Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 21

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 21

–**–**–

سلیپنگ بیوٹی اٹھ جاؤ …..
ورنہ بیسٹ اٹھا کر لے جائے گا……
حریم ایک دم چونک کر اٹھی….
حریم کے اس طرح اٹھنے پر….
وہ جو گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھا تھا ….
ایک دم مسکرایا …..
آہ ….آپ…. آپ ….یہاں کب سے ہیں!!!!!
کیا کر رہے ہیں آپ یہاں ….!!!!!!
حریم کافی گھبرائی ہوئی تھی….
شاید وہ کافی گہری نیند میں سو رہی تھی….
اس لیے اس کو پتہ ہی نہیں چلا کہ…
وہ یہاں کب سے بیٹھا ہوا ہے….
میری چھوڑو تم بتاؤ….
تم یہاں کیوں سو رہی ہو….!!!
میں نے تم سے تمہارا سامان کمرے میں لے جانے کے لیے اس لیے نہیں کہا تھا…….
کہ وہ میرے کمرے کا حصہ بن جائے…..
بلکہ میں نے تمہیں بھی وہاں آنے کو کہا تھا ……
اب شاباش جلدی اٹھو کمرے میں آؤ ….
حریم اب بھی بیٹھی حیرانی سے اس کو دیکھ رہی تھی …..
جو اب اس کے مقابل کھڑا تھا….
اٹھ جاؤ…. یہ کہتے ہوئے….
ارسلان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کو کھڑا کیا ….
اور آگے کی جانب کھینچا …..
چلو اوپر …..حریم دوپٹہ ٹھیک کرتی سیڑھیوں کی جانب چڑھی….
ارسلان کچن میں چلا گیا تھا….
شاید اس کو کافی بنانی تھی ….
ارسلان کو کچن میں جاتا دیکھ کر ….
حریم بھی اس کے پیچھے کچن میں گئی….
ارسلان پانی گرم کر رہا تھا ….
حریم چند منٹ خاموش کھڑی اس کو دیکھتی رہی….
پھر تھوڑے قدم آگے بڑھا کر اس کے قریب گئی ….
ارسلان کمر اس کی جانب کئے کھڑا تھا …..
پھر بھی وہ پہچان گیا تھا ….
اس کی آہٹ سے کہ ….
وہاں حریم کھڑی ہے ….
میں نے تم سے اوپر جانے کو کہا تھا ….
تم یہاں کیوں آ گئی….!!!
حریم کافی حیران ہوئی….
کہ بھلا اس کو کیسے پتہ کہ میں یہاں کھڑی ہوں….
میں نے تو نہ کوئی آواز نکالی… اور نہ ہی کچھ کہا ….
وہ مجھے نہیں… مجھے کچھ نہیں کرنا… وہ میں مدد کرو……!!!!
حریم کے اس طرح کہنے پر….
ارسلان نے مڑ کر ایک ترچھی نگاہ حریم پر ڈالیں…
ارسلان نے ایک گہری سانس لیں …
پھر سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا ….
یہاں آؤ ذرا ….
اس نے اپنے سامنے آنے کا اشارہ کیا….
آہ کیا ….میں…..!!!!
جی …آپ …آپ سے ہی مخاطب ہوں… میں…
ارسلان نے حریم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا ….
دیکھو حریم میں جانتا ہوں….
میری اور تمہاری شادی جس طرح ہوئی ہے….
یعنی میں نے تم سے زبردستی شادی کی ہے ….
یہ تمہارے لئے ناقابل تسلیم بات ہے….
مگر میرا یقین کرو میری نیت بالکل صاف تھی….
گھر کے دونوں سربراہ کا مشترکہ فیصلہ تھا ….
اور اس فیصلے کے پیچھے میرا ایک وعدہ بھی چھپا تھا…
جو مجھے پورا کرنا تھا …
کس قسم کا وعدہ ارسلان !!!
حریم نے حیرانی سے پوچھا …
دیکھو حریم ہر بات بتائی نہیں جاتی….
پھر بھی آپ نے میری زندگی کا فیصلہ خود ہی کر لیا….
میرے پاس اتنا اختیار تو ہے کہ میں آپ سے یہ پوچھ سکو…….
کہ آپ نے کس کا وعدہ پورا کرنے کے لیے میرے ساتھ ایسا کچھ کیا ……
دیکھو حریم تمہارے ساتھ جو کچھ کیا ….
اس سب میں تمہارا کچھ نقصان نہیں ہوا….
بلکہ تمہیں آگے چل کے فائدہ ہی ہوگا….
تمہیں ویسے بھی تو کسی نہ کسی سے شادی کرنی تھی نہ….
میں جانتا ہوں میں تمہارے قابل نہیں ہوں….
مگر پھر بھی اتنا قابل تو ہو نہ….
تم مجھے اس قابل سمجھو کہ میرے ساتھ زندگی گزار لو……
میں کوئی تمہاری محبت میں پاگل ہو …
اور نا دیوانہ نہیں ہو رہا تھا…..
جس کے لیے میں نے تم سے زبردستی شادی کی…
ابھی تو مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی ….
مجھ سے ججھک رہی ہو …
مگر اب ہم دونوں کو ساتھ زندگی گزارنی ہے…
تو اس لیے ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا…
میں امید کرتا ہوں…
تمہیں میری بات ضرور سمجھ میں آرہی ہوں گی…
خیر… بہت رات ہو چکی ہے…
تم کمرے میں جا کر سو جاؤں…
میں کچھ دیر تک کام کمپلیٹ کر کر آتا ہوں …
یہ کہہ کر ارسلان دوبارہ پلیٹ فارم کی جانب مڑا …
اور کپ میں چمچ چلانے لگا …
حریم چند منٹ کھڑی اس کو دیکھتی رہی….
اور پھر چپ چاپ کمرے میں چلی گئی…..
___________________________________💝💝💝💝
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے ….
تاج کے پتوں کی گنتی کر رہا تھا ….
جب فارس اس کے پاس بھاگتا ہوا آیا ….
سن یار تجھے اندر وہ سوریا بلا رہا ہے….
اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے اس فارس کو دیکھا….
جس کے چہرے سے یہ صاف ظاہر تھا …
کہ وہ گھبرایا ہوا ہے…
خیریت تو ہے!!!
تیرے چہرے پر بارہ کیوں بجے ہیں….
یار وہ تو نے اپنا موبائل سکیننگ کے لئے دیا تھا…… نہ…
ہاں دیا تھا تو!!!
یار اس کے اندر …
جو تیری اس گھر میں جو لڑکی رہتی ہے …
اس کی تصویریں تھیں …
کون رہتی ہے گھر میں…!!!
کس کی بات کر رہا ہے !!!
دماغ خراب نہ کر میرا….
یار وہی لڑکی کیا نام تھا!!! اس کا !!!
فارس اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرنے لگا …
وہ یاد کرنا چاہ رہا تھا اس کا نام….
ہاں یاد آیا …
یار وہ حریم ….
حریم کا نام سنتے ہی تابی فورا صوفے سے کھڑا ہوا ….
اس کے منہ سے حریم کا نام سنتے ہی…
کیا ….کیا بقواس کر رہے ہو تم !!!!
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ….
میں نے تو اس کی تمام تصویریں خود ہی کی تھی ….
مجھے نہیں پتہ تو خود جا کر دیکھ…
وہ تجھے بلا رہا ہے ….
وہاں ایک وسیع ٹیبل رکھی ہوئی تھی …
طرح طرح کے بیش قیمتی ہتھیار ….
دیواروں پر لگے ہوئے تھے….
تاش کے پتے ٹیبل پر بکھرے ہوئے تھے …
سنہرے لمبے بال جو کندھوں تک تھے….
سر پر کالی کیپ..
گلے میں سونے کی چین….
ہاتھوں میں انگوٹھیاں… اور بریسلٹ …
مکمل کالے لباس میں ملبوس….
وہ کرسی گول گول گھوم آرہا تھا ….
چہرے پر ہلکی داڑھی… اور منہ میں سگریٹ….
تابی غصہ ضبط کرتا اس کے پاس جا کر کھڑا ہوا ….
(بلیز ماسٹر) [دا کنگ آف بلو ڈرکس ] آجا…..
تمہارا ہی تھا انتظار….
تم شروع سے ہی تھا ہمارا خاص آدمی…
جو تمہیں وہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا ….
خیریت سوریہ مجھے یہاں کیوں بلایا ہے !!!
ہا ہا ہا ہا ہا سب خیریت …سب خیریت ….
تو اپنے پاس سنبھالتا ہے ایسی… ایسی ….
نیچر آف بیوٹی فل …..
کیا مطلب ….مجھے تمہاری بات کچھ سمجھ نہیں آرہی…
ہاہاہا ….مین ….ای ٹیل یو,, ای ٹیل یو,,
تابی نے ایک گہری سانس لی….
دیکھو سوریہ میرے پاس وقت نہیں ہے…
جو کہنا ہے جلدی کرو….
ہاہاہاہا …صحیح کہتا ہے لوگ ….
جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے…..
اور تم تو ہے ہی اس دنیا کا شیطان …..
میں تم سے کہہ رہا ہوں… میرے پاس وقت نہیں ہے …
جلدی کرو ….
سوریا نے اپنا موبائل کھولا…
اور موبائل کی اسکرین تابی کے چہرے کے سامنے کی….
وہ حریم کی تصویر تھی…
یہ بیوٹی کون ہے…
جو تمہارے پاس قید ہے …
مگر اب تک ہمارے پاس نہیں آیا ….
حریم کی تصویر سوریہ کے موبائل میں دیکھ کر….
تابی کو بے حد غصہ آیا….
تمہارے پاس یہ تصویر کیا کر رہی ہے سوریہ!!!!
ہاہاہاہا..
بلیز ماسٹر ….
آئی ٹیل یو ,,,آئی ٹیل یو ,,,,
نیچر کی بیوٹی سوریہ سے دور رہے …
ایسا ہو ہی نہیں …..دیکھو سوریہ یہ تمہارے لئے نہیں ہیں…
اس کی تصویر فورا ڈیلیٹ کر دو….
ہاہاہاہا …..ڈلیٹ نہیں…..
ابھی تو ہم اس میں اس بیوٹی کا اور تصویریں ایڈ کرے گا……
دیکھو سوریہ فضول ب**** نہیں کرو ….
میں نے تم سے کہا ہے نہ….
کہ یہ تمھارے کام کی نہیں….
ہاہاہاہا…. دنیا کی کوئی بھی بیوٹی …..ایسی نہیں…
جو سوریہ کے کام کی نہ ہو….
چل بیٹا آپ اس کا پتہ بتا….
ورنہ میں خود اس کا ڈیٹا نکالیں گا….
نہ میں تمہیں اس کا پتہ بتاؤں گا ….
اور نہ تم اس کا ڈیٹا نکالو گے …
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا …سوریا….
ہائے… ہائے …ہائے… تو اتنا تڑپ رہا کیوں ہے!!!
اس بیوٹی کے لیے….
یہ کہتے ہوئے سوریا نے تابی کے کندھے پر ہاتھ رکھا ….
دیکھو میں کہاں تحمل سے تم سے بات کر رہا ہوں….
میں تمہیں اس سے اچھی چیزیں لا کر دوں گا….
مگر تم اس کے بارے میں کچھ مت سوچنا ….
نہیں… نہیں… بلیز ماسٹر نہیں …
سوریہ کو تو اب یہی چاہیے….
میں جان سے مار دوں گا تمہیں….
اگر تم نے اس کے بارے میں سوچا….
میں مر جاؤں گا مگر اس کو تمہارے حوالے کبھی نہیں کروں گا …..
یہ کہتے ہوئے تابی نے اپنی پینٹ سے ریوالور نکال لیں…
ہاہاہاہا….. تو مر جائے گا !!!!
تو بیٹا پھر مر جا…..
یہ کہتے ہوئے اس سے پہلے تابی اپنے دفاع میں کچھ کر پاتا……
فائر اس پر کیے گئے……
یا اللہ خیر….. میرا بیٹا …..
فریال بیگم چیخ مار کر اٹھیں….
جو اس وقت گہری نیند میں سو رہی تھی….
فریال بیگم کی چیخ سنتے ہیں ….
حریم اور ارسلان جو اپنے کمرے میں سو رہے تھے….
فورا ان کے کمرے کی جانب آئے …..
کیا ہوا آنی آپ کو !!!
فریال بیگم کے ساتھ ظفر باجوا بیٹھے ….
ان کو پانی پلا رہے تھے ….
حریم ان کے پاس جا کر بیٹھیں ….
ارسلان بھی وہیں ان کے سرہانے پر کھڑا تھا ….
کیا ہوا چاچی !!!!
ارسلان… ارسلان میرا بیٹا ….
اس کو کچھ ہوا ہے ….
میرا دل کہہ رہا ہے اس کو کچھ ہوا ہے….
مجھے ایسا لگ رہا ہے….
اس کو کوئی تکلیف ہے…
آپ جلدی فارس کو فون کریں….
اس کو فون کرکے اس کی پتہ کریں….
کہ وہ خیریت سے ہے….
دیکھو فریال بہت رات ہو گئی ہے ….
تم ابھی سو جاؤ تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہوگا ….
نہیں مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے ….
کہ تابی…. تابی کو کچھ ہوا ہے….
دیکھو ابھی بہت رات ہو گئی ہے….
میں صبح ارسلان سے کہتا ہوں …..
ارسلان تم صبح فارغ کو کال کرکے پتہ کرنا ….
ٹھیک ہے…… مگر ابھی بہت رات ہو گئی ہے چاچی …
آپ سو جائیں یہ کہتے ہوئے …
ان لوگوں نے فریال بیگم کو بیڈ پر لٹایا ….
فریال بیگم ابھی بھی سسک رہی تھی….
حریم ان کے پاس بیٹھی ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی…
_________________________________💝💝💝💝💝
اگلے دن ….
آٹھ گھنٹے کی فلائٹ کے بعد….
وہ لوگ جرمنی….
( فرینک فرٹ ) پہنچے….
دمپ سٹارٹ کی حسین ہواؤں نے ان دونوں کا استقبال کیا …..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 38

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: