Blogs

شریک حیات کو عزت دو از تحریر ساحر مرزا

Written by Peerzada M Mohin

شریک حیات کو عزت دو از تحریر: ساحر مرزا

شریک حیات کو عزت دو از تحریر: ساحر مرزا

–**–**–
محمود یار تو میری بات نہیں سمجھ رہا …؟
تجھے کیوں لگتا ہے کہ میں غلط ہوں …؟
وہ پارسا کیسے لگتی ہے ؟ بتا …!
تو مجھے بچپن سے جانتا ہے … خود بتا میں ظلم کررہا ہوں…؟
معروف سخت غصے میں اپنا لہجہ دھیما رکھنے کی کوشش میں تقریباً چیخ رہا تھا۔
محمود صاحب …؟ سب خیریت ہے نا۔۔۔
معروف کی چلاہٹ سن کر محمود صاحب کی بیگم نے پردے کی اوٹ سے پوچھا۔
جی … جی … سب خیریت ہے … پریشان نہ ہوں۔
محمود صاحب نے بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔
یار کتنی دفعہ کہا ہے… بیٹھک میں آرام سے بات کیا کر … مطلب تو تو ہتھے سے ہی اُکھڑ جاتا ہے۔
معروف کو سمجھاتے ہوئے محمود صاحب نے پانی کا گلاس بھرنے لگے۔
یہ لے پانی پی اور تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچ۔
محمود صاحب نے معروف کو پانی دیتے ہوئے اس کا غصہ دھیما کرنا چاہا ۔
یار چھوڑ … چھٹی کا دن بھی ایسے ہی پریشانی میں برباد ہوتا ہے۔
چوری … اوپر سے سینہ زوری۔
مطلب بدتمیزی، جھگڑا، گھر کی توڑ پھوڑ وہ کرے اور پھر میں غصہ بھی نہ کروں۔
معروف پانی پیتے پیتے بھی بڑبڑاتا رہا۔
اچھا یار … ذرا آرام سے …!
تو غصہ مت کر … آرام سے بتا کیا ہوا ہے؟
محمود نے پھر سے معروف کے غصے کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔
وہی یار … صبح ہی صبح امی سے بحث … میں نے چپ کرانے کی کوشش کی تو مجھ سے بدتمیزی۔
یار یہ ساری فساد کی جڑ اس کی ماں ہے اور وہ اس کی چھنال بہنیں۔
یار تجھے کیا بتاؤں …!
وہ اس کتیا کے کان بھرتی ہیں … اور یہ میری جان کا عذاب بناتی ہے۔
مطلب کپڑوں کی خریداری سے میک اپ تک … او یار گھر کی چیزوں سے کھانا پکانے تک… امی سے بحث کرتے ہے… بچوں کو مارتی ہے۔
مجھ سے بدتمیزی … غصے میں برتن، موبائل مطلب جو ہاتھ میں ہے … توڑ دینا۔
یار … تجھے … میں کیا بتاؤں …؟
اس چڑیل نے زندگی عذاب کررکھی ہے۔
معروف کو پھر سے غصہ چڑھنے لگا تھا۔
اوے ایک منٹ … ایک منٹ … محمود نے اُسے ٹوکا۔
تیرا کہنے کا مطلب کہ تیری بیوی کسی اور کے اشاروں پر چلتی ہے، کوئی اس کے کان بھرتا ہے اور وہ ’’تجھ‘‘ سے، اپنے شوہر سے لڑتی ہے۔
او یار … تو رہن دے۔
تجھے نہیں سمجھ آنی … جو جس پر بیت رہی ہو وہی جانتا ہے۔
معروف نے محمود کی کو ٹوکا۔
نہیں … نہیں … نہیں ۔ ایک منٹ بات تو پوری سن نا۔ مطلب بیوی تیری … رہتی تیرے ساتھ ہے لیکن اس کے دماغ میں باتیں کوئی ڈالتا ہے۔
کوئی اس کے کان بھرتا ہے… اسے اپنی انگلیوں پر، اشاروں پر نچاتا ہے۔
معروف چپ … بس محمود کو دیکھے جارہا تھا … کچھ دیر تک خاموشی رہی … کتنے سال ہوگئے میری شادی کو …؟
محمود نے قدرے توقف سے پوچھا۔
سات سال سے زیادہ ہوگئے۔ معروف نے قدرے دھیمے لہجے میں کہا۔
تو سات سال تم لوگ ساتھ رہے… ایسے رشتے میں اور تو کہہ رہا ہے کہ اس کے کان کوئی اور بھر رہا ہے۔
وہ کسی اور کی بات کو تیری ذات سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
واہ …!
محمود اب قدرے سخت لہجے میں بول رہا تھا۔
یار … معروف… !
تجھے تو سمجھدار سمجھتا تھا میں … مطلب تجھے پتہ بھی ہے ۔
نہیں … ذرا سا انداز تو ہوگا۔
وہ تیری بیوی ہے … ’ـ’تیری بیوی‘‘۔
اور …
محمود گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
میاں بیوی کے رشتہ کیا ہوتا ہے … پتہ ’’ہے ‘‘ تجھے …؟ یا سات سال سے جھک مار رہا تھا تو۔
یار کیا ہے رشتہ …؟
گھر، گاڑی، کپڑے اور مطلب … کھانا اچھا کھاتی ہے؟
پیسے جب جتنے جس وقت چاہئے ہوں، کیا نہیں کرتا یار اس ڈنگر عورت کیلئے۔
معروف نے ٹوک کر سارے ’’احسانات‘‘ گنوائے۔
افسوس ہے یا معروف۔
تو تو ابھی تک شادی کے قابل نہیں ہے۔
محمود نے قدرے تأسف سے معروف کو دیکھتے ہوئے کہا۔ تو نے یہ تو ساری باتیں وہ گنوائی ہیں، جو تو ’’احسان‘‘ جتا رہا ہے، اس میں تیرا کیا کمال ہے …؟
یہ تو وہ ماں باپ کے گھر میں بھی تھی تو اسے یہ سہولیات و آسائشات میسر تھیں۔
تو بتا … تو نے شادی کرکے اُسے کیا دیا ہے … ؟
محمود یار تو نہیں سمجھ رہا …؟
معروف نے پھر سے بات پر بات چڑھاتے ہوئے کہا۔
معروف میاں … یہ تو ہوا اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔
بات اب آپ کے سمجھنے کی ہے، جس سے آپ کنی کترا رہے ہو۔
یار … تو اور بتا میں کیا کروں…؟
اور کیا دے سکتا ہوں میں …؟ جو کچھ ہے اُسی کا تو ہے۔
معروف نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔
تو اسے عزت دے تھوڑی سی… محمود نے سادہ لفظوں میں سمجھاتے ہوئے کہا۔
وہ تیری بیوی ہے …کیا …؟
’’بیوی‘‘
تیرے منہ سے دو جملے عزت و محبت والے اس کا حق ہیں، اس کی عزت تجھ سے لازم و ملزوم ہے۔
تیرے منہ سے جب اس کا ذکر سنا ہے … چڑیل، عذاب، بلا، حتیٰ کہ آج تو تُو نے اسے گالی بھی دے ڈالی۔
کبھی عزت سے، پیار سے اسکا ذکر سننے کو نہیں ملا اور تجھے یہ شکایت ہے کہ وہ تجھ سے بدتمیزی کرتی ہے۔
یاد رکھنا…!
تم اگر کسی کی غیر موجودگی میں اُس کی عزت کا جنازہ نکالو گے تو وہ تمہارے سامنے تمہاری عزت کی دھجیاں اُڑائے گا۔
یہ کھانا، روٹی، کپڑا، مکان، روپیہ پیسہ تو اسے ماں باپ کے گھر بھی میسر تھا۔
شادی کے بعد وہ تیری ذمہ داری، تیری زندگی کی ہم سفر، بلکہ تیری زندگی میں وہ شریک، شراکت داری ہے۔
شریک حیات کہتے ہیں ناہم… وہ تیری شریک حیات ہے۔ تیری زندگی کی نعمتوں کے ساتھ وہ تجھ سے عزت وتکریم کی بھی حقدار ہے۔
کبھی یہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا …؟
محمود نے معروف کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا۔
معروف چپ رہا۔
کمرے میں خاموشی چھاگئی۔
اور ہاں … یاد آیا…!
محمود اچانک سے بولنے لگا تو معروف نے چونکتے ہوئے اُسے دیکھا۔
کیا یاد آیا …؟
تو نے کہانا … کہ تیری بیوی اپنی ماں اور بہنوں کے اشاروں پر چلتی ہے…!
اب کے معروف نے نظریں چرائیں۔
تو حضور بیگم آپ کی … رہے آپ کے ساتھ … بات کسی اور کی مانے۔
محمود کا لہجہ طنزیہ ہوا۔
معروف صاحب!
کبھی اتنا حق، کبھی سوال کرنے کا مان ، کبھی حق جتانے کا بھرم، کبھی دل رُبائی کا لمحہ، کبھی اپنے رشتے کے سہارے کا، عزت اور محبت کا احساس دیا آپ نے …؟
یار کیسے کہہ لیتے ہو، وہ کسی اور کے اشاروں پر چلتی ہے…؟
محمو دنے بہت طنزیہ اور دُکھی لہجے سے پوچھا۔
معروف سر جھکائے بُت سا بنا بیٹھا رہا۔
چند لمحے جیسے بیٹھک میں سب کچھ ساکت وجامد رہا۔
معروف کے موبائل کی گھنٹی نے سکوت توڑا۔
معروف ہڑبڑا کر موبائل پکڑا ۔ محمود معروف کو ہی دیکھ رہا تھا۔
السلام علیکم!
جی … جی… میں محمود بھائی کی طرف تھا۔
بس پانچ منٹ میں اُٹھ گیا… بس آپ رُکئے… جی کھانا ساتھ کھائیں گے۔ فی امان اللہ
کال بند ہوئی … معروف نے موبائل کان سے ہٹایا۔
یار چائے کا کہہ کر آیا۔ محمود صاحب اُٹھ کر گھر کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھے۔
ارے نہیں … نہیں…
معروف نے اُٹھ کر تقریباً جھپٹتے ہوئے محمود صاحب کا بازو پکڑا۔
نہیں بس … میں جارہا ہوں… وہ فون آیا … دوپہر کا کھانا … وہ … اکھٹے۔۔
معروف کو بات مکمل کرنے میں جیسے مشکل ہونے لگی۔
اوئے کس کا فون… کیا ہوگیا ہے۔
معروف یار … بوکھلا کیوں گیا ہے…؟
محمود صاحب ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
او یار…!
تمہاری بھابھی کا فون تھا… انتظار کررہی ہیں۔
معروف نے شرمندہ سے لہجے میں کہا…
اور محمود صاحب نے قہقہہ لگائے ہوئے معروف کو گلے لگالیا۔

–**–**–
——
آپکو تحریر کیسی لگی؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: