Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 22

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 22

–**–**–

آٹھ گھنٹے کی فلائٹ کے بعد ….
بالآخر وہ لوگ جرمنی فرینک فرٹ پہنچے…
فرینک فرٹ کی حسین ہواؤں نے ان دونوں کا استقبال کیا….
ایئرپورٹ پر ارسلان کو الگ ہی پروٹوکول دی گئی تھی ….
تمام سٹاف اس کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا…
ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی….
سامنے تین گاڑیوں پر حریم کی نظر پڑی ….
جو مکمل طور پر کالے رنگ کی تھی….
بیچ والی گاڑی میں ایک سفید رنگ کے لباس میں ملبوس….
چائنیز ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا ….
جب کہ ….
آگے پیچھے کھڑی دونوں گاڑیوں کے اردگرد…
چار چار باڈی گارڈ کھڑے تھے….
ان سب باڈی گارڈز نے کالے رنگ کے لباس زیب تن کیے ہوئے تھے….
یعنی وہ سب کے سب ایک جیسے کوٹ پینٹ میں ملبوس تھے ….
ہاتھوں میں ریوالور …
چہرے پر سختی…
آنکھوں پر کالے رنگ کے گلاسس…
ارسلان باجوہ کو باہر آتا دیکھ کر….
ایک نوجوان اس کے قریب آیا….
جس نے وائٹ شرٹ.. بلو جینز.. اور فیلڈ کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی….
______________________________________________
Guten Abend chef….
Guten Abend chef…
Wie war dein Urlaub nach pakistan?
War ganz gut….
Das freut mich sehr…
Sag du. Wie läuft hier?
Hier ist alles okay…
Chef willst du in Frankfurt bleiben oder willst du nach Darmstadt?
Ne wir gehen nach Darmstadt
Chef die Frau geht auch mit?
Ja. Sie ist mein frau
Oh Glückwunsch Herr Bajwa
Dankeschön
Chefin wie war dein faht?
Kann sie nicht sprechen?
Ne ne sie kann kein Deutsch
Oh ok aber wenn ihr zusammen leben dann kann sie auch lernen
Hahaha ein bisschen schwerer.
Chef für dich ist aber gar nix unmöglich
Ja das stimmt
Chef willst du selber fahren?
Jap ich fahre selber….
Bleib hinter mir….
Ok chef wie du sagst….
…….#Translation
_____________________________________________💔
گڈ ایوننگ سر …گڈ ایوننگ… کیسا رہا آپ کا پاکستان کا سفر…. ہاں بہت شاندار رہا تھا…
چلے یہ تو اچھا ہے سر تم بتاؤ یہاں سب کیسا رہا …
یہاں سب کچھ ٹھیک رہا….
سر اچھا سر آپ فرینک فرٹ میں رہیں گے یا پھر دم سٹارٹ جائیں گے…..
نہیں ہم دم سٹارٹ جائیں گے.. صحیح ہے سر کیا یہ لیڈی بھی آپ کے ساتھ جائیں گی….
ہاں یہ لیڈی میری وائف ہے …او کونگریٹولیشن سر…
اہ تھینک یو …میم آپ کا سفر کیسا رہا…. سر کیا یہ بولتی نہیں ہے ….
ہاہاہا نہیں دراصل اس کو Dutch نہیں آتی…
اوہو صحیح ہے پھر ویسے سر آپ کے ساتھ رہیں گی..
تو پھر سیکھ جائیں گی..
ہا ہا مشکل ہے کہ یہ سیکھ جائیں..
سر آپ کے لیے تو کچھ بھی امپوسیبل نہیں..
ہاں یہ بھی ٹھیک کہا سر کیا آپ خود ڈرائیو کریں گے …
ہاں میں خود ڈرائیو کروں گا… تم میرے پیچھے رہنا …
صحیح ہے سر جو آپ کا حکم…
_____________________________________________💔
ایک ڈرائیور گاڑی سے باہر نکلا ….
جس نے پہلے ارسلان کی سیٹ کا دروازہ کھولا……..
ارسلان گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ….
اس کے بعد دوسرے باڈی گارڈ نے….
حریم کی سائیڈ یعنی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھلا …..
حریم چپ چاپ سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی …
وہ پہلے ہی کافی حیران پریشان تھی…..
یہ سارا کچھ دیکھ کر…..
اوپر سے ارسلان اور اس نوجوان کے …
بیج کی باتیں بھی ……اس کے سر سے گزر رہی تھی….
حریم کافی ریظرف لگ رہی تھی…
جب ارسلان نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے…
اس کو مخاطب کیا ….
تم اتنی خاموش کیوں ہو!!!
تو میں کیا بولوں …
مجھے تو سمجھ نہیں آتی….
آپ کی یہ شین سے شروع ہوکر نون پر ختم ہونے والی لینگویج…..
حریم کے اس طرح طنز کرنے پر….
ارسلان کو بے حد ہنسی آئی….
مگر وہ دبا گیا….
کیا کہا تم نے…!!
کس سے شروع ہوکر کس پر ختم ہونے والی لینگویج….!!!
شین سے شروع ہوکر نون پر ختم ہونے والی……… لینگویج ….
بھلا میں یہاں پہلے کبھی نہیں آئی….
اور نہ ہی میں نے آپ کی یہ لینگویج سنی ہے….
تو میں کیا کرتی آپ دونوں کے بیچ بول کر….
چلو کوئی پرابلم نہیں….
تم میرے ساتھ رہو گی تو سیکھ جاؤ گی….
میرا نہیں خیال کہ…
میں اتنی مشکل زبان سیکھ سکتی ہوں…
اور بھلا کو سمجھ میں نہیں آتی….
کہ کیا بول رہے ہیں…
اب یہ سفر فرینک فرٹ سے دمپ سٹارٹ تک تھا…..
سفر زیادہ لمبا تو نہیں تھا ….
مگر حریم کافی تھک چکی تھی….
کیونکہ ابھی ان لوگوں نے….
آٹھ گھنٹے کا سفر طے کیا تھا…
ارسلان کے لیے یہ سب کچھ کافی نارمل تھا…
کیوں کہ اس طرح کے سفر وہ اکثر کرتا رہتا تھا…….
یہاں سے گریس لینڈ ..سوئزر لینڈ.. اور کینیڈا…
کے سفر کرنا اس کے لیے بہت ہی معمولی بات تھی…..
گاڑی کافی تیز سپیڈ میں چل رہی تھی…
گاڑی میں ہیٹر بھی اون تھا….
مگر پھر بھی وہاں کافی سردی تھی….
اورحریم کے لیے یہ سب کافی نیا تھا….
تو اس کو بے حد سردی لگ رہی تھی….
کیونکہ اس نے جارجٹ کی فراک….
اور شل لی ہوئی تھی….
جو جرمنی کی سردی کے لیے ناکافی تھی…
حریم اپنے ہاتھوں سے بازو کو سہلا رہی تھی ……
اس کے کانپتے ہاتھ….
اور سرخ پڑھتے چہرے سے…
یہ صاف ظاہر تھا کہ …
اس کو بے انتہا تھنڈک لگ رہی ہے ….
ارسلان خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا….
وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے….
کافی سنجیدہ رہتا تھا ….
یہ اس کی عادت تھی….
جب ایک نظر اس نے حریم پر ڈالی …
جو اپنے بازو سہلا رہی تھی….
کیا ہوا تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے کیا!!!
ہاں جی …کافی ٹھنڈ ہے ….
تو تمہیں کس نے کہا تھا کہ…
تم یہ پہن کر آؤں ….
تو مجھے کیا پتا تھا کہ یہاں اتنی سردی ہو گئی…
یہ جرمنی ہے پاکستان نہیں….
یہاں پر سال کے گیارہ مہینہ ٹھنڈ رہتی ہے…
تو ایک ماہ موسم ایسا ہوتا ہے…
جیسے پاکستان میں دسمبر کا …
خیر ابھی فی الحال ایک کام کرو …
تم یہ لے لو ….
یہ کہتے ہوئے ارسلان نے گاڑی ایک کونے میں روکیں ….
جو جیکٹ اس نے پہن رکھی تھی….
وہ اتارنے لگا…
یہ کیا کر رہے ہیں آپ…
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے…
میں تم سے کچھ پوچھ نہیں رہا …
یہ لو اس کو پہنو….
. یہ کہتے ہوئے ارسلان نے وہ جیکٹ…
حریم کے آگے کی…
اور ہاں ڈیش بورڈ میں ماسک رکھا ہے…
وہ بھی پہن لو….
تمہیں ٹھنڈ لگ جائے گی….
ارسلان نے آب خود صرف ایک شرٹ اور جینز پہنی ہوئی تھی….
مگر پھر بھی وہ کافی مطمئن نظر آ رہا تھا …
وہ بس ڈرائیور کرنے میں مصروف تھا …
حریم نے جیکٹ پہننے کے بعد…
ایک نظر اس پر ڈالی….
آف کس قدر سنجیدہ انسان ہے یہ …
حریم اس کو دیکھ رہی تھی ….
جب کہ وہ خیال میں گم تھی…
ارسلان محسوس کر سکتا تھا کہ…
حریم مسلسل اس کو ہی دیکھ رہی ہے…
جب اس نے حریم کو مخاطب کیا…
لڑکی کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا….!!
ارسلان کے اس طرح کہنے پر….
حریم کو کافی شرمندگی محسوس ہوئی…
جب وہ بوکھلا کر بولی ….
نہیں …نہیں… میں تو… وہاں…
باہر دیکھ رہی تھی….
اچھا کیا واقعی…!!!!
یہ کہتے ہوئے ارسلان نے اس پر نظر ڈالیں…
جو فلحال نظر جکھائے بیٹھی تھی….
کچھ دیر بعد ….
بالآخر وہ لوگ دمپ سٹارٹ پہنچے …
ارسلان اور حریم کے گاڑی سے اترتے ہی…
تمام گارڈز ان کے اردگرد جمع ہوگئے….
حریم یہ سارا پروٹوکول دیکھ کر کافی حیران تھی….
کیوں کہ ارسلان جب پاکستان میں تھا…
تو ایسا کچھ اس کے سامنے نہیں ہوا تھا …
مگر جب سے وہ جرمنی آیا تھا….
اس کو ایک عجیب ہی پروٹوکول دیا جارہا تھا……
جس کی وجہ حریم کو سمجھ نہیں آرہی تھی…
حریم حیران کن انداز میں ارسلان کو دیکھ رہی تھی….
جو فلحال اسکی مقابل سمھت دیکھ رہا تھا…
وہ ایک وسیع طرز کا گھر تھا ….
وہاں سب کچھ پرفیکٹ تھا….
کچھ بھی ایکسٹرا نہیں تھا ….
بلکہ وہ جتنا امیر تھا ….
تو وہ چاہتا تو ایک سے بڑھ کر ایک فرنیچر اس گھر میں نصب کر سکتا تھا ….
ارسلان کی پرسنیلٹی.. اس کی عادات ..
اس کے طور طریقے….
ارسلان باجوہ قابل تعریف تھا….
او اندر چلیں….
ارسلان نے حریم کو اندر چلنے کے لیے اشارہ کیا…
گھر میں داخل ہوتے ہی…
وہ بہت حیران تھی….
وہ پورا گھر سفید رنگ کا تھا ….
وہاں تمام تر فرنیچر.. براؤن اور بلیک کلر کا تھا ..
اور زیادہ تر فرنیچر وال ہینگ تھا…
اتنے سارے عرصے میں ….
اس گھر میں ذرا دھول مٹی نہ تھی…
ہر چیز اپنی جگہ پر رکھی ہوئی تھی…
ارسلان اس کو گھر دکھانے میں مصروف تھا…
جب کہ وہ میڈم ارسلان کو دیکھنے میں…
مصروف تھی….
حریم ارسلان کی پرسنالٹی سے کافی حد تک متاثر ہو چکی تھی….
ارسلان سب سے الگ تھا …
سب سے منفرد انداز …
اس کے بعد کرنے کا طریقہ…
اس کا سنجیدہ لہجہ…
اس کی سرمئی آنکھیں…
دراز قد…
ہلکی شیو…
حریم اس وقت خود کو خوش نصیب محسوس کر رہی تھی ….
جو کہ وہ اس کی لائف پارٹنر تھی…
مگر میڈم یہ بات …
کبھی بھی ارسلان پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی…. ان کی ایگو جو ہرٹ ہو جاتی….
گولی لگتے ہی….
تابی زمین پر جا گرا….
ایک گولی اس کے پیر میں….
جب کہ ایک گولی کندھے… اور بازو کے درمیان لگی تھی….
ایک گولی سینے سے ذرا سی اوپر تھی …
فائرز کی آواز سنتے ہی….
فارس اور کچھ اور لوگ بھاگتے ہوئے …
سوریہ کے کمرے میں آئی….
سوریہ ٹیبل پر بیٹھا ….
اپنی گردن پر ہاتھ پھیر رہا تھا ….
جبکہ تابی زمین پر بے ہوش یا پھر مردہ پڑا تھا……
فارس کے جیسے ہوش اڑ گئے تھے…
مگر اس کے اندر اتنی ہمت نہ تھی …
کہ وہ سوریہ کے سامنے تابی کے قریب بھی جا سکتا….
وہاں سب لوگ حیران تھے…
کیونکہ بلیو ڈرگس کے بادشاہ …
(بلیز ماسٹر) کا قتل کر دیا گیا تھا …
وہ اس شیطانی دنیا کے بادشاہوں کا…
دوسرا ہاتھ تھا….
مگر یہ قتل کسی اور نے نہیں …
سوریہ نے کیا تھا…
. اس نے اپنے ایک اور بندے کو بلا کر اس کو کہا….
Pick hum up and throw him out now. ..
Is he dead…??
Shut up. ..mind your own business. ..
سوریہ کے چلانے پر….
وہ لوگ تابی کو….
ہاتھوں اور پیروں سے اٹھا کر باہر لے گئے ..
فارس خاموش کھڑا یہ سارا تماشہ دیکھتا رہا..
اس کا دل بہت خراب ہو رہا تھا…
اپنے دوست کو اس طرح دیکھ کر…
مگر اس کے اندر اتنی ہمت نہ تھی….
کہ وہ سوریہ کے سامنے کچھ بھی کر پاتا ….
ان لوگوں کے تابی کو باہر لے جاتے ہی….
فارس بھاگتا ہوا باہر گیا ….
ان لوگوں نے تابی کو کلب سے باہر پھینک دیا..
اور خاموشی سے اندر آ گئے ….
فارس بھاگتا ہوا تابی کے پاس گیا…
_____________________________________________💔
ارسلان اور حریم دونوں ہی کافی تھکے ہوئے تھے…
ارسلان کے کہنے پر …..
حریم اس کے کمرے میں گئی تھی….
وہ کمرہ بے حد حسین …
اور بیش قیمتی فرنیچر سے آراستہ تھا ….
حریم شاور لیکر باہر آئیں….
وہ اپنے بالوں کو سکھا رہی تھی….
جب اس کی نظر سامنے بیڈ پر لیٹے ….
ارسلان پر پڑی ….
حریم کے باہر آتے ہی….ارسلان نے بھی ایک نظر اس پر ڈالی….
مگر ایسا بن گیا جیسے اسے اس نے کو دیکھا ہی نہیں …
حریم نے ڈاک براؤن کلر کی….
سلک کی شرٹ.. اور سلک کا ہی لوور پہنا تھا ….
حریم نے پہلی بار اس طرح کے کپڑے پہنے تھے….
ایک تو یہ کپڑے… اوپر سے سامنے لیٹا وہ نوجوان….
یا اللہ …….
ارسلان حریم کو دیکھ رہا تھا….
جس کے چہرے سے صاف واضح تھا کہ….
اس کو بے حد شرم آ رہی ہے….
مگر پھر بھی وہ ایسا بنا رہا….
جیسے اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہاں ہو کیا رہا ہے….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Kehkashan Si Rehguzar Novel By Rubab Naqvi – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: