Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 17

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 17

–**–**–

بیٹا آپ کا اور ارسلان کا اگلے ہفتے نکاح ہے …..
کیا !!!!کیا… کیا مطلب !!!!!
کیا کہا….!!!!
آپ نے میرا!!!!! ما …میرا !!!!!
حریم نے گھبرا کر ایک نظر ارسلان پر ڈالیں…………
پھر ظفر باجوہ اورفریال باجوہ پر …..
مجھے ان سے کوئی نکاح نہیں کرنا …..
یہ کہتے ہی حریم ان لوگوں کا ردعمل دیکھئے بنا……
وہاں سے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی………….
حریم کے اس جواب پر……
ارسلان باجوہ کو سخت غصہ آیا …..
اپنی کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے کہا…..
حریم خود کو سمجھتی کیا ہے!!!
کہاں کی حور پری ہے یہ….
ایک تو ہم اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں….
اس کے لئے ایک اچھا فیصلہ کر رہے ہیں….
اور یہ اتنے نخرے کر رہی ہے….
آخر اس کو کس بات کا غرور ہے!!!!
اگر کوئی خوشی پلیٹ میں رکھ کر مل جائے نا.. .
تو واقعی ٹھیک کہا ہے کسی نے…..
اس چیز کی قدر نہیں رہتی انسان کو …..
اس کا بھی یہی حال ہے ….
اس کے لیے ہم خود ہی سارے فیصلے کر رہے ہیں…….
تاکہ اس کو کوئی مسئلہ نہ ہو…..
اس لیے یہ اتنے نخرے دکھا رہی ہے….
اس نے پاکستان میں رہنا ہے تو…..
رہے اکیلی یہی ….
میں جا رہا ہوں کل جرمنی واپس ….
مجھے بھی اس لڑکی میں کوئی انٹرسٹ نہیں ……..
میں نے صرف یہ سوچ کر یہ فیصلہ کیا تھا ….
کہ اب یہ اکیلی ہے….
اور میں اس کے دل کے حال سے اچھی طرح سے واقف ہو……..
ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے….
اور ایک وعدے کو مدنظر رکھتے ہوئے ….
چاچو میں نے آپ سے یہ فیصلہ کرنے کو کہا تھا….
مگر اس کے تو مزاج ہی نہیں ملتے…..
دماغ آٹھویں آسمان پر رہتا ہے اس کا…..
اس نے شادی کرنی ہے…
تو اس کی شادی کسی اور لڑکے سے کریں ….
..ورنہ آپ لوگ بھی سعودی عرب شفٹ ہو جائیں….
اس کو یہیں چھوڑ کر ….
حریم اسی قابل ہے اس کو اکیلا ہی چھوڑ دیں…..
یہ کہہ کر ارسلان بھی طیش میں اپنے کمرے کی جانب بڑھا….
ابھی وہ سیڑھیوں سے اوپر ہی چڑھ رہا تھا….
جب اس کو اپنا کچھ دن پہلے کیا ہوا رشید سے وعدہ یاد آیا ….
ہاں ارسلان باجوہ نے یہ وعدہ کیا تھا….
کہ وہ حریم کی حفاظت کرے گا….
تو کیا ارسلان باجوہ وہ دی گریٹ ارسلان باجوہ….
اپنا وعدہ بھول سکتا تھا …..!!!
اپنا وعدہ توڑ سکتا تھا !!!!
صرف ایک لڑکی کے جذباتی فیصلے میں آکر….
ارسلان باجوا کے نام کے ساتھ دی گریٹ اس لیے نہیں لگایا جاتا …….
کہ وہی کامیاب ترین انسان ہیں…..
بلکہ اس کے نام کے ساتھ دی گریٹ اس لیے لگایا جاتا ہے……..
اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے….
اس نے کم عمری میں رات دن ایک کیے….
ہاں وہ خاندانی طور پر اتنا امیر تھا……
کہ اپنا بزنس کرکے ایک کرسی پر بیٹھ کر بھی کامیابی حاصل کرسکتا تھا….
مگر اس نے ایسا نہیں کیا…
اس نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہا …..
15 سال کی عمر میں دم سٹارٹ میں وہ جب سکول جایا کرتا تھا …..
تو فارغ وقت میں وہ ٹیکسی چلاتا تھا….
ایک ادارے کی مدد سے اس نے ایک ٹیکسی لی……
پھر ڈرائیونگ سیکھیں….
اور اس طرح 8 گھنٹے لگاتار ڈرائیونگ کرتا تھا….
کوئی عید کوئی تہوار اس کے لیے معنی نہیں رکھتا تھا….. اس نے پاکستان میں
آٹھ گھنٹے ڈرائیونگ کے ارسلان کو……..
پورے مہینے کے( 4000 یورو) ملا کرتے تھے ……
جس میں سے (تین ہزار یورو) وہ سے سیو کیا کرتا تھا…….
باقی ایک ہزار میں پورا مہینہ گزارا کرتا …..
گھر اپنا…. اس پر سکول فی بھی لازم نہیں تھی……
کیونکہ اس کے نام کے ساتھ(orphan child)…..لگتا تھا ….
اس نام کی سختی… اور محرومی نے ….
ارسلان باجوہ کے اندر غصہ اور خاموش مزاجی پیدا کر دیں……
یہی وجہ تھی ….جو ارسلان باجوا کو بات بات پر غصہ آجاتا…..
اکیلے پن کی عادت اتنے عروج پر تھی…
کہ اب وہ اپنے گھر میں بھی کسی کا وجود برداشت نہیں کرتا ….
تین سال لگاتار ڈرائیونگ اور سیونگ کے بعد……….
ارسلان باجوا اٹھارہ سال کی عمر میں……
ایک لاکھ دو ہزاروں یورو کا اکلوتا وارث … ارسلان باجوا ….
ان سرمئی آنکھوں میں صرف کامیابی کا بھوت سوار تھا…..
19 سال کی عمر میں یہ رقم جرمنی کی گورنمنٹ کے سامنے…..
ارسلان کے وکیل(alex) نے رپورٹ کے ساتھ پیش کی……
تو جرمنی گورنمنٹ نے (#دی_گریٹ) کا ٹائٹل سے نوازا…..
اس رقم میں سے پچیس ہزار یورو ….
میں ارسلان نے 19 سال کی عمر میں….
اپنا ذاتی پیزا ریسٹورنٹ کھولا ….
کچھ ماہ بعد پھر سے رقم جمع کرنے کے بعد…..
( مرسیڈیز ای کلاس)…
کا مالک بنا….
تقریبا 20 سال کی عمر میں….
جرمنی میں ایک فوٹبال کمپٹیشن کا آغاز ہوا ……..
اسکول ٹیچرز کے اصرار پر….
اس نے کمپٹیشن میں حصہ لیا….
کمپیٹیشن میں دوسرا رینک حاصل کرنے…..
اور شاندار کارکردگی پر…..
گولڈ میڈل اور 10 لاکھ یورو انعامی معاوضہ دیا گیا …..
سیونگ کرتے کرتے اکیس سال کی عمر میں….
چار مرسیڈیز……
اور دو پیزا ریسٹورنٹ کا وہ دی گریٹ مالک بنا……
تینوں گاڑیاں ایک نجی ادارے میں دے کر….. چالیس ہزار یورو مہینہ رینٹ حاصل کرتا……
22 سال کی عمر میں…..
یہ احساس ہوا کہ ….
دینی تعلیم کہیں زیادہ ضروری ہے….
فرینک فرٹ کی ایک مسجد میں….
امام کی مدد سے قرآن تفسیر کے ساتھ سیکھا…….
اس تعلیم کے حاصل کرنے کے بعد ….
کامیابی ایسی ملی کہ….
ترقی پر ترقی کرتا گیا….
آج وہ اتنی بڑی رقم کا مالک تھا ….
کہ پاکستانی روپوں میں گنتی ….
میرے بس میں لکھنا ممکن نہیں تھی….
اس سارے عرصے میں….
ارسلان باجوہ کی زندگی میں بہت سی چیزیں بدلیں…..
مگر ساتھ ساتھ…
محرومی… اور یہ احساس…
کہ وہ دنیا میں اکیلا ہے….
سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتا ….
وہ سیڑھیوں پر ہی کھڑا تھا ….
جب یہ تمام باتیں یاد کرکے….
اس کے دل نے اس سے کہا ….
کہ ایک بار اس کو حریم سے بات کرنی چاہیے………..
ہو سکتا ہے حریم راضی ہو جائے….
اور اگر اب وہ آرام سے راضی نہ ہوئیں….
تو پھر اس کے ساتھ کسی اور طریقے سے بات کرنی پڑے گی…..
کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا …
حریم کی حفاظت کا…..
وہ قدم پلٹتا….
حریم کے کمرے کی جانب بڑھا ….
حریم بیڈ پر بیٹھی تھی….
وہ غصے سے آگ بگولا ہو رہی تھی….
دل کچھ اور کہہ رہا تھا…
مگر ظاہری طور پر….
وہ یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے حق میں نہیں تھی……
ہزار سوچو کہ بیچ جکڑی وہ 21 سالہ لڑکی………
حریم رشید …
ابھی وہ سوچوں میں ہی گم تھی ….
جب اچانک دروازے پر کسی نے دستک دینا شروع کی……
دستک دینے والا آرام سے نہیں ….
بلکہ زور زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا….
کون ہے !!!!
حریم نے آواز لگائی…
دروازہ بچانے والا اب بھی دروازہ پیٹنے میں مصروف تھا ….
جب حریم نے کھڑے ہو کر دروازہ کھولا ….
ارسلان باجوہ قدم بڑھاتا اس کے قریب گیا…..
ارسلان نے اس کو اتنی مہلت بھی نہ دیں…..
کہ وہ سنبھل سکتی…..
وہ مسلسل قدم بڑھاتا….
اس کے قریب آرہا تھا …
جبکہ وہ قدم پلٹتی….
پیچھے کی جانب بڑھ رہی تھی ….
گھبرا کر لڑکھڑا کر….
اس کا پیر مرا.حریم زمین پر گرنے لگیں….
جب ایک مضبوط ہاتھ نے….
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما ….
حریم کا سیدھا ہاتھ…
ارسلان کے الٹے ہاتھ میں جکڑا ہوا تھا…..
حریم کی آنکھیں بند تھی….
گرنے کے ڈر سے ….
اس نے فورا آنکھیں مینجھ لی ….
جب ارسلان نے اس کو…
ویسے ہی حال میں مخاطب کیا…
حریم دیکھو …
تم بالکل سیدھی راہ پر چل رہی تھی…
مگر چلتےچلتے تمہارا پیر خود ہی لڑکھڑا گیا……….
تم اس وقت گر سکتی تھی ….
مگر تمہیں ایک مضبوط سہارے کی ضرورت پڑی…….
اور دیکھو تمہیں سہارا ملا ….
انسان تب تک خود نہیں چل سکتا …
جب تک اس کے پاس مضبوط سہارا نہ ہو….
تمہیں ایک سہارے کی ضرورت ہے ….
تم ایک لڑکی ہو…
اور اس معاشرے میں ایک اکیلی لڑکی کی کوئی جگہ نہیں ہے …
میں نے دنیا دیکھی ہے….
کم عمری میں بہت سے لوگوں کا سامنا کیا ہے…….
تم سے شادی… نکاح… کرنے کا فیصلہ…
اتنا آسان نہیں تھا ….
کیا میرے لئے لڑکیوں کی کمی ہے !!!!
یا تمہارے لئے لڑکوں کی کمی ہے!!!!
ایسا نہیں ہے….
تم سے شادی کرکے ….
میں تو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں ….
اور تمہیں کیا لگتا ہے !!!
کہ تم میرے سامنے یہ جھوٹا ڈرامہ کروں گی……….
اور میں جان نہیں پاؤں گا ….!!
تمہارے دل کا حال !!!
ہاں !!!!میں جانتا ہوں….
حریم رشید ….
کے تم مجھے پسند کرتی ہو….
ارسلان کے منہ سے یہ الفاظ سنے تھے کہ….
حریم کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں….
شرمندگی کی ایک لہر اس کے وجود میں ڈوری……
مم …ما… ایسی کوئی بات نہیں ہے …
آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ….
میں نے تم سے وضاحت نہیں مانگی ….
صرف ایک سوال کیا ہے!!!!
میں ایک بار پھر تم سے پوچھتا ہوں….
حریم رشید…
میں ارسلان باجوا….
تمہیں شادی کی پیشکش کرتا ہوں…
کیا تمہیں منظور ہے!!!
حریم کچھ دیر خاموش رہی…
پھر جھجھک کر بولی….
اگر میں نہ کہوں تو !!!
ارسلان پہلے تو خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا….
پھر ایک دم اس کا ہاتھ چھوڑا …
حریم زمین پر جا گری ….
حریم کے زمین پر گرتے ہیں…
ارسلان گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھا….
تو تم اس طرح گر جاؤ گی…
مگر میں پھر….
اپنے طریقے سے تمہارا ہاتھ تھام لوں گا….
یہ بات یاد رکھنا ..حریم رشید …
میں ہوں ارسلان باجوا…
اپنا کیا ہوا وعدہ کبھی نہیں توڑتا …
جان دے سکتا ہوں …
مگر وعدہ خلافی نہیں کر سکتا …

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: