Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 10

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 10

–**–**–

وہ پارکنگ ایریا میں کھڑا پچھلے دس منٹ سےتابی کو فون کر رہا تھا ……
جس کا فون مسلسل بزی جا رہا تھا……
ارسلان باجوہ پاکستان کے رستوں سے واقف نہیں تھا……
ارسلان باجوہ کو اب کافی غصہ آ رہا تھا…..
جب اس کی نظر سامنے سے آتے تابی پر گی جو بھاگتا ہوا ارسلان کے پاس ہی آ رہا تھا…..
ایک ہاتھ سینے پر باندھا جبکہ ایک ہاتھ منہ پر رکھا ارسلان کے چہرے سے صاف واضح تھا……….
کہ وہ شدید غصے میں خود کو قابو کر رہا ہے …..
بھائی خیر تو ہے نا …….
تابی بوکھلایا ہوا تھا شاید وہ اندر ہونے والے واقعے سے واقف تھا…..
تابی کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں…..
اور ہاتھوں کی انگلیوں پر نیلے رنگ کے نشانات تھے…..
ارسلان نے لہجہ ضبط کرتے ہوئے تابی سے پوچھا……
تم نے (axid) ڈرگس کا استعمال کیا ہے …!!!
اسپوٹ انداز میں سوال کیا گیا تھا……
واہ …نہ …..نہیں …..
تابی نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا …..
دراصل بھائی ….
وہ اندر کافی ٹھنڈ تھی….
یہاں گرمی ہے….
اس لیے شاید ……
ارسلان باجوہ چند منٹ خاموش رہا…..
پھر تابی کو گردن سے جکڑا……
اہ بھائی کیا کر رہے ہیں….!!!
بھائی …..!!!!
تم نے مجھے پاگل سمجھا ہے….!!!
ہاں.. کیا گاؤں میں رہتا ہوں….!!!
میں جو تم مجھے پاگل بنا رہے ہو بے…..
بوقوف سمجھا ہے……!!!
کیا میں جانتا ہوں تابی تم نے ڈرگ لی ہے…..
یہ کہتے ہی ارسلان نے تابی کو ڈھکادیا……
تابی پہلے ہی نشے میں تھا…..
اس کو ارسلان کے باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی ……..
ارسلان نے تابی کی جیب سے گاڑی کی چابی لی……
اور گاڑی میں آکر بیٹھا……
گھر کیسے جایا جائے!!!!!!
تبھی ارسلان نے فون اٹھایا تقریبا رات کے چار بج رہے تھے……
ظفر چاچا کو تو فون کرنا نہیں ہوگا……
حریم ہاں اس کو کال کرتا ہوں ……
تین چار بیل جانے کے بعد فون ریسیو ہوا …..(اسلام علیکم)…..
وہ نازک سی آواز تھی…..
ہاں …
(وعلیکم اسلام حریم )تم سو رہی تھی!!!!!
نہیں …تہجد کے لئے اٹھی تھی…..
آپ نے مجھے کیوں کال کی …..!!!!
تم مجھے گھر کی لوکیشن سینڈ کر سکتی ہو……….!!!!
جی کر تو سکتی ہوں……
مگر کیا ابھی چاہیے !!!!!!!!!!!
ظاہر ہے اس وقت کال کی ہے….
تو ابھی ہی چاہیے ہوگی……
کر سکتی ہو….. ہاں کے نہ……
اچھا اچھا کرتی ہوں……
ہر وقت سڑے رہتے ہیں …..
وہ منہ میں بربرائی…..
ہلکہ ارسلان سن چکا تھا …..
ویسے تمہاری زبان بھی کینچی کی طرح ہی چلتی ہے ……
کینچی کی طرح نہیں……
ارسلان بھائی انسانوں کی طرح چلتی ہے……….
آپ کے پاس زبان ہے مگر آپ اس کو سائیڈ پر سجا کر رکھتے ہیں……..
اس لئے آپ کو لگتا ہے کہ جیسے میری زبان یا بلکہ ہر کسی کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے………
اگر تمہارا ہوگیا ہے……!!!!
تو مجھے ایڈرس سینڈ کر دو…….
(بائے)…..
ہر بار کی طرح اس بار بھی جواب سنے بغیر فون رکھ دیا گیا……
حریم نے حیرانی سے فون کو دیکھا …..
تو لائن کٹ چکی تھی……
یا اللہ حد نہیں ہوتی…..
ہر وقت ان کی سونڈ گرم رہتی ہے …..
مدد بھی مجھ سے چاہیے…..
اور تو اور اکڑ بھی مجھے دکھا رہے ہیں……
حریم نے غصے میں لوکیشن سینڈ کی……
اور سٹڈی میں چلی گئی …..
____________________________________________
کچھ دیر بعد ……
ارسلان گھر پہنچ گیا تھا …..
ابھی سب سوئے ہوئے تھے……
ارسلان اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا………………
جب اس کو کسی کے رونے کی آوازیں سنائی دیں……
. وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتے ہوئے کمرے میں گیا……..
تو وہاں زمین پر رشید بیٹھا رو رہا تھا…….
شاید انہوں نے ابھی نماز ادا کی تھی……
ارسلان چپ چاپ دروازے پر ہی کھڑا رہا……………
اے پروردگار …..
میں نے حریم کی تربیت ایسی تو نہ کی تھی……….
یا اللہ… وہ غلط نہیں ہے ….یا سہی ….
میں نہیں جانتا ……
مگر آنکھوں سے دیکھا ہے …..
پروردگار اس کو …..
یا اللہ اس پر اپنا کرم فرما…..
ارسلان رشید کے پاس آکر بیٹھا ……
کیا ہوا انکل….!!! آپ رو کیوں رہے ہیں…..!!!
ارسلان رشید کے کندھوں پر ہاتھ رکھا…….
وہ جو نظریں جھکائے بیٹھے تھے …..
بمشکل اتنا ہی کہہ سکے ……
……….(حریم)…..
کیا ہوا انکل حریم کو …..!!!!
میری ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس سے بات ہوئی ہے …..
وہ ٹھیک ہے…..
آپ نہ پریشان ہو…..
بیٹا میری اوقات نہیں اتنی……
التجا ہے تم سے…..
وہ ارسلان کے آگے ہاتھ جوڑ نے لگے…..
ارے انکل یہ بھلا کیا کر رہے ہیں آپ……
آپ…. نیچے کریں…..
ارسلان نے ان کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے………….
میرے بعد کیا میری حریم کی حفاظت کرو گے……
بیٹا اگر میں نہ رہا تو کسی اعتبار کے قابل شخص کے حوالے جلد از جلد کر دینا……..
اس کو لڑکیوں کی عزت بہت نازک ہوتی ہے………..
میرے بعد اس کا یہاں کوئی محرم نہیں ہوگا……..
یہ ایک باپ کی التجا ہے بیٹا…….
اس کو صحیح ہاتھوں میں سپرد کر دینا ………..
میری روح کو تب سکون ملے گا….
انکل آپ مایوس نہ ہو……
اللہ بہتر کرے گا …..
آپ میرے ساتھ یہاں بیٹھے…..
لیٹے ادھر…..
سو جائیں …..
ارسلان نے رشید کو بستر پر لٹایا……
اور چادر ٹھیک کی…..
اب آپ سو جائیں انکل..
آرام کرے سب ٹھیک ہے…..
ارسلان کچھ دیر کھڑا ان کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا …….
کچھ دیر بعد ارسلان کمرے سے باہر نکلا…..
تو حریم کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی………………..
ارسلان نے اشارے سے حریم کو روکنے کے لیے کہا……..
کیا ہوا ارسلان بھائی…..!!!!
میرے ساتھ چلو……..
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے……..
مجھ سے بات کرنی ہے….!!!
ہاں تم سے ہی مخاطب ہوں …..میں….
حریم میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں…..
تو تم سے ہی بات کرنی ہے……
اچھا میں ابو کو دوائی دے دو…….
یہ کہہ کر حریم آگے بڑھنے لگی……..
جب ارسلان نے اس کو روکا……
انکل سو رہے ہیں…….
ان کو ڈسٹرب نہیں کروں…..
ہاں مگر مجھے ان کو دوائی دینی ہے……
دے دینا جب اٹھیں جائیں……
ابھی چلو …….
ارسلان بیٹا آپ یہاں ہیں…..
ظفر آپ کو یاد کر رہے تھے ……
چاچی آپ جلدی اٹھ گئی …..
ہاں وہ ظفر نہیں اٹھایا ہے…..
ان کی امپورٹنٹ میٹنگ ہے ……
اچھا میں ذرا فریش ہو کر آتا ہوں …..
حریم تم جاؤ……
میں تم سے تو بعد میں بات کرتا ہوں…….
_____________________________________________
صبح نو بجے …..
وہ ڈریسر کے سامنے کھڑا…..
کف ٹھیک کر رہا تھا …..
ہلکی شیف ,گلابی ہونٹ, سرخ سفید چہرہ, سرمئی آنکھیں,. چوڑا سینا ,دراز قد, بھرا جسم,
وہ دی گریٹ ارسلان باجوہ……
آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا…..
وائٹ شرٹ…. بلیو جینز….. بلیو ویس کوٹ………
ہاتھ میں(ARMANI) کی گھڑی…(D.K.N.Y) سے مہکتی خوشبو…….
روم کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا……
….. جی….
. سر کافی….
جی وہاں رکھ دو……
وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے ظفر باجوا کے کمرے میں گیا …..
جو نیوز دیکھ رہے تھے……
آئے آئے (اربی) آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا ……..
کدھر تھے تم …..!!!!
میں فریش ہونے گیا تھا …..
اچھا تو کیسی رہی تم دونوں کی پارٹی!!!!!!
وہ نواب زادہ تو اب تک گھر نہیں آیا ……………
پارٹی کا نام سنتے ہی ارسلان نے سنجیدگی سے ٹانگ پر ٹانگ رکھیں…….
میں اندر آجاؤ…..
حریم نے گلابی شرٹ….
اور سٹریٹ ٹراوزر پہنا ہوا تھا…..
وہ کشمیری گڑیا دوپٹہ نفاست سے پھیلائے بال کانوں کے پیچھے کرتی …..
وہ ٹی مگ لیے اندر آئی ……
جب نظر گئی ارسلان پر…..
تو ….ہائے …..محترمہ کے قدم ہی رک گئے…………
آف وہ کس قدر ہینڈسم لگ رہا تھا……
بلیو اور وائٹ کلر میں…….. جیسے کہ رنگ بنے ہی ارسلان باجوہ کی شخصیت کے لئے ہو ……….
کیا کوئی مرد اتنا اسمارٹ اور ہینڈسم بھی ہوسکتا ہے …….
حریم کے لب پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی………
وہ مسلسل ارسلان کو دیکھ رہی تھی…….
کہ جیسے اس کے حصار میں گم سی ہو گئی ہو……..
تبھی ایک آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی…………
…..( حریم )…..
تم ٹھیک تو ہو !!!!!!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: