Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 2

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 2

–**–**–

حریم ارسلان کو جاتا دیکھ رہی تھی……
تبھی اس کو ایک بات یاد آئی……
فریال انی نے کہا تھا کہ ارسلان بھائی کے پاس بہت ساری ٹرافیز ہیں …….
حریم اٹھ کر ارسلان کے کمرے میں گئیں…..
تمام فنیچر بلیک کلر کا تھا ہر چیز شیشے کی مانند چمک رہی تھی ……
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے کمرے میں گئی…..
آج آٹھ سالوں میں حریم پہلی بار اس کے کمرے میں گئی تھی……..
جب اس کی نظر سامنے سٹدی ٹیبل پر گی وہاں کچھ ٹرافیز ایک شیشے میں رکھی ہوئی تھی …….
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس سے ٹیبل کے قریب گی……….
یکدم گاڑی کے ھارن کی آواز سنائی دی…….
یقینا ارسلان بھائی آگئے یااللہ…..!!!!!
وہ جیسے ہی مری اچانک اسکا ہاتھ پینسل مگ پر لگا…………
اور تمام پینسل زمین پر بکھر گئی……
. وہ جلدی جلدی وہ پینسل سمیتنے لگی…….
مگروہ کپ ٹوٹ چکا تھا……
کانچ کے ٹکڑے زمین پر گرے ایک نئے عذاب کا اعلان کر رہے تھے ……..
جب حریم کی نظر سامنے کھڑے انسان کے جوتوں پر پڑی…….
حریم کا جسم کانپ رہا تھا ……..
…………………..( کس کی اجازت سے)…….????
. ارسلان نے دانت پیستے ہوئے کہا ……
………………….(کس کی اجازت سے )……….
جواب دو……!!!!!
ایک زور دار تھپڑ حریم کے منہ پر لگا …….
اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے ……
وہ حریم بری طرح سے سسک رہی تھی……
تبھی ارسلان نے زمین پر بکھرے کانچ کے ٹکڑے اپنے ہاتھوں میں سمیٹے ……
وہ کانچ کے ٹکڑے ارسلان کے ہاتھوں کو چیر پھاڑ رہے تھے……..
کبھی ارسلان نے حریم کو بازو سے پکڑا …..
اور کھڑا کیا ……..
مجھے معاف کردے…. ارسلان بھائی…..
پلیز ……
ارسلان نے حریم کا ہاتھ پکڑا اور وہ کانچ کے ٹکڑے اس کی ہتھیلی میں رکھے……..
اور بری طرح حریم کا ہاتھ دبایا …….
یا اللہ میرا ہاتھ…… یا اللہ ….
ارسلان بھائی….. چھوڑ دیں……
چھوڑ دے …..مجھے…. پلیز مجھے ….
درد ہو رہا ہے….. جانے دے معاف کردے مجھے……
حریم پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی……
حریم کی چیخیں سن کر…. تابی …..
جو ابھی گھر آیا تھا …….
بھاگتا ہوا ارسلان کے کمرے میں آیا …….
بھائی یہ کیا کر رہے ہو….. چھوڑ دو اسکو…….
تابی نے بمشکل حریم کا ہاتھ ارسلان کے ہاتھ سے چھوڑ آیا………
آج کے بعد میرے کمرے میں آنے…..
یا …….
میری کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانے کی ……..
غلطی….. غلطی سے بھی نہیں کرنا…….
اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے………
حریم بلکتی ہوئی بامشکل سیڑھیوں تک ہی گئی…….
تابی بھاگتا ہوا( فرسٹ ایڈ باکس) لے کر آیا تھا ……
دکھاؤ مجھے ……… نہیں….. نہیں …….
درد ہو رہا ہے……… نہیں….. نہیں………
ارے دکھاؤ مجھے ……..
اور پلیز کسی کو بتانا نہیں جو کچھ ہوا…….
نہیں میں بتاؤں گی…… فریال آنی کو …….
دیکھو میرا ہاتھ اتنی درد ہو رہی ہے…….
دیکھنا ارسلان بھائی دوزخ کی آگ میں جلیں گے ……
اور میں جنت میں کھڑی ہوکر ان کا مذاق اڑاؤ نگی…..
حریم وہ بھی تو دیکھو اپنی جگہ ٹھیک ہیں……
تم بھی تو پہلے بنا اجازت ان کے کمرے میں گئیں…..
پھر ان کی چیزیں بھی توڑ دیں ……
تو تمہیں بھی پتہ ہے نہ وہ تو ویسے ہی غصے کے تیز ہیں………
تابی نے اس کے ہاتھ کی پٹی کی……
اچھا اب تم جاؤ اور جا کر سو جاؤ …….
اور ہاں صبح ہو کر کسی کو اس بارے میں نہیں بتانا…….
________________________________________________
وہ بیڈ پر لیٹا تھا…….
ارسلان کی عادت تھی وہ بیڈ پر سیدھا نہیں لیتا تھا….
سر ایک کونے میں جہاں عموما ہم پیر رکھتے ہیں…..
اور پیر وہاں جہاں عموما ہم سر رکھتے ہیں……
وہ فٹبال کا گولڈ میڈلسٹ آنکھیں بند کئے گہری سانسیں لے رہا تھا………..
اس کے ہاتھ کا زخم سوکھ چکا تھا …….
جو کچھ دیر پہلے کانچ پکڑنے سے اس کو لگا تھا …….
مگر درد کی شدت بہت تھی جو کہ زخم کافی گہرا تھا………..
_______________________________________________
ہیلو ہاں بولو…….!!!!!!
تابی اپنے کمرے میں سرگوشی میں بیٹھا کسی دوست سے فون پر بات کر رہا تھا……..
یار تو دیکھ کسی کی بھی تصویر بھیج دے……
مان لے گی……..
ویسے بھی ایڈیٹنگ کی ہوئی ہے آواز کی ……
نہیں پہچانے گی………
ہاں توجتنے پیسے نکلوانا چاہتا ہے نکلوالے…….
بس مجھے وہ روتی ہوئی چاہیے…….
بہت ب**** کر رہی تھی نہ……..
اس دن …….!!!!
اب ہوش آئے گا کہ ……..
زبیر باجوہ سے اونچی آواز میں بات کرنا ایک سزا ہے …………
اب میں فون رکھتا ہوں………
کسی نے دیکھ لیا تو نقصان ہو جائے گا…….
تابی نے ایک گہری سانس لی……..
موبائل سے سم نکالی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کے نیچے چھپا دیں………
تابی صرف 12 سال کا تھا …..مگر …..
اس کی حرکتیں ناقابل برداشت تھی…….
ظفر باجوا شہر کے معروف بزنس مین میں شمار تھے…………..
ایک ایماندار شخص جن کی صرف ایک ہی اولاد تھی……….
اور وہ تھا زبیر باجوہ#تابی………
______________________________________________
سب ڈائننگ ایریا میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے …….
ارسلان چپ چاپ ناشتہ کرنے میں مصروف تھا……
جب کہ تابی کبھی موبائل میں حاضری لگاتا تو کبھی ناشتے پر نظر کرم فرماتا…………..
ظفر باجوہ نیوز پیپر پڑھنے میں مصروف تھے …….
اور فریال بیگم بریڈ پرکرسٹ لگا رہی تھی……..
جب بھی ان کی نظر سامنے سے گزرتی حریم پرگی…….
حریم یہاں آؤ بیٹا…….
جی فریال آنی……..!!!!!!!!!!!!
آؤ یہاں بیٹھو ناشتہ کرو……..
نہیں آنی میں تو کرچکی…….
ارے حریم…. فریال بیگم ایک دم کھڑی ہوئی ……
یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہوا …….??????
حریم نے ایک دم سامنے بیٹھے ارسلان کو دیکھا ……
جو حریم کو دیکھ رہا تھا…….
پھر اس کی نظر تابی پر گی……..
جو اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہہ رہا تھا …….
ایک بار پھر اسکی
نظر ارسلان پر گی ……
جو ترچھی نگاہ سے اس کو دیکھ رہا تھا…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حریم نے ایک دم ارسلان کو دیکھا …..
جو ہاتھ باندھے بیٹھا حریم کو دیکھ رہا تھا……………
پھر اس کی تابی نظر پر گی ….
جو اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہہ رہا تھا…………
ایک بار پھر اس کی نظر ارسلان پر گی……
جو اسے ترچھی نگاہ سے دیکھ رہا تھا……
وہ آنئ میں فروٹ کاٹ رہی تھی…….
تو چھری سے میرا ہاتھ کٹ گیا……
آف حریم تو کس نے کہا تھا کہ تم فروٹ کاٹو………!!!!!!!?????
رشید کہاں ہیں …..???
اس نے تمہیں کیوں کاٹنے دیے……
نہیں….. نہیں…… آنی ابو کی کوئی غلطی نہیں……..
ابو تو سو گئے تھے…….
انہیں کچھ نہیں پتا تھا ……
آپ پلیز کچھ نہیں کہنا انہیں……
اچھا نہیں کہتے ہم کچھ……
آؤ تم میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلو نہیں…….
ظفر انکل میں ٹھیک ہوں……
بیٹا اب درد تو نہیں…..????
فریال آنی حریم کا گال سہلاتے ہوئے پوچھا………….!!!!!!
نہیں آنی درد تو نہیں……
اب ٹھیک ہے …….
___________________________________
حریم لون میں بیٹھی…..
کچھ پھولوں کا ہار بنا رہی تھی…..
جب ارسلان اس کے پاس آیا …..
حریم نے ارسلان کو دیکھ کر ایسے ظاہر کیا جیسے اسکو ارسلان کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا …….
میری بات سنو…… حریم ……!!!!
اگر آپ مجھے سوری کرنے آئے ہیں تو میں نے آپ کو معاف کیا …….
حریم نے معصومیت سے کہا ……
میں تم سے کوئی سوری کرنے نہیں آیا……
سمجھیں……
غلطی کی تھی تم نے ……
تو سزا بھی ملی آئی سمجھ……
یا اللہ ارسلان بھائی……
میں تو صرف ……
ہاں بولو کیا کرنے گئی تھی!!!!!
میرے کمرے میں…….
ہاں بولو جواب دو…..!!!!
میں یہ ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ تم میرے کمرے میں بنا اجازت قدم رکھو……
تو تابی بھائی بھی تو بنا اجازت آتے ہیں…….
ہاں تو تمہیں اور تابی میں بہت فرق ہے…..
کیا فرق ہے آخر!!!!!
وہ میرا کزن ہے ….
میرے بھائیوں کی طرح …..
اور تم ایک میں کیا …..
حریم کی آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے…..
اور تم ایک نوکرانی ہو……
سمجھیں …..
وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی پھر چلا کر بولی……..
حریم نوکرانی نہیں ہے…..
یہ کہتے ہیں ارسلان کو دوردھکا دیا…..
اور وہاں سے بھاگتی ہوئی چلی گئی…..
_______________________________________________
کچھ گھنٹوں بعد…….
اللہ کی رحمت…….
جی ابو …..!!!!
جاؤں رحمت یے ارسلان بابا کو دے آؤ…..
ابو میں جاؤ….????
میں نہیں جاتی …..
اس چھپڑ کنجو کے پاس …….
کیا مطلب ایسے نہیں بولتے حریم….
آپ کو نہیں پتہ ابو وہ ارسلان بھائی بہت کھڑوس. ہیں……
ارے نہیں میری رحمت…..
رشید نے حریم کو اپنی گود میں بٹھایا …..
بس ان جیسا بچہ تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں……..
اس عمر میں لڑکے بہت بگڑ جاتے ہیں……
اور تم جانتی ہو ارسلان بابا بہت دولت مند ہیں……..
وہ چاہے تو پورا شہر خرید لیں ……
مگر اللہ نے انکی تربیت نرم بنائی ہے…….
ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو غرور کا تاج سر پر سجا کر رکھتا…….
مگر ……!!!!!!
بس کردیں……
ابو اتنی تعریفیں مجھ سے ہضم نہیں ہوتی ………
لائی میں دے کر آتی ہوں…..ارسلان بھائی کو………..
حریم منہ بسورتی ٹی وی لانچ میں گی……
جہاں ارسلان صوفے پر بیٹھا فٹبال کو پیروں میں گردش دے رہا تھا…….
حریم تسمیہ پر تھی اس کے پاس گی……
ٹرے ٹیبل پر رکھ کر مرنے لگیں……
جب تابی کے چلانے کی آوازیں سنائی دیں …..
دروازہ بند کرو جلدی وہ نوکروں کو تاکید کرتا اندر آیا …….
دروازہ بند کرو…..
اگر اب کسی نے دروازہ بجایا تو دروازہ نہیں کھولنا………
تابی خاصہ بکھلایا ہوا تھا…..
اس کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے …..
کیا ہواتابی…..!!!!!
ارسلان نے پریشانی میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا…….
نن نہیں….. ک کچھ نہیں……
یہ کہہ کر تابی سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا………
ارسلان اس کے پیچھے گیا……
مگر تابی نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا……
دروازہ کھولو تابی ……!!!!!
تابی پلیز دروازہ کھولو……!!!!
میں تم سے بات کرنے آیا ہوں ….!!!!
دروازہ کھولو…..!!!!
ارسلان بھائی میں تھک گیا ہوں……
ریسٹ کرو گا……
تابی نے بنا دروازے کھلے بلند آواز میں ارسلان کو جانے کے لیے کہا……….
ارسلان سیڑھیوں سے اترا تو حریم آخری سیڑھی پر کھڑی تھی…….
تم یہاں کیا کر رہی ہو…..?????
ارسلان نے چیختے ہوئے پوچھا…..!!!!
وہ دراصل تابی بھائی…..!!!!
تمہارا مسئلہ کیا ہے لڑکی……
اسلان نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا ……
مسئلہ تو آپ کو ہے…..
کیوں آپ میرے ساتھ اتنی بدتمیزی کرتے ہیں…….
کیا میں نے کبھی آپ کو کچھ کہا ہے……
نہیں نہ ……?????
چپ کرو …..چپ …بالکل چپ…..
آئی سمجھ …….
اپنی حد میں رہو تم……
اچھا تو کیا ہے میری حد…..!!!!
حریم اس کے قریب بڑی…..
تمہاری حد میں بتاتا ہو……
یہ کہہ کر ارسلان نے اسے بازو سے پکڑا …..
اور باہر لان میں گیا…….
جہاں ایک طرف مٹی پڑی ہوئی تھی……
ارسلان نے حریم کو زمین پر جھٹکے سے پھینکا…….
وہ منہ کے بل زمین پر جاگری……
مٹی اس کے چہرے, ہاتھوں, اور کپڑوں,
میں بھر گئی……..
ارسلان گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا……
اور سنجیدگی سے 8 سالہ لڑکی کو دیکھتے ہوئے بولا…….
یہ ہے تمھاری حد…. سمجھیں ……
حریم آنکھوں میں آنسوں چھپائے…..
زمین پر دیکھتی رہیں……
تاکہ ارسلان اس کی بے بسی نہ دیکھ سکے…….
حریم کی عزت نفس کو آج پہلی بار کچھلا گیا تھا………
وہ اپنے ہاتھوں پیروں سے مٹی صاف کرتی ہوئی کھڑی ہوئی……..
آنسو صاف کیے …..
گہری سانس لیں……
اور مسکرائی……
تکلیف ایسی کہ چیخ کر رونا چاہوں….💔
پر ضبط ایسا کہ لب سے آہ بھی نہ نکلے….💔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: