Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 4

0

شرارت از نبیلہ عزیز – قسط نمبر 4

–**–**–

 

(حال)
وہ واش روم سے شاور لے کر نکلی تو اس کی نظر بیڈ پر رکھے ڈبے پر گئی
اس نے ڈبا اٹھا لیا وہ موبائل سیٹ تھا نیو ڈبہ پیک، اس پر لکھا تھا مسز ربیع “مہروز”اس نے ملازمہ کو پکارا۔
” جی بیگم صاحبہ؟”
” یہ کس نے بھیجا ہے؟”
“چھوٹے صاحب نے آفس سے ڈرائیور آیا تھا دینے آپ نہا رہی تھی میں نےبیڈ پر رکھ دیا”
پچھلے دو دن سے ان دونوں میں بات چیت بند تھی وہ تو پہلے بھی اس سے بات نہیں کرتی تھی اب وہ چپ تھا کمرے میں مکمل خاموشی رہتی۔ لیکن وہ اس کی اس عنایت کو چپ چاپ قبول نہیں کرسکتی تھی اس لیے باہر گئی فون ڈائریکٹری سے اس کے آفس کا نمبر ڈائل کیا۔
“ہیلو” دوسری طرف سے مصروف سی گھمبھیر اواز سنائی دی یہ آواز وہ پہلے بھی سن چکی تھی
“ہیلو” خاموشی پاکر اس نے دوبارا کہا
“ہیلوں میں ربیع احمد بول رہی ہوں”اس نے ہمت سے کہا
” اوہ اچھا میں سمجھا فاطمہ الیاس بات کر رہی ہے” اس نے چوٹ کی
” فاطمہ تم جیسوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتی”
” مگر ربیع تو بات کرنا پسند کرتی ہے”
” مجھے پتا نہیں تھا تم اتنے گھٹیا انسان ہو ورنہ کبھی بات نہیں کرتی”
“مگر مجھے پتا تھا تم کتنی اعلا ہو تبھی تو بات کی تھی میری جان” اس نے مزے سے کہا
اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اس نے غصہ سے فون کریڈل پر رکھ دیا اور سر دونوں ہاتھوں میں گرائے بیٹھی تھی کہ فون پھر بجنے لگا اس پہلے تو اگنور کیا پھر اٹھا لیا
” ہیلو مہروز بخت بات کر رہا ہوں”
” پتا ہے دنیا میں ایک ہی کم ظرف ہے”
” میری کم ظرفی کو تمنہیں جانو گی تواور کون جانے گا؟ میری کم ظرفی کے سب ہتھیاروں سے واقف ہو تم”
” تم نے فون بھیجا ہے؟”
” ہاں بھیجا ہے”
” کیوں میں نے تو نہیں مانگا”
” لیکن مجھے تو پتا ہے تمہیں کس کس چیز کی ضرورت ہے اور فون بھی آج کل کی ضروریات میں شامل ہے”
” میری ضرورتیں تو اور بھی بہت سی ہیں کس کس چیز ضرورت کو پورا کرو گے؟” اس نے عجیب لہجے میں کہا
“تم ایسا کرو اپنی ضروریات کی لسٹ بناؤ پھر دیکھتے ہیں کیا پوری کرسکتا ہوں اور کیا نہیں۔”
“تو لکھو۔۔۔۔” ربیع ناجانےکیا سوچ رہی تھی وہ اسے زچ کرنا چاہتی تھی
“گاڑی بلیک سیلون”
“ہوں کیا بلیک کے بجائے وائٹ سے کام نہیں چل سکتا؟” وہ لکھتے ہوئے بولا
” نہیں میں پہلے بھی بلیک ہی استعمال کرتی آئی ہوں”
“سوری یا ڈیلر آگئے کچھ میں لسٹ کا کام گھر آکر کرتا ہوں”
“بس اتنی جلدی”
” اتنی جلدی بس نہیں ابھی تم نے مانگا ہی کیا ہے کچھ ایسا مانگو جسے مانگنے میں تمہیں مزہ آئےاور مجھے دینے میں خوشیاور ہاں ڈرائنگ روم کی گلاس وال کا پردہ ہٹا کر دیکھو اور پھر سوچوں اور کیا مانگنا ہے تمہیں؟”
وہاں بلیک کلر کی نیو گاڑی کھڑی تھی لشکارے مارتی معلوم ہوتا ہے ابھی شوروم سے آئی ہے
” یہ سب کر کے تم میری نظر میں کوئی سند نہیں پا سکتے مہروز بخت” اس نے ناگواری سے کہا اور پردے برابر کردیے
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
آج سنڈے ہونے کے باعث وہ لیٹ تک سوتا رہا اور وہ ابھی سو ہی رہا تھا کہ ربیع نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گئی۔
“کہاں جا رہی ہو بیٹا؟”عارفہ بیگم نے اسے باہر جاتے دیکھ کر پوچھا
“مارکیٹ” وہ کہ کر باہر نکل گئی اور تھوڑی دیر میں اس کی گاڑی فراٹے بھرتی گیٹ سے نکلی
عارفی بیگم کو اس تیوروں سے خطرے کی بو آرہی تھی
وہ فوراً اس کے بیڈ روم کی طرف گئی
“مہروز اٹھو”
” کیا ہوا مام” وہ ٹھٹک کر اٹھ بیٹھا
” ربیع گاڑی لے کر نکلی ہے باہر مارکیٹ کا کہ کر نکلی ہے پتا نہیں کہاں گئی ہوگی”
اس نے اس ا نمبر ملایا مگر رسیو نہیں ہوا
” ربیع کال اٹھاؤ” اس نے مسیج سینڈ کیا
مگر جواب نہیں آیا
” کال اٹھاؤ ورنہ مجھے مجھے آنا پڑے گا تمہارے پیچھے” اس نے پھر میسج کیا
” کہاں جا سکتی ہے وہ؟”
” وہ خدیجہ کی طرف گئی ہوگی” عارفہ نے کہا
وہ اس کے پیچھے گیا اور عارفہ بیگم پریشان انتظار کرنے لگی۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
(ماضی)
“ہم کہاں جارہے ہیں؟ حسان نے کہا
“مارکیٹ شاپنگ کرنے” مہروز نے کہا
“کیا شاپنگ رہ گئی جناب کی؟”
“تمہاری ہونے والی بھابھی کے لیے گفٹ لینا ہے”
” اچھا میں بھی کہوں ایسے کون سی شاپنگ رہ گئی”
حسان نے کہا
“یہی تو خاص شاپنگ ہے” مہروز نے شرارت سے کہا
“چل تو جاکر گفٹ خرید میں تب تک ٹیلر سے ہوکر آتا ہوں کرتا دیا تھا می نے” حسان کہ کر گاڑی سے نکل گیا
اور مہروز دوسری طرف چل دیا
اس کا رخ اورنجل جیولرز کی طرف تھا وہ فاطمہ کے لیے لاکٹ یا انگوٹھی لینا چاہتا تھا
“کیا آپ کے پاس ہر قسم کا اسٹون ہے؟”
” یس سر آپ کو کون سا چاہیے؟” شاپکیپر نے پوچھا
“کون سا چاہیے؟….فاطمہ کا پسندیدہ کون سا ہوگا؟….ایک منٹبتاتا ہوں” اس نے سیل نکال کر فاطمہ کا کل والا نمبر ڈائل کیا جیسے ہی نمبر ڈائل کیا شاپ سے ہلکی مدھم آواز آنے لگی لیکن اس نے دھیان نہیں دیا تھا کہ تھوڑے فاصلے پر کھڑی لڑکی کا سیل بج رہا تھا کال ڈسکنکٹ ہوئی اس نے پھر ڈائل کیا اس بار اس نے کال اٹھا لی
“جی مہروز صاحب کہیے کیا بے چینی لگی ہوئی ہے اپ کو”
وہ آہستگہ سے بولی
“دیکھیں فاطمہ میں آپ کے لیے رنگ پسند کر رہا تھا تو پوچھنا چاہتا تھا کون سا نگ اچھا لگے گا؟ ڈائمنڈ، نیلم، زمرد یا کوئی اور؟”
“نیلم” اس نے مختصر کہا
“ڈائمنڈ کیوں نہیں؟”
“ڈائمنڈ میں خود لے رہی ہوں”
“اوکے تو پھر نیلم؟”
“جی نیلم” وہ زرا زور دے کر بولی اور مہروز نے چونک کر اس لڑکی کی طرف دیکھا جس کے منہ سے نیلم سنا
“آپ کہاں ہیں اس وقت؟” اس نے جان بوجھ کر بات بڑھائی
“شاپنگ سینٹر میں” اس نے ہنس کر کہا اور فون بند کردیا
مہروز حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا جس نے اسٹائلش ے سوٹ پر بڑی سی چادر لی ہوئی تھی لیکن اس سے سمبھالی نہیں جارہی تھی کبھی پلو سرک جاتا کبھی کہی سے چادر ڈھلک جاتی چہرہ چھپانے کی کوشش بھی ناکام تھی
مہروز نے شک مٹانے کے لیے ایک بار پھر نمبر ڈائل کیا
اور اسی کا فون بجا وہ ہکا بکا کھڑا تھا وہ تیزی سے آگے بڑھا اس سے پہلے کچھ کہتا لڑکی کی چادر کا کونہ دروازے میں اٹکا اس کی چادر ایک بار پھر ڈھلک گئی۔
اس نے جلدی سے تصویر بنالی۔
“کیا چیز پسند کر کے گئی ہیں؟” اس نے سیلز مین سے پوچھا
“جی ڈائمنڈ لاکٹ تھا”
فاطمہ خود ڈائمنڈ لے رہی تھی اس لیے مجھے منا کردیا وہ اس کا نمبر بار بار ملانے پر مجبور ہوگیا اس نے ایک بار پھر ملایا نمبر۔
“جی کہیے” ربیع نے مسکرا کر کہا
“آپ فاطمہ ہی ہیں نا؟”
“آپ کو کوئی شک ہے؟” اس نے ہنسی دباتے ہوئے پوچھا
“نہیں ایسے ہی….” اس نے کہا
“اگر شک ہے بھی کل مٹ جائے ج
گا سارے بھید کھل جائیں گے بس کل کا انتظار کریں” ربیع نے کہااور فون بند کردیا مگر ایک بات سچ تھی اسے لڑکی ایک جھلک میں ہی بہت پسند آئی تھی
“کیا قیامت ڈھونڈی ہے”وہ دل ہی دل میں ماں کی پسند کو داد دینے لگا
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
ابھی ابھی گھر میں صوفی الیاس کی گاڑی داخل ہوئی تھی اس لیے گیٹ ابھی کھلا تھا اور ربیع کی گاڑی اندر آسانی سے آگئی۔
“بی بی جی! آپ کو گاڑی اندر لانے کی اجازت نہیں” چوکیدار لپک کر اس کی طرف آیا۔
“تم نے میرے لیے گیٹ نہیں کھولا میں خود اندر آئی ہوں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”. وہ کہتی اندر چلی گئی
“فاطمہ” اس نے سامنے صوفے پر کشن کور چڑھاتی فاطمہ کو پکارا۔
“ربیع؟” فاطمہ کھڑی ہوئی
“فاطمہ میں تم سے ملنے آئی ہوں، تم سے بات کرنا چاہتی ہوں، پلیز میرے دل پر رکھا بوجھ ہلکا کردو”۔
ربیع روہانسی کہتی فاطمہ کے قریب آئی۔
“میں تم سے کوئی بات نہیں کرناچاہتی۔”فاطمہ رخ موڑ گئی۔
“پلیز فاطمہ میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا بس ایک مزاق کیا تھا ،ایک شرارت کی تھی، بخدا میری اس میں کوئی پلاننگ نہیں تھی میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی نا جانے کیسے مجھ سے غلطی ہوگئی، میری غلطی معاف کردو۔ فاطمہ پلیز میں تمہاری وہی ربیع ہوں، جس کی آواز سن کر ہی تم خوش ہوجاتی تھی۔جس سے گھنٹوں باتیں کرکے بھی بور نہیں ہوتی تھی آج میری غلطی پر منہ مت موڑو۔ میں معافی کی درخواست گار ہوں میں بہت بری ہوں مگر تم تو اچھی ہو؟”
ربیع کہتے کہتے رو پڑی فاطمہ نے پلٹ کر دیکھا اس کے رخصار بھی بھیگے تھے
“فاطمہ تم اندر جاؤ” صوفی صاحب کی آواز آئی ربیع کا چہرہ زرد پڑ گیا فاطمہ کی اتنی جرات نہیں تھی کہ حکم نا مانتی۔ وہ اندر چلی گئی۔
“فاطمہ رکو” ربیع پیچھے لپکی۔
“آگے قدم مت بڑھاؤ لڑکی تمہارا اس گھر میں داخلہ منع ہے چوکیدار نے نہیں بتایا؟”
“میرا نام لڑکی نہیں ربیع ہے اور میں کوئی غیر نہیں آپ کی بھانجی ہوں”
“اس سے پہلے کہ میں تمہیں باہر چھوڑ کر آؤں تم خود ہی چلی جاؤں” الیاس صاحب نے غصہ سے کہا
“جو غلطی مجھ سے آپ کی کسی بیٹی سے ہوتی تب بھی آپ اسے گھر سے نکال دیتے؟”
“اگر ایسی حرکت میری بیٹی کرتی تو اس کا گلا دبا کر اسے قبر میں اتار دیتا یوں سوال جواب نہیں کرتا”
“مطلب آپ مجھے بیٹی نہیں بھانجی ہی سمجھتے ہیں اس سے بہتر تھا آپ مجھے قبر میں ہی اتار دیتے ایسے نفرت کی مار تو نا مارتے” وہ روتے ہوئے بولی
“میری بیٹی تمہارے جیسی ناہنجار نہیں دور ہوجاؤ میری نظروں سے” انہوں نے غصہ سے مارنے کے لیے ہاتھ ٹھایا
“آرام سے بات کریں صوفی صاحب یہ کوئی غیر نہیں ہمارے گھر کی بچی ہے” خدیجہ ممانی ربیع کے سامنے آگئی۔
“خبردار خدیجہ میری چار بیٹیاں ہیں اور عزت سے گھر میں رہ رہی ہیں اسے کہو جہاں سے آئی ہے وہیں چلی جائے میرے ضبط کو نا آزمائے”وہ غصہ سے دھاڑے
“ربیع۔۔ربیع۔۔؟” اس کے عقب سے مہروز کی آواز ابھری
“لے جاؤ اس کو یہاں سے” صوفی صاحب نے حقارت سے کہا
“لینے ہی آیا ہوں صوفی صاحب چھوڑنے نہیں آیا” مہروز نے آگے بڑھ کر ربیع کا ہاتھ پکڑا۔
“بیوی ہے تمہاری دھیان رکگا کرو کہاں آجارہی ہے” الیاس صاحب نے طعنہ دیا
” جامعہ مسجد کے امام کے گھر آئی ہے کسی کلب یا فحاشی کے اڈے پر نہیں گئی جو آپ مجھے دھیان رکھنے کا طعنہ دے رہے ہیں”
“زبان سنبھال کر بات کرو لڑکے ہمارا تمہارا کوئی واسطہ نہیں”
“آپ کی بیٹی سے شادی کرتا تو واسطہ ہوتا آپ کی بھانجی سے شادی کی ہے تو واسطہ نہیں رہا یہی بتانا چاہتے ہیں آپ؟۔۔۔۔۔اس سے میں نے عزت سے سارے خاندان کے سامنے باقاعدہ نکاح کیا ہے کوئی بھگا کر نہیں لے گیا جو سب نے واسطے ختم کردیے” اس سے پہلے جوابا الیاس کچھ بولتے وہ ربیع کا ہاتھ پکڑے اسے کھینچتا ہوا پلٹ گیا۔
“چھوڑو مجھے میں فاطمہ سے بات کر کے ہی جاؤں گی” اس نے چھڑوانے کی کوشش کی مگر وہ اسے کھینچتا ہوا باہر گاڑی تک لے گیا۔ فرنٹ ڈور کھول کر اسے اندر دھکیلا اور خود ڈرائونگ سیٹ سنمبھالی ساتھ ہی ڈرائیور کو فون کردیا کہ الیاس صاحب کے گھر سے گاڑی لے آئے
“تم کیوں آئے ہو؟” وہ مہروز پر بھڑکی
“اپنی بیوی کی خبر رکھنے اس کا دھیان رکھنے”
“یہ سب کیا دھرا تمہارا ہے”
“میرے کیے دھرے کا سبب تم ہو”
“کاش میں مر جاؤں”وہ دکھ سے بولی
“آئی ڈونٹ کیئر میں دوسری شادی کرلوں گا” اس اسے چھیڑا اور وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے رونے لگی۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
بہت دن ہو گئے تھے ربیع کی طرف سے خاموشی تھی کوئی شور ہنگامہ نہیں تھا پورا دن گھر میں گزار دیتی مہروز اس کی یہ روکھی پھیکی روٹین نوٹ کرچکا تھا آج اس کا ارادہ کہیں باہر اس کے ساتھ جانے کا تھا پر کچھ ہی دیر میں اس کے چچا اعصام کا فون اگیا تھا جو انہیں اپنے گھر ڈنر پر انوائٹ کر رہے تھے مہروز نے ہامی بھرلی۔
“اوکے بیٹا شام سات بجے تک پہنچ جانا گاؤں کا راستہ خراب ہے” انہوں نے تاکید کر کے فون بند کردیا۔
اس وقت چار بج رہے تھے وہ آفس سے سیدھا گھر آیا۔
عارفہ نے جلدی اتا دیکھ وجہ پوچھی۔
“آج ہم نے گاؤں جا نا ہے اعصام چچا کے گھر ڈنر پر” اس نے عارفہ بیگم کو بتایا اور سیڑھی چڑھنے لگا
وہ جب کمرے میں آیا تو وہ راکنگ چیئر پر جھولتی ہوئی نظر آئی۔
“اسلام علیکم”
“تم ٹھیک ہو”وہ صوفے پر بیٹےتے ہوئے بولا
“مجھے کیا ہونا ہے بڑی سخت جان ہوں”
“میں تم سے کچھ کہنے آیا تھا” وہ جانتا تھا کہ اسے ساتھ لے جانا کسی چوٹی کو سر کرنے برابر ہوگا
“میں بھی تمہارا انتظار کر رہی تھی” مہروز چونکا
“مجھے کہیں باہر لے چلو، میرا دل گھبرا رہا ہے” وہ شکستگی سے بولی
“کیوں طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟ یا پھر ڈاکٹر کے پاس لے چلوں؟” وہ اٹھ کر قریب آیا
“ڈاکٹر کے پاس نہیں بلکہ کہیں ایسی جگہ لے چلو جہاں مجھے میرے اپنوں کی یاد نا آئے بہت یاد آرہی ہے تھک گئی ہوں”
“تو پھر اٹھو اور تیار ہوجاؤ” مہروز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور وہ ناجانے کس کیفیت میں تھی چپ چاپ تیار ہونے چلی گئی مگر اس کی تیاری بس کپڑے تبدیل کیے اور بالوں میں برش کر کے آگئی
“بس؟” وہ حیران ہوا
“تو اور کیا؟”
“کوئی میک اپ وغیرہ کوئی جیولری؟”
“نہیں میرا موڈ نہیں”
“لیکن ربیع؟” وہ اصرار کرتے کرتے رکا
“اوکے ٹھیک ہے چلو” وہ خود بھی تیار ہوچکا تھا
مہروز سیڑھیاں اتر کر نیچے جا چکا تھا لیکن ربیع وہیں رک گئی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی اور تھوڑی دیر بعد جب وہ نیچے اتری تو مہروز کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی وہ بلیک کومبینیشن کی لونگ شرٹ اور پاجامہ پہنے میچنگ کی جیولری اور لپسٹک لگائے بہت خوبصورت لگ رہی تھی
“تھینک یو” وہ گاڑی میں بیٹھتے کہنے لگا
“میں دیکھناچاہتی ہوں تمہارا کہا مان کر کیسا فیل کرتی ہو؟”
“تو کیسا فیل ہوا؟”
“سچ پوچھو تو کچھ بھی نہیں کر رہی اس وقت بلکہ بہتدن ہوگئے فیل فیل کرنا چھوڑ دیا مجھے ایسا لگتا ہے میرا دل بند ہوگیا عجیب بے حسی آگئی ورنہ خود سوچو کبھی تمہارے کہنے پر یوں تیار ہوسکتی ہوں؟ یا بنا کہے ایسے تمہارے ساتھ کہیں جا سکتی ہوں؟”
اس نے بڑے آرامسے مہروز کی خوشی کو ملیا میٹ کردیا تھا
اس نے اسٹئیرنگ پر مکہ مارتے ہوئے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی
اور وہ باہر دیکھنے لگی
“تکلیف ہوئی سن کر؟”
“ہاں ہوئی ہے”
“اور مجھے جو اتنے عرصے سے ہو رہی ہے دن رات سکون نہیں ساری ساری رات جاگ کر گزارتی ہو اور تم سکون سے سوتے ہو سوچتی ہوں تمہیں کب درد ملے تم بھی جاگو تب تمہیں احساس ہو اس بوجھ کا جو میں اپنے ضمیر پر لیے پھر رہی ہوں”
“ربیع تم نے خوامخواہ اپنے اعصاب پر طاری کیا ہے یہ ورنہ جو ہوا قسمت تھی کب تک روگ لگا کر رکھوگی؟”
“ایک گلاس پانی پلادو مجھے پیاس لگی ہے”
وہ ٹشو سے پسینا پوچھتے کہنے لگی
وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا پانی کہا سے مل سکتا ہے؟ تھوڑے فاصلے پر پیٹرول پمپ تھا مہروز گاڑی سے اتر کر پمپ کی طرف گیا اور منرل واٹر لے آیا۔
“ربیع؟” اس نے گال تھپتھپایا
“ہوں؟”
“یہ لو پانی” اس نے بوتل دی وہ غٹاغٹ پانی پی گئی۔
“آر یو آل رائٹ؟”
“ہوں اٹس آل رائٹ”
“کیا ہوا تھا؟”
“بس یونہی دل گھبرا گیا تھا گرمی سے”
وہ گاڑی کا شیشہ نیچے کرنے لگی
“کیا یہ بہتر نہیں ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں؟”
” نہیں اب ٹھیک ہوں”
“کھانے کے لیے کچھ لو گی؟”
“نہیں البتہ جہاں جا رہے ہو ان کے لیے کچھ لے لو”
مہروز چونک گیا
“تمہیں کیسے پتا کہا جارہے ہیں؟”
“دن میں نشا اور نائمہ کی کال آئی تھی”
“اوہ تو تمہیں پتا تھا؟” اس کا دماغ پاگل ہورہا تھا یہ لڑکی اسے پل پل پاگل کر رہی تھی
“بس ایک تمہارا نہیں پتا تھا باقی تو سب پتا ہے” اس نے کہا اور آنکھیں موند لی
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
(ماضی)
گھر میں سب کی ملی جلی آواز ائی بارات آگئی بارات آگئی لڑکیاں پھولوں کی پلیٹ لیے گیٹ پر گئی ان میں ربیع بھی شامل تھی چہرے پر مسکراہٹ لیے
ملروز نے پہلا قدم اندر رکھا تو پھول نچھاور کرنے میں پہل بھی اسی نے کی وہ دم بخود رہ گیا اس کے قدم جم گئے یہ لڑکی؟ آخر ماجرہ کیا ہے؟
“فاطمہ؟”اس نے زیر لب کہا
” ربیع۔۔۔ربیع؟”
” یس مام؟”
“تمہیں اوپر فاطمہ بلا رہی ہے” سکینہ نے بتایا اور وہ پلیٹ ایک لڑکی کو تھما کر چلی گئی اور مہروز کی سماعتوں پر بم پھوڑے اسے چھوڑ گئی۔
پوری رات خواہشوں اور ارمانو سے سجے خواب جھوٹ اور فریب تھے مطلب یہ لڑکی کوئی اور ہے اور فاطمہ کوئی اور؟ اس نے مجھے بیوقوف بنایا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ دل میں تصویر سجائے صبح کا بے چینی سے انتظار کیا تھا اس نے تو پھر اب وہ فیصلے ڈے نہیں ہٹ سکتا تھا.
“اپنی بھابھی دیکھی تو نے؟” اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
“کون؟” حسان حیران ہوا
” وہ بلیک شرارے میں” اس نےربیع کو دیکھتے ہوئے کہا
” مگر وہ تو فاطمہ بھابھی نہیں کوئی اور ہے”
“بس یہی ہے اب” وہ مسکرایا اور حسان الجھا
“مام؟” اس نے پاس کھڑی عارفی بیگم کو بلایا
“جی بیٹا؟”
“وہ لڑکی کوںن ہے؟”
“وہ فاطمہ کی پھوپھو کی بیٹی ہے ربیع احمد لاہور سے آئی ہے” اس نے تعارف کروایا
“”آپ بیٹھیں میرے پاس” اس نے عارفی بیگم کو پاس بٹھا کر اطمنان سے اس کی سماعتوں پر بم پھوڑا۔وہ ہل کر رہ گئی۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
ماشاءاللہ اج تو چاند زمیں پر اتر آیا ربیع نے دلہن بنی فاطمہ کو دیکھ کر کہا
“دولہا بھی کسی چاند سے کم نہیں جوڑی کمال کی ہے” پاس کھڑی لڑکی نے کہا
سب ہی تعریف کر رہی تھیں
“فاطمہ فاطمہ غضب ہوگیا وہ۔۔وہ دولہا۔۔دولہا نے شادی سے انکار کردیا”رقیہ نے بم پھوڑا
“کیا؟” ربیع نے کہا
“ہاں وہ ۔۔وہ کہتا فاطمہ سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔وہ۔۔۔ وہ ربیع سے شادی کرنا چاہتا ہے”
“یہ کیا کہ رہی ہو؟” ربیع چکرائی
“ہاں نیچے سارے لوگ جمع ہیں اور ابا تو دولہا کو مارنے کے درپے ہیں” رقیہ کے حواس اڑے ہوئے تھے ربیع تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی
“اگر تم سچ کہ رہے ہو تو ہم اسے سزا ضرور دیں گے لیکن تم نے اگر غلط بیانی کی تو تمہارا سر قلم کردیں گے” الیاس صاحب نے غصہ سے کہا
ربیع کی ہوائیاں اڑ گئی
“ہائے یہ کیاہوگیا مجھ سے؟” وہ ساکت کھڑی تھی
“سکینہ بلاؤ اپنی بیٹی کو” انہوں نے اپنی بہن سے کہا
“جج۔۔۔جی بلاتی ہوں” سکینے ڈرائنگ سے باہر بھاگی
مگر ربیع دروازے پر ہی کھڑی تھی انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا
” ربیع چلو میرے ساتھ”
“مام؟” سکینہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی
” ادھر آؤ لڑکی” الیاس صاحب نے کہا
“جج ۔۔۔جی؟” وہ لرزتے جسم سے کھڑی تھی
“تم نے اس لڑکے کو کہا ہے کہ تم فاطمہ ہو؟”
“جی کہا تھا” وہ سر جھکائے کھڑی تھی
” تم نے اس کے ساتھ باتیں کیں؟” انہوں نے غصہ سے پوچھا
“جی کی تھیں مگر وہ صرف ایک شرارت تھی” اتنا سننا تھا کہ الیاس صاحب کا بھاری ہاتھ اس کے گال پر پڑا
“بے شرم یہ شرارت تھی تمہاری نظر میں؟” وہ دھاڑے
“ماموں جان اس میں میری کوئی بد نیتی نہیں تھی میں نے بس ایک شرارت کی تھی یہ سب محض ایک مزاق تھا بس” اس نے صفائی دی
“یہ مزاق تھا کسی نا محرم سے باتیں کرنا خود کو اس کی بیوی بتانا مزاق تھا تمہارے لیے؟”
“مجھ سے غلطی ہوگئی ماموں جان مجھے معاف کردیں” اس نے منت کی
“معافی کیسی؟ تمہاری سزا یہی ہے کہ تمہارا نکاح پڑھا کر تمہیں یہاں سے دفع کردیں” انہوں نے فیصلہ سنایا
” نن۔۔۔نہیں یہ نہیں ہوسکتا؟” اس کے حواس اڑ گئے
“احمد مرتضیٰ مولوی کو بلانا ہے یا تمہیں کوئی اختلاف ہے میرے فیصلے پر؟” انہوں سر جھکائے کھڑے احمد کو کہا
“نہیں پاپا مہروز فاطمہ کا نصیب ہے وہ دلہن بنی بیٹھی ہے وہ مرجائے گی” اس نے احمد کی طرف جاتے ہوئے کہا
“وہ میری بیٹی ہے صابر اور شاکر اور تو میں خود بھی نہیں چاہوں گا کہ اس لڑکا کا نکاح میری بیٹی سے ہو” الیاس صاحب نے حقارت سے کہا
“نہیں مام کچھ تو بولیے پاپا ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ” اس نے ماں باپ سے التجائیں کی مگر کسی نے نہیں سنی
وہ دونو تو شرم سے زمیں میں گڑنے کو تھے انہوں نے الیاس صاحب کے فیصلے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا
ربیع روتی رہی دھاڑے مار مار کر مگر کسی نے اس کی نہیں سنی اور مہروز بخت کے ساتھ اس کا نکاح کروادیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے دلہن بنا کر رخصت کردیا
ربیع کی آنکھوں میں دلہن بنی فاطمہ کی تصویر تھی اس کےا دل اور ضمیر بھری بوجھ تلے دبا تھا وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی مگر رخصتی کے وقت انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا اسے روتی بلکتی کو بھیج دیا
اسے سزا دے کر بھیج دیا گیا تھا اپنے سے دوری کی سزا قطع تعلق کرنے کی سزا ۔ وہ گاڑی سے پلٹ پلٹ کر دیکھتی رہی مگر کسی نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: