Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 6

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 6

–**–**–

ارسلان نے فون سائٹ پر رکھا…..
اور سیدھا ہو کر بیٹھا ……
جب اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی…….
کہ یکدم ذیشان نے دروازہ کھٹکھٹایا……
ارسلان بھائی میں اور منصور پیزا پر جا رہے ہیں…..
آپ ساتھ نہیں آرہے……
نہیں …..
تم لوگ جاؤ…..
میں تھوڑی دیر رکونگا…..
ذیشان اور منصور پاکستان کے رہائشی تھے…..
جو کہ ارسلان باجوہ کے ایک قریبی دوست کے کزن تھے….
دوست کی سفارش پر ارسلان کے پیزا ریسٹورنٹ میں ذیشان کیشیر کا کام کرتا تھا ….
جبکہ منصور شیف تھا ……
ارسلان باجوہ کی ذیشان اور منصور سے کافی اچھی دوستی تھی…….
ارسلان رات 8 بجے گھر واپس آجاتا…..
تو کھالی گھر اس کو کاٹنے کو دوڑتا تھا …..
تبھی منصور اور ذیشان اس کے ساتھ اکثر آ جایا کرتے تھے…….
ان تینوں کی دوستی کو تقریبا چار سال سے زائد ہو چکا تھا……
کیونکہ اس اس عرصہ میں ظفر باجوہ اورفریال باجوہ سعودیہ عرب شفٹ ہوگئے تھے…….
اس لیے ارسلان کو تنہائی کاٹنے کو دوڑتی تھی…..
ارسلان نے وائٹ شرٹ, بلو جینز, اور بلیک جیکٹ پہنی……….
دوسرے ہاتھ میں قیمتی (Armani) کی گھڑی ….
سرمئی آنکھوں پر (Armani) کے گلاسس…
(Procshe 911 Carrera S classic)
(By: ÌŚŔÌŃĢHÀÙŚÈŃ)…(RED)..
میں بیٹھا وہ…
پر اثر ….پر اعتماد…. شخصیت کا مالک…..
ارسلان باجوہ…….
آہ کے کوئی لڑکی تو کیا کوئی آدمی بھی اس کو دیکھ کر رشک کرتا ……
کامیابی کی سلطنت کا بادشا….
ارسلان. باجوہ……..
ہاں یہ کہنا بالکل غلط نہ تھا…..
کہ وہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوا تھا……
مگر ایک درد تنہائی وہ ماں باپ کے پیار سے محروم …..
غصے کا شدید تیز ارسلان باجوہ……
کیا اس کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا نہیں آئے گا …………
جو صرف اس کے لیے بنا ہو……
مگر ہاں…….
ارسلان باجوہ کی زندگی میں آنا اور اس کے دل میں جگہ بنانا بے حد مشکل تھا ……..
ارسلان گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ……
جبکہ منصور فرنٹ سیٹ پر شرافت سے بیٹھا تھا…….
ذیشان بیک سیٹ پر بیٹھا موبائل میں انگلیاں گھما رہا تھا……..
گاڑی پچھلے دس منٹ سے( ٹیون.. ٹیون…) کا سائرن بجا رہی تھی …….
جب تھک ہار کر منصور نے بولا…..
ارسلان بھائی حد ہوتی ہے کان پک گئے ہیں….
آپ کی گاڑی کی چائنیز سن سن کر آخر یہ ہرن دی کیوں رہی ہے…
… منصور کی اس بات پر ارسلان مسکرایا…..
اور سیٹ بیلٹ لگائی…..
گاڑی کا سائرن اسی وقت بند ہوگیا ……
جب ارسلان باجوہ نے سیٹ بیلٹ پہنی…….
منصور منہ کھولے گاڑی کو دیکھتا…..
تو کبھی ارسلان کو ……
ارسلان نئے منصور کی حیران کن شکل دیکھتے ہوئے کہا یار ایکچلی یہ گاڑی میری ماں ہے ……
میں جب تک سیٹ بیلٹ نہ لگاؤ یہ چوائی چوائی کرتی رہتی ہے…….
واہ بھای عجیب گاڑی ہے…. ہاہاہا…..
ابھی وہ لوگ راستے میں ہی تھے جب ارسلان کو ایک میسج موصول ہوا ……
اس نے میسج پر کلک کیا……
تو وہاں ایک تصویر تھی….
اس تصویر کو کھولتے ہیں چند منٹ ارسلان باجوہ اس تصویر کے حصار میں گم ہوکر رہ گیا …….
اتنا معصوم بھی ہو سکتا ہے….
اس کا رنگ … روپ… بلکل کشمیریوں کی طرح تھا ….گلابی ہونٹ, گھنی پلکے, بھرے گال, کھلکھلاتی ہوئی مسکراہٹ …….
ارسلان باجوہ نے زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کو اتنے غور سے دیکھا تھا……..
وہ سرمئی آنکھوں والا جیسے اس تصویر کے حصار میں قید سا ہو گیا…..
کہ ایک دم پھر موبائل بجا ٹون سن کر وہ ایک دم چونکا…….. تو تصویر کے نیچے لکھا تھا….
( حریم رشید)….
یہ نام پڑھ کر اس کو لگا کے پہلے کبھی سنا ہے…..
مگر پھر بھی یاد نہیں آرہا تھا ……
ارسلان دماغ پر کافی زور ڈالتا رہا مگر پھر بھی یاد ہی نہیں آرہا تھا …….
خیر اس نے اپنا سر جھٹکا اور وہ تصویر موبائل سے اپنے لیپ ٹاپ پر سینٹ کی ……..
( پاکستان ) رات کے تقریبا گیارہ بج رہے تھے ….
حریم نے پہلے ہی ملازم کو گھر رشید کو دوائی دینے اور لیٹ آنے کا کہہ دیا تھا ….
گھر پہنچتے ہیں وہ سب سے پہلے رشید کو دیکھنے اس کے کمرے میں گئی ……
وہ سو رہے تھے…..
حریم نے ایک گہری سانس لی…..
اور دروازہ بند کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھئی……
جب اس کی نظر تابی کے روم کی جانب گئی…..
اس کے کمرے کی لائٹ آف تھی……
حریم نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا ……
چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا …….
اندھیرا دیکھ کر چند سیکنڈ کے لئے حریم خوف زدہ ہوگی………
پھر یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ وہ اپنے ہی گھر میں ہے………
حریم نے کمرے کا دروازہ لاک کیا …….
بیگ بیڈ پر پھینک کر وہ لائٹ اون کرکے پیچھے کی جانب مری ……
جب اس کی چیخ حلق میں ہی دب کر رہ گئی……..
کیوں کہ اس سے پہلے حریم کی آواز کوئی اور سنتا ……….
تابی نے حریم کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا…..
تابی غصے سے آگ بگولا ہو رہا تھا …..
کیا کہا تھا میں نے تم سے…..
ہاں کیا کہا تھا ……
تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی …….
وہ زور سے چلایا…..
اس کی بھاری آواز سنتے ہی حریم کی روح کام اٹھی……
وہ حریم کے بے انتہا کریب تھا…..
کہ حریم اسکی چنگھاڑتی سانسیں محسوس کر سکتی تھی …….
حریم کا چہرہ اب بھی تابی کی مضبوط گرفت میں تھا…………
حریم کی آنکھوں سے درد کی شدت برداشت نہ کرنے والے آنسو بہہ رہے تھے …….
تمہیں انسانوں والی زبان سمجھ نہیں آتی نہ ……
تم نے مجھے پاگل سمجھا ہے ……
حریم نے بامشکل منفی میں سرہلایا …….
بولو کیا سزا دو تمہیں……
بولو ….
جواب دو……
کیا کرنا چاہیے……
تابی کی نظر اس کے کانپتے وجود پر پڑی ……
حریم کو اپنا بےبس وجود بے انتہا تکلیف دے رہا تھا ………….
جب ایک جھٹکے میں تابی نے حریم کو زمین پر دھکیلا …….
اس کے بری طرح پھینکنے پر ……..
حریم کے ہاتھوں پر زمین سے خراش لگئی ……
حریم بری طرح خوفزدہ تھی……..
حریم کے چہرے پر اس بے رحم تابی کے انگلیوں کے نشانات تھے …….
حریم بری طرح کانپ رہی تھیں……
وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی……..
جب تابی واپس اس کے کمرے میں آیا…….
تابی کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا……
تابی نے وہی حریم کے منہ پر دے مارا ……
اہ ….
حریم نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا…….
یہ لو دس منٹ کے اندر تیار ہو کر نیچے آؤ سمجھیں………………
میں کارپوش میں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں …..
تابی پلیز پلیز….
مجھے معاف کردو…..
مام آئندہ ایسا نہیں کروں گی …..
میں بہت مصروف تھی آج …..
مجھے بالکل یاد نہیں رہا …….
پلیز پلیز مجھے معاف کردو …..
..حریم ہاتھ جوڑے اس سفاک درندے کے آگے منتے کر رہی تھی…….
جو مسلسل ہاتھ باندھے مسکرا رہا تھا…..
میں نے سوچا تھا کہ……
آج تمہیں پارٹی میں لے کر جاؤں گا ……..
اورجو میں سوچتا ہوں وہ ضرور کرتا ہوں……
اور اب چپ چاپ چاکر یہ پہن کر نیچے آؤ…..
ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا……
اچھا …..
حریم نے چہرہ رگڑتے ہوئے آنسو صاف کیے……
اور اگر میں نہ آئی تو زیادہ سے زیادہ کیا کرو گے…..
مجھے ڈرانے کے لئے…… ہاں…….
جان سے مار دوں گے ……
تو میری بلا سے مار دو جان چھوڑو میری ……
حریم نے ایک سانس میں تمام بھراس نکالی……
حریم سمجھ رہی تھی کہ…..
شاید اس کی ان باتوں سے تابی پر اثر پڑے گا …..
مگر وہ بھی زبیر باجوہ تھا……
اس کو ذرا فرق نہیں پڑھا …….
حریم کی منّتوں کا…….
جیسے وہ بے بسی کے مزے لے رہا تھا …..
تابی کے اندر جیسے آگ لگی تھی…..
بدلے کی….. انتقام کی…….
جو شاید حریم کی ان معافی وغیرہ سے بجھ نہیں سکتیں تھیں….
تابی نے اس کے ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے ہوئے کہا ………….
میری جان آپ کو معافی ملے گی..
ضرور ملے گی…….
مگر وصولی کرنے کے بعد …..
اب بنا وقت ضائع کئے نیچے آؤ ……
ورنہ میری گن میں جتنی گولیاں ہیں وہ سب ایک ہی جھٹکے میں تمہارے باپ کے سینے میں اتار دوں گا …………..
تابی نے بری طرح دروازہ بند کیا …..
حریم اپنا سر پکڑے زمین پر بیٹھی……
اس کی نظر اس بیگ پر گی …….
حریم نے بیگ اٹھا کر اس میں موجود کپڑے باہر نکالے…….
وہ بے حدا ڈریس دیکھ کر حریم جیسے بے سوچ سی ہوگی….
وہ مون لائٹ بلیو کلر کی بنا آستینوں کی فراک تھی ….
جو کافی شارٹ تھی …..
حریم نے ایک گہری سانس لی …….
اب میں کیا کروں …..یا اللہ…. میں کیا کروں ……
حریم اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے کھڑی ہوئی……
اور کھڑکی سے باہر جھانکا…….
جہاں مین گیٹ پر تابی اپنے ایک دوست کے ساتھ کھڑا اس کو تنبیہ کر رہا تھا ……..
ابھی حریم سوچوں میں گم تھی……
کہ اس کے فون پر غیر شناسی نمبر سے کال آئی ……..
ہیلو وہ ایک مردانہ آواز تھی ……
حریم رشید ……..
سوالیہ انداز میں سوال کیا گیا …….
جی جی میں بات کر رہی ہوں…..
آپ کون……
آمیں ارسلان باجوہ ..جرمنی سے بات کر رہا ہوں….
حریم کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں ….
اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا….
جب اس نے اس آدمی کا نام سنا …..
وہ ارسلان باجوہ تھا …..
حریم کے منہ سے بے ساختہ نکلا ……
ارسلان بھائی……
جی ….
کیا کچھ کہا آپ نے ……میں نے سنا نہیں…..
وہ آواز دوبارہ سن کر حریم کی آنکھوں میں جو آنسو تھے اس کی آواز سن کر ڈر تا در بہنے لگے……
آپ ٹھیک ہیں ….
میں حریم ….اہم….
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی……
تابی اس کے کمرے میں آیا……
اس کے یکدم انے سے حریم کے ہاتھ سے موبائل زمین پر گرا……….
ت…… تابی……. کس سے بات کر رہی تھی……
تم یہ کہتے ہوئے تابی نے فون اٹھایا ……..
کال ابھی بھی چل رہی تھی ………
تابی………
ارسلان کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے……..
حریم….. تابی……
ارسلان یہ نام دہرانے لگا…..
مگر تابی حریم کے ساتھ کیا کر رہا ہے ……
کچھ تو ہے یہ کہتے ہیں اور ارسلان نے تابی کا نمبر ڈائل کیا……….
کیا ….یہ تم تم کس سے بات کر رہی تھی…..
یہ کہ کہتے ہیں تابی نے ایک زور دار تھپڑ حریم کے منہ پر رسید کیا……
حریم منہ کے بل بیڈ پر جا گری……..
تابی کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں …..
تابی کی آنکھوں میں سرخ نسے نمودار ہو رہی تھی ….
تابی کو شدت سے غصہ آرہا تھا …..
تابی نے حریم کے سینے سے دوپٹا کھینچ کر زمین پر پھینکا……
وہ اپنا انتقام اور ہوس مٹانے کے لیے اس کے قریب بڑھ رہا تھا ……..
اس وقت حریم کی کوئی وضاحت زبیر باجوہ کا دل نرم نہیں کرسکتی تھی…..
وہ حریم کے جب قریب بڑھنے کی حد تک پہنچ چکا…..
بے بسی کی حد پر حریم نے اپنا آپ اب وجود بے بس چھوڑ دیا…….
اور خود کو اس کے سامنے ہاردیاں ………
کے اس سے پہلے زبیر باجوہ اپنی ساری ھدے پار کرتا……
اس کے کمرے کا دروازہ رشید نے پیٹنا…….
شروع کیا ……
حریم حریم حریم بیٹا کدھر ہو……
دروازہ کھولو……
وہ حریم جس نے آنکھیں میں مچی ہوئی تھی…
تابی کے دور ہٹنے پریگدم حریم اچھل کر کھڑی ہوئی……..
اس پاس نظر دورانے لگی تب زمین پر ایک کونے میں اس کو اپنا دوپٹہ پڑا نظر آیا……
حریم اپنے حواسوں میں نہیں تھی ……
وہ دونوں بالکل خاموش تھے……
حریم نے ایک نظر تابی کو دیکھا جو اس کو دیکھ رہا تھا……..
خدا کا واسطہ ہے تمہیں تابی کہیں چھپ جاؤ…..
حریم نے دروازہ کھولا…..
رشید وہیں کھڑا تھا…..
ابو آپ…..
ہاں بیٹا…. وہ تم ٹھیک تو ہو……
وہ کافی دیر سے باہر فون بج رہا تھا …..
دراصل……. ابو وہ ……
حریم میری جان….. تابی کہتا ہوا……
بنا شرٹ کے حریم کے پاس آیا…….
تابی کے چہرے پر لیپ سٹک کے نشانات تھے……
حریم تابی کو اس حال میں دیکھ کر حیران رہ گئی…………..
رشید پھٹی پھٹی آنکھوں سےکبھی حریم کو دیکھتا تو کبھی تابی کو…….
وہ انکل آپ….
یہ کہتے ہوئے تابی نے اپنی شرٹ بیڈ سے اٹھائیں…..
اور رشید کے پاس آیا……
وہ دیکھیں غلط نہیں سمجھے دراصل میں اور حریم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں …….
مگر حریم نے کبھی کہا نہیں کیونکہ میں ایسا کہنا تو نہیں چاہتا مگر …….
یہ حریم کی سوچ ہے کہ ہمارے گھر کے ملازم کی بیٹی سے……
. یہ کہتے ہوئے تابی نے معصومیت سے نظر جھکائی ……
حریم جو اس سارے عرصے میں چپ چاپ زمین کو دیکھتی رہی …….
حریم تم کچھ کہو گی نہیں…..
لیکن انکل ہم نے کچھ نہ جائز نہیں کیا…..
تابی چند منٹ خاموش رہا اور پھر وہاں سے چپ چاپ نکل گیا……
کیو ….کیا تو نے ایسا…..
حریم جواب دے …..حریم مجھے کیوں….
کیا تو نے ایسا…….
ایک زوردار تھپپر حریم کے منہ پر لگا ….
جو اس کے ہونٹ چیرگیا ..
آہ وہ درد کی شدت سے کڑھائی…..
ابو ایسی کوئی بات نہیں ہے …
بن کر حریم اپنی آواز کہ شکر صاحب اور بیگم صاحبہ گھر پر نہیں ہیں ….
ہم نے نمک کھایا ہے ان کا …..
کہ یہ صلہ دیا تو نے میری شفقت کا…..
ابو نہیں…. نہیں ….
ابو ایسی بات کوئی نہیں ہے….
ابو حریم رشید کے پیر پکڑے سسک رہی تھی …….
تو مر گئی حریم ….میرے لیے تو مر گئی…..
یہ کہتے ہی رشید نے حریم کو خود سے جدا کیا …..
اور اپنے کمرے میں چلا گیا …..
ابو …..ابو ……
روکے …….
یا اللہ حریم بری طرح رو رہی تھی……
مگر وہ اس کو پہچاننے والا کوئی نہ تھا……
حریم اگلے پورے دن اپنے کمرے میں بند رہیں……
رات تقریبا ڈیر بج رہا تھا……..
حریم جو بیڈ پر بیٹھی تھی ……
اس پہر شور سن کر کمرے سے باہر نیچے ……
ٹی وی لانچ میں آئی ظفر باجوہ اورفریال باجوہ آگئے تھے……..
فریال باجوا تابی کو چومنے سے نہیں تھک رہی تھی….
جبکہ رشید اور ظفر باجوہ سات بیٹھے تھے……
جب حریم ان کے پاس گئی ……
اس نے سفید رنگ کی فراک ,چوڑی دار پاجامہ, جارجٹ کا لمبا سفید دوپٹہ پہنا ہوا تھا …….
حریم نے بالوں کو ایک کیچڑ میں جوڑا بناکر قید کیا ہوا تھا………
جس میں سے چند لٹے اس کے کندھے تک جا رہی تھی……
حریم کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں……
شاید وہ پوری رات سوئی nahi تھی …….
اسلام علیکم…..
سب اس کی جانب متوجہ ہوئے….
ماشاءاللہ….. ماشاءاللہ …..فریال بیگم ہاتھ پھیلائے حریم کے قریب آئی…..
اور اس کو چومتے ہوئے سینے سے لگایا …..
دیکھیں تو ظفر صاحب پوری کشمیری گڑیا ہے…..
بیشک ……
یہاں آؤ میری بیٹی ……
اسلام علیکم……
وعلیکم السلام ……ماشاءاللہ بھائی….
آپ تو بہت ہی پیاری سی گڑیا ہی……
شکریہ انکل….. حریم نے رشید کی طرف دیکھا …..
جو اس کے مقابل سمت دیکھ رہا تھا ……
رشید کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ حریم سے سخت ناراض تھا ……..
حریم تم ارسلان سے ملیں……
ن…. نھی…. وہ بھی آئے ہیں …..
ہا نہ وہ فون پر بات کرنے گیا تھا….. لو آگیا……
حریم نے سامنے دیکھا تو ……
اس نے وائٹ شرٹ, اوپر گرے ویس کوٹ, اور گرے سلم ڈریس پینٹ ,سرمئی آنکھیں, ہاتھ میں واچ ,آستین کوہنیوں تک لپیٹتے,……..
وہ سامنے سے موبائل میں نظر ٹکائے آرہا تھا ……
اس نے کانوں سے بلوتوتھ اتار کر میز پر رکھی…..
اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا …..
اس اسٹائلش بندے کی نظر ابھی بھی موبائل میں جمی ہوئی تھی……
جب ایک نازک آواز اس کو سنائی دیں…..
اسلام علیکم….
اس نے بے جھجک کر نظر اٹھائی ……
تو بس اس کو دیکھتا رہ گیا ……
❣ جاری ہے ❣……..
❣جی تو میرے پیارے ریڈرز کیسی لگی…..😍😍
آپ کو ارسلان.باجوہ کی اینٹری …….😍😍

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: