Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 13

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 13

–**–**–

تابی نے پیچھے مڑ کر دیکھا ……
تو حیران رہ گیا ……
وہاں ارسلان باجوہ کھڑا تھا ….
اس سے پہلے تابی اپنے دفاع میں کچھ کہہ سکتا………
ارسلان آندھی کی طرح اس کے قریب آیا……………..
اپنا ہاتھ تابی کے جبڑوں میں پیوست کرتے ہوئے………
ارسلان نے اس کو زمین پر دھکیلا ……
اپنا گھٹنا تابی کے سینے پر رکھتے ہوئے ……
ایک زوردار مکاں اس کے پیٹ میں رسید کیا…………
تابی درد کی شدت سے قرہ یا …….
اہ….. چھوڑے بھائی ……
بمشکل.تابی منہ سے چند الفاظ نکال سکا…..
تمہیں چھوڑ دوں ….!!!!
گھٹیا انسان!!!!!
میں تمہیں چھوڑ دوں!!!!!!
تمہیں تو میں جان سے مار دوں گا…..
میری ایک بات یاد رکھنا ……
اگر حریم کو ذرا بھی نقصان پہنچا…..
تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا……
تمہیں کیا لگتا ہے….
کہ تم اب بچاؤ گے ……
شرافت سے مجھے بتاؤ حریم کہاں ہیں…!!!!!!!!!!
ورنہ تابی مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…..
بھائی آپ اس کی حمایت کر رہے ہیں…..
میں آپ کا کزن ہوں……
وہ اس گھر کی نوکرانی ہے…….
کزن !!!!!
تم تو انسان کہلانے کے قابل نہیں ہوں ……
جس کو تم نوکرانی کہتے ہو نہ …..
اس نے ساری زندگی اس گھر میں گزاری ہے………..
کیا تم نہیں جانتے کہ!!!!!!
ظفر چاچو اورفریال چاچی اس سے کتنی محبت کرتے ہیں……
رشید انکل نے اس گھر کی کتنی خدمت کی ہے………
کیا تم سب بھول چکے ہوں !!!!!!
خدا کی قسم تابی اگر حریم کو ذرا بھی نقصان پہنچانا !!!!!!
میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا ………..
بھائی آپ کی آنکھیں مجھے کچھ اور کہہ رہی ہیں……..
آپ کے لیے حریم کی اتنی فکر کیوں ہیں…….
کیوں آپ کو اس کے لیے اتنی فکر ہو رہی ہے…..!!!!!!!!
آپ تو نفرت کرتے تھے اس سے ……
اخر…… اج …..اس کے لیے میرے گریبان تک آگئے!!!!!!!
میں جو بھی کرتا تھا…..
کرتا ہوں…….
یا کروں گا……
یہ میرا ارسلان باجوہ کا مسئلہ ہے……
تمہارا نہیں….. زبیر باجوہ……..
مجھے شرافت سے بتاؤ …….
حریم کہاں ہے.. زبیر باجوہ ……
میں نہیں بتاؤں گا بھائی…….
اس سے میں نے بہت سے حساب برابر کرنے ہیں………
جب تک میں حساب پورے نہیں کروں گا ………
اس کو نہیں چھوڑوں گا……
تابی تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہیں چھوڑدوں گا …….
تابی تم نے اب تک صرف میری محبت دیکھی ہے………
میرا پیار دیکھا ہے…….
مجھے میرا ایول سائیڈ دکھانے پر مجبور مت کرو تم ……..
بھائی آپ کی آنکھوں میں مجھے حریم کے لئے جو کچھ نظر آ رہا ہے نا ……
میں دعا کرتا ہوں کہ وہ سب سچ نہ ہو…..
ورنہ حریم کو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا…….
ارسلان ….ارسلان…. ارسلان ….تابی ….تابی………
یکدم فریال بیگم کی چلانے کی آوازیں آئیں ……..
آوازیں سنتے ہی ارسلان نے تابی کو گریبان سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا…….
تابی میں تمہیں آخری بار وارننگ دے رہا ہوں………
حریم کو کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے…..
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا …..
یکدم فریال بیگم بھاگتی ہوئی بیلکنی میں آئی……..
تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو!!!!!
میں تمہیں کب سے آوازیں دے رہی ہوں…..
جلدی چلو رشید بھائی کی طبیعت بگڑ رہی ہے……..
ارسلان حیران کن انداز میں فریال بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا …….
کیا ہوا ان کو !!!!!!
وہ تو ٹھیک تھے سو رہے تھے….
ارسلان تمہارے چچا مجھ سے بات کر رہے تھے……..
جب انہوں نے حریم سے متعلق ہماری ساری باتیں سن لیں ……
مجھے لگتا ہے ان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے……
جلدی چلو ان کو ہاسپیٹل لے کر جانا ہے ……
فریال بیگم کے جاتے ہیں تابی ان کے پیچھے جانے کے لئے آگے بڑھا……
جب ارسلان نے اس کو کندھے سے پکڑ کر پیچھے کی جانب دھکیلا ……
اتنی آسانی سے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں………
یہ کہتے ہوئے ارسلان نے تابی کے ہاتھ سے موبائل چھینا……
یہ کیا کر رہے ہیں بھائی آپ ….!!!!
میرا موبائل واپس کریں….
وہ اپنا موبائل لینے کے لئے آگے بڑھا ….
جب ارسلان نے اپنا ایک ہاتھ تابی کے سینے پر رکھتے ہوئے اس کو روکا …….
میری بات سنو تابی……
کوئی بھی چلاکی کرنے کی کوشش مت کرنا ……
میں گھر میں سب کو سب کچھ بتا دوں گا……
بھائی جو آپ کر رہے ہیں…..
یہ ٹھیک نہیں ہے…..
آپ یہ سب کرکے میرے دل میں حریم کے لیے اور نفرت کا اضافہ کر رہے ہیں …..
اس کو مجھ سے صرف نقصان پہنچے گا…
اور کچھ نہیں…..
یہ وقت بتائے گا زبیر باجوہ……
کہ نقصان حریم کو پہنچے گا….
یا پھر زبیر باجوہ……
کو ارسلان اس کو تنبیہ کرتے ہوئے وہاں سے باہر بیلکنی سے باہر آیا…..
______________________________________________
وہ اکیلی اس کمرے میں بیٹھی تھی…….
وہاں کوئی اور نہ تھا…..
وہ لوگ جو وہاں آئے تھے….
وہ سب تابی کے جانے پر جاچکے تھے …..
اللہ کے بعد وہ اس وقت سے دو لوگوں کو یاد کر رہی تھی……
ایک اس کے والد جن کی جان بچانے کی خاطر وہ آج تک چپ رہیں……
اور دوسرا وہ شخص……
جس کو وہ صبح اتنی اکڑ دکھا کر گاڑی سے اتری تھی ……
اس کے ذہن میں بار بار وہ لمحہ واپس یاد آرہا تھا……
جب صبح وہ ظفر باجوہ کے کمرے میں گئی تھی……
اور وہاں اس نوجوان دی گریٹ ارسلان باجوہ کو بیٹھا دیکھا تھا………
کاش یہ وقت پلٹ جاتا……
اور واپس وہ اسی وقت پر آ جاتی…
کہ جب وہ غصے سے گاڑی سے اتری تھی…..
وہ اس وقت نہ اترتی …..
وہ ارسلان کو سب کچھ بتا دیتی…….
تو شاید آج ابھی اس حال میں نہ ہوتی ……..
ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی……
کہ ایسا اچانک تین چار نوجوان اس کے کمرے میں آئے……
شاید یہ وہ لوگ ہیں ….
جنہوں نے صبح اس کو کڈنیپ کیا تھا …..
ہاتھوں میں اسلحہ لیے ….
چہروں پر ماسک پہنے…..
وہ حریم کے قریب بڑھے….
منہ پر ٹیپ نہ ہونے کے باعث…… حریم نے زور زور سے چلانا شروع کیا………..
خدا کا واسطہ ہے….
دور رہو مجھ سے….
میرے قریب مت آنا…..
مجھے ہاتھ بھی مت لگانا …………..
تمہیں اللہ رسول کا واسطہ ہے ……..
کہ تمہارے اپنے گھر میں تمہاری کوئی بہن بیٹی نہیں …….
اگر آج اس کرسی پر میری جگہ تم میں سے کسی ایک کی بھی بہن بیٹھی ہوتی …..
تو تم اس کے ساتھ یہ سلوک کرتے……ہاہاہاہا…..
اول تو یہ کہ ہماری کوئی بہن نہیں ہے…..
اور دوسری بات یہ….
کہ اگر ہماری کوئی بہن ہوتی بھی……..
نہ تو جو تم نے میرے دوست کے ساتھ کیا ہے…..
اگر اس نے ایسا کیا ہوتا تو …..
میں خود اس کو سزا دیتا …….
ب**** کر رہے ہو تمجو انسان اپنے دوست کی خاطر اس حد تک گر سکتا ہے…….
وہ بھلا اپنی بہن کے ساتھ کچھ غلط کر سکتا ہے !!!!!!!
تم درندے صرف ہم جیسی لڑکیوں کے لئے بنتے ہو ……
ورنہ اپنے گھر میں تم جیسے لوگوں سے بڑے کوئی محافظ ہوتے ہی نہیں ہے ……
مگر حقیقت میں تم جیسے لوگ تو انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں ہوتے ……
اے لڑکی بس کر بس…..
بہت سن لی تیری توں توں توں توں میں میں …….
اچھا چل نہ ہمارا ٹائم ضائع کر نہ اپنا…..
آن میں سے ایک نوجوان غراتا ہوا اس کے قریب آیا …….
اور حریم کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا…..
وہ چیختی چلاتی رہی…..
مگر وہ لوگ اس کو اس کمرے سے باہر لے گئے………
_____________________________________________
وہ سب ہاسپیٹل کے ای.سی.یو کے باہر چکر لگا رہے تھے……..
رشید کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا…..
اس بات کی تصدیق ڈاکٹرز کر چکے تھے……
اور فریال بیگم بینچ پر بیٹھی رشید کی صحت یابی کی دعا مانگ رہی تھی…..
جبکہ ظفر باجوہ ….
اور ارسلان باجوہ آپس میں کھڑے بات کر رہے تھے …….
جبکہ تابی ایک کونے میں کھڑا موبائل یوز کر رہا تھا…….
جب ایک سینئر ڈاکٹر آئی.سی.یو سے باہر نکلا………..
ان مریض کے ساتھ کون ہے!!!!!!
یس ….آئی ایم …..
ارسلان فورا آگے بڑھا ……
سوری سر ہم نے بہت کوشش کی…..
مگر ہی از نو مور ……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: