Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 3

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 3

–**–**–

کچھ گھنٹوں بعد ……
سب نیچے لون میں بیٹھے تھے ……
ظفر باجوہ نے رشید سے کہہ کر…..
حریم… ارسلان…. اور تابی…. کو بلوایا….
حریم اور ارسلان تو اگئے تھے ….
مگر …..
ابھی تک تابی آپ نے روم سے باہر نہیں آیا تھا……..
فریال تابی کہاں ہیں…..!!!!!
وہ ڈائننگ ٹیبل پر بھی نہیں آیا کھانے کے لئے……….
پتہ نہیں میں اس کے کمرے میں گئی تھی……
مگر وہ سو رہا تھا …..
اس وقت …
تو وہ کبھی نہیں سوتا…..
میں بھی یہی سوچ رہی تھی…..
فریال بیگم نے پریشانی میں کہا……
ارسلان ……!!!!!
جی چاچو ……
بیٹا تمہیں کوئی آئیڈیا ہے کہ تابی کو کیا ہو رہا ہے………
……..( اہ) …..یکدم حریم چلائیں…..
وہ چائے مگس میں ڈال رہی تھی…..
جو کپ سے جھلکیں ……
تمہیں کوئی طریقہ نہیں ہے….???
کام کرنے کا ….!!!
جب دیکھو کچھ نہ کچھ الٹا کرتی ہو…..
اتنی ہی مصیبت ہے تو نہیں کیا کرو کام…..
بس ہر وقت گھسی رہا کرو کتابوں کے اندر……………
جیسے تم سےاچھا تو کوئی اور ہے ہی نہیں ……….
سب حیرانی سے ارسلان کا یہ رویہ دیکھ رہے تھے…..
کیا مسئلہ کیا ہے…. آپ کا……???
ہر وقت آپ کی سونڈ گرم کیوں رہتی ہے……
(What)???….
اچھا اچھا بس آپ دونوں لڑنا بند کریں….. دراصل میں کل جرمنی جا رہا ہوں……
اور ارسلان تم بھی ساتھ چلو گے میرے……
جی چاچا میں پیکنگ کرتا ہوں ……
حریم نے ارسلان کو دیکھا جو اس کے مقابل دیکھ رہا تھا…
حریم کی نظر پلٹنے پر ارسلان نے حریم کو دیکھا……..
جو کپ سمیٹ رہی تھی……
__________________________________
اگلے دن ارسلان شیشے کے سامنے کھڑا تھا…………..
آج وہ پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا رہا تھا ……..
یا شاید اس کا سفر دوبارہ کبھی پاکستان کا ہوتا………
ارسلان نے ایک پیپر پر حریم کا نام لکھا……
اور آگے سوری لکھ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھئے فروٹ باکس میں رکھا……..
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ…….
اس کے جانے کے بعد حریم اس کے کمرے سے سامان سمیٹنے ضرور آئے گی……
سب مرکزی دروازے پر کھڑے تھے……
کیونکہ اب ظفر باجوہ اور ارسلان باجوہ کے جانے کا وقت تھا…….
ارسلان نے نکلتے ہوئے حریم سے کہا …..
تمہارے لئے میرے کمرے میں کچھ ہے…..
جاکر لے لینا …..
میں نہیں جاؤں گی….. آپ کے سڑے ہوئے کمرے میں …….
حریم نے منہ بسورتے ہوئے کہا ……
ارسلان کچھ دیر خاموشی سے حریم کو دیکھتا رہا ……
اور پھر وہ لوگ وہاں سے چل نکلے…..
___________________________________کچھ دیر بعد ……
فریال بیگم حریم ٹی وی لانچ میں بیٹھے نیوز دیکھ رہے تھے……
ناظرین تازہ ترین خبروں سے ہم آپ کو آگاہ کرتے ہیں …..
کہ وزیراعظم کے حتمی میں اعلان کے مطابق…..
ملک بھر میں ایک ہفتے کی عام تعطیل کی جائے گی……..
تمام تعلیمی ادارے… کاروبار…. اور بینک…
بند رہیں گے…..
تمام نئے فلائٹس منسوخ کر دی جائیں گی…..
اوہ شکر ہے یہ لوگ وقت پر نکل گئے ورنہ پھنس جاتے…..
کیا بنے گا ہمارے ملک کا…..!!!!!
فریال بیگم نے افسوس کرتے ہوئے کہا….
___________________________________________
18 گھنٹے کی فلائٹ کے بعد …..
ارسلان باجوہ …..
(جرمنی)…( ڈمپ سٹارٹ)….
کہہ سکتے ہیں کہ ایک ٹاؤن ہے….
کیونکہ یہاں علاقے نہیں پائے جاتے….
ارسلان کے والد کاصرف ڈمپ سٹارٹ میں نہیں بلکہ جرمنی کے بہت سے مقامات پر باجوہ خاندان کے اپنے ذاتی گھر تھے….
ارسلان کا کمرہ وائٹ وال پیپر سے آراستہ تھا….
جبکہ فرنیچر براؤن کلر کا تھا….
ایک وال پیپر پر مکمل طور پر وال ہیک ڈیوائیڈر لگا تھا ……
ایک ریک میں (ایل ای ڈی)….
اوپر نیچے کے چار ریکس میں ساؤنڈ سسٹم لگا تھا…….
ایک ایک ریک پر….
( گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ)…❣
(دا گریٹ گیسٹسبائی)…❣.
( فورٹی رولز آف لو)….❣
جیسی قیمتی کتابیں رکھی ہوئی تھی ….
ایک ریک میں کچھ مگز اور قیمتی فٹبال کی شیلڈز رکھی ہوئی تھی……
ایک ریک میں ارسلان اور اس کے والدین کی ایک فریم تھی……
جس میں ارسلان اپنی والدہ کے ہمراہ ایک صوفے پر بیٹھا تھا …..
یہ فریم تقریبا 13 سال پرانی تھی ….
مگر اب تک صحیح منٹین رکھی ہوئی تھی….
____________________________________پاکستان رات گیارہ بجے……
حریم ارسلان کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی ……
جب اسے کچھ دن پہلے ہونے والا اس کمرے میں واقعہ پھر یاد آگیا……
کھڑوس انسان…..
یہ کہہ کر اس نے کمرے کا دروازہ بری طرح پٹک دیا……..
__________________________________
رات تین بجے……
فریال بیگم اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی………..
جب انہیں کسی شور کی آواز سنائی دی……
وہ آوازیں سن کر نیچے گئی…..
تو وہاں متعدد پولیس اہلکار رشید سے اونچی آواز میں بات کر رہے تھے……
جبکہ ان کے ساتھ ایک اہلکار کھڑا حریم سے سوالات کر رہا تھا ……
انکل وہ تابی بھائی اس دن ڈرے ہوئے اپنے کمرے میں بھاگ گئے تھے …..
مجھے بھی لگ رہا تھا کہ وہ کوئی گناہ کر آئے ہیں…..
مگر اس وقت فریال آنی اور ظفر انکل گھر پر نھیں تھے …..
اس لیے وہ اپنے کمرے میں جا کر چھپ گئے …….
مگر اب مجھے لگتا ہے کہ اللہ تعالی انہیں سزا دیں گے ……
حریم معصومیت سے اپنا بیان دے رہی تھی……….
جبکہ تابی جو ٹی وی لانچ کے دوسرے دروازے پر چھپا تمام گفتگو سن رہا تھا……
حریم کی اس بات پر اس کا خون خول اٹھا……….
حریم میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا …..
تابی نے دانت پیستے ہوئے کہا…..
ان پولیس اہلکار کے ساتھ ایک اور لڑکا ویل ڈریس بھی کھڑا تھا……
جو بے انتہا غصے میں تھا ….
فریال بیگم کو دیکھ کر وہ لوگ خاموش ہوگئے……..
آئے آئے میڈم اتنی پرسکون نیند لینے سے پہلے اپنی اولاد پر بھی نظر رکھیں…..
کیا مطلب ہے آپ کا تمیز سے بات کریں………??????
فریال بیگم نے غصے میں اس پولیس اہلکار کو ڈانٹا …..
اور کس کی اجازت سے آپ میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں ….?????
بی بی ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں سمجھی……
وہ لڑکا چلاتے ہوئے بولا…..
آپ ناراض نہ ہو سر ان کو ہم دیکھتے ہیں……
وہ نوجوان لڑکا وہاں سے باہر چلا گیا …..
تو بی بی منٹ سے پہلے اپنی بگڑی اولاد کو یہاں بلائیں……
کیا مطلب ….!!!!
مطلب یہ کہ زبیر باجوہ کو ہم گرفتار کرنے آئے ہیں…..
ایک پولیس اہلکار نے کہا…..
مگر کیوں میں آپ کو ہرگز اپنے بیٹے کو لے جانے نہیں دوں گی …..
بیگم آپ سے اجازت مانگی کس نے…..???
جاؤ جا کر اس لڑکے کو تلاش کرو…..
ایک پولیس افسر نے باقی اہلکاروں کو حکم سناتے ہوئے کہا…..
پولیس آفیسرز کے کہنے پر تمام آفیسرز گھر کی تلاشی لینے لگے……
آپ جانتے نہیں ہیں کس شیر کے پنجرے میں ہاتھ ڈالا ہے آپ لوگوں نے…….
ہم سب جانتے ہیں……
یکدم تابی کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں…..
دو پولیس اہلکار اس کو گھسیٹتے ہوئے نیچے لائے…..
ماما ….ماما ….
مجھے بچائی …..
تابی میری جان…..
چھوڑو مجھے …..
mama help me ….ahhh leave mee..
I said leave me….
چل بیٹا تو اب دیکھ….
اور بی بی تم کسی اونچی سفارش کا انتظام کر لو ……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: