Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 19

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 19

–**–**–

حریم بنت رشید احمد ….
آپ کا نکاح ارسلان ولد عثمان باجوہ سے…
باعیوض حق مہر 25 لاکھ روپے…
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے…!!!
حریم خاموش بیٹھی رہی ….
بیٹا حریم….
بنت رشید احمد…
آپ کا نکاح ارسلان ولد عثمان باجوہ سے…
باعیوض حق مہر 25 لاکھ روپے کیا جاتا ہے….
کیا یہ نکاح قبول ہے!!!!
ارسلان نے ایک ترچھی نگاہ حریم پر ڈالیں …
پھر اس کے کان کے قریب آ کر بولا….
تمہارے پاس (نہیں) کا آپشن نہیں ہے…..
حریم …میرا …اور اپنا …اور باقی سب کا …
وقت ضائع نہیں کرو….
اور ہاں کرو ….
حریم نے ایک نفرت بھری نگاہ ارسلان پر ڈالی….
اور پھر سامنے بیٹھی فریال بیگم اور ظفر باجوہ کو دیکھا …..
جن کے چہرے سے یہ صاف ظاہر تھا ….
کہ وہ لوگ رضامند ہیں….
کوئی دوسرا راستہ نہ دیکھ کر ….
حریم نے کہا …
ہاں مجھے یہ نکاح قبول ہے…
قبول ہے …قبول ہے….
ارسلان ولد عثمان باجوہ….
آپ کا نکاح حریم بنت رشید احمد سے…
باعیوض حق میں ہے 25 لاکھ روپے کیا جاتا ہے……
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے….
بنا وقت ضائع کیے ارسلان نے جواب دیا ….
قبول ہے.. قبول ہے… قبول ہے…
…..( دعائے خیر )….
دعا کے مکمل ہوتے ہی…
حریم نے ارسلان کو مخاطب کرتے ہوئے بولا….
یہ جو کچھ کیا ہے آپ نے….
اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا….
میں نے آپ سے شادی تو کر لی …
مگر زندگی میں آپ کو کبھی وہ رتبہ نہیں دوں گی ….
جو ایک بیوی شوہر کو دیتی ہے….
یہ کہہ کر حریم وہاں سے چلی گئی….
وہاں بیٹھے تمام لوگ خاموشی سے حریم کو دیتے رہے…..
مگر ارسلان باجوہ کو فرق نہیں پڑتا تھا….
کیونکہ وہ جو چاہتا تھا…
وہ کر چکا تھا ….
اب حریم کی کسی بھی بات سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ….
اور جہاں تک بات رہی حریم کی زبان درازی کی……..
تو وہ اب اس کو بہت اچھے سے قابو کرنا جانتا تھا …..
کیونکہ وہ تھا دی گریٹ ارسلان باجوا…..
حریم غصے میں پیر پٹکتی اپنے کمرے میں آئی……..
کمرے میں آتے ہی….
اس نے سر سے دوپٹہ کھینچ کر زمین پر پھینکا…….
حریم اس وقت اس قدر غصے میں تھی….
کہ جیسے اس پر جنون سوار تھا …..
ہاں اس کا غصہ اس کی طرف سے جائز تھا….
کیونکہ اس کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی…
اس کے فیصلے کے خلاف جا کر ….
اس سے زبردستی شادی کی گئی تھی….
تو اس کا یہ ردعمل اس کی نظر میں جائز تھا……..
اس وقت غصے کا یہ عالم تھا ….
کہ اگر ارسلان باجوہ اس کے پاس آتا….
تو اس کا سر پھاڑ دینے کی ہمت رکھتی تھی….
جب بھی اس کے دروازے پر دستک ہوئی….
دروازہ بجانے والا دوبارہ اجازت لیے بنا…
اندر آیا ….
وہی تھا …ہاں وہی ..تھا….
دی گریٹ ارسلان باجوا ….
وہ مطمئن…. بہت ہی مطمئن تھا….
وہ خاموشی سے حریم کے قریب آیا ….
جو چیر پھاڑ دینے والی نگاہ سے اس کو دیکھ رہی تھی …..
کس کی اجازت سے میرے کمرے میں آئے!!!! ہیں…
وہ سامنے کھڑا خاموش رہا ….
سرمئی آنکھیں کافی پرسکون تھی ….
جیسے وعدہ پورا ہونے کا سکون….
اس کی روح کو مل گیا تھا….
میں آپ سے آخری دفعہ پوچھ رہی ہوں …
کس کی اجازت سے آپ میرے کمرے میں آئے ہیں……!!!!
حریم کی اس دھمکی دینے والے انداز پر….
ارسلان باجوہ اپنی ہنسی قابو نہ کر سکا ….
اور ایک دم مسکرایا ….
یا بلکہ وہ مسکرایا نہیں تھا….
اس نے قہقہہ لگایا تھا ….
جس پر حریم کے جسم میں جیسے آگ سی لگ گئی…..
اچھا تو اگر میں تمہیں نہیں بتاؤں گا….
کہ میں یہاں کس کی اجازت سے آیا ہوں…
تو تم کیا کرو گی میرے ساتھ!!!!
مجھے تو سوچ کر بھی بہت ڈر لگ رہا ہے….
ویسے تم کیا کرو گی….
ارسلان باجوہ نے شرارت بھری نگاہوں سے…
حریم کو دیکھا….
جو اس وقت غصے سے آگ بگولا ہو رہی تھی…
سامنے کھڑی وہ 21 سالہ لڑکی …
اور مقابل کھڑا وہ 27 سالہ نوجوان…
ہائے وہ زبردست جوڑی ….
بولو ….بولو…. لڑکی خاموش کیوں کھڑی ہو …
اگر میں تمہیں نہیں بتاؤں گا….
کہ میں کس کی اجازت سے آیا ہوں….
تو تم کیا کرو گی میرے ساتھ….
کیا مجھے اٹھا کر پھینک دوں گی….
کیا اتنی طاقت ہے تمہارے ہاتھوں میں….
ارسلان اس کی خاموشی اور اس کے غصے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا …..
وہ خوب مزے لے رہا تھا….
حریم کہ غصے کا….
اور حریم جو ظاہری طور پر غصے میں تھی…
مگر اندرونی طور پر اس کے دماغ میں ایک خیال آیا…..
کہ وہ کیا جواب دے اس کے اس سوال کا…
واقعی وہ بھلا اس 27 سالہ نوجوان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی….
اچھا خیر چھوڑو …..
میں تمہیں صرف اتنا کہنے آیا ہوں….
کہ کل دوپہر 2 بجے کی ہماری فلائٹ ہے…
ہمیں جانا ہے….
اور ہاں میں بہت تھک چکا ہوں…
تم میرے کمرے میں کافی لے کر آ جاؤ ….
یہ کہہ کر ارسلان کمرے سے باہر جانے کی…
جانب بڑھا ….
میں اور آپ کے لیے کافی لے کر آؤں ..!!!
اس میں زہر نہ ملا دو ….
تم لے کر آؤں گی تو وہ کسی زہر سے کم نہیں ہوگی….
خیر جتنا کہا ہے اتنا کرو….
اور جا کر کافی لے کر آؤ…
میرے کمرے میں…
کافی تھک چکا ہوں…..
شاور لینے جا رہا ہوں….
یہ کہہ کر حریم کا جواب سنے بغیر ….
وہاں سے چلا گیا ….
حریم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا …
مطلب اس کو فی الحال تو….
یہی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ حریم رشید سے……..
حریم باجوہ بن چکی ہے ….
اور اب ارسلان باجوا کا یہ رویہ….
وہ اس کے لئے ناقابل تسلیم تھا….
میں اندر آجاؤ…….
تین بار پوچھنے پر جب جواب نہ ملا تو حریم اندر آئی……
آج نو سال بعد وہ اس کے کمرے میں آئی تھی…….
کمرے میں اور کوئی نہیں تھا…….
حریم نے ایک لمبی سانس لی اور مسکرائی……
کافی مگ بیٹھ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا…….
اور باہر جانے کے لیے مری……
جب وہ شرٹ لیس واش روم سے باہر نکلا ……
حریم کے پیروں تلے زمین نکل گئی……
وہ سامنے کھڑا حریم کو دیکھ رہا تھا…….
چٹانوں جیسا سینا سرخ گال سرمئی آنکھیں وہ27 سالہ حسین نوجوان ارسلان باجوہ اس کے قریب بڑھا ……..
اپنے قریب آتا دیکھ کر حریم دروازے کی قریب بھاگئی…….
مگر ارسلان باجوہ نے اس کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا ….
اس طرح کھینچنے پر حریم کے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر گئے……….
یااللہ ااا میں مم خود نہیں آئی تھی …….
آپ نے ہی کہا تھا کہ کافی لے کر آؤں ….
میں اس لیے آئی تھیں ….
میں کافی دیر سے دروازہ بجا رہی تھی….
پر مجھے کوئی جواب نہیں ملا ….
میں اس لیے اندر آ گئی ….
حریم نے بے قابو ہو کر بولنا شروع کیا….
کیونکہ اس کو نو سال پہلے ہونے والا وہ واقعہ یاد تھا ……
جب وہ بنا اجازت ارسلان باجوا کے کمرے میں آئی تھی….
آج بھی وہ بنا اجازت آئی تھی….
تو ایک خوف سا تھا …
اس کے دل میں….
کہیں پھر سے اس کے ساتھ یہاں کچھ غلط نہ ہو جائے…
ششش ارسلان باجوا نے اپنی انگلی کے اشارے سے مقابل کانپتی 21 سالہ لڑکی کو چپ رہنے کا اشارہ کیا………
کیا …کیا… مطلب…. یہ کیا طریقہ ہوا بھلا !!!!
یہ اس فضول سی حرکت کے لیے بلایا تھا ….
حریم بکھلائی ہوئی تھی…..
تم کافی لے کر آگئی ہو!!!!
یہ کہتے ہوئے ارسلان ڈریسر کی جانب گیا …..
اچھا حریم ایک کام کرو ….
میری الماری سے ایک شرٹ نکال کر لاؤ …
حریم حیرانی سے کھڑے سامنے اس 27 سالہ نوجوان کو دیکھ رہی تھی ….
جو یہ ظاہر کرتا رہا تھا کہ ….
اس کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا….
کہ حریم اس کو کیا کہہ رہی ہے ….
میڈم میں لیٹ ہو رہا ہو…
جاؤ پلیز جلدی کرو ….
شرٹ لے کر آؤں …
حریم نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے الماری سے ایک بلیک شرٹ نکالیں …..
اور ہاتھ لمبا کر کے ارسلان کے منہ کی جانب شرٹ کی……. ارسلان ایک دم پیچھے کی جانب ہٹا ……
ورنہ ہینگر سیدھا ارسلان کی آنکھ میں جا کر لگتا ….
ارسلان نے ایک ترچی نگاہ حریم پر ڈالیں ….
جو اسکی مقابل سمٹ دیکھ رہی تھی….
مگر وہ بھی ارسلان باجوا تھا ….
وہ جانتا تھا کہ اس کشمیری لڑکی کو کس طرح کابو کرنا ہے…….
اس نے حریم کے ہاتھ سے شرٹ لیں ….
اور ڈریسر سے دو قدم دور ہٹا….
ادھر آؤ اور اس میں سے کفلنکس دو پلیز ….
حریم غصے میں پاگل ہو رہی تھی….
حریم نے غصے میں ارسلان کو دیکھا….
اگر میں تمہیں اتنا اچھا لگ رہا ہو….
تو رات کو تسلی سے بیٹھ کر مجھے گھورنا….
ابھی مجھے کفلنکس نکال دو….
مجھے دیر ہو رہی ہے ….
اب جاؤ بھی حریم نکال دو مجھے….
حریم نے غصے میں ڈارز کھولا….
کفلنکس نکالی….
اور سائیڈ پر رکھ کر وہاں سے جانے لگی ….
جب ارسلان میں اس کو کلائی سے پکڑ کے اپنی جانب کی کھینچا…..
سرمئی آنکھوں میں سرخ نسے نمودار ہوئی….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: