Shetani Gurriya Novel by Nazia Shazia – Episode 2

0
شیطانی گڑیا از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 2

–**–**–

ثانیہ کو مارنے کے بعد پاکیزہ بھابھی کمرے سے چلی گئ اور ثانیہ بیچاری درد کہ مارے اٹھ بھی نہیں پا رہی تھی اور فرش پر لیٹی کراہ رہی تھی ،تقریباً دو گھنٹے بعد رضیہ ثانیہ کے لئے کھانا لے کر آئ تو ثانیہ کو فرش پر لیٹے دیکھا ،ثانیہ کی آنکھیں بند تھیں ،بی بی جی کھانا لے آئ ہوں کھانا کھالیں ،رضیہ بولی مگر ثانیہ نے کوئی جواب نا دیا ،بی بی جی ،بی بی جی ، کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟رضیہ نے ثانیہ کہ منہ پر پانی کہ چھینٹے مارے تو ثانیہ نے اپنی آنکھیں کھول دی ،بی بی جی کیا ہوا تھا آپ کو؟؟ وہ ذرا چکر آگۓ تھے ،بی بی جی میں جانتی ہوں پاکیزہ بی بی نے آپ کو مارا تھا میں نے انکو آپ کہ کمرے سے نکلتے دیکھا تھا،رضیہ ان باتوں کو چھوڑو تم نے زویا که پاس وہ گڑیا دیکھی؟ جی میں نے دیکھی پر مجھے وہ گڑیا کوئی عام گڑیا نہیں لگتی،رضیه نے جواب دیا ،رضیہ تم نے سہی بولا وہ کوئی عام گڑیا نہیں وہ شیطانی گڑیا ہے جو گھر میں موجود سب لوگوں کو مارنا چاہتی ہے پر کوئی بھی میری بات پر یقین نہیں کرتا ،مجھے آپ کی بات پر پورا یقین ہے ،اب آپ روٹی کھا لیں میں چلتی ہوں ،یہ که کر رضیہ کمرے سے باہر چلے گئ اور ثانیہ کھانا کھانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے 9 بجے گھر کی گھنٹی بجی ،ایک عامل صاحب تشریف لاۓ ،جی کون ؟؟ میں احمد ہوں مجھے ثانیہ بیٹی نے بلایا ہے غالباً آپ کے گھر میں شیطانی طاقتوں کا راج ہے ،احمد صاحب مزمل سے مخاطب تھے ،رکیں ذرا ،گارڈ ادھر آؤ ،مزمل چلایا ،اسے دهکے دے کر گھر سے نکالو ،اسکو اندر کیوں اندر آنے دیا ،صاحب میری بات سنیں، آپ بہت بڑی مشکل میں ہیں ،ارے چل چل بہت دیکھیں ہیں تجھ جیسے،مزمل نے سخت لہجے میں کہا ، گارڈ نے احمد کو دهکے دے کر نکال دیا،رضیہ ثانیہ کو بلاؤ ،مزمل چیخا ،جی صاحب بلاتی ہوں ،رضیہ بھاگی گئی اور ثانیہ کو لے آئ،سب گھر والے جمع ہو گئے تھے سواۓ پارسا که ،بدکار کون تھا وہ، احمد وہ بحروپیا تیرا یار ہے نا ،مزمل چلایا ،مزمل میں نے بھی ثانیہ کو کسی سے بات کرتے سنا تھا شاید کوئی احمد نامی آدمی تھا ،یہ سنتے ہی احمد نے ثانیہ که منہ پر تماچہ رسید کیا، نہیں بھائی وہ عامل صاحب ہیں وہ ان کو میں نے ہی بلایا تھا کیوں کیوں که ھمارے گھر میں نا گڑیا ہے ایک وہ وہ ،ثانیہ سے بولا نہیں جارہا تھا،کیا وہ وہ لگا رکھی ہے ؟؟ سیدھی بات بتا اس مرتبہ زین چلایا ،بھائی ھمارے گھر میں ایک گڑیا ہے اس پر شیطانی طاقتوں کا سایہ ہے آپ کو یقین نہیں تو رضیه سے پوچھ لیں ،ثانیہ نے روتے ہوئے جواب دیا ،صنم (زین کی بیوی) نے رضیہ کو بلوایا ،اب پوچھو اس سے جو پوچھنا ہے صنم بولی ،رضیہ بتاؤ انکو وہ گڑیا شیطانی ہے،ثانیہ نے کہا ،نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ،رضیه نے جواب دیا ،ثانیہ نے رضیہ کی طرف حیرت سے دیکھا ،سن لیا اب ،پاکیزہ بولی ،یہ سن کر مزمل نے بیچاری ثانیہ کو خوب پیٹا ،جبکه پاکیزہ اور صنم پیچھے کھڑی مسکرا رہی تھیں ،بیچاری ثانیہ کسی لاچار جانور کی طرح مار کھاتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکیزہ آنٹی آپ نے ماما کو کہیں دیکھا ،زویا روتے ہوئے بولی ،نہیں بیٹا میں نے نہیں دیکھا ،پاکیزہ نے جواب دیا ،ماما مجھے نہیں مل رہی ،زویا بولی ،اچھا بیٹا میں دیکھتی ہوں آپ رؤ نہیں ،گھنٹے تک پاکیزہ ،صنم اور سب گھر که نوکر ڈھونڈتے رہے مگر پارسا نہیں ملی ،بلال بھی گھر آگیا تھا ،اچانک چیخ کی آواز آئ ،یہ تو زویا کی آواز ہے ،بلال بولا ،سب نے زویا کے کمرے کی جانب دوڑ لگا دی ،زویا اندر کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی ،کیا ہوا بچے بلال نے زویا سے سوال کیا ،زویا نے بیڈ کے نیچے اشارہ کیا ،بلال نے جب بیڈ کے نیچے دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں پارسا تھی ،عامر نے اسکو باہر نکالا ،ایسا لگ رہا تھا جیسے پارسا کو کسی جانور نے چیر پھاڑ دیا ہو ،پارسا کی بہت بری حالت تھی ،بلال تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ،ہو نا ہو یہ کام اسی بدکار ثانیہ کا ہے ،صنم بولی ،یہ سنتے ہی بلال ثانیہ که کمرے کی جانب بھاگا ،میری بیوی کو کیوں مارا تو نے بتا ؟؟ بلال نے ثانیہ کے بال کھنچتے ہوئے بولا نہیں بھائی بھابھی کو میں کیوں ماروں گی ،مجھے پتا تھا یہ نہیں مانے گئ بلال بھائی آپ پولیس کو بلاۓ ،پاکیزہ بولی ،نہیں نہیں پولیس کو مت بلانا میں نے نہیں مارا بھابھی کو ،ثانیہ بلال kکے پاؤں میں پڑ گئ ،بلال نے فون کر که پولیس کو بلا لیا اور کچھ ہی دیر میں پولیس آ بھی گئ ،مجھے بچا لیں بھائی ،مجھے بچا لو بھابھی ثانیہ باری باری سب که آگے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی رہی ،میں آپ لوگوں کی باندی بن کر رہوں گی مجھے بچا لیں ،ثانیہ روتے ہوئے بول رہی تھی ،مزمل پولیس کو اندر لے آیا ،یہ ہے قاتل ،مزمل نے ثانیہ کی طرف اشارہ کیا ،چلو لگاؤ اس کو ہتھکڑیاں ،inspector شاہد نے کہا ،پولیس نے ثانیہ کو ہتھکڑیاں لگائی ،میں نہیں جاؤں گئ میں قاتل نہیں مجھے بچا لیں ،ثانیہ روتے ہوئے بول رہی تھی ،مگر کسی نے بیچاری کی ایک نا سنی ،پولیس ثانیہ کو گھسیٹتے ہوئے لے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا کی گڑیا کو ایک خوفناک عورت نے جس که منہ سے خون ٹپک رہا تھا اپنی گود میں رکھا تھا گڑیا کی آنکھوں سے خون نکل رہا تھا ،جس کرسی پر وہ گڑیا بیٹھی تھی وہ تیز تیز ہلنے لگی ،tv lounge میں لگا فانوس نیچے گر گیا ،فہد جو کمرے میں لیٹا تھا اس که منہ سے خون جاری ہوگیا
ابھی سب کھڑے ثانیہ کا تماشہ دیکھ رہے تھے که tv lounge میں لگا فانوس اپنے آپ ہلنے لگا اور دھڑام سے فرش پر گر گیا سب اچانک پیچھے ہو گۓ ،فانوس کے نیچے سے خون خود بخود نکلنے لگا ،یہ دیکھ کر سب حیران و پریشان ہو گۓ ،کہیں ثانیہ سچ تو نہیں که رہ تھی کے گھر میں شیطانی قوتوں کا ڈیرہ ہے ،پاکیزہ نے سوچا ،نہیں وہ تو تھی ہی جھوٹی،یہ سوچ کر پاکیزہ نے اپنے خیال کو جھٹلا دیا ،مزمل کے فون پر گھنٹی بجی ،جی اسلام علیکم ،فون پر کسی اجنبی کی آواز تھی ،آپ مسٹر زید کے بیٹے بول رہے ہیں ؟؟ جی بول رہا ہوں ،مزمل نے جواب دیا ،کار ایکسیڈنٹ کے با عث مسٹر زید انتقال کر گئے ہیں،کیا ؟ مزمل کے منہ سے یک دم نکلا ،کیا ہوا مزمل ؟؟ پاکیزہ نے پوچھا ،ابو نہیں رہے ،مزمل نے روتے ہوئے جواب دیا ،صنم کو فہد کے رونے کی آواز آنے لگی ،صنم کمرے کی جانب بھاگی ،جب صنم نے دروازہ کھولا تو دل دہلا دینے والا منظر اس کا منتظر تھا ،فہد کے منہ سے خون نکل رہا تھا جس سے پورا بستر تر تھا ،فہد میرے بچے کیا ہوا ،صنم چیخی ،صنم نے فہد کے قریب آکر دیکھا تو اس کی آنکھیں بند تھیں ،صنم نے فہد کے ناک کے قریب اپنا ہاتھ کر که اس کی سانس کو دیکھا تو فہد کو سانس بھی نہیں آرہی تھی ،زین زین صنم چلائی ،سب صنم کے کمرے کی جانب بھاگے ،کیا ہوا ؟؟ زین نے پوچھا ،صنم نے فہد کی طرف اشارہ کیا ،زین فہد کے قریب گیا اور اس کا معائنہ کیا ؟؟ زین فرش پر بیٹھ گیا اور رونے لگا ،گڑیا کی کرسی تیز تیز ہل رہی تھی اس کی آنکھوں سے خون کے دھارے رواں تھے ،اس کے چہرے پر غصّہ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا ،مسٹر زید کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا ،ایک ساتھ تین تین جنازے اس گھر سے نکلے بلال، مزمل، صنم اور زین کی حالت بہت بری تھی ،پاکیزہ مسلسل سوچ رہی تھی کے کہیں ثانیہ سچ تو نہیں بول رہی تھی کہیں اسکی بددعا تو نہیں لگ گئی لیکن ہر بار وہ یہ سوچ کر اپنے خیالات کو جھٹلا دیتی کے ثانیہ تو تھی ہی بدکار ،جھوٹی اور مکار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر ثانیہ بیچاری رو رو کر دہائیاں دیتی رہی کے اس نے بھابھی کا قتل نہیں کیا ،انسپکٹر ثمینه بولی دیکھ لڑکی ہم تجھ سے سیدھی طرح پوچھ رہے ہیں ،سچ سچ بتا دے ورنہ ہمارے پاس سچ اگلوانے کے اور بھی طریقے ہیں ،مگر ثانیہ ٹس سے مس نا ہوئی ،چلو یہ ایسے نہیں مانے گی اس کی ذرا خاطر تواضع کرو ،انسپکٹر چلائی ،انسپکٹر شاہد ایک جانب کھڑا ثانیہ کو گھور رہا تھا ،لہٰذا ثانیہ کو خوب پیٹا گیا ،ڈنڈوں سے جوتوں سے یہاں تک کے بیچاری کے کوڑے بھی مارے گئے ،ثانیہ روتی جاتی اور اپنی بےگناہی کا ڈھنڈھورا پیٹتی جاتی مگر کسی نے ایک نا سنی ،ہاں بھئی مانی کے نہیں یہ ؟؟ انسپکٹر ثمینه نے سوال کیا مگر جواب نفی میں آیا ،اس کو زندان میں ڈال دو ،دو تین دن وہاں رہے گی خود ہی عقل ٹھکانے آجاۓ گی ،انسپکٹر ثمینه نے حکم دیا اور ثانیہ کو زندان میں ڈال دیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہو چکی تھی گھر میں سناٹے کا راج تھا ،ہر کوئی اپنے کمرے میں بند تھا ،پاکیزہ سعد اور سارا کو کھانا دینے گئی تو کمرے میں صرف سعد تھا سارا نہیں ،بیٹا سعد سارا کہاں ہے ؟؟ پاکیزہ نے پوچھا ،سعد نے کوئی جواب نا دیا اور وہیں بیہوش ہو گیا ،مزمل مزمل پاکیزہ چیخی ،کیا ہوگیا ؟؟ مزمل نے جھنجھلا کر بولا ،دیکھیں سعد کو کیا ہوگیا پاکیزہ نے روتے ہوئے جواب دیا ،اچانک پاکیزہ کے ذہن میں ثانیہ کی باتیں آگئی وہ زویا کے کمرے کی جانب بھاگی ،جیسے ہی پاکیزہ نے زویا کے کمرے کا دروازہ کھولا تو دیکھا کے زویا اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی تھی اور پیچھے کرسی پر بیٹھی گڑیا کھڑی قہقہے لگا رہی تھی ،پورا کمرہ خون سے بھرا تھا اور جگہ جگہ گوشت کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریباً ایک بجے زندان کا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی اندر آیا ،چلو ثانیہ بی بی تمھیں انسپکٹر شاہد بلا رہے ہیں ،سپاہی بولا ،ثانیہ نے اپنے زخمی ہاتھوں سے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور سپاہی کے پیچھے چل دی ایک کمرے میں ثانیہ کو لے جایا گیا جہاں انسپکٹر شاہد کھڑا تھا ،دیکھو دیکھو کون آیا ہے زھے نصیب زھے نصیب ،شاہد بولا ثانیہ نے اپنا سر نیچے جھکا لیا ،ارے ڈرو مت ہم بھی تمہارے اپنے ہیں ،شاہد ثانیہ کی جانب بڑھا ،دیکھیں دور رہیں مجھ سے میں ایک پاکیزہ عورت ہوں ،ثانیہ کانپتے ہوئے بولی ،انسپکٹر شاہد مسلسل ثانیہ کی جانب بڑھ رہا تھا ،ثانیہ دروازے کی جانب بھاگی مگر دروازہ بند تھا ،دیکھو میری عزت کا خیال کرو تمہارے گھر میں بھی عورتیں ہوں گی ،ثانیہ روتے ہوئے بولی ،ارے جس کے گھر والوں نے اسکی عزت کا خیال نا کیا تو باہر والے خاک خیال کریں گے ،شاہد کا لہجہ بہت کرخت تھا ،وہ جانور ثانیہ کی جانب بڑھا اور اس کا دوپٹہ کھینچ کر نیچے گرا دیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: