Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 20

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 20

–**–**–

ارسلان نے حریم کو کلائی سے پکڑ کے اپنی جانب کھینچا……..
ایک بار پھر حریم کا وجود اس 27 سالہ نوجوان کے وجود سے ٹکرایا …..
سرمئی آنکھوں میں سرخ نسے نمودار ہوئی ….
خود کو ارسلان کے اتنا قریب پاکر …..
حریم کے وجود میں شرم کی لہر دوڑی ….
خود کو اس کی قید سے آزاد کرنے کی جدوجہد میں….
وہ مصروف تھی…..
جب غصے میں آ کر اس کو مخاطب کرکے بولی….
یہ کیا بدتمیزی ہے !!!!!!
آپ کچھ زیادہ ہی فری نہیں ہو گئے ہیں !!!!!
میں نے آپ کو اس سب کا کوئی حق نہیں دیا ….
سامنے کھڑے نوجوان کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھا…..
کہ وہ اس وقت سخت غصے میں ہے ….
جب یہ بات حریم کو محسوس ہوئی تو …..
اس نے نظر چرانی شروع کی….
اس کو اس بات کا احساس ہوا کہ….
شاید وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ہے …
کیا کہا تم نے …..!!!!
ذرا دوبارہ کہنا ….
میں نے سنا نہیں….
ارسلان نے سنجیدگی سے حریم کو مخاطب کیا….
جو اب نظریں چرانے میں مصروف تھی…..
میں تم سے بات کر رہا ہوں …..
کیا کہا ہے تم نے!!!!
میں نے ٹھیک سے سنا نہیں….
ذرا دوبارہ کہنا…..
وہ …م…. میں ….کچھ نہیں….
ارسلان نے حریم کی کلائی اور کمر پر اپنی گرفت مضبوط کی …..
میں تم سے پوچھ رہا ہوں …..
کیا کہا ہے تم نے ….!!!
دیکھیں ارسلان میرا وہ مطلب نہیں تھا…..
تو پھر کیا مطلب تھا تمہارا !!!!
مجھے تمہارے کسی بھی مطلب سے ….
کوئی مطلب نہیں ہے ….
مجھے مطلب ہے….
تو صرف اس بات سے کہ….
اب حریم رشید نہیں بلکہ….
باجوہ خاندان کی بہو …
مطلب یہ کہ… تم ارسلان باجوہ کی بیوی ہو….
تم حریم باجوہ ہو ….
تمہیں اس بات کا پورا خیال کرنا ہے….
کہ تم اب اس فیملی کا حصہ ہوں ….
باجوہ خاندان کی بیٹیوں کو…
ہم نے ہر قسم کی آزادی دی ہے ….
مگر ہم اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتے…..
کہ ہم سے وہ زبان درازی کریں …..
حریم میں تمہیں آج ایک بات صاف طریقے سے واضح کر دوں ….
میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں….
مگر کچھ ایسی باتیں ہیں جو…..
نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے غصہ دلادیتی ہیں….
پہلی بات تو یہ کہ….
مجھ سے کبھی جھوٹ بولنے کی غلطی کبھی مت کرنا….
دوسرا یہ کہ میرے سامنے اونچی آواز میں بات مت کرنا….
اور تیسرا یہ کہ میرے سامنے ہمیشہ اپنی لمٹ میں رہنا…
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں تمہیں پوری دنیا کی سیر کراؤں گا ……
یا پھر تمہارے لئے چاند تارے توڑ لاؤں گا …..
مگر میں تم سے یہ ضرور کہتا ہوں کہ…..
جتنا میں تمہیں دے سکتا ہوں اتنا ضرور دوں گا ….
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ ہمارے بارہ بچے ہوں گے ….
مگر میں تم سے یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہمارے چار بچے ہوں گے …..
میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ….
میں تمہیں ماڈرن گرل بناؤں گا….
مگر میں تمہیں اتنی آزادی ضرور دوں گا….
جتنی تم deserve کرتی ہو…..
میں تم سے یہ وعدہ تو نہیں کرتا کہ….
میں تم سے بے انتہا محبت کروں گا ….
مگر میں تم سے یہ وعدہ ضرور کرتا ہوں….
کہ تمہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کروں گا ….
اور ہاں تم سے محبت کرنے کی بھی کوشش کروں گا ….
مگر مجھے اس سب میں کچھ وقت لگے گا….
اور میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی تب تک میرے ساتھ رہو گی…….
میں تمہیں جیسا کہوں گا….
تم ویسا کرو گی ….
اور جیسا تم کہو گی….
میں ویسا کروں گا…..
مگر اس سب کے لیے تمہیں ایک کام کرنا ہوگا….
تمہیں اپنی اس کینچی جیسی زبان کو بند رکھنا ہوگا ….
امید کرتا ہوں کہ تمہیں یہ میرا ایک منٹ کا لیکچر ضرور سمجھ آیا ہوگا……
چلو اب دور ہٹو مجھے دیر ہو رہی ہے…..
رات کو آ کر بات کرتا ہوں…..
اور ہاں اپنا تمام تر ضروری سامان میرے کمرے میں یہاں لے آؤ…..
ویسے تو ہم کل یہاں سے چلے جائیں گے…..
لیکن پھر بھی جتنی سامان کی ضرورت ہے …..
اتنا سامان لے آؤ یہ کہہ کر ارسلان باجوا صوفے پر سے اپنا کوٹ اٹھاتا وہاں سے چلا گیا……..
ارسلان کے جاتے ہیں…..
حریم نے مڑ کر اس 27 سالہ نوجوان کو دیکھا….
ہائے اس بندے کی پرسنلٹی….
وہ اس قابل تھا کہ ….
واقعی ہر بندہ اس کی تعریف کریں ….
اس کی باتوں میں ہمیشہ وزن ہوتا تھا….
ہمیشہ اس کے آگے حریم چپ کر جایا کرتی تھیں….
آج بھی ایسا ہی ہوا….
وہ اتنی لمبی لیکچر دیکھ کر خاموشی سے چلا گیا ….
اس کے چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی………..
اپنا دھیان بھٹکتے حریم کمرے سے باہر گئی….
اور اپنے کمرے سے کچھ قیمتی سامان ایک ملازمہ کی مدد سے ارسلان کے کمرے میں جا رہی تھی….
جب بیچ میں اس کا سامنا فریال بیگم سے ہوا….
حریم چند منٹ کھڑی ان کو دیکھتی رہی پھر …..
نظر انداز کر کے آگے بڑھنے لگی….
اس کے چہرے سے یہ صاف ظاہر تھا کہ…
وہ فریال بیگم سے ناراض ہے….
فریال بیگم نے اس کو ہاتھ پکڑ کے روکا ….
حریم رکو میری بات سنو….
آنی پلیز میں آپ سے بے حد خفا ہو ….
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی….
میری بچی مجھ سے اس طرح نظر مت چراؤ….
میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ….
کیوں نہ چراؤ میں آپ سے نظریں!!!!
انی آپ تو میری ماں تھی نہ !!!!
آپ میں تو ہمیشہ مجھے میری ماں کی طرح محبت دی نا……..
آپ نے تو ہمیشہ مجھے یہی کہا نا …
کہ آپ نے مجھ میں اور زبیر باجوا میں کبھی کوئی فرق نہیں رکھا ….
تو آنی آج کیوں!!!
آج مجھے آپ کی بے حد ضرورت تھی…
تو آپ خاموش رہیں ….
آپ نے کیوں نہیں بولا ارسلان کو کہ وہ جو یہ سب کر رہے ہیں میرے ساتھ….
ایسا نہ کریں
نا…. آپ نے کچھ کہا …
میں آپ دونوں کو میں کچھ نہیں کہنا چاہتی ….
کیونکہ آپ دونوں کو میں نے اپنے ماں باپ کی عزت دی ہے……..
میں تو گناہ کر رہی ہوں آپ سے گلہ کر کے بھی ….
حریم بیٹا ہم نے جو فیصلہ کیا ….
اس میں آپ کی ہی بھلائی تھی…
میرا بچہ مجھے معاف کر دینا…
لیکن میں امید کرتی ہوں کہ ….
وقت آنے پر تمہیں اس بات کا ضرور احساس ہوگا کہ…
آج جو فیصلہ زبردستی تمہارے ساتھ کیا گیا ہے….
اس میں تمہاری ہی بھلائی تھی…
ہم لوگ شام کی فلائٹ سے سعودی عرب جارہے ہیں…
تم بھی کل کی فلائٹ سے جرمنی چلی جاؤں گی ..
ہو سکے تو میری جان مجھے معاف کر دینا….
اور حریم بیٹا ایک بات اور ….
جب رات کو ارسلان گھر آئے ….
تو بیٹا آپ ان کو رسیو کرئے گا ….
دروازے سے …
کیونکہ یہی ایک اچھی بیوی کی نشانی ہوتی ہے…..
امید کرتی ہوں کہ آپ میری بات پر ضرور عمل کریں گی ….
یہ کہہ کر فریال بیگم نے حریم کے ماتھے کو شفقت بھرے انداز میں چھوما ….
حریم نظر جھکائے کھڑی تھی….
اس کا دل بہت نرم ہو رہا تھا….
وہ بہت اداس تھی….
یہ سب کہہ کے فریال بیگم ….
اپنے کمرے کی جانب چلی گئی….
حریم نے اپنا ضروری سامان ….
ارسلان کے کمرے میں رکھا ….
حریم نیچے کچن میں چلی گئی….
کچھ دیر بعد ….
وہ ٹی وی لانچ میں بیٹھی تھی….
جب مرکزی دروازے سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی …..
جب حریم کو فریال بیگم کی کہی ہوئی بات یاد آئی ….
حریم سر جھٹکتی مرکزی دروازے پر جا کر کھڑی ہوئی ….
وہ بس اندر داخل ہیں ہونے والا تھا ….
جب وہ حریم کو کھڑا دیکھ کر وہی رک گیا….
اسلام علیکم ….
وعلیکم اسلام ….
حریم سامنے نظر جھکائے کھڑی تھی….
ارسلان نے ایک گہری سانس لی….
اور پھر دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے….
چند منٹ خاموش کھڑا اس کو دیکھتا رہا…
خیریت تو ہے حریم!!!!
تم یہاں کیا کر رہی ہو !!!!
وہ آنی نے مجھے کہا تھا کہ…
جب آپ آئے تو میں آپ کو خود رسیو کرو….
یہ کہہ کر حریم مقابل سمتھ دیکھنے لگی..
جس پر ارسلان کے چہرے پر….
ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی…
چلو اچھا …اچھی بات ہے …
خیر میں فریش ہونے جارہا ہوں …
پلیز کھانا لگوا دو …
مجھے بہت بھوک لگی ہے …
یہ کہہ کر ارسلان سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا……
27 سالہ نوجوان کو سیڑھیاں چڑھتا دیکھ کر …..
حریم بھی ایک بار مسکرائیں …..
اللہ جانے یہ کس قسم کا انسان ہے ….
وہ سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے….
حریم کھانا صرف کرنے میں مصروف تھی….
جب ارسلان نے اس کو مخاطب کیا….
اچھا اب بس کر دو… ہم سب خود لے سکتے ہیں….
تو یہاں آکر بیٹھ جاؤ ….
اس نے اپنی برابر والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا…..
ارسلان کی اس بات پر فریال بیگم مسکرائے ….
حریم نے چاول کی ڈیش سائٹ پر رکھیں….
اور ارسلان کے برابر والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئی….
حریم کافی جھجھک رہی تھی….
اس طرح ارسلان کے ساتھ بیٹھنے پر ….
حریم ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی….
جب ارسلان نے اس پر غور کیا….
کیا تم ڈائٹنگ پر ہو !!!!
ویسے ہی تم اتنی پتلی ہو….
کچھ کھا لو بے شک زیادہ نہ کھاؤ…..
لیکن پھر بھی کچھ کھا لو…..
یہ کہتے ہوئے ارسلان نے سامنے رکھی چاولوں کی ڈش اٹھائیں …..
اور حریم کی پلیٹ میں چاول ڈالنے لگا…..
بس کر دیں بس میں اتنا نہیں کھا سکتی …..
چپ کر جاؤ ….ویسے ہی نظر نہیں آتی ہوں….
چپ کر کے سب کو ختم کرو ….
یہ کہتے ہوئے ارسلان واپس ظفر باجوہ سے مخاطب ہوا….
کچھ دیر بعد …..💝
وہ لوگ سب کھانے سے فارغ ہو کر…..
اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے….
اب حریم کافی حد تک جھجھک رہی تھی….
وہ گھبرائی ہوئی تھی کہ….
وہ کس طرح ارسلان کے کمرے میں جائے….
اس سوچ میں مگن ….
وہی سوشل ایریا میں صوفے پر بیٹھ گئی….
آج کافی تھکن ہوگئی تھی….
پیر صوفی پر رکھتے ہوئے….
اس نے تکیہ اپنی کمر کی جانب رکھا ….
اور سیدھی سیدھی لیٹ گئی ….
تھکن کے باعث کب اس کی آنکھ لگ گئی…
اس کو خود بھی پتہ نہ چلا ….
ارسلان سیڑھیوں سے اتر کر کچن کی جانب جا رہا تھا …..
جب سوشل ایریا میں لیتی حریم پر اس کی نظر گئی…
ارسلان کے ماتھے پر ایک دم شکن نمودار ہوئے….
کچن میں جانے کے بجائے وہ ….
سیدھا سوشل ایریا میں حریم کی جانب آیا ….
بھلا یہاں کیوں سو رہی ہے!!!!
اس کے دل میں خیال آیا …
جب اس کو اس بات کا احساس ہوا….
کہ کچھ گھنٹوں پہلے اس نے اس سے زبردستی نکاح کیا تھا ……
ہوسکتا ہے جھجھک رہی ہو…..
ارسلان ایک بار پھر اس 21سالہ کشمیری لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا …..
وہ ہاتھ باندھے کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا….
چند سیکنڈ بعد اس نے سنجیدگی سے حریم کو آواز دی….
حریم اٹھ جاؤ کمرے میں جا کر سو جاؤں ….
حریم اٹھ جاؤ…..
وہ کافی گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی….
جب ارسلان گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھا …
سلیپنگ بیوٹی اٹھ جاؤ ….ورنہ بیسٹ اٹھا کر لے جائے گا…
حریم ایکدم چونک کر اٹھی …..💝

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: