Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 3

0

شرارت از نبیلہ عزیز – قسط نمبر 3

–**–**–

 

(حال)
“شادی کا ہنگامہ سرد ہوا تو ہرطرف خاموشی اورسناٹے چھا گئے۔مہروز اپنے بابا کے ساتھ آفس میں مصروف ہوگیا اور وہ اپنے بیڈ روم کی ہو کر رہ گئی دو تین بار عارفہ نے کہا گھومنے کا مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی۔ اسے سکون نہیں ملتا تھا ضمیر پر بوجھ تھا اور اس بوجھ کے ہاتھوں مجبور آج پھر فون کے قریب چلی آئی
لیکن فون ڈیڈ تھا۔
پورا دن گھر میں چکراتے ہوئے گزارا۔ عارفہ بیگم کہیں باہر گئی ہوئی تھی شام پانچ بجے مہروز گھر آیا تو وہ لان میں نظر آئی وہگاڑی سےاتر کر اسی طرفآگیا
” اسلام علیکم” وہ سامنے کرسی پربیٹھ گیا وہخاموش رہی۔
” جوا میں سلامتی ہیبھیج دو اب ایسی بھی کیا ناراضگی کہ سلام کا جواب بھی نہیں دے بندہ”
“تم پر سلامتی بھیجوں؟” وہ زہر خند لہجے میں بولی
” تمہارا شوہر ہوں تم نہیں سلامتی بھیجو گی تو کون بھیجے گا؟”
” میرا شوہر تمہارے جیسا گھٹیا اور کمینہ ہوگا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا”
” اور جس نے سوچا تھا میں اس کا شوہر نہیں بنا۔” اس نے شرارت سے کہا اور وہ سنجیدگی سے دیکھنے لگی
“اپنا موبائل دو” اس نے ہاتھ بڑھایا
“کیوں خیریت؟”
” میں فون کرنا چاہتی ہوں فاطمہ سے معافی مانگنا چاہتی ہوں سنا تم نے؟” وہ غصہ سے بھڑکی
” کوئی فائدہ نہیں…. میں نے آج الیاس صاحب کو کال کی تھی وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے”
” لیکن میں فاطمہ سے بات کرنا چاہتی ہوں ان سے نہیں”
مہروز نے سیل اسے دے دیا وہ فون لے کر کمرے میں آگئی اور صوفی الیاس کے گھر کا نمبر ڈائل کیا
“ہیلو اسلام علیکم” دوسری طرف خدیجہ تھی
” وعلیکم اسلام ممانی جان میں ربیع فاطمہ سے بات کرنی ہے” دوسری طرف سے یک دم فون کاٹ دیا گیا
اس کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے اس کی نظر ہاتھ میں پڑے فون پر پڑی
” یہی وہ منحوس ہے جس کی وجہ سے میری قسمت بد قسمتی میں بدل گیا” اس نے غصہ سے کہتے ہوئے پوری طاقت سے فون دیوار پر دے مارا جب وہ اندر ایا تو فون کئی حصوں میں بھرا زمیں پر ملا۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
(ماضی)
شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھی مہروز بھی پاکستان آگیا تھا فاطمہ کے گھر بھی چہل پہل تھی
“یہاں کیا ہو رہا ہے؟” فاطمہ کے کمرے سے میوزک کی آواز آئی صوفی صوحب سیڑھی چڑھتے اوپر آئے اور دھڑام سے دروازہ کھول دیا سامنے ڈانس کی پریکٹس چل رہی تھی جن میں ان کی تینوں چھوٹی بیٹیاں اور ربیع شامل تھی
” وہ…وہ ابا جان” فاطمہ سے چھوٹی رقیہ سے کچھ بولا ںہیں گیا
” بے شرم بے حیا زرا شرم نہیں آئی بے حودہ حرکت کرتے ہوئے؟” انہوں اپنی تینوں بیٹیوں کو تھپڑ جھڑ دیے
“وہ مامون کل مہندی کا فنکشن…” ربیع نے کچھ بولنا چاہا
” خبردار لڑکی تم تو چپ ہی رہو” انہوں نے ربیع کو چپ کروا دیا
“یہ ڈیک کہاں سے آیا؟”
“میں لائی ہوں ماموں”
” جہاں سے لائی ہو وہیں پھینک کر آؤ ہمارے گھر میں جگہ نہیں ایسی چیزوں کی”
وہ حکم دے کر نکل گئے اور وہ تینوں آنسوں لیے بیٹھ گئی
“سوری یار یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے” ربیع کو افسوس ہوا۔
“اس میں تمہاری غلطی نہیں ہمارا گھر ہی ایسا ہے فاطمہ شکر ادا کرے فاطمہ جو اس گھر سے جا رہی ہے ہمیں پتا نہیں کتنی اور سزا کاٹنی ہے” رقیہ نے دل کی بھڑاس نکالی
” کوئی بات نپیں ہم کچھ اور کرتے ہیں ” ربیع نے کہا
” رہنے دو وہ پھر اجائیں گے” رقیہ نے کہا
بڑی مشکل سے ماحول ٹھیک ہوا۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“کہاں جا رہی ہو؟” فاطمہ نے کہا
” سونے کے لیے ” ربیع نے کہا
” مگر تم تو میرے ساتھ سوتی ہو؟”
” نہیں یار کل تو ویسے بھی تم ہمیں چھوڑ جاؤں گی کیوں نا ہم ہی تمہیں چھوڑ دیں گڈ نائٹ، تم بھی سو جاؤ کل تو ویسے بھی وہ تمہیں سونے نہیں دیں گے” ربیع نے چھیڑا
” ربیع” فاطمہ ہنس دی
“اوکے میں جارہی ہوں رقیہ کے بیڈ روم میں”
وہ کہتی ہوئی نکل گئی
وہ مسکراتی ہوئی سیڑھیا اتری اور کچن کی طرف گئی پانی کی بوتل فریج سے نکالی اور پانی پیاوہ واپس اور جانے کے سیڑھی چڑھنے ہی والی تھی پاس رکھا لینڈ لائن فون بجنے لگا دو تین بار بجنے پر اس نے فون رسیو کرلیا رات کے دو بجے کا وقت تھا
” ہیلو” اس نے نارمل انداز میں کہا
” ہیلو” مردانہ آواز سنائی دی
” کون آپ کو کس سے بات کرنی ہے؟”
” فاطمہ الیاس سے” ربیع بری طرح چونکی
“آپ ہیں کون کیوں بات کرنی ہے؟”
“میں جو بھی ہوں آپ بس بات کروادیں”
ربیع کے دماغ میں شرارت سوجی
” تو کہیں میں فاطمہ ہی ہوں”
“میں سید مہروز بخت بات کر رہا ہوں”
اس نے نام بتا کر اسے اچھلنے پر مجبور کیا
“آپ…آپ نے س وقت کیوں فون کیا؟”
“میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا کافی دن سے سوچ رہا تھامگر موقع نہیں ملا آج سوچا بات کر کے ہی سونا ہے”
“لیکن آپ سے ساری باتیں کل جو کرنی ہیں تو آج کون سے خاص بات کرنے کے لیے فوں کیا ہے؟” اس کے سوال پر وہ بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنسا
“جو کل باتیں کرنی ہیں آج ان کے لیے تمہید باندھنا چاہتا ہوں”
“کیسی تمہید؟” اس نے شرارت سے پوچھا
“وضاحت کروں گا تو آپ کو شرم آجائے گی”
” آج کل شرم کے جراثیم دنیاں سے مر گئے ہیں”
“مگر میں نے سنا ہے آپ کے اندر زندہ ہیں”
” آپ کا سنا غلط بھی تو ہوسکتا ہے”
” آپ کا کہا غلط بھی تو ہو سکتا ہے”
” مجھے مجھ سے زیادہ کون جان سکتا ہے؟”
” جاننے کا موقع تو دیں پھر دیکھیے گا”
“کل جان لیجیے گا ابھی وقت نہیں خدا حافظ”
” پلیز فون مت رکھیے گا میری بات سنہیں” اس نے جلدی سے کہا وہ فون رکھتے رکھتے ٹھہر گئی
” جی کہیے”
” میں آپ سے بات کرنا چاہتا مجھے کچھ کہنا ہے” وہ ٹھٹھک گئی رات اس پہر اس نے کال کی وہ بھی ربیع تھی جس کا شرارتی زہن اسے الٹی پٹیاں پڑھا رہا تھا
“تو ٹھیک ہے آپ میرے سیل فون پر کال کریں”
“رات اس وقت مامو جان میرا مطلب ابا نا آجائیں میرے سیل پر کال کریں آپ ان کو فون پر بات کرنا پسند نہیں”
وہ بات کرتے کرتے پھسلی پھر خود ہی سمبھل گئی
“نمبر بتائیں” وہ تیار ہوگیا اس نے نمبر دے دیا
اس کی شرارت عروج پر تھی
“ٹھیک ہے میں کرتا ہو” اس نے کہ کر فون بند کردیا
” میں انتظار کروں گی” وہ شرارت سے مسکرائی
اور تیزی سے سیڑھی چڑھ کر رقیہ کے بیڈروم میں گئی
” یہ تو کل پتا چلے گا مہروز صاحب کے آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے” وہ سیل فون پر وائبریشن کو دیکھتے ہوئے مسکرائی جہاں مہروز کی کال آرہی تھی
” ہیلوں”
“جی جناب کیا کر رہی ہیں”
“دیکھیں مجھے نیند آرہی ہے اپ بھی سو جائیں”
” کیسے سوجائیں ہماری نیندیں ہی اڑ گئی کل کے انتظار میں”
“بس بس آپ اپنی لمٹ میں رہ کر بات کریں میں اس وقت بات کر رہی ہوں یہی بہت ہے”.
” اس کے لیے میں اپ کا احسان مند ہوں لیکن کیا اپ میری ایک اور خواہش پوری کر سکتی ہیں؟”
” خواہش؟”
“میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں بس ایک جھلک”
” آج کی رات خواہش پوری کرنے کی نہیں خواہش سجانے کی رات ہے” وہ ادا سے بولی
“تو خواہش کو سجانا تو چاہتا ہوں آپ کی ایک جھلک سے”
” خواہش کسی کو دیکھنے سے نہیں بلکہ انتظار سے سجتی ہے وہ شعر سنا ہے؟
میں تجھ کو ڈھونڈنے افق کے پار بھی گیا
تو مل گیا تو تجھ سے ملنے کا انتظار بھی گیا”
وہ دلچسپی سے بولی مہروز چپ ہوگیا
” ہتر ہے آپ کل پر خواہشیں چھوڑ دیں اور سوجائیں” کہ کر اس نے فون بند کردیا
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“بیوٹیشن سے ٹائم لے لیا تم لوگوں نے؟” ربیع نے پوچھا
” نہیں” فاطمہ نے کہا
” تو تمہیں تیار کون کرے گا؟”
“تم”
“ارے نہیں مجھے بس لپسٹک اور بلش آن کے سوا کچھ نہیں آتا یہ تمہارے اتنے لمبے بال کون سمیٹے گا؟
“تم لوگوں کے آس پاس کوئی اچھا پارلر ہے؟”
“ہاں یہ رائٹ سائیڈ پر گلی میں ہے رائل بیوٹی پارلر اچھا ہے”
“اوکے میں جاکر ٹائم لے لیتی ہوں وہ آتو جائے گی نا؟”
“مگر ابا؟”
“وہ کچھ نہیں کہیں گے انہیں پتا ہی نہیں چلے گا”
اس نے فاطمہ کو تسلی دی اور باہر جانے لگی
“ربیع رکو….. یہ چادر لے لو جب تک یہاں ہو یہ تو کرنا ہی ہوگا” فاطمہ نے کہا
” فاطمہ پلیز”
“ربیع پلیز” اور فاطمہ کی خاطر اسے اتنی بڑی چادر اوڑھنی پڑی خدیجہ بیگم نے اسے باہر جاتے دیکھ رسید تھما دی
“اورنجل جیولرز پر فاطمہ کا ڈائمنڈ سیٹ ہے اٹھا لانا مارکیٹ میں شاپ ہے”
اس نے رسید پرس میں رکھ لی
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
(حال)
“تم اگر سوچ رہی ہو کہ سب جلدی ٹھیک ہوجائے تو ایسا ممکن نہیں” مہروز نے کہا
وہ اس کی طرف پشت کیے لیٹی تھی آنکھوں پر بازو رکھے سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی وہ اچھی طرح جانتا تھا
وہ مدھم لیمپ کی روشنی میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اس کی پشت کو گھر رہا تھا
“ابھی تمہاری کوئی اثر نہیں کرے گی صحیح وقت پر سب ٹھیک ہوجائے بس صبر کرو اور انتظار کرو مجھے یقین ہے تمہارے مام ڈیڈ کے غصہ میں کمی آجائے گی”
وہ اسے حوصلہ دے رہا تھا
“میری بیوی بننا تمہاری قسمت میں لکھا تھا ورنا میں شادی روز تک تمہارا نام تک نہیں جانتا تھا فیس ٹو فیس کبھی دیکھا تک نہیں تھا مگر ہم ہمسفر بن گئے شاید یہی قسمت ہے” وہ خاموش تھی
“میں تم سے بات کر رہا ہوں” اس نے ہاتھ بڑھا کر انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسائی مگر وہ بے حس و حرکت پڑی رہی
“تم ٹھیک ہو میں بھی غلط ہوں لیکن یار میری بچپن سے عادت ہے مجھے جو چیز پسند آجائے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ضد کا پکا ہوں اور تمہارے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا”
“انسانوں اور چیزوں میں فرق ہوتا ہے تم نے صرف اپنا سوچا میرے جذبات کا نا سوچتے ایک بار اس لڑکی کا سوچ لیتے جو مایوں بیٹھی تھی اب شادی نا ہونے پر لوگ کتنی باتیں بنائیں گے”
” مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے لیکن تمہیں اپنا مان چکا تھا چھوڑ نہیں سکتا تھا”
“مہروز اس کے بکھرے حلیے سے نظر چرا گیا تھا کتنے دن ہوگئے تھے وہ اس کے ہو شربا حسن سے نظریں چرا رہا تھا شادی کے روز سے اب تک اس نے دوبارہ اسے چھوا بھی نہیں تھا آج پھر اس کی لاپرواہی اسے بے ایمان کر رہی تھی
“جال تو تم پھینکتی ہو بندہ کسی اور طرف دیکھنے کے قابل نہیں رہتا”
وہ اس کے سراپے کو دیکھتے ہوئے بولا ربیع اس کی نظروں کے تعاقب میں اپنا حلیہ دیکھ سٹپٹا گئی اور فوراً ڈوپٹا ڈھونڈنے لگی
” اب کیا فائدہ” وہ مسکرایا
وہ گستاخی پر آمادہ تھا۔ اس نے بچنے کی کوشش کی مگر بچ نا سکی اس کے شکنجے میں پھڑپھڑا کر رہ گئی اور وہ گستاخی کا ارتکاب کر بیٹھا۔ اس کی بات کا مفہوم گھوم پھر کر وہیں پر آیا جہاں لانا چاہتا تھا۔ وہ آج پھر اسے قابو کرچکا تھا اور وہ سارے جتن کر کے بھی نکلنے میں ناکام رہی اس کی گرفت مضبوط تھی۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
صبح ناشتے کی ٹیبل پر اس کا چہرہ پھر سوجا ہوا تھا آج رات بھی وہ خوب روئی تھی اس کی آنکھیں سوج گئی تھی اس کن اکھیوں سے اسے دیکھا پھر کھسنے میں مصروف ہوگیا وہ جانتا تھا کہ اس کی نظر پڑی تو تپ جائے گی
” آج کل رابعہ بیٹی کی کیا مصروفیات ہیں؟” فیروز بخت (مہروز کے ڈیڈ) نے پوچھا وہ چائے میں چمچ ہلاتی رکی
“میرا دل خوش کرنا”وہ سرگوشی کرگیا اس نے قہر باز نظروں سے دیکھا
” اس کا نام رابعہ نہیں ربیع ہے ربیع کامطلب بہار” عارفہ بیگم نے کہا
“ماشاءاللہ ! میں اتنے دن سے رابعہ سمجھ رہا تھا میں نے سمجھا سب پیار سے ربیع کہتے ہیں”
“نہیں اس کا نام ہی ربیع ہے، ربیع احمد” عارفی نے پورا نام بتایا
” ربیع احمد نہیں ربیع مہروز کہو.” وہ ہنس کر بولے
“میرے نام کے ساتھ ربیع احمد ہی سوٹ کرتا ہے ” وہ تلخی سے بولی مہروز نے ٹھٹک کر اسے دیکھا وہ دونو بھیہنستے ہنستے چپ ہوگئے
“لیکن بیٹا ہم تو اصول کی بات کر رہے ہیں شادی کے بعد ہر لڑکی کے نام کے ساتھ…”
” کیا سارے اصول مجھ پر ہی لاگو ہوتے ہیں؟” وہ غصے سے بولی
“ربیع یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟” مہروز اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا وہ اپنے ساتھ اس کا رویہ برداشت کرسکتا تھا مگر اپنے ماں باپ سے اونچی آواز میں بات کرنےکی اجازت نہیں دے سکتا تھا
“اٹس اوکے بیٹا وہ صرف بات کر رہی ہے”
فیروز بخت نے مہروز کو چپ رہنے کا اشارہ کیا
“بات کرنے کا بھی طریقہ ہوتا ہے یہ سب کو اپنا جیسا سمجھتی ہے نان سیریس” مہروز کو کافی غصہ تھا
وہ مہروز کو نفرت سے گھرتے ہوئے اٹھ کر چلی گئی
اور وہ دونوں مہروز کو سمجھانے لگے
” وہ جن حالات سے گزری ہے اپ سیٹ ہونا جائز ہے”
“آپ اس کی سائیڈ لے رہے ہیں حالانکہ اس کی غلطی ہے وہ اگر اپ سیٹ ہے تو دوسروں کو کیوں کر رہی ہے”
“بار بار اس کی غلطی اسے یاد کروا کر تم اسے ٹارچر کر رہے ہو اس طرح تو وہ نفسیاتی ہوجائے گی اس سے سختی برت کر تم اپنے لیے مشکل پیدا کر رہے ہو”
انہوں نے صاف طور پر سمجھایا وہ کافی دیر ان کی باتیں چپ چاپ سنتا رہا
“جاؤ وہ پریشان ہوگی” انہوں نے کہا
” سوری میں آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں یہ چوچلے پھر کبھی ہوجائیں گے” وہ بریف کیس اٹھائے باہر نکل گیا
وہ دونوں بھی چپ ہوگئے۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: