Shetani Gurriya Novel by Nazia Shazia – Episode 1

0
شیطانی گڑیا از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 1

–**–**–

ارے واہ یہ گھر تو بہت خوبصورت ہے،زویا نے اپنے بابا سے کہا ،مجھے خوشی ہوئی بیٹا کے آپ کو یہ گھر پسند آیا ،بلال نے اپنی بیٹی زویا سے کہا،مسٹر زید کا پورا کنبہ آج اس 10 کنال کی کوٹھی میں شفٹ ہوا تھا ،مسٹر زید کے تین بیٹے تھے مزمل سب سے بڑا اس سے چھوٹا بلال اور سب سے چھوٹا زین ان تینوں بھائیوں کی ایک ہی اکلوتی بہن ثانیہ تھی جس کی طلاق ہو گئ تھی ،طلاق ہوجانے کے بعد ثانیہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی ،تینوں بھائی شادی شدہ تھے،مزمل کی ایک بیٹی سارا تھی اور ایک بیٹا سعد،بلال کی ایک ہی بیٹی زویا تھی اور زین کا ایک بیٹا تھا فہد ،سب بچوں کی عمر میں سال دو سال کا فرق تھا ،سب سے بڑی سارا تھی جس کی عمر 14 سال تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی یہ دیکھیں مجھے کیا ملا ،زویا خوشی سے چلاتی ہوئی اپنی امی کی جانب آرہی تھی اس نے ہاتھ میں ایک گڑیا پکڑی ہوئی تھی ،دیکھنے میں وہ گڑیا کافی خوبصورت تھی ،اس کے سنہرے بال گورا رنگ اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے ،بیٹا یہ آپ کو کہاں سے ملی مسز بلال تجسس آمیز لہجے میں زویا سے پوچھ رہی تھیں ،امی وہ جو سامنے بڑا سے درخت ہے نا اس کے نیچے یہ پڑی ہوئی تھی ،زویا نے جواب دیا ،بیگم صاحب مجھے تو لگتا ہے کہ یہ کسی جن بھوت کی کارستانی ہے آپ اس گڑیا کو باہر پھینک دیں ،رضیہ مداخلت کرتے ہوئے بولی ،رضیہ ایسا کچھ نہیں ہوتا تم جا کہ اپنا کام کرو ،رضیہ منہ بنا کہ چلی گئ،امی کیا میں اسے رکھ لوں ،زویا نے اپنی امی سے پوچھا ،ہاں بیٹا جاؤ اپنے کمرے میں رکھ لو ،مسز بلال نے جواب دیا لیکن ان کہ چہرے پر حیرت اور تجسس کہ ملے جلے آثار واضح طور پر نظر آرہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کہ تقریباً تین بجے جب سب سو رہے تھے ،زویا کے کمرے کا دروازہ خود بخود کھل گیا ،اور سامنے شیلف پر رکھی ہوئی گڑیا کی آنکھیں چمکنے لگیں ،پھر ایک ناقابل یقین منظر سامنے آیا ،اس گڑیا میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ شیلف سے خود نیچے اتر گئ اور کمرے سے باہر کی جانب چل دی،ٹی وی لاؤنج میں آکر وہ گڑیا ایک کرسی پر بیٹھ گئ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس گڑیا کہ اندر سے ایک سایہ نکل کر کھڑا ہوگیا پھر دوسرا پھر تیسرا پھر چوتھا پھر پانچواں ان سب کی شکل بہت ہیبت ناک تھی ،ایک بہت لمبے قد کی عورت تھی جس کے لمبے لمبے بالوں نے اس کو ڈھانپ رکھا تھا،ایک خوفناک عورت جس کی آنکھیں باہر لٹک رہی تھیں اور ان میں سے خون نکل رہا تھا ،ایک خوفناک عورت جس کا سر آگے کی طرف تھا اور دھڑ پیچھے کی طرف تھا ،ایک عورت جس کے ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوئے تھے اور ایک عورت جس کا منہ کھولآ ہوا تھا اور اس میں سے خون رواں تھا ،ان سب نے ایک اونچا قہقہ لگایا
…………….
پھر وہ سب اچانک غایب ہو گئے ،گڑیا کی آنکھوں میں ایک بار پھر روشنی پیدا ہوئی وہ کرسی سے اٹھی اور ثانیہ کے کمرے کی جانب چل دی ،ثانیہ خوابوں کی دنیا کا سفر کر رہی تھی کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئ ،اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے کمبل میں کوئی اور بھی ہے وہ فورا بیڈ سے اتر گئ ،پھر وہ ہمت کر کے آگے بڑھی اور کمبل کو بیڈ سے کھینچ کر نیچے گرا دیا پر بیڈ پر کوئی نا تھا ،یکدم ثانیہ کو بیڈ کے نیچے سے رونے کی آواز آنے لگی،ثانیہ کانپنے لگی اور کمرے سے باہر کی جانب دوڑ لگا دی پر کمرے کا دروازہ بند تھا اس نے بہت کوشش کی پر دروازہ نا کھلا ،رونے کی آواز مسلسل بڑھتی جا رہی تھی ،ثانیہ بہت چیخی چلائی بہت دروازہ کھٹکھٹایا مگر دروازہ ویسے کا ویسے ہی جام رہا ،کمرے کا بلب اب بند ہوگیا ،پھر چل گیا ،پھر بند ہوگیا ایسا مسلسل ہونے لگا ،ثانیہ کا کلیجہ منہ کو آگیا ،بلب اب مکمل طور پر بند ہوگیا جب کہ رونے کی آواز بہت تیز ہوگئی ثانیہ کو ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی اس کے کانوں کا پردہ پھٹ جاۓ گا ،اچانک رونے کی آواز بند ہوگئی ،تھوڑی دیر بعد بلب بھی چل گیا ،ثانیہ نے چاروں اطراف نظر گھما کر دیکھا پر اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا ،پھر ثانیہ نے ہمت کی اور بیڈ کی جانب چل دی ،بیڈ کے قریب پہنچ کر ثانیہ بیڈ کہ نیچے جھکی پر نیچے تو کچھ بھی نہیں تھا ،جیسے ہی ثانیہ اوپر اٹھی تو اس نے ایک دل دہلا دینے والا منظر دیکھا ،ایک عورت جس کے لمبے لمبے بالوں نے اسکو ڈھانپ رکھا تھا بیڈ پر بیٹھی تھی اس نے اپنے ہاتھوں میں وہی گڑیا پکڑی ہوئی تھی ،وہ عورت اونچی اونچی رونے لگی جبکہ وہ گڑیا اونچی اونچی گانا گانے لگی ،ثانیہ نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے اور رونے لگی ،پھر ثانیہ بیہوش ہوگئی ،سورج کی کرنیں جب ثانیہ کی آنکھوں پر پڑی تو اسکی آنکھیں کھل گئیں ،صبح ہوگئی تھی اور ثانیہ فرش پر پڑی تھی ،ثانیہ کہ دماغ میں رات والا واقعہ گردش کرنے لگا ،ثانیہ فورا اٹھی اور باہر کی جانب بھاگی اور زویا کے کمرے میں پہنچ گئ زویا اپنی اسی گڑیا سے بیٹھی کھیل رہی تھی ،ثانیہ نے زویا کے ہاتھوں سے وہ گڑیا کھینچی ،پھپھو یہ کیا کر رہی ہیں چھوڑیں میری گڑیا کو ،زویا اونچی اونچی رونے لگی ،مسز بلال کو زویا کے رونے کی آواز آئ ،یہ زویا کو کیا ہوا ،پارسا زویا کے کمرے کی طرف بھاگی ،کیا ہوا کیا ہوا زویا ،پارسا کمرے میں داخل ہوتے ہی بولی ،امی یہ دیکھیں پھپھو میری گڑیا کھینچ رہی ہیں ،نہیں پارسا بھابھی یہ گڑیا ٹھیک نہیں ہے آپ اسکو باہر پھینک دیں ،ارے چل تو تو ہے ہی صدا کی پاگل دفع ہو یہاں سے پارسا چلائی ،نہیں بھابھی میری بات سنیں ،اس سے پہلے ثانیہ کچھ بولتی پارسا نے ثانیہ کے منہ پر ایک زوردار تماچہ لگایا ،ثانیہ منہ کے بل فرش پر گر گئ ،بلال بلال ،پارسا چلائی ،کیا ہوا شور سن کر بلال آگیا ،دیکھو تمہاری بہن نے میری بیٹی کو مارا ہے اور مجھ پر بھی ہاتھ اٹھایا ہے ،نہیں نہیں بھائی بھابھی جھوٹ بول ۔۔۔۔۔۔،اس سے پہلے ثانیہ کچھ بولتی بلال نے ثانیہ کو پکڑا اور فرش پر گھسیٹتا ہوا اسے اسکے کمرے میں لے گیا ،اور اسے کمرے میں لاک کردیا ،بھائی بھائی میری بات سنیں وہ گڑیا اچھی نہیں ہے اسکو پھینک دیں مگر ثانیہ کی کسی نے نا سنی،ثانیہ کی ماں تو پہلے ہی مر چکی تھی،باپ عیاش قسم کا آدمی تھا ،بھائی اپنی بیویوں کے غلام تھے ،بیچاری ثانیہ کو سارا دن کمرے میں لاک کر دیا جاتا ،بعض اوقات تو اسکو دو وقت کی روٹی بھی نا ملتی ،ثانیہ دروازہ بجاتی رہی روتی رہی مگر کسی نے دروازہ نا کھولا ،صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا بھی نا دیا گیا ،بھوک کے مارے ثانیہ بیہوش ہوگئی ،رات کو جب ثانیہ کی آنکھ کھلی تو وہ گڑیا ثانیہ کے سامنے کھڑی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ نے جب آنکھ کھولی تو وہ گڑیا سامنے کھڑی تھی ،کیا چاہتی ہو تم ،تمھیں چاہیے کیا ؟؟ ثانیہ چلائی ،وہ گڑیا چپ چاپ کھڑی ثانیہ کو تکے جارہی تھی ،پھر ثانیہ نے جو منظر دیکھا اس نے اس کا دل دہلا کر رکھ دیا ،اس گڑیا نے چھلانگ لگائی اور دیوار پر چڑھ گئ ،پھر اس نے ایک چاقو پکڑا اور اپنے پیٹ میں مارا اس کے پیٹ سے خون رسنے لگا ،یہ دیکھ کر ثانیہ نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے اور رونے لگی ،کچھ دیر بعد ثانیہ کو چکر آۓ اور وہ بیہوش ہو گئ ،اس کی آنکھیں کھلی تو کھانا اس کے پاس پڑا ہوا تھا ،وہ کسی بھوکی بلی کی طرح کھانے پر جھپٹی اور کھانا کھانے لگی پیٹ بھرنے کے بعد ثانیہ کہ ذہن میں گڑیا والا واقع ایک مرتبہ پھر گردش کرنے لگا ،اسے گھر والوں کی بہت فکر تھی ،اس کے ذہن میں کسی عامل سے رجوع کرنے کا خیال آیا ،لیکن اس کے پاس کسی عامل کا نمبر بھی تو نہیں تھا ،نا ہی اس کے پاس موبائل تھا ،پھر اس کہ ذہن میں خیال آیا کہ وہ living room میں رکھے ہوئے لیپ ٹاپ میں کسی عامل کو تلاش کر سکتی ہے ،اس نے دروازہ دیکھا تو وہ کھلا ہوا تھا،اس نے ہاتھ میں کاپی پکڑی اور لیونگ روم کی جانب چل دی ،لیپ ٹاپ میں سے اسے 2 سے 3 عامل کا نمبر مل گیا تھا ،لیپ ٹاپ کے پاس ہی کسی کا موبائل پڑا ہوا تھا جو ثانیہ اٹھا کر اپنے ساتھ کمرے میں لے گئ ،لیونگ روم سے نکلتے ہوئے ثانیہ کو مسز مزمل نے دیکھ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریباً ایک بج رہے تھے پارسا بھابھی کو پیاس لگی ،لیکن پاس رکھے ہوئے جگ میں میں پانی نہیں تھا لہٰذا وہ پانی پینے کے لئے باورچی خانے کی طرف چل دیں ،پانی پی کر جیسے ہی پارسا واپس مڑی تو زویا کی گڑیا سامنے شیلف پر بیٹھی ہوئی تھی ،زویا نے اپنی گڑیا کہاں رکھ دی ،پارسا بولی ،ابھی وہ گڑیا کو اٹھانے ہی لگی تھی کہ گڑیا خود بخود ہنسنے لگی ،پارسا نے جب غور کیا تو اس کے ہونٹ ہل رہے تھے اور وہ اپنی پلکیں بھی جھپکا رہی تھی ، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ پارسا حیران ہوتے ہوئے بولی ،اچانک اس گڑیا کے آنکھوں سے خون نکلنے لگا ،یہ دیکھ کر پارسا کانپنے لگی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا،گڑیا اب گانے لگی ،گڑیا کے گانے کی آواز تیز ہوتی گئ ،پارسا نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے ،اور ہمت کر کے باہر کی جانب بھاگی مگر کچن کا دروازہ خود بخود بند ہوگیا ،پارسا کو اپنے کندھے پر کچھ محسوس ہوا پیچھے مڑ کر دیکھنے سے پتا چلا کے وہ کوئی اور نہیں زویا کی گڑیا تھا ،گڑیا نے چاقو نکالا اور پارسا کے گلے پر دے مارا پارسا لرزتے ہوئے نیچے گر گئ اور تڑپنے لگی پھر گڑیا نے پارسا کے گلے سے چاقو نکال دیا تو پارسا کے گلے سے خون کا فوارہ پھوٹ گیا ،پھر گڑیا نے اپنا منہ پارسا کے گلے کو لگا لیا اور اس کا خون پینے لگی جب پارسا کا جسم خون سے اچھی طرح نچڑ گیا تو گڑیا نے گلے کی اس جگہ پر جہاں چاقو مارا تھا وہاں چاقو کی نوک رکھی اور چاقو کو دھکیلتے ہوئے پارسا کا پورا جسم چیر دیا ،پورا گوشت نکل کر باہر لٹکنے لگا،گڑیا پارسا کا گوشت کھانے لگی ،پارسا تو کب کی اس دارفانی سے کوچ کر گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ کمرے میں آئ بیڈ پر بیٹھی اور ایک کے بعد دوسرے عامل کا نمبر ملایا دونوں ہی نے فون نا اٹھایا ،خوش قسمتی سے تیسرے عامل کا نمبر مل گیا ،دعا سلام کے بعد ثانیہ نے عامل صاحب کو پوری کہانی سنائی،واضح ہے وہ گڑیا سب کی جان لینا چاہتی ہے ،لیکن ایک حیرانی کی بات ہے وہ تمھیں کچھ کہہ نہیں رہی بس ذہنی اذیت پہنچا رہی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے ک وہ تمہاری خیر خواہ تو نہیں پر وہ تمھیں نقصان بھی نہیں پہنچا رہی جس کہ پیچھے کوئی بہت بڑی وجه ہے ،دوسرا یہ کہ تمہارے گھر والوں کو اس سے زیادہ خطرہ ہے ،تم نماز کی پابندی کرو میں جلد تمہارے گھر آنے کی کوشش کرتا ہوں یہ کہہ کر عامل صاحب نے فون بند کردیا،کچھ دیر بعد ثانیہ کے کمرے میں مسز مزمل داخل ہوئی ،کیا چرا کر بھاگی تھی؟؟؟،پاکیزہ بھابھی نے ثانیہ سے سوال کیا ،نہیں بھابھی کچھ نہیں میں وہ بس ،چوری کر رہی تھی تجھے میں بتاتی ہوں ،یہ کہہ کر پاکیزہ بھابھی نے کمرے کا دروازہ بند کردیا ،بھابھی نے پاس رکھا ڈنڈا اٹھایا اور ثانیہ کو مارنے لگی ثانیہ بیچاری مسلسل رحم کی بھیک مانگ رہی تھی لیکن بھابھی نے ایک نا سنی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: