Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 15

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 15

–**–**–

ارسلان نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر وہی روکا……..
نہیں…. نہیں ….یہ نہیں ہوسکتا …..
یہ کہنا تھا کہ حریم وہی بے ہوش ہوگئیں…..
بے ہوش ہوتے ہی حریم کا پورا وجود ارسلان کے ہاتھوں میں تھا …….
چند سیکنڈ ارسلان اس لڑکی کو دیکھتا رہا…………..
جس کے رخسار پر آنسوؤں کی بوندے تھی………..
بے حد معصوم اور شفاف چہرہ…….
بے شک اس کے اوپر قیامت سی ٹوٹی تھی……………
اپنے ہاتھوں میں اس بے بس وجود کو دیکھ کر ……..
ارسلان یکدم گھبرایا…….
آج پہلی بار کوئی لڑکی ارسلان کے اتنے قریب آئی تھی …….
وہ اس کے ہاتھوں میں ہی تھی…….
جب ارسلان نے گھبرا کر آگے پیچھے دیکھا…..
فریال بیگم بھاگتی ہوئی حریم کے قریب آئیں………
کیا ہو گیا اسے !!!!
یہ بے ہوش کیوں ہوگئی!!!!!!
میرا خیال ہے اس کو صدمہ ہوا ہے…..
اس کو دیکھیں… اس کو پکڑے…..
میں ڈاکٹر کو فون کرتا ہوں……
ارسلان نے اپنے ہاتھوں سے اس بےہوش وجود کو سیدھا کھڑا کیا……….
ارسلان باجوہ کے لیے یہ بہت آسان تھا ……
ارسلان فون نمبر ڈائل کرتا …..
کان سے لگاتا فون کمرے سے باہر گیا …….
فریال بیگم نے ایک نوکرانی کی مدد سے حریم کو بیڈ پر لٹایا…..
_______________________________________________
کچھ دیر بعد….
فریال بیگم.. ظفر باجوہ… اور ارسلان باجوہ تینوں ہی حریم کے کمرے میں تھے………
فریال باجوہ حریم کے سرہانے بیٹھی اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی…..
ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے…………..
ہاں یہ تکلیف ممکن تھی……
کیونکہ ایک طرف ان کا اپنا بیٹا تھا …..
اور ایک طرف وہ لڑکی……
جس کو وہ بہت محبت کرتی تھی…..
اس کو بچپن سے وہ بہت پیار دیتی آئی تھی……….
آج حریم اس حالت میں تھیں…..
تو ان کا دل بہت بے چین تھا……
ارسلان خاموشی سے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا ……
کبھی وہ حریم پر نگاہ ڈالتا ….
تو کبھی ظفر باجوہ اورفریال باجوہ سے مخاطب ہوتا……..
جانتے ہو ارسلان بیٹا ……
آج میرا سرشرم سے جھک چکا ہے….
مجھے یوں لگتا ہے…..
کہ جیسے ساری زندگی کی محنت 1 منٹ میں مٹی میں مل چکی ہے……
میرا ضمیر کہتا ہے کہ میں انصاف کرو…..
مگر میرا دل کہتا ہے کہ……
وہ میرا سگاں بیٹا ہے…..
جو تیرا سال جیل میں گزار کر آیا ہے…..
اگر آج میں اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں…..
تو میں باپ کی محبت کو اپنے بیٹے کی چاہت کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہوں ……
ہاں میں نے دیکھا تھا …..
حریم کتنی تکلیف میں تھی…..
میں کیسے بھلا سکتا ہوں …..حریم کی اذیت…..
میں خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا ہوں……
اس وقت میرا کوئی پیسہ میری کوئی دولت میری کوئی شہرت میرے کسی کام کی نہیں……
اس وقت میں بیچ راہ میں پھنس چکا ہوں….
سمجھ نہیں آتا کیا کروں…..
چاچو آپ اس طرح پریشان نہیں ہوں….
ہم سوچتے ہیں کچھ حل نکالتے ہیں…..
اب حریم گھر آچکی ہے…..
حریم ہوش میں آتی ہے….
تو ہم اس سے بات کرتے ہیں …..
فریال بیگم نے ارسلان کی بات کاٹتے ہوئے کہا……….
مگر واقعی یہ بات نظر انداز کرنے والی نہیں ہے……
کہ حریم نے اپنے باپ کو کھویا ہے …..
مجھے لگتا ہے کہ حریم یہاں محفوظ نہیں ہے……..
ارسلان نے سنجیدگی سے ظفر باجوا کو مخاطب کیا …..
محفوظ کیوں نہیں ہے !!!!!!
ارسلان اس نے ساری زندگی یہی گزاری ہے……
ساری زندگی کی بات اور تھی….
اب بات اور ہے….
پہلے وہ اپنے باپ کے ساتھ یہاں رہتی تھی….
اور اب اس کا یہاں کوئی وارث نہیں ہیں….
ارسلان ٹھیک کہہ رہا ہے…..
آپ کو کچھ سوچنا ہوگا…. ظفر صاحب….
اچھا تو ارسلان کیا تمہارے پاس کوئی حل ہے!!!!
اس سب کا !!!!!
مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگوں کو حریم کی شادی کر دینی چاہیے……
یہ ایجوکیٹڈ ہے..
اس کو کوئی نہ کوئی اچھا لڑکا مل جائے گا …….
ہاں یہ ٹھیک ہے ….
ارسلان ٹھیک کہہ رہا ہے …..
ظفر صاحب ہمیں حریم کی شادی کر دینی چاہیے…
وقت بھی صحیح ہے….
ہاں ارسلان کہہ تو ٹھیک رہا ہے …..
فریال بیگم لیکن آپ کو کیا لگتا ہے ….
کیا یہ انصاف ہے!!!!
ہم کہانی کا ایک رخ پڑھے ہیں ….
اگر اس کو دوسرے رخ سے دیکھا جائے….
تو رشید کا قتل ہوا ہے….
جس کی وجہ ہمارا بیٹا تابی ہے…..
ہم اس بات کو تو نظر انداز کردیں گے ….
مگر آپ کو کیا لگتا ہے فریال بیگم کہ کیا اس بات کو حریم نظر انداز کرے گی!!!!!!
میرا نہیں خیال!!!
کہ وہ اس بات کو نظرانداز کر سکتی ہے ………..
اس کی جگہ کوئی بھی ہوگا …..
تو وہ انصاف مانگے گا….
آپ پریشان نہ ہوں چاچو….
حریم کے ہوش میں آتے ہی ….
ہم حریم سے بات کرتے ہیں ….
اور پھر دیکھیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے…..
مگر فی الحال تو میں بھی یہی چاہتا ہوں….
کہ.تابی ابھی گھر واپس نہ آئے….
کیونکہ میں بھی تابی کو اپنی نظروں کے سامنے برداشت نہیں کر سکتا….
میں نے ایک بار تو اس پر ہاتھ اٹھا لیا ہے….
بار بار میں یہ غلطی نہیں کرنا چاہتا….
کیونکہ اب کی بار اگر تابی میرے سامنے آیا …. شاید میں اس کو زندہ نہیں چھوڑوں گا…..
میں معذرت چاہتا ہوں ….
آپ لوگوں سے مگر …..
مجھے یہ سوچ سوچ کر بھی نفرت ہو رہی ہے……….
کہ تابی میرا کزن ہے …..
آخر جو کچھ بھی تھا چاچو ….
مگر حریم ساری زندگی یہی رہتی آئی ہے….
انسان کے اندر انسانیت بھی ہوتی ہے….
اگر اس کو حریم سے کوئی شکایت تھی…..
تو وہ مل بیٹھ کے اس کو حل کر سکتا تھا…..
مگر اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا ….
جو اس نے کیا….
وہ ناقابل برداشت…
اور تسلیم ہے …..
تم ٹھیک کہ رہے ہو ارسلان….
مجھے خود تابی پر بے حد غصہ ہے….
میں بھی اس کی شکل دیکھنے نہیں چاہتا….
اس کے دوست فارس کی میرے پاس کال آئی تھی …..
میں نے اس سے کہہ دیا ہے….
تابی کو سختی سے منع کردے ….
گھر واپس آنے کے لیے….
ورنہ میں اس کا قتل کروں گا…..
یہ کہہ کر ظفر باجوہ حریم کے کمرے سے باہر نکلے ……
یا اللہ یا پھر غصے میں آگئے ….
فریال بیگم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ….
ارسلان تم یہیں حریم کے پاس رہنا….
میں ان کو دیکھتی ہوں….
مگر میں یہاں کیا کروں گا!!!!
تم یہاں رہ کر حریم کا خیال کرو…..
اس کو اکیلا نہیں چھوڑنا ….
اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے …..
حریم کو اکیلا چھوڑنا ٹھیک نہیں ہوگا ….
مگر چاچی میں اس کے پاس بیٹھ کر کیا کروں گا !!!!!!
یااللہ ارسلان بیٹا آپ تو اتنے سوالات نہیں کرتے…….
اچھا ٹھیک ہے ….
میں بیٹھ جاتا ہوں…..
فریال بیگم کے جاتے ہیں ارسلان کھڑکی کی جانب بڑھا …..
کھڑکی کے باہر دیکھتے ہوئے ….
اس نے ایک ترچی نگاہ سامنے لیتی 21 سالہ لڑکی کے وجود پر ڈالی …..
پھر وہ صوفے پر جاکر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا……
اس کی یہی عادت تھی…..
وہ کبھی بھی سیدھا نہیں بیٹھتا تھا ….
ہمیشہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا تھا ….
وہ چپ چاپ بیٹھا حریم کو دیکھتا رہا ….
پھر ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی…..
ابھی شاید کچھ ہی وقت گزرا تھا …..
ارسلان کو سوتے ہوئے …..
جب یکدم اس کو کسی کی آہٹ محسوس ہوئی……
آنکھ کھول کر اس نے سامنے دیکھا…..
تو حریم بے حال جوتیاں پہن رہی تھی…..
اس کا دوپٹا کندھے سے نیچے گر رہا تھا….
بال چہرے پر بکھرے ہوئے….
وہ جلدی جلدی الٹی سیدھی جوتیاں پہن رہی تھی…..
جب ارسلان اٹھ کر اس کے پاس گیا….
کہاں جا رہی ہو تم!!!!
نہیں مجھے جانا ہے ….
مجھے بلا رہے ہیں…..
نہیں …تم تم لیٹو یہاں پے !!!
میری بات سنو…..
نہیں مجھے جانا ہے ….
ارسلان بھائی چھوڑے ….
مجھے ابو مجھے بلا رہے ہیں….
ان کی دوائی کا ٹائم ہو رہا ہے……
حریم میری بات سنو….
یہاں بیٹھو ……
آپ پاگل تو نہیں ہو گئے ہیں !!!
میں آپ سے کہہ رہی ہوں ابو کی دوائی کا ٹائم ہو رہا ہے…..
اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں یہاں بیٹھ جاؤ ……..
حریم دیوانوں کی طرح باتیں کر رہی تھی ….
جیسے اس کو ہوش ہی نہ تھا….
کہ وہ کیا کر رہی ہے….
حریم میں تم سے کہہ رہا ہوں….
یہاں بیٹھ جاؤ ….
وہ نہیں ہے….
کون نہیں ہے!!!
آپ پاگل تو نہیں ہوگئے ہیں !!!!
ارسلان بھائی مجھے لگتا ہے آپ پاگل ہو چکے!!!!
ہا ارسلان بھائی آپ پاگل ہیں……
ابو کی دوائی کا ٹائم ہو رہا ہے….
وہ کبھی اکیلے باہر نہیں جاتے ہیں …..
آپ کو پتہ ہے …
ان کو ڈاکٹر کے پاس کی میں ہی لے کر جاتی ہو…….
ا مجھے یاد آیا …..
کل ان کی اپوائنمنٹ ہے ڈاکٹر کے پاس…..
ارے آپ بہت اچھے ہیں ….
ارسلانب ھائی شکر ہے ….
آپ نے مجھے یاد کرا دیا ….
اچھا اب مجھے جانے دے….
میں چلتی ہوں….
حریم نے پھر آگے بڑھنے کے لیے قدم بڑھائے…..
تبھی ارسلان نے اس کو مضبوطی سے پکڑا………..
حریم میری بات سنو……
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے…..
ہاں میں تمہیں خود لے کر جاؤں گا …..
ہم ساتھ لے کر جائیں گے ان کو ڈاکٹر کے پاس………
لیکن تم یہاں بیٹھ جاؤ…..
نہیں آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں….
ان کا وقت نکل جائے گا ….
مجھے ابو کو دوا دینی ہے…
آپ پاگل ہو گئے ہیں….
حریم میری بات سنو میری بات تسلی سے سنو……..
رشید انکل اب دنیا میں نہیں ہے…..
یہ جملہ سنتے ہی حریم چندمنٹ ارسلان کو دیکھتی رہی …..
پھر چلا کر اس کے سینے پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی…….
دماغ خراب ہوگیا ہے آپ کا !!!!!
کیا ب**** کر رہے ہیں!!!!!
آپ میرے ابو …آپ کا مطلب ہے میرے ابو مجھے اکیلا چھوڑ کے…..
ہو ہی نہیں سکتا….
میں مان ہی نہیں سکتی….
ب**** کررہے ہیں ….
آپ جھوٹ بول رہے ہیں …..
حریم میں سچ کہہ رہا ہوں….
رشید انکل اب اس دنیا میں نہیں ہے ….
ارسلان بھائی دیکھیے مجھے آپ کی باتوں سے تکلیف محسوس ہو رہی ہے…..
آپ کو اللہ کا واسطہ ہے ….
یہ بات نہیں بولیے…..
حریم کی آواز میں اب نرمی پیدا ہو رہی تھی……..
دیکھیں آپ اچھے ہیں نا!!!!
پلیز مجھے جانے دیں….
پلیز ارسلان آپ بہت اچھے ہیں نہ …..
مجھے ابو کو دوا دینی ہے…
جانے دے مجھے….
حریم اگر اب تم نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…..
میں تم سے کہہ رہا ہوں نا ….
یہاں بیٹھ جاؤ….
ارسلان کو اس کی اس حالت پر بےحد ترس آرہا تھا….
اس کو محسوس ہو رہا تھا جیسے اس تکلیف سے وہ خود گزر رہا ہے …..
حریم نے ارسلان کو خود سے دور دھکا دیتے ہوئے کہا…..
میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں….
دیکھیے میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں…..
آپ پلیز ایسا نہیں کہیں….
میرے ابو…. میرے ابو… نہیں جا سکتے ….
وہ کیسے جا سکتا ہے!!!!
اللہ جی… اللہ جی…. آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں!!!!
میں سچ بتا رہی ہوں ….
ارسلان بھائی….
اللہ جی میرے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتے….
ابو کیسے جا سکتے ہیں!!!!
اللہ جی ابو کیسے جا سکتے ہیں !!!!
حریم اپنا سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گئی….
ارسلان کی آنکھیں نم ہو رہی تھی….
حریم کو اس حالت میں دیکھ کر ….
حریم بری طرح سے سسک رہی تھی….
وہ آواز سے نہیں ….
بلکہ درد سے رو رہی تھی…….
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ….
وہ اپنے سر پر ہاتھ مار رہی تھی….
ایسا کیسے ہوسکتا ہے!!!!
اللہ جی آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں …..
اللہ جی آپ تو مجھ سے میری امی سے ستر گنا زیادہ پیار کرتے ہیں…..
تو آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں….
یا اللہ میرے ابو ….
ایک بار میرے ابّو مجھے واپس کر دے ….
میں نہیں رہ سکتی ہے ابو کے بغیر …..
میں مر جاؤں گی….
ابو پلیز ایک بار واپس آجائیں ….
اللہ جی بس ایک بار واپس بھیج دیے…
پلیز اللہ جی….
ارسلان خاموش کھڑا اس کو دیکھتا رہا ….
کہ جیسے اس کے ہاتھوں میں اب اتنی طاقت نہ تھی ….
کہ وہ اس 21 سالہ لڑکی کو سنبھال سکتا….
ہاں وہ دی گریٹ ارسلان باجوہ…
آج پہلی بار کسی کو تکلیف میں دیکھ کر خود اتنی تکلیف میں تھا ….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: