر سے باہر نہیں نکلتی”
“کیوں؟”
“وہ آزاد نہیں گھومتی”
“یعنی قید ہے؟”
“اپنا گھر قید نہیں ہوتا”
“آپ ہمیشہ کے لیے ایک ہی جگہ رکھیں چاہے وہ بیڈروم ہی کیوں نا ہو قید ہی ہوتی ہے” وہ بھی ان کی بھانجی تھی
” ربیع” سکینہ نے کہا
” سوری” وہ اٹھ کھڑی ہوئی
” مام میں باہر جاتہی ہوں لنچ بھی باہر کروں گی فاریہ والوں کے ساتھ” وہ خدا حافظ کرتی باہر چلی گئی
اور الیاس صاحب دیکھتے رہ گئے
“تمہیں پتا ہے یہ کہاں گئی ہے؟” الیاس نے کہا
“وہ جہاں بھی گئی ہو ہمیں یقین ہے اپنی بیٹی پر” احمد صاحب نے کہا
“چلو دعا ہے اللہ بھروسہ سلامت رکھے” اور دوسری گفتگو کرنے لگے
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“عارفہ خیریت پریشان لگ رہی ہو؟” خدیجہ بیگم نے کہا
“پریشان تو ہوں مہروز کی طرف سے”
“کیوں سب ٹھیک تو ہے کیا ہوا؟”
خدیجہ نے اپنےی دوست عارفہ سے پوچھا
” مہروز اور اس کا چچا زاد بھائی احتشام ساتھ امریکہ گئے تھے اب سننے کو آیا ہے احتشام نے شادی کرلی وہاں”
“تم کیوں ہلکان ہو رہی ہو؟”
“میں سوچ رہی ہوں اگر احتشام کر سکتا ہے تو مہروز بھی کرسکتا ہے ہمارا اکلوتا اور آخری سہارا ہے امریکہ کا ہوکر رہ گیا تو”
“تم اس کی منگنی یا شادی کر کے بھیجتی”
” ہاں یہ غلطی ہوگئی مجھ سے”
” یہ کام اب بھی ہوجائے گا بلوا لو اور شادی کردو”
” کیا واقعی”
اور گھر آکر انہوں نے مہروز کو کال ملائی
” یس مام کیا بات ہے؟” مہروز نے کہا
” تم سے ایک بات کرنی تھی”
“کہیں سن رہا ہوں مام”
” میں تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں”
“اتنی جلدی “
“ہاں “
تو کرلیں اجازت کیوں لے رہی ہیں آپ میری ماں ہیں جہاں چاہیں کردیں بس شادی سے پہلے ایک عدد تصویر دکھا دینا”
انہوں نے خوش ہوتے ہوئے دعا دی اور فون بند کردیا
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“کچھ مسئلہ حل ہوا؟” خدیجہ نے پوچھا
“بس لڑکی کی تلاش ہے کوئی پڑھی لکھی اور نیک مل جائے میں کوئی تیز ترار بہوں افورڈ نہیں کر سکتی” عارفہ بیگم نے اپنی پسند بتائی
“امی وہ کچھ عورتیں آئی ہیں” فاطمہ کی دھیمی آواز آئی اور عارفی کی نظر اس پر ٹھہری دوپٹے میں لپٹا اس چہرہ پرنور لگ رہا تھا
انہوں نے گھر جا کر مہروز سے ذکر چھیڑا فاطمہ کا اسے کیا اعتراض ہوگا اس کی راضامندی پر ہی اس نے خدیجہ سے فاطمہ کا ہاتھ مانگا اور خدیجہ نے الیاس سے بات کی
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
” لڑکی کا نام فاطمہ ہے” انہوں نے بیٹے کو اطلاع دی
” کیسی ہے؟”
” بہت پیاری”
” تو وہ پیاری مجھے بھی دکھادیں”
“ایسا ممکن نہیں صوفی الیاس صاحب کو پسند نہیں یہ سب وہ کہتے ہیں لڑکا لڑکی شادی کے بعد ہی ایک دوسرے کو دیکھیں تو بہتر ہے”
” تاکہ ان کے پاس فرار کا کوئی راستہ نا ہو” اس نے خفگی سے کہا
” لیکن مام تصویر میں کیا حرج ہے میں اتنی دور بیٹھا ہوں پتا تو ہو کس سے شادی ہو رہی ہے؟ کیسی ہے میرے ساتھ کیسی لگے گی؟”
اور آپ کو کس نے کہا تھا کسی صوفی کی بیٹی سے میری شادی طے کردیں”
“بس چپ رہو بہت پیاری ہے اللہ جوڑی سلامت رکھے اچھی لگے گی تمہارے ساتھ” عارفہ بیگم نے اسے چپ کروایا
اور منگنی کی تیاریوں میں لگ گئی
منگنی کے فوراً بعد شادی طے کردی تھی
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“بڑی چھپی رستم نکلی منگنی بھی کرلی” ربیع نے فاطمہ کو فون کھڑکایا اور وہ اس کی باتوں پر ہنس دی
” بس سب جلدی ہوگیا”
“نام کیا ہے موصوف کا؟”
“سید مہروز بخت”
” نام تو بڑا پاورفل ہے خود کیسا ہے؟”
” مجھے کیا پتا؟”
“کیا مطلب بنا دیکھے ہی”
” جانتی تو ہو ابا کو انہیں دیکھنا دکھانا پسند نہیں”
” اف یار تمہارے ابا کو تو کچھ بھی نہیں پسند”
“خیر میں تو جس سے شادی کروں گی دو تین میٹنگ رکھوں گی اس کے ساتھ شادی سے پہلے پتا تو چلے کیسا ہے کون ہے؟”
“شادی کب ہے؟”
“جب وہ آئیں گے”
“ہیں انہوں نے ابھی آنا ہے؟”
“ربیع پوری بات تو سن لو”
فاطمہ نے کہا اور ربیع ہنس دی
“کہاں سے آنا ہے؟”
امریکا سے”
“واٹ وہ لڑکا امریکہ میں رہ کر ملانی سے شادی کر رہا ہے اس نے تمہیں دیکھا ہے؟”
“نہیں”
“پھر بھی شادی کررہا ہے حیرت ہے”
“کیوں کیا پہلے شادی نہیں ہوئی ایسے کسی سے”
“ہوئی ہے نا تمہاری امی ابو کی۔ اگر تمہاری امی دیکھ لیتی مامو کوتو گلے میں پھندہ ڈال کر مر جاتی” فاطمہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دی
“شادی میں کتنے دن پہلے آؤ گی؟”
“دو دن پہلے، اگر میں پہلے آئی تو یا مامو رہیں گے گھر میں یا میں”
“تم سکون سے بھی تو رہ سکتی ہو”
“نہیں میری نیچر میں نہیں سکون اور ماموں پابندیوں کے مالک یہ مت کرو وہ مت پہنو روک ٹوک”
اس نے وجہ بتائی اور فاطمہ چپ ہوگئی
“آجاوں گی اتنے دن پہلے کہ تم بور ہوجاؤ گی”
” میں انتظار کروں گی”
” اللہ حافظ”
کہ کر فون بند کردیا….

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: