Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 9

0
شطرنج از مسکان کنول – قسط نمبر 9

–**–**–

وہ جو مرکزی دروازے سے باہر نکلا تھا ….
ایک احساس نے اس کے قدم روکے….
اگر آج میں نے اس طرح حریم کو خاموشی سے جانے دیا …..
تو یہ پھر مجھ سے کئی بار اس طرح بات کریں گی ……
میں نے فی الحال اس کو کچھ نہیں کہا تھا………..
اس نے خود ہی سب کچھ سوچ سمجھ کر مجھے اس طرح جواب دیا…….
یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے …..
وہ دن رات محنت کرکے کامیابی حاصل کرنے والا ارسلان باجوہ……..
ہاں وہ دی گریٹ ارسلان باجوہ ……..
ہاں وہ(Billion loard) وہ یہ پہچان گیا تھا …..
کہ جب وہ اپنے قدم پلٹتا واپس اس 21 سالہ لڑکی کے مقابل کھڑا ہوا…..
تو وہ نازک کشمیری لڑکی ہاں وہ حریم رشید اندرونی طور پر سہم سی گئی تھی…….
وہ ظاہری طور پر خود کو مضبوط ثابت کرنے والی اس(D great billion loard) کے سامنے نہ کام تھی نظر آتی…….
وہ 21 سالہ لڑکی با مشکل یہ کہہ سکیں…..
( جی ارسلان بھائی کچھ چاہیے)….!!!!!!
ہاں جی تمہاری یہ کینچی کی طرح چلنے والی زبان چاہیے …..
(کیا مل سکتی ہے )….!!!!!
جی کیا مطلب حریم نے حیران کن ردعمل ظاہر کیا ……
سامنے کھڑے اس 27 سالہ نوجوان نے ایک گہری سانس لی…….
پھر ایک سنجیدہ نظر اس کے سہمے وجود پر ڈالیں ….
جو ہاتھ میں کافی مگ لیے کھڑی تھی …..
آج تو تم نے چلا کر اس لہجے میں مجھ سے بات کرلی…..
مگر یاد رہے حریم رشید اب تمہاری زندگی میں ایسا کوئی وقت نہ آئے ……
کہ جب تم مجھ سے اس لہجے میں مخاطب ہوں……
ورنہ میں وہ وقت اپنی قید میں کرنا جانتا ہوں………
مجھے وہ لوگ سخت ناپسندیدہ ہے……..
جو بنا کسی بات پر اسکینڈل کریٹ کرتے ہیں………
میں نے فلحال تمہیں کچھ نہیں کہا تھا ………….
آپ نے اس ذرہ برابر دماغ سے سوچ کر یہ فیصلہ بھی کر لیا…….
تم نے کہ میں تم سے کہنا کیا چاہتا تھا…….
پہلے خود کو اس قابل بناؤ کہ لوگوں کی سوچ پر سکوں …….
پھر ظاہر کرنا اپنے خیالات…….
میں تمہیں ناراض کرنے نہیں آیا ……
صرف سمجھانے آیا ہوں ……….
یہ کہہ کر حریم کا جواب سنے بغیر ……..
وہ 27سالہ گریڈ ارسلان باجوہ وہاں سے چلا گیا…..
حریم خاموشی سے کھڑے یہ سارا تماشہ دیکھتی رہی …….
_______________________________________________
کچھ دیر بعد سب لون میں بیٹھے چائے پی رہے تھے…..
حریم سب کو چائے صرف کر رہی تھی………………..
ارسلان بھی وہی تھا ……
فی الحال وہاں پر صرف ارسلان حریم اور ظفر باجوہ موجود تھے……. ظفر باجوہ نے حریم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ……
حریم بیٹا آج کل کیا مصروفیات ہیں تمہاری…..???
ظفر انکل میں آجکل ایک کمپنی میں انٹرنشپ کر رہی ہو ……
اچھا ماشاءاللہ ……..
کس کمپنی میں کر رہی ہو…..???
چاچا یہ میری کمپنی میں انٹرنشپ کر رہی ہے…….
ارسلان نے بیچ میں بات کاٹتے ہوئے کہا …..
جب حریم نے ایک حیران کن نظر ارسلان پر ڈالی……
اس کو خود بھی نہیں پتا تھا کہ جس کمپنی میں وہ کام کر رہی ہے وہ ارسلان باجوہ کی کمپنی ہے ……..
میں آپ کی کمپنی میں کام کر رہی ہو …….???
سوالیہ انداز میں حریم نے سامنے بیٹھے اس نوجوان کو دیکھا جو ٹیبل پرچائےکا مگ رکھ رہا تھا …..
جی بالکل….
آپ کو یہی نہیں پتہ کہ آپ کس کی کمپنی میں کام کر رہی ہیں…..???
ارے واہ ….حریم بیٹی….
یہ تو بہت اچھی بات ہے…..
ہماری بیٹی ہماری ہی کمپنی میں کام کر رہی ہے….
اس سے پہلے کہ حریم ارسلان کے سوال کا جواب دیتی ظفر باجوہ نے بیچ میں اس کو شاباشی دی……
ارسلان یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر حریم تمہاری کمپنی میں کافی اچھی ثابت ہوگی ……..
یہ تو فیصلہ میں کل کرونگا چچا کہ یہ کیسی ثابت ہوگی اچھی یا بری …. …
کیونکہ فلحال تو اسکو یہی نہیں پتہ کی کس کی کمپنی میں کام کر رہی ہے …..اسٹرینج…..
نہیں ارسلان بھائی ایسی بات نہیں ہے ……
اچھا تو پھر کیا میں جان سکتا ہوں کہ کیسی بات ہے ……
ارسلان نےہاتھ باندھتے ہوئے سنجیدگی سے اس کو دیکھا ……..
ہیلو جینٹلمینز …..
تابی رف حلیے میں کرسی کھینچ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھتا ہوا بولا……
کہاں تھے تم …..??
ارسلان اس کو دیکھتے ہوئے بولا…..
میں دوستوں کے ساتھ باہر گیا تھا….
سوچا اب آپ کو بھی ساتھ لے جاؤ….
رات کو ایک پارٹی ہے اور مجھے کوئی لیم ایکسکیوز نہیں چاہئے آپ میرے ساتھ چل رہے ہیں…..
نہیں یار میں کسی پارٹی میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں ….
ویسے بھی مجھے کل سے آفس جوائن کرنا ہے بس بہت فارغ بیٹھ گیا گھر میں…..
اوئےاللہ کے بندے …..
ابھی آپ کو آئے دو دن ہی ہوئے ہیں ….
اور آپ کہتے ہیں بہت فارغ بیٹھ گیا…..
بس مجھے کچھ نہیں پتا آپ رات میرے ساتھ چل رہے ہیں…..
حریم صاحبہ کیا ایک کپ چائے مل سکتی ہے….???
تابی نے شرارت بھرےلہجےمیں حریم کو مخاطب کیا ……
حریم چند منٹ خاموشی سے اس کو دیکھتی رہی پھر چہک کر بولی….
جی تابی بھائی ضرور آپ کو چائے ملے گی…..
حریم کے اس مشقوقانہ انداز پر ارسلان جو موبائل میں انگلیاں گھمانے میں مصروف تھا……….
ایک نظر اس پر ڈالیں جو مسکرا کر تابی کو دیکھ رہی تھی……
دیکھو میں تمہارا بھائی نہیں ہوں….
مجھے بھائی مت بولا کرو پلیز مہربانی ہوگی تمہاری محترمہ……
ظفر انکل دیکھ رہے ہیں آپ یہ مجھ سے پورے ایک سال بڑے ہیں بھلا میرے بھائی ہیں ہوئی نہ……??
حریم نے معصومیت سے ظفر باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا…..
او بول سکتی ہوں بیٹا آپ بھائی…..
اف مجھے تم سے کوئی بات ہی نہیں کرنی اپنے پاس ہی رکھو اپنی چائے…..
_____________________________________________
اس نے بلیک چیک کی ڈریس پینٹ اور بلیک شرٹ پہنی ہوئی تھی ہاتھ میں آئی فون اور (Armani) کی گھڑی جس پر جلی حرفوں میں ..(A_R_B#).. لکھا ہوا تھا….
سرمئی آنکھیں گلابی ہونٹ ہلکی شیف وہ ہاتھ میں بلیک وائن( نان الکوحل) لیے سنجیدگی سے بیٹھا تھا…..
ہر طرف میوزک کا شور …
ڈسکو لائٹس…
چاروں طرف بیش کیمتی صوفے اور پردے لگے تھے ….
شیشے کی واز ….صوفے کے آگے سنہری ٹیبل……… جس پر طرح طرح کی قیمتیں نشہ آور گولیاں اور وائن کی بوتل اور گلاس موجود تھے ……
یہ کلب کوئی معمولی کلب نہیں تھا….
اور نہ ہی یہاں ہر کوئی آجا سکتا تھا …..
یہ کلب دراصل تابی اور اس کے ان دوستوں کا تھا جن کے ساتھ مل کر بچپن میں تابی لڑکیوں کو ٹریپ کیا کرتا تھا……
یہ سب امیر ماں باپ کی بگڑی اولاد تھی …..
اس کلب میں ایک سے بڑھ کر ایک نواب زادہ/ زادی آیا کرتے تھے…..
نشے میں دھت ناصرف لڑکے یہاں آیا کرتے تھے بلکہ امیر زادیاں بھی کئی طرح سے اپنی حدیں پار کرتی نظر آتی تھی……
اسی کے ساتھ ساتھ اس کلپ سے روس انڈونیشیا گریس لینڈ جیسے ممالک کو میں ڈرگس فراہم کی جاتی تھیں…..
اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری تھا…..
ڈرگس کے سپلائی میں بڑے بڑے مگرمچھوں کا ہاتھ تھا….
جن میں سے ایک تابی (زبیر باجوا )جس کو اس شیطانی دنیا میں(Blezz master) کے نام سے جانا جاتا تھا……
یہ(Blezz master) بلو ڈرنکس کی فراہمی میں ملوث تھا …
یہ ڈرگس اس قدر نقصان دہ تھی کہ اگر لگاتار 25 سیکنڈ تک.(°0.1c) کی مقدار پر سونگھا جائے تو انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے ……..
ان زہریلی اشیاء کے استعمال سے نہ جانے آج تک کتنے لوگ بہت سی مہلک بیماریوں میں جکڑے جا چکے تھے…..
مگر یہاں پرواہ کسے تھی ….
خیر ارسلان باجوا کو بھی کسی قسم کے الکوحل استعمال کرنے کی عادت نہیں تھی…….
البتہ بلیک وائن( نان الکوحل) کا وہ کافی شاپ نام تھا ……
جس کا استعمال وہ اکثر جرمنی میں بھی کیا کرتا تھا……
وہ اکیلا بیٹھا تھا جب ایک احساس نے اپنے حصار میں لیا……
حریم ایسی لگتی تو نہیں ہے بھلا تابی سچا ہے یا حریم….
اس بات کو پتہ لگانا پڑے گا …..
ابھی ارسلان اس سوچ میں ہی تھا جب اس کی نظر ایک لڑکی پرگئی…..
جو ارسلان کے چہرے پر موبائل کیم رے کی آنکھ جمائے بیٹھی تھی …..
مگر ارسلان پر فورا موبائل نیچے کر لیتی کئی بار ایسا ہوا…..
ارسلان کو اب غصہ آرہا تھا ……
جب وہ اس لڑکی کے قریب گیا…..
وہ لڑکی ارسلان کو اپنے قریب آتا دیکھ کر مسکراتی ہوئی کھڑی ہوئی …..
کیا کر رہی تھی تم….???
یہ سوال اسپوٹ انداز میں کیا گیا تھا…..
سرمئی آنکھوں میں لال سے ابھر کر آئی ….
وہ ایک چلی وہ لڑکی ارسلان کے قریب بڑھئی اس لڑکی نے اپنے ہاتھ سے ارسلان کے کالر ٹھیک کرتے ہوئے کہا
(You’re so hot baby..will uh spend your time with me..??darling..)
ارسلان نے حقارت بھری نظروں سے اس چند میٹر کے لباس میں ملبوس لڑکی کو دیکھا بری طرح خود سے دور دھکا دیا….
ارسلان نے اتنی شدت سے اس کو جھٹکا کہ وہ لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر جا گری…..
تمام لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے ارسلان نے اس لڑکی کا موبائل اٹھایا اور زور سے سامنے دیوار پر دے مارا …..
جس کے دیکھتے ہی دیکھتے دو ٹکڑے ہوگئے….
میں ہوں ارسلان باجوہ…..
مجھے ٹریپ کرنے اور بلیک میل کرنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا …..
محبت سے کے نام پر فلڈ کرنے والی لڑکیوں سے گھن آتی ہے مجھے……
آج کے بعد اتنی جرات کبھی نہیں کرنا سمجھی….
کالر ٹھیک کرتا ہوا وہ لوگوں کے ہجوم سے نکلتا ہوا کارپارکنگ میں آیا…..
بےخوف چہرہ چٹانوں جیسا سینا پراثر شخصیت کا مالک وہ دی گریٹ ارسلان باجوہ(A_R_B#)….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: