Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 16

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 16

–**–**–

وہ 21 سالہ لڑکی …..
اپنا سر پکڑے زمین پر بیٹھی تھی …..
اس کی نظر میں تو اس کی زندگی بس اب تباہ ہوچکی تھی…….
ماں کا سایہ بچپن میں سر سے اٹھ گیا تھا….
اور باپ کی شفقت سے وہ اب محروم ہوگئی تھی…….
وہ رو نہیں رہی تھی…..
بس آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ….
وہ سسک رہی تھی…..
ارسلان وہی خاموش کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا……
وہ جانتا تھا کہ…..
اس دنیا میں فلحال کوئی ایسی چیز نہیں ہے……..
جو اس وقت حریم کی تکلیف کم کرسکیں…….
ایک دم ایک نوکرانی بھاگتی ہوئی ارسلان کے پاس ……
آئیں ارسلان صاحب جلدی آئیں نیچے…..
آئے وہ تابی صاحب آئے ہیں…..
اور ظفر صاحب ان کو بری طرح دھکے دے رہے.. ہیں……
آپ پلیز جلدی سے نیچے آ جائے……
پلیز……
تابی کا نام سنا تھا کہ…..
حریم نے اپنا سر اٹھایا …..
طیش کے عالم میں وہ کھڑی ہوئی…..
وہ نہیں جانتی تھی…..
اس کی جوتیاں ….
دوپٹہ ….بال کیسے بکھرے ہوئے ہیں……
دوپٹہ وہیں زمین پر پڑا تھا…..
بے حال طیش کے عالم میں اس نے بھاگنا شروع کیا…..
ارسلان اس کو آوازیں دیتا ….
اس کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا…..
اب تک حریم سیڑھیوں پر پہنچی تھی …..
جب اس کی نظر سیڑھیوں پر سجی ایک قیمتی واس پر گی…….
بنا وقت ضائع کیے حریم نے واس اٹھایا…..
اور واپس چلنا شروع کیا……
تابی اور ظفر باجوہ نیچے لون میں کھڑے تھے …..
ظفر باجوا اس کو تنبیہ کر رہے تھے …..
جبکہ تابی اپنی صفائی پیش کر رہا تھا…..
اس سے پہلے کہ ….
حریم وہ حواس تابی کے سر پر دیکھ کر مرتی …..
ابھی صرف حریم نے ہاتھ اٹھا کر وہ دے کر مارنا چاہا تھا………
جب ارسلان نے پیچھے سے اس واس کو پکڑا …….
چھوڑے اس کو…..
میں کہہ رہی ہوں چھوڑو اس کو…..
وہ دیوانوں کی طرح چلا رہی تھی…..
جیسے اس کے سر پر بھوت سوار تھا…..
تابی کا قتل کرنے کا …..
تابی اپنی جان بچانے کی خاطر ایک دم پیچھے ہٹا…..
ظفر باجوا بھی کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے …..
پھر آگے بڑھ کر انہوں نے حریم کو سنبھالا…..
ارسلان نے ایک جھٹکے سے…..
حریم کے ہاتھ سے وہ واس لے کر پیچھے پھینکا ……
حریم تم پاگل ہو!!!!!!
یا اب ہم سب کو پاگل کرنا چاہتی ہوں!!!!!!
ارسلان نے چلاتے ہوئے کہا…
ہائے وہ بندہ….
چلاتے ہوئے بھی کتنا ہینڈسم لگ رہا تھا….
اس کے سرمئی آنکھوں میں جیسے دیکھنے والا…….
کھو سہ جائے…….
ہاں میں پاگل ہوں……..
اور اب تم سب کو بھی پاگل کر دوں گی……
تم لوگوں نے مجھے پاگل بنایا ہے!!!!! نا !!!!!!
کیا پاگل سمجھتے ہو مجھے!!!!!
میں اس گھٹیا انسان کو چھوڑوں گی نہیں …..
جس نے صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے…..
میرے باپ کی جان لی …..
حریم کے الفاظ ختم ہوتے ہی…..
تابی نے پیچھے سے بولنا شروع کیا ……
میں ایسا نہیں چاہتا تھا ……
حریم میں نے جان کا یہ سب نہیں کیا …..
ب**** بند کرو تم اپنی …..
ظفر باجوہ نے تابی کو خاموش رہنے کے لیے کہا….
تم ایک مجرم ہو تابی…..
آپ لوگ جانتے ہیں ….
ارسلان بھائی ….ظفر انکل …..
آپ لوگ جانتے ہیں …..
اس میں کیا …کیا!!!!
آپ لوگوں کے آنے سے پہلے اس نے مجھے ذہنی ٹارچر میں رکھا …..
یہ بار بار تنہائی میں میرے کمرے میں آیا کرتا تھا …..
یہاں تک کہ آپ کو یاد ہے ارسلان بھائی ….
جس دن آپ کی کال آئی تھی….
اس دن اس نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی…….
یہ گھٹیا انسان اس حد تک گر گیا تھا…..
کہ یہ سب اس نے ابو کے سامنے کیا ….
اور اب جانتے ہیں ظفر انکل ابو یہ سمجھتے تھے کہ قصور میرا ہے……
ابو خاموش رہے…..
صرف اس لئے کہ ہم نے ساری زندگی آپ کا نمک کھایا ہے……..
مگر اس نمک کی مجھے بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑ رہی تھی……..
یہاں تک کہ اس نے مجھے دھمکی دی ….
کہ اگر میں نے کسی کو بھی کچھ بتانے کی کوشش کی…..
تو یہ ابو کو جان سے مار دے گا……
اور آپ دیکھئے ظفر انکل اس نے مار دیا…….
اس نے ماردیا میرے ابو کو…..
یااللہ کاش میں پہلے بول دیتی …..
تو میرے ابو آج میرے پاس ہوتے…..
تم نے مار دیا تابی…..
تم ایک قاتل ہو….
تو مر جاؤں……
تم مر کیوں نہیں جاتے!!!!
تابی خدا کرے کہ تم موت کی دعائیں مانگو مگر تمہیں قبر نصیب نہ ہو…..
تمہارا انجام اتنا عبرتناک ہو کہ …..
تم جیسے وہ تمام مرد ….
جو صرف اپنی مردانگی کا ثبوت دکھانے کے لئے….
یا صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے …..
عورت پر ظلم کرتے ہیں …..
ان کے لئے ایک مثال قائم ہوں….
تاکہ زندگی میں کبھی کوئی مرد کسی عورت پر ظلم نہ کرے …..
یہ کہتے ہی حریم بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی….
وہاں سب کھڑے تھے …..
سب خاموشی سے کھڑے تھے…..
کوئی کچھ کہنے والا نہیں تھا …..
کہ جو کچھ وہ کہہ کر گئی تھیں…..
اس سے کہیں زیادہ کہنے کا اس کا حق تھا …..
تابی دفع ہو جاؤ یہاں سے….
ہمیں سے کوئی بھی تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا……..
ہمیں اپنی شکل مت دکھانا …..
ارسلان باجوہ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا…….
ویسے چاچو اتنا کچھ سننے کے بعد…..
کیا اب بھی ہم اس کو جانے دیں گے!!!!!
ہم اس کو معاف کردیں گے!!!!!
اتنی آسانی سے …..
اور چاچو آپ دیکھیں…..
اس کی آنکھوں میں….
اس کی آنکھوں سے آپ کو کہیں سے بھی ایسا لگ رہا ہے!!!!!!!!!!
اس کو شرم یہ ندامت ہے…..
دفع ہو جاؤ تابی یہاں سے …..
تم چلے جاؤ یہاں سے…..
مجھے افسوس ہو رہا ہے….
کہ میں اپنے خون کے رشتے کی خاطر تمہیں کچھ نہیں کہہ پا رہا …..
ورنہ جو کچھ تم نے حریم کے ساتھ کیا ہے….
خدا کی قسم تمہاری سزا اتنی عبرتناک ہونی چاہیے…..
کہ واقعی ایک مثال قائم ہو….
ارسلان بھائی فی الحال تو میں جارہا ہوں…..
مگر میں واپس ضرور آؤں گا….
کیونکہ یہی میرا گھر ہے….
یہ کہتے ہیں تابی مرکزی دروازے
______________________________________________
کچھ ہفتوں بعد….
ظفر باجوہ ارسلان باجوہ… فریال بیگم… لان میں بیٹھے تھے….
تین ہفتے گزر چکے تھے….
اس حادثے کو ….
تابی سے اب تک کوئی رابطہ نہیں تھا …
تابی کے ایک دوست فارس کے مطابق ….
تابی امریکہ چلا گیا تھا ….
حریم اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی….
مگر اب وہ کافی چپ رہنے لگی تھی….
اس نے آفس جانا چھوڑ دیا تھا….
صرف یونی… اور یونی سے گھر ….
آکر سیدھی سلام کرکے اپنے کمرے میں چلی جاتی….
آج بھی یہی ہوا ….
وہ لان سے ہوتی ہوئی اندر جا رہی تھی…
جب اس کی نظر ان سب پر گی….
قدم پلٹی….
ان کی جانب سلام کرنے گئی ….
(اسلام علیکم ) … (وعلیکم السلام)
سلام کا جواب سن کر….
حریم پلٹنے لگی جب ….
ظفر باجوہ اس سے مخاطب ہوئے….
حریم بیٹا یہاں بیٹھو ….
ہمیں تم سے کچھ بات کرنی ہے….
حریم نے ایک گہری سانس لی….
پھر کرسی گھسیٹ کر بیٹھیں….
اس حادثے کے بعد سے ….
حریم اب کافی ارسلان سے کھچی کھچی رہتی تھی ……
یہاں تک کہ….
وہ ارسلان سے نظر اٹھا کر بھی مخاطب نہیں ہوتی تھی ……
حریم بیٹا اب ہم آپ کے ولی وارث ہے ….
آپ ہماری بیٹی ہے ….
آپ کی زندگی کا ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہم رکھتے ہیں…..
کیا آپ اس بات کو تسلیم کرتی ہے !!!!
……(جی انکل )…
.شاباش میری بچی….
ہم نے آپ کے لئے ایک فیصلہ کیا ہے …..
جو ہم تینوں کا مشترکہ فیصلہ ہے…..
دیکھو حریم بیٹا ….
اپنے دل سے پہلے یہ بوجھ ختم کردوں کہ ….
رشید تم سے بد گمان تھا….
اب آج وہ جس جگہ ہے ….
وہ بے. شک حقیقت سے واقف ہوگا ….
اور بیٹا آپ نے جو صبر کیا ….
اس کا صلہ آپ کو ضرور ملے گا……
اور جہاں تک بات رہی تابی کی سزا کی….
تو بچہ اس کے لئے….
میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے معذرت چاہتا ہوں….
یہ کیا کر رہے ہیں آپ انکل!!!!!!
حریم ایک دم ان کی طرف جھکی….
انکل پلیز آپ ایسا نہیں کہیں میں باپ ہو….
اپنے بیٹے کو اس سے بڑی سزا نہیں دے سکتا….
کہ میں اور تمہاری انی ہم دونوں نے اس سے تعلق ختم کر دیا ہے ….
ایک اولاد کے لیے اس سے بڑی اور کوئی سزا نہیں ہوسکتی……
کہ جیتے جی وہ اپنے ماں باپ کے لئے مر جائے ….
نہیں انکل مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ….
مجھے انصاف میرا اللہ دے گا…
میں نے اپنا مقدمہ اس کی عدالت میں پیش کیا ہے…
جہاں تو نہ کوئی کاغذی کاروائی چلتی ہے ….
نہ ہی کوئی جھوٹی دلیل چلتی ہے….
میری بچی فریال انی نے قریب جا کر حریم کی پیشانی کو چومآ……
اس سارے عرصے میں ارسلان باجوہ خاموش بیٹھا لیپ ٹاپ پر ورک کرتا رہا…
جب ظفر باجوہ نے اس کو مخاطب کیا…. برخوردار تھوڑی توجہ ادھر بھی فرمائے…..
جی …جی …سوری….
اس نے لیپ ٹاپ بند کیا….
اور حسب معمول ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے بیٹھا………
اس نے پوری طرح اب اس سارے عرصے میں ٹھیک سے حریم پر غور کیا تھا …..
جو مرہون کرتا… اور مرہون اسٹریٹ ٹراؤزر میں ملبوس تھی ……
جارجٹ کا دوپٹا آدھے سر پر لیا ہوا تھا….
جو بار بار ہوا کے زور کے ساتھ مل کر حریم کو تنگ کر رہا تھا…..
وہ کشمیری گڑیا مصنوعی خوب صورتی کی محتاج نہیں تھی…..
کالی گہری آنکھیں…. بھرے گال …..گلابی ہونٹ….. گہری پلکے ….
کشمیری حسن اس 21 سالہ لڑکی میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ……
اس دی گریٹ بلین لوڈ نے ایک نظر اس نازک کشمیری پر ڈالیں…..
ہاں وہ واقف تھا….
کہ اب کیا بات ہونے والی ہے…..
یہ فیصلہ اس نے دو نظریے کی بنیاد پر کیا تھا…….
جو اب ظفر باجوہ سنانے والے تھے….
حریم اب جو میں آپ کو کہنے والا ہوں….
غور سے سننا بیٹھا…..
اور امید کرتا ہوں آپ میرے فیصلے کی لاج رکھی گئی….
….. (جی انکل )……
حریم دراصل میں اور آپ کی انی سعودی عرب شفٹ ہو رہے ہیں……
پاکستان میں اب ہمارے لئے کچھ نہیں….
ارسلان بھی کچھ دنوں میں جرمنی واپس جا رہا ہے …..
گھر میں کوئی نہیں ہوگا…..
یہ سب مدنظر رکھتے ہوئے…
اور حالات کو دیکھتے ہوئے …..
ہم یہ چاہتے ہیں کہ…..
آپ اب ارسلان کے ساتھ جرمنی چلے جائیں………..
کیا …!!!کیا…!!! کیا…!!! میں!!! اہ.. کیا مطلب!!!!
حریم یکدم گھبرائیں….
مطلب یہ کہ بیٹا….
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ….
اگلے ہفتے آپ کا اور ارسلان کا نکاح ہے ……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: