Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 1

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 1

–**–**–

جلدی کریں رشید بھائی…..
جلدی کریں…..
بچے آتے ہی ہوں گے…..
وہ سیڑھیوں پر کھڑی تھی ….
باب کٹ بال سیفلیس شرٹ اور تخنوں سے اونچا پاجامہ اسٹائلش پرسنلٹی کی شخصیت (فریال باجوہ)……
جو فی الحال باجوہ خاندان کی اکلوتی بہو تھی….
ظفر باجوہ کی اہلیہ …..
بیگم صاحبہ میں کھانا تیار کر چکا ہوں….
شکریہ رشید بھائی…
وہوہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے….!!!
جو گھر میں داخل ہوتے ہی حسینہ کا دیدار ہوا ہے….
(مائی لو) مجھے پتہ ہے…. اب آپ کو کافی کی ضرورت ہے……
(ہاہاہا )کیا ظفر اپنی بیگم سے صرف کام کروانے کے لیے رومانٹک ہو سکتا ہے….!!!!
جی بلکل باجوا صاحب عموما تو آپ ایسا ہی کرتے ہیں……
مگر ابھی میں کچھ نہیں کروں گی….
میرے بچے اسکول سے آتے ہوں گے….
اور آپ کو پتا ہے ان کو آنے کے ساتھ ہی کتنی بھوک لگتی ہے……
. تمہیں پتا ہے فریال صفدر ارسلان کی بہت تعریف کر رہا تھا…….
کہہ رہا تھا……
ارسلان بہت اچھا اور تمیز دار بچہ ہے اور وہ کافی متاثر ہوئے ہیں ارسلان کی شخصیت سے کافی پر اثر ہے وہ……
ہاں ارسلان سے یاد آیا اس کا کمرہ صاف کیا رشید بھائی……..!!!!
رشید دراصل (chef) تھا…..
اس لیے ہر کام کے لیے رشید کو طلب کیا جاتا تھا….
جی بیگم صاحبہ…???
آپ نے ارسلان کا کمرہ صاف کرایا…. ???
رشید بھائی آپ کو تو پتا ہے وہ صفائی کا کتنا خیال کرتا ہے……
جی جی بیگم صاحبہ میں نے صاف کرا دیا ہے….
آپ فکرمند نہ ہوں…..
ارسلان تو روم کے فرنیچر کو بھی انگلی لگا کر چیک کرتا ہے ……
کہ کہیں مٹی نہ ہو…..
اور ایک آپ کا نالائق بیٹا…..
وہ نواب تابی صاحب ان کا تو حال کوئی نہیں پورا گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں …….
(ہاہاہاہا) ارسلان تو بہت اچھا بچہ ہے….
ہاں واقعی بھائی بھابھی نے اس کی تربیت بہت اچھی کی تھی …..
کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی وہ بگڑا نہیں …..
بس اللہ تعالی بھائی اور بھابھی جان کو جنت میں بلند مقام دے ……(آمین)…..
ظفر باجوہ نے سنجیدگی سے کہا ….
اور ظفر صاحب ایک آپ کا بیٹا ہے پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ا…..!!!!!!
(اتنا اچھا ہو)…..
وہ بات کاٹتے ہوئے اندر آیا…..
ہاہاہاہا ……
میرا شیر ظفر باجوہ نے تابی کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا……
تابی بیٹا گھر آ کر سلام کرتے ہیں…..
فریال بیگم نے سنجیدگی سے کہا مگر تابی نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی……..
تابی کے کولر کھڑے ہوئے تھے یونیفارم کی آستینیں کوہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں……
بال چہرے پر بکھرے وہ لاپرواہی سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا …..
تابی نے اپنا بیگ اٹھایا اور کمرے کی طرف جانے لگا …..
اسلام علیکم…..
وہ نرمی سے سلام کرتا اندر آیا ارسلان بیٹا کیسے ہیں….
( اس کی پیدائش کینیڈا کی تھی…..
آٹھ سال تک ماں باپ کی چھاؤں میں حسین زندگی گزارنے والا ارسلان …….
جو آٹھ سال کی عمر میں ماں باپ جیسے حسین ہستیوں کے سائے سے محروم ہوگیا ……
ایک کار ایکسیڈنٹ نے جیسے ارسلان کی زندگی تباہ کر دی…….
کچھ ماہ بعد وہ آٹھ سالہ ارسلان باجوہ اپنے چچا چاچی کے پاس پاکستان آیا ……
جو پچھلے چھ سال سے پاکستان میں اپنے چچا چاچی کے پاس تھا …….
وہ خاموش مزاج بس اپنی دنیا میں مگن رہنا …..
اس کی سرمئی آنکھیں وہ روب دار مزاج کا مالک فٹبال اور بیشک قیمتی گاڑیوں کا شوقین 16سالہ ارسلان اس کے اندر ایسی کوئی عادات نہیں تھی جو اس کی پراثر شخصیت کے خلاف تھی………
ہاں مگر….. مگر….. ارسلان باجوہ کی ایک کمزوری اس کا غصہ ……
وہ کبھی کسی کی غلطی نہیں برداشت کرتا تھا …..
وہ چاہے پورا دن خاموش بیٹھا رہے……
مگر اگر کوئی اس کے خلاف بولتا تو وہ 14 سالہ ارسلان باجوا اتنی جرت رکھتا تھا کہ اس کا منہ توڑ دے مگر فی الحال ابھی ایسی کوئی نوبت آئی نہیں تھی)………
میں ٹھیک ہوں فریال چاچی تھوڑا تھک گیا ہوں….
اچھا آپ چینج کریں گے یا میں کھانا لگوا دوں …..???
میں پہلے کھانا کھاؤں گا …..
بہت بھوک لگی ہے …..
چلو ٹھیک ہے ……
فریال انی….. فریال انی……
حریم بھاگتی ہوئی ہاتھ میں مارک شیٹ لیے فریال بیگم کے پاس آئیں…..
وہ کشمیری گڑیا کسی تعریف کی محتاج نہیں تھی…..
( اس کی والدہ دراصل کشمیر سے تھی اس لیےحریم کا رنگ روپ چہرا نقش سب کچھ کشمیرو والا تھاحریم نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو وہ ماں کے سائے سے محروم ہو چکی تھی حریم اور رشید دونوں باجوہ ولا کے ایک کوارٹر میں رہائش پذیر تھے ظفر باجوہ اورفریال باجوہ کی کوئی بیٹی نہیں تھی اس لیے جب حریم نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو حریم کی تمام تر ذمہ داری ظفر باجوہ نےاٹھائی وہ دونوں حریم سے بے انتہا پیار کرتے تھے ظفر باجوہ اور فریال باجوہ حریم کی تعلیم کے معاملے میں بھی کافی سنجیدہ تھے اس لیے شہر کے ایک اچھے اسکول میں حریم کو تعلیم دلوا رہے تھے)………
دیکھیے فریال انی حریم نے کتنے اچھے نمبر لیے ہیں…..
اور آپ کو پتا ہے سب بچوں نے حریم کے لیے تالیاں بھی بجی……
حریم معصومیت سے اپنی مارک شیٹ فریال بیگم کے چہرے کے مقابل کے کھڑی تھی …….ا!!!!!
ارسلان نے ایک ترچھی نگاہ حریم پر ڈالی ….
جو مارک شیٹ ہاتھ میں پکڑے ایسے مسکرا رہی تھی جیسے کسی قانون کا خزانہ اس کے ہاتھ لگا ہوں…..
حریم دیکھنا تم بھی ایک دن ارسلان کی طرح بہت سی ٹرافیز جیتوگی……
ارسلان ایسے بیٹھا تھا …..
جیسے اسکو کسی کی آواز ہی نہیں آرہی تھی…..
نہیں جی مجھے نہیں چاہیے ٹرافیز…….
ارے کیوں…. حریم ……!!!!????
دیکھیں تو انی ارسلان بھائی تو ٹرافیز جیتنے کے بعد بولنا ہی بھول جاتے ہیں …..
( کیا مطلب ہے تمہارا)….
ارسلان نے سنجیدگی سے حریم کو دیکھتے ہوئے کہا…..
میرا مطلب ہے کہ آپ تو بولتے ہیں نہیں ہیں…..
تو پھر ابھی میں کیا بول نہیں رہا……
نہیں میرا مطلب ہے…..
تم اپنے مطلب اپنی حد تک ہی رکھو……
یہ کہتے ہوئے ارسلان نے ایک بار پھر نظر موبائل میں جمائی ……..
(لان کا تھری پیس سوٹ 400 میں سیل ہوگیا )….
تابی نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے حریم کو دیکھ کر اس کا مذاق اڑایا……
تابی بھائی ایسے کسی کا مذاق نہیں اڑاتے….
اللہ تعالی آپ کی زبان کالی کردےگا…..
حریم نے منہ بسورتے ہوئے کہا….
اوئے لان کے تھری پیس سوٹ میں تمہارا کوئی بھائی بھائی نہیں ہوں سمجھیں…….
نہ بنے مجھے بھی آپ کی بہن نہیں بننا…..
ہاہاہا تو ہمیں بھی تمہارا بھائی نہیں بننا…..
اب جاؤ یہاں سے …..
______________________________________________
حریم اداس ہو کر کچن میں آئی…..
ابا….
ہاں بیٹی…..
ابا کھانا کیوں بناتے ہیں…..
کھانا تو امی بناتی ہیں نا….
بابا تو نہیں بناتے…
.. ہاہاہاہا اللہ کی رحمت پتا ہے….
ہم مردوں کو اللہ نے حکم دیا ہے….
کہ اپنے گھر والوں کو ہم نےپالنا ہے……
مگر ابو کھانا بنا کر کیوں پالتے ہی…..
نہیں آپ دیکھیں نہ تابی بھائی کے ابو بھی تو کام کرتے ہیں اور دیکھیں اتنی بڑی گاڑی میں بیٹھتے ہیں …….
اللہ کی رحمت پتا ہے وہ پڑھے لکھے ہیں مگر میں نے کچھ نہیں پڑھا مجھے دنیا کے طور طریقوں کا کوئی علم نہیں……
رشید کی بات سن کر حریم کی آنکھیں چمک اٹھیں …..
اس کا مطلب ہے بھائی کے ابو کی طرح تعلیم حاصل کرکے اتنا بڑا گھر اور بڑی گاڑی لونگی……
ہاہاہاہا ہاں اللہ کی رحمت انشاءاللہ …….
تابی….. تابی……. ارسلان تابی کو آواز دیتا اس کے کمرے میں آیا ……
مگر تابی وہاں نہیں تھا…..
ارسلان کو کافی تشویش ہوئی کیونکہ……
چاچاچاچی نے جاتے ہوئے کہا تھا….. کہ ……
وہ اپنے روم میں سو رہا ہے…..
اور اب تقریبا ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے…..
اتنی رات وہ کہاں گیا ہوگا……
تبھی ارسلان باہر لان میں گیا….
جہاں حریم گھاس پر بیٹھ کے آسمان کو دیکھ رہی تھی…….
ارسلان نے اس کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی اور اس کے قریب گیا……
حریم….. حریم………
حریم آسمان کو دیکھ رہی تھی…..
وہ شاید سوچ میں گم تھی…..
ارسلان گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا ……
اور سنجیدگی سے بولا …..
حریم …..جی ارسلان بھائی وہ ایک دم چونکی ……
تمہیں کچھ پتہ ہے کہ تابی کہا ہے …..?????
حریم نفی میں سر ہلایا…..
اچھا ٹھیک ہے میں اس کے دوست کے گھر جاتا ہوں ….
تم اگر چچا چچی آئیں تو ان کو کچھ نہیں بتانا….
مگر آپ اکیلے جائیں گے ….
تو فریال انی غصہ ہو گئی……
تم یہ باتیں مجھ پر چھوڑ دو ….
.جتنا کہاں ہے اتنا کرو ……
صحیح ہے…..
اس نے معصومیت سے سر نیچے کرتے ہوئے کہا …..
ارسلان اٹھ کر جانے لگا …….
مگر ایک خیال اس کے دماغ میں آیا…..
میں ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ جا رہا ہوں ….
اکیلا تو ویسے بھی نہیں جا سکتا ……..
8سالہ لڑکی مقابل کھڑ14 سالہ لڑکے کو دیکھ کر مسکرائی…….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: