Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 4

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 4

–**–**–

چھوڑیں میرے بیٹے کو…..
فریال بیگم نے بہت کوشش کی…..
مگر سب بے سود رہیں……
تابی نے باہر نکلتے ہوئے چلا کر کہا ……
حریم میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا….. نہیں….
چھوڑوں گا ….میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا …….
کچھ گھنٹوں بعد…..
فریال بیگم ڈی ایس پی کے آفیس میں بیٹھی تھی…..
اسلام علیکم محترمہ……
جج جی …..وہ میرا بیٹا…..
. کونسا بیٹا ?????
ایک کانسٹیبل نے ایک فائر لاکر …..
(ڈی .ایس .پی) کو دیں……
وہ چند منٹ اس فائل کو پڑھتے رہے …..
فریال بیگم مسلسل پریشانی کے عالم میں سامنے بیٹھے آفیسر کو دیکھتی رہی……
عمر نو سال……
چار کمپلینس…..
نام زبیر باجوہ……
کس قسم کی کمپلین سر آپ کچھ بتائیں تو سہی…..!!!!!!!
آپ کا بیٹا …….
(the prime master) (#land_city)
نامی گینگ کا حصہ ہے یہ گینگ (#ٹین_ایج)
گروپس میں ڈرگس فراہم کرتا ہے ……
اس میں آپ کا بیٹا بھی ملوث ہے ……
نہیں میں نہیں مان سکتی میں…..
ہرگز آپ کی بات نہیں مانوں گی ……
بی بی آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا……….
اور ایک بات اور آپ کا بیٹا فیس بک پر لڑکیوں کو بلیک میل کرتا ہے…….
بہانے سے ان کی تصویریں نکلواتا ہے…..
پھر اگر کام مکمل نہ ہو تو ان لڑکیوں کو بلیک میل کرتا ہے ………
جن لڑکیوں کو وہ بلیک میل کرتا ہے……
ان میں سے ایک لڑکی میرے بھائی کی بیٹی تھی ……
اس کی کمپلین کی گئی…..
اور اب یہ بات یہاں تک پہنچ گئی ……
میں آپ کے بیٹے کو اتنی آسانی سے رہا نہیں ہونے دوں گا……….
اب کی بار آپ کے بیٹے کو اپنے کیے گئے تمام گناہ کی سزا ملے گی…….
کیونکہ اس نے میری بھتیجی کو اتنا دھمکایا ہے….
اس کی وجہ سے میری بھتیجی کی آنکھوں سے اتنے آنسو نکلے ہیں……
میں ان سب کا بدلہ اس سے سود سمیت لو گا …..
دیکھیے آفیسر آپ جتنے پیسے مانگے ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہے ……..
خبردار…. خبردار ……جو آپ نے ہمیں رشوت دینے کی کوشش بھی کی……
ہر پولیس والا ایک جیسا نہیں ہوتا……
تم امیر لوگ یہ بات سمجھتے ہو کہ ہر غلط کام کو پیسے کے نوٹوں کے ذریعے چھپا لو گے ……..
مگر ابھی ایسا نہیں ہوگا ……
ہاں آپ کے پاس ایک رستہ ہے اگر آپ چاہیں تو ضمانت پر اپنے بیٹے کو رہا کرا سکتی ہیں……
پولیس افسر تھوڑا مسکرایا …..
مگر آپ کو پورے 32 لاکھ روپے جمع کرانے ہوں گے…..
کیونکہ میں اتنی آسانی سے آپ کے بیٹے کو رہا نہیں ہونے دوں گا……
دیکھے آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں …..
میں آپ کو پوری رقم دے دونگی لیکن مجھے کچھ وقت کی ضرورت ہے ظفر باجوا ابھی ملک سے باہر ہیں عام تعطیل ہوئی ہے بس وہ جیسے ہی آتے ہیں ہم اس معاملے کو آپس میں بیٹھ کر حل کریں گے ……….
11گھنٹوں کا ٹائم ہے آپ کے پاس اگر گیارہ گھنٹے کے اندر یہ رقم ادا نہیں کی گئی…… تو……..
آپ کے بیٹے کو 13 سال کی سزا سنا دی جائے گی …….
بھلا آپ کون ہوتے ہیں میرے بیٹے کو سزا سنانے والے ………
ہاہاہاہا بی بی ابھی آپ کو بتایا ہے کہ جس لڑکی پر اس نے ہاتھ ڈالا ہے وہ کوئی معمولی خاندان کی لڑکی نہیں……..
وہ میری بھتیجی ہے اور میں آپ کے اس آوارہ بیٹے کو اتنی آسانی سے رہا نہیں ہونے دوں گا ……..
اب جاؤ یہاں سے میرا وقت ضائع نہ کرو ……..
اگر اپنا بیٹا چاہیے تو جاکر ابھی ضمانت کی رقم کا انتظام کرو …….
دیکھیں آفیسر ……
میں نے کہا جاؤ یہاں سے ……
پولیس آفیسر وحشیانہ انداز میں چلایا……
اس کا یہ رویہ دیکھ کر فریال بیگم ایک دم کے لیے کانپ اٹھی …….
_______________________________________________
فریال بیگم پورے ٹی وی لانچ میں پچھلے ایک گھنٹے سے پاگلوں کی طرح چکر لگا رہی تھی …….
کیونکہ موبائل سروس ایک ہفتے کے لیے بند تھی…..
تمام فلائٹس منسوخ کردی گئی تھی ……
بینک بند تھے ……..
ظفر باجوہ سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں مل پارہا تھا…….
حریم بھی وہیں بیٹھی دل کی دل میں سوچ رہی تھی………….
( اللہ جی میں نے تو کچھ نہیں کیا پھر تابی بھائی مجھ سے ناراض کیوں تھے اللہ جی مجھے تابی بھائی کے شر سے محفوظ رکھنا آمین )……..
حریم معصومیت سے اپنی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی……….
وقت گزرتا گیا بامشکل دوست احباب کی مدد سے 32 لاکھ روپے کا انتظام کرلیا گیا ………
فریال بیگم وکیل کے ساتھ تابی کی ضمانت کے لیے گی………
بالآخر تین گھنٹے کے انتظار کے بعد ……
ڈی. ایس. پی آفس میں آیا……
جی تو بی بی کیسے آنا ہوا …….
دراصل میں اپنے بیٹے کی ضمانت کے لئے آئی ہوں …..
کون سا بیٹا پولیس آفیسر نے سپاٹ انداز میں پوچھا…..
( ……تابی…….)
کون تابی …..????
میرا مطلب ہے زبیر باجوا…….
فریال بیگم ہچکچائیں …..
بی بی آپ سے کہا تھا گیارہ گھنٹے کے اندر زمانت ہوگی گیارہ گھنٹے کا مطلب اڑتالیس گھنٹے نہیں ہوتا ……
میری بات سنیں آفیسر میں اتنی بڑی رقم کہاں سے لا تھی…….
ہر انسان کو ٹائم کی نیڈ ہوتی ہے ……..
یہ ہمارا مسئلہ نہیں سمجھی ……
دیکھی آفیسر ایک ہفتے تک شٹرڈاؤن تھے…..
میرے ہسبنڈ سے میرا کوئی رابطہ نہیں…..
بینک بند …..میں کس طرح ارینج کرتی ……
دیکھو بی بی ہمارے پاس کرنے کو اور بہت سے کام ہے ……..
ٹھیک ہے اور تیرہ سال بعد جب تمہارا بیٹا رہا ہوگا تو آجانا اس کو لینے ……..سمجھیں……
اب جاؤ تنگ نہ کرو ہمیں…… کرنے دو کام ……
کیا ب**** ہے یہ…..
فریال بیگم چلاتی ہوئی کھڑی ہوئی……
تو بی بی آواز نیچے……
تم لوگ ہوں گے بڑے خاندان سے…….
مگر یہاں انصاف ہوتا ہے…… سمجھی ……
ہر پولیس والا ایک جیسا نہیں ہوتا…….
اب جاؤ یہاں سے آجانا ہر ماہ اپنے بیٹے سے ملنے…..
اب تنگ نہ کرو ورنہ تم کو بھی اندر کر دیں گے ……
جاؤ یہاں سے…….
_____________________________________________
یہاں ایک ماہ بعد لاتعداد کوششیں کی گئیں…..
تابی کو بچانے کے لئے……
مگر مخالف پارٹی بھی کسی سے کم نہ تھی……
بالآخر تھک ہار کر ……
ظفر باجوہ اور فریال باجوہ جرمنی دمپ سٹارٹ ارسلان کے پاس چلے گئے……
جہاں ارسلان باجوہ
(School name). …👇👇👇
(Technische Hochschule in Darmstadt)
(àbýťohwà)….[graduation]…
کر رہا تھا ………
یہاں حریم اور رشید پاکستان میں ہی ظفر باجوہ کے گھر زندگی گزار رہے تھے ………
حریم انٹر کر رہی تھی اور ساتھ ہی (A_R_B#) نامی کمپنی میں انٹرن شپ بھی کر رہی تھی………
جرمنی کے رہنے والوں نے مر کر تیرہ سال تک پاکستان نہ دیکھا………
اور نہ ہی دوبارہ کبھی پاکستان کا رخ کیا ……
جبکہ تابی کی خیریت ایک دوست کے ذریعے معلوم کرتے رہے……..
وہاں ارسلان باجوہ نے 19 سال کی عمر میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام شروع کیا …….
کامیابی نے اس کے قدم چومے……
اور وہ تر سے تیز ترین ترقی کرتا گیا…….
آج 27 سال کی عمر میں ارسلان باجوہ نے اپنے تین پیزا ریسٹورنٹ …….
جو کہ امیر ترین بندے بھی جرمنی میں بامشکل کھول پاتے……..
نہ صرف یہ اس 11 مرسڈیز.
( E class )…..#Mercedes….
کے مالک نے اپنی ساری گاڑیاں ایک کمپنی میں دیں……
تاکہ ایک اور ذریعہ معاوضہ بن جائے……..
آج ارسلان باجوا اتنی سی عمر میں پاکستانی روپے کے حساب سے اربوں روپوں کا اکلوتا وارث…….
ارسلان باجوہ اس سرمئی آنکھوں والے میں غرور تو بالکل نہ تھا مگر …….
اس کے مزاج بھی کسی سے نہ ملتے تھے …….
یہاں تک کہ ارسلان کی فلہال کوئی گرل فرینڈ بھی نہ تھی…….
ارسلان ڈمپ سٹارٹ سے فرانک فرٹ میں رہائش پذیر تھا……..
ارسلان باجوہ نے اپنا کمرہ بالکل ویسے ہی اراستہ کیا ہوا تھا جیسے دمپ سٹارٹ میں تھا …….
دراصل ارسلان باجوہ شروع سے ہی ایک نیچر کا رہا
لوگوں سے کم بات کرنا زیادہ فضول نہ بولنا ….
ہاں وہ کافی رومانٹک تھا….
_____________________________________________
.پاکستان شام7بجے)…..
گلابی رنگت ,سنہری بال, گہری کالی آنکھیں, جامنی شلوار قمیض میں ملبوس وہ لان میں گھاس پر بیٹھے زخمی کبوتر کی صحت یابی کی دعا مانگ رہی تھی …..
اسکے چہرے کا رخ آسمان کی جانب تھا….
جب آسمان سے بارش کی ایک موٹی بوند اس کے رخسار پر آگری …..
چہرے پر حسین مسکراہٹ نمودار ہوئی …
ٹپ…. ٹپ ….ٹپ……!!!!
ایک کے بعد ایک گہری بوندھ برسنے لگی…..
اس نے زخمی کبوتر کو ایک سایہ دار جگہ پر رکھا……
اور بھاگتی ہوئی کھلے آسمان کے نیچے گئی…….
……………………………
وہ بھاگتی ہوئی کھلے آسمان کے نیچے گئی……
بارش کی آوارگی نے ایسی رت بدلی کے کب اس کے سینے سے دوپٹا دور جاگرا اس کو ہوش ہی نہ تھا ………
وہ دیوانوں کی طرح بارش میں بھیگ رہی تھیں……
کہ اچانک مرکزی دروازے سے ایک گاڑی اندر آئی…….
اس کو ابھی بھی ہوش نہ تھا…….
وہ ایک دم بے سہارا ہو کر گرنے لگیں…….
جب کسی نے مضبوطی سے اس کو اپنی گرفت میں لیا…..
چند مین جیسے اس کے ہوش اڑ گئے…..
خود کو ان مردانہ ہاتھوں کی گرفت میں دیکھ کر …..
بمشکل تسمیہ پڑھتے پڑھتے اس نے نظر اٹھائی…..
تو پیروں تلے زمین نکل گئی…….
سامنے زبیر باجوہ کھڑا تھا…..
حریم ………
اس نے سنجیدگی سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا……
جو حیران پریشان اس کو دیکھنے میں مصروف تھی…….
تابی نے اس کے سامنے چٹکی بجائی …….
حریم نے خود کو حیرانی کے حصار سے باہر نکالا ……….
(تہ….. ت…… تم)…..
. کیا ہوا………
. تمہارے ہوش کیوں اور گئے مجھے دیکھ کر …….
تابی نے ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا………..
بلیوجینز… بلیک شرٹ… سر پر کیپ…. ہاتھ میں واچ….
اس کی حالت سے کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ 13 سال کی سزا مکمل کرکے آیا ہے …..
اندر چلے…??
یہ کہتے ہوئے تابی کی نظر اس کے کپڑوں پر گی جو بارش کی وجہ سے بھیگ کر اسکے جسم سے چپکے ہوئے تھے …..
تابی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس نے بھی خود کو دیکھا …..
حریم کو یکدم شرمندگی ہوئی….
حریم فور آگے پیچھے نظر گھمائیں اس کا دوپٹا تابی سے کچھ فاصلے پر گرا تھا…..
حریم نے فورا جھک کر دوپٹا اٹھانا چاہا…..
مگر دوپٹے کا ایک کونا باجوہ کے پیروں میں دبا ہوا تھا….
حریم جو پہلے ہی شرم سے پانی پانی ہورہی تھی….
بامشکل صرف اتنا ہی کہہ سکی….
میرا ….وہ ..
اس کے اس طرح جھجھکنے پر تابی نے مسکراتے ہوئے پیر پیچھے کیا….
حریم نے جلدی سے دوپٹہ اٹھا کر اپنے گرد لپیٹا….
تابی ہاتھ منہ میں دبائے مسکراتا جا رہا تھا….
تابی کے اس تصورات سے حریم کو کافی الجھن ہو رہی تھی ….
اہ….. تابی بھائی….
اندر آئے….
ہائے یار کافر نہ کرو مجھ غریب کو بھائی بول کر …
کیا مطلب…??
حریم نے سوالیہ انداز میں تابی کو دیکھا ….
پنک بیوٹی….
لڑکیاں مطلب نہیں پوچھتی….
اہ ….مم… میں ابو کو بتاتی ہوں کے آپ آئے ہیں …..
ان کو چھوڑو تم ان کو بتا کر کیا کروگی…..
تم مجھ سے بات کرو ذرا….
تابی نے سنجیدگی سے کہا…..
میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا …..
میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا …..
13 سال پہلے جو الفاظ تابی نے چلاتے ہوئے حریم کو کہے تھے ….
وہ آج 13 سال بعد حریم کے دماغ میں زور زور سے چلا رہے تھے….
حریم…. حریم….
کدھر گم ہوگئی…..
میں تم سے بات کر رہا ہوں….
حریم نے ایک دم سر جھٹکا ….
وہ میں کچھ سوچ رہی تھی….
خیر تو ہے لڑکی کیا سوچ رہی تھی….
تابی نے ابرو اچکآئ….
یاہ …..
دراصل ابو کی دوائی کا ٹائم ہوگیا ہے….
میں آتی ہوں….
یہ کہہ کر حریم جانے کے لیے مری…
تبھی تابی نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑا …..
حریم نے یکدم اس کو حیرانی سے دیکھا…..
جو مشکوک نظروں سے حریم کو دیکھ رہا تھا ….
حریم کی دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی….
حریم نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی..
جب اس کی اس جدوجہد پر تابی کی ہنسی چھٹی….
جاؤ …
یہ کہہ کر تابی نے حریم کا ہاتھ چھوڑا …..
حریم بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی …
رشید کی طبیعت اب کافی نہ ساز رہتی تھی ….
وہ اپنے کواٹر سے باہر ہی نہیں نکلتا تھا …..
حریم نے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کیا …..
آج کافی عرصے بعد اس نے کمرے کی کنڈی لگائی تھی….
ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہورہی تھی…..
اس نے گلاس بھر کر پانی پیا…
سانس لی اور پھر خود کو تسلی دینے لگی ….
(کچھ دیر بعد)….
وہ واش روم سے بال سکھاتی باہر آئیں……
وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس وہ 19 سالہ حریم…….
جس نے بالوں پر چھوٹا کیچر لگایا…….
ہاتھوں میں سفید کانچ کی درجن چوڑیاں جو سرخ کلائیو کے گرد گھومنے کا مزہ لے رہی تھی……..
بارش کی وجہ سے موسم تھوڑا سرد ہوگیا تھا…..
حریم نے سرمئی رنگ کی شال لی……
اور کمرے سے باہر نکلیں…….
جب اس کی نظر سامنے ٹی وی لانچ پر گئی……
جہاں تابی سمیت اس کے تین اور دوست بھی بیٹھے تھے…….
رشید ان کو کولڈرنک صرف کر رہا تھا…..
تابی جن دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا…..
یہ اس کے وہی دوست تھے جن کی وجہ سے وہ تیرا سال پہلے جیل گیا تھا…….
اور جیل میں بھی انہی کی صحبت میں رہا …..
لیکن شاید اس بات کا اندازہ تابی کو اب تک نہیں تھا کہ جن دوستوں کی صحبت میں وہ ہے…….
وہ دراصل ٹھیک نہیں…….
حریم رشید کو کول ڈرنک صرف کرتا دیکھ کر……
یکدم بھاگتی ہوئی اس کے پاس گئی …….
ابو یہ کیا کر رہے ہیں…. آپ …….
حریم نے رشید کے ہاتھ سے ٹرے لے کر ٹیبل پر رکھی……
تابی سمیت سب کی نظر حریم پر گی…….
جو شفاف سفید رنگ میں ملبوس تھی
….
وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی نظر اس پر ٹک کرہ گئی…….
حریم نے ان میں سے کسی پر غور نہ دیا ……
تابی ہاتھ باندھے اس پریشانی میں مبتلا حسین لڑکی کو دیکھ رہا تھا ..
جب اس کی نظر اپنے ایک دوست پر گی ……
جو غلاظت بھری نظروں سے حریم کا جائزہ لے رہا تھا….
تابی کا خون خول اٹھا ….
حریم باہر جاؤ یہاں سے ……
تابی نے لفظ چباتے ہوئے کہا ……
دیکھو یہ سب ابو نہیں کرسکتے تابی……
انکی طبیعت آگے ہیں ٹھیک نہیں رہتی……
میں تم سے کہہ رہا ہوں اندر جاؤ ….حریم ……
اچھا ……..یہ کہہ کر حریم گلاس لے جانے لگی……
تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی…….
تابی نے ہاتھ میں موجود گلاس کو بری طرح زمین پر دے مارا ……..
حریم یکدم ڈر کر پیچھے ہٹی……
تابی کی اس حرکت سے اس کے دوست بھی چونک اٹھے………..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: