Urdu Novels

Sheeshay ka Khawab Complete Novel

Sheeshay ka Khawab Complete Novel
Written by Peerzada M Mohin

شیشے کا خواب – مکمل ناول

شیشے کا خواب – مکمل ناول

–**–**–

____ شیشے کا خواب ____
_ _ _ _ _ مکمل ناول _ _ _ _ _ _
گلی سے نکل کر وہ چوک تک پہنچی ____
بازار کے اس چوک میں ہمیشہ سے بھی زیادہ رش تها _
اس کی وجہ رمضان بازار تها جو بازار کے بالکل وسط میں لگا تها __ سیکڑوں کے حساب سے لوگ خریداری کر رہے تهے____
اس نے نقاب سے جھانکتی آنکهیں ادهر ادهر گهمائیں __کسی رکشے کی تلاش میں__گرمی کا زور آہستہ آہستہ کم ہو رہا تھا لیکن پیاس کی شدت بڑهتی جا رہی تهی____
وہ جھنجلاہٹ کا شکار ہونے لگی __اور چپکے سے ادهر ادهر بھی دیکهنے لگی__وہ ڈر رہی تهی کوئی اسے یہاں دیکھ نہ لے مگر وہ جانتی تھی ابو اس وقت اپنی دکان پہ ہوں گے اور چهوٹا بهائی محلے میں کرکٹ کهیل رہا ہوگا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے ڈر کو قابو نہیں کر پا رہی تهی_____
پسینہ گرمی کی وجہ سے آ رہا تها یا ڈر کی وجہ سے وہ سمجھ نہیں سکی ___بالآخر اسے ایک رکشہ نظر آیا __اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا اور نقاب کی چادر سنبهالتے ہوئے بیٹھ گئی____
رکشہ اسٹارٹ ہو کر چلنے لگا __اس نے ٹهنڈی سانس خارج کی اور پرس نمبر ملا کر ٹائم دیکهنے لگی____
شام کے چار بجے وہ جس سے ملنے جا رہی تهی اس کے ساتھ دل کا رشتہ تها اس کا جو زندگی تهی اس کی __
رافیل ___نامی وہ جادوگر جو دو سال سے اس پہ جادو کیے ہوئے تها __اس کی حواسوں پہ سوار تها وہ گهر والوں سے چهپ کر اسی سے ہی ملنے جا رہی تهی__افطاری میں ابهی وقت تها اور وہ بس پانچ منٹ کے لئے جا رہی تهی رافیل نے اپنی قسم دے کر اسے ملنے کے لیے بلایا ___اس وجہ سے وہ انکار نہیں کر سکی _____
وہ بری لڑکی نہیں تهی اور نہ ہی اس کی نیت میں کوئی برائی تهی وہ قرآن پاک کی حافظہ تهی اور روزے نماز پابندی سے ادا کرتی ___اس دن بھی وہ روزے کی حالت میں تهی ___لیکن محبت نامی وہ بلا دنیا کی ہر شے بهلانے پہ مجبور کر دیتی ہے یہ دل پہ ایسا جادو کرتی ہے کہ انسان سوچنے سمجهنے کی صلاحیت ہی کهو دیتا ہے_____
وہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تهی وہ ایک عام معمولی سی سادہ لڑکی تهی اسے میک اپ سجنے سنورنے سے غرض نہیں تها لیکن اس محبت نے اسے سب سکها دیا ___
آج بھی وہ ہلا میک اپ کیے ہوئے تهی __امی سے وہ نادیہ کے گهر جانے کا جهوٹ بول کر آئی تھی__اس نے روزے کا ساتھ جهوٹ کیوں بولا __اس کا جواب محبت ہے ___صرف محبت جو دل دل میں فرق پیدا کرتا ہے__
رافیل سے اس کی جان پہچان دو سال قبل شروع ہوئی وہ بھی فیس بک پر____اسے فیس بک کا زیادہ شوق نہیں تها__لیکن چونکہ اس میں دینی علم بھی ہوتا ہے اس لئے وہ فیس بک میں دلچسپی لینے لگی ___
اس نے مولانا طارق جمیل اور کچھ اسلامی گروپ اور پیجیز جوائن کیے ہوئے تھے___
وہ کافی کچھ سیکھ رہی تهی اور اسے بہت علم بھی حاصل ہو رہا تها__موبائل اسے کالج کے وقت ابو نے لے کر دیا تها انہوں نے موبائل دیتے وقت یہ نہیں کہا غلط راستے پہ مت جانا کیونکہ وہ اپنی عروج کو جانتے تھے وہ کهبی غلط راستے پہ جا ہی نہیں سکتی ____
اور انہیں اپنی بیٹی پہ بهروسہ ہمیشہ سے تها عروج ان کا غرور تهی اتنی محبت وہ اپنی ب باقی اولاد سے نہیں کرتے تھے جتنی عروج سے کرتے ____
[ رائٹر ناصر حسین ]
جو لڑکی زندگی میں کهبی جهوٹ نہ بولتی ہو وہ کچھ غلط کیسے کر سکتی ہے لیکن وہی دل _____
یہی دل ہی تو مشکل ہے____
فیس بک پہ اسے سات دن ہی ہوئے تھے ایک دن اس نے کسی خوبصورت تقریر پر صرف نائس کا کمنٹ دیا ___ ایک معمولی لفظ ایک حقیر سا کمنٹ جس کی کوئی اوقات نہیں وہ آنے والے وقتوں میں عروج احمد کے لیے کیا بن سکتا ہے اس کا اندازہ اسے نہ تو کهبی تها اور نہ ہی ہو سکتا تها_______
آدهے گهنٹے بعد اس کمنٹ پہ رپلائی آیا ___
کہاں سے ہیں آپ ___؟ اس نے رپلائی دیکها ایک مرد کا کمنٹ اس نے سوچا جواب دوں یا نا دوں ___؟
پهر کچھ سوچ کر اس نے جواب دیا ___
ملتان سے ___دوسرا رپلائی فوراً آیا ___
کیا کرتی ہیں آپ ___؟
ایم ایس سی ___اس نے جواب دیا__اور یہ کمنٹ رپلائی سے ان باکس میں داخل ہوا ___اور ان باکس میں ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا___صبح سے شام اور شام سے صبح ___
کیا کر رہی ہو ___
آپ کی باتیں اچهی ہیں ____
آپ بہت پیاری ہو _____
میں نے آپ جیسی لڑکی نہیں دیکهی ____
یہ وہ جملے تهے جو عروج کو روز پڑهنے کو ملتے ایک مرد سے چیٹنگ قدرتی کشش سا محسوس ہوا اسے __اور وہ میگنیٹ کی طرح کهچی چلی جا رہی تهی__ایک وقت آیا جب وہ گہرے دوست بن گئے __ اور کچھ دن بعد رافیل خوبصورت شاعری بھیجنے لگا جن میں سر فہرست یہ شعر تها _______
جان ء تمنا _____
جان ء جگر ہو _____
تو خواب ہے میرا _____
تو میری نظر ہے _____
جو ہو رہا ہے______
یہ دل بے خبر ہے______
وہ نادان نہیں تهی جو اس شعر کا مطلب نہ سمجهتی__اور یہی وہ لمحہ تها جب وہ دل کے سامنے ہار گئی اور اپنے آپ سے اعتراف کرنے پہ مجبور ہو گئی کہ وہ رافیل جمال سے محبت کرنے لگی ہے ____
کتنا دل دہلا دینے والا انکشاف تها وہ جس نے کهبی غیر مردوں کو دیکها تک نہیں وہ محبت کرنے لگی تھی اور شدت سے ٹوٹ کر___
اس نے آہستہ سے دل کے دروازے پہ دستک دی. ..
دل = کون…؟
وہ = عروج احمد ____
دل = کام….؟
وہ = محبت. ….
دل = .ہاہاہاہاہاہا….
وہ = میں مذاق نہیں کر رہی..
دل = واپس لوٹ جا….
وہ = میری تمنا پوری کرو…..
دل = یہ ناممکن ہے. …
وہ = کیوں. .؟ سب آپ کے ہاتھ میں ہے. ..
دل = تم نے گناہ کیا ہے…؟
وہ = میں نے کیا کیا….؟
دل = محبت. …
وہ = اور محبت گناہ کب سے ہوگئی…..؟
دل = صدیوں سے. ..
وہ = معافی نہیں مل سکتا…..؟
دل = کهبی نہیں. ….
وہ = مگر کیوں. …؟
دل = کیونکہ تم لوگ میرے مجرم ہوتے ہو…
وہ = سب آپ کرتے ہیں اور بدنام ہم ہوتے ہیں. ..
دل = سارا قصور آنکھوں کا ہے.اور الزام مجھ پہ لگتا ہے. …
وہ = مجھے یہاں سے باہر جانا ہے. …
دل = یہاں آتے بھی لوگ میری مرضی سے ہیں اور جاتے بھی میری مرضی سے ہیں. …..
وہ = پلیز مجھے یہاں سے رہائی دے دو….
دل = تم اس وقت دل کے دربار میں کهڑی ہو اور یہاں میری مرضی چلتی ہے….
وہ = میں آپ کے فیصلے ماننے کی پابند نہیں ہوں…
دل =خاموش گستاخ لڑکی ہم تمہیں عمر قید کی سزا سناتے ہیں.
. تمام گواہوں اور ثبوتوں کے کے بنا پر ہم دل عتوج احمد کو دل کی دنیا میں عمر قید کی سزا سناتے ہیں. ….ہر طرف تالیوں کی گونج سنائی دی. __ اور اس نے _ اس نے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن سب لا حاصل تها..وہ شاید دل کی دنیا سے اب کهبی باہر نہیں جا سکتی تھی. اس نے اپنے آپ کو بے بس پایا . وہ دل کی قیدی بن چکی تهی. ______
ور اس وقت اس نے نظر اٹها کر دل کو دیکها وہ قہقہے لگا لگا کے ہنس رہا تھا اس پہ اس کی بے بسی پہ اس کی مجبوری پہ ______
رافیل بھی اسے ٹوٹ کر چاہتا تھا وہ اس سے ساری رات باتیں کرتی ، اس کی آواز سنتی ____اور جب کهبی اسے ایگزامز کی وجہ سے جاگنا پڑتا رافیل بهی نہیں سوتا تھا اس دن _____
وہ دو سال سے اس سے رابطے میں تهی__اب رافیل نے شادی کا فیصلہ کیا تها لیکن اس سے پہلے وہ ایک بار اس سے ملنا چاہتا تھا__دو سالوں میں پہلی بار اس نے یہ فرمائش کی وہ بھی اپنی قسم دے کر تو عروج انکار نہیں کر سکی _____
وہ سب سے چهپ کر فقط پانچ منٹ کے لئے اسے دیکهنے جا رہی تهی ___وہ خوش بھی تهی اور ڈر بھی رہی تهی رافیل جس اپارٹمنٹ میں رہتا ہے وہ ایڈرس اور روم نمبر اسے میسج کر دیا تها ______
رکشے والے کو کرایا دے کر وہ اتری ___اور سامنے اس عمارت کو دیکها___جس پہ اس وقت خاموشی کا راج تها اس نے نقاب سے خود کو مکمل طور پر ڈھانپ رکها تها وہ نقاب ہمیشہ سے کرتی تهی ______رافیل کے لاکھ کہنے پہ بھی اس نے اپنی تصویر اسے نہیں بهیجی ______
سیڑهیاں چوڑی اور مخروطی تهیں__جن کے دائیں طرف ریلر لگا ہوا تھا___وہ پرس اور موبائل ہاتهوں میں قابو کیے اوپر کی طرف جانے لگی رافیل نے جو روم نمبر بتایا تها ____وہ کچھ اوپر تها اس نے موبائل کو پرس میں ڈالا _____
وہ تهوڑی جهجک اس لیے بھی رہی تهی کیونکہ وہ آدھا گهنٹہ پہلے آئی تهی __کیونکہ بعد میں افطاری کی تیاری کرنی تهی اور امی اس کا انتظار کر رہی ہوں گی صرف پانچ منٹ کے لئے آئی تهی_____
[ رائٹر ناصر حسین ]
کمرے کے پاس پہنچ کر اس نے دروازے پہ دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑهائے لیکن اسے اپنے ہاتھ روکنے پڑے ___
اندر سے رافیل کی آواز سنائی دی ___
ابهی پہنچنے والی ہی ہوگی وہ لڑکی ____
اس نے ہاتھ کو پیچھے کهینچ لیا ____
ارے یار جو ہم چاہتے ہیں وہی ہوگا ڈونٹ وری ____
آواز پهر سے آئی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی ایک لہر پیدا ہو گئی____
ہاں ہاں___یار سارا انتظام ہو چکا ہے___دیوار پہ خفیہ کیمرے بھی لگا دیے ہیں بس اس لڑکی کے آنے کی دیر ہے پهر تم لوگ بھی آ جانا _____
آواز رافیل کی تهی___لیکن لہجہ اجنبی تها___سب اجنبی ہوتا جا رہا تها آہستہ آہستہ سب کچھ تحلیل ہونے والا تها جیسے وہ خود تحلیل ہو رہی تهی پانی میں ابھرنے والے ایک بلبلے کی طرح______
کیا سور اسرافیل پهونکا جا رہا ہے ___قیامت آنے والی ہے کیا لیکن قیامت تو آ چکی تھی اس سے بھی زیادہ خوفناک ہوگا قیامت کا منظر___شیشے کا تاج محل ٹوٹ کر بکھر گیا____
وہ جانتی تھی منٹوں میں نہیں سیکنڈوں میں سب ختم ہو جائے گا جیسے اس کا وجود ہو رہا تها___جیسے اس کے وجود کو دهماکے سے اڑا دیا گیا تها ____
اندر کهڑا شخص کون تها رافیل جمال یا کوئی اور __آواز اسی کی تهی لیکن لہجہ__؟ اور وہ جملے جو کانوں میں پهگلتا ہوا سیسہ بن کر پڑ رہے تھے_____
وہ زبح ہونے والے جانور کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی تهی __وہ پل صراط پہ کهڑے انسان کا درد سمجھ سکتی تهی____
(اور پاک عورتوں کے لیے پاک مرد بنائے گئے ہیں)
کب ؟ کہاں ؟ کونسی ؟ غلطی کی تهی اس نے جو اسے زندگی اس موڑ پر لے آئی___
محبت __
کیا محبت واقعی ہی گناہ تها ____؟
وہ کچھ بھی نہیں دیکھ پا رہی تهی___اس کا دل دماغ جو سوچ رہے تهے وہ سچ تها یا جو وہ کهلی آنکهوں سے سامنے دیکھ رہی تھی وہ سچ تها___؟
وہ باتیں سچ تهیں یا دو سال کی محبت___
(اور پاک عورتوں کے لیے پاک مرد بنائے گئے ہیں)
خواب سے حقیقت___
آسمان سے زمین.____
وہ منظر تحلیل ہوتا جا رہا تها سب کچھ ایک خواب لگ رہا تها..اس پہ کوئی ہنس رہا تها اس نے دیکها تو ہنسنے والا وہ اپارٹمنٹ تها____
جس کے بیچ جس کے اندر وہ کهڑی ہے…لیکن نہیں وہ صرف اپارٹمنٹ نہیں تها سب تو ہنس رہے تهے
وہ جسے سن رہی تھی وہ کون تها….؟ رافیل جمال یا کوئی خواب____.؟ وہ جس سے اس نے شدید محبت کی..وہ وہ تها جو اس کی زندگی تها مگر وہ وہ نہیں تها وہ کوئی اور تها…؟ کون تها____
سناٹے اترتا جا رہا تها..اور اسی سناٹے میں وہ لمحے بھر کے لیے لوٹ آئی حقیقت کی طرف____اس نے فوراً آنکهیں میچ لیں______
اور بهاگتی ہوئی اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں تیزی سے اترتی نیچے جا رہی تهی__بنا دیکهے بنا سوچے ___دو دو سٹیپس ایک ساتھ پهلانگتے ___
وہ پیدل گهر کی طرف چلنے لگی__آتے وقت ہوش تها خواب تهے محبت تهی خوشی تهی __لیکن اب کوئی احساس نہیں تھا___دو سال کی اس محبت کا سچ یہ تها وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تها روزے کے ساتھ___
خفیہ کیمرے__؟ اور وہ اپنے دوستوں کو بھی بلا رہا تها اور اگر وہ ایسا کرتا تو کیا باقی رہ جاتا ___
کچھ بھی نہیں کچھ بھی تو نہیں____اس کا باپ جو اس پہ فخر کرتا تها وہ اس سے نفرت کرتے __اس حافظ قرآن لڑکی کی وڈیو منٹوں میں نہیں سیکنڈوں میں ساری دنیا میں پهیل جاتی __سوشل میڈیا پہ اس عزت دار گهرانے کی بیٹی یوں ننگی دکهائی جاتی ____
تب کیا باقی رہتا کچھ نہیں____
اس کا باپ زندگی بهر نگاہیں نہیں ملا پاتا کسی سے اور اس کا بهائی کهبی کرکٹ نہیں کهیل سکتا اور وہ خود بھی کهبی کسی سے نگاہیں نہیں ملا پاتی اور اللہ سے کیسے ____سب کچھ تباہی کے دہانے پہ جاتے جاتے بچ گیا ___وہ پہاڑی پر گرنے سے بچ گئی ___
لیکن یہ یہ سارا قصور محبت کا ہے اصل مجرم دل ہے __
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے گهر سڑک پہ ٹرن لیا ___
میرا کوئی قصور نہیں ہے قصور تم لوگ خود کرتے ہو اور سارے الزام میرے سر پہ تهوپ دیتے ہو میں نے تمہیں دهوکہ نہیں دیا __دهوکہ تمہیں تمہاری جهوٹی محبت نے دیا ہے میں نے صرف فریب دیا ہے____
دل نے فوراً اپنی حمایت کی____
اچانک فون کی گھنٹی بجی اس نے سکرین پہ نمبر دیکها رافیل کا نمبر___اس نے غصے سے اس کی کال اٹینڈ کی ____
کہاں ہو تم جان __کب آ رہی ہو __؟
میں اب کهبی نہیں آوں گی___وہ روتے ہوئے بولی ___
کیوں جان کیا ہوا __؟ وہ حیران تها___
تم کیا کرنا چاہتے تھے میری وڈیو بنانا چاہتے تھے مجهے پوری دنیا میں میں ننگا کرنا چاہتے تھے.___
وہ کچھ لمحے بول نہیں سکا ___
وہ جان سوری دراصل صرف ٹائم پاس کے لیے__؟
ٹائم پاس ___؟ وہ چلائی___
ہم لڑکیوں کو تم مرد صرف ٹائم پاس ہی کیوں سمجهتے ہو__کسی باپ کی بیٹی تمہاری نظر میں صرف ٹائم پاس ہے کسی کی عزت کی دھجیاں اڑانا صرف ٹائم پاس ہے ______
[ رائٹر ناصر حسین ]
قصور تمہارا نہیں ہے قصور ہم لڑکیوں کا ہوتا ہے ہم لوگ ہی تمہاری مٹهیی میٹھی باتوں میں آ جاتے ہیں___اور قصور ہم انسانوں کا ہی ہوتا ہے جو اللہ کی بجائے انسان کی محبت پہ بهروسہ کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسان دهوکہ دیتا ہے____
دیکهو عروج میری بات____
اس نے رافیل کی بات کاٹ دی ___
نہیں رافیل پلیز اور جهوٹ نہیں___تم نے تو ویسے بھی مجهے کسی قابل نہیں چهوڑا___تمہاری شر سے اللہ نے مجهے بچا لیا ورنہ تم کیا کرتے___؟
مجهے نننگا کرتے یا بلیک میل ___؟
تم مجهے ذلت دینا چاہتے تهے صرف اس لئے کہ میں نے تم سے محبت کی تم پہ اعتبار کیا _
عزت ذلت دینے والے تم کون ہوتے ہو__ یہ حق اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور تم خدا نہیں ہو ___؟
واقعی تم خدا نہیں ہو__خدا کو ترس آتا ہے تم تو وہ بھی نہیں کر رہے تهے خدا تو روزانہ کروڑوں لوگوں کی کروڑوں غلطیاں معاف کرتا ہے اور تم ایک انسان ہو کر دوسرے انسانوں کو زمین میں دفن کرنے والوں میں سے ہو ______
اب کهبی بات کرنا مجھ سے___سسکتے ہوئے اس نے موبائل سے سم نکال کر دور پهینک دی __اور وہیں سڑک پہ سجدے میں گر گئی __اگر وہ وڈیو پهیل جاتی تب کیا ہوتا ___؟ کیا باقی رہ جاتا _اور اگر اس کے وہ دوست سب مل کر زیادتی کرتے تو کیا فرق رہ جاتا اس میں اور طوائف میں____کون یاد کرتا وہ حافظ قرآن ہے کتنی نیک ہے لوگ تو بس اس ایک وڈیو کو ہی یاد کرتے___ آس پاس گزرتے_لوگ اسے پاگل سمجھ رہے تھے لیکن وہ پاگل نہیں تهی اس وقت تو بالکل بھی نہیں____
(اور پاک عورتوں کے لیے پاک مرد بنائے گئے ہیں)
وہ رو رہی تهی رافیل کے دهوکے کے لیے اس لیے کہ اس نے ایک انسان کی محبت پہ کیوں بهروسہ کیا ___اور اللہ تعالیٰ نے اسے اتنے بڑے گناہ سے بچا لیا___

_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

یہ ناول ابهی تهوڑی دیر پہلے ہی لکها ہے اس کا آئیڈیا صبح ایک دوست سے باتیں کرتے ہوئے ملا جب اس نے کہا لڑکیاں بےوقوف ہوتی ہیں__؟ میں اس سے کہنا چاہتا تھا لڑکیاں بے وقوف نہیں معصوم ہوتی ہیں اور مرد ان کی اس معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں___
لیکن کہنے کا فائدہ نہیں تها__اس کہانی کو کسی لائک کمنٹ کے لیے نہیں لکها میں نے اگر دل میں کوئی تمنا تهی بھی تو فقط اتنی سی کہ میری بہنیں جو غلط نہ ہوتے ہوئے بھی غلطی کر جاتی ہیں وہ کسی کے دهوکے میں نہ آئیں _____
اور اگر میری اس تحریر کا کسی پہ اثر نہ بھی ہوا تب بھی مجهے یہ افسوس نہیں ہوگا میں نے برائی کو لکهنے کی کوشش نہیں کی

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: