Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 5

0

شرارت از نبیلہ عزیز – قسط نمبر 5

–**–**–

 

“بھابھی” نشا لپک کر اس کی طرف گئی اور لپٹ گئی
“روز خواب میں دیکھتی کہ مہروز بھائی آپ کو لے کر ہمارے گھر آئے اور روز ٹوٹ جاتا” نشا نے خوش ہو کر بتایا
نشا اپنی عادت سے مجبور نان اسٹاپ شروع تھی
“اسلام علیکم بھابھی کیسی ہیں؟” نائمہ نے کہا
“ٹھیک ہوں آپ سنائیں” ربیع نے کہا
نزہت بیگم(مہروز کی چچی) نے ربیع کو ماتھے پر پیار کیا گلے لگایا چچا نے سر پر ہاتھ پھیرا
“بھابھی آپ اتنی پیاری ہیں بلکل پری لگتی ہیں” نشا نے ربیع کا ہاتھ چوما اور ربیع کتنے عرصے بعد کھلکھلا کر ہنس دی مہروز کے ساتھ سب نے چونک کر ربیع کو دیکھا
“دیکھ رہے ہو اپنی بہن کا کمال؟” اعصام چچا نے کہا
“جی دیکھ رہا ہوں اور اپنی بہن کو انعام دینے کو دل کر رہا ہے۔۔۔نشا”مہروز نے جیب سے والٹ نکالا
“جی بھائی؟” وہدور سے بولی
“یہ لو تمہارا انعام” اس نے ہزار ہزار کے نوٹ اس کی طرف بڑھائے
“کس چیز کا”؟
ساری بات نہیں پوچھتے بس رکھ لو”
“میں سمجھ گئی کیوں ملا ہے مجھے انعام” مہروز اس کی بات پر زور سے ہنسا
“آپ کی ہنسی پر ملا ہے انعامآپ تھوڑا اور ہنس دیں میرا کاروبار چل جائے گا” نشا نے کان میں کہا اور ربیع کی نظر کے ہاتھ پر گئی
“اگر میں کہوں یہ پیسے واپس کرآؤ میں تمہیں اس سے بھی زیادہ دوں گی” ربیع نے کہا
“نہ بابا نہ میں لوٹا نہیں جو پھر جاؤں”
“بڑی توتا چشم ہو یار”
“توتا چشم نہیں ہوں وفادار ہوں میرے بھائی نے دیے ہیں مجھے ایک کا بن کر رہنا چاہیے”
ربیع اس کی بات پرہنس دی تھوڑی ہی دیر میں موڈ ٹھیک ہوگیا تھا انہوں نے ہنستے مسکراتے ہوئے کھانا کھایا
“بھائی آپ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھیں اور بھابھی آپ میری ساتھ برتن سمیٹنے میں مدد کروائیں ” نشا نے لاپرواہی سے کہا
“نشا؟” نزہت نے کہا
“اٹس اوکے مما اب بھابھی ہمارا گھر کا ہی حصہ ہیں”
ربیع نے اس کے ساتھ برتن سمیٹے اور کچن میں رکھے
“بھابھی اپ چائے کا پانی چڑھائں تب تک میں یہ برتن دھو دوں” اس نے ایک اور کام سونپا
ربیع نے نا صرف پانی چڑھایا بلکہ چائے بھی بنا دی تھی
“چائے تیار ہے” ربیع نے کہا
“میں بھی تیار ہوں” نشا نے چائے کپ میں ڈالی
“آپ یہ لے جائیں میں بھی آتی ہوں” نشا نے کہا
اس نے ڈرائنگ روم میں جا کر سب کو چائے دی اور مہروز غش کھانے کو تھا کیا یہ وہیربیع ہے؟
“چائے” مہروز کی طرف ٹرے تھی
“بیٹھ جاؤ بیٹاتم” نزہت نے کہا
حاضرین چائے کیسی ہے؟” نشا نے پوچھا
“تعریف سننا چاہتی ہو؟” مہروز نے چھیڑا
“میں کیوں سنوں، سنے وہ جس نے بنائی ہے” اس نے ربیع کی طرف اشارا کیا۔
“کیا واقعی؟”
“اور کیا میں خود کریڈٹ دے رہی ہوں ان کو؟”
“تو پھر ایسا کرو اگر چائے بچی تھوڑی تووہ بھی لے آؤ میرے لیے” اس کی بات پر سب ہنس دیے۔
“میرا تودل چاہ رہا ہے نشا کو ساتھ لے جاؤں کم از کم میری بیوی تو خوش رہے گی”
“کیا آپ تماشہ کرنے والی بندریاسمجھا ہے؟” نشا نے یک دم کہا اور سب ہنس دیے
“چلیں”ربیع نے کہا
“ہاں” مہروزنے وال کلاکدیکھا
“کہاں جا رہے ہو؟” عصام نے پوچھا
“گھر ” مہروزنے کہا
“ٹائم دیکھ رہے ہو؟ رات یہیں رکو گے صبح ناشتا کر کے چلے جانا”
“لیکن چچا؟”
“بس کچھ نہیں سن رہا میں کل جاؤ گےبس کمرہ سیٹ کروادیا ہے جاؤ آرام کرلو”
“نشا جاؤ بھائی کو چھوڑ آؤ تھک گئے ہونگے”
وہ مہروز کو روم میں چھوڑ آئی
⁩⁦⁩⁦⁩⁦
رات کا جانے کون ساپہر تھا جب وہ کمرے میں ائی مہروز سو چکا تھا
وہ بھی لیٹ گئی تھوڑی ہی دیر میں انکھ لگ پھر صبح ہی کھلی اس نے آنکھیں کھولی تو وہ مہروزکے سینے سے لگی ہوئی تھی اسے یک دم کرنٹ لگا وہ جھٹکے سے اس کے حصار سے نکلی
“کیا ہواصبح صبح کرنٹ کیوں مار رہی ہو؟”
مہروزکہنی کے بل اٹھا بنا شرٹ کے اس کے مسلز نمایا ہو رہے کسی باڈی بلڈر کی طرح ربیع اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے گئی
“رات تم نے اتنی دیر لگا دی آنے میں میں تو سو ہی گیا”
مہروز بھی اس کے عقب میں آکر اس کے بالوں میں چہرہچھپانے لگا
“مجھے پتاہوتا تم ہمہشہ کے لیے سونا چاہتے ہو کب کی اجاتی”
“کیوں اپنے ہونےوالے بچے کو یتیم کر رہی ہو؟”مہروز نے پیار سے کہا
“بچہ؟” وہ حیران ہوئی
“تم کیا سمجھتی ہو تم مجھ سے یہ بات چھپا لو گی؟”
وہاس کے گال پر اپنےگام مس کرتے ہوئےکہنے لگا
“مم۔۔۔مگر ایسی توکوئی بات نہیں”
مہروز نے اسے اپنی طرف گھما کر اس کا رخ کیا
اس کا چہرہ تھام لیا
“اب میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو کہ ایسی بات نہیں؟”
تبی دروازے پردستک ہوئی ربیع ساکت کھڑی رہی وہ پلٹ گیا وہشخص وہبات بھی جان گیاتھاجووہاپنےآپ سے بھی چھپائےپھررہی تھی اسے کئی بار اپنی طبیعت پرشک ہوامگر اس نے ٹال دیا وہ شک پر یقین کی مہر نہیں لگاناچاہتی تھی۔ تھوڑی دیربعد ناشتہ کر کےوہ لوگ واپسی کےیے نکل گئے۔ اسے اپنی ماں شدت سے یاد ارہی تھی اس کے خاموش آنسوں بہ رہے تھے۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
اس نے گھر پہنچ کر گاڑی کا دروازہ خود کھولا اور اسے ہاتھ پکڑ کر اترنے میں مدد کی مگر وہ اس کا ہاتھ آگے بڑھ گئی۔
اس کا رخ بیڈ روم کی طرف تھا
“اسلام علیکم” اس نے عارفی بیگم کو سلام کیا
“وعلیکم اسلام ربیع کو کیا ہوا؟”
“شاید طبیعت ٹھیک نہیں”
کیا ہوا طبیعت کو؟”
“پریشانی کی بات نہیں خوشی کی بات ہے”
“رئیلی؟ سچ کہ رہے ہو؟” عارفہ چہک گئی
“آپ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں کنفرم کروالیں”
“ربیع اداس کیوں ہے؟”
“شاید گھر والوں کو مس کر رہی ہے اس موقع پر؟”
“تو کوشش کرونا اس کیامی ابا مان جائیں”
“ہوں کچھ تو کرنا ہی ہوگا”
“ہاں کوشش کرو مان جائیں گے انشاءاللہ”
“کہاں جا رہی ہیں؟” اس نے عارفہ کو جاتے دیکھ پوچھا
“تمہارے ڈیڈ کو خوش خبری دینے” مہروز مسکرا دیا
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“اپنی مام کو منا کردو مجھے نہیں جانا ڈاکٹر کے پاس” ربیع نے کہا
“مجھے تمہاری نہیں اپنے بچے کی فکرہے”
“مجھے ضرورت بھی نہیں تمہاری فکر کی”
“تو مجھے اپنے بچے کی تو کرنے دو؟”
“بڑی تکلیف ہو رہی ہےاپنےبچے کے لیے؟”
“بیوی کے لیے بھی ہو رہی ہے اف کیا حالبنا لیا ہے؟”
“تمہارا حال بھی اپنے جیسا ہی کردوں گی”
وہ نفرت سے بولی
“وہ تو تم کر ہی رہی ہو دن بھی برباد اور راتیں بھی یوں لگتا ہے شادی کو تیس سال ہوگئے مرد ہو کر بھی خود کو سمبھال کر رکھا کبھی بہکا نہیں سوچا مشرقی بیوی سے سب ارمان پورے کروں گا اور مشرقی بیوی ہاتھ تک نہیں لگانے دیتی یار جو رشتی مجھ پہ حلال ہے اسے حرام تو مت کرو؟”
“کیا چاہتے ہو؟”
“وہ سب جو ایک شوہرچاہتاہے”
“ہر شوہر زبردستیکانہیں ہوتا؟”
“ہر بیوی تمہاری طر ضدی اور غصیلی بھی نہیں ہوتی شوہر کے بڑے بڑے عیب ڈھانپ لیتی ہے”
“تم نے ڈھانپا تھا میرا عیب؟”
“معاف تو کرسکتی ہو نا؟”
“مجھے کسی نے معاف کیا؟ اس دن تم مجھے معاف کردیتے اب پھر تم کون ہو معافی مانگنے والے؟”اس کی آواز بھر آئی
“مطلب تم معاف نہیں کرو گی؟”
“نہیں” اس نے لب بھنچ لیے
“مہروز ربیع تیار ہے؟” عارفہ نے کہا
“نہیں اپڈاکٹر کو فون کر کے منع کردیں”
مہروز نے دو ٹوک کہا بریف کیس اٹھائے باہر آیا
“کہاں جا رہے ہو؟”
“لاہور”
واپسی کب تک ہوگی؟”
شاید کل”
وہ جواب دیتا باہر نکلنے لگا
“لیکن بیٹا وہ ربیع؟”
اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں”وہ ماں سے کہتا
باہر نکل گیا اس کے زہن سے ربیع کی باتیں نہیں نکل رہی تھی۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
پوری رات خالی بستر پر اسے نیند نہیں آرہی تھی اس کا دھیان مہروز کی طرف جا رہا تھا
“کیا مجھے اس کی عادت ہوگئی؟کیا وہ نہیں ہے تو مجھے بے چین ہوں؟ وہ اٹھ بیٹھی۔
کیا میں فاطمہ کوبھ گئ؟” ساری رات جاگ کر گزری
صبح جب انکھ کھلی تو اس کا سیل گنگنا رہا تھا
“ہیلو” مہروزبات کر رہا ہوں””
کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں”
“رات کیسی گزری میری یاد ائی؟”
“رات اچھی گزری ہے سکون سے تمہارا تو خیال بھی نہیں ایا”
“تم تو جھوٹ بھی سچ کی طرح بولتی ہو۔۔۔ لیکن اب میں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ہی مانو گا۔۔۔ میں آج ارہا ہوں مجھے بھی نیند نہیں ائی” اتنا کہ کر اس نے فون رکھ دیا
“مہروز بخت میں تمہیں دل سے یاد تو کرسکتی ہوں مگر معاف نہیں کر سکتی” اس نے خود کلامی کی اور گہری سانس لے کر رہگئ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: