Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 23

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 23

–**–**–

حریم سامنے کھڑی تھی …
جب ارسلان نے اس کو مخاطب کیا …
تم وہاں کیوں کھڑی ہو…!!
کیا تمہارے سونے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے..!!
ابھی ارسلان نے یہ بات کہی تھی…
کہ اچانک اس کے نمبر پر کسی کی کال آئی …
وہ ان نون نمبر سے کال آ رہی تھی…
ارسلان فورن سیدھا ہو کر بیٹھ گیا….
اور کال اٹینڈ کی …
ہیلو ….ہیلو جی…
مجھے ارسلان باجوہ سے بات کرنی ہے ..
.میں ارسلان ہی بات کر رہا ہوں …
کون ہے آپ…!!!
میں فارس بات کر رہا ہوں…
زبیر باجوہ کا دوست….
زبیر کا نام سنتے ہی ارسلان نے …
ایک نظر حریم پر ڈالیں…
جو اب ڈریسر کے پاس کھڑی…
اپنے ہاتھوں پر لوشن مل رہی تھی…
ارسلان بیڈروم سے باہر سوشل ایریا میں آیا..
ہاں بولو کیوں کال کی ہے تم نے مجھے !!!
سب خیریت ہے….
ارسلان بھائی دراصل وہ….
بات کرو… اس طرح بات کو گھما نہیں…
دراصل وہ زبیر کو گولی لگی ہے….
پہلے تو ارسلان کافی حیران اور پریشان ہوا …
مگر خود کو قابو کرتے ہوئے…
اس نے تسلی سے سوال کیا….
تو پھر …!!
دراصل ایک کولی اس کے بازو اور سینے کے درمیان لگی تھی….
ایک پیر پر لگی تھی…
اور ایک بازو پر ….
وہ کیا جنگ لڑنے گیا تھا…!!!
جو اتنی گولیاں کھا کر آیا ہے ….
نہیں جنگ ہی سمجھ لیجئے….
وہ آپ کی بیگم حریم کے لئے ہی…
جنگ لڑنے گیا….
تھا کیا ب**** ہے یہ….
آپ کو یہ ب**** لگ رہی ہے…
آپ کے لیے یہ بات ب**** ہی ہوگی…
مگر میرے دوست نے آپ کی بیگم کے لیے….
اپنی جان خطرے میں ڈالیں….
تم نے مجھے پاگل سمجھا ہے…!!!
تمہیں کیا لگتا ہے…
تم یہ سب کہو گے اور میں مانلوں گا…
اب حریم کا تابی سے کوئی تعلق نہیں ہے….
میں آپ کو پاگل نہیں….
مگر سمجھدار ضرور سمجھتا ہوں…
ہاں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ کی بیگم کا اب میرے دوست سے کوئی تعلق ہے….
مگر میں یہ نہیں جانتا کہ آپ کی بیگم کا ہمارے ماسٹر سے کیا تعلق ہے….
کیا مطلب کون ہے تمہارا ماسٹر ..!!
ہمارا ماسٹر سوریہ….
سوریا… کون… سوریہ …!!
انڈرگراؤنڈ ہمارا کام ہے….
وہ اس کا بادشاہ ہے …
اچھا تم لوگوں کا کام…
میں تم لوگوں کا کام اچھے سے سمجھتا ہوں …
اصل بات کیا ہے یہ بتاؤ ….
دراصل ہمارے ماسٹر نے…
آپ کی بیگم کی تصویر دیکھی …
جب اس نے وہ تصویر دیکھی…
تو اس نے حریم کو طلب کرنا چاہا….
مگر اس بات پر میرا دوست….
اس کے اوپر چڑھ گیا…
جس کا نقصان وہ اس صورت میں اس کو ملا..
کہ ابھی وہ ہاسپٹل میں ہے….
کیا مطلب ہے… حریم کی تصویر …
اس آدمی کے پاس کیسے گی….
یہ میں نہیں جانتا….
یہ بات آپ اپنی بیگم سے پوچھے …
کہ اسکا کس کس سے تعلق….
ب**** بند کرو …..
تمہاری زبان کھینچ لوں گا …
میری زبان کی کھینچنے سے بہتر یہ ہے….
کہ آپ اپنی بیگم سے سوال کریں…
کہ اس نے تصویر کہاں کہاں بھیجی ہیں…
اور ان کا تعلق کس سے ہے….
تم اس وقت کہاں ہوں فارس!!!
ارسلان نے سپاٹ انداز میں پوچھا ….
میں اس وقت امریکہ سن فرانسسکو میں ہو…
ٹھیک ہے میں صبح تم سے ملنے آ رہا ہوں…
صحیح ہے مجھے آپ کا انتظار رہے گا…
یہ کہتے ہوئے فارس نے فون رکھ دیا …
فون رکھتے ہوئے وہ فورا مسکرایا …
زبیر کام ہو گیا …اب اگلا قدم تو اٹھا…
اب آگے کام تیرا ہے….
میں اپنا کام کرچکا…
دوستی کا پورا حق ادا کر رہا ہو…
یہ کہتے ہوئے ان دونوں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا….
فون بند کرتے ہی. …
ارسلان فور اپنے بیڈ روم میں واپس آیا …
حریم دیوار کے پاس کھڑی تھی….
جہاں ارسلان کی ایک تصویر لگی تھی…
اس تصویر میں ارسلان نے گرے کلر کی ہائی نیک…. اور جینز پہنی ہوئی تھی….
ہاتھ میں واچ… وہ دونوں ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا ….
حریم اس تصویر کے بالکل مقابل کھڑی تھی…
اس تصویر میں دیکھو…
کتنے ہینڈسم لگ رہے ہیں …
اور ویسے بندہ ان کی شکل بھی نہ دیکھے …
قدر کھڑوس انسان ہیں…
ہر وقت انکی سونڈ گرم رہتی ہے…
بندہ اس تصویر میں مسکرا رہا ہے…
تو نارمل بھی مسکرا سکتا ہے…
مگر پتہ نہیں ان پر تو لگتا ہے جیسے ٹیکس لگتا ہے ….
حریم تصویر دیکھتے ہوئے کمنٹری کر رہی تھی..
جب کہ ارسلان اس کے پیچھے کھڑا….
اس کی ساری باتیں سن رہا تھا…
اگر تمہاری باتیں ختم ہو گئی ہو…
تو کیا میں تم سے ایک سوال کر سکتا ہوں…
اگر تم اس کا جواب سچ دو….
میں جھوٹ بولتی بھی نہیں ہوں…
پہلے تو ایک دم ارسلان کے سوال کرنے پر …
حریم در گئی تھی …
مگر خود کو قابو کرتے ہوئے…
اس نے ریلیکس ہو کر جواب دیا….
ارسلان کے چہرے سے یہ صاف ظاہر تھا کہ..
اس وقت وہ بہت غصے میں ہے…
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ…
اس کو غصہ حریم پر ہے یا پھر فارس اور زبیر پر ….
دیکھو حریم میں تم سے جو کچھ پوچھوں گا..
تمہیں اس کا سچ سچ جواب دینا ہو گا…
کیونکہ مجھے نفرت ہے جھوٹ بولنے والے لوگوں ….
سے آپ کوئی انوکھے انسان نہیں ہے…
جھوٹ بولنے والوں سے …
ہر کسی کو نفرت ہوتی ہے ….
کوئی فضول بات نہیں…
کوئی فضول جواب نہیں چاہیے…
اس وقت مجھے….
میں جتنا پوچھوں گا…
صرف اس کا جواب دینا…
آئی سمجھ ….
ارسلان کے اس طرح غرانے پر حریم سہم گئی …
دیکھو حریم کھلاتا سونے کا نوالہ ہوں مگر دیکھتا شیر کی نگاہ سے ہو…..
کیا تم نے کبھی اپنی تصویر کسی بھی غیر بندے کو سینڈ کی ہے…!!!
آہ ارسلان بھائی ….
ام ….میرا مطلب ہے ارسلان….
نہیں ارسلان میں نے کبھی کسی کو اپنی تصویر نہیں بھیجی…..
میں بھلا کسی کو اپنی تصویر کیوں بھیجوں گی ….
میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا…
کہ تم نے بھیجی ہے …
میں تم سے بس اتنا جاننا چاہ رہا ہوں کہ…
کبھی غلطی سے کسی دوست کو…
یا پھر کسی بھی غیر بندے کو…
کسی بھی ایسے بندے کو جس کو تم جانتی نہیں ہو کبھی اپنی تصویر بھیجی ہے…
نہیں ارسلان میں نے کبھی کسی کو اپنی تصویر نہیں بھیجی….
ہاں میں نے ایک بار آپ کے کمپنی میں ضرور اپلائی کیا تھا… جس کے لیے میں نے اپنی…
یار میں یہ نہیں پوچھ رہا ..
میں تم سے غیر بندے کی بات کر رہا ہوں…
نہیں ارسلان میں سچ کہہ رہی ہوں…
میں نے کبھی ایسا نہیں کیا…
ارسلان چند منٹ خاموش کھڑا اس کو دیکھتا رہا….
آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہیے ہیں…
کیا آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے …
کیا آپ کو کسی نے کچھ کہا ہے…
تو پلیز مجھے بتائیں کیا بات ہے…
نہیں مجھے کچھ خبر ملی ہے…
وقت آنے پر تمہیں بتا دوں گا….
مگر تم پلیز مجھ سے کوئی بات نہ چھپانا ..
اور نہ کسی قسم کا جھوٹ بولا…
ٹھیک ہے …!!جی ٹھیک ہے…
مگر پلیز مجھے بتائیں تو سہی…
جتا میں نے کہا ہے بس اتنا سنو …
میں صبح امریکہ جا رہا ہوں…
امریکہ مگر کیوں…
مجھے کچھ ضروری کام ہے…
کل رات تک واپس آ جاؤں گا…
بھلا آپ صبح میں امریکہ جائیں گے…
اور رات کو واپس آسکتے ہیں نا ممکن سی بات ہے ہاں…..
بات تو نہ ممکن سہی…
مگر کوشش کروں گا کہ جلد واپس آ جاؤ…
کیونکہ تمہیں ابھی اکیلا چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے….
تم اس جگہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی…
مگر تم فکر مت ہونا …
میں واپس آ جاؤں گا …
مگر ساتھ آپ نے کچھ باڈی گارڈ بھی چھوڑ کر جاؤں گا تمہاری حفاظت کریں گے…
کیا میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتی…
نہیں تم نہیں جا سکتی….
میں کسی آفس کے کام کے لئے جا رہا ہوں …
مگر میں اکیلی نہیں رہ سکتی ارسلان …
حریم کے اس طرح کہنے پر…
ارسلان کو کافی تشویش ہوئی ….
ارسلان نے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا…..
تم پریشان مت ہونا….
میں جلد واپس آ جاؤں گا…
اب آجاؤ آ کے سوجاؤ یہ کہتے ہوئے….
اس نے کندھے سے حریم کو آگے کیا…
ابھی وہ لوگ سونے کے لئے لیٹنے لگے تھے ..
جب ارسلان کے پاس …
پھر سے ایک نمبر سے کال آئی…
تم سو جاؤ حریم مجھے ضروری بات کرنی ہے…..
میں پھر سو جاؤں گا …
حریم خاموشی سے ارسلان کو جاتا دیکھتی رہی…..
اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ…
وہ پریشان ہیں…
یا اللہ میں نہیں جانتی کون سی آزمائش ہے..
مگر پلیز اللہ اب کوئی آزمائش نہ آئی مجھ پر…
حریم سوچتےسوچتے کب سو گی…
اس کو خود بھی پتا نہ چلا….
ارسلان باہر فون پر بات کرتے ہوئے وہیں صوفے پر سو گیا ….
رات اسی طرح گزر گئی…
صبح ارسلان چینج کرنے کمرے میں آیا…
اس وقت اس نے حریم پر نظر نہیں ڈالی …
وہ واش روم سے شرٹ کے بٹن لگاتا باہر آیا …
جب اس کی نظر حریم پر گی…
حریم ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے …
جبکہ دوسرا ہاتھ سینے پر رکھ کر…
بے خبر سو رہی تھی….
حریم بے حد حسین لگ رہی تھی…
اس کا چہرہ بالکل شفاف تھا…
ارسلان خود پر قابو نہ رکھ پایا …
وہ حریم کے بے حد قریب جا کر بیٹھا…
حریم اس کی گرم سانسیں محسوس کر کے ایک دم اٹھیں….
مگر اس کے پاس اتنی جگہ نہ تھی کہ ..
وہ اٹھ کر بیٹھ سکتی…
ارسلان ابھی بھی اس کو دیکھ رہا تھا …
ارسلان کے چہرے پر …
ایک مشکوکنا مسکراہٹ تھی..
جس کو دیکھتے ہوئے حریم گھبرا گئی…
اس شفاف چہرے اور جھکی نگاہوں کو دیکھتے ہوئے…
ارسلان باجوہ خود پر قابو نہ رکھ پایا…
اور آج پہلی بار اپنا حق پورا کرنے …
وہ اس کے قریب بڑھ گیا…
( #امریکہ_سنس_فرانسسکو)…
ارسلان پچھلے آدھے گھنٹے سے بیٹھ فارس کا انتظار کر رہا تھا….
فارس نے اس کو ہوٹل کا ایڈریس دیا تھا ….
تقریبا آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا…
مگر اب تک فارس نہیں پہنچا تھا…
حریم کچن کا جائزہ لے رہی تھی…
جب دروازے پر دستک ہوئی…
اس کو کافی تشویش ہوئی…
کیونکہ باہر تو باڈی گارڈز کھڑے تھے….
دروازہ کھولنا ان کا کام تھا…
ابھی وہ سوچ رہی تھی…
جب دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی…
وہ تھوڑی گھبرائیں….
مگر ہمت کر کے دروازے کے قریب گئی…
دروازہ کھولا تو جیسے ہوش اڑ گئے….
سامنے وہ کھڑا تھا ….
زبیر باجوا….
اس کے ایک ہاتھ پر پٹی بندھی تھی….
وہ ہاتھ میں سٹک لیے لنگڑا کر چل رہا تھا ….
وحشیانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے….
وہ حریم کے قریب آرہا تھا …..
حریم قدم پلٹتی پیچھے کی جانب چل رہی تھیں …
حریم کا ایک رنگ آرہا تھا…..
تو دوسرا رنگ جا رہا تھا….
اس کی زبان نرم انداز میں صرف…
ایک ہی نام کا کلمہ پڑھ رہی تھی…
اور وہ تھا ارسلان باجوہ ….
ہائے میری جان ….
مجھ سے دور رہ کر کتنی حسین ہو گئی ہو تم….
چلو آجاؤ اب میرے پاس ….
اب میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: