Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 8

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 8

–**–**–

حریم کو اس پہر تابی کے کمرے میں دیکھ کر ارسلان باجوہ کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے…………
حریم تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو….!!!!
تابی نے معصومیت سے حریم کو مخاطب کیا………….
جو ابھی آپ نے حواسوں میں ہی نہیں تھی…….
ارسلان باجوہ کو اس پہر یہاں دیکھ کر……………..
کیا مطلب ہوا ……!!!!
اس بات کا…….!!!!!
تابی تم نے ہی تو مجھے یہاں بلایا تھا …………….
حریم نے سر جھٹک کر تابی کو دیکھا …….
کیا کہا تم نے…..!!!!
میں نے تمہیں بلایا تھا……!!!!
تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو……
میں نے تمہیں کب بلایا ……!!!!!!
تابی تم منہ پر کیسے مکر سکتے ہو ….!!!!!!!
تم نے ہی مجھے یہاں بلایا ہے …..!!!!!!
بس کردو حریم جھوٹ بولنا …….
میں نے تمہیں یہاں نہیں بلایا ……..
وہ دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے…….
جب کہ ارسلان باجوہ خاموشی سے بیٹھا حریم کو دیکھ رہا تھا……….
اس کی معصوم شکل پر بھروسہ کیا جائے ……..
یا پھر اس وقت آنکھوں دیکھے ہونے والے واقعے پر……..
تب ہی سنجیدگی سے ارسلان باجوہ نے حریم کو مخاطب کیا ……….
حریم تم اپنے کمرے میں جاؤ…….
مگر ارسلان بھائی …….
یہ غلط ہے……
اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو میں آپ کو ابھی میسج دکھا دیتی ہوں……..
اسنے مجھے یہاں بلایا تھا……..
اوہو تو اب تم میسج دکھاؤ گی……
مجھے تم جیسی جھوٹی لڑکی کے منہ ہی نہیں لگنا……..
جاؤ یہاں سے نکل جاؤ ……..
میرے کمرے سے …….
حریم ……میں کہتا ہوں نکل جاؤ….!!!!
میرے کمرے سے…….
ارسلان بھائی آپ دیکھ رہے ہیں اس کو………
میں آپ کو سچ کہہ رہی ہوں…….
کہ اس نے ہی مجھے یہاں بلایا ہے……..
حریم میں تم سے کہہ رہا ہوں…….
تم اپنے کمرے میں جاؤ…….
ارسلان نے ایک بار پھر سنجیدگی سے حریم کو مخاطب کیا ………
حریم خاموشی سے کھڑی چند منٹ ان دونوں کو دیکھتی رہی……..
اور پھر پیر پٹکتی وہاں سے چلی گئی……
یااللہ کتنا کمینہ ہے یہ تابی……
خدا کرے مر جائے …..
اسے پتہ لگے گا اللہ کریں کوئی اس کے ساتھ یہ سب کرے……..
اور کوئی ارسلان بھائی کو دیکھیں……
ہاں آخر ہے…..
اس کے ہی کزن….
اس کی ہی بات مانیں گے…..
یہ بھلا میری بات کیوں سنیں گے……
حریم اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی…….
حریم غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی…..
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ…..
وہ تابی کا قتل کردے …..
آج کے بعد اب تابی اس طرح کی کوئی حرکت کرے……
خدا کی قسمت تابی میں تمہارا منہ نوچ لونگی……..
حریم کے کمرے سے جاتے ہی تابی نے ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا …..
ارسلان ہاتھ باندھے کھڑا تابی کو دیکھ رہا تھا…….
تابی میں تمہیں اتنا بتا دو…..
کہ میں کبھی بھی……
ون سائڈڈ بات پر یقین نہیں کرتا…..
یہ بات کوئی چھوٹی بات نہیں ہے…..
تم دونوں بچے نہیں ہو اب….
میں اس بات کی جڑ تک جاؤنگا…..
تم دونوں میں سے جو بھی غلط ہوگا……
(so I swear) ….
اس کو سزا میں اپنے ہاتھوں سے دونگا….
مگر ارسلان بھائی…..
آپ اس کی بات پر یقین کیوں کر رہے ہیں………
میں سچ کہہ رہا ہوں…..
مجھے اور کچھ نہیں سننا….
بہت رات ہو گئی ہے ……
میں سونے جا رہا ہوں…..
یہ کہتے ہی ارسلان.باجوہ نے کمرے کا دروازہ زور سے بند کیا ……
اور وہاں سے چلا گیا….ارسلان اپنے کمرے میں آکر سر پر ہاتھ رکھ کر لیٹا ….
تبھی اس نے فون اٹھا کر ایک نمبر ملایا……
کچھ دیر بیل بجتی رہیں…..
اور پھر فون اٹھایا گیا ………
____________________❣_____________________
Hallo Alex, das bist du oder? Wie geht’s dir?ist alles okay ??ich habe dich über diese Frau gefragt(hareem rashid),kannst du mir später die Information schicken, gibt mir zeit,aber warum willst du alles darüber wissen??ich Ruf dir morgen an und wird alles erklärt, bis dann,tschüss
______________translation_____________________
Hello alex??? Tum ho??
Haa young man bolo is everything alright??ahn yeah…listen mainey details maangi thi us lrki ki…kis lrki ki??? Alex wahi (hareem rasheed) ahn sahi young man mujhey ek din do mai batata ho….mgr tum q maang rahey ho uski details??? Ahn yeh zaroori h ab….mai kl phone krta ho or kl tk details chaiye….bye
______________________❣____________________
فون سائیڈ پر رکھتے ہی
…..
ارسلان نے ایک گہری سانس لی……
آخر وہ کس کو غلط سمجھیں……
اپنے بھائی جیسے کزن کو…..
یا پھر اس لڑکی کو…….
کہ جس کو دیکھتے ہیں پہلی نظر میں اس کو ایک عجیب سا احساس محسوس ہوا…………
ایک بہت عجیب الجھن میں پھنس چکا تھا …..
وہ دی گریٹ ….ارسلان باجوہ…..
تبھی ایک خیال اس کے دماغ میں آیا…..
کیوں نہ حریم کو جج کیا جائے…….
یہ سوچتے سوچتے وہ کب نیند کی آغوش میں جا پہنچا ….
اس کو خود بھی پتا نہ لگا …
_____________________________________________
صبح تقریبا #آٹھ_بج رہے تھے…..
جب وہ جاگگنگ ڈریس پہن کر نیچے آیا ….
حریم ٹیبل پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہی تھی….
.
وہ نیچے اتر کر چند منٹ وہی رک گیا ………….
جب آہٹ محسوس ہوئی…….
تو حریم نے پیچھے مڑ کر دیکھا ……
تو سیڑھیوں کے قریب ارسلان کھڑا تھا…….
اہ ارسلان بھائی……
آئے بیٹھے……
ناشتہ کیجئے…….
امم نہیں میں لیٹ ہو رہا ہوں….
یہ تمہارا ناشتہ ہے تم کرو ……
میں چلتا ہوں ……
مجھے ویسے بھی دیر ہو رہی ہے…..
اور مجھے صبح ناشتہ کرنے کی عادت نہیں………
میں صرف کافی پیتا ہوں……
تو اس میں کون سی دیر لگتی ہے…..
میں آپ کو ابھی بنا دیتی ہوں……
آپ بس دو منٹ بیٹھئے …
یہ کہتے ہی اس کا جواب سنے بغیر حریم کچن میں گئی…….
ارسلان چند منٹ وہیں کھڑا رہا…..
پھر کرسی گھسیٹ کر ٹیبل پر آکر بیٹھا ……
وہ موبائل میں بیٹھا انگلیاں گھما رہا تھا…..
جب کچھ ہی دیر بعد …..
اس کے آگے کافی کا مگ رکھا گیا …..
یہ لیجئے….
( تھینکس)…..
( نو نیڈ.)….
حریم کرسی کی سیٹ کر اپنا ناشتہ کرنے لگی……….
ارسلان نے موبائل سائٹ پر رکھا……
اور کافی مگ کے چاروں گرد انگلیاں گھمانے لگا…………
نا چاہتے ہوئے بھی باربار ارسلان کی نظر حریم پر جا رہی تھی ……
جو نظریں جھکائے مسلسل ناشتہ کرنے میں مصروف تھی …
وہ کبھی پچھلی رات ہونے والا واقعہ یاد کرتا……..
تو کبھی سامنے بیٹھی اس معصوم لڑکی کو دیکھتا…….
حریم میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں …….
مگر میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی…………
کیا کہا ….!!!!میں کچھ سمجھا نہیں !!!!!!
جی ….
کیونکہ میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے کل رات ہونے والے واقعے کے بارے میں ہی سوال کریں گے……
اگر آپ اتنے ہی سمجھدار ہوتے……
تو کل رات ہی سچائی کو سمجھ جاتے…..
مگر مجھے افسوس ہے…..
ارسلان بھائی کے ایجوکیٹ ہونے کے باوجود بھی آپ حق اور باطل کے بیچ فرق نہیں کر سکتے …..
کیا تمہاری فضول باتیں ختم ہو گئی ہیں …..!!!!!!!!!!
اگر تم فارغ ہو چکی ہوں……
تو کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں…..!!!!
ارسلان باجوہ نے سنجیدگی سے سامنے بیٹھی اس 21 سالہ لڑکی کو دیکھا…….
جو اپنی بھڑاس نکالنے کے بعد ناشتہ کرنے میں مصروف تھی…….
جی بول سکتے ہیں آپ…..
ایسا تو نہیں نہ…
کہ میں آپ سے کہوں کہ نہ بولے اور آپ نہیں بولیں گے………
تو کہہ دیجئے جو کہنا ہے……
ویسے بھی آپ کے کزن کی اور آپ کی بچپن سے یہی عادت ہے ……
اپنی بےعزتی کا بدلہ لینا …….
کیا مطلب….!!!!
تم کیا کبھی کوئی بات سیدھی نہیں کرسکتی…….!!!!!
حریم میرا خیال ہے مجھے آئے ابھی دو دن بھی نہیں گزرے ………
اور تمہارا ابھی سے میرے ساتھ یہ رویہ ہے ………
خیر تم جو بھی رویہ رکھو……
مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا…..
کیونکہ میں یہاں تمہارے لئے نہیں آیا…….
اپنے لئے…
اور اپنی فیملی کے لئے آیا ہوں……..
ہاں تو میں نے کب کہا کہ آپ یہاں میرے لیے آئے ہیں ……
یا میں آپ کی فیملی ہو ….
.
حریم چلاتی ہوئی کھڑی ہوئی …..
حریم کے اس انداز پے…..
ارسلان نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا……
آواز نیچے رکھو لڑکی اپنی ……
مجھے اتنی اونچی آواز میں بات کرنے والی لڑکیاں ہرگز پسند نہیں ہے……..
آج کے بعد مجھ سے اتنی اونچی آواز میں بات مت کرنا سمجھی……
. تنبیہ کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ……
ہاں وہ وہی تھا…..
ارسلان باجوہ…….
آج حریم نے تیرہ سال بعد اس دی گریٹ ارسلان باجوہ کا غصہ دیکھا تھا…….
ابھی ارسلان باجوہ مرکزی دروازے تک پہنچا تھا ……..
جب حریم نے چلا کر کہا…..
ہاں تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں آپ سے بات کرنے کا……
آپ خود یہاں آئے تھے …….
میں نے آپ کو نہیں بلایا تھا…….
ہاں وہ بات اور ہے کہ …..
آپ کو ناشتہ دینا میرا فرض تھا……
لیکن آج کے بعد اتنا بھی نہیں کروں گی ……
میری بلا سے کچھ کھائیں یا نہ کھائیں……
وہ جو مرکزی دروازے پر کھڑا تھا ….
حریم کے چپ ہونے پر……
ایک ترچھی نگاہ 21 سالہ لڑکی کے وجود پر ڈالیں ………..
جو اس وقت غصے سے آگ بگولا ہو رہی تھی……….
سر جھٹک کر وہ مرکزی دروازے سے باہر گیا……….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: