Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 7

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 7

–**–**–

السلام علیکم….
اس نے بے جھجک نظر اٹھائی تو بس دیکھتا ہی رہ گیا……
ہاں وہ دی گریٹ ارسلان باجوہ….
جو لڑکیوں کو کسی کھاتے میں نہیں لاتا تھا …..
وہ 27 سالہ عرب پتی ارسلان باجوہ…
جرمنی کی بڑی سے بڑی اسٹائلش لڑکی حاصل کرنا چاہتی تھی…..
کیا وہ اس معمولی ملازمہ کی بیٹی کے آگے دل ہار چکا تھا…….
آخر کیا تھا….
اس حریم رشید میں…..
دراصل حریم دنیا کی وہ پہلی لڑکی تھی …..
جس کی کھلکھلاتی مسکراہٹ ارسلان باجوہ کو بے حسین لگی تھی ……
وعلیکم اسلام …..
ارسلان نے آنکھیں مینجیتے ہوئے کہا ….
تم حریم ہونا …..!!!!
جی میں حریم ہو….
. یہ کہتے ہی حریم کی نظر تابی پرگی ………….
جوحریم کو ہی دیکھ رہا تھا…..
حریم نے نظر جٹھکی اور کھڑی ہوئی……
فریال انی آپ لوگ چینج کریں میں کھانا لگاتی ہوں……
ضرور فریال بیگم اور ظفر باجوہ اپنے کمرے میں گئے …..
ابو آپ کی بھی دوائی کا…..
مجھے تمہارے احسان ویسے ہی بہت بھاری پڑے ہیں……
میرے ہاتھوں میں ابھی اتنی طاقت ہے کہ………….
میں اپنے کام خود کر سکتا ہوں…..
تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے مجھے……
یہ کہہ کر رشید وہاں سے اٹھ کر چلا گیا…..
ارسلان اور تابی وہی بیٹھے….
آپس میں باتیں کر رہے تھے……..
حریم پلٹ کر جانے لگی……
جب آواز اس کے عقب سے آئی……
کیسی ہو تم ….!!!!
حریم نے پلٹ کر دیکھا تو…..
تابی حریم کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا …..
جب کہ ارسلان موبائل میں نظریں جمائے بیٹھا تھا……
تمہیں اس سے کوئی مقصد نہیں ہونا چاہیے………..
کہ میں کیسی ہو…. کیسی نہیں…. سمجھے….
حریم کے اس بے ساختہ رویے پر ارسلان نے ترچھی نگاہ.حریم پر ڈالی …….
جو غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی …….
حریم کا تابی کو دیکھنے کا طریقہ…..
حریم کی آنکھوں میں تابی کے لئے …..
نفرت… اور حقارت….. نے ارسلان کے ماتھے پر شکن ظاہر کیے…..
تبھی ارسلان کو دو دن پہلے فون پر ہونے والا واقع یاد آیا……
اس نے چاہا کہ اس واقعہ کے بارے میں تابی اور حریم سے بات کرے…….
مگر ایک احساس کو محسوس ہوا کہ شاید ابھی وقت ٹھیک نہیں ہیں…….
اس موضوع پر بات کرنے کا ……..
تب ہی ارسلان نے بات کو پلٹتے ہوئے…..
تابی کو مخاطب کیا …….
تابی تم آج کل کیا کر رہے ہو …..
اہ…. ارسلان بھائی میں بابا سے بات کی ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے ایکسپورٹ کے بزنس کو میں آگے بڑھاؤ……
مگر میں چاہتا ہوں اپنا گاڑیوں کا شو روم کھولنا……
اب دیکھیں کیا تے پاتا ہے……
اچھا یہ بھی ٹھیک ہے……
میں سوچ رہا تھا کہ……
تمہیں اپنے ساتھ جرمنی لے جاؤ ….
مگر چلو اگر تم یہی پر کام کرنا چاہتے ہو تو یہ زیادہ اچھا ہے…….
تم نہ سہی…. تو حریم ہی سہی ….
حریم کو تو ویسے بھی جانا ہے نا…….
ارسلان کے منہ سے حریم کا نام سن کر تابی کے ہوش اڑ گئے……
کیا آپ اس دو ٹکے کی ملازمہ کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے……
تابی نہیں ایسے نہیں بولتے …..
ارسلان نے تابی کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا……
بھائی پلیز ……
آپ نہیں جانتے یہ دو ٹکے کے ملازم مالکوں کے اردگرد گھوم کر اس طرح خود کی حیثیت بھول جاتے ہیں……
اور کس لئے آپ اس حریم کو لے کر جائیں گے……..
اور جہاں تک مجھے یاد ہے…….
آپ بچپن میں اس کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے……
تابی میرے بھائی تم اتنا over react…
کیوں کر رہے ہو ……
میں کونسا حریم کو کل لے کر جارہا ہوں ………..
اور ویسے بھی حریم نے میری کمپنی کے تھرو اپلائی کیا تھا…….
اور کمپنی کی پالیسی کے مطابق حریم میں وہ ساری صلاحیت ہے جو ہمارے ایک ایمپلائی میں ہونی چاہیے…….
ویسے کافی ایجوکیٹ ہے …..
اور شکل صورت کی بھی ٹھیک ہے……
تابی پھٹی پھٹی نظروں سے ارسلان کو دیکھ رہا تھا ……
جو جب سے آیا تھا ……
صرف موبائل میں لگا تھا…..
یا پھر آ ب حریم کی باتیں کرنے میں لگا تھا…..
ارسلان بھائی….
اس ماں کو چھوڑ کر ہمیں بھی کچھ ٹائم دے. دیجئے …….
ویسے ہی مجھے بہت غصہ آرہا ہے……
ہاہاہاہا …..اوکے فرماؤ ……
آج رات آپ میرے ساتھ پارٹی میں چل رہے ہیں……
یار تابی…..
ارسلان بھائی lame accuses نہیں چاہیے……….
__________________________________
حریم ملازمہ کے ساتھ ملکر ڈرنک سرف کر رہی تھی ……..
حریم ڈرنک جگ لے کر ارسلان کے پاس آئی………….
اور ڈرنک سرف کرنے لگی……
جب ارسلان نے ہاتھ کا اشارہ منفی میں کیا ……
حریم کو ارسلان کا یہ طریقہ خاصہ برا لگا …….
جب حریم میں آہستگی سے منہ میں کہا……………..
manners
نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں ہےکھڑوس انسان…….
ارسلان نے ایک نظر حریم پر ڈالی…….
جو بالوں کو جوڑا بناتی کچن میں جا رہی تھی…….
ارسلان کھانے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چلا گیا………
رات کافی ہوچکی تھی……
حریم اپنے کمرے میں بیٹھی تھی…..
جب کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی …………
جی آجائیں…..
او….. آہ …..آپ آئیے بیٹھئے …..
شکریہ فریال انی کیسا رہا آپ کا سفر ا بیٹا بس تھکن ہوگئی ہے …..
تم جانتی ہو میں اور ظفر تمہیں اکثر یاد کیا کرتے تھے……..
مگر تابی کے جانے کے بعد پاکستان واپس آنے کو دل ہی نہیں کیا …
لیکن ظفر رشید بھائی کے ذریعے تمہاری خبر لیتے رہے ………
آہ انی میں معذرت چاہتی ہوں……
اگر اس دن میں نے تابی بھائی کے خلاف بیان نہ دیا ہوتا تو شاید……..
آہ….. تم اس وقت بچی تھے ……
اور بھلا پولیس والوں کے آگے تم چپ نہیں رہ سکتی تھی …….
تم نے وہی کیاجو شاید تمہاری جگہ کوئی بڑا بھی ہوتا تو یہی کرتا……
اس میں تمہاری بھلا کوئی غلطی نہیں……
تم خود کو الزام نہ دو……
اچھا خیر اس بات کو چھوڑو……
جو ہونا تھا سو ہو گیا …….
یہ لو یہ کچھ گفٹس میں تمہارے لئے لائے ہو………….
انی اس کی ضرورت نہیں تھی…….
اہ بیٹا جب کوئی تحفہ دیتے ہیں……
تو اس طرح منع نہیں کرتے………
کیونکہ تحفہ ہمیشہ چاہنے والے کو دیا جاتا ہے……..
پھر شکریہ….. انی ……
حریم نے مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ سے گفٹ لیے…..
آہا نہیں میری جان شکریہ تو غیروں کو کہتے ہیں…….
اور تم تو میری بیٹی ہونا…..
فریال انی حریم کے ماتھے پر پیار کیا ……
اچھا بیٹا میں آرام کر لو…..
تم بھی سو جاؤ …..
نہیں آنی میں ابو کے پاس جاؤنگی…….
آ حریم میں گئی تھی…..
وہ رشید بھائی تو سو چکے ہے ……
اچھا واقعی ابو سو چکے ہیں….!!!!
ہا تم بھی سو جاؤ …..
جی انی ضرور…..فریال بیگم کے جاتے ہیں حریم نے ایک گہری سانس لی….
ابو میں آپ کو کیسے بتاوں …..
اللہ کی رحمت کا دامن ابھی بھی پاکیزہ ہے………
ابو میں آپ کی جان بچانے کی بہت بڑی قیمت ادا کر رہی ہوں………..
مگر ….مگر ….کچھ کرنا ہوگا ……..
اب مجھے کچھ کرنا ہوگا…..
تابی حد سے بڑھ رہا ہے…..
اب میں تابی کو اس کی حد پار کرنے نہیں دوں گی……
اب یہاں سب لوگ آچکے ہیں …….
اور آنی اور انکل میری بات پر ضرور یقین کریں گے …..
حریم نے آنسو صاف کیے …..
اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ کو اٹھایا……
جو خالی تھا…….
آف اس نے چڑھتے ہوئے دوپٹہ پہنا……..
جگ اٹھا کر نیچے کچن میں آئی……..
جہاں کھٹ کھٹ کی آوازیں سنائی دے رہی تھی…….
ایک دم کے لیے حریم وہی رک گئی……..
مگر جب کچین کے مرکزی دروازے پر داخل ہوئی …….
تو وہاں ارسلان کھڑا کافی بنا رہا تھا …….
حریم اس کو دیکھ کر وہی رک گئی…….
حریم کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے ……..
ارسلان باجوہ نے اس کو مڑ کر دیکھا ……
جو بالوں کو کانوں کے پیچھے کر رہی تھی……
تم وہاں کیوں کھڑی ہو …..
آجاؤ ….اندر آجاؤ …..
حریم ہونٹ چباتے اندر آئی …………..
فریج سے پانی کی بوتل نکالی………….
ارسلان اس کو دیکھ رہا تھا…..
وہ جو کافی میں چمچ چلا رہا تھا……..
اب اس چن جن کی آواز آنا بند ہوگئی تھی……
کافی کا مگ پلیٹ فارم پر رکھنے کی آواز آئی..
پھر اس کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی……….
حریم نے جلدی جلدی بوتل سے پانی جگ میں پلٹنا شروع کیا …………
.
( کھانے کی ٹیبل پر بولنا بھی مینرز کے خلاف ہی ہوتا ہے)………….
حریم نے مڑ کر دیکھا تو…….
وہ( Adidas )کے ٹراؤزر اور شرٹ میں ملبوس شخص……
کچن سے باہر جا رہا تھا……
حریم چند منٹ اسی جانب دیکھتی رہی…..
جب اس کو اپنا جملہ یاد آیا…………….
جو کھانے کی ٹیبل پر حریم نے ارسلان کو کہا تھا……..
( مینرز نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے کھڑوس انسان )……
حریم لب میںنچتے مسکرائیں……
وہ لائٹ آف کر کے کچن سے باہر نکلیں……
جب اس کی نظر سیڑھیوں سے اترتے تابی پر گی…..
جو اس کو دیکھ کر وہی رک گیا….
(ohhh my goodness)…
well…well..well…hey pink beauty what are you doing here..honey???
مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے …..
یہ کہتے ہوئے حریم تابی کے کنارے سے نکل گئی……
اسے پہلے کے تابی کچھ کہتا…..
یا کرتا….
وہ اوپر جا چکی تھی….حریم نے کمرے میں جاتے ہی….
ایک گہری سانس لی……
اب تابی کو اسی طرح سے جواب دینا پڑے گا………..
ورنہ یہ اور آگے نکل جائے گا …….
سوچ میں گم حریم نے دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکا ……..
ایک گلاس پانی پیا…….
اور نہانے چلی گئی…….
تابی اپنے کمرے میں آکر سیدھا….
اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا ……
موبائل میں انگلیاں گھماتے گھماتے اس کے شیطانی دماغ میں ایک خیال آیا ……………..
کیوں نہ میں حریم کو اپنے کمرے میں ہی بلالو……..
کوئی بھی بہانہ کرکے…..
تبھی تابی نے حریم کے نمبر پر میسج سینڈ کیا…….
حریم میرے کمرے میں فوراٗ آجاؤ …….
رشید بھی میرے کمرے میں ہی ہے……..
اگر تم نہ آی تو…. اچھا نہیں ہو گا ….
ابھی وہ یہ میسج ہی کر رہا تھا…..
کے اچانک تابی کے کمرے کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا ……
دروازہ کھٹکھٹانے والے نے تابی کو اتنی مہلت بھی نہ دیں…….
کہ وہ کمرے میں داخل ہونے کی اجازت دیتا…………
دروازہ کھول کر وہ سرمئی آنکھوں والا اندر آیا ………..
جب تابی اس کو دیکھ کر فورا سیدھا ہو کر بیٹھا ……….
بھائی آپ…..!!! خیریت تو ہے…..!!!
ہاں خیریت ہے…..
دراصل مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی…….
کیا تم کچھ ٹائم دے سکتے ہو اپنا …….
جی بھائی بیٹھیے…..
تابی نے معصومیت سے کہا …….
دراصل میں تمہارے اور حریم کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں………
اس دن میں نے تمہیں فون کیا تھا ……..
(تو مجھے)…….
بھائی میں معذرت چاہتا ہوں……
کہ میں آپ کی بات کاٹ رہا ہوں ……..
مگر میں بھی آپ سے اسی حوالے سے بات کرنا چاہ رہا تھا…….
تب ہی میں نے آپ سے کل بھی حریم کے بارے میں وہ سب کچھ کہا……..
بھائی حریم ایک اچھی لڑکی نہیں ہے……
آپ خود دیکھیں…….
وہ اتنے سال اکیلی رہیں……
رشید انکل کی طبیعت تو ویسے بھی ٹھیک نہیں رہتی …….
وہ تو سارا دن اپنے کمرے میں ہوتے ہیں …….
اس کا گھر سے آنا …جانا ….رات دیر سے آنا………….
یہاں تک کہ جب میں یہاں آیا تھا …….
تو اس کے طور طریقے دیکھ کر میں بھی کافی حیران تھا……..
کیونکہ بچپن سے تو ہماری اچھی دوستی تھی……..
مگر اب جیسا میں اس کو دیکھ رہا ہوں……..
تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ…..
وہ ایک اچھی لڑکی نہیں ہے……
میرا مطلب ہے کہ……
بھائی میں کچھ کہہ نہیں سکتا …..
لیکن آپ بھی حریم سے ذرا دور رہیے گا…….
میں اس سلسلے میں ماما جان سے بات کروں گا……..
نہیں تابی….. تم چاچی کو کچھ مت کہنا ………
ہم اس معاملے کو خود ہینڈل کریں گے…….
لیکن ایسی کیا بات ہے….
جو تم اتنا برا اسٹیٹمنٹ دے رہے ہو…
حریم کے لیے…….
بھائی میں آپ کو کیا بتاؤں……
وہ بہانے بہانے سے میرے ساتھ رہنے کی کوشش کرتی ہے …….
آدھی رات میرے کمرے میں آتی ہے……
یہاں تک کہ اس کو تو رشید انکل نے خود دو دن پہلے اسی چیز کے لیے پکڑا ہے………
کیا …!!!کیا واقعی…!!!!
تم سچ کہہ رہے ہو…..!!!!!!!
ارسلان نے حیران کن انداز میں تابی کو دیکھا……..
جو معصومیت سے سرجھکائے بیٹھا….
.
یہ تمام باتیں اس کو سنا رہا تھا ……..
حریم واش روم سے نہا کر نکلی…..
وہ تولیے سے اپنے بال سکھا رہی تھی……
جب اس کی نظر موبائل پر پڑی جس…..
کی لائٹ جل رہی تھی …….
حریم نے موبائل اٹھایا……
تو اس کو تابی کا میسج موصول ہوا …..
حریم نے جلدی جلدی دوپٹا پہنا …..
تسمیہ پڑھتی …
وہ تابی کے کمرے میں گئی……..
بھڑکتے انداز میں حریم نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا …….
جب حریم کے ہوش اڑ گئے …….
سامنے بیٹھے ارسلان باجوہ کو دیکھ کر…………..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: