Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 18

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 18

–**–**–

یہ کہہ کر …..
چند منٹ خاموشی سے ….
ارسلان سامنے بیٹھی….
اس 21سالہ کشمیری لڑکی کو دیکھتا رہا….
جب اس نے گھبرا کر…
ارسلان باجوہ کو مخاطب کیا…….
کیا مطلب ہے!!!!
ارسلان بھائی…..
یہ میری مرضی ہے…
میں آپ سے شادی کروں… یا نہ کروں….
اور اگر میں نہیں کرتی…
تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ …..
آپ میرے ساتھ زبردستی کریں ….
اس کے بھائی کہنے پر…
پہلے تو ارسلان نے ایک گہری سانس لیں….
پھر ایک ترچھی نگاہ اس پر ڈالی….
اول تو یہ ….
حریم کے اب تم مجھے بھائی نہیں بولوں گی……….
پلیز …….
کیا….!!! کیا !!!کیا …!!!مطلب ….!!!
یااللہ حد نہیں ہوتی…!!!
تابی کو بھائی بولو تو اس کو مسئلہ ہوتا ہے…..
آپ کو بھائی بولو تو آپ کو مسئلہ ہوتا ہے…..
یہ آپ لوگوں کی خاندانی بیماری ہے کیا !!!!
آپ لڑکوں کا بس چلے تو….
آپ لوگ تو اپنی سگی بہنوں کو بھی کہے….
کہ ہمیں بھائی مت بولا کرو…..
ارسلان پھر چند منٹ اس کو دیکھتا رہا….
اور پھر چڑھ کر بولا…..
تم کتنا فضول بولتی ہونا ….
تمہارا دماغ….
اور تمہاری زبان کتنا فضول چلتی ہے نہ…..
بس کینچی کی طرح ٹر ٹر بولتی رہا کرو….
اگر اتنا تم بولتی ہوں…..
جتنا فضول دماغ میں بولنے میں لگاتی ہو…..
اتنا ہی دماغ کسی کام میں لگا لوں…..
تو کامیابی ضرور ہو جاؤ گی…..
الحمدللہ میں جتنی کامیاب ہو بہت ہے ….
مجھے اور کامیاب ہونے کی ضرورت نہیں….
خیر تم سے بحث کرنا….
یعنی بندر کے آگے بین بجانا ….
اچھا آپ تو بہت کامیاب ہے….
تو اتنے کامیاب ہوگئیے…
یہ بھی نہیں جانتے کہ ….
بین بندر کے آگے نہیں….
بلکہ بھینس کے آگے بجایا جاتا ہے …..
تمہارا کوئی علاج نہیں ہے….
تو میں نے آپ سے کہا بھی نہیں آپ میرا علاج کریں….
اور جہاں تک میرا خیال ہے….
آپ ڈاکٹر نہیں ہے…
تو علاج تو کرنا ناممکن سی بات ہے…..
حریم بس کرو…
خاموش ہو جاؤ…. خاموش….
میرا دماغ خراب نہ کرو….
آپ کا دماغ آلریڈی خراب رہتا ہے….
مجھے کرنے کی ضرورت نہیں ہے….
تمہاری زبان واقعی قینچی کی طرح چلتی ہے …….
خیر….. میں تم سے جو کہنے آیا تھا…..
اب وہ دوبارہ نہیں کہنے آؤنگا….
کیونکہ بہت منتیں کر چکا….
میں تمہاری….
امید کرتا ہوں کہ تمہیں میری بات سمجھ آگئی ہوگی……
اور اب چاچو اور چاچی تم سے بات کریں گے……….
تو تم ان کی بات پر منفی ردعمل ظاہر نہیں کروں گی …….
ایکسکیوز می…..
آپ کو کیا لگتا ہے!!!!
کہ کیا میں مان گی ہو…!!!
میں آپ میں کوئی انٹرسٹڈ نہیں ہوں…
اور خدا کا واسطہ ہے ….
اب اس موضوع پر مجھ سے دوبارہ کوئی بات مت کیجئے گا……
ٹھیک ہے… ٹھیک ہے….
تو پھر اگر تم ایسا چاہتی ہو…..
تو ایسا ہی ٹھیک….
تو پھر اب میں وہ کروں گا….
جو مجھے ٹھیک لگتا ہے ….
حریم رشید تم مجھے بہت ہلکا لے رہی ہو …..
خدا کی قسم اگر میں نے وعدہ نہ کیا ہوتا نہ…………
تو میں کب کا تمہارے ……
اتنا کہہ کے ارسلان نے اپنے الفاظ روکے…..
کیا….!!! کیا مطلب ہے….!!!! آپ کا !!!!!
کیا جا رہیں…
کہاں جا رہے ہیں….!!!!
پوری بات کرکے جائیں….
ہمت نہیں ہے !!!!!
ارسلان نے دروازے پر رک کر ….
اس کی طرف رخ موڑا…..
تم میری ہمت دیکھنا چاہتی ہوں نا !!!!!!
تم بہت جلد دیکھ لوں گی…..
یا اللہ میں کیوں کروں ان سے شادی…!!!
میں نہیں کرنا چاہتی ان سے شادی….
ارسلان صرف مجھ پر ….
رحم اور ترس کھا کر یہ فیصلہ کر رہے ہیں…..
مجھے بھی بھیک میں کوئی بھی چیز منظور نہیں…..
تو پھر ایک نیا رشتہ….
جو میں نے ساری زندگی نبھانا ہے….
وہ میں ہرگز نہیں جور سکتی….
صرف اس بنیاد پر کہ….
انہوں نے کسی سے وعدہ کیا ہے….
اور بھلا انہوں نے کس سے وعدہ کیا ہے….
جو پورا کرنے کے لیے ….
وہ اس حد تک جا سکتے ہیں ….
حریم شیشے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی….
جب اس کا عکس خود اس سے مخاطب ہوا….
حریم تم سچ کو جھٹلا نہیں سکتی….
کیا تم یہ نہیں جانتی کہ…..
تم واقعی ارسلان باجوہ سے پیار کرتی ہوں…..
اور تم یہ بات ان پر صرف اس لئے ظاہر نہیں کر رہی ہوں……
کیونکہ تمہاری انا کو ٹھیس پہنچے گی….
نہیں ایسی بات نہیں ہے …..
میں نہیں کرتی ان سے پیار….
میں واقعی ان سے پیار نہیں کرتی….
یہ ان سے صرف اٹریکشن ہے مجھے….
اٹریکشن محبت کی اس سی سیڑھی کا نام ہے…….
اس پر تم قدم رکھ چکی ہو….
حریم رشید ….
تم سچ کو جھٹلا نہیں سکتی….
آج وہ خود تمہارے در پر آئے ہیں….
تم سے رشتہ جوڑنے ….
یہ نہ ہو تمہارے نخرے تم پر بھاری پڑ جائیں……….
فضول نہ بولو تم زیادہ…..
میں نہیں کرتی ان سے محبت….
اور وہ کیا کریں گے….!!!
ہاں ….کیوں کریں گے وہ مجھ سے زبردستی…..
یہ میری زندگی ہے….
میری مرضی ہے….
قانونی اور شرعی طور پر میرا حق ہے….
کہ میں اپنی ذاتی زندگی کے لیے….
اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکوں….
بس تو پھر کرلیا میں نے فیصلہ….
کچھ بھی کرلیں وہ…
میں نہیں کروں گی شادی ان سے….
یہ کہہ کر حریم پیر پٹکتی واشروم میں چلی گئی…..
____________________________________💝
ارسلان نے فریال بیگم کے دروازے پر دستک دی…….
سوری چاچی….
آپ لوگ بزی تو نہیں تھے!!!!
میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا !!!
نہیں… نہیں… بیٹا آجاؤ….
ظفر باجوہ نے شفقت بھرے انداز میں کہا ….
وہ بیڈ پر لیٹے تھے….
ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا…..
کہ ان کی طبیعت کچھ ناساز ہے ….
فریال بیگم ان کے سرہانے بیٹھی….
ہاتھوں پر کچھ مل رہی تھی….
بیٹا خیریت تو ہے!!!
اتنی رات گئے آپ یہاں پر….
کوئی خاص وجہ !!!
چاچو مجھے حریم …
اور اپنے بارے میں کچھ بات کرنی ہے….
جی …جی بیٹا بولے …خیر تو ہے..!!!
فریال بیگم بیچ میں جھٹ سے بولیں…
کیا حریم مان گی!!!
نہیں چاچی وہ نہیں مانی….
اور میرا نہیں خیال کہ وہ مان جائے گی….
اتنی آسانی سے ….
وہ صرف ظاہری طور پر ہم سے ضد کر رہی ہے………
مگر کس بات کی ضد….!!!
بیٹا آپ اتنے اچھے ہیں …
ہر لحاظ سے اس کے قابل ہیں….
آپ دونوں کی جوڑی بہت اچھی رہے گی ….
تو پھر وہ ایسا کیوں کر رہی ہے…!!
کیا آپ نے وجہ جاننے کی کوشش کی…!!!
چاچو میں نے اس سے کافی دیر بعد کی….
مگر اس کی طرف سے کچھ خاص ردعمل نہیں ملا ….
مگر ایسا کیوں ہے بیٹا….!!!
حریم ماشاءاللہ سے کافی سمجھدار ہے ….
وہ ایسی بچی تو نہیں ہے…
کہ ہم اس کو کوئی بات سمجھائی…
اور وہ ہماری بات نہ مانے….
میں خود نہیں جانتا …
کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے…
خیر میں آپ لوگوں سے ایک بات کی اجازت….
اور ایک بات بتانے آیا ہوں….
دراصل مجھے پرسوں کی فلائٹ سے….
واپس جرمنی جانا ہے ….
ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے….
میں چاہتا ہوں کہ….
حریم اور میرا کل ہی ہو جائے………..
تاکہ میں اور حریم ساتھ جرمنی چلے جائیں….
بیٹا کل !!!
مگر اتنی جلدی کیوں !!!!
اور پھر آپ ہی کہہ رہے ہیں کہ….
حریم بھی راضی نہیں ہیں…
چاچی وہ کبھی راضی نہیں ہو گی ….
میں.. آپ…. اور چاچو ….
اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ …
وہ صرف بلاوجہ کی ضد کر رہی ہے….
مگر بیٹا اگر وہ راضی نہیں ہے….
تو ہم اس کے ساتھ زبردستی کیسے کر سکتے ہیں…..!!!
زبردستی کیسی چاچو ….!!!
ہم اس کے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کر رہے نا….
کیا آپ کو لگتا ہے…
میں کیا خیال نہیں کروں گا….
ایسی بات ہے تو آپ مجھے بتا دیں….
میں نہیں کرتا اس سے نکاح….
نہیں بیٹا …
میرا وہ مطلب نہیں تھا…
تو پھر چاچو میں ہر لحاظ سے حریم کے…
وہ ہر لحاظ سے میرے قابل ہیں ….
ہم اب اس کے ولی وارث ہیں ….
اس کے اچھے…
اور غلط کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں….
اور ہم جو فیصلہ کر رہے ہیں…
وہ صرف میرا فیصلہ نہیں….
ہم تینوں کا مشترکہ فیصلہ ہے…
یہاں تک کہ حریم بھی…
میں جانتا ہوں کے دلی طور پر اس فیصلے کے لیے رضامند ہے ….
مگر وہ ظاہری طور پر رضامند نہیں ہے…
جس کی وجہ میں خود بھی نہیں جانتا….
میرے پاس وقت بہت کم ہے …
مجھے پرسوں کی فلائٹ سے جانا ہے….
اس لیے ہمیں نکاح کل ہی کرنا ہوگا ….
چاچی آپ ایک بار پھر اسے بات کریں ….
اور اس کو کل نکاح کا ڈریس بھی دے دیں…
اگر وہ مان جاتی ہے…
تو بہت اچھی بات ہے…
اور اگر نہیں مانتی تو…
بس پھر اب اس سے کوئی کسی قسم کی بات نہیں کرے گا….
صرف اس کو یہ بات بتا کر آئے گا….
کہ کل میرا اور اس کا نکاح ہے…
بات ختم….
یہ کہہ کر ارسلان اس کمرے سے باہر گیا….
______________________________💝
حریم نیچے لان میں پھولوں کے ساتھ بیٹھی تھی….
وہ جب بھی اداس ہوتی تھی ….
تو نیچے لان میں پھولوں کے پاس جا کر….
کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ جایا کرتی تھی….
آج بھی وہ بہت اداس تھی….
اس کا دل بے چین تھا…
وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی …
کہ اس کو کیا کرنا چاہیے…
جب فریال بیگم کی آواز اس کے عقب سے آئی……..
حریم میری جان آپ یہاں بیٹھی ہیں….
ہم آپ کو پورے گھر میں ڈھونڈ رہے ہیں…
یہ کہتے ہوئے فریال بیگم….
ایک کرسی اس سے قریب رکھ کر…
اس پر بیٹھی….
حریم بیٹا ….
میں نہیں جانتی کہ آپ ضد کیوں کر رہی ہیں….
آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا….
کہ ہم نے آپ سے کچھ کہا ہو….
اور آپ نے اس بات پر انکار کیا ہو ….
مگر اس بات پر آپ جیسے اڑ گئی ہیں….
انی پلیز ….
مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی….
میں ارسلان بھائی تو کیا …
کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی ….
فلحال میں اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتی ہو……..
تو بیٹا ارسلان آپ کو منع نہیں کر رہے ….
لیکن انی میں نہیں چاہتی …
ان سے شادی کرنا ….
حریم بیٹا آپ تو ہماری پیاری بیٹی ہے نہ…
آپ کیا ہماری بات نہیں مانی گئی!!!!
انی پلیز ….
حریم نے فریال بیگم کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا…..
پلیز مجھے فورس مت کریں….
میں…. ذہنی طور پر ابھی اس سب کے لئے راضی نہیں ہوں ….
دیکھیں بیٹا….
ارسلان بہت غصے میں ہیں ….
اور انہوں نے تو مجھے منع کیا تھا کہ ….
میں اب آپ سے اس حوالے سے کوئی بات نہ کرو……
کیونکہ وہ اپنے طور پر ….
آپ سے ہر طرح سے بات کر چکے ہیں….
جب آپ نے منفی رد عمل ظاہر کیا….
تو انہوں نے خود ہی فیصلہ کر لیا ہے….
کیسا فیصلہ انی !!!
حریم کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے ….
دراصل وہ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کے….
آپ کا اور ان کا نکاح اگلے ہفتے نہیں….
…….. بلکہ کل ہوگا….
آپ کا ڈریس ہم نے آپ کے روم میں رکھوا دیا ہے……
یہ کہہ کر حریم کا ردعمل دیکھئے بنا…..
وہاں سے چلی گئی….
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ….
اب حریم یا تو ان کے آگے روئے گی…..
یا پھر غصہ کرے گی…..
اسلئے وقت ضائع کیے بنا وہاں سے چلی گئی………..
حریم منہ کھولے بس ان کو جاتا دیکھتی رہی …….
__________________________________
وہ اپنی آستینوں کے کف لگا رہا تھا……..
وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس……….
بلیک شال کندھے…
اور ہاتھ پر نفاست سے لی ہوئی تھی …..
آج پہلی بار اس نے شلوار قمیص زیب تن کی تھی….
وہ بے انتہا حسین لگ رہا تھا….
سرمئی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی…..
گلابی ہونٹوں پر ایک حسین مسکراہٹ….
وہ خود بھی اپنے جذبات نہیں جان رہا تھا….
کہ اتنا حسین کیوں ہے!!!!
ہاں وہ واقعی دی گریٹ تھا ….
وہ دی گریٹ کہلانے کے قابل تھا….
وہ تھا ارسلان باجوا…..
ہاں کہ جیسے دی گریٹ بنا ہیں ارسلان باجوہ کی شخصیت کے لئے تھا …..
کچھ دوست اور مہمان آ چکے تھے……
قاضی بھی نیچے بیٹھا بس ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا….
جب ارسلان باجوہ کے کمرے کے دروازے پر ……
ظفر باجوا… اور فریال باجوہ…
نے دستک دی…..
جی آجائیں …..ہے….
ماشاء اللہ …ماشاء اللہ….
اللہ نظر بد سے بچائے….
بھلا کوئی اتنا حسیں بھی لگ سکتا ہے سفید رنگ میں….!!!
گلابی ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی…..
یہ تو آپ کی محبت ہے چاچی ….
ان دونوں کی بات کاٹتے ہوئے….
ظفر باجوہ نے سنجیدگی سے ارسلان کو مخاطب کیا……
ارسلان ہم حریم کے کمرے میں گئے تھے….
بیٹا وہ تیار نہیں ہوئی اب تک……
کیا مطلب ہے ….
اس کا دماغ بھی خراب ہو رہا ہے…..
میں خود دیکھتا ہوں…. اس کو…..
یہ کہتے ہوئے ارسلان دروازے کی جانب بڑھا ….
جب ظفر باجوہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے….
اس کو روکا……
کدھر جا رہے ہو بیٹا!!!!
چاچو میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں….
کیا مجھے اجازت ہے!!!!!
ارسلان نے سوالیہ انداز میں ظفر باجوہ کو دیکھتے ہوئے کہا ……
جی بیٹا میں آپ کو اجازت دیتا ہوں…..
ان کے یہ الفاظ سنتے ہیں….
ارسلان حریم کے کمرے کی جانب بڑھا…..
وہ بیڈ پر بیٹھے کھڑکی کی جانب دیکھ رہی تھی….
جب بنا دروازے پر دستک دیے….
وہ سیدھا اس کے کمرے میں داخل ہوا ….
حریم کے کپڑے ویسے ہی پیک ہوئے رکھے تھے ….
ارسلان بھائی یہ بھلا کیا طریقہ ہوا …!!!
اندر آنے کا کوئی طریقہ ہوتا ہے….
کوئی تہذیب ہوتی ہے ….
کس کی اجازت سے آپ میرے کمرے میں آئی…
ارسلان نے اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے….
وہ پیک کپڑے کھولے….
اس میں سے دوپٹہ نکال کر….
اس کے سر پر پھیلایا ….
یہ کیا کر رہے ہیں آپ !!!!
ہٹے …..دور یہاں سے…..
بنا کوئی وضاحت سنی…
اس نے حریم کی کلائی پکڑی….
اور نیچے سیڑھیوں کی جانب بڑھا….
حریم سے چلاتی رہی وضاحت کرتی رہی….
مگر اس نے ایک نہ سنی…..
ہائے وہ لمحہ وہ …..
ارسلان حریم کو نیچے لے کر آرہا تھا ….
حریم کا سرخ دوپٹہ ہوا کے زور کے ساتھ پھیلا جارہا تھا…
وہ منظر بہت حسیں تھا ….
ارسلان کے حریم کو اس طرح لانے پر ….
سب کی توجہ ان دونوں پر گی….
ارسلان حریم کو زبردستی اپنے ساتھ سوفیے پر لےکر بیٹھ گیا….
اس نے ابھی بھی ہیں حریم کی کلائی پکڑی ہوئی تھی….
قاضی صاحب نکاح شروع کروائیں …
یہ کیا ہو رہا ہے !!!
انی انہیں آپ دیکھ رہی ہیں ….
…….خاموش رہو …..
ارسلان نے اس کا ہاتھ بری طرح دبایا …..
جس پر اس نے ایک ترچھی نگاہ ارسلان پر ڈالیں …..
حریم بنت رشید احمد….
آپ کا نکاح ارسلان باجوا ولد عثمان باجوا سے…
باعیوض حق مہر 25 لاکھ روپے کروایا جاتا ہے….
کیا آپ کو قبول ہے …!!!!!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: