Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 11

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 11

–**–**–

(حریم) ……
ایک سنجیدہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی…..
جب اس نے سر جھٹکا ……
ظفر باجوہ اور ارسلان باجوہ دونوں حریم کو دیکھ رہے تھے………..
شرمندگی کی ایک لہر حریم کے وجود میں دوری…
بیٹا کیا ہوا…..!!!!!
آپ ٹھیک تو ہے …….!!!!
اہ …..میں ………
مجھے لگتا ہے حریم تم رات ٹھیک سے سوئی نہیں ہوں…………
ارسلان نے حریم کو دیکھتے ہوئے طنز کیا …….
وہ بچاری پہلے ہی شرمندگی سے نظر جھکائے کھڑی تھی………
ارسلان نے ترچھی نگاہ اس پر ڈالیں…….
پھر واپس ظفر باجوہ سے مخاطب ہوا ……
حریم ٹی مگ سائیڈ پر رکھ کر وہی بیٹھ گئی……
چچا آپ کچھ کہہ رہے تھے….!!!
ہاں بیٹا…..
میرا اور تمہاری چاچی کا خیال ہے کہ…….
تم ہر طرح سے مضبوط ہو ……
اپنا کاروبار کرتے ہو…….
ایجوکیٹ ہو ……
ینگ ہو …..خوبصورت ہو ……
اب وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے …….
تمہیں اب کسی ہمسفر کی ضرورت ہے………
کیا مطلب چچا…….!!!!
ارسلان نے ابرو اچکآئی…….
حلانکہ وہ سمجھ رہا تھا …….
پھر بھی انجان بنا رہا ……..
میرا مطلب ہے (#اربی) صاحب……
اب آپ کو شادی کر لینی چاہیے……….
حریم نے یکدم چونک کر ظفر باجوہ کو دیکھا……
اور پھر اسلان کو ……..
جو سنجیدگی سے بیٹھا تھا…..
چچا میں نے ابھی ایسا کچھ سوچا…….
نہیں میرا ابھی ایسا کوئی ارادہ ……
نہیں ہے……..
ہاں بیٹا میں جانتا ہوں……
نوجوان نسل کے ارادے اتنی آسانی سے نہیں بنتے……………….
اگر آج بھائی اور بھابھی زندہ ہوتے…….
تو یہ نہیں کام و لوگ سرانجام دیتے……
مگر اب یہ ہماری ذمہ داری ہے …….
جو ہمیں صحیح وقت پر سرانجام دینی ہے …….
تم میری بات سمجھ رہے ہو نا …….!!!!!
ارسلان خاموش رہا ….
حریم نے ایک نظر ارسلان کو دیکھا ……
خدا جانے حریم کو اس وقت ارسلان کی خاموشی کیوں تنگ کر رہی تھی………
وہ ظفر باجوہ سے زیادہ حریم منتظر تھی……..
ارسلان باجوہ کے جواب کی……
جب کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے کہا……
ظفر چچا فلحال میں اس حوالے سے کیا کہہ سکتا ہوں …….!!!!!
.
آپ کو جیسا ٹھیک لگے ……
ارسلان نے شانے اچکائے ……..
حریم منھ کھولے اس کو تکتی رہی ……
جیسے یہ جواب اس کے لیے حیران کن تھا……
تو پھر ٹھیک ہے…….
میں تمہاری چچی سے بات کرتا ہوں ……
وہ تمہارے لیے کوئی اچھی سی لڑکی تلاش کریں گی ……….
حریم ان کی بات کاٹتی ہوئی کھڑی ہوئی……..
اہ ظفر انکل میں آفس جا رہی ہوں …….
اجازت چاہتی ہوں …….
رکو….. میرے ساتھ چلنا…….
ارسلان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا…….
آپ کے ساتھ کیوں….!!!
میں خود جا سکتی ہو ……..
حریم کو تو ویسے ہی ارسلان پر شدید غصہ آرہا تھا……………..
تم آفس ہی جا رہی ہو نا …..!!!!
..ہاں وہ بات اور ہے کہ تمہیں کہیں اور جانا ہے……..
کیا حریم بیٹا کہیں اور جانا ہے آپ نے……!!!!!
ظفر باجوہ نے ارسلان کا سوال پھر حریم سے کیا……..
نہیں انکل میں آفس جا رہی ہوں……
ان کو تو الہام ہوتے ہیں ویسے بھی …….
محترمہ حریم مجھے کوئی الہام نہیں ہوتے …….
سیدھی بات کی ہے تم سے……..
میں آفس ہی جا رہا ہوں تم بھی وہی جارہی ہو…..
تو ساتھ چلو ……………..ویسے بھی مجھے تم سے بات کرنی ہے…..
ارسلان ٹھیک کہہ رہا ہے ….
تم ساتھ چلی جاؤ ..
فضول میں پبلک سروس استعمال کیوں کر رہی ہو…..
اور ڈرائیور بھی گھر نہیں ہے ……
چلو شاباش ضد نہ کرو…..
ارسلان کے ساتھ چلی جاؤں……
ارسلان ہاتھ باندھے کھڑا اس 21 سالہ لڑکی کو دیکھ رہا تھا…….
جس نے منہ بسورتے ہوئے کہا…..
چلے چل رہی ہو میں….
آپ کے ساتھ کمالے ثواب …..
(اللہ حافظ) انکل …….
____________________________________________
ارسلان نے گاڑی کا بیک دوڑ کھلا …..
ارسلان اور حریم دونوں ساتھ بیٹھے تھے ……
گاڑی کسی دوسرے راستے پر چل رہی تھی…..
یہ رستہ نیا تھا…
نیا رستہ دیکھتے ہوئے حریم نے حیران کن انداز میں ارسلان کو مخاطب کیا ……..
ہم کہاں جا رہے ہیں….!!!!
دوسرے راستے سے کیوں جا رہے ہیں !!!!!!
ہاں ہم دوسرے راستے سے جا رہے ہیں……
مگر کیوں..!!!!
ہم تو پہلے ہی لیٹ ہو رہے ہیں …..
حریم نے سوالیہ انداز میں اس کو دیکھا…….
ارسلان نے چہرے کا رخ حریم کی جانب کیا…..
ہم اس لیے اس راستے سے جا رہے ہیں…..
کیونکہ میں نے کہا ہے…..
یہ راستہ تھوڑا لمبا ہے ….
سرچ کیا تھا میں نے…..
مگر وجہ …..!!!!
اس لمبے راستے سے جانے کی….!!!!
وجہ ہو تم …
تم سے بات کرنی ہے میں نے …..
یہ وجہ ہے……
اور اگر اب تمہارے سوالات کا سلسلہ ختم ہوچکا ہو ………..
تو کیا میں کچھ پوچھ سکتا ہوں……!!!!!
تم.تابی کو پسند کرتی ہوں……!!!!!
یہ سوال بہت اسپوٹ انداز میں کیا گیا تھا ……
ارسلان کا یہ سوال سنتے ہی حریم کے ہوش اڑ گئے……
اسلان نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا……
کیا تم تابی کو پسند کرتی ہوں!!!!!!!
کیا مطلب ہوا اس بات کا……!!!
آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں…..!!!!
نہیں سوچا پہلے تھا……
آب پوچھ رہا ہوں…….
میرے پاس آپ کے کسی بھی فضول سوال کا جواب نہیں ہے ………
تمہارے پاس سب سوالوں کے جواب ہے …….
اور اگر نہیں بھی ہیں …..
تو تمہیں دینے ہونگے…….
اور اگر میں نہ دو تو…..!!!!!
ارسلان چند منٹ اس کشمیری گڑیا کو دیکھتا رہا…..
پھر نہ لہجہ ضبط کرکے بولا……
اور اگر جواب نہ دیئے تو حریم مجھ سے کوئی نہیں ہوگا……..
ڈرائیور گاڑی روکو……
حریم نے ڈرائیور پر چلاتے ہوئے کہا……
میں کہہ رہی ہوں گاڑی روکو ……
ارسلان جو خاموشی سے مطمئن بیٹھا تھا…..
ایک گہری سانس لے کر حریم کو سنجیدگی سے مخاطب کیا …….
تم پاگل ہو لڑکی …..!!!!
ایسے چلا رہی ہو جیسے ہم تمہیں کڈنیپ کر کے لے جا رہے ہو…….
دیکھے میں آخری بار کہہ رہی ہوں گاڑی رک والے……
اچھا صبر کرو …..
ابھی ایک سگنل بات آفس ہے……
تم اس سنسان جگہ سے اکیلی کیسے جاؤ گی…..
آپ کا مسئلہ نہیں ہے ارسلان باجوہ……
میں خود جا سکتی ہے……
حریم کے اس سخت لہجے پر ارسلان کو اس پر بہت غصہ آیا……
مگر وہ ضبط کر گیا …..
ارسلان کے کہنے پر ڈرائیور نے گاڑی روکی…..
ڈرائیوری کے گاڑی روکتے ہی….
حریم نےدروازہ بری طرح پٹکا …..
وہ پیر پٹکتی غصے میں روڈ کراس کرکے بس ٹاپ پر جا کر بیٹھیں …….
ارسلان کچھ دیر وہیں رک کر حریم کو دیکھتا رہا ……
جب اس کا فون بچا ……
(ہلو)…. تابی بولو……
بھائی گاڑی آپ کے پاس ہے……!!!
ہاں میں آفس جا رہا ہوں…….
صحیح ہے……
بھائی میں بھی آفس کے لیے نکل رہا تھا ……
پھر وہیں آ کر بات کرتا ہوں ……
ہاں ٹھیک ہے آجاؤ……
اچھا بھائی حریم آفس آئی ہے!!!!!!
ہاں وہ میرے ساتھ ہی جا رہی تھی……
آفس……
مگر محترمہ کا بیچ رستے پر دماغ خراب ہوگیا وہ پہلے ہی سگنل پر اتر گئی ……..
اچھا کیا واقعی …..
چلے میں آفس ہی آرہا ہوں……
اگر وہ ملتی ہے تو ساتھ لے کر آؤں گا ……
__________________________________________
حریم پچھلے پندرہ منٹ سے بیٹھی گاڑی کا ویٹ کر رہی تھی …….
صبح کا وقت تھا ……
روڈ پر زیادہ چہل پہل بھی نہ تھی …..
جب ایک تیز رفتار کالی گاڑی آکر رکی……
گاڑی کے چاروں دروازے کھلے…….
چار نوجوان گاڑی سے اترے……
ان چاروں کے چہروں پر ماسک تھے…….
ہاتھوں میں اسلحہ لئے…..
حریم کے قریب آئے…..
یہ سب چند لمحوں کا کھیل تھا…..
جب ان میں سے ایک نوجوان نے……
حریم کو بازو سے کھینچ کر کھڑا کیا ……
جبکہ دوسرے نوجوان لڑکے نے اس کے چہرے پر سختی سے رومال رکھا …….
اس وقت ان چار اسلحہ طعنے نوجوانوں کے بیچ ……
حریم کی ساری جدوجہد ناکام تھی……
کب نیند نے اپنی سرگوشی میں سلا لیا ……
حریم کو ہوش ہی نہ رہا ……
اس کا وجود بے بس ان نوجوانوں کے حوالے تھا ….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: