Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 24

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 24

–**–**–

اس کی زبان صرف ایک ہی نام کا کلمہ پڑھ رہی تھی…..
اور وہ تھا ارسلان باجوا…
ہائے میری جان مجھ سے دور رہ کر…
تم کتنی حسین ہو گئی ہو….
اب آجاؤ میرے پاس….
میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا…
تابی لنگڑا کر چل رہا تھا ….
حریم نے نہ آگے دیکھا نہ پیچھے…
بس اندھا دھند بھاگنا شروع کیا….
ہاہاہاہا …حریم کے اس طرح بھاگنے پر…
تابی نے ایک زور دار قہقہہ لگایا….
اچھا تو آپ میرے ساتھ…
ہائیڈینسیسیھ کھیلی گئی مسز ارسلان…..
ھاھاھا چلو مزا آئے گا…
اور مزہ آئے گا ….
حریم بھاگتی ہوئی اپنے بیڈ روم میں گئی…
مگر وہاں جاکر وہ …
صرف دروازے کو تکتی رہ گئی…
کیونکہ وہ دروازہ شیشے کا تھا…
اس پر ایک ہی لاک لگا تھا …
حریم نے اپنی حفاظت کے لیے…
پھر بھی وہ لاک لگا دیا تھا …
وہ جانتی تھی کہ وہ کوئی چیز…
اس دروازے پر دیکھ کر مارے گا….
تو یہ دروازہ فوراً ٹوٹ جائے گا….
وہاں سب کچھ دیوار میں نصب تھا…
کوئی بھی فنیچر ایسا نہ تھا کہ…
اس کے پیچھے وہ چھپ سکتی….
تابی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا …
اور وہ صرف ایک ہی آواز نکال رہا تھا….
(i will get uhh baby)…
ہاہاہاہا ….
حریم کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی..
موبائل پر گی…
اس نے فورا ارسلان کا نمبر ملایا…
تین چار بیل جانے کے بعد کال ریسیو کی گئی…
ہیلو… ہیلو …ارسلان میں ..حریم…
ارسلان میں حریم….
کیا ہوا حریم.. تم ..تم اتنی گھبرائی ہوئی..
کیوں ہو… سب خیریت ہے نا ….
ارسلان اس کی آواز سن کر فورا ہوا …
ارسلان نی وہ تابی…
ابھی حریم نے اتنا ہی کہا تھا …
کہ ایک دم شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی…
تابی دروازے پر ایک واس دے کر مارا تھا ..
کانچ ٹوٹنے کی آواز…
مخالف سمت ارسلان کو بھی سنائی دی تھی..
ڈر کے مارے حریم کے ہاتھ سے فون…
ایکدم نیچے گر گیا …
ہیلو …ہیلو… ہیلو ..حریم …
کال کٹ چکی تھی …
ارسلان فورا ریسٹورنٹس نے ہر نکلا …
اور ایئرپورٹ کی جانب بڑھا …
ہاہاہا… بیبی تم یہاں پر ہوں…
میں تمہیں کب سے تلاش کر رہا تھا …
یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں فورا نیچے گرے فون پر گئی …
جس پر ارسلان کی پک کھولیں ہوئی تھی…
وہ سمجھ گیا کہ اس نے ارسلان کو کال کی ہے..
بغیرت لڑکی تیری اتنی جرات…..
غصے میں وحشیانہ انداز میں…
اس کو کچھ سمجھ نہ آیا ….
جب چلاتے ہوئے اس کی نظر ….
سائٹ پر رکھیں….
ایک کانچ کی ٹیبل پر گی….
بنا کچھ سوچے سمجھے…
وقت ضائع کئے بغیر….
اس نے وہ ٹیبل اٹھائیں ….
حریم نے بھاگنا چاہا …..
مگر یہ چند لمحوں کا کھیل تھا…..
وہ کانچ کی ٹیبل سیدھی اٹھا کر….
اس نے حریم کے اوپر دے ماری…
حریم تھوڑا آگے کی جانب بڑھ رہی تھی…
تبھی وہ ٹیبل اس پر نہیں بلکہ….
اس کی دونوں ٹانگوں پر جا کر ٹوٹی…..
ایک فلک شگاف چیخ حریم کے حلق سے نکلی…
جس نے دمپ سٹارٹ کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا …..
یہاں چیخ حریم کے حلق سے نکلی تھی ….
وہاں امریکہ کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنے والے ارسلان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے …..
ہاں یہ کہنا غلط نہیں تھا کہ ….
واقعی اس کو الہام ہوا تھا کہ…..
شاید جس سے وہ واقعی محبت کرتا ہے…
وہ تکلیف میں ہے….
ارسلان نے گاڑی ایک سڑک کے کنارے روک کر..
فون اٹھایا ….
اس کو خیال آیا کہ کیوں نہ وہ ذیشان اور منصور سے کہے کہ ….
وہاں جاکے حریم کی خیریت پتا کریں…
ذیشان اور منصور کو تاکید کرتے ہوئے…
اس نے کہا کہ اپنے ساتھ کچھ سیکیورٹی اہلکار ضرور لے کر جانا …..
اس طرح اکیلے نہ جانا ….
امریکہ سے جرمنی تک کا یہ سفر.
.
بہت مشکل تھا …
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ…
وہ کسی طرح بس حریم کے پاس پہنچ جائے ….
تک… تک …پک.. تک… تک…. وہ لنگڑاتا ہوا..
حریم کے سرہانے جا کر بیٹھا…..
جو اس وقت گنودگی میں تھی …
درد کی شدت اس قدر تھی کہ…
وہ شاید کسی بھی لمحے بے ہوش ہونے والی تھی …..
کانچ کے ٹکڑے اس کے پیروں میں جذب ہو گئے تھے……
اس کے دونوں ٹانگوں سے بے حد خون بہ رہا تھا……
حریم میں اب اتنی بھی سکت نہ تھی کہ….
وہ خود کو تابی سے دور کر پاتیں….
تابی لمحہ با لمحہ اس کے قریب بڑھ رہا تھا…
حریم کی زبان اب بھی ایک ہی نام کا کلمہ پڑھ رہی تھی …..
(ارسلان مجھے بچا لے )….
حریم کے ہونٹ ہلنے پر….
تابی نے اپنے کان حریم کے قریب کیے…
کیا کہہ رہی ہو پنک بیوٹی…!!!!!
ہاہاہاہا… وہ تمہیں بچانے نہیں آئیں گے….
وہ اپنے کزن کو بچانے امریکہ گئے ہیں…
تابی اس وقت کوئی نفسیاتی مریض والا کردار ادا کر رہا تھا …..
چلو یہ اچھا ہوا کہ تمھاری ٹانگیں زخمی ہوگئیں…..
اب کم از کم تم بھاگ تو نہیں سکوں گی نا..
یہ کہتے ہوئے وہ حریم کے قریب بڑھا…..
مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی حدیں پار کرتا…
کانچ کے ٹکڑے جو حریم کے ارد گرد جمع تھے…
اپنی ہتھیلی میں جمع کرتے ہوئے اس نے …
وہ سیدھے تابی کے منہ پر دے کر مارے ….
تابی بری طرح چلا رہا تھا ….
کیونکہ وہ ٹکڑے اس کی آنکھوں میں بھی گئے تھے……
حریم اب درد کی شدت نہ برداشت کرتے ہوئے…….
پوری طرح بے ہوش ہو چکی تھی ….
تابی اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے تڑپ رہا تھا…
کچھ ہی دیر میں ذیشان اور منصور …
کچھ پولیس سیکیورٹی اہلکار کے ساتھ وہاں پہنچے….. تو ….
حریم کو بے ہوش پایا…..
جبکہ تابی زمین پر گرا ہوا تھا….
ارسلان کے تاکید کرنے پر سکیورٹی اہلکار نے اسی وقت بنا کوئی وقت ضائع کی …..
آپ نے آرڈرز کو پورا کرتے ہوئے تابی پر فائر کیے……
وہ تینوں اہلکار ایک کے بعد ایک فائر تابی پر کر رہے تھے ….
وہ پہلے ہی زخمی تھا ایک دو فائر لگتے ہی…
وہ اسی وقت وہاں مر گیا …..
ذیشان اور منصور حریم کو ہوسپیٹل لے کر بھاگے …..
حریم مکمل طور پر خون میں بھیگی ہوئی تھی…….
وہاں ارسلان امریکہ سے جرمنی کا سفر کر رہا تھا..💝💝

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: