Shararat Novel by Nabila Aziz – Last Episode 6

0

شرارت از نبیلہ عزیز – آخری قسط نمبر 6

–**–**–

 

“آج تمہارے چیک اپکی ڈیٹ ہے”وہ دراز سے فائل نکالتے ہوئے بولا
“جانتی ہوں”وہ بوں میں کنگھی کرتے ہوئے کہنے لگی
“تو پھرچلیں ٹائم ہوگیا؟”
وہ اس کے قریب آکر کھڑا ہوگیا اس نے اٹھ کر اپنے ارد گرد چادرپھیلا لی اور مہروزکے ساتھ باہر نکل گئی مہروز نے سیڑھیا اترنے میں مدد کی اس کا ہاتھ پکڑ کر۔
وہ اسے لے گاڑی تک آگیا ربیع لا جسم اب خاصا صحت مند لگا تھا، دو ماہ رہ گئے تھے اس کی ڈیلیوری کو اور اس کی ہر بات کا دھیان رکھتا چلنے پھرنے کھانے پینے اسے خیال رہتا تھا، ہر مہینے بعد چیک اپبھی ریگولر ہو رہا تھا،دوائیں بھی ٹائم پر دیتا۔اس نے ربیع کا خیالرکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“مہروز،مہروز؟” وہبہت دیر سے درد برداشت کر رہی تھی لیکن اس کی چیخ نکل رہی تھی اس نے مہروز کو پکار ہی لیا۔
“ربیع؟” وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور ہاتھ بڑھا کر لیمپ جلایا
“مجھے۔۔۔مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے” ربیع کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔
“تم ہمت سے کام لو میں مام کو بلاتا ہوں” وہ باہر نکلا عارفہ بیگم نیند سے اٹھ کر بھاگی آئی تھی۔ مہروز نے اسے گاڑی میں بیٹھایا۔ رات کے تین بجے اچھی خاصی افرا تفری ہوگئی تھی لیکن ایک گھنٹے بعد جب اس کی بیٹی کی خوشخبری ملی تو وہ ساری افراتفری بھول گیا اس کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا نرس نے بچی کو اس کی گود میں تھما دیا۔
“سوری آپ کی بیوی کی حالت خاصی خراب ہے ڈلیوری کے وقت ان کا بی پی لو ہو گیا تھا ان کا جسم بلکل بے جان ہوگیا تھا۔” مہروز کی ہوائیاں اڑنے لگی
“انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اٹھو حوصلے سے کام لو اور نماز کے بعد دعا کرنا چلو مسجد میں بھی جابرہا ہوں” فیروز نے کہا
فیروز نے بچی کے کان میں اذان دی اور مسجد چلا گیا مہروز بھی نماز پڑھنے چلا گیا مگر نماز پڑھ کر واپس بھی آگئے تھے مگر ربیع کو ہوش نہیں آیا۔ صبح ہوچکی تھی
عارفی نے گاؤں فون کر کے بھی بتا دیا تھا لیکن ایک ربیع کی فیملی تھی جنہوں نے فون سننا گوارا نہیں کیا
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
تم پہلے بھی دو بار آچکے ہواور ہمارا جواب انکار میں تھا آور آج بھی ہے” احمد مرتضیٰ نے سخت لہجے میں کہا۔
“پہلے جب آیا تھا تو حالات یہ نہیں تھے میں آپ کے پاؤں پکڑنےکو تیار ہوں، اسے معاف کردیں بس ایک بار کردیں، وہ آج تین دن سے ہسپتال میں ہے موت اور زندگی سے لڑ رہی ہے بلکہ یہ کہیں کہ لڑ ہی نہیں رپی وہ ہار رہی ہے وہ زندگی سے منہ موڑ رہی ہے،” مہروز کی آنکھوں میں آنسوں تھے زندگی میں پہلی بار وہ یوں رویا تھا اس کا صبر جواب دے گیا تھا اس مقامپر آکر وہ ہار گیا تھا پہلی بار احمد اسے دیکھ ٹھٹکے تھے اور سکینہبیگم تڑپی تھی۔
“کیا ہوا ہے اسے؟” اس کی ممتا کی تڑپ چھپی نا رہی
“پچھتاوا ہے اسے ۔۔۔اسے اپنی بیٹی تک کی خبر نہیں اسے مہروزبخت کا خیالنہیں، اسے فاطمہ کا خیال ہے، کاش میں اس دن فاطمہ سے بات کرنےکے لیے فون ہی نا کرتا ، میری ضد نے یہ نوبت لائی ہے اپنے ساتھ سب کا سکون برباد کردیا اور دو گھر تباہ کردیے۔ میں اس سے بھی زیادہ قصور وار ہوں آپ مجھےسزا دے دیں اسے معاف کردیں۔”
مہروز ہاتھ جوڑے کھڑا تھا
سکینہ بیگم شوہر سمیت اسے دیکھ کررہ گئی۔
“کون سے ہسپتال میں ہے؟” وہاس کی تکلیف کا سن کر پگھل گئے تھے۔ احمد نے گاڑی نکالی۔ وہ پہلے بھی ربیع کو بتائے بغیر ان سے معافی مانگنے ایا تھا مگر انہوں نے بے عزت کر کے نکال دیا تھا اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
چھ دن بعد وہ ہوش میں آئی اور اس کی نظر سب سے پہلے مہروز پر پڑی، اجاڑ ویران چہرہ کافی تھکا تھکا لگ ہی نہیں رہا تھا وہ مہروز ہے،ہر دم ایکٹو صاف ستھرا رہنے والا۔ وہ اس کی نظرخود پرمحسوس کرتا آگے سے ہٹ گیا اور پھر اس کی نظرسکینہاوراحمد مرتضیٰ پرپڑی۔
“مان؟” وہ زیرلب بولی جیسے خواب ہو۔
“میری جان میری بچی کیسی ہے؟” وہ لپک کر پاس آئی۔
“مام” اس نے انہیں چھوا۔
“ہاں یری جان میں ہی ہوں تمہاری مام” انہوں نے اس کی پءشانی پر بوسہ دیا
“ڈیڈ؟” اس نے احمد کی طرف دیکھا
“آ۔۔۔آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں؟” اس کی آوازبھر آئی
“ہم پھلےتین دن سے تمہارے پاس ہیں بس تم ہی آنکھیں بند کیے پڑی تھی”
“اور وہ؟” اس نے بے ساختہ پورے کمرے میں دیکھا اسے مہروزکہیں نہیں دکھا
“کون وہ؟ اپنی بیٹی کی بات کر رہی ہو؟”
“بیٹی؟” وہ چونکی
“جائیے احمد بچی کواندر لائیں اس نے تودیکھا ہی نہیں”
“مبارک ہو بھابھی” تبھینشابچی کواندرلےآئی
“نشا؟” ربیع اسے دیکھ خوش ہوئی
“جی میں نشا، اپکی صاحب زادی نے تھکا کر رکھ دیا” اس نے بچی کو ربیع کے پاس لٹا دیا تھا سب کمرے میں آگئے تھے۔
“ارے مہروز کہاں ہے؟”
“بھابھی کا صدقہ دینے اور شکرانے کے نوافل پڑھنے گئے ہیں” نشا نے جواب دیا
اور پھر سب ہنسی مزاق کرنے لگے۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
دوسرے دن اسے ڈسچارج کردیا گیا تھا اور ربیع گھر اگئی تھی
“بھائی بچی کا نام کیا رکھنا ہے؟” نشا نے کہا
“کیوں تمہیں سمجھ نہیں آرہا کیا؟”
“سمجھ تو کسی کو بھی نہیں آرہا کیا رکھیں؟” اس نے ربیع کی طرف ازارہ کیا
“اب سنجیدگی سے بتاؤ کیا نام رکھنا ہے بچی کا؟” فیروز بخت نے کہا
“وانیہ کیسا رہے گا؟”مہروز نے کہا
“اس کے معنی کیا ہیں؟”
“اس کے معنی اللہ کی طرف سے تحفہ”
“وانیہ مہروز بخت ہوں اچھا نام ہے رکھ لو” عارفی نے کہا
ربیع چپ چاپ کھانا کھاتی رہی پھرتھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد بچی کو لے کر بیڈ روم میں اگئی۔
“تمہیں بچی کا نام پسند نہیں آیا شاید؟” مہروز نے بچی سےکھیلتے ہوئے پوچھا
“میں ایسا کب کہا؟”
“تم کوئی نامبتا دو؟”
” وانیہ مہروز بخت” ربیع نے کہا اور مہروزمسکرا دیا
“ایک بات پوچھوں؟”
“تمہیں بات کرنے کے لیے اجازت کب سے لینے پڑی؟”
“جب سے تم نے انجان بننا شروع کیا”
“مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اگر کسی کی توجہ حاصل کرنی ہو تو اس سے انجان بن جاؤ مگر افسوس مجھے اب سمجھ آئی یہ بات جب میں اپنی ساری محبت کے خزانے لٹا چکا خیر حربہ تو اب بھی ضائع نہیں گیا”
اس نے شرارت سے کہا
“تم مجھ سے ناراض تھے؟” ربیع نے پوچھا
“,نہیں”
“تو پھر مجھ سے نظریں کیوں چرائے پھر رہے تھے؟”
“پشیمان تھا جب تمہیں تمہارے میں نے مام ڈیڈ کے ساتھ خوش دیکھا تو مجھے غلطی کا احساس ہوا کیو میں رشتوں میں دراڑکا سبب بن گیا۔؟”
“یہ سب قسمت میں لکھا تھا”
“تم مان چکی ہو اس چیز کو؟”
“ہاں لیکن فاطمہ نامی تیر میرے دل میں اب بھی چبھتا ہے یہ کسک ہمیشہ رہے گی”
“ادھر آؤ میرے پاس” مہروز نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا
اور وہ جیسے ہی قریب آئی مہروز نے اسے بازؤں میں گھیر لیا۔
“زندگی کے کسی نا کسی مقام پر یہ تیر بھی نکل جائے گابسدعا کیا کرو وقت بہت سی تبدیلیاں لاتا ہے…..اب تم خود کو ہی دیکھ لو پہلے قریب آتا تھا تو تم دور بھاگتی تھی اور دور بیٹا تھا تو خود ہی قریب اگئی” مہروز پٹری سے اتر گیا تھا
“کیا کہا؟” وہ چیخی
“یہی کہ میں اپنی بچی کو پیار کر رہا ہوں اور تم میری توجہ اپنی طرف سمت کروا رہی ہو” مہروز نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“تم نے خود مجھے قریب بلایا تھا”
“مجھے کب پتاتھا کہ تم آ ہی جاؤ گی؟”اس نے ہنسی دباتے ہوئے کہا
“مہروز بخت” اس نے مہروز کے بال دبوچے تب ہی وانیہ رونے لگی اور مہروز کا رومنٹک موڈ ہرن ہوگیا۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
“ربیع جلدی آؤ مہروز کا فون ہے” سکینہ بیگم نے آواز دی
“آرہی ہوں ” وہ لاؤنج میں آئی
“اسلام علیکم”
“وعلیکم اسلام کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں”
“کیا بات ہے موڈ کیو آف ہے؟”
“تمہاری لاڈلی نے میرا سیل توڑا ہے نیچےپھینک دیا”
“کوئی بات نیالے لیں گے جوتمہیں پسند ہوا۔۔۔۔۔اینی وے یہ بتاؤ گھر کب آرہی ہو؟”
“ابھی پانچ دن تو ہوئے ہیں”
“یار گھربہت خالی ہو گیا مام ڈیڈ بھی تم دونوں کو مس کر رہے ہیں”
“ہاں یہاں بھی مام ڈیڈ پھر مس کرنے لگتے ہیں” ربیع اپنے ماں باپ کے لیے اداس ہوئی
“تبھی تو کہتا ہوں نئے مہمان کی تیاری کرو،پھر ایک انکل آنٹی کے پاس رہے گاایک مام ڈیڈ کے پاس”
“اچھا پھر تم کہو گے ایک اور مہمان کی تیاری کرو جو ہمارے پاس بھی رہے”
“بہت تیز ہو تبھی تو میں تمہارے ہاتھوں بے وقوف بن گیا”
“اور اب میں بنتی ہوں بے وقوف تمہاری چکنی چپڑی باتو میں اکر” اس کی بات پر وہ ہنس دیا۔
“پھر گھر کب آرہی ہو؟”
“پاپا ائیں تو کہتی ہو سیٹ ریزرو کروادیں ” اس نے کہا ور فون بند کردیا
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
جہاز کے پرواز کرنے میں بہت ٹائم تھاابھی وہ وانیہ کوگود میں لیے بیگ ایک ساتھ رکھے بیٹھ گئی تھی
“مما وہبے بی؟” وانیہ نےاشارہ کیا
“ہاں چھوٹاسابھائی ہے” اسنے تھوڑے فاصلےپر کھڑے بچے کو دیکھا وہ بچی بھی وانیہ کو دیکھ رہا تھا شاید کھیلناچاہتا تھا
بالاخر وانیہ نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کھینچ لیا اور وہرو۔ےلگا
“اوہ ایم سوری یہ بس کھیلنے کی ضد کررہی ہے” ربیع نے گاؤن میں بیٹھی اسبے کیماں سے معزرت کی
“اٹس اوکے لیکن کبھی کبھی کھیل میں زندگی داؤ پرلگ جاتی ہے” ربیع کو حیرت ہوئی اس آواز نے ربیع کی سماعتو پر بم پھھوڑا۔
“فاطمہ؟” اس نے بے یقینی سے کہا
“فاطمہ یہ تم ہی ہونا؟”
“کوئی شک ہے؟”
“فاطمہ تم تم کہاں تھیں؟” ربیع کا لہجہ بھرا تھا پرانی باتیں یاد آگئی تھی
“میں نے بہت بار تم سے ملنے کی کوشش کی مگر خدیجہممانی نےبتایا تمہاری شادی ہوگئی تم کہاں ہو؟ کیسی ہو کچچھ نہیں بتایاجبسے مام ڈیڈ نے مجھ ملناشروع کیا ماموں نے ان سے واسطے ختم کردیے”ربیع نے کہا
“میری شادی ابانے اپنی مرضی سےکردی لیکن اللہ کا شکر ہے میں بہت ہوں اپنےشوہر اور بیٹے کے ساتھ پورانی کائی بات یاد نہیں رہی۔ شادی شدہ زندگی میں وقت نہیں ملتا سوچنے کا” فاطمہجانتی تھیربیع شرمندہ ہے
“ملتا ہے وقت جب جب لیٹتی ہو سونے کے نیند نہیں اتی آئی گی کیسے؟ سبیاد اجاتا ہم نے کبھی کسی کے جو بھی برا کیا ہو”
“ربیع بھول جاؤ پرانی باتیں میں بھی بھول گئی”
“میں اسبات کو چھوڑ دوں گی تم مجھے معاف کردو”
اس نے بہتے آنسؤں کے ساتھ ہاتھ جوڑ دیے
“میں نے تمہیں معاف کیا سچے دلسے ابا بے شک تم سے ناراض رہیں مگر میں نے معاف کردیا ہاں شروع شروع میں دکھ ہوا تھا لیکن جب سے شادی ہوئی ہے میں سمجھ گئی یہی قسمت ہے وہ تو میری قسمت تھی ہی نہیں میری قسمت تو یہ ہے وہ تو تمہاری تھی۔”
ربیع کے بلک بلک کر رونے پر سب اسے گھر رہے تھے
“ربیعسمبھالو خود کو” فاطمہ نے اسے گلے لگایا
“تھینک یو فاطمہ” اس نے فاطمہ کا ہاتھ چوما
اج اس نے کھل کر سانس لیا ضمیر کا بوجھ اتر چکا تھا
فاطمہ بہت خوش تھی اپنے شوہر کے ساتھ وہ کراچی میں ہوتا تھا اچھی فیملی تھی آج وہںاپنے ماں باپ سے ملنے ارہی تھی جب اسلام آباد ائیر پورٹ پر ان کی ملاقات ہوئی
وہ باہر آئی تومہروز کھڑا تھا
اس نے پلٹ کر فاطمہ کو دیکھا پھر آگے بڑھ گئی۔
“کسے دیکھ رہی ہو؟”
“فاطمہ کو”
“فاطمہ؟”
“ہاں آج اس نے مجھے زندگی بخش دی مہروز مجھے معاف کردیا”
مہروز نے خدا کا شکر ادا کیا
“اس بار لاہور جاکر تمہیں بہت مس کیا” ربیع نے اس کیے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا
“کیوں؟”
“بس پیار آرہا تھا تمپر”
“تو اب کرلو”
“نہیں اب گھر جا کر”
“تو جلدی چلو” مہروز نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی اور ربیع کھلکھلا کر ہنس دی اور ان دونوں کو ہنستا دیکھ وانیہ تالی بجانے لگی۔

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: