Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 14

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 14

–**–**–

(ہی از نو مور) ……
بس ڈاکٹر کے الفاظ سنتے ہی…..
ارسلان اور ظفر باجوہ نے ایک گہری سانس لی………..
افسوس زیادہ اس بات کا تھا ……
کہ وہ حریم سے اپنے آخری لمحات میں بھی نہ مل سکے……
ارسلان طیش کے عالم میں قدم پٹکتا تابی کی جانب بڑھا…….
جو فریال بیگم کے ساتھ بینچ پر بیٹھا تھا ………
بنا وقت ضائع کیے ارسلان باجوہ اس کے مقابل پہنچا……(uhhh bloody)…..
کے ایک کے بعد ایک مکوں اور تھپڑوں کی برسات تابی پر کی گئی ……
پہلا تھپڑ لگنا تھا کہ….
زبیر باجوہ کا ہونٹ پھٹا …..
منہ سے خون رسنا شروع ہوا….
ارسلان….. ارسلان …..یہ کیا کر رہے ہو!!!!!!
فریال بیگم اور ظفر باجوہ گھبراکر ارسلان کی جانب بڑھے ……..
وہاں تمام اسٹاف اور اردگرد موجود لوگ اس کی جانب متوجہ ہوئے…….
دو گارڈز اور ظفر باجوہ بھرپور کوشش کر رہے تھے ……
مگر بے سود…… ثابت رہی…..
ارسلان باجوہ پر جیسے جنون سوار تھا…….
ہاسپٹل میں ایئرکنڈیشن موجود تھا……
پھر بھی ارسلان اس قدر طیش عالم تھا……………..
کہ اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا………..
تابی کے چہرے کا کوئی حشر نہ تھا ……
بمشکل ظفر باجوہ اور گارڈز کی مدد سے وہ لوگ ارسلان کے ہاتھوں سے….
تابی کو مرنے سے بچا سکے ………
تابی بری طرح زخمی ہو چکا تھا…..
گہری سانس لیتے ہوئے…..
ارسلان نے تابی کو تنبیہ کیا…..
ایک گھنٹے کے اندر اندر مجھے…..
حریم واپس چاہیے…..
ورنہ میں ارسلان باجوہ ……
تم سے یہ وعدہ کرتا ہوں …..
تمہارا وہ حشر کروں گا…..
کہ لوگ تمہیں پہچان بھی نہیں سکیں گے……
فریال باجوہ تابی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی ……
جبکہ ظفر باجوہ سر پکڑے کھڑے تھے …..
کولر ٹھیک کرتے ہوئے….
وہ سرمئی آنکھوں والا 27سالہ دی گریٹ ارسلان باجوہ ……
لوگوں کے ہجوم سے نکلتا ہوسپیٹل سے باہر آیا………
کہ جو غصہ ابھی لوگوں نے ارسلان کے اندر دیکھا تھا ……
کسی میں اتنی ہمت نہ تھی…..
کہ اس کو روک سکے……
تابی کی اتنی بری حالت تھی…..
کہ وہی ایمرجنسی میں اس کو ڈاکٹرز نے شفٹ کیا ……
تابی نے اس حالت میں بھی ایک میسج اپنے دوست فارس کو سینڈ کیا ……
وہ اسٹریچر پر لیٹا تھا ….
میسج کرکے موبائل بند کرنے لگا تھا ….
جب ظفر باجوہ نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا …..
تابی میں فی الحال اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ان کے ہاتھ سے اپنا موبائل واپس لے سکتا…..
وہ میسج پڑھتے ہی…..
ظفر باجوہ نے تابی پرنظر ڈالیں ….
ظفر باجوہ نے غصے میں تابی کو مخاطب کیا……….
مجھے شرم آتی ہے ….
تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے ….
میں نے اپنی ساری زندگی نیک نامی میں وقف کردی ….
اور آج تم نے مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا …..
جس خاندان سے تمہارا تعلق ہے زبیر باجوہ…………..
اس خاندان کے بچے بچے کو بھی دنیا کھڑے ہو کر سلام کرتی ہے…….
شرم ….کرو ….شرم….. یہ کہتے ہوئے ظفر باجوہ وہاں سے چلے گئے….
________________________________________________
کچھ گھنٹوں بعد …..
رشید کافی عرصے سے بیمار تھا ….
اس لئے اس کا جنازہ زیادہ دیر رکھا نہیں جاسکتا تھا …..
مایوس ہو کر حریم کی گمشدگی میں ہی…….
باجوہ فیملی نے رشید کی تدفین کردی….
بڑی تعداد میں لوگ رشید کی فوتگی پر جمع ہوئے تھے……
کیونکہ رشید ملازموں کی طرح نہیں…..
بلکہ ایک گھر کے فرد کی طرح…..
باجوہ خاندان کا حصہ تھا….
_______________________________________________
گاڑی ہائی وے جیسے روڈ پر چل رہی تھی…………..
حریم پچھلی سیٹ پر اکیلی بیٹھی تھی….
اس کے منہ پر ٹیپ اور ہاتھوں میں رسی بندھی تھی …..
شاید جو تھوڑی بہت امید تھی…..
اب وہ بھی ختم ہو چکی تھی…..
وہ گاڑی میدانی علاقوں سے گزر رہی تھی…..
دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہ تھا…………
وہ اسپیڈ سے چلنے والی گاڑی یکدم روکی…..
گاڑی کے رکھتے ہی حریم جھٹکے سے آگے کو جھکی …..
حیرانی کے عالم میں اس نے شیشے سے باہر جھانکتا شروع کیا……
جب یکدم کسی نے دروازہ کھولا …..
وہاں وہی تین چار نوجوان کھڑے تھے ….
جب ان میں سے ایک نے اشارے سے ایک نوجوان کو حریم کے منہ اور ہاتھوں سے طیب اور رسیا ہٹانے کو کہا…..
حریم گاڑی سے باہر نکلیں…..
اور ایک گہری سانس لیں…..
جب وہی نوجوان ہاتھ باندھے اس کے مقابل کھڑا ہوا …..
جو کئی بار پہلے بھی اس سے مخاطب ہو چکا تھا…..
شاید یہ فارس تھا….
تابی کا خاص دوست….
لڑکی ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں ….
یہ ڈرائیور تمہیں گھر چھوڑ کر آئے گا ….
وہ کھڑی سامنے گاڑی….
مگر ایک بات یاد رکھنا(Blezz master) تمہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا …..
حریم نے بنا کچھ سوچے سمجھے سامنے کھڑی گاڑی کی طرف بھاگنا شروع کیا…..
گاڑی میں ڈرائیور موجود تھا ….
حریم کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی چلانا شروع کی…….
_______________________________________________
وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس…..
ظفر باجوہ کے ساتھ مرکزی دروازے پر کھڑا لوگوں کو الوداعی کلمات کہہ رہا تھا…..
وہاں عموما تمام لوگوں نے سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھا …..
جب اچانک ایک گاڑی دروازے پر آکر رکی……..
مرکزی دروازے کھلے ہوئے تھے…..
اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی سب کی توجہ اس گاڑی پر گی….
جو بالکل دروازے کے سامنے آ کر رکھی تھی ……
گاڑی کے روکنے کے چند سیکنڈ بعد گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا …..
جس میں سے وہ 21سالہ حریم رشید جو پچھلے دو دن سے لاپتہ تھی……
آج اس دہلیز پر قدم رکھا ……
جب اس کا باپ اس کی گمشدگی کی خبر سن کر اس دنیا سے منہ موڑ چکا تھا …..
حریم کو گاڑی سے نکلتا دیکھ کر….
ظفر باجوہ اور ارسلان باجوہ اس کی جانب بڑھے …..
حریم کی آنکھیں نم سی ہوگی….
اس نے ایک نظر ارسلان کو دیکھا ….
پھر یکدم ظفر باجوہ کے سینے سے جا لگی……
میری بچی کیسی ہو تم !!!
ٹھیک تو ہو نا!!!
ظفر باجوہ اس کی حالت دریافت کر رہے تھے………
جبکہ ارسلان خاموشی سے کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا ……
تب ہی حریم نے محسوس کیا کہ یہاں کا ماحول سوگوار ہے…..
اتنی دیر میں فریال بیگم مرکزی دروازے پر آئی……
حریم نے تھوڑا ہوش سنبھالا ….
اور فریال بیگم اور ارسلان کو دیکھتے ہوئے کہا……..
کیا ہوا ہے یہاں !!!!!
سب ٹھیک ہے نہ !!!!!
سوال مکمل کرنے کے بعد اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے….
کیونکہ یہاں گھر کے تمام افراد موجود تھے….
سوائے رشید کے میں….
آپ لوگوں سے پوچھ رہی ہو….
کیا ہوا ہے !!!!
اب کی بار حریم کا لہجہ تھوڑا سخت تھا…
نہیں بتائیں گے نہ آپ لوگ مجھے !!!!!
ہٹے میرے سامنے سے ….
حریم ارسلان کو ہٹاتی ہوئی سیدھی رشید کے کمرے کی جانب بڑھیں….
جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا ….
پیروں تلے زمین نکل گئی…
وہ کمرہ خالی تھا….
وہاں رشید موجود نہ تھا …..
حریم کے پیچھے پیچھے ارسلان ظفر باجوہ اورفریال بیگم سب بھاگے ….
حریم نے منفی میں سر ہلانا شروع کیا….
نہیں…. نہیں ….ایسا نہیں… ہوسکتا …
.وہ اپنے قدم پلٹتی پیچھے کی جانب جا رہی تھی ….
جب اس کا ٹکراؤ ارسلان سے ہوا ….
ارسلان نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر وہیں روکا…….
نہیں ….ایسا نہیں …ہوسکتا ….
یہ کہنا تھا کہ حریم بے ہوش ہوگئیں……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: