Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 12

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 12

–**–**–

کچھ گھنٹوں بعد…….
حریم کی کوئی خبر نہ تھی …..
رات کے آٹھ بج رہے تھے…..
تقریبا بارہ گھنٹے گزر چکے تھے…….
وہ کہاں تھی…. کس حال میں تھی…….. کوئی خبر نہ تھی…
ارسلان صبح سے اپنی سورس کے ذریعہ حریم کی تلاش کرنے میں مصروف تھا……….
جبکہ تابی…..
اور ظفر باجوہ شہر کے کمشنر کے گھر اسے ملنے گئے تھے…………حریم کے کیس کے حوالے سے…..
گھر میں فلحال رشید اور فریال بیگم کو حریم کی گمشدگی کے بارے میں علم نہ تھا………
رشید کے پوچھنے پر ارسلان نے انہیں کہا تھا کہ حریم ایک میٹنگ کے سلسلے میں آفس میں ہے……..
کیونکہ رشید کی طبیعت ویسے ہی بہت خراب تھی …………
ان کو سچ بتانا اس وقت خطرے سے خالی نہ تھا ….
تابی اپنے کمرے سے باہر جلد بازی میں نکل رہا تھا …….
جب اس کا ٹکراؤ ارسلان سے سیڑھیوں پر ہوا……
ارسلان نے اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
خیریت تو ہے تابی!!!!!!
تم اتنی جلدی میں اتنی رات کہاں جا رہے ہو!!!!!!
اہ جی بھائی ….خیریت ہے…..
دراصل میرے کچھ دوست ہیں ……
وہ انڈرگراؤنڈ کام کرتے ہیں…….
میں نے سوچا کہ میں ان سے مل لو……
شاید حریم کی کوئی خبر مل جائے……
اچھا ٹھیک ہے……
مجھ سے ٹچ میں رہنا ……
جو بھی خبر ملے مجھے ضرور بتانا ……
جی بھائی ٹھیک ہے …..
اب میں چلتا ہوں ……
ارسلان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا …….
ارسلان کا دل کافی بے چین ہو رہا تھا ……
آخر اللہ جانے وہ کیوں حریم کے لئے اتنا پریشان تھا …………
جب اس نے وہی تصویر کھولیں……
جو چند دنوں پہلے ایلکس نے حریم کی سینڈ کی تھی وہ بے انتہا معصوم تھی……
ارسلان اس وقت اس کی مسکراہٹ پر اس سے محبت کرتا……..
یا پھر اس کے خلاف سنی ہوئی باتوں اور اس کی زبان درازی پر اس سے نفرت کرتا …….
مگر فی الحال اس وقت محبت اور نفرت کرنے کا نہیں بلکہ حریم کی فکر کرنے کا تھا ……
ارسلان کے دل میں اندیشہ تھا ……
کہ کہیں یہ کام تابی کا نہ ہو ……..
مگر فی الحال ابھی تک تابی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت ارسلان کو ملا نہیں تھا……
تو اس پر شک کرنا غلط تھا …..
ارسلان اپنی تمام تر سورس لگا چکا تھا …….
جو اس کی پاکستان میں تھی……
ارسلان کی پاکستان میں زیادہ جان پہچان نہ تھی……
پھر بھی وہ جس حد تک حریم کو تلاش کروا سکتا تھا………..
وہ اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا…….
_______________________________________________
بامشکل وہ تھوڑی بہت آنکھیں کھول سکیں…….
سر جیسے درد سے پھٹا جا رہا تھا…….
وہ محسوس کر سکتی تھی……
خود کو ایک سخت کرسی پر بندھا ہوا …….
اس کے منہ پر ٹیپ لگی تھی……
ہاتھوں پیروں میں رسیا بندی تھی…….
اس نے جیسے ہی آنکھیں مکمل طور پر کھولیں…….
تو خود کو ایک اندھیرے سے بھرے کمرے میں پایا……..
اس کمرے میں حریم کے سائے نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ………..
وہ حلق سے خود کو بچانے کے لیے آواز نکالنا چاہتی تھی مگر………….
بے سود رہی ………
حریم زور زور سے ہاتھ پیر چلانے لگی……..
کہ شاید کوئی رستہ نکل آئے……..
یہاں سے نکلنے کا ………
اندھیرے کا خوف ……کڈنیپ ہوجانے کی تکلیف……
دونوں ایک سے بڑھ کر ایک تھی ……..
کسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا …….
شاید اس کے فرشتے بھی نہیں جانتے تھے کہ…….
آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے………
خدا جانے جس عزت سے وہ باجوہ ولا سے نکلی تھی……………..
شاید اب واپس اسی عزت سے وہاں جا بہی سکتی ہے یا نہیں…………
ایک دل میں ملامت سے تھی ……
کہ کاش صبح اس وقت گاڑی سے اتنی اکڑ میں نہ اتری ہوتی…….
تو اب اس حال میں نہ ہوتی …….
مگر اب سوائے افسوس کے اور کوئی دوسرا راستہ نہ تھا…………
اسو آنکھوں سے نکل کر رخسار کو چوم رہے تھے…….
بہتا پسینہ جسم کو شرابور کر رہا تھا …….
چہرے پر بکھرے بال……
وہ بے بس حال…….
اس کا یہاں کوئی محافظ نہ تھا……
وہ کشمیری گڑیا اس وقت زنجیروں میں قید تھی……..
اہ کی وہ چاہ کر بھی خود کو آزاد نہیں کرا سکتی تھی………
وہ بےحال سر جھکائے بیٹھی تھی……
تمام تر کوشش ناکام تھی……
کہ جب یکدم کہیں سے روشنی اس کے چہرے پر آئی……..
وہاں اس کمرے کا دروازہ کھولا گیا تھا……
وہ محسوس کر سکتی تھی کہ……..
اس کمرے میں چند نوجوان داخل ہوئے ہیں…..
اس کے اندازے کے مطابق ان کی تعداد شاید پانچ سات تھی……..
وہ سب ایک قطار میں دیوار کے گرد جا کر کھڑے ہوگئے………
جب لائٹ ان کی گئی …..
روشنی کے آنکھوں پر پڑھتے ہیں……..
اس نے آنکھیں مینجی تھی……
جب چہرے کو ماسک سے چھپائے اک نوجوان اس کے قریب آیا ……..
حریم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی……. کیونکہ وہ پہچان گئی تھی ……..
ماسک کے پیچھے چھپے اس انسان کو……
ہاں وہ جان گئی تھی…….
کہ وہ تابی تھا ……وہ زبیر باجوہ تھا …….
میری جان آپ کی آنکھوں سے یہ محسوس ہورہا ہے…..
کہ آپ مجھے پہچان گئی ہیں …….
تو پھر چہرہ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں……
یہ کہتے ہوئے اس نے چہرے پر سے ماسک ہٹایا…….
ماسک ہٹانے کے بعد اس نے حریم کو غلاظت بھری نگاہوں سے دیکھا ……..
حریم کو تابی کے وجود سے بھی حقارت محسوس ہو رہی تھی ……..
حریم نے ہاتھ پر زور زور سے چلانے شروع کیئے……
کہ کسی طرح خود کو آزاد کر سکے……
مگر بے سود رہیں……..
ارے ….ارے….. میری جانم اتنی جدوجہد کیوں کر رہی ہو……..
تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری نازک سی جان یہ سخت رسیا کھول سکتی ہے ……..
چلو بس آرام سے بیٹھ جاؤ اتنا زیادہ ہلنے کی کوشش نہ کرو تمہیں درد ہوگا …….
آمم …..آمم…… مم …….
اوہو تمہارا منہ تو بندہ ہوا ہے…..
اس ٹیپ کو ہٹانا ہوگا ……
تبھی میں کافی دیر سے سوچ رہا ہوں کہ ہم دونوں ساتھ ہیں اور اتنی خاموشی کیوں ہے…….
ہاہاہا…… چلو تم بھی کیا یاد کرو گی ……
میں اس کو کھول دیتا ہوں …….
آہ ………تابی کے ٹیپ ہٹاتے ہی ……
حریم نے ایک گہری سانس لی ……..
دور ہو دفع ہو جاؤ یہاں سے …….
تمہاری غیرت کیا مر گئی ہے تابی……..
ارے میری جان اس وقت اگر تم بہت زیادہ چلاؤں گی نہ……….
تو اپنا نقصان کروں گی ……
کیونکہ تم جانتی ہو مجھے چلانے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں ہے ………
دیکھو اس سب تمہارے اور میرے علاوہ یہاں اور کوئی نہیں ہے ………
تمہیں بچانے والا بھی کوئی نہیں ہے…. .
اور کیا کہا تم نے میں دفع ہو جاؤ یہاں سے ……
میں دفع ہو گیا نا تم یہ دیکھ رہی ہوں……
یہ سب کھڑے ہیں ……
اس نے ہاتھ کے اشارے سے ان نوجوانوں کے اردگرد انگلی گھمائیں …….
یہ تمہیں کچا کھا جائیں گے…….
ہائے میری جان آپ تو ویسے بھی اتنی سی ہیں……
ان کے بیج آپ کہاں جائیں گی……
آپ کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ملے گی…….
چلو اب ضد نہ کرو ……
اور سیدھی ہو کر بیٹھ جاؤ……
اگر چاہتی ہو کہ تمہارے ہاتھ کھول دو…..
تو تم خاموش رہو گی…..
بولو منظور ہے…….
میں تمہارا منہ نوچ لوں گی تابی …….
تمہیں کیا لگتا ہے…..
کیا میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی !!!!!!
میں ارسلان بھائی…. کو …ظفر انکل کو ….فریال آنی کو……… ابو کو سب کو سب کچھ بتاؤں گی ……..
ہاہاہاہا …..بتا دینا مگر یہاں سے نکلنے کے بعد…..
تمہیں کیا لگتا ہے تو اس قابل رہوں گی……
کہ تم سب کو سب کچھ سچ سچ بتا سکوں…..
کیا مطلب ہے تابی !!!!!!!
دیکھو پلیز کوئی غلط حرکت نہیں کرنا……
ہم بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں….
تم میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتے …..
خدا کا واسطہ ہے تمہیں…..
تابی پلیز مجھے معاف کر دو …..
میں نے جو کچھ کیا بچپن میں…..
وہ جان کر نہیں کیا ……
حریم اس کے آگے ہاتھ جوڑ رہی تھی…..
مگر وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے مسلسل اس کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہا تھا…….
اس کی نظروں سے حریم کو کوفت محسوس ہو رہی تھی…….
پتہ ہے حریم اب تم میری ضد بن چکی ہوں…..
پہلے میں تم سے صرف بدلہ لینا چاہتا تھا …..
مگر اب تم میری ضد ہو…..
تمہیں پانے کا جنون ہے مجھے …….
جب تک تمہیں حاصل نہیں کروں گا…..
تب تک مجھے سکون نہیں ملے گا……
تمہیں ضد نہیں ہے….. زبیر باجوہ…….
تم صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے یہ سب کر رہے ہو ……….
دیکھ لینا تمہاری پکڑ بہت سخت ہو گئی …….
میں نے جو کچھ کیا…..
وہ اس وقت میں نادان تھی…..
مجھے پتہ نہیں تھا……
میں کیا کر رہی ہو…..
. اگر یہ سب میں نے اب کیا ہوتا تو شاید میں سزا کی مستحق ہوتی…..
مگر تم جو کر رہے ہو سب جان کر کر رہے ہو …..
تم جانتے ہو حقیقت کیا ہے…..
مگر پھر بھی تم اپنی مردانگی کا ثبوت دکھانے کے لیے یہ سب کر رہے ہو ……..
بس کردو اپنا یہ لیکچر …..
کہیں اور جا کر سنانا….
میڈم حریم میرا موڈ نہیں ہے …..
ویسے تو یہاں پوری رات تمہارے ساتھ گزارنے آیا تھا…..
مگر ابھی ماحول ٹھیک نہیں ہے مجھے گھر جانا ہوگا ……
مگر میری بات یاد رکھنا ….
میں صبح پھر آؤں گا …..
اور تمہارے لئے ایک خوشخبری لے کر آؤں گا …..
امید کرتا ہوں کہ تمہیں وہ ضرور پسند آئے گی ……
تب تک کے لئے تم یہاں سکون سے رہو…..
اور ہاں یہاں سے نکلنے کی کوئی بھی ناکام کوشش مت کرنا …….
کیونکہ اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا……
ہاں تمہاری اس ننھی سی جان کو تکلیف ضرور ہوگی ………..
تابی نے حریم کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ……
اس کے ہاتھ لگانے پر حریم نے اپنا چہرہ دور ہٹایا……
چلو جانا اب میں چلتا ہوں…..
تم یہاں سکون سے وقت گزارو …..
اور ہاں یہ دیکھ رہی ہوں ان سب کو یہ تمہاری حفاظت کے لیے ہیں …….یہاں پر …………
یہ کہہ کر وہ اسے تابی چلا گیا…….
کچھ دیر بعد …….
تابی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا …..
جب اس نے ارسلان کو فون کیا……
گھر کی صورت حال جاننے کے لیے……
ہیلو ارسلان بھائی….
کدھر ہے آپ!!!!!
میں باہر ہو حریم کے سلسلے میں اپنے ایک دوست سے ملنے آیا ہوں …….
تم بتاؤ کہ تمہیں کوئی معلومات حاصل ہوئی !!!!!!
نہیں فی الحال تو نہیں ہوئی……
ہاں میں نے حریم کی ساری ڈیٹیلز اپنے دوست کو بتا دی ہیں ……..
اگر کچھ بھی پتہ چلتا ہے تو میں آپ کو ضرور بتاؤں گا…………..
اچھا ڈیڈ کہاں ہے!!!!!!
یار ظفر چاچو میرے ساتھ ہی ہیں …..
میں انکو کمشنر کے گھر ڈراپ کر کر آگے نکل جاؤں گا ……….
اچھا ٹھیک ہے…..
میں گھر ہی جارہا ہوں……
کیا اس معاملے کے بارے میں رشید انکل اور ماما کو پتا ہے…….!!!!!!!
نہیں فی الحال ان کو کچھ نہیں پتا ……..
ہم نے انہیں کہا ہے کہ حریم میٹنگ کے سلسلے میں ابھی تک آفس میں ہی ہے رات دیر سے گھر واپس آئے گی …….
ماما اور رشید انکل تو سو چکے ہوں گے……
باقی کوشش کرتے ہیں کہ اس معاملے کو صبح سے پہلے حل کر لیا جائے………
چلیں ٹھیک ہے میں فون رکتا ہوں …..
ڈرائیو کر رہا ہوں ……
آپ سے گھر جا کر بات کرتا ہوں……
کچھ گھنٹوں بعد ……
تابی بیلکنی میں کھڑا فون پر بات کر رہا تھا…..
تبھی ارسلان وہاں تابی سے کچھ بات کرنے کے لیے آیا ……
……ہیلو….. ہاں بولو ……فارس…… کیا وہ ٹھیک ہے!!!!!!! زیادہ شور تو نہیں مچا رہی…..!!!!!
ہاں وہ تھوڑا شور ضرورمچائے گی……
میں جانتا ہوں…….
اس کی عادت سے واقف ہوں……
مگر میری ایک بات یاد رکھنا…….
اس کے قریب کوئی بھی نہ جائے…..
اگر اسی نے اس کو ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی تو میں اس کو جان سے مار دوں گا…….
باقی میں صبح آ کر دیکھتا ہوں…….
ابھی گھر میں سب سو رہے ہیں……
اگر میں اس دوبارہ نکلتا ہو تو کسی کو شک نہ ہو جائے…………
ہاں ایک کام کرنا اس کو کھانے کے لئے کچھ ٹھیک ٹھاک دے دینا…….
اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہوگا……
……( زبیر باجوہ)……..
ایک گرج دار آواز تابی کی سماعتوں سے ٹکرائی…..
جب اس نے حیران کن انداز میں پیچھے مڑ کر دیکھا……………

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: